people, man, woman-2589047.jpg

written by barbie boo



رائیٹر____باربی بو
لاسٹ ایپی سوڈ
تمہارے لب صدی کا سب سے دل آویز فتنہ ہیں
تمہاری سانولی گردن سوا دو سو برس سے بھی پرانی وائن کی بوتل کے جیسی بیش قیمت ہے
تمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھیں ہزاروں مے کدوں کے بند ہونے کی خبر دینے کو کھلتی ہیں
تمہاری زلف میں گھومے ہوئے ہاتھوں کے چھونے سے کسی بھی چیز میں کافور کی تاثیر آ جائے
تمہارے ہاتھ جس کے ہاتھ لگ جائیں وہ دنیا فتح کر جائے
تمہارے اجلے پاؤں سے نکلتی دودھیا کرنیں کسی بھی دن چٹانوں کو جلا کر اک نئی تلمیح کی بنیاد رکھ دیں گی
تمہاری چھاتیاں ناران کے اجلے پہاڑوں کی طرح مسحور کرتی ہیں
تمہاری پنڈلیاں دریائی مچھلی سی پھسلتی ہیں
تمہاری صندلیں رانیں کسی شاہی شبستاں کے عظیم الشان دروازے کی طرح عام لوگوں پر نہیں کھلتیں
تمہارے آتشیں کولہوں میں انڈونیشیا کے زلزلے والے جزیروں سی حرارت ہے
تمہاری ناف جنت کی بشارت ہے
تمہارے تیسرے تل تک جو پہنچے وہ سکندر ہے
منوڑہ سے کھڑے ہو کر سمندر دیکھنے والے سمجھتے ہیں تمہارے سانس لینے سے تمہارا پیٹ ہلتا ہے تو کیا محسوس ہوتا ہے
میں اس سے قبل سیّارے پہ بس حیران پھرتا تھا
تمہارا جسم دنیا سے مرا پہلا تعارف تھا۔
احان اسے کافی دیر سے منانے کی کوشش کررہا تھا پر وہ کسی طرح ماننے کو تیار نہ تھی۔ کبھی اسکے گال چھوتا کبھی اسکا ہاتھ تھامتا اور وہ منہ بنائے روٹھی بیٹھی تھی۔ صوفے سے اٹھتی وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
احان اٹھتے اسکے پیچھے جانے لگا تو اس نے ڈور لاک کردیا۔
وہ بالوں پہ ہاتھ پھیرتے وہی دروازے کے پاس ٹھہر گیا۔
کتنا مشکل کام ہے جانم کو منانا، انکی ناراضگی تو ختم ہی نہیں ہورہی، نہ قریب آنے دے رہی ہیں نہ کوئی پیار ویار۔
میری ہنی بنی کتنا تڑپاتی ہیں آپ مجھے، کوئی نہیں آپکی قربت میں رہنے کے لیے آپکے مسٹر احان سب سہہ لیں گے۔ آپکے سارے لاڈ، سب نخرے بہت پیار سے اٹھاوں گا میں۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے سوچ رہا تھا۔ اسی پل وہ ڈور اوپن کرتے باہر نکلی۔
شارٹ فراک میں وہ کسی چھوٹی سی بچی کی طرح لگ رہی تھی۔وہ احان کی جانب آئی اور بنا سوچے سمجھے اپنے پیروں کو اونچا کر کہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا، اسکی خوبصورت آنکھوں میں اب ناراضگی کی جگہ شدید محبت تھی، شاید آئلہ نے یہ حرکت اسے یہی احساس دلانے کے لئے کی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ سرخ چہرہ لیے پیچھے ہوئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبارہ وہی عمل دوہرایا۔
احان اب کی بار کچھ حیرت سے اسے دیکھنے لگا لیکن جلد ہی اپنی حیرت ہر قابو پا کر اپنے ہاتھ بڑھاتےہوئےاسکی کمر پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کا ساتھ دینے لگا، کچھ دیر بعد وہ پھر سرخ چہرہ لیے سانس لینے کو پیچھے ہوئی ۔
اس بار احان نے اس کی گردن سے ہاتھ گزار کر اس کے بالوں کو پکڑا اور اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔ آئلہ کے ہونٹ تھے ہی اتنے نرم، ملائم و دلکش کہ ہر بار کی طرح احان کو نشہ سا طاری ہو گیا۔ آئلہ کا ایک ہاتھ اس کے بازو پر تھا اور ایک ہاتھ اس کے بالوں میں،
وہ اسے دیوار کے ساتھ لگا کر اس کے ہونٹوں سے اپنی پیاس بجھانے میں مگن تھا وہ بھی اس کا ساتھ دے رہی وتھی، ہونٹوں سے ہونٹ الجھے ہوئے تھے، چاند کی چاندنی مسکا رہی تھی۔ آئلہ کی پھولتی سانس نے اسے مزید منمانی کی اجازت نہ دی تو اس نے احان کی شرٹ جھٹکتے ہوئے اسے دور کیا اور سرخ چہرے سے کھانستے ہوئے سانس بحال کرنے لگی۔
اسکے سرخ ہوتے چہرے سے لطف لیتے وہ اس کے خوبصورت لبوں کو ایک بار پھر اپنی قید میں لے چکا تھا اور اب اسے اپنے ایک ہاتھ سے اس کی کمر کو سہلا رہا تھا پھر اس کے بازوؤں کو نہایت نرمی سے سہلانے لگا اس کے ہونٹ آزاد کرتا اب وہ اس کی گردن پر محبت بھری چھاپ چھوڑ رہا تھا اس کی شفاف گوری گردن کو چومتے چومتے اس نے وہاں اپنی مہر لگانا لازمی سمجھا اور لو بائٹ کی چھاپ اس کی گردن پر پورے استحقاق سے اس طرح چھوڑی جیسے عمر بھر یہ نشان اس کی گردن پر اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہے گا۔
اس کے ہونٹ آئلہ کے گورے بازوؤں پر اپنا لمس بکھیر رہے تھے۔ اور وہ آنکھیں بند کیے سکون محسوس کر رہی تھی۔ وہ آئلہ کی گردن پہ اپنے سلگتے ہونٹ رکھ گیا ۔
وہ تڑپ اٹھی تھی اس کی سانسیں تیز تر ہو گئ تھیں ۔
احان نے اسکی بے قابو ہوتی دھڑکنیں محسوس کر کے اس کے ہونٹوں کو دوبارہ چومنا شروع کیا اس کے ہونٹ انتہا کہ نرم تھے اور احان تو ان میں مکمل کھو چکا تھا اس کی انگلیاں آئلہ کی کمر پر گردش کر رہی تھی اور اب اس کی فراک کی زپ میں الجھ رہیں تھیں۔
وہ اسکی کمر سہلانے لگا تھا اور پھر آئلہ کے ہونٹوں کو آزاد کر کے اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلیاں پھیریں اور اس کے ہونٹوں کے کناروں پر وقفے وقفے سے کس کی اور بھاری ہوتی مخمور سانسوں سے آئلہ کو اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے اسکے وجود سے آتی بھینی بھینی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا۔
نرمی سے اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھرتے وہ اسکو اٹھائے بیڈ کی طرف بڑھا اور اسے لٹاتے اسکے برابر میں لیٹ گیا۔ اسکے سلگتے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے وہ ہلکے سے مسکرارہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں میں وہ اسکی پناہوں میں چھپتی نیند کی آغوش میں چلی گئی۔
****************
احان آئلہ کے ساتھ پیرس جا چکا تھا۔ آفس کا سارا کام رمیز ہی سنبھال رہا تھا۔ بہت مصروف ہونے کی وجہ سے وہ کیارا کو ٹائم نہیں دے پارہا تھا جس کا اسے بخوبی اندازہ تھا۔
بہت مشکلات کے بعد جاکے اب احان اور آئلہ پھر سے خوش تھے۔ وہ احان کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میٹنگز اٹینڈ کرنے کے بعد اسنے کیارا کو کال ملائی وہ بے چین ہورہا تھا اور مس کررہا تھا۔
کوئی ریسپونس نہ ملا ۔ اس نے دوسری بار کال ملائی پھر تیسری بار پر نو ریسپونس۔
رمیز نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں وہ جانتا تھا کہ کیارا ناراض ہوگئی تھی شاید تبھی بات نہیں کررہی تھی۔
رمیز نے میسج ٹائپ کیا اور اسے سینڈ کردیا۔
وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے بیٹھی تھی کہ ایک میسج ٹون پر اس نے فون کو گھورا۔
اس نے میسج کھولا تو اندر ایک غزل تھی
کوئی ایسا جادو ٹونا کر
میرے عشق میں وہ دیوانہ ہو
یوں الٹ پلٹ کر گردش کی
میں شمع وہ پروانہ ہو
ذرا دیکھ کے چال ستاروں کی
کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ
جو کر دے بخت سکندر سا
کوئی ایسا چلہ کاٹ کہ پھر
کوئی اس کہ کاٹ نہ کر پاۓ
کوئی ایسا دے تعویز مجھے
وہ مجھ عاشق ہو جاۓ
کوئی فال نکال کرشمہ گر
میری راہ میں پھول گلاب آئیں
کوئی پانی پھوک دے ایسا
وہ پئے تو میرے خواب آئیں
کوئی ایسا کالا جادو کر
جو جگمگ کر دے میرے دن
وہ کہے مبارک جلدی آ
اب جیا نہ جاۓ تیرے بن
کوئی ایسی راہ پہ ڈال مجھے
جس رہ سے وہ دلدار ملے
کوئی تسبیح دم درود بتا
جسے پڑھوں تو میرا یار ملے
کوئی قابو کر بے قابو جن
کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگا کھینچ پراندے کا
کوئی منکا اشکا داری سے
کوئی ایسا بول سکھا دے نہ
وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے
وہ جانے جانثار ہوں میں
کوئی ڈھونڈ کے وہ کستوری لا
اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں
جو مرضی میرے یار کی ہے
اسے لگے میں بلکل ویسا ہوں
کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ
جو اشک بہا دے سجدوں میں
اور جیسے تیرا دعوہ ہے
محبوب ہو میرے قدموں میں
پر عامل رک اک بات کہوں
یہ قدموں والی بات ہے کیا؟
محبوب تو ہے سر آنکھوں پر
مجھ پتھر کی ہے اوقات کیا
اور عامل سن یہ کام بدل
یہ کام بہت نقصان کا ہے
سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں
جو مالک کل جہاں کا ہے
موبائل کی سکرین پر جگمگاتی غزل کو پڑھ کر اس کا غصہ کہیں دور جا سویا تھا کہ اسی کے ساتھ ایک دفع اور موبائل کی بپ بج کر اسے اپنی طرف متوجہ کر گئ تھی اب کی بار بھی میسج ہی تھا
یہ تو ہوئی تمہارے ٹائپ کی اب میرے رومانوی اور
پر خلوص خیالات اور جذبات بھی سن لو بلکہ پڑھ لو
لبوں کی شرارت سے بدن کے چور ہونے تک
میں تجھ کو اس طرح چاہوں کہ میری سانس رک جاۓ
خطاؤں پر خطائیں ہوں نہ ہو کچھ بات کہنے کو
میں تجھ میں یوں سما جاؤں کہ میری سانس رک جاۓ
نہ ہمت تجھ میں ہو باقی نہ ہمت ہو مجھ میں باقی
مگر اتنا قریب آؤں کہ میری سانس رک جاۓ
میں اپنے لب یوں رکھ دوں تیرے لبوں پر
یا تیری پیاس بجھ جاۓ یا میری سانس رک جاۓ
پہلی غزل پر جو مسکراہٹ اس کے لبوں پر رقصاں کر رہی تھی اب وہ بلکل غائب ہو گئی تھی اس کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا تھا اتنی رومانٹک غزل پر اس کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔
آئی نو کہ تمہیں یہ غزل پڑھ کر مجھ پر بہت پیار آ رہا ہو گا اور تمہارے دل میں بھی کچھ کچھ ہو رہا ہو گا مجھے بھی ہو رہا ہے اس لیے یہ پیار میرے آفس سے آنے کے بعد کے لیے رکھ لو صرف اور صرف اپنے شوہر کے لیے اور آگے کس والا ایموجی تھا۔
وہ دانت پیس کے رہ گئی۔
دوسری طرف اسے لال پیلا کر کے اب وہ خود سکون سے سر چیئر کی پشت سے ٹکا کر خیالوں میں اسے سموۓ مسکرا رہا تھا کہ سیکرٹری کے ناک کرنے پر بدمزہ ہوتا وہ اسے اندر آنے کی اجازت دے گیا تھا۔
*******************
وہ گھر لوٹا تو خاموشی دیکھ کے ٹھٹکا۔ کیارا کو نظریں ڈھونڈنے لگیں۔ ڈور لاک کرتے وہ اپنے روم میں گیا تو چہرے سے پریشانی کے آثار سکون میں تبدیل ہوگئے۔
وہ بیڈ پر بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی کہ کلک کی آواز کے ساتھ کسی کے اندر آنے پر وہ چونکتے ہوئے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔
وہ دلکشی سے مسکراتا اس کے سامنے بیڈ پر آ لیٹا۔ اسے کچھ دیر یونہی دیکھنے کے بعد وہ اٹھا کیارا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
رمیز نے کھڑے ہو کر اسے گود میں اٹھایا تھا کہ وہ اس کے یوں اٹھانے پر بوکھلائی تھی
کہاں لے کر جا رہے ہو؟ “ششش!” اس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا تھا۔
رمیز! اتارو مجھے ابھی اسی وقت۔
وہ غصے سے بولی تو رمیز نے واپس سے اسے بیڈ پہ بٹھایا۔ اور خود اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ کیارا نے ہڑبڑا کر پیچھے ہونا چاہا کہ اس نے مسکرا کر اس کے گرد بازو حائل کر دیے۔
میں جانتا ہوں میری بےبی ناراض ہے مجھ سے ۔ آئم سوری کچھ زیادہ ہی بزی ہوگیا تھا کاموں میں لیکن بس اب سارے کام ختم کر لیے ہیں اب مزید لیٹ نہیں آیا کروں گا ۔ اب اپنی بےبی کو بہت سارا وقت دوں گا۔
رمیز نے اسکے ہونٹوں کو اپنی انگلی سے ٹریس کیا اور پھر جب اس کے گلے میں کانٹے سے چبنے لگے تو وہ اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اپنی پیاس بجھانے لگا وہ خود کو صحرا کی مانند پا رہا تھا اس کی پیاس بھجنے کی بجاۓ بڑھ رہی تھی لیکن وہ اپنی جان کو بھی زیادہ دیر تکلیف نہی دے سکتا تھا اس لیے اس نے نرمی سے اس کے ہونٹوں کو آزاد کیا اور اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا لیا دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا۔
کیارا تو شرم سے اپنی آنکھیں بند کر گئ تھی رمیز اس کے شرم سے سرخ چہرے کو دیکھ کر مسکرایا اور اٹھ کر سہی سے لیٹا اور اس بھی اپنے پہلو میں گرایا اور اس کے ایک ایک نقش کو چومنے لگا
کیارا کا تنفس پھول رہا تھا لیکن وہ اسے روکنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہ بھی اسکی قربت ، اسکے لمس کی تپش مس کررہی تھی۔ اس لیے اس نے اسے خود سپردگی کے طور پر اس کے گرد بازوں حمائل کر دیے تھے اس کی خود سپردگی پر رمیز اپنے اور اس کے درمیان سے سارے پردے ہٹاتا گیا اور اس پر اپنے رنگ اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنے لگا۔
اور وہ اسکے لمس کو محسوس کرتی مدہوش ہوتی اس میں سمٹی جارہی تھی۔
*********************
دو ہفتوں بعد وہ واپس آچکے تھے۔ دونوں کافی خوش تھے۔ سارے گلے، شکوے ساری غلط فہمیاں دور ہو چکی تھیں۔ دوبارہ کبھی نہ جدا ہونے کے لیے وہ دونوں ایک ہوچکے تھے۔
احان نے واپس سے آئلہ کو اسی گھر میں ہی رکھا۔
رمینا بیگم نے لاکھ کوششیں کی کہ آئلہ کو وہ الگ گھر میں نہ رکھے پر وہ انکی ایک بات نہ مانا۔
اسکا بیٹا بھی اسکے ساتھ ہی تھا۔ اس طرح ایک مکمل فیملی بن چکی تھی۔
بچے کے لیے احان نے بےبی سٹر رکھی ہوئی تھی۔
آئلہ پھر سے سکول جوائن کر چکی تھی۔ اور احان اپنے آفس کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔
کیارا اور رمیز بھی ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔
ٹیشا اور عادی اپنی سٹڈیز کمپلیٹ کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے تھے۔
ہر کوئی اپنی زندگی اپنی مرضی اور خوشی سے گزار رہا تھا۔
ایسے ہی چھ مہینے گزر گئے۔ آئلہ بچے سے کافی مانوس ہو چکی تھی۔ احان ایک پر سکون زندگی گزار رہا تھا۔ وہ زندگی جسکی ہمیشہ سے اس نے خواہش کی تھی۔
****************
جانم! اتنی دیر کیوں لگا دی آپ نے؟
آئلہ جو سکول سے ابھی ابھی واپس آئی تھی لاؤنج میں سے گزرتے ہوئے احان کی آواز پہ اسکی طرف پلٹی تھی۔
وہ دوستوں نے پارٹی رکھی تھی تو اسی لیے دیر ہوگئی مسٹر احان، آپ پریشان مت ہوا کریں نا، یو نو نا اب بڑی ہوگئی ہوں میں۔
وہ احان کی طرف جاتے، کندھے سے سکول بیگ اتارتے ہوئے صوفے پہ رکھتے، مسکرا کے بولی۔
کتنی بڑی ہوگئی ہیں؟ بھولیں نہیں ابھی سترہ کی بھی نہیں ہوئی آپ، اس لیے تھوڑی محتاط رہا کریں۔
احان نے صوفے سے اٹھتے آئلہ کی طرف جاتے اسکے گال کو نرمی سے چھوتے ہوئے کہا جبکہ فکرمندی اسکے چہرے سے واضح ہورہی تھی۔
جی جی میں سمجھ گئی۔ اب جاؤں میں؟
وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی۔
فکر ہورہی تھی مجھے، جانتی ہیں نا کیا حالت ہو جاتی میری۔
وہ آئلہ کی کمر کے گرد بانہوں کا حصار بناتے اسکے چہرے پہ جھکتے مدہوشی کے عالم میں کہنے لگا۔
اسی پل بچے کے رونے کی أواز آئی تو وہ جلدی سے اسکے حصار سے باہر نکلی۔
سنا آپ نے بےبی رورہا ہے۔ میں جاکے دیکھتی ہوں۔
وہ تیزی سے کہتی وہاں سے فرار ہوتے اپنے روم کی طرف بھاگی تھی۔
احان کے عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔
صوفے پہ پڑے آئلہ کے بیگ کی طرف دیکھتے اسکے چہرے پہ پریشانی و خوف کے سائے لہرانے لگے تھے۔ دل ایک بار پھر سے مچلنے لگا تھا۔ دل کے کسی کونے میں سوئے ہوئے کئی دکھ پھر سے جاگنے لگے تھے۔ اسے چبھن کا احساس ہورہا تھا۔ کسی طرح خود پہ قابو پاتے،
ایک گہری سانس لیتے اس نے صوفے سے سکول بیگ اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا اسکی قربت میں سارے خوف مٹا نے اور اسے اپنی محبت میں بھگونے۔Mr.psycho last episode
ایک وہ ہی تھی جو احان کے سارے خوف، ساری بے چینیاں مٹا کے اسے سکون پہنچاتی تھی۔ اسکے نازک وجود کا لمس، اسکے بدن کی بھینی بھینی خوشبو احان کو اس دنیا کے سارے غموں سے آزاد کردیتی تھی۔
تیری آہٹ کسی کے لیے 
اس قدر جاں فزا، اس قدر خاص ہے
جیسے میدان میں ہارتی فوج کو
اک کُمک کی دھمک حوصلہ بخش دے
تیرے پیغام کو کوئی مردہ دلی سے نبرد آزما
چھت کے پنکھے سے نظریں ہٹا کر پڑھے
تو تخیل میں کھلتے ہوئے
سرخ پھولوں کی تصویر بُننے لگے
اور مصور بنےMr.psycho last episode
تو جسے دیکھ لے
وہ کئی سال آئینہ تکتا رہے
اور پھر ایک دن
فلسفہءِ انالحق سمجھنے لگے
تو کسی سخت پتھر کو بھی چوم لے
تو وہ پگھلے ہوئے موم جیسا بہے
اور برفیلے موسم میں بھی نہ جمے
تو کسی پھول کو سونگھ لے
تو وہ تا بہ ابد بس مہکتا رہے پھر کبھی نہ مرے
تو بغاوت پہ اترے تو سارے خدا 
اس جہاں میں پناہیں تلاشیں
مگر ان کو چھپنے کی کوئی جگہ نہ ملے
تو نے کتنے کھرب آدمی 
اپنی چاہت میں اس درجہ پاگل کیے
کہ انہیں تیرے بن زندگی زندگی نہ لگی
تو میسر نہ تھیMr.psycho last episode
تو یہی سوچ کر
تو کہیں تو ملے
بعض جنت کی خواہش میں جل کر مرے
پھر کبھی نہ جیے
کتنے بنجارے تجھ کو نگاہوں میں لے کر
بھٹکتے رہے
تنگ گلیوں میں دُکھتے گلوں سے
صدائیں لگاتے رہے
مدتوں ریت میں ریت ہوتے رہے
پھر کہیں دشت میں گم ہوئے تو ٹھکانے لگے
تو مرے ساتھ ہے
تو مرا ہر قدم
بس قدم ہی نہیں ہے 
بڑی جست ہے
ایک تو ہے کہ جو
اپنے ہونے نہ ہونے کے اثرات سے بے خبر،
بس محبت کے سازوں میں کھوئی ہوئی ہے
اور اپنی ہی دھن میں کہیں مست ہے
ختم شد!!
…Mr.psycho last episode

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

One thought on “Mr.PSYCHO LAST EPISODE”

Leave a Reply

Your email address will not be published.