couple, love, feelings-2300103.jpg

This is full of romance & suspense. Mr.psycho is a urdu romantic novel written by barbie boo.

Episode 12


اب چلیں بھی یا یونہی شرماتی رہوں گی۔ تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔
وہ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
کیا؟ اس نے سوال کیا۔
چلو چل کر خود دیکھ لو۔
وہ اسکا تھامے اسے اپنے ساتھ لیکر کچن سے نکلتے روم کیطرف بڑھا۔
کیا کر رہے ہو رمیز؟ وہ حیرت سے کہنے لگی۔
شششش۔۔۔۔۔۔ایک دم چپ! ابھی پتہ لگ جائے گا تمہیں۔
وہ اسکے لبوں پہ انگلی رکھتے اسے چپ کراتے ہوئے بولا۔
روم کے قریب پہنچ کر ڈور اوپن کرتے اسکا ہاتھ تھامے وہ روم۔میں انٹر ہوا۔ اور ڈور لاک کر دیا۔ روم کی لائٹ آن کی تو کیارا حیرت سے پورے کمرے کو دیکھنے لگی
پورے کمرے میں سرخ گلاب پھیلے ہوئے تھے ۔
ایک انچ جگہ بھی ایسی نہ تھی جہاں گلاب کی کوئی پتی نہ ہو۔ بیڈشیٹ بھی سرخ رنگ کی تھی جس پر پھولوں سے دل بنا رکھا تھا۔ پورا کمرہ گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
سارے کشن تکیے بھی سرخ رنگ کے تھے۔
اور ان سب کشن کے درمیان ایک خوبصورت ہارٹ رکھا تھا جس پر کالے رنگ سے آئی لویو لکھا تھا۔
بیڈ کراؤن کی اوپری جگہ انگلش کے حروف کے ساتھ ویکم ٹو مائی لائف لکھا تھا ۔
سائیڈ ٹیبل پر ایک پنک کلر کے جیولری باکس میں خوبصورت نیکلس اور بہت سارے گفٹس دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔
باقی ہر طرف رنگ برنگی خوبصورت کینڈلز کی روشنی نے فسوں خیز سماں باندھ دیا تھا۔ .
وہ یہ ساری سجاوٹ اور تحفے دیکھ کر خوش تو ہوئی تھی۔
مگر اسکے باوجود وہ دل سے یہ خوشی محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔ اسے ڈر لگ رہا تھا۔کہ اگر اس بارے میں کسی کو پتہ لگ گیا تو کیا ہوگا؟
کیسا لگا یہ سب؟ وہ اسے خیالوں میں گم دیکھ کر محبت سے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
یہ سب تم نے کیسے کیا؟ کب کیا؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
وہ ابھی تک حیرت میں مبتلا تھی۔
محبت کرنے والے اپنے محبوب پہ پیار لٹانے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں میری جان!
یہ سب میں نے تب کیا جب تم نیند کے مزے لے رہی تھی۔
اچھا اب بتاؤبھی کہ اچھا لگا یا نہیں؟
اس نے اپنے فون میں میوزک آن کرکے ٹیبل پہ رکھا اور
ہلکے ہلکے میوزک کی دھن پر وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے قریب کیے کہہ رہا تھا۔
بہت اچھا لگا۔ تھینک یو رمیز! مجھے لگا تھا کہ شاید اب دوبارہ کبھی نہیں مل پائیں گے ہم۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔
وہ اسکے سینے میں چھپتی اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی۔
تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اب ہم مزید ایک پل بھی دور نہیں رہیں گے۔۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سے اسکی کمر سہلاتے اس کے وجود کی رعنائیوں کو محسوس کرتے سرگوشی کی سی آواز میں کہہ رہا تھا۔
اور وہ آنکھیں بند کیے اسکے کاندھے سے سر ٹکا کر اپنے محبوب کی اِس محبت کو کئی دنوں کی دوری کے بعد محسوس کر کےمسرور ہوئے جا رہی تھی۔ Mr.psycho novel by barbie boo
دھیرے دھیرے میوزک کی دھن پر تھرکتے قدم ساکت ہونے لگے۔
جب وہ اسکے بالوں میں سر چھپا کر اسکی نازک صراحی دار خوبصورت گردن کو لبوں سے چھونے لگا۔
پھر ایک جھٹکے سے اُس کے نازک سے وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں بھر کر بیڈ کیطرف بڑھا۔ اور نرمی سے اسے بیڈ پہ لٹاتے اس پہ جھکنے ہی لگا تھا کہ کیارا نے اسے خود سے دور کرتے روکنا چاہا۔
کیا ہوا؟ اسکے ماتھے پہ شکنیں ابھری۔
رمیز۔۔۔مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔اگر دادو کو پتہ چل گیا تو وہ میری جان لے لیں گی۔۔۔۔۔ آئم سوری بٹ میں یہ نہیں کر سکتی۔ وہ اٹھ کے بیٹھی۔
کیارا کی اس حرکت پر رمیز کو غصہ آرہا تھا۔
آنکھوں میں ابھرتے محبت کے چراغ اور لاکھوں جذبات اسے بجھتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ ۔۔۔۔
میں آج کا دن بہت خاص بنانا چاہتا تھا۔ پر شاید تمہیں یہ سب پسند نہیں آیا یا شاید تم۔ایسا چاہتی ہی نہیں۔۔۔
اوکے بائے۔
وہ سنجیدگی سے بولتا وہاں سے جانے کے لیے مڑا۔
کیارا نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا۔
دل و دماغ کشمکش کا شکار تھا۔
اسکی ناراضگی جان پر بن گئی تھی۔
اسنے تیزی سے رمیز کا ہاتھ تھام لیا۔
اوکے پلیز ناراض مت ہو۔۔۔۔کہیں مت جاؤ۔۔۔
وہ اٹھ کر اسکے قریب آئی۔
کیا ہوجاتا ہے تمہیں؟
وہ دوبارہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
آئم سوری۔۔۔۔۔ وہ اداسی سے بولی۔
بس۔۔۔۔سوری مت بولو۔۔۔۔ جب ایسے قریب آنے سے تم مجھے روک دیتی ہو تو بہت غصہ آتا ہے مجھے۔۔۔۔ایسا مت کیا کرو۔
ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو اپنی گرفت میں لے کر اُسے خود سے قریب تر کرتے وہ دھیمی آواز میں کہہ رہا تھا۔
اور پلک جھپکنے سے پہلے اسکے نرم۔۔۔۔نازک سے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں دبا کر وہ شدت سے اس پر جھکا ۔
اس کے نرم و نازک وجود کی مہک رمیز کے جذبات کی شدت کو بڑھا رہی تھی۔
وہ اسکی کمر کے گرد گرفت کو مضبوط کرتے اسے اپنے سینے میں چھپا گیا۔
اور اس بار اسکی گرفت میں ایک عجیب سی سختی تھی۔
بالوں کو ایک طرف سرکا کر اسکے ہونٹ بے چینی سے گردن کا طواف کرنے لگے ۔
کیارا بھی دونوں ہاتھوں کو اسکی گردن کے پیچھے رکھ کر خود کو اسکی بانہوں میں سونپتی اسکی قربت کو محسوس کرنے لگی۔
اور وہ اسے بانہوں میں لیے بیڈ پر آیا ۔
اپنی شرٹ اتارتے دور اچھالی اور اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایک نظر اسکے مہکتے وجود پر ڈالی ۔
اگلے ہی پل نرمی سے اسے تکیے پر سلاتے ۔۔۔خود بھی اس پر جھک گیا۔
تیرا آنکھوں سے بات کرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے 
وہ تیرا اکیلے میں دیکھ کر اشارہ کرنا اچھا لگتا ہے
ویسے تو شراب نشے میں اول ہے لیکن
تیرے لب پے لب رکھ کے دنیا کا نظارہ کرنا اچھا لگتا ہے
خمار آلود لہجے میں اسنے کیارا کے کان کے قریب سرگوشی کی۔ اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنسا کر اسکے ہونٹ ۔۔۔۔لبوں سے ہوتے اسکی گردن پہ جانے لگے۔
اس نے جیسے ہی اسکے کندھے سے شرٹ سرکا کر لب رکھے تو تیزی سے کیارا نے اسے خود سے دور دھکیلا۔۔۔اس نے اتنی زور سے دھکا دیا کہ رمیز بیڈ سے گرتے گرتے بچا تھا۔۔۔
واٹ دا ہیل کیارا؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ وہ غصے سے پھنکارا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔
رونا بند کرو۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔ اسے اسطرح روتا دیکھ کر اس نے کچھ نرمی سے کہا۔
پلیز تم یہاں سے جاؤ۔۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی۔
کیا مطلب جاؤں؟ ہوا کیا ہے تمہیں؟ مجھے بتاؤ نا۔۔۔۔کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔ وہ اسکے قریب آتے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بہت پیار سے کہہ رہا تھا۔ Mr.psycho novel by barbie boo
میں نے کہا نا تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔ وہ اسکے ہاتھوں کو بے رخی سے دور جھٹکتے ہوئے چلائی تھی۔
تم میری محبت کی تذلیل کررہی ہو کیارا۔۔۔۔تم مجھے دھتکار رہی ہو۔۔۔۔۔۔اتنی بے رخی۔۔۔۔اتنی نفرت آخر کیوں؟
اس نے سائیڈ ٹیبل پہ رکھے جیولری باکس کو زور سے ہاتھ مارا تو وہ فرش پہ جا گرا۔ وہ شدید غصے میں آگیا تھا۔
کیارا کا اسطرح دھتکارنا اسے طیش دلا گیا تھا۔۔۔ اسے اپنا آپ حقیر لگ رہا تھا۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسکے ساتھ کوئی زبردستی کررہا تھا۔
وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔
تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔ آخر کیا مسئلہ ہے؟
کوئی زبردستی کررہا تھا کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ارے یار! اگر تمہیں نہیں اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔میرا قریب آنا پسند نہیں تھا تو صاف صاف بول دیتی نا۔۔۔۔چپ چاپ چلا جاتا میں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔ اسطرح پہلے قریب آنے دینا اور پھر اچانک سے دور دھکیلنا۔۔۔۔۔میری کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔ یہ تو تم میری انسلٹ کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔ اور یہ میں برداشت نہیں کر سکتا سمجھی تم!
وہ بہت غصے سے بول رہا تھا۔۔۔اسکے ماتھے پہ پسینے کے قطرے ابھرے تھے۔
کچھ پل پہلے جو وہ خوشی سے اسکی قربت میں جھوم رہا تھا۔۔۔۔اب غصے سے پاگل ہورہا تھا۔
آئم سوری رمیز۔۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے ۔۔۔۔۔اپنے گالوں پہ پھسلتے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلی سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
شٹ اپ! بار بار سوری بول کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟
تم نے بہت دل دکھایا ہے میرا۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا کیارا۔
وہ اپنی شرٹ پہنتا۔۔۔۔۔بہت سختی سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔غصے کیوجہ سے اسکا چہرہ انگارے برسا رہا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں میں خون دوڑ رہا تھا۔۔۔۔۔
تم غلط سمجھ رہے ہو رمیز۔۔۔۔۔ وہ چہرے پہ آتے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔رونے کیوجہ سے اسکا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
غلط سمجھ رہا ہوں؟ تو تم ابھی بھی مجھے ہی الزام دے رہی ہو۔۔۔۔ بس کر دو کیارا پلیز۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ تمہارے دل میں اب میرے لیے کوئی فیلنگز ہی نہیں رہی۔۔۔۔شاید محبت ختم ہوگئی ہے۔۔۔۔اب تمہیں مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔اسی لیے تم ایسا کررہی ہو۔۔۔۔۔۔۔میں ہی پاگلوں کی طرح مرا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔اگر مجھے ذرا سا بھی انداذہ ہوتا نا کہ تم اب مجھے نہیں چاہتی تو میں کبھی بھی واپس نہ آتا تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔
بٹ اٹس اوکے۔۔۔۔۔بہت شکریہ تمہارا مجھے میری اوقات یاد دلانے کے لیے۔۔۔۔۔اینڈ آئم سوری تمہارے قریب آنے کے لیے۔۔۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ سخت بول جاؤں تمہیں۔۔۔۔۔جارہا ہوں یہاں سے۔۔۔۔۔۔اب کبھی بھی تمہیں اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔
وہ بہت دکھ سے کہتا۔۔۔اپنے بے اختیار ہوتے دل کو سنبھالتا۔۔۔۔۔ایک آخری نظر کیارا پہ ڈالتے۔۔۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔
اور وہ تکیے میں منہ چھپائے رونے لگی۔
اسکا رونا بنتا تھا ۔۔۔اس نے آج اپنی محبت کو کھو دیا تھا۔۔۔۔۔۔اس محبت کو جسے پانے کے لیے اس نے دن رات دعائیں مانگی تھی۔۔۔۔جس کے لمس کو محسوس کرنے کے لیے وہ تڑپی تھی۔۔۔۔۔آج خود اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیاں برباد کر دی تھی اس نے۔۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی اب رمیز کبھی نہیں پلٹے گا۔۔وہ کبھی اسے اتنی شکل نہیں دکھائے گا۔۔۔۔۔وہ بہت دور چلا جائے گا اس سے۔۔۔۔۔بہت دور۔۔۔۔۔۔وہ اب اسے کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔۔۔۔۔۔اسکی قربت کبھی محسوس نہیں کر پائے گی۔۔۔۔۔۔اس نے خود اپنے لیے یہ تاریکی چنی تھی۔۔۔۔اب اسے محبت کے اجالے سے کہیں دور اس تاریکی میں ہی رہنا تھا۔۔۔۔۔۔نجانے کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
Mr.psycho novel by barbie boo
_______________******____________
اس نے ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر لائٹ پنک کلر کی ٹی شرٹ اور ڈھیلا ڈھالا ٹراؤزر زیب تن کیا۔
آئینے کے سامنے آکر ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔
کالے رنگ کے گھنے بال، صبیح پیشانی ، بڑی بڑی کالی آنکھیں ، چھوٹی سی ستواں ناک ، بھرےبھرے گال – خوبصورت سے چھوٹے نرم و نازک گلابی بھر بھرے ہونٹ
،چھوٹی سی ٹھوڑی میں ہلکا سا خم ، صراحی دار گردن دلکش نازک سا سراپا ، واقعی وہ بے حد خوبصورت تھی۔ ایسے ہی تو احان عباس اس پہ فدا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔اسکا حسین سراپا کسی کو بھی پاگل کر سکتا تھا۔۔۔۔اور احان واقعی اسکی محبت میں پاگل ہو چکا تھا۔
مسٹر احان۔۔۔۔۔۔۔۔ گلابی لبوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔
وہ اسکا نام لیتی شرماتی ہوئی روم سے باہر نکلی ۔
بہت پیاری لگ رہی ہیں جانم۔۔۔۔۔۔بہت کیوٹ ہیں آپ!
اتنی پیاری کیوں ہیں آخر! Mr.psycho novel by barbie boo
اسے دیکھ کر احان کو بے حد پیار آرہا تھا۔۔۔۔۔وہ تھی بھی ایسی کہ اسے چاہا جائے۔۔۔۔اور بے حد چاہا جائے۔۔۔۔
وہ اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتے معصوم سی شکل بناتے ہوئے بولی تھی۔
جی جی جانم۔۔۔۔۔آئیں بیٹھیں۔۔۔۔ وہ نرمی سے اسکا بازو تھامے اسے چیئر پہ بٹھاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔اور خود بھی اسکے برابر پڑی چئیر پہ بیٹھ کر محبت بھری نظروں سے اسے دیکھنا لگا۔
مسٹر احان! کیا دیکھ رہے ہیں؟ ناشتہ کریں نا!
اسکی نظروں کا حصار خود پہ محسوس کرتے وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
آپکو دیکھ رہا ہوں جانم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ پیاری لگتی ہیں آپ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔آج کچھ زیادہ ہی حسین لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔نظریں ہٹ ہی نہیں رہی آپ سے۔۔۔۔۔دل چاہ رہا ہے بس آپکو دیکھتا رہوں۔
اس کے ایک ایک لفظ سے محبت چھلک رہی تھی۔
ہاں مجھے پتہ ہے کہ میں بہت کیوٹ ہوں۔
وہ جوس کا سپ لیتے چہک کر بولی۔
جانم۔۔۔۔۔ایک بات کہنی تھی آپ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احان نے اسکے گال کو چھوتی بالوں کی ایک لٹ کو اسکے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
جی بولیں مسٹر احان۔۔۔۔۔۔ وہ بریڈ کا ایک بائٹ لیتے مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
جانم۔۔۔۔۔۔آپ مجھے کب تک مسٹر احان کہہ کر بلائیں گی۔ میرا مطلب کہ۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا اور اسکی طرف دیکھنے لگا۔
آپکو اچھا نہیں لگتا کیا میں آپ کو مسٹر احان کہہ کر بلاتی ہوں تو؟
وہ اداس ہوتے ہوئے بولی۔
ایسی بات نہیں ہے جانم۔۔۔۔۔مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔میرا مطلب تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔
چلیں رہنے دیں۔۔۔۔آپ ناشتہ کریں۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اسے کیسے بتائے کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔
بتائیں نا! آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں کیا کہہ کر پکاروں آپکو؟ جو آپکو پسند ہو۔۔۔۔۔۔وہ نام بتائیں مجھے۔۔۔۔۔
جیسے مائی لو۔۔۔۔۔مائی ہارٹ۔۔۔۔بائی۔۔۔۔بو۔۔۔۔۔بے بی۔۔۔۔۔لائف۔۔۔مائی سن شائن۔ سٹار۔۔۔۔مون۔۔۔وغیرہ۔۔۔۔ کیا آپکو یہ سب پسند ہے مسٹر احان؟
وہ اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔بہت لاڈ سے حق جتاتے ہوئےپوچھنے لگی۔
نہیں یہ سب نہیں۔۔۔۔۔۔۔جیسے جان۔۔۔۔۔۔۔یا پھر جاناں۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ؟ مجھے یہ پسند ہے۔ مجھے بہت اچھا لگے گا جب میری جانم مجھے جان یا جاناں کہہ کر بلائے گی تو۔
وہ اسکے ہاتھوں کو اپنے مضبوظ ہاتھوں میں تھامے اپنے لبوں کے قریب لاتے بوسہ دیتے ہوئے بے حد محبت سے بول رہا تھا۔

Mr.psycho novel by barbie boo
Episode 13

حکایات لب و رخسار سے آگے نہیں جاتی
تمنا کیا جو تیرے پیار سے آگے نہیں جاتی
کئی طوفان اس منجدھار سے آگے بھی ہیں لیکن
نگاہ نا خدا منجدھار سے آگے نہیں جاتی
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں تیرے سامنے جا کر
تمنا کیوں لب اظہار سے آگے نہیں جاتی
نگاہ و دل کی وسعت میں ہمیں ترمیم کرنی ہے
نظر کیا ہے جو حسن یار سے آگے نہیں جاتی
عجب اہل محبت ہیں کبھی تیری محبت ہیں
بڑھی گر بات بھی تو دار سے آگے نہیں جاتی
تو آپ چاہتے ہیں کہ میں آپکو جان کہہ کر پکاروں؟ ہونہہ؟
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ Mr.psycho novel by barbie boo
ہاں! ایسا ہی چاہتا ہوں میں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے جانم؟
وہ اسکے ہاتھ کو اپنے گال پہ سہلاتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کررہا تھا۔
ہاں ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔۔بلکہ یہ تو بہت کیوٹ لگے لگا۔۔۔۔۔مسٹر احان۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔کتنا پیارا لگ رہا ہے نا۔۔۔۔۔
وہ محبت سے اسے پکارتے ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
بہت پیارا۔۔۔۔اور پے حد خوبصورت۔۔۔۔۔دل کو سکون مل گیا آپکے منہ سے یہ لفظ سن کر۔
وہ محبت سے سرشار لہجے میں کہتا اسکے گال چومتے ہوئے بولا تھا۔
واقعی؟ کیا اتنا اچھا لگا آپکو؟ تو آپ نے پہلے کبھی کیوں نہیں کہا ایسا؟ آپ مجھے پہلے بتا دیتے تو میں آپکو جان یا پھر جاناں کہہ کر ہی پکارتی۔۔۔۔۔آپکو سن کر اچھا لگ رہا تھا تو مجھے بھی بہت اچھا لگا۔۔۔۔۔
وہ اسکی ناک کو اپنی چھوٹی سی انگلی سے چھوتے ہوئے بولنے لگی۔
مجھے لگا کہیں آپ برا نہ مان جائیں اسلیے۔۔۔۔۔ آئی مین۔۔۔۔۔کہیں ایسا نہ لگے آپکو کہ میں اتنا بڑا ہوں آپ سے اتنا میچور ہوں اور پھر بھی ایسی فرمائشیں کر رہا ہوں۔۔۔۔تو بس اسی وجہ سے۔۔۔۔۔۔
وہ پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟ آپکا مطلب ہے کہ آپ میچور ہو اور میں نہیں ہوں؟ مطلب آپ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں؟
وہ رونی شکل بناتے بولی۔ Mr.psycho novel by barbie boo
ارے نہیں۔۔۔۔نہیں جانم۔۔۔۔۔بالکل بھی نہیں میری ہنی۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں کہا میں نے۔۔۔۔۔۔۔میں تو اپنی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ اسکو منہ بسورتے دیکھ وہ گھبرایا تھا کہ کہیں رونا ہی شروع نہ کردے وہ۔
مطلب میں سمجھ دار ہوں؟ ہے نا؟ وہ اگلے ہی پل لاڈ کرنے لگی۔۔۔۔ وہ موڈی تھی۔۔۔پل پل اسکا موڈ بدلتا رہتا تھا۔۔۔۔۔کب کس بات کو لیکر رونا شروع کردے اور کس بات پہ خوش ہو جائے کچھ پتہ نہیں لگتا تھا۔۔۔۔اسی لیے اب احان بولنے وقت احتیاط کرتا تھا کہ اسکا موڈ خراب نہ ہوجائے کسی بات پہ۔
جی میری ہنی بنی بہت سمجھ دار ہے۔۔۔۔بہت پیاری ہے۔۔۔ٹو مچ کیوٹ اور میری لاڈلی ہے۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے نا جانم!
وہ اسکا بازو نرمی سے پکڑتے اسے اپنی طرف کھینچتے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے۔۔۔۔اپنی بانہیں اسکے گرد حائل کرتے۔۔۔۔اسکے کندھے پہ اپنی تھوڑی رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
آپ بھی کافی ہینڈسم ہیں جاناں!
اپنے پیٹ پہ موجود اسکے مضبوط ہاتھوں پہ وہ اپنے چھوٹے نازک سے ہاتھ رکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
یہ آپکے چھوٹے سے ملائم ہاتھ مجھے بہت پسند ہیں جانم۔۔۔۔بہت پیارے ہیں۔۔۔۔۔اور بہت نازک بھی۔
وہ اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ۔۔۔۔ہلکے سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
ہاں ابھی کچھ چھوٹی ہوں نا آپ سے ۔۔۔۔اسلیے میرے ہاتھ بھی چھوٹے ہیں۔۔۔۔میری ہائٹ بھی کم ہے آپ سے۔۔۔۔ویسے آپ مجھ سے کچھ سال ہی بڑے لگتے ہیں۔۔۔۔۔بہت فٹ ہیں نا آپ اسلیے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی جب بڑی ہوجاؤں گی تو بہت فٹ رہوں گی آپکی طرح تاکہ میں بھی بہت ینگ لگوں۔۔۔آپ اپنی ڈائٹ مجھے بتا دینا میں نوٹ کرلوں گی انکے جاناں!
وہ اپنی دھن میں بولتی رہی۔ اور وہ چپ چاپ اسکی باتیں سنتا مسکراتا رہا۔
آپ سے ایک بات پوچھوں؟ وہ اپنی گردن اسکی طرف گھماتی اپنے ہاتھوں کو اسکی گردن کے پیچھے کرتی بولی۔
جی پوچھیں۔ وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہنے لگا۔
کیا آپکی کوئی گرل فرینڈ تھی؟ مجھ سے پہلے؟ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟ کیا آپکو کوئی لڑکی پسند نہیں آئی کیا؟
وہ ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ بیٹھی۔
میری جانم۔۔۔۔۔۔میرے لیے اب سب کچھ آپ ہیں۔۔۔۔۔میرا پاسٹ جو بھی تھا وہ اب گزر گیا۔۔۔۔میں بس اپنے پریزنٹ اور فیوچر کی پرواہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔اور وہ آپ ہیں۔۔۔۔میرے لیے آپ کیا معنی رکھتی ہیں یہ میں بیان نہیں کر سکتا آپکو۔۔۔۔۔بس اتنا جان لیں کہ یہ جو احان عباس کا دل دھڑک رہا ہے اور سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔یہ تب تک ہے جب تک آپ میرے سا تھ ہیں اگر آپ دور ہوئیں نا تو میرا یہ دل دھڑکنا بند ہو جائے گا اور یہ سانسیں بھی رک جائیں گی جانم۔۔۔۔۔۔۔آپکے بغیر اب جینے کا تصور بھی ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔میں جینا چاہتا ہوں آپکے ساتھ۔۔۔۔اپنی باقی کی ساری زندگی میں آپکے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔صرف آپکے ساتھ۔
وہ آئلہ کو اپنے سینے میں چھپاتے اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے ۔۔۔۔اسکی گردن میں منہ چھپاتے ہوئے دھیمی سی آواز میں اسے اپنے دل کی باتیں بتا رہا تھا۔
آپ نے آفس نہیں جانا کیا؟
وہ اسکے کندھے پہ اپنا سر ٹکاتے ہوئے بولی۔
جی جانم۔۔۔۔۔۔بس نکلتا ہوں ابھی! اپنا بہت سارا خیال رکھیے گا۔۔۔۔۔لو یو!
وہ اسکے لبوں پہ اپنا لمس چھوڑتے۔۔۔نرمی سے اسے الگ کرتے ۔۔۔۔آفس کے لیے چلا گیا۔
لو یو مور مسٹر احان ، میری جان!
وہ اسکا لمس محسوس کرتے سرگوشی کے انداذ میں کہتی شرمانے لگی۔
Mr.psycho novel by barbie boo
____________********__________
لینا کہاں ہے؟ میں نے پوچھا کہاں ہے وہ؟
تمہیں کہا تھا نا کہ نظر رکھنا اس پہ۔۔۔تو پھر کہاں غائب ہوگئی وہ۔
وہ غصے سے چیخا تھا۔
جواب دو۔۔۔۔۔کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔۔ وہ گلاس کو دیوار پہ مارتے ہوئے بولا۔
وہ۔۔۔وہ رمیز۔۔۔۔رمیز سر اسے لے گئے تھے آپکے جانے کے کچھ دیر بعد۔۔۔۔ ملازم نے ڈرتے ڈرتے بتایا۔
کیا؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ رمیز؟ رمیز لیکر گیا ہے؟
کیا بکواس کررہے ہو یہ؟
ج۔۔جی۔۔۔۔میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔ وہ سہم کر بولا۔
جاؤ یہاں سے۔ . احان نے خود پہ قابو پاتے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
رمیز۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔آخر کیوں؟ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم؟ تم نے یہ اچھا نہیں کیا رمیز۔۔۔۔بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔تمہیں معاف نہیں کرونگا میں۔۔۔۔۔۔
اسکا خون کھول رہا تھا۔۔۔۔۔۔اسے یقین نہیں ہورہا تھا کہ رمیز ایسا کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ کیسے لینا کو لے گیا۔۔۔۔وہ اسکی دشمن ہے یہ جانتے ہوئے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی خیال اسکا غصہ بڑھا رہا تھا۔

Mr.psycho novel by barbie boo
________****________
کہاں رہ گئے تھے تم؟ کب سے ویٹ کررہی تھی تمہارا۔
وہ عادی کو آتا دیکھ کر دوڑتے ہوئے اسکے گلے سے جا لگی۔
سوری تھوڑا سا لیٹ ہوگیا۔ وہ ہر بار کی طرح اسے خود سے دور کرنے کی بجائے اس بار اسے قریب کرتے محبت سے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
اچھا اب آؤ اور جلدی سے بتاؤ کہ کیا بنا؟
وہ اسے بازو سے پکڑتے ایک سائیڈ پہ لیکر جاتے ہوئے کہنے لگی۔
بتاتا ہوں۔۔۔۔۔بہت جلدی ہورہی ہے تمہیں سننے کی۔۔۔۔۔
وہ دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے شرارت سے بولا۔
ہاں بہت جلدی ہے اب بتاؤ بھی۔۔۔۔۔۔
وہ عادی کے لبوں پہ انگوٹھا پھیرتے ہوئے معنی خیز نظروں سے دیکھتے کہنے لگی۔
عادی نے اسے بازو سے پکڑتے دیوار سے لگایا۔۔۔۔اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کرتے ہوئے اسکے چہرے پہ جھکا۔۔
کیا کررہے ہو عادی؟ کوئی آجائے گا۔۔۔۔۔ وہ اچانک اسکی اس حرکت پہ گھبرائی تھی۔
تم تو ٹیشا ہونا۔۔۔۔۔۔جو کسی سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔جو محبت کا اظہار بہت دلیری سے کرتی تھی۔۔۔۔۔تو پھر آج کیا ہوا۔۔۔۔گھبرا کیوں رہی ہو؟
وہ اسکے نرم گال پہ اپنے لب رگڑتا اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے
مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے
وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے
اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں
میری ہر سانس ترے نام لکھی ہو جیسے
عادی ابھی کالج کا ٹائم ہے کسی نے دیکھ لیا تو پرابلم ہوجائے گی۔۔۔پلیز ہٹو۔۔۔۔ وہ اپنی تیز ہوتی سانسوں کو ترتیب دیتے بمشکل بول پائی تھی۔
لیکن وہ اسکی بات سن ہی کب رہا تھا۔۔۔۔پہلی بار وہ ایسے مدہوش ہورہا تھا۔۔۔۔ٹیشا کے جسم سے آتی بھینی بھینی خوشبو جو اسے اسکے قریب کھینچ رہی تھی اور وہ بہک رہا تھا۔ وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ اس وقت کالج میں تھے۔۔۔۔۔
عادی پلیز دور ہٹو۔۔۔۔۔ کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔۔ابھی میم کالج کا راؤنڈ لگانے آئیں گی۔۔۔۔اگر ہمیں اسطرح یہاں دیکھ لیا تو بہت بڑی پرابلم ہو جائے گی۔۔۔۔
وہ اسکے مضبوط جسم کو خود سے دور کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔کہ عادی اپنی گرفت کو اور مضبوط کرتے ہوئے اس پہ جھکتے اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے گیا۔ ایک پل کو وہ سہمی تھی۔۔۔۔اور اگلے ہی پل مدہوش ہونے لگی۔۔۔۔۔ ان دونوں کی مدہوشی کا نشہ تب ٹوٹا جب غصے اور
سختی سے بھری ایک زور دار آواز انکے کانوں میں پڑی۔

Mr.psycho novel by barbie boo
_________*********________
ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا
تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا
جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا
تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا
یہ طاق یہ چراغ مرے کام کے نہیں
آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا
شل انگلیوں سے تھام رکھا ہے چٹان کو
چھوٹا جو ہاتھ سے یہ کنارا تو میں گیا
اپنی انا کی آہنی زنجیر توڑ کر
دشمن نے بھی مدد کو پکارا تو میں گیا
تیری شکست اصل میں میری شکست ہے
تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا
رمیز ہوش میں آؤ۔۔۔۔۔۔کیا ہوگیا ہے تمہیں؟
وہ لڑکی کافی دیر سے اسے جگانے کی کوشش کررہی تھی پر رمیز نے کچھ زیادہ ہی ڈرنک کرلی تھی اسی لیے نشے میں دھت بے ہوش پڑا تھا۔
لگتا ہے یہ صبح تک ہوش میں نہیں آنے والا۔
وہ رمیز کے چہرے پہ اپنا خوبصورت سا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔
تمہیں کس بات کا غم ہے بھلا۔۔۔۔دولت۔۔۔شہرت۔۔۔عزت۔۔۔اور یہ تمہارا مضبوط وجود۔۔۔۔۔۔ سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔۔۔۔۔پتہ نہیں پھر کس دکھ سینے سے لگا بیٹھے ہو۔
وہ اسکے سینے پہ اپنا سر رکھتے آنکھیں بند کر گئی۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.