man, woman, couple-2563426.jpg

A romantic Urdu novel based on a 43 years old man & a 15 years old girl written by barbie boo.

Episode 14 
کیا حرکت تھی یہ؟ کچھ خیال ہے تم لوگوں کو؟ ذرا بھی تمیز نہیں ہے کیا؟
ابھی تم دونوں کے گھر والوں کو بلواتی ہوں میں۔۔۔۔انکو بھی تو پتہ لگے نا کہ پڑھائی کے نام پہ کالج میں رومانس کرنے آتے ہیں انکے بچے۔
وہ اس وقت پرنسپل کے آفس میں ہاتھ باندھے، سر جھکائے کھڑے تھے۔ پرنسپل صاحبہ نے نہایت غصے سے کہا اور فون پہ نمبر ڈائل کرنے لگی۔
میم پلیز۔۔۔۔۔گھر والوں کو کال مت کریں۔۔۔۔۔ہم سے غلطی ہوگئی ہے پلیز ہمیں معاف کردیں۔۔۔۔دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔ ٹیشا رونی شکل بناتے التجا کرنے لگی۔
جی میم۔۔۔۔دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔آپ گھر والوں کو نہیں بلائیں۔۔۔۔اگر انکو کچھ پتہ لگا تو بہت بڑی پرابلم ہو جائے گی۔ عادی بھی گڑگڑایا۔
تم دونوں کو ذرا سی بھی فکر تھی اگر کالج میں سے کوئی سٹوڈنٹ دیکھ لیتا تو کیا ہوتا؟ میرے کالج کی ریپوٹیشن خراب کرنا چاہتے تھے تم دونوں۔ وہ غصے اور سختی سے بولی۔Mr. psycho age difference based novel
نو میم۔۔۔۔وی آر سوری! پلیز ایک بار معاف کر دیں۔ وہ دونوں یک زبان بولے۔
تم دونوں کی یہ رونی شکلیں دیکھ کے یہ پہلا اور آخری موقع دے رہی ہوں میں۔ اگر اگین ایسا کچھ ہوا نا تو تم دونوں کے گھر والوں کو بھی انفارم کروں گی اور تم دونوں کو کالج سے بھی نکال دوں گی۔۔۔ سمجھے تم۔دونوں۔۔۔۔جاؤ اب یہاں سے!
وہ غصے سے وارننگ دیتے کہنے لگی۔
اوکے میم! وہ دونوں آفس سے باہر نکلے۔
دیکھ لیا تم نے میری بات نہ ماننے کا نتیجہ۔۔۔۔۔۔ ٹیشا عادی پہ غصہ ہونے لگی۔
اچھا یار۔۔۔۔آئم سوری! عادی بے بسی سے بولا۔
اسکی جان پہ بن آئی تھی یہ سوچ کے ہی کہ کہیں گھر والے کالج نہ آجائیں میم کی کال پہ۔۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو ڈیڈ کبھی بھی ٹیشا سے اسکی شادی نہ ہونے دیتے۔۔
اداس مت ہو اب۔۔۔۔۔بچ گئے ہیں ہم۔۔۔۔بس آئندہ خیال رکھیں گے۔۔۔۔
عادی کو اداس دیکھ کر وہ پیار سے بولی۔
ہاں۔۔۔۔۔۔ ! اس نے سر ہلایا۔
چلو اب کینٹین چلتے ہیں۔۔۔اتنی بے عزتی کے بعد تو کچھ ٹھنڈا پیتے ہیں تاکہ کچھ ریلیکس ہو جائیں۔ وہ سرد آہ بھرتے ہوئے کہنے لگی۔
چلو۔۔۔ وہ اسکے ساتھ کینٹین کیطرف بڑھا۔
________*******________
اپنے سینے پہ کسی کا نازک جسم محسوس کرتے اس نے آنکھیں کھولی۔
ایک پل کے لیے لگا جیسے کیارا اسکی بانہوں میں تھی پر اسے یاد آیا کہ کیسے اسکی محبت کی تذلیل کرکے کیارا نے اسے نکالا تھا۔
وہ اسکے کمزور سے جسم کو خود پر سے ہٹاتے اٹھا۔
یہ کون ہے؟ اور کہاں ہوں میں؟
وہ أنکھیں مسلتے ہوئے بولا۔Mr. psycho age difference based novel
میرے فلیٹ میں ہیں آپ ۔۔۔۔ روڈ پہ نشے کی حالت میں ملے تھے آپ۔۔۔۔۔اسی لیے آپکو یہاں لے آئی تھی۔۔۔۔۔آپکا موبائل لاک تھا اس لیے کسی کو اطلاع نہیں دے پائی۔۔۔۔۔امید ہے آپ کچھ غلط نہیں سمجھیں گے۔
اسکی آواز پہ وہ جاگ گئی اور اسے بتانے لگی کہ کیسے وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے کے آئی تھی۔
ہممم۔۔۔۔۔شکریہ آپکا! وہ بولا اور اٹھتے ہوئے روم سے باہر جانے لگا۔
میرا نام صنم ہے۔ اور آپکا نام کیا ہے؟
اسے جاتے دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھی اور اسکے سامنے جاکر بولی۔
رمیز! سرد لہجے میں کہتا اگلے ہی پل وہ وہاں سے جا چکا تھا۔
رمیز! کافی پیارا نام ہے! رمیز!
وہ زیر لب دوہراتے کافی دیر مسکراتی رہی۔
ڈرائیو کرتے مسلسل اسے کیارا کا چہرہ نظر آرہا تھا۔۔۔۔وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔نہ اسکی شکل دیکھنا چاہتا تھا پر اس دل کا کیا۔۔۔۔۔۔وہ کہاں کچھ سمجھنے والا تھا۔۔۔۔
رابطہ نہ رکھنے سے
یہ تو مان سکتا ہوں
گفتگو نہیں ہو گی
گفتگو نہ ہونے سے
کیا یقین ہے تم کو
آرزو نہیں ہو گی ؟؟
جستجو نہیں ہو گی ؟
کیا تمہیں یہ لگتا ہے
دل تمہیں بھُلا دے گا
کوئی بد دعا دے گا
دل تمہارا ہو کر بھی
اور کو جگہ دے گا ؟
کیا تمہیں یہ لگتا ہے ؟
وقت کی روانی میں
اس جہانِ فانی میں
تُو نہیں تو لاکھوں ہیں
جن کو دیکھ کر یہ دل
پھر سے مسکرائے گا ؟
تم کو بھول جائے گا ؟
یاد بھی نہیں ہو گا
کوئی ایک ایسا تھا
جس میں جان تھی اپنی
جس پہ جان دیتے تھے
جو کسی کا ہو کر بھی
بس فقط ہمارا تھا !
تم اگر سمجھے ہو
گفتگو نہ ہونے سے
کچھ بھی ایسا ممکن ہے
یہ تمہاری غلطی ہے !
پیار کی کتابوں میں !
عشق کے صحیفوں میں
اک مثال بھی ایسی
تم نہیں دکھا سکتے
جو دلیل دیتی ہو !
سلسلہ محبت کا !
رابطوں سے قائم ہو …!
________********________
کہاں تھے تم؟ وہ جیسے ہی آفس میں آتے اپنے روم میں انٹر ہوا۔۔۔۔سامنے احان کو غصے میں بھرا دیکھ کر وہ ایک پل کو ٹھٹکا۔
اسے ساری باتیں یاد آنے لگی۔ کہ وہ کیسے لینا کو یہاں سے لے جا کر کسی سیف جگہ چھوڑ آیا تھا۔ اور اب تک احان کو اس بات کی خبر ہو چکی تھی۔
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے!Mr. psycho age difference based novel
وہ چیئر سے اٹھتے اسکے قریپ آتے بولا۔
اتنے غصے میں کیوں ہو یار!
وہ انجان بنتے کہنے لگا۔
رمیز! تم جانتے ہو میں غصے میں کیوں ہوں۔اسلیے پلیز۔۔۔۔مجھے مزید غصہ مت دلاؤ تم۔۔۔۔جو پوچھا ہے اسکا جواب دو۔
وہ تپ کر بولا۔
اس بات کو رہنے دو احان!
وہ چیئر پہ بیٹھتے کہنے لگا۔
کہاں چھپایا ہے لینا کو؟
وہ اپنے بازو سینے پہ لپیٹتے ہوئے پوچھنے لگا۔
میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ اور بہتر ہے کہ تم لینا کو اپنے ذہن سے نکال دو۔۔۔۔۔۔بھول جاؤ اسے۔۔۔وہ اب کبھی تمہیں نظر نہیں آئے گی۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا۔
میں نے تم سے پوچھا کہ لینا کو کہاں چھپایا ہے تم نے؟
دیکھو رمیز۔۔۔۔تم جانتے ہو کہ اگر تم نہیں بتاؤ گے تو پھر بھی میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔۔۔۔۔اسی لیے بہتر ہے کہ تم خود مجھے بتا دو۔
احان نے دو ٹوک انداز میں بولتے جیسے اسے دھمکی دی۔
تو ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔۔ڈھونڈ لو تم خود ہی!
وہ بھی اسی انداز میں بولا تھا۔
احان نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔Mr. psycho age difference based novel
میں جانتا ہوں تمہیں بہت غصہ آرہا ہے۔۔۔۔لیکن تم یہ نہیں سمجھ رہے کہ یہ سب تمہارے لیے کر رہا ہوں میں۔ تمہارا وہ بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہے وہ میرا بچہ۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بات بیچ میں کاٹتے غصے سے اسکی طرف بڑھتے رمیز کا گریبان پکڑتے وہ بہت سختی سے بول رہا تھا۔
تم اس معاملے سے دور ہی رہو تو بہتر ہے۔۔۔۔۔ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہماری یہ دوستی بھی ختم ہو جائے۔
خود پہ قابو پاتے۔۔۔رمیز کا گریبان چھوڑتے وہ کچھ نرمی سے کہہ رہا تھا۔
بہتر تو یہ ہے کہ تم اس بات کو یہی ختم کردو۔۔۔۔تمہیں آئلہ سے محبت ہے نا تو اسکی فکر کرو۔۔۔۔۔کیوں تم لینا کے پیچھے پڑ گئے ہو۔
رمیز نے اسے سمجھانا چاہا۔
مجھے میری ہنی کی فکر ہے اسی لیے میں یہ سب کررہا ہوں۔۔۔۔۔اور تم مجھے مت سمجھاؤ کہ مجھے کیا کرنا چاہیۓ اور کیا نہیں۔
وہ بیزاری سے کہنے لگا۔
ہممم۔۔۔۔۔میں میٹنگ روم میں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔تم بھی آجاؤ۔۔۔۔کافی کام پینڈنگ ہے وہ کر لیتے۔
وہ بات بدلتے بولا۔ وہ جانتا تھا کہ احان اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹنے والا۔۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ وہ آگے کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔اور اسکے لیے رمیز نے پہلے سے ہی تیاری کر رکھی تھی۔ وہ احان کی رگ رگ کے واقف تھا۔ اسی لیے خاموش ہوتے وہاں سے چلا گیا۔
اسکے جانے کے بعد احان نے وشرام کو کال کی۔
لینا کو ڈھونڈو اور اس بار اسے میرے پاس لانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔اسے ختم کر دینا۔۔۔۔۔۔سمجھے تم!
وہ غضب ناک لہجے میں حکم دیتے فون بند کر چکا تھا۔
اور اگلے ہی پل میٹنگ روم کیطرف بڑھ گیا۔
_________*******________
یہاں پر تو کچھ نہیں مل رہا۔
وہ اداسی سے کہہ رہی تھی۔Mr. psycho age difference based novel
احان کے جانے کے بعد وہ اسکے روم میں گھُسی نہ جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔پورے کمرے کی تلاشی لے چکی تھی اور اب احان کے وارڈ روب میں سر دیے چیکنگ کر رہی تھی کہ شاید کچھ مل جائے۔
یہ کیا ہے؟ یہ تو پچپن کی تصویر ہے؟ کس کی ہوگی؟
آئی تھنک مسٹر احان کی ہوگی۔۔۔۔۔بالکل ان سے ملتی جلتی شکل ہے۔
آخر اسکے ہاتھ ایک باکس آیا۔۔۔اسے کھولتے دیکھنے لگی۔
واؤ! چلو کچھ تو ملا مجھے۔ وہ خوش ہوتے ہوئے باکس ہاتھوں میں تھامے احان کے بیڈ پہ بیٹھ گئی اور باکس کو بیڈ پہ پلٹ دیا۔
کچھ بچپن کی تصویروں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ آئلہ کا منہ بن گیا۔
اسمیں بھی کچھ خاص نہیں ملا۔
بس مسٹراحان کی بچپن کی کچھ تصویریں ہی ہیں ۔
چلو اب انکو ہی دیکھ لیتی ہوں۔
وہ احان کی تصویر ہاتھ میں لیے غور سے دیکھنے لگی۔
یہ تو بچپن سے کافی ہینڈسم تھے۔۔۔۔۔ اور جوانی میں کتنے زیادہ ڈیشنگ ہونگے نا۔۔۔۔۔۔۔لڑکیاں مرتی ہونگی ان پہ۔۔۔۔۔ وہ جیلس ہورہی تھی۔ اسکا موڈ خراب ہورہا تھا۔۔۔۔
تصویروں کو واپس باکس میں رکھتے۔۔۔۔۔اسکی جگہ واپس رکھ آئی اور بیڈ پہ لیٹتے آنکھیں موندے سوچنے لگی۔
کیا وہ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں یا نہیں؟
مام ڈیڈ تو پیار ہی نہیں کرتے مجھ سے۔۔۔۔۔۔میرے پاس دوست بھی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔میں کتنی اکیلی ہوں۔۔۔۔۔۔۔اگر مسٹر احان بھی مجھ سے پیار نہ کرتے ہوئے تو؟ شاید وہ بس ایسے ہی کہتے ہوں۔۔۔۔۔اگر انہوں نے مجھے واپس بھیج دیا تو۔۔۔۔۔۔مجھے بہت برا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ میں اپ مزید ایسے گھر میں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔بہت بور ہوجاتی ہوں میں۔۔۔۔۔میں ان سے بات کروں گی کہ مجھے اپنی فیملی کے ساتھ رکھیں۔۔۔۔یا مجھے آفس لے کے جایا کریں۔۔۔۔یا پھر مجھے سکول میں ایڈمیشن کروادیں۔۔۔۔۔۔ہاں ایسا ہی کہوں گی میں۔
وہ الٹے سیدھے خیالوں کو جھٹکتے۔۔۔۔خود سے باتیں کرتے کرتے سو گئی۔
وہ روم میں انٹر ہوا تو حیران رہ گیا۔ ساری چیزیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔۔۔کوئی بھی چیز اپنی جگہ پہ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اسکا وارڈ روب بھی کھلا ہوا تھا اور اسکی شرٹ نیچے پڑی تھی۔Mr. psycho age difference based novel
اور آئلہ آدھی بیڈ پہ تھی اور اسکی ٹانگیں بیڈ سے نیچے۔۔۔ صبح والی پنک ٹی شرٹ اور ٹراؤذر میں ۔۔۔۔۔بال چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے اور وہ بے خبر سو رہی تھی۔
لگتا ہے آج میری جانم نے کافی کام کیا ہے اسی لیے تھک کر سو گئی ہیں۔
وہ ایک نظر کمرے کے چاروں طرف دیکھتے۔۔۔۔مسکراتے ہوئے بیڈ کیطرف بڑھنے لگا۔
اسے بانہوں میں لیکے بیڈ پہ سیدھا لٹایا اور کمفرٹر اسکے اوپر ڈالا۔ اسکے چہرے پہ آتے بالوں کو نرمی سے ہٹایا۔۔۔۔لائٹ آف کی اور وہی اسکے پاس بیٹھے اسے دیکھنے لگا۔
ادھ کھلی کھڑکی سے چاند کی روشنی کمرے میں پڑ رہی تھی۔ وہ پلک جھپکے بغیر اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پھر شاید کبھی نہ دیکھ پائے گا۔
میں ہوں، تیرا خیال ہے
اور یہ حسین رات ہے
جانم ! تمہارے لیے میرا
دل محبت سے سرشار ہے
مجھے آپ سے بے حد پیار ہے۔
وہ نرمی سے اسکے گالوں کو انگلیوں کی پوروں سے سہلاتے سرگوشی کررہا تھا۔
آپکے گال بہت سوفٹ ہیں جانم۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ کوئی اتنا بھی حسین ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ آپ اسطرح میری زندگی بن جائیں گی۔۔۔۔۔
آج سے پہلے کبھی زندگی اتنی خوبصورت نہیں لگی جتنی اب لگنے لگی ہے۔۔۔۔
وہ اسکے نرم گالوں کو سہلاتے۔۔۔۔اسے محبت سے دیکھے جارہا تھا۔ مدھم لائٹ میں بھی اسکا چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی چھوٹی سی ناک۔۔۔۔۔گھنی پلکیں۔۔۔۔۔خوبصورت سی شیپ میں بنے ہوئے آئی برو۔۔۔۔نرم گال۔۔۔اور اسکے گلابی بھرے بھرے ہونٹ۔۔۔۔۔۔
وہ دو انگلیوں سے اسکے چہرے کے ایک نقش کو نرمی سے چھوتے ہوئے اسکے لبوں پہ انگلیاں رکھتے رکا۔۔۔۔۔ اسکے ہونٹ خشک ہورہے تھے۔ ۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل پہ رکھے جگ میں سے پانی کو گلاس میں انڈیل کر ایک انگی پانی میں ڈبو کے گیلی کی۔۔۔اور آئلہ کے لبوں پہ پھیرنے لگا۔۔۔۔۔ گہری مسکراہٹ احان کے لبوں پہ پھیلی تھی۔Mr. psycho age difference based novel
میری جانم تو بہت گہری نیند سوتی ہیں۔۔۔۔جاگ جائیں نا ورنہ مجھے اپنے طریقے سے جگانا پڑے گا آپکو۔
وہ انگلی سے اسکے لبوں پہ ہلکا سا دباؤ دیتے اسکے کان میں سرگوشی کی سی آواز میں کہہ رہا تھا۔
آئلہ نے کروٹ بدلی اور کمفرٹر کو اتنے اوپر تان دیا۔ اسکی پیٹھ احان کی طرف تھی۔ وہ ابھی بھی نیند میں ہی تھی۔
لگتا ہے نیند پوری نہیں ہوئی جانم کی۔
وہ ایک بازو اسکے پیٹ کے گرد حائل کرتے اپنے لبوں کو اسکی گردن پہ رکھتے آنکھیں بند کر گیا۔
اسکی گرم سانسوں اور لمس کی تپش کو محسوس کرتے وہ فوراً سے جاگ گئی۔ اور کروٹ بدلتے سیدھی ہوئی تو احان پیچھے کو ہوا۔
جاگ گئی میری ہنی” ۔ وہ اسکے ماتھے پہ ہاتھ پھیرتے مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
رات ہوگئی ہے کیا؟ میں سو گئی تھی؟ کمرے میں اندھیرا دیکھ کر وہ آ نکھیں مسلتے ہوئے اٹھتے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاتے پوچھنے لگی۔
احان نے لائٹ آن کی۔ اور اسکے قریب ہوتے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
بہت تھک گئی تھی میری جانم؟ لگتا ہے میرے روم میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں آپ! مجھے سے پوچھ لیتی جانم!
وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو اسکی انگلیوں میں پھنساتے اپنے ہونٹوں کے قریب لیکے جاتے اس پہ کس کرتے ہوئے شرارتا کہہ رہا تھا۔
*****__________********
Episode 15
کیا ہوا جانم خاموش کیوں ہیں؟
وہ آئلہ کو چپ دیکھ کر چہرے پہ سنجیدگی لاتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
بتائیں نا ہنی! کیا ہوا ہے؟ کچھ چاہئیے آپکو؟
وہ ہنوز خاموش تھی اور احان کی طرف دیکھے جارہی تھی۔
نہیں۔۔۔۔۔ وہ اداسی سے بولی۔Mr. psycho age difference based novel
تو اتنی چپ چپ کیوں ہیں میری جانم! نیند سے جگا دیا اس لیے اچھا نہیں لگ رہا کیا؟
وہ اسے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
ہممم۔۔۔میں شاور لے لوں! وہ اس سے دور ہوتی بیڈ سے اتری اور باتھ روم میں چلی گئی۔
کیا ہوا ہے ؟ میں تو ٹائم پہ آیا تھا آج۔۔۔۔کوئی ایسی بات بھی نہیں کی میں نے تو پھر میری ہنی بنی اتنی اداس کیوں لگ رہی ہے۔۔۔۔شاید شاور لے کر کچھ اچھا فیل کرے۔
احان تھوڑا پریشان ہوا تھا۔ وہ سوچتے ہوئے بیڈ پہ لیٹ گیا۔
شاور لینے کے بعد اس نے ٹوول لینا چاہا تو بےبی پنک کی بجائے وائٹ ٹوول دیکھ کر اس پہ چھائی ساری نیند پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
أئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا؟ یہ تو مسٹر احان کا باتھ روم ہے۔۔۔۔۔او نو۔۔۔۔۔۔میرے کپڑے تو میرے روم میں ہیں۔۔۔۔۔اب کیا کروں؟
اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا اور سر پہ ہاتھ مارتے سوچنے لگی۔
وائٹ ٹوول سے خود کو ڈھانپا اور مرر میں خود پہ ایک نظر ڈالی۔ ٹوول کافی بڑا تھا۔۔۔گھٹنوں سے نیچے تک آرہا تھا۔۔۔ آہستہ سے ڈور اوپن کرتے اس نے باہر جھانکا تو سامنے احان بیڈ پہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔
جاناں! ۔۔۔۔۔۔۔۔ جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹر احان!
دو بار آواز دینے پہ بھی جب وہ نہیں اٹھا تو اس نے اونچی آواز میں اسے پکارا۔
اسکی آنکھ لگ گئی تھی شاید۔۔۔۔۔آئلہ کی آواز پہ وہ جلدی سے اٹھا اور باتھ روم کیطرف بھاگا۔
کیا ہوا جانم! سب ٹھیک ہے؟ وہ پریشان ہوتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
وہ میرے کپڑے۔۔۔۔۔۔۔ میں بھول گئی تھی کہ یہ آپکا روم ہے ۔۔۔۔ میرے روم سے میرے کپڑے تو لا دیں پلیز۔
وہ ذرا سا دروازہ کھولے ایک بازو ڈور پہ رکھے گردن ہاہر کو نکالے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔ اسکے گیلے بال اور اسکی چمکتی ہوئی سفید گردن نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔پانی کے قطرے اسکے بالوں سے گرتے اسکی صراحی دار گردن سے ہوتے ہوئے اسکی نرم و نازک سینے کیطرف رینگتے جارہے تھے۔۔۔۔ وہ اسکے مدہوش کن سراپے میں کھو گیا تھا۔
جاناں۔۔۔۔۔۔ لے کے آئیں نا میرے کپڑے۔Mr. psycho age difference based novel
آئلہ کی آواز پہ وہ واپس ہوش میں آیا۔ اور اس پر سے نظریں ہٹائیں۔
جج۔۔جی جانم میں ابھی لے کے آتا ہوں۔ وہ روم سے نکلتے آئلہ کے روم میں گیا۔
ہر بار أئلہ کے حسین سراپے کو دیکھ کے وہ ایسے پاگل ہونے لگتا تھا جیسے پہلی بار اسے دیکھ رہا ہو۔۔۔۔۔ وہ کم عمر۔۔۔۔۔بے حد خوبصورت نازک سے جسم کی مالک تھی۔۔۔۔ہر دن اسکی جوانی کے شباب کو بڑھا رہا تھا۔۔۔۔۔وہ دن بہ دن اور حسین ہوتی جارہی تھی۔۔۔اور اسکا یہی حسن احان کو پاگل کر رہا تھا۔۔۔۔اور کون اتنا بے وقوف ہوگا جسکی جھولی میں آئلہ جیسی لڑکی ڈال دی جائے اور وہ اس پہ مر نہ مٹے۔۔۔۔۔اس پہ سب کچھ قربان نہ کردے۔۔۔۔۔
مرد کو تو محبت ہی چاہیئے ہوتی ہے اور اگر محبت ایسی نازک سی دلربا حسینہ سے مل جائے تو اسے پاگل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔۔۔اس سے بڑھ کر اور کیا خوش نصیبی ہوسکتی تھی اسکی کہ عمر کے اس دورانیے میں احان کو آئلہ کی مکمل محبت مل گئی تھی۔
روم میں انٹر ہوتے وہ وارڈ روب کی طرف بڑھا اور آئلہ کے کپڑے نکالنے لگا۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس نے وارڈروب کھولا تو ایک مدہوش کرنے والی خوشبو اسکی سانسوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔
یہ خوشبو۔۔۔۔۔یہ وہی خوشبو تھی جو اسے آئلہ کے قریب جانے پہ محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔پاگل کر دینی والی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔
وہ آئلہ کے کپڑوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ایک ایک فراک پہ نرمی سے بہت محبت سے ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔وہ ایسے چھو رہا تھا جیسے کوئی بہت خاص۔۔۔۔قیمتی چیز ہو۔۔۔۔۔
بلیک فراک پہ ہاتھ رکھتے وہ رکا تھا۔
جانم۔۔۔۔۔یہ فراک جانم پہ بہت سوٹ کرتا ہے۔۔۔۔۔بہت پیاری لگتی ہیں اس میں میری ہنی!
وہ فراک کو ہاتھوں سے پکڑے اپنے چہرے کے قریب لاتے اسکی خوشبو پاگلوں کی طرح اپنی سانسوں میں اتارتے مسکرارہا تھا۔
وہ بھول گیا تھا کہ وہ آئلہ کے لیے کپڑے لینے آیا تھا۔۔۔۔۔اسے خود بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کررہا تھا۔
اتنی دیر ہوگئی ہے ابھی تک آئے کیوں نہیں مسٹر احان۔Mr. psycho age difference based novel
کافی دیر تک جب احان واپس نہ آیا تو آئلہ کو فکر ہوئی۔۔۔وہ باتھروم سے باہر نکلی اور روم سے نکلتے اپنے روم کیطرف چل پڑی۔
مسٹر احان! کیا کررہے ہیں آپ؟ اتنی دیر لگادی تھی آپ نے تو مجھے خود ہی آنا پڑا۔۔۔۔ وہ روم میں آتے احان کو وارڈ روب میں سر گھساۓ دیکھ کر بولی۔
آئلہ کی آواز پہ وہ اپنے خیالوں سے نکلتے ہوئے ہوش میں آیا تھا۔ جلدی سے سر باہر نکالا اور ہڑبڑاہٹ میں کہنے لگا۔
وہ ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔بس آہی رہا تھا جانم۔۔۔۔کپڑے کون سے لاؤں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ ۔۔۔
اسکے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہوئے تھے۔۔۔۔وہ تھوڑا شرمندہ ہورہا تھا کہ کہیں آئلہ نے دیکھ نہ لیا ہو اسے پاگلوں والی حرکت کرتے۔
اف او۔۔۔۔۔۔ اتنا ٹائم لگا دیا تھا آپ نے۔۔۔۔مجھے تو فکر ہی ہونے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اپنا ٹوول سنبھالتی احان کے قریب آتے بتانے لگی۔
وہ جو ابھی ابھی ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔۔پھر سے اسے دیکھ کے پاگل ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔ خود کو سنبھالتے اس نے وہ فراک آئلہ کو پکڑائی ا ور خود ذرا سائیڈ پہ ہوتے اپنے زوروں سے دھڑکتے دل کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا جو بہکنے کو تیار تھا۔
یہ فراک سیلیکٹ کی ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔یہ مجھے بھی پسند ہے۔۔۔۔۔چلیں میں چینج کر کے آتی ہوں۔
وہ فراک دیکھتے کہہ رہی تھی۔
اسے وائٹ ٹوول میں اپنے اتنے قریب دیکھ کر احان کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں۔ اسکا دل کیا کہ اسے کہیں چھپا لے۔
اسکے گلابی لب دیکھ اسے اپنا گلا سوکھتا ہوا محسوس ہوا۔ اسکی پیاس شدت اختیار کر گئی تھی جو شاید اسکی جانم کے لبوں کی نرماہٹ محسوس کر کے ہی مٹنی تھی۔
اسنے فوراً نظریں ہٹائیں مگر لمحے کی دیر میں نظریں پھر اس حسین دلربا کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔۔
کمبخت دل اسکو پانے کی چاہ میں تڑپ رہا تھا۔ وہ لاکھ پہرا بٹھا رہا تھا مگر دل ڈھول کی طرح سینے میں بج رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے دل کو سنبھالے جو پاگل ہوئے جارہا تھا اسے اپنی دسترس میں لینے کے لیے۔۔۔۔
وہ باتھ روم کی طرف جانے لگی تو احان نے اسکا بازو پکڑا۔
کیا ہوا؟ وہ اسکی طرف مڑتے ہوئے چونک کر پوچھنے لگی۔
بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھ سے فراک لیتے بیڈ پہ اچھالتے ہوئے وہ محبت سے لبریز انداز میں کہہ رہا تھا۔
تھینک یو! وہ شرماتے ہوئے بولی۔Mr. psycho age difference based novel
اگلے ہی پل احان اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے آنکھیں بند کرگیا۔
آئی لو یو جانم! اسکی خمار آلود آواز آئلہ کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
احان کی بازؤں کی مضبوط گرفت کو اپنے نازک جسم پہ محسوس کرتی وہ کپکپارہی تھی۔ اسی تھوڑا سا عجیب لگ رہا تھا۔ احان کی گرفت میں بہت سختی تھی۔۔۔۔وہ اسکی تیز سانسوں کی تپش اپنی گردن پہ محسوس کررہی تھی۔۔۔۔احان کے بے لگام ہوتے دل کی تیز دھرکنیں سنتی وہ کچھ سہم گئی تھی۔
آئلہ کا کوئی جواب نہ سن کر وہ اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے اسے دیکھنے لگا۔
ڈر لگ رہا ہے؟ اسے سہما ہوا دیکھ کر وہ پوچھنے لگا۔ تو آئلہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ آکے غائب ہوئی۔
سوری۔۔۔۔۔اپنی جانم کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔بس یہ دل تھوڑا سا پاگل ہے نا۔۔۔۔ آپکو دیکھنے کے بعد یہ میرے قابو میں نہیں رہتا۔۔۔۔۔کچھ ہوش نہیں رہتا کہ کیا کررہا ہوں۔
وہ نرمی سے اسکے گال سہلاتے۔۔۔۔۔اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے۔۔۔۔اسے بتا رہا تھا۔
اسکی باتیں سن کر آئلہ کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔
مسکراتے ہوتے کتنی دلکش لگتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔اسکے رس بھرے گلابی ہونٹ احان کو بہکا رہے تھے۔۔۔۔۔۔
میں چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔۔پھر ہم باتیں کریں گے اوکے۔
وہ اسکے ہاتھوں کو اپنے کندھوں سے ہٹاتے ہوئے بولی۔
رہنے دیں نا جانم! ویسے بھی اب تو کافی رات ہوگئی ہے نا!
وہ اسکے ہاتھوں کو تھامتا اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔Mr. psycho age difference based novel
لیکن کیا جانم! یہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔اور یہ ٹوول بھی تو کافی بڑا ہے نا۔۔۔۔۔آپکے چھوٹے سے نازک سے جسم کو چھپا تو رکھا ہے اس نے۔۔۔۔۔
وہ اسکی کمر کے گرد ایک بازو حائل کرتے۔۔۔۔۔کمر کو سہلاتے کہنے لگا۔
آئلہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں اپنے لیے بے حد محبت اور دیوانگی دیکھ کر اسکا دل خوشی سے اچھلا تھا۔ وہ مسکرادی۔
احان اسے بانہوں کی مضبوط گرفت میں لیے بیڈ کیطرف بڑھا۔نرمی سے اسے لٹایا۔ اور کمفرٹر اس پہ ڈالتے۔۔۔۔ خود بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کر گیا۔
اپنا ایک ہاتھ آئلہ کے ماتھے پہ رکھے۔۔۔اور دوسرے میں اسکا چھوٹا ملائم سا ہاتھ لیے۔۔۔۔اپنے سینے سے لگائے کچھ دیر ایسے ہی بیٹھا رہا۔۔۔۔
دل تھا کہ شور مچائے جارہا تھا۔۔۔۔۔وہ خود پہ قابو پانے کی کوشش کیے جارہا تھا۔۔۔۔۔اور دل اسے بہکائے جارہا تھا۔۔۔۔۔آخر وہ ہارا اور اسکے دل کی جیت ہوئی۔۔ اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔۔۔۔۔ اور آئلہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔۔۔۔
محبت بھری نظر اس پہ ڈالتے وہ مسکرایا اور اس پر جھکا۔۔۔۔
پہلے اپنے سلگتے لبوں سے اسکی آنکھوں کو معطر کیا پھر اسکی چھوٹی سی ناک اور پھر ضبط کا بندھن توڑتے ہوئے اس کے ہوش اڑاتے رس بھرے گلابی لبوں پر شدت سے جھکا تھا اور سانسوں کا تبادلہ کرنے لگا۔۔۔
وہ جو آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔اچانک سے اسکے لبوں کی گرماہٹ محسوس کرتے اپنی آنکھیں کھول گئی۔
تو آج پھر سے وہ احان کی قربت کی شدتوں کو سہنے والی تھی۔۔۔۔جب اس سے سانس نہ لی گئی تو اسنے احان کو جھنجوڑا جو کسی اور ہی جہاں میں جا چکا تھا اب اسے کہاں کسی کی پرواہ تھی۔۔۔۔وہ کتنی دیر سے خود کو روکے بیٹھا تھا۔۔۔۔اپنی پیاس بجھائے بغیر اب کہاں اسے چھوڑنے والا تھا۔
جب آئلہ کی سانس پھولنے لگی تو وہ زرا سا اٹھ کر اس کے سرخ ہوتے چہرے پر اپنی قربت کے رنگ دیکھنے لگا۔۔۔
آج دل بے قابو ہو چکا تھا۔۔۔اور شاید ساری حدیں پار کرنے کو پاگل ہوئے جارہا تھا۔۔۔۔۔۔احان بھی آج خود کو روکنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اب پوری طرح اسے اپنی محبت کی پناہوں میں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔اپنی قربت کے ہر رنگ کو اسکے چہرے پہ آتے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے وہ اس پہ جھکا تھا۔
پھر اسکے لبوں کو شدت سے چومتے ہوئے۔۔۔۔۔اپنے ساتھ ساتھ آئلہ کی سانسیں بھی بے ترتیب کر گیا تھا وہ۔۔۔۔۔
اپنے سلگتے ہونٹوں کو اسکے سرخ ہوتے لبوں پہ رگڑتے وہ پوری طرح مدہوش ہوچکا تھا۔
اسکی گردن میں منہ چھپاتےوہ اسکے نازک وجود کو اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں لیتے۔۔۔۔اپنے بھاری جسم پہ حاوی کرتے۔۔۔۔پوری طرح اسے اپنی قید میں لے چکا تھا۔
رات گہری ہونے کے ساتھ ساتھ احان کی شدتیں بھی عروج پر تھیں۔۔۔ ۔ جن سے کبھی وہ نازک جان گھبرا جاتی تو کبھی مدہوش ہونے لگتی۔۔۔۔۔
ہر گزرتے پل کے ساتھ ساتھا احان آئلہ کی روح میں اترتا چلا گیا اور دو جسم ایک جان بن گئے۔۔۔۔ایک دوسری کی روح کے ساتھی۔۔۔۔۔
آخر عشق کے فراق میں تڑپتی دو روحوں کا ملن ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے پوری طرح اپنا بنا چکا تھا۔۔۔۔۔ اب جدائی نا ممکن تھی انکے بیچ۔۔۔۔۔۔۔(ایسا احان کو لگ رہا تھا کہ اب آئلہ ہمیشہ کے لیے اسکی ہوچکی ہے)Mr. psycho age difference based novel
مگر احان اس بات سے بے خبر تھا کہ آنے والے وقت میں کیا ہو ہونے والا تھا۔
_________________*******________
اگلی صبح بہت حسین تھی خاص کر احان کے لیے۔۔۔۔۔آئلہ کسمسا کر اٹھی تو اپنے آپ کو احان کی بانہوں کی مضبوط گرفت میں پایا۔
اس نے پہلے اپنے گرد احان کی مضبوط گرفت دیکھی اور پھر ایک نظر احان کو جو خود سکون سے اسے تکیہ سمجھ کے اتنے زور سے سینے میں بھینچ کر سویا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ایسے سورہا تھا جیسے کئی دنوں بعد اسے نیند آئی ہو۔۔۔۔۔سکون اسکے چہرے سے واضح ہورہا تھا۔۔۔۔۔
وہ محبت سے اسے دیکھتے مسکرا دی۔
اسنے اٹھنا چاہا تو احان نے گرفت اور مضبوط کر دی۔اسنے ترچھی آنکھوں سے احان کو دیکھا کہ آیا وہ سچ میں سویا ہے یہ جان بوجھ کے اسے تنگ کر رہا ہے۔
مگر اسکے چہرے کی وجاہت دیکھ وہ کھو ہی گئی تھی۔
اس نے پہلے کبھی احان کو اتنے غور سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔مگر آج۔۔۔۔۔۔آج خود میں وہ کچھ تبدیلی محسوس کررہی تھی۔۔۔۔دل خوشی سے جھوم رہا تھا اور اسے اچھا لگ رہا تھا پر وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ ایسا کیوں ہورہا تھا۔
بند آنکھوں پر گھنی پلکیں۔
کتنی پیاری پلکیں ہیں ۔۔۔۔۔میری پلکیں بھی لمبی اور گھنی ہیں۔۔۔۔مطلب مسٹر احان کی اور میری پلکیں سیم سیم ہیں۔۔۔ میرے مسٹر احان!
اسنے سوتے ہوئے احان کی پلکوں کو ہلکے سے چھو کر محسوس کرتے اس پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کے گال بھی سوفٹ ہیں۔۔۔میرے گالوں کی طرح۔۔۔
اپنے نرم چھوٹے سے ہاتھوں کو احان کے گالوں پہ پھیرتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی۔
احان کے دل میں گدگدی سی ہوئی۔ وہ جاگ رہا تھا اور اپنی جانم کی کاروائیوں کو اپنی ترچھی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
آئلہ کی باتیں سن کے اس نے اپنی ہنسی دانتوں میں دبائی تھی۔۔۔۔۔(میری جانم میری تعریفیں کم اور اپنی زیادہ کررہی ہیں۔۔۔اب اگر یہ بات انکو کہوں گا تو غبارہ کی طرح منہ پھلا گیں گی یہ۔۔۔۔۔بچوں جیسی باتیں )Mr. psycho age difference based novel
جاناں۔۔۔۔۔۔جاناں۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ جاگ رہے ہیں؟
وہ اپنے ہونٹوں کو احان کے کان کے پاس کرتے بہت ہی دھیمی آواز میں بول رہی تھی۔
اسکی پیاری سی آواز سنتے۔۔۔۔اسکی گرم سانسوں کو اپنے کان کی لو پہ محسوس کرتے اسکا دل روز سے دھڑکا تھا۔۔۔۔۔ پر وہ چپ چاپ آنکھیں بند لیے لیٹا رہا۔۔۔
لگتا ہے گہری نیند سو رہے ہیں۔
احان کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوتے دیکھ کر وہ بولی۔
وہ پھر سے اسے دیکھنے میں مصروف ہوگئی اسکی نظر احان کے لبوں پر گئی تھی جو سختی سے بند تھے۔۔۔
مسٹر احان! جاناں! پتہ نہیں کیوں بہت اچھے لگ رہے آج آپ۔۔۔۔بہت پیار آرہا ہے آپ پہ۔۔۔۔دل چاہ رہا ہے زور سے آپکے گال پہ بائٹ کرلوں۔۔۔پر آپ سو رہے ہیں نہ۔۔۔۔آپکی نیند خراب ہوجائے گی۔۔۔۔ اسی لیے رہنے دیتی ہوں۔۔۔۔۔آئی جسٹ وانا سے۔۔۔۔آئی لو یو جاناں!
اسکے لبوں پہ ہلکے سے انگوٹھا پھیرتے وہ اس پہ جھکی تھی۔
آئلہ نے اپنے نرم ہونٹوں سے اسکے لبوں کو چوما اور
اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر, اپنے ہاتھوں پر ٹھوڑی ٹکاتے اسے جان نثار نظروں سے دیکھتے کہا۔۔۔۔
اسکے منہ سے اپنے لیے اتنی محبت بھری باتیں سن کے اسے بے حد سکون ملا تھا۔۔۔۔ایک ڈر جو اسکے دل میں تھا آج وہ بھی ختم ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ مزید خود پہ قابو نہیں پاسکتا تھا۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولتے۔۔۔۔آئلہ کی پتلی سی کمر کو گرفت میں لیتے کروٹ بدلتے اس کے اوپر آیا تھا۔
تو جانم میرے گال پہ زور سے بائٹ کرنا چاہتی ہیں ہونہہ؟
وہ اس کے وجود پہ حاوی ہوتے ہوئے۔۔۔۔اسکی کان کی لو کو اپنے لبوں میں لیے سرگوشی کررہا تھا۔
وہ اچانک اسکے جاگنے پہ اور اس طرح اسے اپنے حصار میں لینے پہ ہڑبڑائی تھی۔
وہ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔
وہ کیا جانم؟Mr. psycho age difference based novel
وہ اسکی گردن پہ لب رکھتے۔۔۔۔۔اپنے دانتوں کا ہلکا سا دباؤ دیتے۔۔۔۔خمار آلود آواز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
احان کی داڑھی اسکی نازک سی گردن میں چبھی تھی۔
دور ہٹیں نا۔۔۔۔۔۔آپکی بیئرڈ چبھ رہی ہے مجھے۔۔۔۔
وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے بول رہی تھی۔
آئلہ کی بات سنتے وہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں کے نیچے دباتے مسکرایا تھا۔
اور اسکی گردن سے ہونٹ ہٹاتے اسکے لبوں کو شدت سے اپنی دسترس میں لیا جبکہ وہ اسکا کندھا دبوچ کر رہ گئی۔۔۔
کچھ ہی منٹوں میں اسنے آئلہ کی سانس سوکھا دی تھی۔۔۔
وہ ہٹا تو آئلہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔
رات کو تو ایک بار بھی نہیں کہا تھا آپ نے کہ میری بیئرڈ چبھ رہی تھی آپکو۔
احان نے اسکے سر کے ساتھ سر ٹکراتے دھیمے سے کہا تو وہ اسکے سینے میں چھپ گئی جس پر احان نے زیرِ لب مسکراتے اسکے بالوں کو چوما۔۔۔۔
“چلیں اٹھیں جانم! فریش ہوجائیں۔ آج آپکو کہیں لے کر جانا ہے۔
کہاں جانا ہے؟ وہ اسکی چہرے کیطرف دیکھتی معصومانہ انداز میں پوچھ رہی تھی۔
آج میں جانم کو کہیں گھمانے کے لیے لیکر جاؤں گا۔۔۔۔۔ بہت ساری شاپنگ بھی کروا دوں گا۔۔۔۔
وہ اسکے گال سہلاتے اسے بتانے لگا۔
اوکے۔۔۔۔۔آئی ایم سو ہیپی! وہ بچوں کیطرح خوش ہونے لگی۔Mr. psycho age difference based novel
می ٹو۔۔۔۔۔میری جانم! وہ محبت سے لبریز لہجے میں کہہ رہا تھا۔
احان اپنے روم میں گیا اور فریش ہوکے واپس آئلہ کے روم میں آیا تو وہ فریش ہوکے تیار کھڑی تھی۔
آئلہ نے نے ہلکے جامنی رنگ کا شارٹ فراک زیبِ تن کیا تھا, کانوں میں ہلکے سے جھمکے اور لائٹ پنک لپسٹک لگائے بالوں پر چھوٹی سی پنز لگائے وہ تیار تھی۔
ایک تو وہ پہلے ہی چھوٹی تھی پھر جب شارٹ فراک پہنتی تھی تو اور بھی اپنی عمر سے کم لگتی تھی بالکل بارہ تیرہ سال کی ایک چھوٹی سی بچی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ اسکے دماغ میں اسے ایک آواز سنائی دینے لگی۔۔۔۔۔وہی آواز جس سے وہ جان چھڑوانا چاہ رہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
(دیکھو! غور سے دیکھو اسکو۔۔۔۔کتنی چھوٹی ہے یہ۔۔۔۔کتنی معصوم ہے۔۔۔۔۔بہت نادان اور دنیا سے بالکل بے خبر۔۔۔۔۔ لیکن تم خود کو دیکھو۔۔۔۔تم ایک بڑی عمر کے مرد ہو۔۔۔۔تم تو سمجھ دار ہو نا۔۔۔۔تمہارا ایک نام ہے۔۔۔۔لوگ تمہیں جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا کہو گے تم دنیا کو؟؟ کیا جواب دو گے؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی ایک پندرہ سال کی لڑکی سے تعلق رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔سوچو اگر کسی کو پتہ چل گیا کہ تم اتنی کم عمر لڑکی کے ساتھ فزیکلی انوالوڈ ہو چکے ہو ۔۔۔۔تو کیا عزت رہ جائے گی تمہاری۔۔۔۔۔تم نے اسے بہکایا ہے۔۔۔۔تم نے ریپ کیا ہے اس کا۔۔۔۔۔تم ایک ریپسٹ ہو احان عباس۔۔۔۔تم ریپسٹ ہو۔۔۔۔۔۔۔)
نہیں………..نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔مم۔۔۔میں ۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔میں نے نہیں بہکایا۔۔۔۔۔جھوٹ بولنا بند کرو۔۔۔۔۔میں ریپسٹ نہیں ہوں۔۔۔۔۔نہیں ہوں میں ریپسٹ۔۔۔۔۔۔
احان اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے زور سے چلایا تھا۔ وہ پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔۔۔۔ سانسیں تیز ہورہی تھیں۔۔۔۔اسکا جسم کانپ رہا تھا۔۔۔۔
آئلہ بھاگ کے اسکی طرف آئی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا آپکو؟ آپ سنبھالیں خودکو پلیز۔۔۔۔۔جاناں۔۔۔۔۔۔۔
جانم۔۔۔۔۔جانم۔۔۔۔۔میں نے۔۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا جانم۔۔۔۔۔میں نے آپکو نہیں بہکایا۔۔۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کے مت جایے گا۔۔۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کے مت جایے گا۔
وہ آئلہ کا ہاتھ اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں لیکر بمشکل بول پایا تھا۔۔۔اور فرش پہ گرتے بے ہوش ہو چکا تھا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

3 thoughts on “Mr. psycho age difference based novel”
  1. Ap ko pdf publish krni chahiya sb bhut intezar kr rha Hy hr novel mil jata hyy google pa pr apka novel nhi milta search krka bhi nhi miltaa kindly Isa google pa pdf form MN snd krain jazakillah o khair

Leave a Reply

Your email address will not be published.