relationship, couple, together-2178963.jpg


رائیٹر___باربی بو
قسط___42
تم گئی نہیں یہاں سے ابھی تک؟
کچن سے نکلتے ہی احان کی نظر سامنے سے آتی لینا پہ پڑی تو وہ غصے سے کہنے لگا۔
میں کہاں جاوں گی؟
وہ دوبدو ہوتے بولی۔
جہاں بھی جاؤ، اس گھر سے دفع ہو جاؤ بس، اگلی بار نظر آئی تو میں خود گھر سے باہر نکال دو نگا تمہیں تو بہتر ہے کہ عزت سے چلی جاؤ۔
وہ دو ٹوک انداز میں کہتا اپنے روم کی طرف بڑھا۔ لینا دانت پیستے کچن میں چلی گئی۔
_____*****
کچھ کھا لیں نا ہنی، یہ تھوڑا سا کیک کھا لیں آپکا فیورٹ فلیور ہے۔
وہ کافی دیر سے اسے کچھ کھلانے کی کوشش کر رہا تھا پر وہ کچھ نہیں کھا رہی تھی۔
میری جان! کچھ کھائیں گی نہیں تو ٹھیک کیسے ہونگی آپ؟ ضد نہیں کریں نا، آپکے مسٹر احان پہلے ہی بہت پریشان ہیں آپکو لے کر، پلیز بات مان لیں۔
وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھامے محبت سے بول رہا تھا۔
آپ نے مام، ڈیڈ کو بتایا؟ وہ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئے؟
وہ احان کی آنکھوں میں جھانکتے، دھیمی سی آواز میں بولی تھی۔
اسکی آواز کانوں میں پڑی تو احان کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔ اس نے والہانہ انداز میں آئلہ کے ماتھے پہ پیار کیا۔
میری جانم! آپکی آواز سننے کو کان ترس گئے تھے میرے، بے حد سکون محسوس ہورہا ہے اب۔
وہ اسے اپنے سینے میں چھپاتے خوشی سے بول رہا تھا۔
مام، ڈیڈ کو نہیں بتایا تھا کیا آپ نے؟
اس نے پھر سے بات دوہرائی۔
وہ۔۔۔ میرا بالکل بھی دھیان نہیں گیا۔اس طرف۔ میں کافی اپ سیٹ تھا، ذہن میں خیال ہی نہیں آیا کہ آپکے مام، ڈیڈ کو انفارم کر سکوں۔
احان نے کچھ شرمندگی سے کہا۔
ابھی کال کر کے بتائیں انکو۔mr psycho by barbie boo part 42
وہ سپاٹ سے انداز میں بولی تو احان اسے دیکھنے لگا۔
ہنی، آپ کچھ کھا پی لیں پہلے، پھر ہم انہیں کال کر کے بتا دیں گے۔
احان نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔ اور سائیڈ ٹیبل سے جوس کا گلاس اٹھاتے آئلہ کی طرف بڑھایا۔
مجھے نہیں کھانا پینا کچھ بھی۔
وہ منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے بولی۔
ضد مت کریں ہنی! آپکی صحت میرے لیے بہت اہم ہے۔ مجھے تنگ نہیں کریں۔ چلیں جوس پیئیں۔
احان نے سختی سے کہا اور جوس کا گلاس اسکے منہ سے لگایا۔ اسکے لہجے کی سختی محسوس کرتے وہ چپ چاپ جوس پینے لگی۔
گڈ گرل! چلیں، اب آرام سے لیٹ جائیں آپ۔ پھر کچھ دیر تک آپکو کھانا کھلاؤں گا۔
اسے لٹاتے وہ نرمی سے اسکا ماتھا سہلاتے کہہ رہا تھا۔
آئلہ کے چہرے پہ ناراضگی کے تاثرات دیکھ کے احان اسکے برابر میں لیٹتے اسے دیکھنے لگا۔
جانم! ناراض نہ ہوں آپ، آپکی فکر ہے مجھے، اسی لیے تھوڑی سختی کرنی پڑی۔ پلیز غصہ مت کریں۔
آئلہ کے گلے میں بازو کا حصار بناتے وہ دھیمے سے کہنے لگا۔
چینج کرا دوں آپکو؟ آپکے وہ کارٹون والے کپڑے پہنادوں آپکو؟
اسکے پھولے ہوئے منہ کو دیکھتے احان نے شرارتا کہا۔
نہیں!mr psycho by barbie boo part 42
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
ٹھیک ہے۔ میں کچھ کام نمٹا کے آتا ہوں پھر آپکا موڈ ٹھیک کروں گا۔ تب تک آپ آرام کریں۔
وہ آئلہ کے گالوں پہ نرمی سے پیار کرتے بیڈ سے اترتے، روم سے باہر چلا گیا۔
_____*******
کہاں ہو تم؟
آفس میں ہوں۔ اتنے دنوں سے لیو لی ہوئی تھی۔ آج آئی ہوں، کافی کام پینڈنگ تھا وہی کررہی تھی۔ تم بتاؤ کیسے ہو؟ آفس میں ہو؟
کیارا نے فائل بند کرتے فون پہ رمیز سے بات کرتے کہا۔
ہاں، میں بھی آفس میں ہوں، فری تھا تو سوچا تم سے بات کرلوں۔
وہ محبت سے بولا تو کیارا کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
تو مجھے مِس کررہے تھے تم، ہونہہ؟
کیارا کے لفظوں سے شرارت جھلک رہی تھی۔
کچھ ایسی ہے سمجھو۔
رمیز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو اگر زیادہ یاد آرہی ہے میری، تو پھر ملنے آجاؤ مجھ سے۔
وہ دھیمی سی آواز میں کہنے لگی۔
ٹھیک ہے ۔ میں آتا ہوں کچھ دیر تک پھر کہیں باہر چلتے ہیں ۔ بائے۔
رمیز نے کہا اور کال کاٹ دی۔ کیارا کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔
______*******mr psycho by barbie boo part 42
یہ تو پاگل ہی ہو گیا ہے، مجال ہے جو کسی کی کوئی خبر ہو اس کو۔ پتہ نہیں کیا جادو کردیا ہے اس لڑکی نے میرے پوتے پہ، اپنی مٹھی میں قید ہی کر لیا ہے اس چھوٹی سی لڑکی نے تو، اسکی محبت میں بالکل اندھا ہی ہو گیا ہے یہ تو، کیسے سمجھاؤں میں اس کو۔ 
رمینا بیگم لینا کے روم میں تھیں اور صوفے پہ بیٹھی بولے جارہی تھیں۔ 
اسی طرف احان کمرے میں داخل ہوا۔ 
میں جانتا تھا تم ایسے نہیں جاؤ گی۔ اتنی آسانی سے کہاں بات ماننے والی ہو تم۔ 
چلو میں خود چھوڑ کے آتا ہوں تمہیں۔ 
احان نے لینا کی طرف بڑھتے، اسکو بازو سے پکڑتے باہر کی طرف کھینچ کے جانے لگا تو رمینا بیگم نے اسکے سامنے آتے اسے روکا تھا۔ 
کیا کررہے ہو تم؟ کوئی تمیز نہیں رہی تمہیں؟ یہ کیا طریقہ ہے ؟ بیوی نہ سہی تمہارے بچے کی ماں تو ہے نا یہ، اس سے عزت سے پیش آؤ۔ 
رمینا بیگم نے سختی سے کہا، لینا کے بازو پہ موجود احان کے ہاتھ کی سخت گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔ 
دادو پلیز! آپ اس معاملے میں مت بولیں، آپ کچھ نہیں جانتی اس لیے پلیز ہٹیں سامنے سے۔
احان نے دبے دبے غصے سے کہا۔ 
تم نے سنا نہیں، لینا کہیں نہیں جائے گی، اسی گھر میں رہے گی یہ۔ 
وہ دو ٹوک انداز میں بولی تھیں۔ 
میری ہنی کو جان سے مروانے کی کوشش کی ہے اس نے، میں اسے زندہ چھوڑ رہا ہوں یہی بہت ہے، مگر اس گھر میں ایک پل بھی برداشت نہیں کروں گا میں اسے۔ 
احان نے قہر برساتی نگاہیں لینا پہ ڈالتے کہا۔ 
میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، میں کیوں اسے مروانا چاہوں گی۔ میرا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے احان۔ 
وہ افسردہ ہوتے بولی۔ mr psycho by barbie boo part 42
بس کردو تم! جھوٹ بولنا بند کرو، بہت اچھی طرح جانتا ہوں میں ، اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے تم کسی بھی حد تک جا سکتی ہو اور تم زیادہ خوش نہیں ہونا، تم زندہ اس لیے ہو کیونکہ ابھی میرے پاس تمہارے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے پر جس دن میرے ہاتھ کوئی ثبوت لگا نا پھر اپنا حشر دیکھنا تم۔ 
احان نے اسکے دونوں بازوؤں کو سختی سے اپنے حصار میں لیتے کہا۔ 
میں نے کہا نا اس سب میں میرا ہاتھ نہیں تھا۔ پر مجھے خوشی ہوتی اگر وہ مر جاتی تو۔۔۔۔جان تو چھوٹ جات۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔ لینا کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی احان نے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پہ رسید کیا وہ فرش پہ جا گری تھی۔ 
خبردار! میری ہنی کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں سنوں گا میں، اور ایسی بات تو ہرگز نہیں، 
تم نے سوچا بھی کیسے آخر کہ اپنی جانم کے ساتھ ایسا ظلم ہونے دونگا میں، دوبارہ اگر ایسی کوئی بات تمہاری زبان پہ آئی نا تو میں تمہیں بولنے کے قابل بھی نہیں چھوڑں گا ۔ 
وہ لینا کے بال مٹھی میں جکڑے اس پہ قہر برسا رہا تھا۔ 
تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟ کچھ ہوش بھی ہے کہ کیا کررہے ہو تم؟ 
رمینا بیگم نے احان کا ہاتھ جھٹکتے غصے سے کہا۔ 
جاؤ یہاں سے، اپنے کمرے میں جاؤ تم۔ 
وہ احان کو جانے کا اشارہ کرتے بولیں تو احان اٹھ کے باہر کی طرف جانے لگا۔ 
ہاں میں چاہتی ہوں کہ وہ مر جائے، اسی لائق ہے وہ، میں خود اسکی جان لے لوں گی، مار دوں گی اسے۔ 
احان دروازے تک پہنچا تھاجب لینا تیزی سے کھڑی ہوئی اور زور سے چیخی۔ 
احان غصے سے پلٹا اور لینا کی طرف بڑھتے اسکے بازو کو سختی سے پکڑتے اسے زور سے بیڈ پہ پھینکا پر لینا کا توازن بگڑا اور بیڈ پہ گرنے کی بجائے اسکا سر سائیڈ ٹیبل پہ جا لگا اور اگلے ہی پل وہ فرش پہ جاگری۔ اسکے سر سے تیزی سے خون بہنے لگا۔
رمینا بیگم کے ہوش اڑے تھے۔ احان بھی ایک پل کو چونکا تھا۔ 
دیکھ کیا رہے ہو، اٹھاؤ اسکو اور ہوسپٹل لے کے جاؤ نا۔
احان کو خاموش کھڑے دیکھ کے وہ چلائی تھیں۔
وہ اسے اٹھاتے باہر کی طرف بھاگا اور ہوسپٹل لے گیا۔ 
احان صاحب! پییشنٹ کے سر پہ گہری چوٹ آئی تھی ۔ خطرے سے تو باہر ہیں لیکن کافی خون بہہ گیا ہے اور شاید دو تین مہینے ایڈمٹ رکھنا پڑے گا انکو۔ 
ڈاکٹر نے احان کو بتایا۔ تو وہ ہلکے سے سر ہلا گیا۔ 
میری شرٹ خراب ہوگئی ہے۔ اسکو چینج کرنا ہوگا۔ 
وہ اپنی شرٹ کی طرف دیکھتے بول رہا تھا جس پہ جابجا خون کے نشان تھے۔ 
اگر جانم نے دیکھ لیا تو ڈر جائیں گی، پہلے ہی اتنی مشکل سے وہ شاک سے باہر نکلی ہے کہیں پھر سے نہ شاک میں چلی جائے، اس بات کا ذکر نہیں کرونگا ہنی سے۔ 
وہ کار ڈرائیو کرتے سوچتے ہوئے گہری سانس لینے لگا۔
______********
کہاں جارہے ہیں ہم؟ 
کیارا نے رمیز سے پوچھا جو ڈرائیو کررہا تھا۔ 
میں نے سوچاکیوں نا ایسی جگہ جائیں جہاں کوئی ہم دونوں کو ڈسٹرب نہ کر سکے تاکہ ہم تھوڑا سا پیار ہی کر لیں ایک دوسرے سے۔ 
رمیز نے ذومعنی انداز میں کہا تو کیارا شرمائی تھی۔ 
اور اسکے لیے میرے فلیٹ سے زیادہ پر سکون جگہ اور کوئی ہو سکتی ہے کیا؟ 
رمیز نے آنکھوں سے اشارہ کرتے کہا تو وہ مسکرادی۔ 
_____*******mr psycho by barbie boo part 42
اب چلیں بھی یا یہی رکنے کا ارادہ ہے؟ 
کیارا کو دروازے کے پاس کھڑے پا کر رمیز نے شرارتا کہا تو وہ فلیٹ میں انٹر ہوئی۔ 
تم چلو بیٹھو میں ہمارے لیے کچھ لے کے آتا ہوں، فریج خالی ہے ۔ بھوک لگے گی نا ہمیں۔ 
وہ کیارا کے قریب ہوتے اسکی کمر کے گرد۔حصار بناتے اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔ 
اچھا ٹھیک ہے پر جلدی آنا، زیادہ دیر نہیں رک سکتی میں یہاں۔ 
کیارا نے اپنے سرخ ہوتے گالوں کو چھپاتے ہوئے کہا تو رمیز مسکراتے ہوئے فلیٹ سے باہر نکلا۔ 
وہ لاؤنج میں جاکے صوفے پہ بیٹھ گئی۔ 
_______********
کتنی دیر ہوگئی ہے مسٹر احان آئے ہی نہیں۔ 
پہلے مجھ پہ غصہ کیا اور اب اکیلا چھوڑ کے چلے گئے مجھے، میں ٹھیک نہیں ہوں، مجھے ضرورت ہے انکی، 
اور وہ کس طرح مجھے اکیلا چھوڑ کے چلے گئے اگر پھر سے کسی نے مجھے کڈنیپ کر لیا تو یا مجھے جان سے مار دیا تو۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ 
وہ دروازے پہ نظریں ٹکائے احان کی راہ تکتے رونے لگی۔ 
______********______
وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی جب ڈور بیل کی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔ 
لگتا ہے رمیز آگیا، اتنی دیر لگا دی تھی اس نے تو۔ 
وہ صوفے سے اٹھتی دروازے کی طرف بڑھی اور پوچھے بغیر ہی مسکراتے ہوئے ڈور اوپن کیا۔ 
سامنے موجود شخص کو دیکھ کے کیارا کے لبوں سے پل بھر میں مسکراہٹ غائب ہوئی تھی اور پریشانی کے سائے لہرائے تھے۔ 
آپ! آپ یہاں! 
وہ ہکی بکی ہوئی تھی اور بمشکل بول پائی تھی۔ 

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.