couple, students, anime-5711220.jpg

This is a age difference based Urdu romantic novel Mr psycho by Barbie boo.

EPISODE 18 (Romance special)
وہ چاکلیٹ کے چھوٹے چھوٹے بائٹ لیتی اسکی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ اور وہ مسکراتے ہوتے اسے دیکھ رہا تھا۔
آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے؟ وہ بولی۔
ایسے کیسے؟ وہ دانتوں تلے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہنے لگا۔
جیسے آپ دیکھ رہے ہیں۔۔ایسے مت دیکھیں۔ وہ جھنجلا کے بولی تھی۔
کیوں نہ دیکھوں اپنی جانم کو؟ وہ اسکی گود میں سر رکھتے کہہ رہا تھا۔
کیونکہ۔۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔ مجھے نی پتہ۔
وہ منہ بتاتے ہوئے اسکی طرف دیکھنے لگی۔
پھر تو میں دیکھوں گا۔۔۔۔۔ اسکے عریاں بازو پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا۔
نہیں کریں نا۔۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھ کا لمس بازو پہ محسوس کرتے اسکے بدن میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔ وہ اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی۔
یہ بھی نہیں کروں۔۔۔۔آپکو دیکھوں بھی نا۔ کیوں؟ احان نے اداسی سے کہا۔
مجھے گدگدی ہوتی ہے۔ وہ برا سا منہ بناتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اسکی بات سن کر احان کو ہنسی آتی تھی پر اس نے منہ پہ ہاتھ رکھتے اپنی ہنسی چھپالی۔
کہاں گدگدی ہوتی ہے؟ وہ دانتوں تلے ہنسی دبائے شرارتا اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
اسکی بات پہ آئلہ نے منہ پھلایا تھا۔۔۔اور اپنی چاکلیٹ کی آخری بائٹ لیتے اسے گھورنے لگی۔
بتائیں نا! وہ اٹھتے ہوئے بیٹھ گیا اور اسکے چہرے کے قریب ہوتے دھیمی آواز میں کہتا آئلہ کی سانسیں بے ترتیب کررہا تھا۔
مسٹر احان! گڈ نائٹ! وہ اسے خود سے دور کرتی۔۔۔۔کمفرٹر میں گھسی تھی۔
ہمارے لیے مارننگ ہے یہ ۔۔۔۔چلیں اٹھ جائیں جانم۔۔۔۔۔۔ہم پہلے ہی کافی دیر سو چکے ہیں اب اور نہیں سونا۔۔۔۔۔۔
وہ کمفرٹر کے اوپر سے اسکے قریب ہوتے کہہ رہا تھا۔
مجھے نیند آرہی ہے۔ وہ بولی۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
اچھا تو یہ چاکلیٹ میں کھا لوں پھر؟ اس نے کہا۔
کونسی چاکلیٹ؟ . وہ کمفرٹر اتارتی جلدی سے اٹھی تھی۔
یہ والی چاکلیٹ؟ احان آئلہ کے قریب ہوتے اسے اپنی بانہوں میں دبوچتے ہوئے اسکے کان میں سرگوشی کرتے کہنے لگا۔
آہ۔۔۔۔۔مسٹر احان! . آپ نے جھوٹ بولا۔
وہ اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
جھوٹ تو نہیں بولا۔۔۔۔۔میری جان!
تو پھر کہاں ہے چاکلیٹ؟ وہ دبے دبے غصے کے کہہ رہی تھی۔
میری بانہوں میں۔۔۔۔۔ وہ اسکے کان کی لو کو اپنے لبوں میں لیے دھیمے سے کہہ رہا تھا۔
مجھے نیند آرہی ہے۔ سونے دیں مجھے۔ وہ سپاٹ انداز میں بولی۔
اچھا جانم۔۔۔۔مجھے یہ ذرا سی چاکلیٹ ہی کھانے دیں۔
وہ اسکے نچلے ہونٹ پہ لگی ذرا سی چاکلیٹ پہ انگلی رکھتے بولا۔
یہ کھانی ہے آپکو؟ ابرو اچکا کے پوچھنے لگی۔ تو احان نے ہاں میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے یہ لیں کھا لیں۔ اور اب مجھے سونے دیں۔ تنگ مت کریں۔
وہ اپنی پتلی سی انگلی سے ہونٹ پہ لگی چاکلیٹ کو ہٹاتے احان کیطرف کرتے ہوئے بولی تھی۔
اوکے۔۔۔۔اگر جانم ایسے ہی چاہتی ہیں تو میں ایسے ہی کھا لوں گا۔
آئلہ کی اس حرکت پہ اس نے ہونٹ دانتوں تلے دبایا تھا۔ اور اسکی چھوٹی سی انگلی پہ زبان پھیرتے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے گیا۔
یہ بھی کھا لوں؟ اسکے ہاتھ پہ لب رکھتے وہ شرارت بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
نہیں۔۔۔۔ اب گڈ نائٹ۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی سونے لگی تو احان نے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے سینے میں چھپاتے اسکی گردن پہ لب رکھتے لمس چھوڑا اور پر اسکے نازک کندھے پہ دانت گاڑھے تھے۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
وہ ہلکے سے چیخی تھی۔ اور ایک جھٹکے سے اسے دور دھکیلا۔
کیا ہوا ہنی؟ وہ بوکھلایا ۔
آپ سے کہا نا ایسا مت کریں۔ وہ غصے سے بولی۔
جانم۔۔۔۔یہ لَو بائٹ تھی۔۔۔غصہ کیوں ہورہی ہیں۔
احان کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔
نہیں چا ہیئے مجھے لو بائٹ۔ وہ چلائی۔ آنسو اسکی آنکھوں سے ٹپ تپ کرتے اسکے گال بھگو رہے تھے۔
آپ پلیز روئیں مت جانم۔۔۔۔۔اوکے میں اگین نہیں کروں گا ایسا۔۔۔
اسے روتے دیکھ کے اسے برا لگا تھا۔ اسکے قریب ہوتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے وہ کہنے لگا۔
آپ جائیں یہاں سے۔۔۔۔اپنے روم میں جائیں آپ۔
اسکے ہاتھ کو جھٹکتے وہ بے رخی سے بولی۔
احان کے چہرے پہ اداسی چھائی تھی۔ وہ بیڈ سے اترتے روم سے نکلتے اپنے روم میں پہنچا۔
آئلہ اپنے آنسو پونچھتی۔۔۔۔کمفرٹر اپنے اوپر ڈالتے سو گئی۔
جب بھی مجھے لگتا ہے کہ اب میں اسے سمجھنے لگا ہوں تب ہی وہ ایسے برتاؤ کرنے لگتی ہے۔۔۔۔۔ کیا مسئلہ ہے آخر۔۔۔۔ایک لو بائٹ ہی تو تھی۔۔اتنا برا کیوں مان گئی تھی۔
وہ بیڈ پہ بیٹھتے سوچتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کے چیک کرنے لگا۔
اتنی کالز اور میسجز۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
وہ دادو اور کیارا کی کالز دیکھ کے پریشان ہوا۔ اور میسج ریڈ کرنے لگا۔
“احان بھائی! کیسے ہیں آپ؟ ایک مسٔلہ ہوگیا ہے۔۔۔ ٹیشا کسی لڑکے کو پسند کرتی تھی۔۔۔کل وہ لوگ رشتہ لے کے آرہے ہیں۔۔۔ٹیشا نے دھمکی دی ہے کہ اگر انکو انکار کیا تو وہ کورٹ میرج کر لے گی۔۔۔۔ وہ ایک ہفتے میں شادی کرنے کی ضد کررہی ہے۔۔۔ دادو بہت غصے میں ہیں۔۔۔آپ پلیز صبح تک گھر آجائیں۔ “
ہمممم۔۔۔۔۔ گھر تو مجھے آنا ہی تھا میری جانم کو جو ملوانا ہے آپ سب سے۔۔۔۔چلو یہ موقع سہی ہے۔۔۔جانم کو بھی ساتھ لے جاؤں۔۔۔ جانم کا موڈ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ہمممم!
اس نے فون ٹیبل پہ رکھتے بیڈ پہ لیٹتے آنکھ بند کیں۔
_____________********
مسٹر احان! آئم سوری جاناں۔
وہ اسکے گال پہ لب رکھتے سرگوشی کررہی تھی۔
اسکا لمس محسوس کرتے احان نے آنکھیں کھولی۔
گڈ مارننگ جاناں! وہ چہک کر بولی۔
ہاف وائٹ کلر کی شارٹ فراک میں، بالوں کی اونچی پونی بنائے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔
گڈ مارننگ میری جانم! وہ اٹھتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے بولا۔
کیا ہوا؟ احان کو اسکے گال پہ ہاتھ رکھے دیکھ کے وہ پوچھنے لگی۔
پتہ نہیں۔۔۔کیا ہوا؟ گال بہت گرم ہورہاہے۔ اور آواز بھی سنائی دے رہی ہے ۔
وہ شوخ لہجے میں کہتا اسکی طرف دیکھنے لگا۔ جو نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔
وہ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔ رات کو آپ پہ غصہ کیا تھا نا میں نے۔۔۔اسکے لیے آئم سوری۔
وہ نظریں جھکائے بولی۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
جب کس کر لیا تھا تو سوری بولنے کی ضرورت نہیں تھی جانم۔
وہ سینے پہ بازو لپیٹتے محبت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
تھینک یو۔ وہ مسکرائی تھی۔
چلیں میں فریش ہو جاؤں پھر آپکو اپنی فیملی سے ملوانے کے لیے لے جاؤں گا۔
وہ بیڈ سے اترا۔۔اسکے ماتھے پہ پیار کیا۔۔اور واش روم کیطرف بڑھتے ہوئے بولا تھا۔
اوکے۔۔۔۔۔۔ وہ خوش ہوئی تھی۔
فریش ہوکے وہ آیا تو دونوں نے ناشتہ کیا اور لاہور کی طرف روانہ ہوگئے۔
میری ہنی بنی خوش ہے نا؟ احان نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
یس۔۔۔۔۔بہت خوشی ہورہی ہے مجھے۔۔۔
وہ چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو رمینا بیگم اور کیارا سامنے ہی موجود تھے۔
ہیلو بھائی! کیسے ہیں؟ کیارا اسکے قریب آتے ہوئے بولی تھی۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ میری بہنا کیسی ہے؟ احان نے کیارا کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
کیسی ہیں آپ دادو! رمینا بیگم کا ہاتھ چومتے وہ ادب سے بولا تھا۔
میرا بیٹا! ٹھیک ہوں میں۔ تم کیسے ہو۔۔۔۔کتنے ٹائم ہوگیا ملنے ہی نہیں آتے تم۔
وہ اسکا ماتھا چومتے شکوہ کررہی تھیں۔
بس دادو! کام میں مصروف ہوتا ہوں نا تو اسلیے۔
احان نے کہا۔
یہ لڑکی کون ہے؟ رمینا بیگم نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے آئلہ کی طرف دیکھا تھا۔ کیارا بھی حیرت سے اس چھوٹی سی من موہ لینے والی گڑیا کو دیکھے جارہی تھی۔
یہ أئلہ ہے میرے بزنس پارٹنر کی بیٹی ہے۔۔۔۔پاکستان گھومنے کے لیے آئی ہوئی ہے تو میں اپنے ساتھ لے آیا۔ آپ سب سے ملوانے۔
احان نے آئلہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسکا تعارف کروایا تھا۔ جبکہ رمینا بیگم کو اسکا آنا پسند نہیں آیا تھا۔
ہیلو آنٹی۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
آئلہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
چلو ٹھیک ہے تم جاکے ٹیشا کو سمجھاؤ۔ میری تو کوئی بات نہیں سن رہی وہ۔
آئلہ کو نظرانداز کرتے وہ احان سے مخاطب ہوئی تھیں۔
جی بھائی۔۔أپ جائیں۔۔۔میں اسکو اپنے روم میں لے جاتی ہوں۔
کیارا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
جی ۔۔۔۔میں جا کے ٹیشا سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔ آئلہ آپ تب تک کیارا کے ساتھ رہیں۔
احان آئلہ کو کہتے ٹیشا کے روم کی طرف چلا گیا۔
ہائے۔ آئلہ نے کیارا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
ہائے۔۔۔۔ کیارا نے اسکا چھوٹا سا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔
آجاؤ۔۔۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ لیے کمرے کی طرف بڑھی تھی جبکہ رمینا بیگم نے ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
کیا ہوا ہے میری گڑیا کو۔ . احان روم نوک کرتے انٹر ہوتے ہوئے بولا تھا۔
بھائی۔۔۔۔۔ ٹیشا احان کو دیکھ کے خوشی سے کھل اٹھی تھی۔
مجھے پتہ تھا آپ ضرور آئیں گے۔ وہ بولی۔
جی مجھے تو آنا ہی تھا نا۔۔۔میری چھوٹی سی بہن اب اتنی بڑی ہوگئی ہیں کہ شادی کا فیصلہ کر چکی ہے تو اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے مجھے تو آنا ہی تھا نا۔
وہ اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے محبت سے کہہ رہا تھا۔
تو آپکو کوئی پرابلم نہیں ہے کیا؟ غصہ نہیں کریں گے کیا؟
وہ ڈرتے ڈرتے بولی تھی۔
مجھے کیوں کوئی پرابلم ہوگی۔۔۔۔ اگر لڑکا اچھا ہے اور تمہیں پسند بھی ہے تو ہم شادی کر دیں گے ہماری گڑیا کی۔
وہ اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے کہنے لگا۔
تھینک یو سو مچ احان بھائی۔
وہ خوشی سے بولی۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
چلیں اب باہر چلیں آپ۔۔۔۔ اور میں جاکے دادو سے بات کرتا ہوں ۔
وہ اسے کہتا روم سے نکلتے لاؤنج کیطرف بڑھا تھا جہاں رمینا بیگم اسکا ویٹ کررہی تھیں۔
دادو۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میں لڑکے والوں سے مل کے ہی کوئی فیصلہ کرونگا۔
اسکی بات سن کے رمینا بیگم کچھ نہ بولی تھیں۔
_______*****______
عادی کے گھر والوں سے ملکر احان کو تسلی ہوئی تھی۔۔۔اسے ٹیشا کے لیے عادی اچھا لگا تھا۔۔۔بہت سادہ اور سلجھا ہوا لڑکا۔
عادی اور ٹیشا کی خواہش پہ ایک ہفتے میں ہی شادی طے کر دی گئی جبکہ رمینا بیگم کو یہ بات ناگوار گزری تھی۔۔۔پر وہ احان کے فیصلے کے خلاف نہیں بول سکتی تھیں اسی لیے چپ ہی رہیں۔
آئلہ کیارا اور ٹیشا کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی اور بہت خوش تھی۔۔۔۔وہ دونوں بھی اسے چھوٹی بہنوں کی طرح پیار کررہے تھے۔۔۔ احان آئلہ کو خوش دیکھ کے کافی پر سکون ہوا تھا۔
کہاں غائب ہو تم؟ نہ کوئی کال نہ میسج۔
رمیز فون پہ احان سے پوچھ رہا تھا۔
ہاں میں تمہیں کال کرنے ہی والا تھا۔۔۔۔ میں لاہور ہوں اور تم بھی آجاؤ۔۔۔۔ ٹیشا کی شادی ہے ۔۔۔کافی کام ہیں۔۔۔۔میں آئلہ کو بھی اپنے ساتھ لے آیا ہوں اور۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں بس روانہ ہوتا ہوں ابھی۔۔۔وہی پہنچ کے بات کرتے ہیں پھر۔۔۔۔
وہ جو اس گھر میں کبھی نہ جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔۔آئلہ کا نام سن کے فورا ہاں کہہ دی تھی۔
_________****
شادی کی تیاریاں عروج پر تھی ۔۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
ساری شاپنگ ٹیشا اور عادی نے مل کے کی تھی مایوں سے لے کر بارات تک کے ڈریس دونوں نے اپنی پسند سے لیے تھے دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
رمیز بھی آچکا تھا۔۔۔۔رمینا بیگم کو اسکا آنا سخت ناگوار گزرا تھا۔۔۔جبکہ کیارا کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ رمیز سے معافی مانگ لے گی۔
آج مہندی تھی زیادہ دور دراز کے رشتے دار نہیں بس قریبی رشتے داروں کی ہی بلایا تھا انہوں نے ۔۔
شادی کی ساری تیاریاں احان اور رمیز ہی دیکھ رہے تھے گھر کی لائٹس سے لے کر ہوٹل کی بوکنگ کھانا گھر کے چھوٹے موٹے کام سب دونوں مل کر ہی دیکھ رہے تھے۔ گھر کی پہلی شادی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی کمی ہو۔
_________*****
ٹیشا مہندی کا ڈریس پہنے تیار ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
کیارا اور آئلہ لہنگے پہنے بے حد حسین لگ رہی تھیں دونوں کے لہنگے مختلف کلر اور سٹائل کے تھے ۔۔
کیارا ملٹی کلر کا لنہگا پہنے اوپر ہاف بلاوز پہنے جس کے بازو سلیو لس تھے۔۔۔۔لائٹ میک اپ کیے، جھمکے پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
اور آئلہ بےبی پنک کلر کا لہنگا پہنے وائٹ ہاف بلاوز پہنے جس کے بازوں سلیو لس تھے اس ڈریس میں اس کا دودھیاں جسم چمک رہا تھا
کانوں میں ہلکے سے جھمکے پہنے ہلکے سے میک اپ میں قیامت ڈھا رہی تھی اوپر سے اسکی بڑی بڑی کالی آنکھیں جو اس کے خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھیں ۔۔۔
دونوں تیار ہوئے لان میں بنائے گئے سٹیج پر ٹیشا کے پاس آئیں۔
احان اور رمیز پہلے ہی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔
آئلہ کو دیکھ کے دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔۔وہ اتنی زیادہ پیاری لگ رہی تھی کہ دونوں کو اپنی نظر ہٹانا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔جبکہ رمیز نے اپنی نظریں جھکائی تھیں۔ اور احان بت بنے اسے دیکھے جارہا تھا۔
رمیز نے اسے جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آیا۔
کچھ دیر میں عادی کی فیملی بھی آچکی تھی۔۔۔عادی کو ٹیشا کے ساتھ بٹھایا گیا۔
مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی سب باری باری آ کر ان کو مہندی لگا رہے تھے اور ڈھیروں دعائیں بھی دے رہے تھے ۔۔۔
ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے ٹیشا کا ہاتھ بار بار عادی کے ساتھ ٹچ ہوتا۔۔۔عادی کی دھڑکن کو بڑھا رہا تھا دل نے پلٹی کھا لی تھی اس کے بس سے بے قابو ہوتا جا رہا تھا اک الگ ہی قسم کے جذبات اس کے اندر پیدا ہو رہے تھے جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھا ۔۔۔۔
وہ بار بار ٹیشا کو دیکھ رہا تھا جیسے یقین کررہا ہو کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔
اسکی نظریں خود پہ پاکے ٹیشا نے اسے گھورا۔
کیا دیکھ رہے ہو؟
دیکھ رہا ہو کوئی اتنا خوبصورت کسی کو کیسے لگ سکتا ہے ۔۔۔بے حد خوشی ہورہی ہے۔۔۔۔اور آج تم کچھ زیادہ ہی پیاری لگ رہی ہو۔ عادی نے پیچھے سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے دباؤ ڈالا تھا۔
ٹیشا کے جسم میں سرد سی لہر دوڑی اور ہڑبڑا کر آگے پیچھے دیکھنے لگی کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ۔
عادی کیا کر رہے ہو چھوڑوں مجھے ٹیشا سامنے دیکھے مسکراتے ہوئے بولی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔۔
میں تو نہیں چھوڑنے والا کر لو جو کرنا ہے
آریان کا ہاتھ بے باک ہوتا ٹیشا کی پوری کمر پر رینگتا ہوا بے باکیاں کرنے لگا ٹیشا کی جان ہوا ہوئی تھی۔۔
تم دونوں میں سے پہلے مہندی کون لگائے گا؟
کیارا اسٹیج پہ دونوں سے پوچھنے لگی ۔۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
میں لگواو گی۔ ٹیشا جلدی سے کھڑی ہوئی اس میں عادی کی بدمعاشیاں سہنے کہ ہمت نہیں تھی اس وقت۔۔۔ پر بعد میں وہ اسکا بدلہ ضرور لینے والی تھی۔۔
عادی اس کی گھبراہٹ دیکھ ہلکے سے مسکرا گیا۔۔۔۔اسے اچھا لگا تھا ٹیشا کا یہ اسطرح شرمانا۔
_________*******
رات کے تقریبا ایک بجے فنکشن ختم ہوا۔
آئلہ تھکی ہاری کمرے میں داخل ہوئی اور اپنا ڈوپٹہ سر سے اتارے بیڈ پر پھینک کے بالوں کی چوٹی کھولے انہیں اپنے شانے پر پھیلا گئ ۔۔
وہ اپنے دھیان میں لگی اپنی جیولری اتار رہی تھی تھکن سے اتنی چور ہوگئ تھی کہ اب بس سونا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ بہت خوش بھی تھی کیونکہ یہ سب اسکے لیے بالکل نیا تھا وہ انجوائے کررہی تھی۔
احان دروازے کی اوٹ میں چھپا اس کی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا ڈوپٹے سے بے نیاز اس کا وجود احان کے دل پر بجلیاں گرا رہا تھا اوپر سے اس کی خمار آلودہ آنکھیں احان آرام سے دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی کمر میں بازوں حائل کئے اس کی پشت کو اپنے سینے سے لگا گیا ۔۔
آ۔۔۔آآ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ڈر کے مارے اچھلی تھی ۔۔۔
کیا ہوا جانم۔۔۔۔ڈر گئ آحان اس کے کان میں گھمبیر سرگوشی کئے اس کی کان کی لو کو دانتوں میں دبا گیا ۔۔
آئلہ ساکت ہو گئ احان اس کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے اسے خود میں بھیچنے لگا ۔۔۔
آئلہ کی جان لبوں پہ آئی ۔۔
مسٹر احان کیا کر رہے ہیں ؟
وہ اپنی آنکھیں بند کئے اس کے لمس کو اپنی گردن پر محسوس کرتے اس کے بازوں کو اپنے پیٹ سے ہٹانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔۔۔
پیار کر رہا ہو اپنی ہنی بنی سے جو دن بہ دن مجھے اپنا اسیر بنائے جا رہی ہے ۔
احان اس کے بلاوز کو کندھے سے نیچے کئے اپنے لب وہاں رکھ گیا۔۔آئلہ کی سانسیں ایک دم سے بھاری ہوئیں۔ احان اس کے بازوں پر اپنی گرفت مضبوط کر گیا۔۔۔
احان اس کی گردن پر جھکا اپنے لبوں سے اس کی خوبصورتی کو سہرانے لگا ۔۔
مسٹر احان۔۔۔۔کوئی آجائے گا۔۔۔۔ یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔
تو آ جانے دو ۔۔۔آپکے مسٹر احان کونسا ڈرتے ہیں کسی سے۔
احان آئلہ کو سیدھا کئے اس کی کمر پر اپنے بازوں رکھ گیا اور اس کے بالوں کو پیچھے کئے اس کے جھمکے اتراتا ہوا وہاں اپنے لب رکھ گیا۔۔۔اسکے منہ سے “ہمارا گھر” سن کے احان کے لبوں پہ ایک گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
مسٹر احان! میں بہت تھک گئی ہوں ۔۔مجھے نیند آ رہی ہے
ابھی آپکی ساری تھکن دور کر دیتا ہوں احان اس کا چہرہ تھوڑی سے اوپر کئے پوری شدت سے اس کے لبوں پر جھکا اس کے عمل میں اتنی شدت تھی کہ آئلہ اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے اس کے گردن کے گرد اپنے بازوں کا گھیرا بنا گئ ۔۔۔
احان اس کی کمر پر دباو بڑھاتے اسے مزید اپنے نزدیک کر گیا ۔۔
مجھے سچ میں نیند آرہی ہے۔
آئلہ اسے اپنے گال پر ناک رگڑتا دیکھ اپنے آپ کو چھڑوانے لگی ۔۔۔
پر وہ تو پہلے ہی پاگل ہوا اس کے جسم سے آتی بھینی بھینی خوشبو میں کھو چکا تھا۔۔اب وہ کہاں کچھ سننے والا تھا۔
مسڑ احان۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لبوں کو اپنے بیوٹی بون پر محسوس کرتے وہ تڑپ گئی تھی۔
احان اس کی تڑپ دیکھ ایک جھٹکے سے اس سے علیحدہ ہوا اور اگلے ہی پل اسے بانہوں میں بھرتے بیڈ پہ لٹا چکا تھا۔
ٹھیک ہے جانم۔۔۔۔آج آپ آرام کریں۔۔۔۔پر کل میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔۔
اسکے ماتھے پہ پیار کرتے ۔۔۔کان میں سرگوشی کرتے وہ روم سے باہر نکلا تھا۔
********______
کیارا کنفیوز سی رمیز کے کمرے کے باہر کھڑی ہاتھ مسلنے لگی ۔۔
جو بھی تھا آج اسے ہر حال میں اس سے بات کرنی تھی ۔۔وہ دروازہ نوک کئے اندر بڑھی سامنے ہی رمیز صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔
کیارا کو اپنے روم میں دیکھ وہ لیپ ٹاپ بند کئے کھڑا ہوا ۔۔
کیارا چلتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔
مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی رمیز۔۔
کیا بات کرنی تھی؟
اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی ۔۔
میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔
وہ سر جھکائے بے بسی سے بولی تھی۔
رمیز غور سے اسے دیکھ رہا تھا شاید کچھ سوچ رہا تھا۔
ہممم۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جاؤ تم۔
وہ بے رخی سے بولا اور واپس صوفے پہ بیٹھ گیا۔
وہ آنکھوں میں نمی لیے اسکے روم سے باہر نکلی تھی۔
رمیز کے لبوں پہ مسکان ابھری تھی اور اسکے دماغ میں کئی خیال أرہے تھے۔۔
____*****______
آخر کا وہ دن آن پہنچا جسکے لیے اتنے دنوں سے تیاریاں کی جارہی تھیں۔
ٹیشا وائٹ فیری لہنگا پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی فل لہنگے پر گولڈن موتیوں کا کام ہوا تھا ہاف بلاوز پہنے جس کے فل بازوں پر بہت خوبصورتی سے گولڈن موتیوں کا کام ہوا تھا سر پر ریڈ ہیوی ڈوپٹہ لیے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھے ماتھے پر بھاری ماتھا پٹی سجائے گلے اور کانوں پر بھی بھاری جیولری پہنے چہرے کو میک اپ سے سجائے بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
کیارا نے بھی بے حد خوبصورت سا لائٹ میرون لہنگا پہنا ہوا تھا پر اسکی آنکھوں میں بہت اداسی جھلک رہی تھی۔۔۔۔لائٹ میک اپ کیے اور ہلکی کی جیولری پہنے وہ کافی حسین لگ رہی تھی۔
آئلہ بھی گولڈن لہنگا پہنے ہوئے تھی ۔۔۔ ہاف بلاوز پہنے جس کے بازوں سلیو لس تھے بلاوز کو ڈوریوں کی مدد سے باندھا گیا تھا۔۔۔ہلکی جیولری پہنے تیار ہوئی نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
واؤ آئلہ۔۔۔۔۔ تم بہت پیاری لگ رہی ہو تمہارے لہنگے کا کلر بھی کافی پیارا ہے۔۔۔بہت سوٹ کررہا ہے تم پہ۔۔۔۔
اسے اتنا خوبصورت لگتا دیکھ کیارا بولی ۔۔
کچھ ہی دیر میںم احان مولوی صاحب کو لیے برائیڈل روم میں دخل ہوا۔۔ نکاح کی رسم شروع ہوئی۔۔۔ٹیشا کے دل میں تو جیسے لڈو پھوٹ رہے تھے۔۔۔اور عادی کا بھی کچھ یہی حال تھا۔
سب کی دعا سے نکاح اپنے تکمیل کو پہنچا تھا نکاح کے بعد سب مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ۔۔
فوٹو شوٹ کروایا گیا۔۔ سب کام خیرو عافیت سے ہو گئے تھے اب رخصتی کا ٹائم ہو گیا تھا ۔۔
ٹیشا کیارا اور دادو کے گلے سے لگ کر خوب روئی تھی۔
وہ سب سے ملتے ہوئے اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے روانہ ہوئے ۔۔
آئلہ یہ سارا منظر غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔کبھی حیران ہوتی کبھی خوش ہوتی تھی۔۔۔اور رمیز کی نظریں بار بار آئلہ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔۔۔۔دل شور مچارہا تھا۔۔۔اسے دیکھ دیکھ کے ایک عجیب سی خوشی مل رہی تھی۔۔۔۔
______*******
عادی اپنے روم میں داخل ہوا تو ٹیشا بیڈ کے بیچھوں بھیچ بڑا سا گھونگھٹ نکالے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے عادی کا دل دھڑکا گئی ۔۔
عادی اپنا کوٹ اتارتا ہوا اس کے پاس آیا اس کے مہندی لگے پاؤں کو چھو کر محسوس کرنے لگا ۔۔
ٹیشا کے جسم میں لرزش پیدا ہوئی تھی ۔۔
وہ اپنے پاوں پیچھے کر گئی ۔۔۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
عادی مسکراتا ہوا اس کا گھونگھٹ اٹھانے لگا تھا کہ ٹیشا نے اپنے گھونگھٹ پر گرفت مضبوط کر لی ۔۔۔
عادی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
ایسے کیسے میرا گھونگھٹ اٹھا سکتے پہلے میری منہ دیکھائی تو دو ۔
ہاں ضرور۔ یہ لو۔
عادی نے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے اسکی انگلی میں ڈائمنڈ رنگ پہنائی تھی۔
تھینک یو۔
وہ شرمائی تھی۔
عادی نے ہلکے سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا۔
بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔ وہ گھمبیر آواز میں بولا تھا۔ اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے اسے اتار گیا ۔۔
ٹیشا اسے شرٹ کے بغیر دیکھ اپنا حلق تر کرنے لگی اپنے سکھے لبوں پر زبان پھیر گئی ۔۔۔
بے شک وہ بہت بولڈ ظاہر کرتی تھی خود کو پر اندر سے وہ وہی نازک ، ڈر پوک سی ہی لڑکی تھی۔
عادی اسے گھبراتا دیکھ کھینچ کر اپنے قریب کر گیا ۔
عادی۔۔۔۔۔۔۔ٹیشا سرگوشی میں بولی ۔
ہاں بولو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
عادی اس کے بال کھولے اس کی تمام جیولری اتارے اس کے ہونٹوں پر جھکا اپنے پیاسے لبوں کی پیاس بجھانے لگا ٹیشا مضبوطی سے اس کی گردن کے گرد حصار بنا گئی۔
عادی اس کے ہونٹوں پر جھکا اس کی سانسوں کو خود میں منتقل کرتا ہوا اس کی شہ رگ پر اپنے لب رکھ گیا اسے آرام سے بیڈ پر لیٹائے خود اس پر سایہ کئے اس کے گلے میں خوبصورت سے چین نکالتے اس کے بلاوز کو کندھے سے ہٹائے اپنے لب رکھتا ہوا اپنے دانت گاڑھ گیا ۔۔
آہ ہ۔۔۔۔آ ٹیشا کی دبی سی چیخ نکلی جسے ٹیشا اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبائے روک گئی ۔۔
آہستہ آہستہ عادی اس پہ جھکتے۔۔۔اپنا پورا وزن اس کے وجود پر ڈالے اس کی جان پر آ گیا ۔۔
ٹیشا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے مضبوطی سے بیڈ شیٹ کی چادر کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا تھا اس نے۔۔۔۔
عادی اس کی گردن سے ہوتا ہوا اپنے ہونٹ اس کے سینے پر رکھے گہرا سانس بھرتے ہوئے اس کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا ۔۔
دونوں کی سانسیں پورے کمرے میں گونج رہی تھی
ٹیشا کی جان تو تب ہوا ہوئی جب اس کے لب اپنے پیٹ پر محسوس کئے وہ ہل بھی نا پائی ۔
ٹیشا آنکھیں بند کئے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں بینچھے مدہوش ہونے لگی۔۔۔عادی ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے گیا۔۔۔ٹیشا بیڈ شیٹ کو چھوڑ اس کی گردن کے گرد اپنی بازوؤں کا حصار بنا گئی اور اس کے جنون میں اس کا ساتھ دینے لگی دونوں کے وجود میں سکون کی ایک لہر اتری تھی ۔۔۔
*********________
سارے کام نمٹا کے احان آئلہ کے روم کی طرف بڑھا۔۔۔
اسکے روم میں انٹر ہوا تو وہ بیڈ پہ بیٹھی موبائل پہ مصروف تھی۔
اس نے ڈور لاک کیا اور مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھنے لگا۔
احان کو دیکھ کر اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔
تو میری جانم کیا کررہی تھیں۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
وہ بیڈ پہ اسکے قریب بیٹھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
وہ ابھی بھی اسی لہنگے میں تھی۔۔۔۔اسے دیکھ کے احان کا خود پہ قابو پانا مشکل ہورہا تھا۔
احان اسے اپنی طرف کھینچ کے اس کے خوبصورت سراپے کو دیکھنے لگا ۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہیں جانم۔۔۔۔۔۔بیان نہیں کر سکتا میرے دل کی کیا حالت ہورہی ہے۔۔۔۔۔ وہ اپنے ہوش کھوتے ہوئے اس کے سراپے میں ڈوبنے لگا ۔۔
تھینک یو۔۔۔ آپ بھی کافی ہینڈسم لگ رہے ہیں۔
وہ اسکی بیئرڈ پہ ہاتھ رکھتی مسکرا کے کہہ رہی تھی۔
احان انہیں ہاتھوں پر اپنے لب رکھے اس کے نرم ملائم لپسٹک سے سجے ہوئے ہونٹوں پر جھک گیا ۔۔
قطرہ قطرہ اس کی سانسوں کو اپنے اندر اتارنے لگا اپنے شدتیں اپنی بے قراریاں بیان کرنے لگا چند سیکنڈ میں ہی اسے نڈھال کئے بیڈ پر ڈالے خود اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔
ایک نظر اسکے چہرے پہ ڈالی اور اس کی گردن پر جھکا اپنا لمس چھوڑنے لگا ۔۔۔آئلہ اس میں سمٹنے لگی۔۔۔۔
اس کے لبوں پر جھکے اس کے پیٹ کو سہلانے لگا جس سے آئلہ کے جسم میں سرد سی لہر دوڑی تھی۔۔۔۔
احان پوری طرح اس پہ حاوی ہوتے اس کی جان لینے کے در پر تھا ۔۔
آئلہ اپنا آپ اسے سونپے سکون سے آنکھیں بند کر گئی ۔۔
جیسے ہی وہ آنکھیں بند کرنے لگی تو اسکی نظر ڈور کے ساتھ والی کھڑکی پہ پڑی تھی۔۔۔جہاں اسے کسی کا سایہ محسوس ہوا تھا۔۔۔اور پل بھر میں پھر غائب ہوا۔۔۔۔جیسے کوئی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔پر کون؟؟؟ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتی۔۔۔۔احان کے لمس کو محسوس کرتے مدہوش ہوئی تھی۔
********************
EPISODE 19
ساری رات جاگنے کی وجہ سے رمیز کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔ فریش ہوکے وہ روم سے باہر نکلنے لگا تھا کہ کیارا سامنے آگئی۔
گڈ مارننگ۔ وہ چہرے پہ مسکان سجائے بولی۔
گڈ مارننگ۔ رمیز نے نظریں ادھر ادھر گھماتے کہا۔
تم ٹھیک ہو۔ وہ روم میں انٹر ہوتے ہوئے کہنے لگی۔
ہمم۔۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔۔پوچھنے کے لیے شکریہ۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔
رمیز کیا تم معاف نہیں کر سکتے مجھے۔۔۔۔ پلیز معاف کردو نا! ایک موقع دے دو۔۔۔۔
وہ اسکا بازو پکڑتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے نم آنکھوں سے بولی تھی۔
اسکی آنکھوں میں آتے آنسو دیکھ کے رمیز کو پھر سے آئلہ کا چہرہ نظر آنے لگا تھا۔۔۔۔کیارا کو وہ آئلہ سمجھ رہا تھا۔
نہیں رو مت۔۔۔۔ آنسو نہیں۔۔۔۔ان خوبصورت آنکھیں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا میں۔۔۔۔۔بالکل نہیں جانم۔
وہ اسکے آنسوؤں کو لبوں سے چنتے اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔
کیارا کا دل خوشی سے زوروں سے دھڑکا تھا۔۔۔وہ اسکی چوڑی چھاتی میں سمٹی تھی۔
کیارا آپی۔۔۔۔۔۔۔!
آئلہ کیارا کو ڈھونڈتے ہوئے رمیز کے کمرے تک پہنچی تھی اور ان دونوں کو یوں ایک ساتھ دیکھ کے اسکے قدم وہی رکے تھے۔
آئلہ کی آواز کانوں میں پڑتے ہی رمیز جھٹکے کے کیارا سے الگ ہوا تھا۔۔۔۔اسکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا جبکہ کیارا شرماتی ہوئی ایک نظر رمیز کو دیکھتی روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔
آئلہ رمیز کو دیکھتے نظریں جھکا گئی اور کیارا کے پیچھے چل پڑی۔
رمیز نے سختی سے آنکھیں بند کیں تھیں۔
_____*****Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
ناشتہ کرتے وقت رمیز کی نظریں آئلہ کے ٹکرائیں تھیں۔۔۔اور ہر بار وہ نظریں جھکا رہی تھی۔۔۔۔
کیارا بہت خوش لگ رہی تھی۔ جبکہ رمینا بیگم آئلہ کو ترچھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔انہیں آئلہ کا یوں کچھ دنوں میں بے تکلف ہو جانا ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔ اور احان کا آئلہ کو محبت بھری نظروں سے دیکھنا انکو شک میں مبتلا کررہا تھا۔
یہ واپس کب جائے گی؟ اور کسی ہوٹل میں رکی ہوئی ہے کیا؟
رمینا بیگم نے احان سے پوچھا۔
جی۔۔۔جی۔۔۔۔ ! چلیں اب ہم چلتے ہیں۔۔۔ کافی دن ہوگئے ہیں۔۔۔۔ بہت کام پینڈنگ پڑا ہے۔۔۔ اٹھو رمیز۔۔۔۔ آئلہ ۔
احان رمینا بیگم کی بات کو ٹال مٹول کرتے بات کا رخ بدلتے اٹھا تھا۔۔۔اور رمیز اور آئلہ کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔جس پہ وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے ۔
ارے۔۔۔۔کچھ دن اور رک جاؤ نا۔۔۔۔
ہاں بھائی۔۔۔۔ مزید کچھ دن رک جائیں۔۔۔
رمینا بیگم بولیں تو کیارا بھی کہنے لگی۔
پھر چکر لگا لوں گا۔۔۔ابھی نہیں رک سکتا۔
احان نے موبائل ڈائننگ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
چلیں پھر ۔۔۔۔ آئلہ کو یہی چھوڑ جائیں۔۔۔۔ کیوں آئلہ رکو گی یہاں؟
کیارا نے آئلہ سے پوچھا۔
مسٹر احان رکیں گے تو ہی میں رکوں گی۔
وہ ماتھے پہ آتے بالوں کو پیچھے کرتے بچوں کی طرح بولی تھی۔۔۔جس پہ احان مسکرا دیا تھا۔
دیکھو تو ذرا اسکو کوئی تمیز ہی نہیں ہے۔۔۔۔کیسے بے شرمی سے نام لے رہی ہے۔۔۔۔ عمر میں کتنا بڑا ہے وہ تم سے۔۔۔۔ انکل نہ سہی تو کم سے کم بھائی ہی بول دیتی۔۔۔۔حد ہوگئی یہ تو۔۔۔۔باہر والی لڑکیوں کے بھی نا یہ الگ ہی چونچلے ہیں۔
رمینا بیگم تلخی سے کہہ رہی تھیں۔ انکی بات پہ احان کا منہ بنا تھا جبکہ رمیز نے اپنی ہنسی دانتوں تلے دبائی تھی اور آئلہ نہ سمجھنے والے انداز میں انکو دیکھے جارہی تھی۔
اوکے اللہ حافظ!
احان نے فورا سے کہا اور باہر کی طرف بڑھا۔۔۔اسے برا لگا تھا رمینا بیگم کا وہ سب کہنا۔۔۔۔ آئلہ اور رمیز بھی اسکے پیچھے آگئے۔ کیارا رمیز کو جاتے دیکھ کے ہلکے سے مسکرائی تھی یہ سوچ کے کہ وہ پھر سے ملنے آئے گا پہلے کی طرح۔
سفر خاموشی سے کٹا تھا۔۔۔۔آئلہ فون پہ گیم کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔احان فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے آنکھیں بند کیے خیالوں میں گم تھا اور رمیز ڈرائیو کر رہاتھا اور ساتھ ساتھ آئلہ کو ایک نظر دیکھ لیتا۔
آئلہ کو احان کے گھر چھوڑنے کے بعد وہ دونوں آفس چلے گئے تھے اور کئی دنوں سے پڑا پینڈنگ کام کرنے لگے۔۔۔۔۔
وہ کام میں مصروف تھے کہ احان کا فون بجا۔۔۔۔اس نے کال ریسیو کرتے فون کان سے لگایا۔
ہاں وشرام بولو۔ ہاں تو کال کیوں کی ہے۔۔ میں نے کہا تھا نا کہ جیسے ہی ملے وہ۔۔اسے ختم کر دینا۔۔۔۔۔میرے پاس لانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ختم کردو اسے۔
احان نے اسے حکم دیتے کال کاٹی تھی۔ رمیز ترچھی نظروں سے اسے دیکھتے ہلکے سے مسکرارہا تھا۔
____*******
آئلہ کی آنکھ کھلی تو شام کے سات بج رہے تھے۔ صوفے پہ بیٹھے فون پہ گیمز کھیلتے کھیلتے اسکی آنکھ لگ گئی تھی۔
جمائی لیتے اٹھی اور ٹی شرٹ و ٹراؤذر لیے فریش ہونے چلی گئی۔۔
کافی دیر تک شاور لیتی رہی پھر باہر نکلی۔۔۔۔۔ بیڈ پہ بیٹھی اور موبائل پہ شادی میں بنائی گئی تصویریں دیکھنے لگی۔۔۔۔
ساری پکچرز میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے سکرول کرتی دیکھی جارہی تھی۔۔۔۔کیارا کی تصویر دیکھ کے اسے رمیز اور کیارا والی بات ذہن میں آئی تھی۔
وہ سوچنے لگی۔ رمیز نے اسے منع کیا تھا کہ وہ احان کو اس بارے میں کچھ نہ بتائے ۔۔۔ورنہ کیارا کے لیے مسئلہ بن جائے گا اور یہ بھی کہ احان یہ بات برداشت نہیں کرے گا اور نہ وہ کیارا کے لیے اسے پسند کرتا ہے بلکہ وہ دوستی بھی ختم کردےگا رمیز سے۔۔۔۔۔
رمیز نے آئلہ اور احان کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ ایسی باتیں کہی تھی آئلہ کو۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ ابھی آئلہ میں اتنی سمجھ نہیں ہے اسے آسانی سے اپنی باتوں میں لگایا جا سکتا تھا اور رمیز وہی کررہا تھا۔
مسٹر احان! لگتے تو نہیں ہیں ایسے۔۔۔لیکن رمیز انکا سب سے گہرا دوست ہے بھلا وہ کیوں کوئی جھوٹ بولے گا وہ تو اچھی طرح جانتا ہے نا مسٹر احان کو۔۔۔
وہ سائیڈ ٹیبل پہ فون رکھتے سوچنے لگی۔
______********Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
یار میٹنگ کے لیے لیٹ ہورہے ہیں ہم۔۔۔۔ جلدی سے ڈھونڈو فائل کو۔
رمیز احان کو کہتے بالوں پہ ہاتھ پھیرتا اسے دیکھ رہا تھا۔ جو کافی دیر سے فائل ڈھونڈ رہا تھا۔
مجھے لگتا ہے فائل گھر پہ ہے۔
احان نے ماتھے پہ آئے پسینے کے قطروں کو ٹشو سے صاف کرتے کہا۔
اب پھر؟ . فائل کا ہونا تو بہت ضروری ہے۔۔۔۔ کسی کو کہو کہ لے آئے۔
رمیز نے چیئر پہ بیٹھتے اسے مشورہ دیا۔
فائل میرے روم کی سائیڈ ٹیبل میں رکھی ہے۔۔۔ اور اس وقت کوئی فری نہیں ہے آفس میں جو لے کے آئے۔۔۔ اور میں تو جا نہیں سکتا پانچ منٹ میں میٹنگ شروع ہو جائے گی۔۔۔۔ایسا کرو تم لے أؤ۔۔
احان نے رمیز کو کہا۔
میں؟ رمیز نے چونک کے کہا۔
ہاں تم۔۔۔۔ ایسے حیران کیوں ہورہے ہو۔۔جیسے پہلے کبھی میرے گھر نہیں گئے تم۔
احان نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے میں جاتاہوں۔۔۔ تب تک تم میٹنگ میں جاؤں۔۔۔
ہاں جلدی آنا۔۔۔
احان نے رمیز کو جاتے دیکھ کے کہا تھا۔
رمیز ابھی أدھے راستے میں پہنچا تھا کہ احان کی کال آگئی۔
ہاں کیا ہوا؟ واپس آجاؤں کیا؟
رمیز نے کال ریسیو کرتے پوچھا۔
ارے نہیں۔۔۔۔۔میں نے اس لیے کال کی ہے کہ أئلہ کے لیے آئس کریم اور چاکلیٹ لیتے جانا وہ خوش ہوجائے گی۔
ہاں ٹھیک ہے میرے بھائی۔
احان کی بات سن کے رمیز نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا اور فون بند کرتے ڈیش بورڈ پہ رکھا۔
اگر تم نہ کہتے تو پھر بھی میں لے کے جانے ہی والا تھا۔
رمیز نے ڈرائیو کرتے سرد آہ بھرتے کہا تھا۔
______*****
وہ گھر میں داخل ہوا اور احان کے روم سے فائل لینے کے بعد آئلہ کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
ڈور نوک کرتے وہ روم میں انٹر ہوا۔ آئلہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوچوں میں گم تھی۔۔۔ 
ہیلو أئلہ! رمیز نے بیڈ کی طرف جاتے ہوئے مسکراتے کہا تھا۔
رمیز کی آواز پہ وہ چونکتے ہوئے سیدھی ہوئی تھی۔ 
میں فائل لینے آیا تھا تو تمہارے لیے یہ چاکلیٹ اور آئس کریم بھی لیتا آیا ۔۔۔وہی دینے آیا تھا تمہیں۔
وہ بیڈ کے قریب کھڑے چاکلیٹ اور آئس کریم اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تھا۔
اچھا۔۔۔۔تھینک یو۔ 
وہ ہلکے سے مسکرائی تھی۔
کیا ہوا اتنی اداس کیوں لگ رہی ہوں؟ 
وہ بیڈ پہ بیٹھتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہہ رہا تھا۔Mr psycho by barbie boo part 18 & 19
نہیں۔۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔۔ وہ سٹپٹا کے بولی۔۔۔ رمیز کا اسطرح دیکھنا اسے عجیب لگ رہا تھا۔۔۔۔دل کی دھڑکن بڑھ رہی تھی اسکی۔۔۔ 
گھبراؤ نہیں۔۔۔۔ میں احان کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔۔۔تم یقین کر سکتی ہو مجھ پہ۔۔۔۔ 
وہ أئلہ کے قریب ہوتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتا خود پہ یقین دلانے کی کوشش کررہا تھا۔ 
اسکے اسطرح ٹچ کرنے پہ أئلہ کو کرنٹ سا لگا تھا جیسے۔۔۔۔۔ایک نئے لمس کا احساس اسکے جسم میں جیسے چیونٹیاں رینگی تھیں ایک پل کو۔۔۔
نہیں۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی نیند سے اٹھی ہوں نا تو اس لیے أپکو ایسا لگ رہا ہوگا۔
وہ اسکا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتے۔۔۔۔۔خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتے بول رہی تھی۔۔۔
رمیز اس پہ نظریں ٹکائے دیکھے جارہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکے چہرے کا ایک ایک نقش وہ دل میں اتار رہا تھا۔۔۔۔۔۔بے حد خوبصورت اور نازک۔۔۔۔۔۔ وہ بے لوث محبت سے اسے دیکھتے سوچ رہا تھا۔ پر اسے محسوس ہوا کہ آئلہ گھبرا رہی تھی اسکی نظروں کا حصار خود پہ پا کے۔۔۔۔ 
کہیں تمہیں ڈر تو نہیں لگ رہا نا مجھ سے؟ 
وہ فائل کو سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے اسکے قریب ہوتے بولا تھا۔
آئلہ کی سانس اٹکی تھی۔ 
مسٹ۔۔۔مسٹر احان کہاں ہیں؟ انہیں برا لگے گا۔۔۔۔آپ جائیں یہاں سے۔۔۔ 
وہ اپنی بے ترتیب سانسوں کو سنبھالتی مشکل سے بول پائی تھی۔
احان أفس میں ہے۔۔۔ میٹنگ میں ہوگا اب۔۔۔۔۔ اسے پتہ نہیں چلے گا۔۔۔۔۔ ڈرو نہیں۔۔۔۔میں کچھ نہیں کہہ رہا تمہیں۔
رمیز اپنے لب اسکے کان کے پاس کرتے گھمبیر آواز میں کہتا اسکی ہارٹ بیٹ بڑھا گیا تھا۔ أئلہ کا جسم کپکپایا تھا۔ 
أئلہ کو چپ دیکھ کے رمیز کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔
آئلہ کے ہاتھ سے آئس کریم اور چاکلیٹ لے کے بیڈ کی سائیڈ پہ رکھے تھے رمیز نے۔۔۔۔۔ اسکے نازک کمزور بازوؤں کو اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں لیتے وہ اسے اپنے قریب کر گیا۔
یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔۔ مسٹر احان کو برا لگے گا۔۔
أئلہ نے پھر سے وہی بات دوہرائی تو رمیز نے اسے اپنی طرف کھنچتے اسے اپنے بے حد قریب کیا تھا۔۔۔۔ اتنا قریب کہ دونوں کا ماتھا اور ناک ایک دوسرے سے ٹچ ہورہے تھے۔
احان کی فکر نہ کرو۔۔۔۔ تم بتاؤ۔۔۔۔تمہیں کیسے لگ رہا ہے۔
وہ اپنی بھاری أواز میں سرگوشی کررہا تھا۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔
آئلہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ 
اسکے منہ سے ایسی بات سن کے رمیز کا خون کھولا تھا۔۔۔۔۔اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آئلہ اسطرح صاف صاف انکار کردے گی۔
آنسو نہیں۔۔۔۔۔تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چاہیئے۔۔۔۔۔بالکل چپ! 
وہ اپنے غصے پہ قابو پاتے اسکے لبوں پہ انگلی رکھتے سختی سے کہہ رہا تھا۔۔۔أئلہ کی سانسیں سوکھی تھیں۔
پلیز آپ جائیں یہاں سے۔۔۔۔ میں مسٹر احان کو بتاؤں گی۔
وہ سسکیوں میں روتے کہہ رہی تھی۔
ششش۔۔۔۔۔۔ خبر دار جو ایسا کچھ سوچا بھی تو۔۔۔۔۔۔۔بھول کے بھی احان سے اس بات کا ذکر نہیں کرنا۔۔۔۔ میں احان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔۔اگر اسے پتہ لگا کہ تم میرے قریب أئی تھی۔۔۔۔اتنا قریب۔۔۔یا مجھے خود کو ٹچ کرنے دیاتھا۔۔۔۔تو وہ یہ بات برداشت نہیں کر پائے گا۔۔۔۔یا تو تمہاری جان لے لے گا یا پھر وہ اپنی۔۔۔۔۔ 
رمیز نے أئلہ کے بالوں کو ایک ہاتھ میں زور سے جکڑتے۔۔۔دوسرے ہاتھ کو اسکی کمر کے گرد حائل کرتے۔۔۔۔اسے اپنے سینے سے لگائے بہت سخت لہجے میں ڈرا رہا تھا۔ 
وہ اسکی باتوں سے ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔ رمیز اسکی جان پہ بن گیا تھا۔۔۔۔آئلہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی اسکے مضبوط حصار سے نکلنے کی ناکام کوشش کررہی تھی وہ۔۔۔۔دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔سانسیں تیز ہورہی تھیں۔۔۔۔ اور رمیز تھا کہ اسے اپنے سینے میں بھینچے آنکھیں بند کیے اسکی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارے جا رہا تھا۔۔۔۔اسکی حالت سے بے خبر بس اسکی قربت کے ان پلوں میں ڈوبا اسے محسوس کر رہا تھا۔ رمیز کے دل میں ایک گہرا سکون اترا تھا جیسے سارا دن کا تھکا ہارا شخص اپنے گھر لوٹنے پہ سکون محسوس کرتا ہے بالکل ویسے۔۔۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.