𝐌𝐲 𝐏𝐨𝐬𝐬𝐞𝐬𝐢𝐯𝐞 𝐌𝐚𝐟𝐢𝐚 𝐄𝐩𝐢𝐬𝐨𝐝𝐞 6

𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥….. 𝐌𝐲 𝐏𝐨𝐬𝐬𝐞𝐬𝐢𝐯𝐞 𝐌𝐚𝐟𝐢𝐚

𝐖𝐫𝐢𝐭𝐞𝐫…… 𝐁𝐚𝐫𝐛𝐢𝐞 𝐁𝐨𝐨

𝐄𝐩𝐢𝐬𝐨𝐝𝐞….. 6

اتنا کانپ کیوں رہی ہو ؟

اسے روبی کے جسم میں واضح طور پر کپکپاہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔

تو اور تم کیا امید رکھتے ہو جب ایک ان چاہا انسان اس طرح قریب آئیگا تو خوف ہی محسوس ہوگا نا نہ کہ پیار آئے گا ۔

روبی اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے بمشکل ہی بول پائی تھی ۔

ان چاہا انسان؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو آخر؟

میں تمہارے لیے ایک ان چاہا انسان ہوں؟ کیا تم بھول گئی ہو ؛ میں وہی ہوں جس سے تم بے تحاشا محبت کیا کرتی تھی۔ جسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہفتوں تک انتظار کرتی تھی اور دیدار نہ ہونے پہ خود کو کمرے میں بند کرلیا کرتی تھی۔

تو پھر اسطرح اچانک سے اتنی نفرت، اتنی بیزاری اور اتنا خوف آخر کیوں یار؟

روبی کے اتنے تلخ لہجے سے لیو کو واقعی برا لگا تھا۔ اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک اس سے نفرت کرنے لگی تھی۔

میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی بس۔

وہ منہ پھیر کر بیڈ کی طرف جانے لگی تو اسی پل لیو اسکے سامنے آگیا۔

میں جانتا ہوں کہ تم بہت ناراض ہو، یہ بھی معلوم ہے کہ غصہ ہے تمہیں لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اسطرح کی باتیں کرکے میرا دل دکھاؤ اور نہ ہی۔۔۔۔

میں تمہارا دل دکھا رہی ہوں؟ دل تو تم نے توڑا تھا میرا اور اتنی تکلیف پہنچانے کے بعد بھی تم مجھ سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ میں تم سے محبت کروں گی، تمہیں چاہوں گی۔ ہرگز نہیں سمجھے تم۔۔۔۔۔تم نے جو بھی کیا وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی اور نہ ہی تمہیں اسکے لیے معاف کروں گی۔ تم بے وفا ہو، دھوکے باز ہو ، میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔

لیو کی بات بیچ میں کاٹتے وہ غصے سے کہنے لگی تھی۔

“قبول ہے۔ مجھے تمہاری یہ نفرت قبول ہے۔ تم نفرت کرتی ہو نا مجھ سے؟ ٹھیک ہے۔ کرو، دل کھول کے، بے تحاشا نفرت کرو مجھ سے۔۔۔۔مجھے سب قبول ہے۔۔۔۔تم۔۔۔۔تمہارا یہ غصہ، یہ بیزاری، یہ ناراضگی اور یہ نفرت مجھے دل و جان سے قبول ہے مسسز لیو۔”

روبی کی بات سن کے وہ اسکے چہرے پہ نظریں ٹکاتے دلفریب مسکراہٹ سے کہہ رہا تھا۔ جبکہ روبی کو اسکا یوں سکون سے سب سننا اور پھر اسطرح اطمینان سے جواب دینا کافی حیران کن لگا تھا۔

چلیں بیگم صاحبہ اب! ناشتہ بھی کرنا ہے ۔

وہ روبی کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر نکلا تھا۔

یہ لو جوس پیو۔

جوس کا گلاس روبی کے ہاتھ میں تھماتے وہ کافی پینے لگا۔

کیا کوئی پریشانی ہے؟

روبی کو گم سم سا دیکھ کے وہ فکرمندی سے بولا تھا۔

وہ۔۔۔میں ۔۔۔۔ میں نے کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا۔۔میں ایسا کچھ۔۔۔۔۔

چپ چاپ ناشتا کرو ہنی! باتیں بعد میں کریں گے۔

روبی کے چہرے پہ جھلکتا ڈر دیکھ کے وہ کافی محضوظ ہورہا تھا۔

ہوگیا ناشتہ؟

کافی کا کپ ڈائننگ ٹیبل پہ رکھتے وہ روبی کو دیکھتے ہوئے بولا۔

جی!

چلو اٹھو اب۔

کرسی سے اٹھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا۔ وہ نہ سمجھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

پیٹ بھر گیا نا؟

روبی کے قریب ہوتے وہ دھیمے سے کہنے لگا۔ وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔

گڈ! چلو اب کافی ساری باتیں کرنی ہیں اور کچھ حساب بھی چکانا ہے۔

وہ سپاٹ انداذ میں کہتے روبی کا بازو پکڑے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ اسکی بات سن کر روبی کی سانس اٹکی تھی۔

اسکا اندازہ سہی تھا وہ لیو تھا بھلا وہ کہاں چپ رہنے والا تھا۔۔۔۔۔ہر بات کا حساب رکھتا تھا وہ اور اب ناجانے وہ کیا کرنے والا تھا۔۔۔یہی سوچ کے ہی روبی کا دل بے اختیار دھڑک رہا تھا۔

کمرے میں آتے لیو نے ڈور لاک کیا اور مڑ کے روبی کو تکنے لگا۔

لیو کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پہ محسوس کرتی وہ اپنے دھڑکتے دل پہ قابو پانے کی ناکام سی کوشش کررہی تھی۔

آئی ایم سوری لیو! پلیز کوئی سزا مت دینا۔ میں آئیندہ کچھ بھی نہیں بولوں گی۔

میں تمہیں بولنے دونگا تو بولو گی نا میری جان۔

وہ اسکے قریب آتے اپنے دونوں بازوں روبی کی پتلی نازک سی کمر کے گرد حائل کرتے اسے اپنی مضبوط گرفت میں لے چکا تھا۔ دھیرے سے روبی کے کان کی لو پہ بائٹ کرتے وہ مدہوشی کے عالم میں بول رہا تھا۔

لیو کا اسطرح قریب آنا روبی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کررہا تھا۔ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ لیو اسکے کانپتے نازک وجود کو اپنے سینے میں بھینچے اسکی خوشبو خود میں اتارنے لگا۔

تمہارا ڈرنا اچھا لگا مجھے۔۔۔تمہیں خوف ہونا چاہیئے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سب تمہارے لیے نیا ہے اور عجیب بھی پر تم فکر نہیں کرو، دھیرے دھیرے تمہیں سب سمجھ آجائے گا۔۔۔۔۔

میں نے شروع میں ہی کچھ باتیں سمجھائی تھی تمہیں پر تم نے کسی بات پہ عمل نہیں کیا اور پھر بھی میں نے تمہیں معاف کردیا۔

لیکن اگر اسی طرح میں تمہیں معاف کرتا رہا تو تم غلطی پہ غلطی کرتی جاؤ گی اور تمہارے دل سے میرا خوف ختم ہوجائے گا اور میں ایسا بالکل نہیں چاہتا اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی تمہیں سزا تو دینی پڑے گی تا کہ تم گڈ گرل کی طرح نیکسٹ ٹائم میری ہر بات مانو۔

وہ روبی کو اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لیے اپنے سینے سے لگائے اسکے کان میں سرگوشی کے سے انداز میں کہے جارہا تھا۔ اسکا ہر لفظ روبی کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھا رہا تھا۔ اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

وہ خود کو کوس رہی تھی کہ کیوں زبان چلائی تھی اسکے سامنے آخر کیوں بھول گئی تھی کہ وہ کتنا بے حس اور ظالم ہے پر اب کیا فائدہ اب تو بہت دیر ہوچکی تھی اور اب لیو رکنے والا نہیں تھا۔

پلیز لیو! مجھے معاف۔۔۔۔۔

ششش! ان نازک سے لبوں کو کیوں تکلیف دے رہی ہو؟ مت ہلاؤ انکو، بالکل چپ!

روبی کی بات بیچ میں کاٹتے، اسکے ہونٹوں پہ انگوٹھے سے رب کرتے وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔

ڈرو نہیں ہنی، زیادہ دیر تک سزا نہیں دونگا۔ بس تھوڑی سی دیر۔۔۔۔جتنی تمہاری جان ہے جتنا تم برداشت کرپاؤں بس اتنا ہی۔۔۔۔ہاں بس ایک بات کا خیال رکھنا ۔۔۔۔زور زور سے چلانا مت۔۔۔کہیں تمہاری چیخیں سن کر میرا موڈ نہ چینج ہو جائے۔۔۔۔سمجھ رہی ہو نا تم ہنی!

وہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباتے شرارتا کہہ رہا تھا۔۔۔۔روبی کے چہرے کی ہوائیاں اڑتے دیکھ کے دل ہی دل میں وہ کافی خوش ہورہا تھا۔

اپنے ہاتھ سامنے کرو۔۔۔۔

اپنے گلے میں سے ٹائی اتارتے وہ روبی کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

وہ اسکی بات پہ عمل کرتے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے تکنے لگی۔

وہ ٹائی سے روبی کی دونوں کلائیاں آپس میں باندھ کے اسکی گردن کے گرد اپنی بانہوں کا گھیرا بناتے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔

یہ ٹائی سے کیوں باندھا؟

رسی کافی سخت ہوتی ہے نا اور تم بہت زیادہ نازک ہو۔۔۔تمہاری ان نازک سی کلائیوں پہ نشان پڑ جاتے یا زخم بن جاتے تو بس یہی سوچ کے میں نے اپنی ٹائی استعمال کی ہے اب تمہیں بلکل تکلیف نہیں ہوگی۔

اسکی ناک پہ اپنی ناک رب کرتے وہ معصومیت سے بولا تھا۔

اپنے چھوٹے سے دماغ پہ زیادہ زور مت ڈالو۔ ابھی سب سمجھ أجائے گا تمہیں۔

روبی کو سوالیہ نظروں سے خود کو گھورتا دیکھ کے وہ اسے کاؤچ پہ بٹھاتے ہوئے کہنے لگا۔

یہی پر بیٹھی رہنا میں ابھی أتا ہوں۔

وہ اسے تاکید کرتے روم کی دوسری طرف گیا وہ ہاتھ میں باؤل لیے واپس آیا۔

ہاں تو ریڈی ہونا سزا کے لیے؟

روبی کے سامنے پڑے کاؤچ کو اسکے بالکل نزدیک لاتے وہ اس پہ بیٹھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

روبی رونی شکل بناتے اسے تکنے لگی تھی۔

بھاگنے کی کوشش مت کرنا ورنہ مجھے غصہ آجائے گا اور پھر میں بہت برا کروں گا۔ اوکے ہنی!

اپنی ٹانگوں کو روبی کی نازک سی ٹانگوں کے دونوں طرف پھلائے وہ اسکے فرار ہونے کا راستہ بند کرچکا تھا۔

یہ۔۔۔یہ تو آئس کیوبس ہیں۔

لیو کے ہاتھ میں آئس کیوبس کا باؤل دیکھ کے وہ چونکی تھی۔

ہاں۔۔۔۔انکو ہی یوز کرنے والا ہوں میں۔۔۔۔ویسے تو کپلز یہ رومانس کے لیے یوز کرتے ہیں لیکن میں تمہیں سزا دینے کے لیے لایا ہوں یہ۔۔۔۔

ایک آئس کیوب انگلیوں میں پکڑے وہ روبی کی عریاں بازو پہ پھیرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

آآہ! یہ بہت ٹھنڈا ہے۔۔۔۔ اسکی ہلکی سی سسکی نکلی تھی۔

برف ہے ٹھنڈی تو ہوگی نا۔ اگر تم یہ بیئر نہیں کر سکتی تو بتاؤ میرے پاس دو اور آپشنز بھی ہیں۔

روبی کے چہرے کی ہوائیاں اڑتے دیکھ کر وہ اپنی ہنسی دانتوں تلے دبا گیا ۔

کیا مطلب اور کونسے آپشن ؟

وہ اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھرتے دھیرے سے بولی تھی ۔

ایک اور آپشن یہ ہے کہ ان آئس کیوب کی جگہ ایک سلگتا ہوا انگارا یہاں پر صرف اس جگہ پر رکھوں گا ۔

یہ جگہ جل جائے گی ۔ تمہیں بہت تکلیف بھی ہوگی ۔ تم چیخوگی چلاؤ گی روؤ گی اور جب روتے سسکتے چپ ہوجاؤ گی تو میں مرہم لگا کے تمہیں سکون پہنچاؤں گا۔۔۔۔

بتاؤ ہنی کیا تمہیں یہ منظور ہے؟

وہ اپنی شہادت کی انگلی روبی کی بیوٹی بون پہ رکھتے ہوئے ہلکے سے رب کرتے اسے کہنے لگا۔

نی۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔پلیز لیو۔۔۔تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو آخر۔۔۔۔کیا تم میری جان لے لو گے؟

وہ نم آنکھوں سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی تھی۔

جان نہیں لوں گا ہنی کیونکہ تمہاری جان مطلب میری جان!

تمہیں تکلیف بھی نہیں پہنچانا چاھتا پر کیا کروں تم ایسے کچھ سمجھتی جو نہیں ہو۔۔۔۔

اور تو اور تم تو مجھے اپنا شوہر تک تسلیم نہیں کرتی نا ہنی۔ روتے نہیں ہیں۔۔۔۔چپ ہو جاؤ۔

روبی کے گال پہ پھسلتے آنسو کو ہتھیلی سے صاف کرتے وہ کچھ نرمی سے کہہ رہا تھا۔

میں تسلیم کرتی ہوں آپکو اپنا شوہر۔۔۔اب پلیز مجھے سزا مت دیں۔

وہ معصومیت سے لیو کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔

اگر ایسا ہے تو پھر میرے پاس ایک لاسٹ آپشن ہے۔۔۔۔وہی ٹھیک رہے گا۔۔۔۔اسطرح مجھے یقین بھی ہوجائے تمہاری بات کا اور تمہیں سزا بھی مل جائے گی۔

وہ اپنے سینے پہ بازو باندھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا۔

کونسا آپشن؟

وہ ڈرتے ڈرتے بول پائی تھی۔

وہ لاسٹ آپشن ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں پانی سے بھرے باتھ ٹب میں پھینکنے کا۔۔۔۔۔۔۔

وہ أنکھ ونک کرتے ہوئے روبی کے گال پہ اپنا گال مس کرتے شرارتا بولا تو روبی نے سٹپٹا کے اسے دیکھا تھا۔

میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔

وہ آنسو بہاتی کہنے لگی۔

میں بچا لوں گا۔۔۔۔۔۔۔اگر ضرورت پڑی تو تمہیں اپنی سانسیں بھی دے دوں گا۔۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا ہنی۔۔۔اور اگر تم چاہو تو۔۔۔۔میں بھی أجاؤں گا تمہارے ساتھ باتھ ٹب میں۔۔۔۔۔اسطرح رومانس بھی ہوجائے گا اور پھر ۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔مجھے یہ نہیں کرنا۔

لیو کی بات کاٹتے ہوئے وہ تیزی سے بولی تھی۔ اسکے ماتھے پہ ابھرتے ننھے سے پسینے کے قطرے دیکھ کر لیو کا ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔ روبی کو تنگ کرتے اسے مزا آرہا تھا۔

ابھی تو تم کہہ رہی تھی کہ مجھے اپنا شوہر تسلیم کر چکی ہو اور رومانس کا نام سنتے ہی نو نو کہنا شروع کردیا۔ چلو کوئی نہیں۔

اوکے! اب جیسا کہ تم باقی کے دونوں آپشنز ریجیکٹ کرچکی ہو۔ تو بس اب یہی ایک ہی بچا ہے آئس کیوب والا تو شروع کرتے ہیں۔

ایک ہاتھ روبی کے بندھے ہوئے ہاتھوں پہ رکھتے اور دوسرے میں أئس کیوب پکڑے وہ سپاٹ سے انداز میں بولا تھا۔

ای ی ی۔۔۔۔۔۔۔!

لیو نے جیسے ہی ic اسکے گال سے ٹچ کیا ۔ اس نے دانت بھینچے تھے۔

نہیں۔۔۔۔بالکل نہیں ہنی۔۔۔ابھی تو سہی طرح شروع بھی نہیں کیا اور تمہاری بس ہوگئی۔

روبی نے بندھے ہاتھ بڑھا کر لیو کو روکنا چاہا تو اس نے روبی کی . کوشش ناکام بنائی تھی۔

اگین میرے سامنے اونچی آواز میں بات کرو گی؟

اسکی کلائیؤں پہ ایک ہاتھ سے مضبوط گرفت بنائے وہ دوسرے سے روبی کے چہرے کے ایک ایک نقش پہ ic رب کررہا تھا۔

نہیں۔۔۔۔میں دوبارہ ایسے بات نہیں کروں گی۔

وہ بچوں کی طرح رونی شکل بناتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

گڈ گرل!

لیکن مزا نہیں آرہا۔۔۔۔

روبی کو آنکھیں بند کیے بت بنے بیٹھے دیکھ کے لیو نے مصنوعی اداسی سے کہا اور اگلے ہی پل ایک ہی جھٹکے میں روبی کو بازو سے کھینچتے اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا۔

یہ سب روبی کے پلک جھپکنے سے بھی پہلے ہوا تھا۔

اب کچھ اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔

اپنے دونوں بازو اسکے پیٹ کے اردگرد پھیلاتے وہ اسے اپنے مضبوط حصار میں قید کر چکا تھا۔۔۔لیو کا چوڑا مضبوط سینہ وہ اپنی پشت سے چپکا ہوا محسوس کررہی تھی۔۔۔۔

لیو کی تیز ہوتی دھڑکنیں وہ بخوبی محسوس کررہی تھی۔۔۔۔اسکی مضبوط گرفت اور اسکے گرم لمس میں روبی کا وجود کانپنے لگا تھا۔

لگ رہا ہے نا ڈر مسسز لیو! میں تو بھول ہی گیا تھا کہ میرا قریب آنا ہے تمہارے لیے کسی سزا سے کم نہیں۔

اپنی ٹھوڑی روبی کے شانے پہ ٹکائے اسے مزید خود میں سماتے ہوئے وہ اسکا دل جلا رہا تھا اور وہ سوائے دانت پیسنے کے اور کچھ نہ کر سکی۔

تمہاری ہارٹ بیٹ تو مجھ سے بھی زیادہ تیز ہورہی ہے۔ لگتا ہے ابھی دل سینے سے باہر نکل آئے گا۔۔

اپنا ایک ہاتھ روبی کے دل پہ رکھتے وہ شرارتا کہنے لگا۔

لیو! پلیز!

اسکے حصار سے نکلنے کی ایک ناکام کوشش کرتی وہ دبے دبے غصے میں بولی۔ لیو کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔

بس کرو مجھ سے مزید برداشت نہیں ہورہا یہ سب۔

لیو نے جیسے ہی آئس کیوب اسکی گردن پہ ہلکے ہلکے رب کرنا شروع کیا تو وہ چیختے ہوئے بولی تھی۔

سوچنا بھی مت ہنی۔۔۔۔۔۔بس تب ہوگی جب تمہاری سزا پوری ہوجائے گی۔۔۔۔

اسکے کان کی لو پہ زور سے بائٹ کرتے وہ اسے سسکنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

تو کب سے نفرت کرتی ہو مجھ سے؟

اسکے شانے سے شرٹ سرکاتے وہاں اپنے لب رکھتے وہ دھیمے سے کہہ رہا تھا۔

نہیں۔۔۔۔میں۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے لبوں کی نرماہٹ اور سانسوں کی گرم تپش اپنے شانے پہ محسوس کرتے اپنے جسم میں کرنٹ دوڑتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔اتھل پتھل ہوتی سانسوں سے وہ کچھ بول بھی نا پارہی تھی۔

اگر تم میری بات کا جواب نہیں دو گی تو۔۔۔۔۔

آآہ!

تمہیں ایک لو بائٹ ملے گی۔ ایسے ہی۔

اسکے عریاں شانے پہ دانت گاڑھتے وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔

جب مجھے احساس ہوا کہ تم صرف نفرت کے قابل ہو۔

ایک گہری سانس لیتے وہ دو ٹوک لہجے میں بولی تھی۔

اور یہ احساس کب ہوا تمہیں؟

اسکے عریاں شانے پہ واضح دانتوں کے نشان پہ وہ ic رب کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔وہ ہلکے ہلکے رب کررہا تھا ایسے جیسے مرہم لگا رہا تھا۔۔۔

مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔!

وہ بے رخی سے کہنے لگی۔۔۔۔اسے اب جلن کا احساس کچھ کم ہورہا تھا۔

روبی کی بات سنتے لیو کا ہاتھ رکا تھا۔۔۔۔۔چہرے پہ موجود مسکراہٹ ایک پل میں غائب ہوئی تھی۔۔۔۔اور اگلے ہی پل آئس کیوب دور پھینکتے وہ پھر سے اسی جگہ سختی سے اپنے دانت گاڑھ چکا تھا۔اور اس بار اسکے عمل میں شرارت نہیں بلکہ غصہ تھا جو اسکی شدت کو بڑھا رہا تھا۔

أأأہ ہ ہ!

لیو! کیا کررہے ہو تم! پلیز چھوڑو مجھے لیو۔۔۔۔۔۔!

اچانک سے اسکے اس عمل پہ وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔اسکے حصار سے خود کو آزاد کرانے کی ایک ناکام سی کوشش کرتی وہ ہاتھ پاؤں بھی نہیں ہلا پارہی تھی۔۔۔لیو نے اتنی سختی سے اسے اپنے بازوؤں میں قید کررکھا تھا کہ اسکے فرار ہونے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

کمرے میں اسکی سسکیوں کی أوازیں گونج رہی تھیں اور لیو کو تو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا وہ روبی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے اسی پوزیشن میں اپنی گود میں بٹھائے اسکے شانے پہ اب لب رکھے مدہوش سا بیٹھا تھا۔

تم نا میری سوچ سے بھی زیادہ نازک کچھ زیادہ ہی حساس ہو۔۔۔۔۔ایک لو بائٹ بھی بیئر نہیں کر سکی تم تو یہ جو ہمارا نیا رشتہ شروع ہوا ہے اسکو کیسے سنبھالو گی۔۔۔۔۔مجھے تو کافی فکر ہورہی ہے کیونکہ میں بہت رومانٹک ہوں تو بہتر ہوگا کہ تم اسی حساب سے خود کو ڈھال لو۔۔۔۔ہر پل میری محبت میں بھیگنے کے لیے تیار رہنا ہوگا تمہیں۔۔۔۔

اگر مجھ سے دور بھاگنے کی کوشش کی یا دور رہنے کے لیے کوئی الٹے سیدھے بہانے بنائے تو ڈبل ٹرپل لو ڈوز کے لیے تیار رہنا پھر۔۔۔۔۔۔

چلو شاباش اب اٹھ جاؤ اور جاکے اپنا منہ دھو ۔

روبی کی گردن اور پھر اسکے گال پہ اپنے سلگتے لبوں کا گرم لمس چھوڑتے وہ دھیمی آواز میں بولا تھا۔

لیو کی بات سنتے وہ جلدی سے اٹھ کے بھاگنے لگی تھی جب لیو نے اسے بازو سے پکڑتے اپنی طرف کھینچا تھا اور اسکے اوپر جا گری تھی۔

روبی کے سنبھلنے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں کو اپنے سلگتے ہونٹوں کی قید میں لے چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ اسکے لبوں کی نرماہٹ اور تیز ہوتی سانسیں اسے مزید بہکاتی وہ اسکے سرخ پڑتے لبوں کو آزاد کر چکا تھا۔

اگلی بار ایسے بچوں کی طرح نہیں رونا۔۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگتا تمہارا اسطرح آنسو بہانا۔

ایک بازو روبی کی کمر کے گرد حائل کیے اور دوسرے ہاتھ سے اسکے گالوں پہ پھسلتے آنسو صاف کرتے وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔ البتہ سانسیں دونوں کی تیز ہورہی تھیں۔

اس سے پہلے کہ مزید وہ کچھ کہتا روبی تیزی سے اسکے حصار سے نکلتے واش روم کی طرف بھاگی اور ڈور لاک کرلیا۔ اسکی اس پھرتی پہ لیو کو بے اختیار ہنسی آئی تھی۔

رات کا انتظار کرنا ہنی تمہارے لیے ایک حسین تحفہ لاؤں گا اور اسکے بدلے مجھے کیا چاہیئے وہ تو تم سمجھ چکی ہو گی۔ رات میں ملتے ہیں ہنی بائے!

وہ اونچی آواز میں کہتا مسکراتا ہوا کمرے سے باہر جا چکا تھا۔ جبکہ اسکی معنی خیز باتیں روبی کے ہوش اڑا گئی تھیں اور اسکی نارمل ہوتی ہارٹ بیٹ ایک بار پھر سے بے ترتیب ہونے لگی تھی۔

نہ کہیں بھاگ سکتی تھی نہ چھپ سکتی تھی اور نہ ہی لیو کے پاگل پن کو سہنے کی ہمت تھی۔مطلب فرار کو کوئی راستہ نہ تھا۔۔۔ایک ہی راہ تھی۔۔۔۔۔خود کو تیار کرنے کی لیو کی محبت، اسکی شدت اور اسکے پاگل پن و جنون کو کو سہنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔

ایک گہری سانس لیتے وہ شاور آن کرتے اسکے نیچے جا کھڑی ہوئی کہ اسکے شانے پہ لیو کی لو بائٹ اسے ابھی تک جلن کا احساس دلا رہی تھی اور نہ جانے کتنی لو بائٹس کے لیے اسے خود کو تیار کرنا تھا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.