couple, lovers, hug-6602046.jpg

written by barbie boo



قسط______21+20 (لانگ ایپی سپیشل)
اگر محبت احساس ہے 
تو وہ احساس تم ہو
اگر محبت جذبات ہے
تو وہ جذبات تم ہو 
اگر محبت پھول ہے
تو وہ پھول تم ہو
اگر محبت خوشبو ہے 
تو وہ خوشبو تم ہو 
اگر محبت شاعری ہے 
تو وہ شاعری تم ہو 
اگر محبت گیت ہے 
تو وہ گیت تم ہو 
اگر محبت ساز ہے 
تو وہ ساز تم ہو 
اگر محبت آواز ہے 
تو وہ آواز تم ہو 
اگر محبت راز ہے 
تو وہ راز تم ہو 
اگر محبت سکون ہے
تو وہ سکون تم ہو
اگر محبت جنون ہے
تو وہ جنون تم ہو 
عادی نے ٹیشا کے قریب آتے اسکے کان میں دھیمی سی آواز میں کہا تھا۔ اور اسکے چہرے پہ محبت بھری نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی عادی کی انگلیوں کی گستاخیاں محسوس کرتے شرمائی تھی۔
عادی کی انگلیاں سرکتے سرکتے اسکے چہرے سے ہوتی اسکی خوبصورت زندگی سے بھرپور آنکھوں پر ٹھہر چکی تھیں۔۔۔۔
“یہ آنکھیں جن پر میں پہلے دن ہی اپنا دل وار بیٹھا تھا۔ جنہیں دیکھ میں ایک دن بھی انکو یاد کیے بغیر سو نہ پایا۔ مجھے زندگی کا احساس دلاتی ہیں تمہاری یہ خوبصورت آنکھیں۔ ان میں اپنا عکس دیکھنے کی کتنی چاہ تھی مجھے۔ پر ڈر بھی لگتا تھا کہ کہیں تمہیں کھو نہ دوں میں۔
عادی نے کھوئے لہجے میں کہا تو ٹیشا نے دونوں ہاتھوں سے اسکے ہاتھ تھام لیے۔۔۔۔
“مگر اب تم پر اور تمہارے وجود پر میرا پورا حق ہے ۔ تمہاری قربت کے احساس میں، میں بن پیے بہک رہا ہوں۔۔”
اسنے محبت اور جزبات سے لبریز لہجے میں کہتے اسکی دونوں آنکھوں پر باری باری اپنے لب رکھے اور کئی دیر وہیں رکا رہا ۔۔۔۔
ٹیشا کانپ سی گئی تھی اسکی اتنی قربت پر کہاں دیکھا تھا اسکا یہ روپ..۔۔۔وہ تو اسے ڈرپوک سا لڑکا سمجھتی تھی۔۔۔۔۔اسکا یہ انداز دیکھ کے اسکی دھڑکنیں بڑھی تھیں۔
عادی نے اسکی آنکھوں سے لب ہٹائے تو نظر اسکے بالوں کی لٹوں کی طرف گئی۔۔۔
“مجھے آج یہ میری رقیب معلوم ہو رہی ہے جو بڑے استحاق سے تمہارے لبوں کو چھو رہی ہے جنکی نرماہٹ کو جذب کرنے کا حق صرف میرا ہے”۔۔۔۔
عادی نے ٹیشا کے سرخ رنگ سے سجے لبوں کو انگوٹھے سے سہلاتے کہا۔۔۔۔
اس سے پہلے کے ٹیشا اسکی اتنی بے باکی پر سمبھلتی وہ پوری شدت سے اسکے سرخ لبوں پر جھکا تھا اور ان پر اپنی نئی داستان رقم کرنے لگا تھا۔۔۔۔
ٹیشا کی ساری جان اسکے لبوں میں آ ٹکی تھی۔۔۔اسنے کس کے عادی کے کرتے کو جکڑا۔۔۔۔اگر عادی نے اسے کمر سے نہ تھام رکھا ہوتا تو وہ یقیناً زمین بوس ہوئی ہوتی۔۔۔۔
mr psycho part 20 & 21کتنے لمحے بیت گئے دونوں ہی اس بات سے انجان تھے کیونکہ دونوں ہی مکمل طور پر ایک دوسرے میں کھو چکے تھے دنیا جہاں کی خبر بھلائے جنہیں صرف ایک دوسرے سے غرض تھا۔۔۔
اب اور سانس لینا ٹیشا کے لیے مشکل ہورہا تھا۔ عادی اسکا خیال کرتا آہستہ سے پیچھے ہٹا تو دونوں بھیگے لبوں سے گہرے سانس بھرتے ایک دوسرے سے سر ٹکا گئے۔۔۔۔
ٹیشا اسکی قربت کے رنگ میں رنگتےایسے سرخ ہوئی تھی . ۔۔جیسے کسی نے سرخ رنگ پھینک دیا ہو۔۔۔
“کتنی چاہ تھی مجھے تمہیں اپنے رنگ میں رنگنے کی لیکن پہلے یہ حق حاصل نہیں تھا جو اب محرم بن کر ملا اور دیکھو آج تمہارے چہرے پر میری قربت کے رنگ کتنے حسین لگ رہیں ہیں۔۔ اسی لیے میں دور رہتا تھا تم سے۔۔۔۔۔دیکھا اب ایک ہوگئے نا ہم۔۔۔۔ہمیشہ کے لیے”
ہاں۔۔۔۔۔ وہ دھیرے سے بولی تھی۔
اور پلٹ کر جانے لگی جب عادی نے اسکا ہاتھ کھینچا جسکے کے باعث اسکی کمر جھٹکے سے عادی کے سینے سے ٹکرائی جس پر دونوں کے دل بےساختہ دھڑک اٹھے۔۔۔۔
بڑا میٹھا سا احساس تھا ایک دوسرے کی تیزی سے دھڑکتی ہوئی دھڑکنوں کو سننا جو آپ کے محبوب کے ہی نام کا راگ الاپ رہی ہوں۔۔۔۔
“کدھر چلی”
عادی نے ٹیشا کے جوڑے کو آہستہ سے کھولتے کہا جسکے باعث اسکے لمبے بال کسی آبشار کی طرح کمر پر بکھر گئے ۔۔۔
عادی نے اسکے بالوں میں منہ گھساتے ایک گہرا سانس کھنچا اور انکی خوشبو کو اندر اتارا۔۔۔
ٹیشا کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔۔۔۔
عادی نے آہستہ سے اسکی گردن سے بال ہٹاتے اسکی گردن پر اپنے سلگتے لب رکھے۔۔۔۔جس پر ٹیشا جی جان سے کانپ گئی۔۔۔
اسکے لب گردش کرتے ٹیشا کے نیم عریاں کندھے تک آ پہنچے تھے۔۔۔۔
ٹیشا نے کس کر مٹھیاں بھینچیں۔۔۔۔
عادی تو اس پیاسے کی طرح خود کو سیراب کر رہا تھا جیسے آج ہی صحرا سے لوٹ کر پیاس بجھا رہا ہو جو مٹ ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
وہ لوگ ایسے ہی ایک دوسرے میں کھوئے رہتے اور عادی اسکی جان پر بنائی رکھتا اگر دروازہ نہ نوک ہوتا تو۔۔
عادی بابا آپکو بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔mr psycho part 20 & 21
ملازم نے اسے باہر کھڑے اطلاع دی تھی۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔۔۔آرہا ہوں میں۔
عادی جواب دیتے پھر سے ٹیشا کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
جاؤ نا۔۔۔۔۔تمہارے ڈیڈ بلا رہے ہیں۔
وہ اسکے حصار سے نکلتے ہوئے بولی تھی۔
جارہا ہوں۔۔۔۔۔بہانے بنا رہی ہو مجھ سے جان چھڑانے کے۔۔۔۔
میڈم صاحبہ۔۔۔۔۔پہلے تو میرے لیے دیوانی تھی اب تو کوئی لفٹ ہی نہیں کرواتی ہمیں۔۔۔۔تمہاری محبت بھری باتیں سن کے تو مجھے لگتا تھا کہ شادی کے بعد رومانس ہی رومانس ہوگا پر یہاں تو کچھ اور معاملہ ہے۔۔۔۔۔
عادی نے اسکا بازو پکڑتے شرارت سے کہا تھا۔ جس پہ وہ شرماتی اپنا بازو چھڑواتی واش روم کی طرف بھاگی تھی۔۔۔ عادی نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔۔۔ٹیشا کو شرماتے دیکھ اسے ہنسی آرہی تھی۔۔۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے روم سے نکلا اور اپنے ڈیڈ کے روم کی طرف بڑھا جو وہاں بیٹھے اسکا ویٹ کر رہے تھے۔
*********
پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔ وہ مسلسل روتی ہوئی اپنے ہاتھ اسکے سینے پہ مارتے اسکے مضبوط حصار سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔پر رمیز کو اسکی مزاحمت سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ اسکی مدہوشی تب ٹوٹی جب اسکا فون بجا۔۔۔۔۔ رمیز کے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔۔۔۔
موبائل سکرین کی طرف دیکھا تو احان کی کال تھی۔۔۔۔ اس نے کال کٹ کردی۔۔۔۔ اور آئلہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
بس چپ ہوجاؤ۔۔۔۔۔ کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔دیکھو تو تمہارا چھوٹا سا ناک کتنا سرخ ہورہا ہے۔۔۔۔۔ اچھے بچے روتے نہیں ہیں۔۔۔۔
وہ اپنی بھاری آواز میں بہت نرمی سے کہہ رہا تھا ۔۔
یہ سکرٹ صرف ہمارے بیچ ہی رہنا چاہیے اوکے۔۔۔
وہ اسکے گال پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا۔ تو آئلہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔ رمیز کے چہرے پہ جیت کی مسکراہٹ ابھری تھی۔
گڈ گرل!mr psycho part 20 & 21
اوکے اب میں جارہا ہوں۔۔۔۔میری بات یاد رکھنا۔۔۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا سمجھی۔۔۔
وہ سائیڈ ٹیبل سے فائل اٹھاتے۔۔۔۔سختی سے کہتے روم سے باہر نکلا تھا۔
اسکے جاتے ہی آئلہ نے بھاگ کے ڈور لاک کیا تھا۔ وہ ابھی تک کانپ رہی تھی۔ اور روئے جارہی تھی۔
*********
کہاں رہ گئے تھے؟ اتنی دیر لگا دی تم نے!
رمیز کو دیکھ کے احان نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا تھا۔
ٹریفک میں پھس گیا تھا یار۔۔۔۔۔۔
رمیز چیئر پہ بیٹھتے بولا تھا۔ احان فائل لے کے چیک کرنے لگا۔
**********
جب احان گھر لوٹا تو آئلہ کے روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔ ڈور لاک دیکھ کے کچھ حیران ہوا تھا۔۔۔۔ پہلے تو کبھی لاک نہیں ہوتا تھا۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے ڈور نوک کرنے لگا۔۔۔ تو آئلہ نے ڈور اوپن کیا۔۔۔۔احان انٹر ہوتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
کیا ہوا جانم؟ ڈور لاک کیوں تھا؟
آئلہ کے چہرے کا اڑا رنگ دیکھ کر احان کو کچھ عجیب سا لگا تھا۔۔۔۔پتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ پوچھ بیٹھا۔
ایسے ہی مجھے ڈر لگ رہا تھا۔
وہ اسکے سینے میں چھپتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ پہلی بار احان کو آئلہ کی گرفت میں سختی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔اسے فکر ہوئی۔۔۔۔۔۔!
جانم! کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ آپکے گھر سے کوئی کال تو نہیں آئی تھی؟
وہ اسے خود میں چھپاتے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
نہیں۔۔۔۔مجھے بس ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ بے بسی سے بولی تھی۔۔۔۔ابھی تک اسکے ذہن میں رمیز کی باتیں گونج رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ادھر دیکھیں میری طرف۔۔۔۔۔میں آگیا ہوں نا۔۔۔اب جانم کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
وہ اسکے چہرے کو اپنی طرف کرتے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ آئلہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آجائیں کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ اسے لیے روم سے نکلتے ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہوئے بار بار اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا احان۔۔۔۔ وہ آج چپ تھی۔۔۔۔بالکل چپ۔۔۔۔۔ احان کو بے چینی ہورہی تھی پر وہ کچھ بتا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
اسے کھانا کھلانے کے بعد روم میں لاتے بیڈ پہ لٹایا ۔۔کمفرٹر ڈالا۔۔۔۔۔۔جانے لگا تو آئلہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔
مت جائیں۔۔۔۔ میرے پاس رہیں مسٹر احان!
وہ دھیمی سی آواز میں بولی اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
اوکے جانم۔۔۔۔۔ پریشان نہ ہوں آپ۔۔۔۔کہیں نہیں جارہا میں۔۔۔۔یہی ہوں اپنی ہنی بنی کے پاس ہی۔۔۔۔۔ڈریں نہیں آپ۔
وہ اسکے پاس لیٹتے اسکا نازک سا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتے اپنے سینے پہ رکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔
آئلہ کروٹ بدلتے اسکے گرد بازو حائل کرتے اسکے سینے میں سمٹی تھی۔
احان نے چپ چاپ اسے اپنے حصار میں لیا اور آنکھیں بند کرتے سو گیا۔۔۔۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کیا ہوا تھا؟ اور کیا ہونے والا تھا۔۔
اگلے کچھ دن پرسکون گزرے تھے۔۔۔۔احان نے آئلہ کا ایڈمیشن سکول میں کروادیا تھا۔۔۔۔اور وہ سکول میں بزی ہوگئی تو رمیز کی باتیں بھی اسکے ذہن سے نکل گئی تھی کیونکہ اس دن کے بعد دوبارہ رمیز اسے نظر نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
احان اپنے کاموں میں بزی ہوگیا۔۔۔۔ زندگی پھر سے نارمل ہونے لگی تھی۔۔۔۔
آئلہ سکول سے واپس آتی۔۔۔۔گیمز کھیلنا۔۔۔۔ٹیسٹ تیار کرنا۔۔۔۔اور احان کا ویٹ کرنا۔۔۔۔اسکے آتے ہی اسکی قربت میں رہنا۔۔۔۔۔اسے بے حد خوشی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔زندگی مکمل سی لگنے لگی تھی۔
سکول میں آئلہ کی ایک لڑکی سے دوستی بھی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔پہلی بار دوست بنا کے اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
اسی کلاس میں ایک بھوری آنکھوں والا ، دبلا پتلا انیس سال کا ایک لڑکا بھی پڑھتا تھا جو آج کل آئلہ میں انٹرسٹ لے رہا تھا جبکہ آئلہ اس بات سے بے خبر اپنی مستی میں مگن رہتی تھی۔ کلاس میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ آئلہ اور احان کا کیا رشتہ تھا۔
**********mr psycho part 20 & 21
بات سنیں؟
وہ سکول کے باہر کھڑی احان کے آنے کا ویٹ کررہی تھی کہ کسی لڑکے کی آواز سن کے وہ چونکی تھی۔۔۔۔۔احان بزی ہونے کے باوجود بھی خود ہی آئلہ کو پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا۔
جی؟ وہ بولی۔
میں مائیک۔۔۔۔آپکا کلاس فیلو۔۔۔۔ شاید جانتی ہوں آپ؟
وہ لڑکا اسکے قریب آتے اسکے برابر کھڑے ہوتے بول رہا تھا۔
ہاں میں جانتی ہوں۔۔۔۔وہی مائیک نا جس پہ پورے سکول کی لڑکیاں فدا ہیں۔
آئلہ نے اسکی طرف دیکھتے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس پڑا تھا۔
اچھا تو اسطرح جانتی ہیں آپ مجھے۔۔۔ وہ شوخ لہجے میں بولتے اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔
آئلہ اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ایک پل کو جیسے کھوئی تھی۔۔۔۔ اور وہ آئلہ کی بڑی بڑی کالی آنکھوں میں دیکھتے کھونے لگا تھا۔
کچھ کہنا تھا کیا تم نے؟ آئلہ نظریں چراتے بولنے لگی۔۔۔
ہاں وہ میں۔۔۔۔ میں کہنے آیا تھا کہ اگر ہوم ورک وغیرہ میں کوئی ہیلپ چاہئیے ہو تو مجھے بتانا میں ہیلپ کر دوں گا۔۔۔۔
وہ اپنی بالوں میں انگلیاں پھیرتے کہنے لگا۔۔۔۔
اوکے۔۔۔تھینک یو۔۔۔ میں ضرور بتاؤں گی۔۔۔
آئلہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔
اوکے۔۔۔۔ٹیک کیئر! کل ملتے ہیں پھر۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ آئلہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
اوکے بائے!
آئلہ نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھتے کہا تھا۔۔۔۔
وہ چلا گیا تو آئلہ نے احان کو ڈھونڈنے کے لیے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو اسے سامنے کھڑے دیکھ کے اسکی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
گڈ آفٹر نون مسٹر احان!mr psycho part 20 & 21
وہ اچھلتے ہوئے اسکی طرف آتے چہک کر بولی تھی۔۔۔
آفٹر نون۔۔۔۔ کہتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔۔آئلہ بھی گاڑی میں بیٹھتے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ وہ کچھ سنجیدہ سا لگ رہا تھا۔
پورے راستے وہ خاموش رہا تھا۔۔اسے چپ دیکھ کے آئلہ بھی کچھ نہ بولی تھی اور اپنے فون میں لگی اپنی دوست کو میسج کرنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔۔
احان کا خون کھول رہا تھا۔۔۔۔اس نے اس لڑکے کو آئلہ کے ساتھ کھڑے ہنس کے باتیں کرتے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ جا کے اسکی جان لے لیتا۔۔۔۔پر وہ خود پہ قابو پائے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ اسے لگا تھا کہ آئلہ خود بتائے گی اس لڑکے کے بارے میں اسی لیے احان نے خود سے نہیں پوچھا تھا۔۔۔۔ پر آئلہ نے تو کوئی بات ہی نہیں کی اس لڑکے کی۔۔۔۔
وہ بار بار آئلہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو مسکراتی ہوئی اپنی دوست سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
احان سختی سے دانت بھینچے اپنے غصے کو کنٹرول کررہا تھا۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کے اس نے گاڑی روکی تو آئلہ اپنا سکول بیگ اٹھاتی گاڑی سے اتری۔۔۔
اوکے بائے مسٹر احان! . وہ مسکراتے ہوئے بولی اور گھر میں داخل ہوگئی۔۔۔ پیچھے احان نے غصے سے اپنے بال نوچے تھے۔۔۔۔۔
اسے بے حد جلن ہورہی تھی۔۔۔۔بار بار اس لڑکے کی شکل یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔ ایک کم عمر، ہینڈسم، جوان لڑکا!
وہ جس طرح آئلہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ آئلہ کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اگر آئلہ بھی اسے پسند کرنے لگ گئی تو؟ . یہی خیال اسکی جان لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
گاڑی کو تیز رفتار میں بھگاتے وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔۔
**********
ٹیشا عادی کے گھر میں کافی خوش تھی۔۔۔۔ عادی کے ڈیڈ اپنے بیٹے کو خوش دیکھ کے خاموش ہو گئے تھے۔۔۔۔۔وہ عادی کو دکھی نہیں کرنا چاہتے تھے ٹیشا سے دور کرکے۔۔۔mr psycho part 20 & 21
اتنے دنوں میں وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ عادی کی خوشی ٹیشا میں ہے اگر اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی تو شاید وہ اپنے بیٹے کو کھو دیتے۔۔۔۔۔
اسی وجہ سے اپنے بڑے بھائی کو بتا دیا کہ”
میں عادی کی ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا۔۔۔۔ آپ کوئی لڑکا دیکھ کے عینی کی شادی کروا دیں اس سے”
یہ بات سن کے وہ آگ بگوگہ ہوگئے تھے اور خلیل امیر سے ہمیشہ کے لیے تعلق ختم کردیا۔۔۔۔۔۔۔
خلیل امیر کو دکھ تو ہوا تھا۔۔۔۔ پر اس بار وہ اپنے بیٹے کی خوشی کے سامنے ہار گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
****************
رمیز کام کے سلسلے میں دبئی گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔ہر دن وہ بے چینی سے گزار رہا تھا۔۔۔۔۔ دن میں نجانے کتنی بار وہ آئلہ کی ان تصویروں کو گھنٹوں تک پاگلوں کی طرح تکتا رہتا تھا جو اس نے ٹیشا کی شادی میں چپکے سے بنائی تھیں۔۔۔۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کے آئلہ کے پاس پہنچ جائے۔۔۔۔۔۔۔
اس بار میں کوئی رعایت نہیں کرونگا میری جانم! اس دن تو تمہیں چھوڑ دیا تھا پر اس بار جب ملو گی نا تو جانے نہیں دونگا۔۔۔۔ میں سوچ رہا تھا کیوں نا تمہیں اپنے نکاح میں لے کے ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لوں۔۔۔۔۔۔ کتنی پیاری ہو تم۔۔۔۔۔تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے تم کیا ہو؟ نجانے کتنے دل تمہیں دیکھ کے تڑپتے ہونگے۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارا نازک دودھ جیسا سفید بدن۔۔۔۔۔۔۔اسے چھونے کے لیے بہت بے چین ہورہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی تصویر سے باتیں کرتے۔۔۔۔۔تصویر میں نظر آتے اسکے عریاں کندھوں پہ سکرین پہ سے لب رکھے کہہ رہا تھا۔۔۔
وہ مدہوش سا ہورہا تھا کہ اسکا فون بجا۔۔۔ سکرین پہ کیارا کا نمبر دیکھ کے اسکے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔۔۔۔۔۔
کیارا روز روز اسے فون کرتی۔۔۔۔کئی میسجز کرتی۔۔۔۔۔۔اور وہ اس سے باتیں کرتا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ اس بار وہ کیارا کو اپنے لیے تڑپانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ اسی لیے پھر سے اسے اپنا عادی بنارہا تھا۔۔۔۔
جبکہ کیارا اس بات سے بے خبر اس کی محبت میں پھر سے ڈوب چکی تھی۔۔۔۔ وہ خوش تھی کہ رمیز پھر سے اسکی زندگی میں آچکا تھا وہ کافی بار رمیز سے شادی کی بات کر چکی تھی۔۔۔جس پہ رمیز بات بدل دیتا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ بس چپ ہوجاتی یہی سوچ کر کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔۔
**************
وہ۔۔۔۔ وہ لڑکا کون تھا؟؟؟
ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھے کھانا کھاتے جب اسکی برداشت سے باہر ہوا تو آخر احان نے پوچھ ہی لیا۔
کونسا لڑکا؟ آئلہ اسکی طرف دیکھتے بولی۔
وہی جو سکول گیٹ کے پاس آپکے ساتھ کھڑا ہنس رہا تھا۔
احان نے دبے دبے غصے سے کہا تو آئلہ نے دانت نکالے تھے۔
دانت کیوں نکال رہی ہیں؟ آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔جواب دیں۔
اسے دانت نکالتا دیکھ احان آئلہ کو گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
اچھا وہ۔۔۔۔ وہ مائیک ہے میرا کلاس فیلو۔۔۔۔۔ آپکو پتہ ہے مسٹر احان! پورے سکول کی لڑکیاں اس پہ فدا ہیں۔۔۔۔۔اسکی بھوری آنکھوں کی وجہ کے کافی مقبول ہے وہ لڑکیوں میں۔۔۔mr psycho part 20 & 21
آئلہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی۔۔۔۔ آئلہ کے منہ سے اس لڑکے کی باتیں سن کے احان کو تپ چڑھی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جیلسی اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔۔ اس نے مٹھیاں بھینچی تھی۔
اچھا۔۔۔۔۔أپ سے کیا کہہ رہا تھا وہ؟
احان نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔
وہ کہہ رہا تھا کہ ہوم ورک میں کوئی ہیلپ چاہیئے ہوتو میں اسے کہہ دوں۔۔۔وہ میری ہیلپ کر دے گا۔
آئلہ نے پانی پی کے گلاس ٹیبل پہ رکھتے کہا۔
تو پھر کیا کہا أپ نے اسے؟ احان نے ایک اور سوال کیا۔mr psycho part 20 & 21
میں نے کہا کہ ٹھیک ہے جب کوئی ہیلپ چاہیئے ہوگی تو میں اسے کہوں گی۔
وہ احان کو بتاتے ہوئے مسکرائی تھی۔۔۔۔۔ پہلی بار احان کو آئلہ کا مسکرانا اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔
کیوں؟ ہاں کیوں کہا اسے؟ اگر آپکو سٹڈیز میں کوئی ہیلپ چاہیئے تو مجھے بتائیں ۔۔۔میں ٹیوٹر کا انتظام کردوں گا آپکو۔۔۔۔۔
احان نے سختی سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسے غصہ آرہا تھا۔
آئلہ کے چہرے سے مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
نہیں۔۔۔۔۔اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
وہ دھمیی سی آواز میں بولتے اٹھتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔ .
احان نے ٹیبل پہ زور سے اپنا ہاتھ مارا تو ٹیبل زور سے ہلی تھی۔۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھا اور آئلہ کے روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔ جب وہ روم میں انٹر ہوا۔۔۔۔وہ بیڈ پہ بیٹھی۔۔۔۔۔سکول بیگ سے بک نکال رہی تھی۔ احان کو دیکھا اور پھر سے بک کھولے پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔
وہ بیڈ کے پاس کھڑے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بت بنے کھڑا تھا۔۔۔۔جیسے سوچ رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے۔۔۔۔بات کرے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔
کچھ منٹس ایسے ہی گزر گئے تو آئلہ نے نظریں اٹھا کے احان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔دونوں کی نظریں ملی۔۔۔۔ ایک پل کو جیسے دونوں کی سانسیں رکی تھیں۔۔۔۔
احان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔۔۔۔آئلہ کو کھونے کا ڈر۔۔۔۔۔۔۔اسکے لیے بے پناہ محبت۔۔۔۔۔۔۔بے بسی۔۔۔۔۔کئی خوف۔۔۔۔۔اور نجانے کتنے دکھ اسکی آنکھوں میں چھلکتی نمی سے واضح ہورہے تھے۔۔۔۔
کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گی؟ اگر آپکو کوئی آپکا ہم عمر لڑکا پسند آگیا تو؟ تو کیا آپ مجھے چھوڑ کے چلی جائیں گی جانم؟ کیا اکیلا چھوڑ دیں گی مجھے؟
آج جب اس لڑکے کو آپکے پاس کھڑے دیکھا تو میری جان نکلتے ہوئے محسوس ہورہی تھی مجھے۔۔۔۔۔یہ تو میں جانتا ہوں کہ میں نے کیسے سنبھالا تھا خود کو۔۔۔۔۔۔میں نہیں بتا سکتا آپکو کہ میرے دل پہ کیا گزری تھی۔۔۔۔ پورا دن کس کرب میں گزارا ہے میں نے مجھ سے پوچھیں۔۔۔۔۔
نہیں رہ سکتا میں آپکے بغیر۔۔۔۔۔۔۔نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ گھٹنوں کے بل کارپٹ پہ بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔آنکھوں سے کئی آنسو کے قطرے گرے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپکو چھوڑ کے چلی جاؤں گی مسٹر احان ؟
آپ جانتے ہیں نا آپ میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد ہیں۔۔۔۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔۔۔۔تو پھر آخر کیوں آپ اتنا ڈرتے ہیں؟ کیوں بار بار ایک ہی سوال کرتے ہیں؟mr psycho part 20 & 21
وہ بیڈ سے اترتے اسکے پاس بیٹھتے اپنے چھوٹے نازک ہاتھوں میں احان کا چہرہ تھامے پوچھ رہی تھی۔
کیونکہ آپ چھوٹی ہیں مجھ سے۔۔۔۔ بہت چھوٹی ہیں اور میں عمر میں کافی بڑا ہوں آپ سے۔۔۔۔ اسی لیے ڈر لگتا ہے مجھے۔۔۔۔۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ کسی کی باتوں میں آکے مجھے چھوڑ نہ دیں۔۔۔۔ہیں بھی تو کافی نادان آپ۔۔۔۔۔ڈر لگتا ہے کہیں آپکو کوئی آپکا ہم عمر لڑکا نہ پسند آجائے۔۔۔۔اگر ایسا ہوا تو ظاہر ہے آپ میرا انتخاب تو نہیں کریں گی نا۔۔۔۔۔۔۔اسکے سامنے تو میں کچھ نہیں لگوں گا نا آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے آنسو بہا رہا تھا۔۔۔۔بے شک احان تینتالس سال کا تھا۔۔۔۔پر اس نے اپنی پرسنیلٹی اس طرح بنائی ہوئی تھی کہ وہ تیس۔۔۔تینتس کا لگتا تھا۔۔۔۔اسکی وجاہت پہ کوئی بھی لڑکی فدا ہو سکتی تھی۔۔۔۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔۔۔لیکن آج پہلی بار اسے اپنا آپ کم تر لگ رہا تھا۔۔۔۔اسے خود میں کئی کمیاں محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔وہ جیلس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اور خود کا موازنہ اس لڑکے سے کر کے خود کو ہی تکلیف پہنچا رہا تھا۔۔
تو کیا کروں میں مسٹر احان؟ ایسا کیا کروں کہ آپکا یہ ڈر ختم ہوجائے؟
وہ رنجیدہ لہجے میں بول رہی تھی۔۔۔۔احان کا اسطرح بے بس ہونا۔۔۔۔بکھرنا آئلہ سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔
مجھ سے نکاح کر لیں۔ میری بیوی بن جائیں۔۔۔۔۔ہمیشہ کے لیے میری دسترس میں آجائیں جانم!
احان آئلہ کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تھا۔
بولیں نا! کریں گی مجھ سے نکاح؟ بنیں گی میری بیوی؟
آئلہ کو چپ دیکھ کے وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔
بیوی! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئلہ ہلکے سے بولی۔
ہاں بیوی! میری ہمسفر! میری شریک حیات! میری زندگی!
بولیں۔ ویل یو میری می؟
احان نے اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے بے حد محبت سے کہا تھا۔ جبکہ آئلہ اسے دیکھے جارہی تھی جیسے اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ احان کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔
بیوی بن جاؤں گی تو کیا آپکا ڈر ختم ہو جائے گا مسٹر احان؟
آئلہ نے کھوئے ہوئے انداذ میں احان سے سوال کرتے اپنا سر اسکے کندھے پہ رکھا تھا۔
ہاں! ایک بار أپ کا مجھ سے نکاح ہوگیا تو میرے سارے ڈر سارے خوف ختم ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔مجھے میری زندگی کی ہر خوشی مل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔میں مکمل ہوجاؤں گا۔۔۔۔مجھے میری جانم کے سوا اور کچھ نہیں چاہیئے کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔
احان نے اپنا سر آئلہ کے سر سے ٹکاتے کہا تھا۔۔۔اسکے لفظوں سے چاہت چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔
مسٹر احان۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا پھر اگر کوئی لڑکا مجھ سے بات کرے گا تو کیا پھر آپ مجھ سے ایسے سوال نہیں کریں گے؟ اگر میں آپ سے شادی کرلوں تو؟
احان کی بات کا جواب دینے کی بجائے وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگی۔
یہ کیسی باتیں کررہی ہیں ہنی؟mr psycho part 20 & 21
احان کو اسکا سوال بہت بے تکہ اور عجیب لگا تھا۔
مسٹر احان! اگر کوئی مجھے ٹچ کرے گا تو کیا آپ مجھے بلیم کریں گے؟ کیا أپ میری جان لے لیں گے؟
آئلہ نے نجانے کیا سوچتے ہوئے رمیز کی کہی ہوئی بات آخر پوچھ ڈالی تھی۔۔۔اور اگلے ہی پل احساس ہونے پر کہ اس نے کیا بولا ہے۔۔آ ئلہ نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتے سختی سی آنکھیں بند کی تھیں۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ یہ کس قسم کے سوال پوچھ رہی ہیں؟
اگر کسی نے بری نظر ڈالی نا آپ پر تو اسکی آنکھیں نکال لوں گا میں۔۔۔۔اسکی زندگی کا آخری دن ہوگا وہ۔۔۔۔میں خود اسکی جان لے لوں گا۔۔۔
احان نے اسکے بازوؤں کو اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لیتے بہت غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔ کسی اور کا آئلہ کے قریب آنے کا سوچ کے ہی اسکا دل ڈوبنے لگا تھا۔
اسے طیش میں آتا دیکھ کے آئلہ کانپی تھی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔۔
جانم۔۔۔۔۔روئیں مت۔۔۔۔۔۔پلیز چپ ہوجائیں۔۔۔۔تکلیف ہورہی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔میں یہ برداشت نہیں کر پاؤں گا کہ میرے علاوہ کوئی اور أپکو محبت کی نظر سے بھی دیکھے تو سوچیں میں یہ کیسے سہہ پاؤں گا کہ کوئی آپکے قریب آئے۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتا ایسا۔۔۔۔۔میں نہیں سہہ پاؤں گا جانم۔۔۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔! آپکے آس پاس میں کسی کا سایہ بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
وہ اسے سینے سے لگائے اسکے بال سہلاتے کہے جارہا تھا۔۔۔اور آئلہ یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہورہی تھی کہ رمیز والی بات کیسے بتائے احان کو؟ بتائے بھی یا نہیں؟ پتہ نہیں احان کیا کرے گا؟ آئلہ کا گلا سوکھ رہا تھا۔۔۔۔عجیب سی کشمکش کا شکار ہو گئی تھی وہ۔
آپ بس ایک بار میرے نکاح میں آجائیں۔۔۔۔ایک بار میری محرم بن جائیں بس! بولیں جانم! بنیں گی میری وائف؟ کریں گی مجھ سے شادی؟
وہ نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے اسکی تھوڑی کو اونچا کرتے أئلہ کی چھوٹی سی ناک پہ لب رکھ گیا تھا۔
ہاں! کروں گی آپ سے شادی۔ میں آپکی وائف بننے کے لیے تیار ہوں مسٹر احان!
وہ اسے اپنا فیصلہ سناتے اسے ہاں کہتے احان کو خوشی سے مالا مال کر گئی تھی۔۔۔۔۔
تھینک یو! تھینک یو سو مچ جانم۔۔۔۔۔۔۔۔تھینک یو!
وہ اسے اپنے سینے میں بھینچے اسکے بالوں پہ لب رکھتے خوشی سے چور لہجے میں بولا تھا۔ احان کے دل میں سکون کی ایک لہر اتری تھی۔۔۔۔وہی آئلہ بھی خوش تھی ۔۔۔۔۔۔احان سے شادی کر کے اس کی محبت کے حصار میں محفوظ رہے گی یہی سوچ کے وہ پر سکون محسوس کررہی تھی۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے مد ہوش تھے۔۔۔اس بات سے انجان کہ آگے کیا ہونے والا تھا۔۔۔۔۔آنے والا دن کیسے ان دونوں پہ قیامت ڈھانے والا تھا۔۔۔۔۔ اگر احان کو کانوں کان ذرا سی بھی خبر ہو جاتی تو وہ شاید آئلہ کو خود میں کہیں چھپا لیتا۔۔۔۔۔پر احان کی محبت اسکے یقین ۔۔۔ اسکے آئلہ سے کیے ہوئے سارے وعدوں اور دعوں کا امتحان ہونے والا تھا۔۔۔۔اور احان کو بہت مشکل میں ڈالنے والا تھا آنے والا دن۔۔۔۔۔۔۔۔اب بس یہ دیکھنا تھا کہ اسکی محبت میں کتنی سچائی تھی اور کتنی چاہت تھی آئلہ کے لیے۔۔۔۔وہ واقعی آئلہ سے محبت کرتا بھی تھا یا بس ایسے ہی اسکی معصومیت کا نا جائز فائدہ اٹھا رہا تھا۔
***************mr psycho part 20 & 21
صبح کافی حسین لگ رہی تھی احان کو۔۔۔۔ ایسے جیسے چاروں طرف پھولوں کی خوشبو پھیلی ہو۔۔۔ُجیسے خوشیاں ہی خوشیاں ہو۔۔۔۔۔۔آج اسکی زندگی کا حسین ترین دن تھا۔۔۔۔۔آج کی صبح اسے کافی الگ اور زندگی سے بھر پور لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے کروٹ بدلی تو اسکی سائیڈ میں آئلہ بے خبر سو رہی تھی۔
تو میری چھوٹی سی جانم آج میری وائف بننے جارہی ہیں۔۔۔۔دیکھو تو ذرا میری نیندیں اڑا کے میری ہنی بنی کتنے سکون سے سو رہی ہے۔۔۔۔۔
کتنا چھوٹا سا ناک ہے۔۔۔۔۔کیوٹ سا!
وہ اسکی ناک کو ہلکے سے دباتے ہنسا تھا۔ آئلہ نے نیند میں اسکا ہاتھ پرے ہٹایا تھا اور کروٹ بدلتے رخ دوسری طرف کیا تو پیٹھ احان کی طرف کر گئی۔۔۔۔۔
احان ہلکے سے مسکراتے ہوئے۔۔۔اسکے بالوں پہ پیار کرتے بیڈ سے اترا تھا۔۔۔۔
فریش ہو کے آیا تو ایک نظر آئلہ پہ ڈالی وہ ابھی تک سو رہی تھی۔۔۔۔احان مسکرایا اور بیڈ کی طرف قدم بڑھائے۔۔
میری چھوٹی چھوٹی، پیاری پیاری ہنی بنی! چلیں جلدی سے اٹھ جائیں۔۔۔۔۔شام کو ہمارا نکاح ہے۔۔۔۔شاپنگ نہیں کرنی کیا جانم نے؟
وہ اپنے ٹھنڈے ہاتھ اسکے گالوں پہ رکھتے ہوئے بولا تھا۔
کیا؟ آج شام کو؟ پر میرا ویڈنگ ڈریس کہاں ہے؟
وہ اسکے ٹھنڈے ہاتھ دور ہٹاتی نیم بیداری میں خمار آلود لہجے میں کہہ رہی تھی۔
احان نے ہنستے ہوئے پھر سے اسکے گالوں پہ اپنے ٹھنڈے ہاتھ رکھے تھے۔ اب کی بار آئلہ کی نیند اڑی تھی۔۔۔۔وہ منہ پھلاتی اٹھی تھی اور احان کو گھورنے لگی۔۔۔۔
ارے دیکھو تو میری جانم کو گھورنا بھی آتا ہے۔۔۔۔۔سو سویٹ نا۔۔۔۔۔کتنے پیار سے اپنے جاناں کو گھور رہی ہیں۔۔۔۔ویری گڈ! ایسے ہی گھورتی رہیں مجھے۔۔۔۔پھر آپکو ایک پیارا سا تحفہ دوں گا۔۔۔۔۔۔
احان دانتوں میں ہنسی دبائے آئلہ کو تنگ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
کونسا تحفہ؟ وہ جو غصہ کرنے والی تھی تحفے کا سن کے خوشی سے پوچھ بیٹھی۔۔۔۔۔
ہائے۔۔۔۔۔دنیا کی ساری معصومیت ایک طرف اور میری جانم بھی اسی طرف!
احان نے اسکی ناسمجھی پہ قہقہ لگایا تھا۔ جبکہ آئلہ کو ابھی بھی اسکی بات سمجھ نہ آئی تھی۔
چلیں اٹھ جائیں نا۔۔۔۔۔۔۔بعد میں آرام سے سمجھا دونگا آپکو۔۔۔mr psycho part 20 & 21
احان نے اسکا بازو پکڑتے اسے اٹھاتے ہوئے کہا تھا تو وہ بیڈ سے اتری تھی۔۔۔
میں لاؤنج میں ویٹ کررہا ہوں آپکا۔۔۔۔آپ جلدی سے فریش ہوکے آجائیں۔۔۔ اوکے جانم۔
احان آئلہ کے ماتھے پہ نرمی سے پیار کرتے کہتے ہوئے روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔
“ہیلو رمیز! تمہیں ایک گڈ نیوز دینی تھی۔۔۔۔۔ آج شام آئلہ اور میرا نکاح ہے۔۔۔۔تم پہنچ جانا۔۔۔۔۔۔سمجھے نا۔۔۔۔۔تمہارا ہونا ضروری ہے میرے بھائی”
احان لاؤنج میں صوفے پہ بیٹھے رمیز سے فون پہ بات کررہا تھا پھر اچانک کال کٹ گئی۔
یہ کیا؟ لگتا ہے نیٹ ورک کا ایشو ہوگا۔۔۔۔چلو اسے اطلاع تو دے دی ہے۔۔۔۔ابھی روانہ ہو جائے گا۔۔۔۔ اتنی بڑی خوش خبری ہے بھاگا بھاگا آئے گا۔۔۔۔
احان نے موبائل کو کوٹ کی جیب میں رکھتے کہا تھا۔
جانم! چلیں اب جلدی سے آ بھی جائیں نا!
وہ صوفے سے اٹھتے أئلہ کے روم کیطرف بڑھنے لگا تھا کہ وہ روم سے باہر نکلتی دکھائی دی۔۔۔
میرون کلر کا لانگ فراک ڈالے ، بال کھولے۔۔۔۔گلابی لبوں پہ مسکان سجائے وہ بالکل چھوٹی سی ڈول لگ رہی تھی۔۔۔۔احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔
میری ہونے والی وائف تو بہت پیاری لگ رہی ہیں! کہیں میری نظر ہی نہ لگ جائے جانم کو!
وہ محبت سے سرشار لفظوں میں کہنے لگا۔
آپ ہمیشہ ایک ہی لائن بولتے ہیں مسٹر احان!
کچھ اور لائینیں بھی سیکھ لیں نا!
أئلہ نے آنکھیں گھماتے بالوں کو اپنے شانوں سے ہٹاتے کہا تھا۔۔۔۔ اسکی بات سن کے احان ہنسنے لگا۔۔۔۔۔
نکاح شام کو ہے اور بیویوں والی باتیں کرنا میری جانم نے ابھی سے سٹارٹ کر دی ہیں ہونہہ!
احان نے اسکے قریب جاتے اسکے سر سے اپنا سر ٹکاتے گھمبیر آواز میں کہا تو آئلہ ہنس پڑی۔
اچھا نا دور ہٹیں!mr psycho part 20 & 21
میں نکاح تب کروں گی جب مجھے سب سے زیادہ بہت زیادہ خوبصورت ویڈنگ ڈریس ملے گا! سن لیا نا آپ نے!
وہ اسے خود سے دور ہٹاتے ہوئے بازو اپنے سینے پہ لپیٹتے ہوئے کہنے لگی۔
اچھا نا میری جانم! میں اپنی ہنی بنی کو بالکل انکی طرح کا بے حد خوبصورت سا ویڈنگ ڈریس دلوا دونگا۔۔ُ
اتنا خوبصورت کہ نظریں ہٹیں گی ہی نہیں آپ پر سے!
وہ مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں میں جھانکتے . کہہ رہا تھا۔ آئلہ مسکرادی۔
اور کیا کہہ رہی تھیں آپ۔۔۔۔ کہ میں ہمیشہ ایک ہی لائن بولتا ہوں آپکی تعریف کرنے کے لیے ۔۔۔۔ تو آپ بتائیں کہ کیسے تعریف کیا کروں اپنی جان کی؟ شاعری سنا کے یا کوئی گانا گا کے؟ ویسے نا میری آواز میں گانا سن کے آپکے یہ چھوٹے نازک سے کان دکھنے لگیں گے۔۔۔۔۔
وہ آئلہ کے قریب ہوتے اپنے لبوں سے اسکے کان کی لو کو چومتے دھمیے سے شرارت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
مسٹر احان! وہ اسے دور کرتے اسکا نام لبوں پہ لائی تھی۔
جی جانم! وہ اسی انداذ میں کہہ رہا تھا۔
چلیں نا اب! وہ جھنجھلائی تھی۔mr psycho part 20 & 21
بیڈ روم میں؟ احان نے ہنسی دانتوں میں دباتے ہوئے چہرے پہ سنجیدگی سجائے کہا تو آئلہ نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔۔۔
ہائے میری چھوٹی سی ہونےوالی وائفے!
آئلہ کو اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے وہ کھلکھلا کے ہنسا تھا۔آئلہ کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا تھا۔
آجائیں جانم! احان آئلہ کا چھوٹا سا ہاتھ اپنے بڑے ہاتھ میں تھامتے باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔
کتنا فرق تھا نا ان دونوں میں ہر لحاظ سے وہ دونوں مختلف تھے۔۔۔عمر، قد، ذات، پسند ناپسند، سوچ سمجھ
۔۔۔۔آئلہ کو کوئی ایسا شخص چاہیے تھا جو اس سے بے انتہاہ محبت کرے۔۔۔۔۔۔بے پناہ چاہت ۔۔۔۔۔کسی ایسے شخص کی چاہ تھی جو اسکو ٹوٹ کے چاہے۔۔۔۔اسکے لاڈ اٹھائے اور دنیا کی پرواہ کیے بغیر ہر پل اسکا ساتھ دے۔۔۔۔۔۔حالات چاہے جو بھی ہوں۔۔۔۔۔چاہے پوری دنیا ہی انکے خلاف ہو جائے ۔۔۔۔پھر بھی یقین اتنا مضبوظ ہو کہ اسے اپنے محبوب کی ہر بات سچ اور دنیا کی ہر بات جھوٹ لگے۔۔۔۔۔۔۔!
احان کو دیکھ دیکھ اسے یقین ہو چکا تھا کہ احان ہی وہ شخص ہے جو اسے چاہئیے تھا۔۔۔۔أئلہ کو اپنا خواب پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا احان کی شکل میں۔۔۔۔۔ خوشی سے اسکے قدم زمین پہ نہیں ٹک رہے تھے۔۔۔۔
وہی احان کا تو اس سے بھی زیادہ خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔اسے ابھی تک سب کچھ ایک خواب سا لگ رہا تھا۔۔۔۔یقین نہیں ہورہا تھا کہ اسکا آئلہ سے نکاح ہونے والا تھا۔۔۔۔اسکی جانم اسکی ہنی بنی اسکی شریک حیات بننے جارہی تھی۔ وہ بار بار اپنے بے قابو ہوتے دل پہ ہاتھ رکھتے اسے سنبھالنے کی کوشش کررہا تھا جو خوشی سے اتنا اچھل رہا تھا کہ جیسے ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا۔
دل کا خوش ہونا بنتا تھا آخر کو اسے آئلہ کے دل پہ دسترس ملنے والی تھی وہ بھی ایک مضبوط رشتے کی صورت میں۔۔
کافی مالز گھومنے کے بعد آخر آئلہ کو ایک ویڈنگ ڈریس پسند أیا تھا۔ ریڈ فیری لہنگا ، سلیو لیس ہاف بلاوز جس پہ خوبصورت نگوں کا کام کیا ہوا تھا۔ ساتھ میں لائٹ سا ڈوپٹہ جسکے کناروں پہ ہلکا سا موتیوں کا کام کیا ہوا تھا۔
واؤ! مجھے یہی چاہیئے! وہ خوشی سے احان کی طرف دیکھتے بولی تھی۔ جو آئلہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔
جی جانم! احان مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔mr psycho part 20 & 21
چلیں اب باقی شاپنگ بھی کرلیں۔ وہ آئلہ کو دیکھتے بولا تھا جسکی نگاہیں ابھی تک لہنگے پہ ٹکی ہوئی تھیں۔
ہاں چلیں۔۔۔ احان کے بازو میں بازو ڈالے وہ مسکرائی تھی۔
احان کو آئلہ کا یہ انداز بھایا تھا۔
شاپنگ کرتے کرتے شام کے پانچ بج چکے تھے۔۔۔ وہ تھکے ہوئے گھر داخل ہوئے ۔۔۔ لاؤنج میں داخل ہوئے تو سامنے رمیز صوفے پہ بیٹھا شاید انکے آنے کا ویٹ کر رہا تھا۔۔
احان رمیز کو دیکھ کے خوشی سے اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔رمیز نے بھی گرمجوشی سے اسے گلے لگا کے مبارک باد دی تھی۔۔۔ جبکہ آئلہ بت بنے وہی کھڑی اپنی بے ترتیب ہوتی سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔رمیز کو دیکھ کے اسے وہ سب کچھ پھر سے یاد آیا تھا اور ڈر سے اسکے جسم میں کپکپاہٹ ہوئی تھی۔۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
لگتا ہے آئلہ کو میرا یہاں پسند نہیں آیا۔۔۔ رمیز نے آئلہ کو بت بنے دیکھ کے احان کو سرگوشی کی تو احان مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔صبح سے شاپنگ کر رہے تھے تو اسی لیے میری ہنی تھک گئی ہے۔۔۔۔ یہاں آئیں جانم۔
احان آئلہ کو اپن طرف آنے کا اشارہ کرتے بولا تھا۔ تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے اسکے پاس گئی۔
کیسی ہو آئلہ؟ تم نے تو اسطرح اچانک فیصلہ کر کے مجھے حیران کر دیا ہے۔۔۔۔۔
ویسے حیران تو میں بھی ہوا تھا۔۔۔۔پر مجھے خوشی بھی بے حد ہوئی تھی۔
رمیز نے آئلہ کے چہرے پہ نظریں ٹکاتے کہا تو احان نے جواب دیا اور وہ چپ کھڑی اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔
جانم جائیں آپ کچھ دیر آرام کرلیں۔۔۔تب تک میں اور رمیز باقی کے انتظام کر لیتے ہیں۔
احان نے آئلہ کا گال تھپتھپاتے کہا تو وہ وہاں سے اپنے روم کی طرف چلی گئی۔ رمیز کی نظروں نے اسکا تعاقب کیا تھا۔
تم گھر والوں کو اطلاع نہیں دو گے کیا؟ رمیز نے احان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
نہیں! کوئی تماشا نہیں چاہتا میں۔۔۔۔اسی لیے کسی کو اطلاع نہیں دی۔۔۔۔تم میرے جگری یار ہو اسی لیے صرف تمہیں بتایا۔۔۔۔
احان نے رمیز کے کندھے کو زور سے تھپتھپاتے کہا۔
اور آئلہ کی فیملی؟ رمیز نے سوال کیا۔
انکو بھی نہیں پتا اور اگر پتا چل بھی گیا تو انکو کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔۔۔
تم ٹینشن نہ لو۔۔۔۔بعد میں سب سنبھال لوں گا میں۔۔۔۔
احان نے مسکراتے رمیز کو تسلی دی جو فکر مند ہورہا تھا۔۔
مطلب آچ پکا ہے نکاح کرنا؟ رمیز نے خود کو یقین دلانے کے لیے پوچھا تھا۔۔۔۔
ہاں ہاں بھائی۔۔۔۔۔ سب پکا ہے۔۔۔۔۔۔میرا نکاح بھی اور رشتہ بھی۔۔۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
احان نے قہقہ لگایا تھا جبکہ رمیز کے چہرے پہ گہری اداسی چھائی تھی۔۔۔۔
جب سے احان نے اسے فون کر کے نکاح کی خبر سنائی تھی تب سے وہ ہلکان ہوا گھوم رہا تھا۔۔۔۔رمیز کے پیروں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی تھی۔۔۔۔۔وہ یہ سب کیسے ہونے دے سکتا تھا۔۔۔۔اس نے تو پلان بنایا ہوا تھا کہ وہ آئلہ سے نکاح کرے گا تو پھر احان کیسے یہ سب کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔۔آئلہ سے نکاح میں کروں گا نا کہ احان!
ہمممم۔۔۔۔۔۔بالکل! ہاں وہ میری ہے۔ رمیز کی!
اب چلو بھی کہاں کھو گئے ہو؟mr psycho part 20 & 21
رمیز کو سوچوں میں گم دیکھ کے احان نے اسے جھنجھوڑا تھا تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔
ابھی ہی سفر سے لوٹا ہوں کچھ دیر آرام تو کرنے دو یار۔۔۔
رمیز نے تھکے سے لہجے میں کہا۔
سہی۔۔۔ پھر ایسا کرتے ہیں تم کچھ دیر یہی بیٹھ جاؤ۔۔۔تب تک میں باقی کے انتظام دیکھ کے آتا ہوں۔۔۔
احان نے رمیز کو دیکھتے کہا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔رمیز کو احان کی گاڑی ک جانے کی آواز سنائی دی تو وہ اٹھتے ہوئے آئلہ کے روم کیطرف بڑھتے اسکے کمرے میں داخل ہوا اور روم لاک کر لیا۔۔۔۔
آئلہ چینچ کر کے باتھ روم سے باہر نکلی تو رمیز کو اپنے سامنے کھڑے دیکھ کے اسکی سانس اٹکی تھی۔۔۔۔ ڈر سے اسکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔۔۔
آ۔۔۔۔أپ۔۔۔آپ یہاں کیا کر۔۔۔رہے ہیں۔۔۔۔مسٹر احان۔۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔کہاں ہیں؟ م۔۔۔مسٹر۔۔۔۔۔۔۔
آئلہ کا حلق خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ بول نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔خوف کے مارے کانپ رہی تھی۔۔۔۔ رمیز بہت غصے میں لگ رہا تھا۔۔۔۔پتہ نہیں وہ کیوں آیا تھا یہی سوچ کے آئلہ کی جان جارہی تھی۔۔۔۔۔
رمیز اسکے قریب آیا۔۔۔۔اسکے بازو کو پکڑے بیڈ کی طرف بڑھا اور اسے بٹھا دیا۔
مس۔۔۔ٹر۔۔۔۔۔ا۔۔۔حا۔۔ن ! آئلہ روتے ہوئے مشکل سے بولی تھی۔
ششش خبردار جو اسکا نام لیا میرے سامنے۔۔۔۔ ورنہ بہت بری سزا دوں گا تمہیں۔۔۔
رمیز نے آئلہ کے نچلے ہونٹ پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے اسے خاموش کروایا تبھی آئلہ اسکے گرم لمس کو محسوس کرتے ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔مسٹر ۔۔۔۔احان کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔آپ برے ہیں۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہوئے کہنے لگی۔۔mr psycho part 20 & 21
آئلہ کے منہ سے پھر سے احان کا نام سن کر رمیز کا پارا ہائی ہوا تبھی وہ اسے بیڈ پر دھکا دیں کر اس پر جھکا۔۔۔۔
پلیز مجھے مجبور مت کرو آئلہ ۔۔۔۔میرے صبر کا امتحان مت لو۔۔۔۔ اب اگر دوبارہ اپنے ان نازک ہونٹوں سے اس کا نام لیا تو اتنا برا حال کرو گا انکا کہ پانی کو بھی ترسو گی ان پر صرف میرا نام ہونا چاہیے صرف رمیز کا۔۔۔۔۔سمجھی تم۔۔۔۔۔۔اب میری ہو تم صرف رمیز کی۔۔
رمیز اسکے نازک سے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ انہیں سہلانے لگا جبکہ آئلہ اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی اسکے نازک سے ہونٹوں کو سہلاتے وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اونچا کیے اپنے سینے سے لگا گیا تبھی آئلہ نے ڈر کر اپنی آنکھیں کھولیں مگر اسکی آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی رمیز اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا آئلہ نے اسے دھکا دینا چاہا مگر رمیز نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کر لیا اور اپنے عمل کو تیز کر دیا
اس وقت پورے کمرے میں سانسوں کا تبادلہ ہو رہا تھا وہ آئلہ کی سانسوں کو پینے میں اس قدر مصروف تھا کہ وہ اپنے ہوش کھو رہا تھا وہ بھول گیا تھا کہ وہ کیا کر رہا تھا تبھی وہ اپنا ہاتھ جو آئلہ کی کمر پر تھا اس سے گرفت مضپوط کرتے اسکے ہونٹوں کو آرام سے آزاد کرتا اسکی گردن پر جھکا اور وہاں بھی اپنی مہر لگانے لگا ۔۔۔ أئلہ نے رمیز کو دور دھکیلنے کی کوشش کہ تو وہ اسے خود میں بھینچتے اس کے بالوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا اسکے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
پلیز مجھے غصہ مت دلاؤ۔۔۔ورنہ ساری حدیں پار کر جاؤں گا میں۔۔۔۔تمہاری یہ خوشبو مجھے دیوانہ کر گئی تھی میں نے پہلی ملاقات میں ہی اپنا سب کچھ تمہیں سونپ دیا تھا تمہارا لمس مجھے پاگل کر چکا ہے میں اس لمس کے احساس میں ہر پل گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔تم سے محبت ہوگئی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔تمہارا نکاح مجھ سے ہوگا سمجھ رہی ہو نا۔۔۔
رمیز مدہوشی کے عالم میں بول رہا تھا۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ یہ اتنے دن کتنی مشکل سے کاٹے ہیں میں نے۔۔۔۔
مجھے بس تم چاہیے ہو۔۔۔بس تم مجھے تمہاری سانسوں کی طلب ہے میں تمہیں حاصل کر نے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں پھر میں یہ کیسے دیکھ سکتا ہوں کہ تم کسی اور سے نکاح کر لو وہ بھی میرے سامنے۔۔۔۔۔نہیں آئلہ نہیں مجھے اپنا دیوانہ بنا کےتم کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
رمیز اسکے کان کو چومنے لگا جسے محسوس کرتے آئلہ کو اپنے جسم میں کرنٹ لگتا محسوس ہوا تھا۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آزاد کرواتے رمیز کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے زور دار دھکا دیا رمیز جو اس وقت مدہوشی کے عالم میں تھا آئلہ کے دھکا دینے پر وہ سیدھا زمین پر جا گرا۔۔۔
دور رہیں ۔۔۔۔۔۔ میں مسٹر احان کو بتاؤں گی۔۔۔۔ مسٹر احان کو بتاؤں گی میں۔۔۔۔۔ مسٹر ۔۔۔۔احان!
أئلہ روتے ہوئے احان کو پکارنے لگی۔
رمیز نے غصے میں آئلہ کو کندھوں سے پکڑ لیا جبکہ ماتھے کی اس قدر غصہ کرنے پر نبضں عیاں ہو رہی تھی
تو مطلب تم میری بات نہیں مانو گی اچھا!
آئلہ روئے جارہی تھی۔ رمیز کو برا لگا تھا۔ اس نے آئلہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا
سوری میری جانم! میں غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے میں نہیں برداشت کر سکتا کہ تم میری محبت کو یوں ٹھکرا دو ۔۔۔۔۔میں نہیں برداشت کر سکتا کہ تم کسی اور سے محبت کرو میں نہیں دیکھ سکتا تمہیں کسی اور کے ساتھ تم میری بات سنو دیکھو میری آنکھوں میں
رمیز نے آئلہ کا چہرہ اوپر کیا
کیا تمہیں ان آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر نہیں آتی
رمیز کسی دیوانہ وار آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا آنکھیں نم تھی اس قدر تپش تھی کہ آئلہ ابھی اس میں جل کر راکھ ہو جائے اس قدر دیوانگی تھی کہ وہ کچھ پل کے لیے رمیز کی آنکھوں سے نظریں چرا نہ سکی تبھی وہ ہڑبڑا کر اس سے دور ہوئی
میں مسٹر احان سے محبت کرتی ہوں اور آپ جو بھی کہیں میں مسٹر احان کو سب کچھ بتاؤں گی۔ سنا آپ نے۔۔۔۔۔میں بتاؤں گی مسٹر احان کو ۔۔۔۔
آئلہ آنکھوں میں آنسو لیے بول رہی تھی۔
تو ٹھیک ہے تم ایسے نہیں مانو گی تو اب مجھے اپنا طریقہ اپنانا پڑے گا۔ اب تم نے مجھے مجبور کردیا ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔
رمیز آئلہ کا ہاتھ پکڑے اسے باتھ روم میں لے گیا جبکہ آئلہ نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے اسکے بازو پہ بائٹ کی مگر تبھی رمیز نے اسے شاور کے نیچے لا کر کھڑا کیا اور اپنے ایک ہاتھ کی مدد سے اسکے دونوں ہاتھوں کو اوپر کر تے قید کر لیا اور دوسرے ہاتھ سے شاور کو آن کر دیا شاور کے آن ہوتے ہی دونوں پانی میں بھیگ گئے ۔۔۔
اس وقت آئلہ بہت ڈر رہی تھی اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔اسکی جان جا رہی تھی کہ اب رمیز آگے کیا کرنے والا تھا تبھی اسنے اپنی کمر پر رمیز کے ہاتھوں کو رینگتے پایا اور ہڑبڑا کر بول پڑی۔۔
یہ کیا کررہے ہیں آپ؟؟؟ پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔مسٹر۔۔۔۔۔۔ا۔۔حا۔۔۔۔
ششش خاموش! یہ میری بات نہ ماننے کی سزا ہے۔
رمیز نے اسکے کان کی لو کو کاٹا تبھی آئلہ کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی جسے سن کے رمیز اسکے نیچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں قید کر گیا اور اپنی پیاس بجھانے لگا یونہی کچھ دیر تک رمیز آئلہ کی سانسیں پیتا رہا۔۔ شاور کے نیچے رہنے کی وجہ سے اب دونوں پوری طرح بھیگ چکے تھے آئلہ کی مدہم پڑتی سانسیں محسوس کر تے رمیز اسکے ہونٹوں کو آزاد کرتا اپنا رخ اسکی گردن کی طرف کرتا وہاں بھی اپنے جھلستے لب رکھ گیا اور پھر اپنا جھکاؤ اسکے کندھوں کی طرف کرتا وہاں بھی اپنی محبت کی مہر لگانے لگا آئلہ جو ہلکان ہوتی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی اپنے پیٹ پر رینگنے ہاتھ محسوس کر فوراً سے آنکھیں کھول اسے دھکا دے کر خود سے دور کرتے باہر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ تو رمیز نے اسکے بازو سے پکڑتے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے سینے سے لگاتے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں قید کر چکا تھا جبکہ دوسرا اسکے گیلے بالوں پہ تھا ۔۔۔رمیز اسکے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا۔۔۔mr psycho part 20 & 21
میں چاہوں تو ابھی ساری حدیں پار کر سکتا ہو مگر میں ایسا نہیں کرو گا ۔۔۔۔میں تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں۔۔۔۔۔اگر دوبارہ تم نے میری بات نہ ماننے کی غلطی کی تو سزا بہت بری ہوگی ۔۔۔۔۔اور تم۔ نازک جان۔شاید برداشت نہ کر پاؤں۔۔۔پر میں ذرا بھی رحم نہیں کروں گا۔۔۔
رمیز اسکے ہاتھوں کو آزاد کرتا اسے دور ہوا شاور کو بند کرتے وہ باتھ روم سے نکلا جبکہ آئلہ کو اپنا سر چکراتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔وہ تقریبا گری تھی۔۔۔اور بے ہوش ہوگئی۔
رمیز جو روم سے جانے لگا تھا ۔۔۔آواز سن کر واپس باتھ روم کی طرف بھاگا تو آئلہ کو دیکھا جو بیہوش پڑی تھی ۔۔۔رمیز بھاگ کر اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر باتھ روم سے نکلا اور اسے بیڈ پر لٹاتے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے تھپتھپانے لگا۔۔۔
آئلہ آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے تمہیں؟؟
رمیز کیسی دیوانے کی طرح کبھی اسکے ماتھے کو چومتا تو کبھی اسکے گال کو وہ اسکے چہرے کے ہر ایک نقش ہر اپنی محبت کی مہر لگا رہا تھا ۔۔ وہ سانس نہیں لے پارہی تھی۔۔ آئلہ کے لبوں کو کھلا پا کر رمیز نے انہیں اپنے لبوں میں قید کر لیا وہ یونہی کچھ دیر تک اسے اپنی سانسیں دیتا رہا تبھی آئلہ نے ایک لمبا سانس بھرا جسے محسوس کر تے رمیز نے اسکے ہونٹوں کو آرام سے آزاد کیا
تم ٹھیک ہو؟mr psycho part 20 & 21
رمیز نے فکرمندی سے پوچھا جبکہ آئلہ رمیز کو اپنے قریب پا کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
لیٹی رہو۔۔۔۔ ٹھیک ہو نا؟
رمیز نے اسکے پاس بیٹھتے کہا جبکہ آئلہ اس سے دور ہوتی بیڈ کے کونے میں چلی گئی۔
آئم سوری۔۔۔میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔تم کیوں اتنا ڈر رہی ہو مجھ سے۔۔۔ جس سے ڈرنا چاہیئے اس سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔
جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔مجھے أپکی کسی بات پہ یقین نہیں ہے۔۔۔۔میں مسٹر احان کو بتاؤں گی أپ نے جو بھی کیا ہے۔۔۔۔
وہ پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔۔
اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ بس احان احان کیے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔رمیز کا دماغ خراب ہورہا تھا اب۔۔۔۔
وہ اپنا جھکاؤ آئلہ پر کرتا اپنے ہاتھوں کی مدد سے اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرنے ہی والا تھا کہ اچانک آئلہ نے اپنا رخ دوسری طرف کیا
چلے جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانپ رہی تھی۔
کیا بتاؤ گی احان کو یہی کہ ہم۔دونوں کتنی دیر تک شاور میں بھیگتے رہے ہیں۔۔۔۔یا پھر یہ کہ ہم دونوں نے کیسے ایک دوسرے کے لبوں کی گرماہٹ محسوس کی!
اس سے زیادہ کچھ مت بتانا۔۔۔۔وہ سہہ نہیں پائے گا۔۔
رمیز نے دوبارہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے بالوں کو پیچھے کیا اور اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔
تم احان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔وہ جیسا دکھتا ہے ویسا بالکل نہیں ہے۔۔۔۔بہت خطرناک ہے وہ۔۔۔۔۔ایک بار تم سے نکاح ہوگیا تو تمہیں ہمیشہ کے لیے اس گھر میں قید کرلے گا وہ۔۔۔۔۔ یہ نکاح مت کرو۔۔۔۔۔۔
آئلہ کے ساتھ اتنی زور زبردستی کرنے اسے ڈرانے کے باوجود بھی جب رمیز کو اپنی چال نا کام ہوتے محسوس ہونے لگی تو اس نے آخری حربہ اپنایا تھا۔۔
مجھے آپ کی کسی بات پہ یقین نہیں ہے سمجھے آپ۔۔۔۔
آئلہ نے کہا ا ور بیڈ سے اترتے وارڈ روب کی طرف بڑھی۔
قاتل ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔سنا تم نے! اسکی باتوں میں مت أؤ تم۔۔۔۔۔وہ تمہیں یوز کررہا تھا۔۔۔۔کوئی پیار نہیں کرتا تم سے۔۔۔
رمیز بھی اٹھتے ہوئے اسکے پاس جاتے اسے اکسانے لگا۔۔
نہیں۔۔۔۔جھوٹ مت بولیں۔۔۔۔۔ مسٹر احان ایسے نہیں ہیں۔۔۔۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔بہت اچھے ہیں وہ۔۔۔۔۔
شادی شدہ ہے وہ۔۔۔اور بہت جلد باپ بننے والا ہے تمہارا مسٹر احان! اسکی پہلی بیوی کے بارے میں جانتی ہو تم؟
کیا اس نے اس بارے میں کچھ بتایا تمہیں۔۔۔۔ اپنی پہلی محبت کے بارے میں بتایا کچھ؟
رمیز نے آئلہ کو احان کی حمایت کرتے دیکھ کے تپ کے بولا تھا۔۔۔ آئلہ کے چہرے کا رنگ اڑا تھا جیسے۔۔۔۔اب اسے رمیز کی باتوں میں کچھ سچائی نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔mr psycho part 20 & 21
نہیں۔۔۔۔۔۔جھوٹ۔۔۔۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔۔۔میرے مسٹر احان ایسے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ مسٹر احان
وہ زور زور سے روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔بالوں کو نوچتے ہوئے زمین پہ بیٹھتی چلی گئی۔۔۔
رمیز نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور روم سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔شیطانی مسکراہٹ اسکے لبوں پہ پھیلی تھی۔۔۔۔اسے یقین تھا کہ اب آئلہ احان سے نکاح نہیں کرے گی۔۔۔۔ وہ پرسکون ہوا تھا۔۔۔۔۔ احان کو فون کرتے اسکے پاس چلا گیا۔۔۔
نکاح کے سارے انتظام کرنے کے بعد احان اور رمیز گھر لوٹے تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔۔۔۔
رمیز پرسکون تھا یہ سوچ کر کے نکاح تو ہونے نہیں والا۔۔۔۔پر جب وہ گھر لوٹے تو احان أئلہ کے روم میں گیا تاکہ اسے بلا لائے نکاح کے لیے۔۔۔۔
آئلہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی خود کو دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
ریڈ فیری فراک سلیو لس ، ہاف بلاؤز، ڈوپٹہ سر پہ اوڑھے۔۔۔ڈائمنڈ کا سیٹ پہنے۔۔۔۔۔وہ بالکل ڈول لگ رہی تھی۔۔۔۔۔کسی محل کی شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
احان بت بنے اسے دیکھنے میں مست تھا جب آئلہ نے مڑ کے احان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ نظریں ٹکرائیں۔۔۔۔۔دونوں کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔۔ احان نے ایک گہری سانس لی اور آئلہ کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
میری جانم اتنی پیاری لگ رہی ہیں کہ میرا دل چاہ رہا ہے أپکو کہیں چھپا لوں۔۔۔۔۔کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے أپکو۔۔۔۔۔ میری ہنی بنی آج میری وائف بن جائیں گی۔۔۔۔ سچ بتاؤں نا۔۔۔تو جانم مجھے ابھی تک یہ سب ایک خواب سا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔ کہیں یہ خواب تو نہیں ہے نا۔۔۔
یہ خواب نہیں ہے مسٹر احان۔mr psycho part 20 & 21
احان نے اسکے قریب آتے کھو ئے ہوئے سے لہجے میں کہا تو آئلہ نے اسکے ماتھے پہ نرمی سے کس کرتے اسے یقین دلایا۔
تھینک یو۔۔۔۔۔۔مجھ پہ یقین کرنے کے لیے جانم!
احان نے آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے کہا تھا۔۔۔أئلہ شرماتے ہوئے نظریں جھکائے اتنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔۔۔
یہ کیا کررہی ہے۔۔۔۔۔اتنی نازک سی اتنی پیاری سی انگلیوں پہ ظلم کررہی ہیں آپ جانم!
احان نے اسکی انگلیوں کو اپنے ہاتھ میں تھامتے اپنے لبوں کے پاس کرتے کہا تھا۔۔۔
ظلم تو نہیں کررہی میں۔۔۔۔ آئلہ نے منہ بنایا تھا۔۔۔۔
یہ ظلم تو ہے۔۔۔۔یہ چھوٹی سی نازک انگلیاں اس لیے ہیں تا کہ انکو پیارکیا جائے۔۔۔۔اور أپ ان پہ ستم ڈھا رہی ہیں۔۔۔۔۔ اسکی اجازت نہیں ہے آپکو۔۔۔۔
احان نے اسے اپنے قریب کرتے کہا تھا۔۔۔۔
مسٹر احان! آئلہ نے احان کے سر سے اپنا سر ٹکاتے اسکا نام پکارتے اپنی آنکھیں بند کیں تھیں۔
جی میری جانم! احان نے أئلہ کی کمر کے گرد نرمی سے بازو حائل کرتے اپنی بھاری آواز میں بولا تھا۔
آپ بہت پیار کرتے ہیں نا مجھ سے؟
بے حد! خود سے زیادہ۔۔۔۔۔۔!
مسٹر احان! کیا آپ ہمیشہ ایسے ہی پیار کریں گے مجھے؟
میں اپنی آخری سانس تک ایسے ہی اپنی جانم سے پیار کرتا رہوں گا۔۔۔۔اگر کبھی کوئی نکلیف پہنچاؤں آپکو تو بے شک آپ اپنے ہاتھوں سے میری جان لے لینا۔۔۔۔میری جانم کو اجازت ہے ۔۔۔۔۔مجھ پہ ہر ظلم کرنے کی بھی اجازت ہے آپکو۔۔۔۔
وہ مدہوشی میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔
کیسا ظلم؟mr psycho part 20 & 21
آئلہ احان کی گردن کے گرد بازوؤں کا گھیرا بناتے لاڈ کرنے لگی۔
ہر ظلم۔۔۔۔جیسا کہ میرے گالوں بہت زور سے بائٹ کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔میرے ہونٹوں پہ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ظلم تو نہیں ہے یہ تو رومینس ہے نا!
احان کی بات بیچ میں کاٹتے وہ منہ بناتے بولی تھی۔۔۔
اچھا تو جانم کو پتہ تھا یہ۔۔۔۔مجھے تو لگا تھا کہ آپ نہیں جانتی ہونگی کچھ ۔۔۔۔
احان نے سینے پہ بازوؤں کو لپیٹتے ہوئے چونکنے کی ایکٹنگ کرتے کہا تھا۔۔۔
میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں۔۔۔۔مجھے سب پتہ ہے۔۔۔۔۔
آئلہ نے سر اونچا کرتے فخر سے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔۔۔۔
اچھا تو کیا کیا پتہ ہے آپکو؟؟
احان نے آئلہ کے چہرے پہ جھکتے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
م۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔۔کچھ نہیں پتہ مجھے۔۔۔۔۔دور ہٹیں نا۔۔۔۔
احان کی بات پہ آئلہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔۔جبکہ احان نے ہنسی دانتوں میں دبائی تھی۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔آپکے مسٹر احان ہیں نا آپکو سب کچھ بتادیں گے۔۔۔۔۔چلیں ابھی باہر نکاح کے لیے ویٹ کررہے ہمارا۔۔۔
احان نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے کہا اور آئلہ کو لیے لاؤنج کی طرف بڑھا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.