bold urdu novel

written by barbie boo

Aila & Ehan wedding special




احان آئلہ کا بازو اپنے بازو میں لیے لاونج میں آیا۔ جہاں مولوی، رمیز اور چند لوگ بیٹھے تھے۔۔۔
آئلہ کو چہرے پہ مسکان سجائے، احان کے پہلو میں دیکھ کے رمیز کے ہوش اڑے تھے۔۔۔۔ وہ تو کچھ اور ہی سوچ کے بیٹھا تھا۔۔۔۔اسکا دماغ ماؤف ہوا تھا۔۔۔۔۔ماتھے پہ پسینے کے کئی قطرے نمودار ہوئے تھے۔۔۔۔۔ زبان گنگ ہوئی تھی وہ بے یقینی اور حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
ریڈ لہنگے میں کتنی حسین لگ رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔ہاف بلاؤز میں سے آئلہ کا نظر آتا سفید عریاں جسم رمیز کا دل زور سے دھڑکا تھا پر اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ احان کی ہونے جارہی تھی اور شاید اب وہ آئلہ کو کبھی حاصل نہ کر پائے۔۔۔۔اس خیال پہ اسکا دل ڈوبا تھا۔۔۔
أئلہ کو صوفے پہ بٹھاتے احان بھی اسکے برابر بیٹھ گیا۔۔۔۔
رمیز کی أنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔۔۔۔مٹھیوں کو بھینچے وہ اپنے جذبات چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔ کبھی ہاتھ ماتھے پہ پھیرتا تو کبھی گردن پہ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسے ہوا؟
آئلہ کیسے مان گئی؟ اتنا سب ہونے کے بعد بھی آخر کیسے؟ أئلہ کے پہلو میں تو وہ خود کو دیکھنا چاہتا تھا پر احان کو اسکے پاس بیٹھے دیکھ کے وہ بے بس سا محسوس کررہا تھا خود کو۔۔
آئلہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے وہ اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتے انکو تر کر گیا۔۔
احان أئلہ کا چھوٹا سا نرم و ملائم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ خوشی اسکے چہرے پہ رقص کررہی تھی۔۔۔۔۔ دل تھا کہ زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ آئلہ بھی بار بار احان کو دیکھتے خود کو خوش نصیب سمجھ رہی تھی۔
لاؤنج میں مدھم آواز میں میوزک گونج رہا تھا۔۔۔۔ جو ان دونوں کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کررہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں دونوں کا نکاح ہوا اور وہ ایک مضبوط رشتے میں بندھ گئے۔۔۔۔
بہت ساری دعائیں اور تحفے دینے کے بعد سب روانہ ہوگئے۔
رمیز ابھی تک صوفے پہ بیٹھا حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
سب کو جاتا دیکھ وہ جلدی سے اٹھا اور احان کو گلے لگاتے بے دلی سے مبارک باد دی۔۔۔۔۔
اپنی چھوٹی بھابی کو مبارک باد نہیں دو گے کیا؟ اب میرے بھائی ہونے کے ناطے تمہارا بھی رشتہ بن گیا ہے نا۔
رمیز جانے لگا تو احان کی بات سنتے پلٹا اور آئلہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
رمیز کی آنکھوں میں تیرتی نمی۔۔۔۔ٹوٹے خواب کا دکھ۔۔۔۔۔ملال اور غصے، بدلے، جلن کی تپش آئلہ نے محسوس کرتے نظریں پھیریں تھیں۔۔جبکہ احان تو آئلہ کو اپنا بنا کے اتنا خوش تھا کہ اس نے نوٹ ہی نہیں کیا تھا کچھ۔۔۔وہ فون بجنے پہ لاونج سے باہر نکلتے فون پہ بات کرنے لگا۔۔
بہت مبارک ہو أپکو۔۔۔۔۔ایک نئی زندگی۔۔۔نئی شروعات اور نئے سفر کے لیےبہت بہت مبارک ہو آئلہ۔۔۔۔ امید ہے تم اپنے فیصلے پہ پچھتاؤ گی نہیں۔۔۔۔دعا کرونگا کہ تمہارے ان خوبصورت نازک لبوں پہ ایسے ہی مسکراہٹ قائم رہے۔۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
افسوس ہوا کہ تم نے میرا یقین نہیں کیا پر کوئی بات نہیں۔۔۔۔ایک دن تمہیں یقین آجائے گا اور جب تمہیں لگے کہ میں نے سچ بولا تھا تو تم بلا جھجک میرے پاس چلی آنا أئلہ۔۔۔۔۔۔تم مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی۔۔۔۔۔تمہارے لیے میرے گھر اور میرے دل دونوں کے دروازے کھلے رہے گے۔۔۔ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ۔۔۔۔۔۔!
رمیز نے آنکھو ں سے بہتے أنسوؤں کو ہتھیلی سے صاف کرتے بہت دکھی لہجے میں کہا تھا۔۔۔آئلہ نے کچھ بھی نہیں بولا اور نظریں فرش پہ ٹکائے بیٹھی رہی۔
کوئی گفٹ بھی لائے ہو یا نہیں؟
احان نے لاؤنج میں داخل ہوتے اونچی آواز میں کہا تو رمیز نے مڑ کے اسے دیکھا۔
گفٹ تو نہیں لایا میں۔۔۔۔آپ جو کہیں لے آؤں گا۔
رمیز نے آئلہ کے چہرے پہ نظریں ٹکاتے کہا۔
نہیں ۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں چاہیئے۔mr. psycho part 22 & 23
آ ئلہ نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
چلو بھئی! تمہاری بچت ہوگئی!
احان نے رمیز کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا تو رمیز پھیکی ہنسی ہنسا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔ مزید تم دونوں کا ٹائم نہیں لینا چاہتا۔
رمیز نے احان کے گلے لگتا کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
بہت مبارک ہو جانم! احان نے آئلہ کے قریب بیٹھتے اسکے آنکھوں میں جھانکتے کہا۔
آپکو بھی بہت مبارک ہو مسٹر احان!
آئلہ نے دلفریب مسکراہٹ لبوں پہ سجائے کہا تھا۔
خوش ہیں؟ وہ اسکے کان کے قریب ہوتے سرگوشی کرنے لگا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔بہت زیادہ! آئلہ نے احان کے کندھے پہ سر ٹکاتے کہا ۔۔۔
تو اب میری ہنی بنی میری وائف بن چکی ہیں۔۔۔۔۔اور میں کتنا خوش اس بات کا اندازہ آپ میری ہارٹ بیٹ سے لگا سکتی ہیں۔۔
احان آئلہ کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیتے اپنے دل پہ رکھتے اسکی طرف مسکرا کے بولا۔
آپ کا دل تو ڈانس کر رہا تھا۔۔۔ آئلہ احان کے دل پہ ہاتھ رکھتے اسکی دھڑکنوں کی رفتار محسوس کرتے آنکھیں سکیڑتے کہنے لگی۔ احان ہنسنے لگا تھا۔
ہاں ڈانس کر رہا ہے خوشی سے۔۔۔۔ اپنی جانم کو پا کے خوشی سے اچھل رہا ہے یہ دل۔۔۔ کیا آپکا دل بھی ایسے ہی ناچ رہا ہے ایک منٹ دیکھنے دیں مجھے۔۔۔۔
احان نے اپنا ہاتھ آئلہ کی طرف بڑھاتے شرارت سے کہا تو آئلہ نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔
نہیں میرا دل ایسے ڈانس نہیں کرتا۔۔۔ ہونہہ۔۔۔
آئلہ نے منہ کے زاویے بگاڑتے کہا تو احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔۔
سچ کہہ رہی ہوں میں۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟mr. psycho part 22 & 23
احان کی نظریں خود پہ پاتے وہ کہنے لگی۔
تو کیا ساری رات یونہی صوفے پہ بیٹھے گزاریں گے ہم؟
احان نے آئلہ کے قریب ہوتے کہا تو وہ تھوڑا سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔یہ تو چھوٹا سا صوفہ ہے ہم یہاں سو تو نہیں سکتے نا۔۔۔۔
آئلہ نے صوفے کو دیکھتے ہوئے کہا تو احان اسکی معصومیت پہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتے بے ساختہ مسکراتے اسے دیکھنے لگا تھا۔
چلیں روم میں چلتے ہیں۔۔۔ آئلہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی تو احان بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
چلیں آجائیں میری بانہوں میں!
کیوں؟ احان نے اپنی بانہیں کھولتے آئلہ کی طرف دیکھتے کہا تو وہ بولی۔
کیوں۔۔۔۔ کیونکہ یہ رسم ہے۔۔۔۔شادی کے بعد دلہا اپنی دلہن کو پہلی بار روم میں ایسے ہی لے کے جاتا ہے۔۔۔ چلیں شاباش جلدی سے آجائیں اب۔۔۔ احان آئلہ کے قریب ہوتے بولا تو آئلہ تھوڑا پیچھے کو سرکی تھی۔۔۔
مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔۔۔۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں نا۔۔۔ ہیں ناں مسٹر احان۔۔۔۔ مجھے اپنی بانہوں میں لینے کا بہانہ چاہیئے أپکو۔۔۔۔۔۔
آئلہ کھلکھلا کے ہنسی تھی تو احان تھوڑا شرمندہ ہوا تھا۔۔۔دانت بھینچتے أئلہ کو دیکھنے لگا۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
ہمممم۔۔۔۔۔پتا چل گیا آپکو۔۔۔۔ تو پھر اب؟
احان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا۔mr. psycho part 22 & 23
اب پھر چلیں روم میں۔۔۔۔ آئلہ نے احان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے کہا اور اسے لیے روم کیطرف بڑھی تو احان مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ چل پڑا۔
اب أپ یہی رکیں۔۔۔ میں روم میں جاؤں گی پھر آپ دو منٹ بعد ڈور نوک کرتے روم میں آنا اوکے۔۔۔
آئلہ روم ڈور کے پاس پہنچتے ہوئے رکی اور احان کا ہاتھ چھوڑتے کہا۔
کیا مطلب؟ میں روم۔میں نہ چلوں آپکے ساتھ؟
احان نہ سمجھتے ہوئے بولا تھا۔
اف او۔۔۔۔۔ مسٹر احان! أپ میرے ساتھ چلیں گے تو وہ اگلا سین کیسے ہو گا پھر۔۔۔
آئلہ اپنے ماتھے پہ ہلکے سے ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔
میں کچھ سمجھ نہیں پارہا جانم! کونسا سین؟ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ؟
احان کو ابھی بھی آئلہ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی۔۔
ارے آپ نے موویز میں نہیں دیکھا کیا؟ دلہا کچھ دیر بعد آتا ہے روم میں۔۔۔ دلہن گھونگھٹ ڈالے بیڈ پہ بیٹھی ویٹ کررہی ہوتی ہے۔۔۔۔ پھر دلہا روم میں آتا ہے۔۔۔اور دھیرے دھیرے دلہن کے پاس جاتا ہے اور اسکا گھونگھٹ ہٹاتا ہے پھر اسے گفٹ دیتا ہے ۔۔۔دلہن شرماتی ہے۔۔۔۔
آپکو یہ سب پتہ ہے نا؟ ایسے کرنا ہے اوکے۔۔۔
آئلہ نے چہکتے ہوئے اسے ساری بات بتاتے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
جی جی۔۔۔۔میں سمجھ گیا جانم۔۔۔جیسا آپ چاہتی ہیں بالکل ایسا ہی ہوگا۔۔
احان اسکی باتیں سنتے مسکراتے اسے دیکھے جارہا تھا کہ اسکی بات پہ ہاں میں سر ہلاتے کہا۔
ٹھیک ہے اب میں روم میں جارہی ہوں پھر آپ آنا اوکے۔۔۔
آئلہ نے احان کی طرف دیکھا اور روم میں انٹر ہوگئی اور پیچھے احان ہنستے ہوئے اپنے روم میں گیا۔۔ وہاں سے ایک فائل اٹھائی اور واپس آئلہ کے روم کیطرف آیا۔۔۔
ڈور نوک کرتے دھیرے سے روم میں انٹر ہوا اور ڈور لاک کیا۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
آئلہ بیڈ کے بیچوں بیچ گھونگھٹ چہرے پہ ڈالے بیٹھی تھی۔۔۔ اسکے مسکراتے لب اور سرخ ہوتے گال اسکے باریک ڈوپٹے سے واضح نظر آرہے تھے۔۔۔۔احان اپنے بے ترتیب ہوتے دل کو قابو کرتے مسکراتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے بیڈ کی طرف بڑھا۔۔
بیڈ پہ بیٹھتے فائل سائیڈ پہ رکھی اور آئلہ کی طرف دیکھا۔۔۔ ہلکے سے اسکا گھونگھٹ ہٹایا۔۔۔۔ وہ شرماتے ہوئے سر جھکا گئی تو احان مسکرادیا۔۔
آو تم کو بتائیں کہ تم کون ہو
تمہارے سینے پر موجود تِل وہ نقطہ ہے
جہاں پر شاعر قلم کی نوک رکھ کر رومانوی
نظم کا آغاز کرسکتا ہے
تمہارے بدن کو نظموں میں لپیٹ
کر لافانی دیوان مرتب کرسکتا ہے
تمہاری چھاتیاں چاند اور سورج ہیں
جس کی دھوپ سے میں ہرا بھرا اور چاندنی
سے چمکدار ہوتا رہتا ہوں
تمہاری پنڈلیاں زمین پر ضرب لگاتے
ہوئے چشمے پھوٹنے کا
موجب بنتی جاتی ہیں
گیسوئے یار کے ہوتے ہوئے
مجھے کسی چھت یا آسمان کی ضرورت نہیں
کہ ان کے تلے میں ہمیشہ کا سایہ پاتا ہوں
در و دیوار عرصہ دراز سے تمہاری
بانہوں کی باڑ دیکھ کر ساکن ہوگئے ہیںmr. psycho part 22 & 23
وہ باڑ جس نے میرے بدن کو ہر موسم
اور ہر جنگ میں محفوظ رکھا
مے فروش تمہارے اُترے لباس
سے خوشبوئیں مستعار لیتے ہیں اور
بہترین مے بنا بنا کر رئیس ہوتے جارہے ہیں
تم فقط فانی ہونے کے وجہ سے دیوی
کے لقب سے محروم رہ گئی وگرنہ
ابن آدم کشکول پکڑے تمہارے
آگے سرنگوں رہتے
تکمیلِ حسُن حوا سے شروع ہوکر
تم پر ختم ہوگئی اور تمام دیوان و کلام
کا مرکزی استعارہ تم ہوگئی
ابھی سب خدا آئینگے اور حاسدین
بن کر تم کو مجھ سے چھین لے جائینگے
اور مجھ پر تہمتِ شرک لگائینگے
مگر ہم تمہارے ہی گیت گائینگے
تم ہی کو قابلِ ستائش بنائینگے
تم ہی کو اپنا لمس پہنائینگے
اور عبادتخانوں میں تمہارا نام گُنگنائیں گے
مے خانوں میں تمہارے زائقے بتائینگے
فرش میں دھکے کھاتے ہوئے تم
کو عرش پر بٹھائینگے
تمہارے شباب کو قیامت بتائینگے
تمہارے رونے پر قصیدے سنائینگے
تمہارے ہسنے پر بہار کھینچ لائینگےmr. psycho part 22 & 23
تم کون ہو ہم تم کو بتائینگے
احان نے أئلہ کے قریب ہوتے اسکے کان میں مدہوشی کے عالم میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
کیا آپ پہلے اردو کے ٹیچر تھے؟
آئلہ نے جمائی لیتے کہا تو احان اسے تکنے لگا۔۔۔
ک۔۔کیا مطلب؟ وہ سنجیدہ ہوا۔۔
تو یہ اتنی مشکل اردو میں کیا کہہ رہے تھے۔۔۔۔کچھ سمجھ ہی نہیں آیا مجھے۔۔۔۔آپکی باتیں سن کے مجھے تو نیند آنے لگ گئی۔۔۔۔
آئلہ نے منہ بناتے کہا تو احان بوکھلایا تھا۔۔۔
کیا ہوا؟ ایسے گھور کیوں رہے ہیں؟ وہ دانت نکالتے کہنے لگی ۔
میں نے اتنی رومینٹک موڈ میں آپکی تعریف کی ہے اور بجائے اسکے کہ آپکا موڈ بھی رومینٹک ہوتا الٹا أپکو نیند آرہی تھی۔۔۔۔
احان نے مصنوعی اداسی سے کہا تو آئلہ اسے تکنے لگی۔۔۔
تو آپ أسان لفظوں میں تعریف کر دیتے نا اور صاف صاف کہہ دیتے کہ ” جانم! آپ بالکل پری لگ رہی ہیں۔۔۔۔میرا موڈ بہت رومینٹک ہورہا ہے أپکو دیکھ کے۔۔۔أپ بھی اب رومینٹک ہوجائیں”۔
بس اتنی چھوٹی سی بات تو تھی۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
آئلہ نے احان کے انداز میں بولتے ہوئے کہا تو احان نے قہقہ لگایا تھا اسے اسطرح اپنی کاپی کرتے دیکھ کر۔۔
دیکھا أپ نے آپکی جانم نے کیسے ایک چٹکی میں آپکا موڈٹھیک کردیا۔۔
آئلہ چٹکی بجاتے چہکنے لگی۔۔
میری جانم! احان آئلہ کے قریب ہوتے اسکے چہرے پہ جھکتے خمار آلود آواز میں بولا تو آئلہ کے جسم پہ جیسے چیونٹیاں رینگی تھی۔۔۔
یہ أپکا گفٹ!
احان نے سائیڈ سے فائل اٹھاتے أئلہ کی طرف بڑھائی تو وہ فائل کو حیرت سے دیکھنے لگی۔۔
یہ کیا ہے؟ آئلہ احان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
آج سے میں اور میرا سب کچھ آپکے نام ہو چکا ہے!
آج سے میری ساری پراپرٹی، بزنس اور اس دل پہ صرف آپکی حکومت ہوگی۔۔۔۔اب میری جانم ہی میرے لیے سب کچھ ہے”
احان نے أئلہ کی گود میں سر رکھتے، اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے آنکھیں بند کی تھیں۔
لیکن آپ نے ایسا کیوں کیا مسٹر احان؟
کیونکہ میرے لیے میری جانم سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ہے۔۔۔۔۔اب أپ میری ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیئے ہوگا مجھے؟
احان نے أنکھیں بند کیے ہی جواب دیا۔۔۔
اور اگر اتنی ساری دولت پا کے میں کہیں اور چلی گئی تو؟
تو بس جانے سے پہلے۔میری جان لے لیجیے گا۔۔آپکے بغیر ہر پل موت جیسا ہوگا تو بہتر ہوگا کہ میں اپنی جانم کی بانہوں میں اپنی آخری سانسیں لوں۔۔۔۔
احان نے آنکھیں کھولتے آئلہ کا ہاتھ اپنےmr. psycho part 22 & 23 گال سے لگاتے دھیمی سی آواز میں کہا تو آئلہ اسے تکنے لگی۔۔۔۔
آپ مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں مسٹر احان؟
وہ کھوئے سے لہجے میں بولتے احان کے ناک کو اپنی انگلی سے چھوتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
احان نے خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کرلی۔
أپ۔ہیں ہی محبت کے قابل! بہت انوسینٹ، بہت پیاری!
ہمممم۔۔۔۔مطلب اگر میں پیاری نہ ہوتی تو محبت نہ ہوتی آپکو!
آئلہ نے سوچنے کے انداز میں اپنی تھوڑی پہ انگلی رکھتے کہا۔۔تو احان اٹھتے ہوئے سیدھا ہوا تھا۔
میری جانم! مجھے آپ سے بے حد محبت ہے۔۔۔آپ الٹی سیدھی باتیں مت سوچا کریں جانم!
احان نے آئلہ کا چھوٹا سا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے بہت پیار سے کہا تھا۔۔۔
مجھے بھی أپ سے بہت محبت ہے۔۔۔
أئلہ احان کی گردن کے گرد بازوؤں کا گھیرا بناتے اسکی ناک پہ اپنی ناک رگڑتے بولی تھی۔۔۔
اوکے میں چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔آپ بھی تب تک چینج کر لیں۔۔۔۔
وہ بولتے ہوئے بیڈ سے اترنے لگی تو احان نے اسکا بازو پکڑتے اسے روکا۔۔۔
کیا؟ وہ نہ سمجھتے ہوئے بولی۔
ابھی میں نے آپکو جی بھر کے دیکھا بھی نہیں اور آپ چینج کرنے جارہی ہیں۔۔
احان نے نرمی سے اسے اپنی طرف کھینچتے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
اوکے پھر آپ جی بھر کے دیکھ لیں مجھے۔۔۔۔پھر میں چینج کروں گی۔۔۔نیند آرہی ہے۔۔۔
أئلہ اسکے سامنے سیدھی ہو کے بیٹھی ۔۔۔۔
جانم! کو سچ میں نیند آرہی ہے کیا؟mr. psycho part 22 & 23
احان کو وہ تھکی تھکی سی لگی تھی۔۔۔۔اسکے پوچھنے پہ آئلہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔
اوکے آپ چینج کر آئیں میری جان! احان نے آئلہ کے گال پہ نرمی سے لمس چھوڑتے کہا تو وہ اٹھی اور اپنا نائٹ سوٹ لیے واش روم چلی گئی۔۔۔۔
میں تو ساری رات جاگنے کا سوچ رہا تھا پر میری ہنی تو شاید آرام کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔۔اب تو ساری زندگی ہم نے ساتھ رہنا ہے۔۔ احان مسکراتے ہوئے بیڈ پہ لیٹتے آنکھیں بند کر گیا۔
ٹن ٹنان۔۔۔۔۔دیکھیں مجھے ! کیسی لگ رہی ہوں میں؟
وہ واش روم سے باہر نکلتے ہوئے اچھلتے ہوئے بیڈ کے قریب أئی تھی۔۔ احان اٹھ کے بیٹھا۔۔۔اور ہکا بکا آئلہ کو دیکھنے لگا۔۔۔
وائٹ ٹی شرٹ جس پہ بڑا سا ڈوریمون بنا ہوا تھا اور لائٹ پنک ٹراؤذر جس پہ کافی ساری تیتلیاں تھی اور وہاں بھی چھوٹے سائز کی ڈوریمون کی پکچرز تھیں۔۔۔۔۔
وہ گول گول گھومتے خوشی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
شاید دنیا کی پہلی لڑکی ہوگی یہ جو اپنی شادی کی فرسٹ نائٹ پہ ایسا نائٹ سوٹ پہنے اپنے شوہر سے پوچھ رہی تھی کہ وہ کیسی لگ رہی ہے۔
اب بھلا اسکو کیا کہوں میں کہ بالکل ایک چھوٹی بچی لگ رہی ہیں۔۔۔۔جانم نے رونا شروع کر دینا ہے اور ناراضگی الگ۔۔۔۔۔ مبارک ہو احان عباس۔۔۔۔۔اور مانو اپنے دل کی باتیں۔۔۔۔سنبھالو اب اس نادان سی لڑکی کو۔۔۔۔
اسکی دو چار سمجھ داری والی باتیں سن کے تم اسے پندرہ سے پچس سال کی لڑکی سمجھنے لگے تھے۔۔۔۔۔
کئی أوازیں احان کے دماغ میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔أئلہ نے اسکے گال پہ ہاتھ رکھا تو وہ خیالوں سے باہر آیا۔
بتائیں نا۔۔۔۔کیسی لگ رہی ہوں؟
وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
پیاری۔۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔کافی کیوٹ لگ رہی ہیں اس سوٹ میں۔۔۔ لیکن پہلے کبھی نہیں دیکھا یہ سوٹ میں نے!
احان نے آئلہ کے گال سہلاتے کہا۔۔
ہاں کیونکہ یہ میں نے چھپا کے رکھا تھا۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ کسی سپیشل ڈے پہ پہنوں گی۔۔۔۔ آج کا دن بہت خاص تھا نا تو اس لیے میں نے یہ پہنا ہے۔۔۔۔۔ بہت اچھا لگ رہا ہے مجھے!mr. psycho part 22 & 23
وہ اپنا سر تکیے پہ رکھتے بیڈ پہ لیٹتے احان کو بتارہی تھی۔۔۔ اور احان حیرت سےاسے دیکھ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا بولے۔۔۔
اچھا تو چھپا کے رکھا تھا ۔۔۔۔ ہمممم۔۔۔۔ ویری گڈ! (اپنے سپیشل دن کے لیے کارٹون والا سوٹ چھپا کے رکھا ہوا تھا جانم نے۔۔۔۔۔ میں نے پہلے کبھی نہیں سنا ایسا کچھ۔۔۔۔۔جہاں تک مجھے پتہ ہے خاص دن کے لیے تو لڑکیاں کافی قیمتی، مہنگے اور خوبصورت سے کپڑے لیتی ہیں۔۔۔۔۔ اف میری جانم بھی نا! ذرا ہٹ کے ہیں دنیا والوں سے۔۔۔۔۔ )
وہ دھیمے سے بولا تھا۔
مجھے پتہ نہیں تھا کہ اتنی جلدی مجھے أپ مل جائیں گے اور اتنی جلدی میری شادی بھی ہو جائے گی۔۔۔ورنہ میں آپکے لیے بھی ایک ایسا نائٹ سوٹ لے لیتی۔۔۔پھر ہم دونوں سیم سیم کتنے پیارے لگتے نا!
آئلہ کروٹ بدلے احان کے سینے پہ اپنا سر رکھتے بولی تھی۔۔۔۔۔ أئلہ کی بات پہ احان کی آنکھوں کے سامنے اسکی تصویر أئی تھی جسمیں وہ سیم أئلہ جیسا نائٹ ڈریس پہنے کھڑا تھا۔۔۔بالکل ایک کارٹون لگ رہا تھا۔۔۔۔ احان نے سختی سے آنکھیں بند کرتے کھولی تھیں۔۔۔
نو نو۔۔۔۔ اسکی ضرورت نہیں ہے جانم! میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں۔۔۔۔أپ بے شک اپنے لیے لے لیں پر میرے لیے نہیں۔ُ۔
احان نے آئلہ کے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے کہا ۔
نہیں۔۔۔۔میں آپ کے لیے بھی لوں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ ہم۔دونوں ایک جیسا نائٹ سوٹ پہنیں۔۔۔۔پھر کپل گوگز بھی تو پورے کرنے ہیں نا ہم نے۔۔۔
وہ اٹھ کے بیٹھی تھی تو احان بھی سیدھا ہوتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
جی ٹھیک ہے میری جان! جو آپ لینا چاہیں۔
احان نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ کہ کہیں رونا نا شروع کردے أئلہ۔
اچھا مسٹر احان! ہمارا انٹر ویو کب ہوگا؟ میں بہت اکسائیٹڈ ہوں۔۔۔۔میں نے سوچ لیا ہے کہ میں کیا پہنوں گی۔۔۔اس دن میں ہائی ہیلز پہنوں گی تاکہ میرا قد کچھ بڑا لگے ۔۔۔۔۔ہماری بہت ساری پکچرز بنے گی نا۔۔۔۔۔ٹی وی۔۔۔میگزین ہرجگہ پبلش ہونگی نا۔۔۔۔مسٹر احان آپ مجھے پہلے بتا دینا کہ کس سوال کا کیا جواب دینا ہے تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو۔۔۔۔ٹھیک ہے نا؟mr. psycho part 22 & 23
وہ اپنی دھن میں بولتی چلی گئی اور احان اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
ادھر أئیں میرے پاس۔۔۔۔۔ساری باتیں آج ہی کرنی ہیں کیا؟ کچھ کل کے لیے بھی چھوڑ دیں جانم۔۔۔
احان نے اسے اپنی طرف کھینچتے نرمی سے بیڈ پہ لٹایا اور اس پہ جھکتے سرگوشی کرنے لگا۔۔۔ وہ أئلہ کے لبوں پہ جھکنے لگا تھا کہ آئلہ اپنے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھتے اپنا چہرہ چھپا گئی۔۔۔
مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔ اسکی دھیمی سی آواز آئی تو احان فورا سے پیچھے ہٹا تھا۔۔۔۔آئلہ سے تھوڑا دور بیڈ پہ لیٹتے اس نے کروٹ بدلی اور رخ دوسری طرف کرلیا۔۔۔۔
آئلہ نے دھیرے سے ہاتھ ہٹاتے احان کی طرف دیکھا تو اسکی پیٹھ نظر آئی وہ منہ دوسری طرف پھیرے ہوئے تھا۔ وہ آہستہ سے اسکے قریب ہوئی۔۔۔پیچھے سے احان کے گرد اپنی بازوؤں کو حائل کرتے بولی۔۔۔
مسٹر احان! آپ ناراض ہوگئے ہیں؟ اوکے ناراض مت ہوں میں ایک کس دے رہی ہوں آپکو؟ دیکھیں نا!
آئلہ احان کو سیدھا کرتے اسکے سینے پہ اپنے ہاتھ رکھتے رونی شکل بنائے بول رہی تھی۔۔۔۔
ایک نہیں۔۔۔۔۔بہت ساری!
احان نے سپاٹ انداز میں کہا۔۔۔۔
اوکے بہت ساری دونگی۔۔۔۔ناراض مت ہوں۔۔۔۔۔
چلیں دیں پھر۔۔۔ احان نے کہا تو آئلہ اسکے لبوں پہ جھکی تھی۔۔۔۔اس سے پہلے کہ آئلہ کے لب احان کے ہونٹوں سے ٹکراتے۔۔۔احان نے اسکے بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑا، اسکے گال پہ نرمی سے کس کیا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
سوجائیں جانم۔۔۔۔۔اگر ایک لپ کس کیا تو پھر روکنا مشکل ہوجائے گا خود کو ۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپکو نیند أرہی ہے۔۔۔۔اب تو ہر روز میری ہانہوں میں ہونگی أپ۔۔۔۔سکون سے سو جائیں۔۔۔۔
احان نے آئلہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے سرگوشی سی کی تھی۔۔۔وہ احان کے سینے میں سمٹتے آنکھیں بند کرگئی۔کچھ ہی دیر میں احان بھی سو چکا تھا۔
*********
mr. psycho part 22 & 23
یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
پر اب کیا فائدہ ؟ اب کیا کر سکتا ہوں میں؟
وہ اب احان کی بیوی بن۔چکی ہے۔۔۔۔۔
احان۔۔۔۔۔۔۔میرا بھائی۔۔۔۔ !
میرا دوست۔۔۔۔۔۔ ہمممم۔۔۔۔۔۔ تم میرے دوست ہو احان۔۔۔لیکن تم نے اچھا نہیں کیا یہ۔۔۔۔۔
آئلہ کو اب کبھی نہیں دیکھوں گا میں۔۔۔۔۔وہ تمہارے ہی لائق ہے تمہارے جھوٹ اور فریب کے ہی قابل ہے وہ۔۔۔۔۔بہت پچھتائے گی وہ۔۔۔۔۔۔
مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔
رمیز کارپٹ پہ بیٹھے صوفے سے ٹیک لگائے ہاتھ میں خالی گلاس پکڑے نشے میں بول رہا تھا۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے ڈرنک کررہا تھا اب بالکل ہوش میں نہیں تھا۔۔۔۔
کیارا کو جب پتہ چلے گا تو وہ بھی مجھ سے نفرت کرے گی۔۔۔۔۔ میرے پاس کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔میں اکیلا ہوں۔۔۔۔کیوں اکیلا ہوں میں؟
رمیز نے گلاس کو زور سے دور پھینکا تو اسکے ٹوٹنے کی آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔۔وہ اپنے بال نوچتے گھٹنوں میں سر دیے آنسو بہانے لگا۔۔۔۔
اس سب میں میرا کیا قصور تھا آخر؟
وہ میرے گلے لگی تھی۔۔۔اسمیں ایسی کشش تھی کہ میں روک نہیں پایا خود کو۔۔۔۔۔۔ میں تو بس اسکے آس پاس رہنا چاہتا تھا۔۔۔۔کتنے دن یہی سوچ کے گزارے تھے کہ اسے اپنا بنا لوں گا۔۔mr. psycho part 22 & 23
پر وہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہوگئی ہے اب۔۔۔۔۔ اگر احان کو پتہ چلا تو وہ تو مجھے مار ہی ڈالے گا۔۔۔۔۔
نہیں وہ احان کو کچھ نہیں بتائے گی ۔۔۔۔آئلہ بہت ڈرپوک ہے اتنی ہمت نہیں کرے گی کبھی۔۔۔۔۔
بے وقوف لڑکی۔۔۔۔
رمیز نے قہقہ لگاتے ، کارپٹ پہ لیٹتے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔
***********************
وائفے! اٹھ جائیں اب۔۔۔۔ صبح کے دس بج رہے ہیں۔۔۔۔۔ابھی بھی نیند پوری نہیں ہوئی کیا؟
اگر اسکو جگایا نہیں تو میری جانم نے اگلے چوبیس گھنٹوں تک ایسے ہی سوتے رہنا ہے۔۔۔۔۔پتہ نہیں اتنی نیند کیوں آتی ہے انکو۔
احان بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے أئلہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسے جگانے کی کوشش میں تھا پر وہ شاید کچھ دیر اور سونا چاہتی تھی۔
جانم! میں شاور لینے جارہا ہوں۔۔۔۔اب آپ جاگ نہیں رہی ہیں تو مجبورا آپکو اٹھا کے لیکر جانا پڑے گا۔۔۔چلیں اب یہ کام بھی میں ہی کر لیتا ہوں۔۔۔۔
احان آئلہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے بیڈ سے اترا تو وہ أنکھیں کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔خود کو اسکی مضبوط گرفت میں پاکے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔۔۔۔
یہ کیا کررہے ہیں۔۔۔مجھے کہاں لے کے جارہے ہیں؟
احان کو گھورتے ہوئے آئلہ نے اسکی گردن کے گرد بازو حائل کیے تھے۔۔۔
کافی دیر سے آپکا جگا رہا تھا پر آپ اٹھ ہی نہیں رہی تھیں اور ٹائم بھی کافی ہوگیا ہے بہت کام کرنے ہیں اسی لیے ٹائم بچانے کے لیے میں نے سوچا کہ دونوں اکھٹے شاور لے لیتے ہیں۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
اور کوئی سوال؟
احان نے ابرو اچکائے تو وہ منہ بنا گئی۔۔
مجھے نیچے اتاریں۔ آئلہ نے احان کے سینے پہ اپنے ہاتھوں سے دباؤ ڈالا۔
نو! وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
مسٹر احان! اتاریں مجھے۔ میں بعد میں شاور لوں گی۔
وہ رونی شکل بناتے بولی تھی تو احان نے نرمی سے اسے بیڈ پہ لٹا دیا۔
خوش اب؟ احان نے ناراض سے لہجے میں کہا اور باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
اب اس میں ناراض ہونے والی کیا بات تھی۔۔۔بس اتنا تو کہا کہ مجھے ابھی شاور نہیں لینا۔۔۔۔ میں کوئی دو سال کی بچی ہوں جو یہ خود مجھے شاور دلانا۔چاہتے ہیں۔۔۔مسٹر احان۔بھی نا!
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے موبائل پہ گیم کھیلنے لگی تھی ۔۔
باہر کیوں نہیں نکل رہے مسٹر احان؟ کافی دیر ہوگئی ہے۔۔۔۔ جا کے دیکھتی ہوں۔۔۔
مسٹر احان! آپ ٹھیک ہیں؟ ہیلو؟ آپکو میری آواز آرہی ہے؟
وہ باتھروم کا ڈور نوک کرتے بول رہی تھی۔۔
نہیں! کوئی آواز نہیں آرہی مجھے۔
احان نے ہنستے ہوئے کہا۔
آواز نہیں آرہی؟ میں نے پوچھا کیا آپ ٹھیک ہیں؟ اتنی دیر ہوگئی آپ باہر کیوں نہیں آرہے ہیں؟
احان کی بات سن کے أئلہ نے اونچی آواز میں کہا تو احان نے قہقہ لگایا تھا اور اگلے ہی پل ڈور اوپن کرتے باہر آیا۔
جی بولیں! کیوں شور مچارہی ہیں؟
احان باتھ ٹوول لپیٹے چہرے پہ مصنوعی ناراضگی سجائے اپنے بازو سینے پہ باندھتے ہوئے بولا ۔
وہ ۔۔۔مجھے فکر ہورہی تھی أپکی۔۔۔۔دیر لگا دی تھی نا آپ نے تو اس لیے۔۔۔۔
احان کو ناراض سا دیکھ کے وہ دھیمی سی آواز میں بولنے لگی۔۔
دیکھ لیا نا اب؟ چلیں سامنے سے ہٹیں!mr. psycho part 22 & 23
احان نے سپاٹ سے انداز میں کہا اور وارڈ روب کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ اور آئلہ منہ بناتی باتھروم میں گھس گئی۔۔۔
ڈور کلوز ہونے کی آواز پہ احان نے مڑ کے دیکھا اور اپنا ماتھا پیٹ گیا۔۔
یہ لڑکی بھی نا۔۔۔۔کتنی ضدی ہے۔۔۔مجھے لگا ابھی میرے گلے آلگے گی پوچھے گی کہ کیا ہوا؟ ناراض کیوں ہیں؟ پر یہ تو الٹا خود ناراض ہوگئی لگتا ہے۔۔۔۔
ایسا لگ رہا ہے جیسے اس سے شادی نہ کی ہو بلکہ اڈاپٹ کیا ہو۔۔۔ میری جانم کے تو لاڈ ہی نہیں ختم ہورہے۔۔۔
احان نے ہنستے ہوئے سوچا اور بیڈ پہ بیٹھتے أئلہ کے باہر نکلنے کا ویٹ کرنے لگا۔۔۔
آئلہ کچھ دیر میں باتھ ٹوول لپیٹے باہر نکلی تو احان کو بیڈ پہ بیٹھے دیکھ کے اسکی طرف بڑھی تھی۔
أئلہ کو اپنی طرف آتے دیکھ کے احان کھڑا ہوا جبکہ اسکے دونوں ہاتھ پیچھے کو تھے۔
آئلہ کے قریب آنے پہ احان نے ہاتھ آگے کرتے اسکی طرف گلاب کا پھول بڑھایا تو وہ مسکرائی تھی۔
میری جانم کے لیے! احان نے أئلہ کے قریب ہوتے پھول اسکے ہاتھ میں دیتے سرگوشی کی تھی۔۔۔
تھینک یو جاناں!
آئلہ نے شرماتے ہوئے کہا۔
آئی لو یو! احان نے آئلہ کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسے اپنے قریب کیا اور کان میں دھیمی سی آواز میں بولا۔
آئی لو یو مور! آئلہ نے پھول کو احان کے کان پہ ٹکاتے، اسکی گردن کے گرد بازوؤں کا گھیرا بناتے ہوئے بولی تو احان مسکرادیا۔۔۔۔کچھ سیکنڈذ ایسے ہی وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
چینج کر لیں؟ آئلہ کی آواز پہ خاموشی ٹوٹی تھی۔۔۔۔۔
نہیں! احان نے دوٹوک انداذ میں کہا۔
کیوں؟ آئلہ نے سوالیہ نظروں سی اسے دیکھا تھا۔
کیونکہ اب أپکی نیند پوری ہوچکی ہے اور کافی فریش بھی لگ رہی ہیں أپ تو رات کو جو کہا تھا آپ نے وہ اب کر دیں۔۔۔
احان أئلہ کے لبوں کو انگوٹھے سے دباتے ہوئے کہنے لگا تو أئلہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔
یاد ہے نا جانم کو؟ احان نے آئلہ کی آنکھوں میں جھانکتے کہا تو آئلہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
ہاں تو پھر ؟mr. psycho part 22 & 23
احان نے اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے اسے اپنے اور قریب کیا تو آئلہ اسکے لبوں پہ جھکتی سختی سے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔ ابھی اسکے لمس کو محسوس کرتے احان نے أنکھیں بند ہی کی تھیں کہ أئلہ پیچھے کو ہٹی۔
کیا ہوا جانم؟ احان نے حیرت سے پوچھا۔
بس ہوگیا کس۔۔۔۔اب چھوڑیں مجھے۔۔۔
أئلہ نے اپنے گیلے لبوں کو ہتھیلی سے صاف کرتے کہا تو احان ہکا بکا ہوا تھا۔۔۔۔
میرے ہونٹ ابھی خشک ہیں جانم ۔۔۔۔ آئی وانٹ مور۔۔۔
پاس أئیں۔ احان نے سختی سے کہتے اسے خود میں بھینچا تو وہ اسمیں سمٹی تھی۔۔۔۔۔ اب کی بار دونوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں۔۔۔۔
آئلہ نے کچھ کہنے کے لیے لب ہلائے ہی تھے کہ احان نے انکو اپنے سلگتے لبوں کی قید۔میں لیتے أنکھیں بند کی تھیں۔۔۔۔۔احان کی گردن کے گرد أئلہ کی بازوؤں کا گھیرا ڈھیلا پڑا تھاُ۔۔۔۔۔وہ مدہوش سی ہوتی احان میں سمٹی تھی۔۔۔۔۔کچھ دیر یونہی وہ ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کرتے رہے۔۔۔۔جب سانس لینا محال ہوا تو احان اسکے لبوں کو آزاد کرتے اسکی گردن میں منہ چھپا گیا جبکہ آئلہ ہلکان ہوئی تھی۔۔۔۔احان نے۔اسے اپنے مضبوط حصار میں سنبھالا ہوا تھا ورنہ شاید وہ گر جاتی۔۔۔۔
آئلہ نے لمبی سی سانس لی اور اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تو احان نے اسکی گردن سے اپنے لب ہٹائے تھے۔۔۔
آئلہ کو نرمی سے بیڈ پہ بٹھاتے۔۔۔اسکے قریب بیٹھا۔۔۔۔۔اسکے گیلے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے صاف کرتے جانثار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔وہ تیزی سے سانس لے رہی تھی۔۔۔گال سرخ ہورہے تھے جبکہ نازک سے گلابی ہونٹ ہلکے ہکلے کانپ رہے تھے جیسے ظلم ہوا تھا ان پہ۔۔۔
احان کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
جانم۔۔۔۔میں چینج کرکے آتا ہوں پھر باہر چلتے ہیں۔۔۔
احان اسکے گال سہلاتے اٹھا اور چینج کرنے چلا گیا۔۔۔
آئلہ نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھاتے اپنی مام کو کال کی جو کہ انہوں نے ریسیو نہیں کی۔۔۔۔کافی کالز کرنے پہ بھی کوئی رسپونس نہ آیا۔۔۔۔ آئلہ نے اداسی سے موبائل کو بیڈ پہ پھینکا تھا۔
احان بلیک شرٹ اور جینز پہنے باہر نکلا تو أئلہ منہ لٹکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔ اسکی طرف آیا تو آئلہ نے نظریں اٹھا کے احان کی طرف دیکھا اور اسے تکنے لگی۔۔۔۔۔اسکے چہرے سے اداسی غائب ہوئی تھی احان کو دیکھ کے اور یہ بات احان نے نوٹ کی تھی۔۔۔
زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں کیا؟
آئلہ کو یوں خود پہ نظریں گاڑھے دیکھ کے احان نے شرارتا کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ہاں بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔آپ کافی ڈیشنگ ہیں۔۔۔۔۔۔
تھینک یو میری جانم!
أئلہ نے مسکراتے ہوئے احان کی تعریف کی تو احان مسکرایا تھا۔
کیا ہوا تھا جانم کو ۔۔۔۔ اداس کیوں بیٹھی تھیں۔
احان نے آئلہ کی تھوڑی کو اونچا کرتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہا۔
مام نے میری کال ریسیو نہیں کی وہ مجھ سے بات نہیں
کرنا چاہتی شاید۔۔۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جیسے میں انکی سگی بیٹی ہی نہیں ہوں۔۔۔۔۔آئلہ نے اداسی سے کہا۔
ایسا نہیں بولتے ہنی۔۔۔۔ بزی ہونگی وہ اسی لیے بات نہیں کررہی ہونگی۔۔۔۔ اور آپکے ڈیڈ مجھے فون کرتے رہتے ہیں أپکا پوچھتے رہتے ہیں۔۔۔۔أپ اداس مت ہوں۔
احان نے اسکا دل بہلانے کے لیے جھوٹ بولا۔
کیا سچ میں ڈیڈ آپکو کال کرتے ہیں؟
آئلہ نے خوشی سے پوچھا۔
جی جی میری جان! احان نے اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا تو آئلہ نے خوشی سے گال پھلائے تھے۔۔۔
چلیں اب چینج کریں اور باہر أجائیں۔۔۔۔بھوک لگ رہی ہے مجھے۔
احان نے آئلہ کے ماتھے پہ پیار کرتے کہا اور روم سے باہر چلا گیا۔
آئلہ چینج کرنے کے لیے باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔۔
***********mr. psycho part 22 & 23
پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے؟ رات سے کالز کررہی ہوں۔۔۔کوئی جواب ہی نہیں دے رہا۔۔۔۔ پہلے تو ایسا کبھی نہیں کیا رمیز نے۔۔۔۔ بہت فکر ہورہی ہے مجھے۔۔۔
کیارا ٹیرس میں کھڑی بار بار رمیز کو کالز کررہی تھی کوئی ریسپونس نہ ملنے پہ وہ پریشان ہوگئی تھی۔
آئی تھینک مجھے خود جانا چاہیئے۔
کیارا روم سے باہر نکلی تو رمینا بیگم کو سامنے سے آتے دیکھا وہ اسی کے روم کی طرف آرہی تھیں۔
کیارا میں تمہارے پاس ہی آرہی تھی چلو آجاؤ کچن میں میری مدد کرو۔۔۔ آج ٹیشا کو کھانے پہ بلایا ہے میں نے۔۔۔
کچھ کام ہوگیا ہے ابھی کچھ پڑا ہے تم آجاؤ مل کے سمیٹ لیتے ہیں۔۔۔
رمینا بیگم نے کیارا سے کہا اور کچن کی طرف چلی گئیں۔۔ کیارا نہ چاہتے ہوئے بھی انکے پیچھے چل دی۔۔
اس نے سوچا کہ جلدی سے کام نمٹا کے رمیز سے ملنے چلی جائے گی۔۔۔
دھیان کہا ہے تمہارا؟ کیارا کو خیالوں میں گم پا کر رمینا بیگم نے اسے گھورا تھا۔ تو وہ ہڑبڑائی تھی۔
دادو۔۔۔ وہ مجھے میری دوست سے ملنے جانا تھا۔۔۔۔کافی بیمار ہے وہ ۔۔۔۔ بس اسی کا سوچ رہی تھی۔۔۔
کیارا نے فورا سے بہانہ گھڑا تھا۔۔۔اگر اسکی دادو کو پتا لگتا کہ وہ رمیز سے ملنے جارہی ہے تو شاید وہ اسکا گھر سے نکلنا ہی بند کردیتی۔۔
اب اگر اتنی بیمار ہے تو ٹھیک ہے جاؤ تم۔۔۔لیکن تھوڑی دیر میں واپس آجانا۔۔۔ رات کو ٹیشا اور آئیں گے تو میں نہیں چاہتی کہ کوئی کمی ہو۔۔۔
رمینا بیگم نے سختی سے کہا تو کیارا خوشی سے ہاں میں سر ہلاتے کچن سے نکلی اور گھر سے باہر چلی گئی۔۔۔
***************
کیا مصیبت ہے؟ کون ہے یہ جو صبح صبح آگیا۔۔۔
مسلسل ڈور بیل کی آواز رمیز کے کانوں میں پڑتی اسکی نیند اڑا چکی تھی۔۔۔
وہ غصے سے اٹھا اور دانت بھینچتے دروازے کی طرف بڑھا۔
بنا پوچھے ڈور اوپن کیا تو غصہ حیرت میں تبدیل ہوا تھا۔۔
سامنے صنم کو دیکھ کے وہ چونکا تھا اس دن اتنی باتیں سنائی تھی رمیز نے پھر دوبارہ سے آگئی تھی وہ۔۔۔۔
ہائے۔۔۔۔ رمیز کو شرٹ لیس دیکھ کے صنم نے نظریں جھکائی تھیں۔۔۔۔اس بار وہ دل میں کوئی امید نہیں جگانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اندر آجاؤ۔۔۔۔ رمیز نے ذرا سائیڈ پہ ہوتے کہا تو وہ چپ چاپ انٹر ہوئی۔۔۔رمیز نے ڈور لاک کیا تھا۔۔۔۔
آجاؤ ۔۔۔۔ رمیز نے لاونج میں جاتے اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے چلنے لگی۔۔۔
بیٹھو ۔۔۔۔ رمیز نے اسے صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بیٹھ گئی۔۔۔ وہ اسکے سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھتے نظریں صنم پہ ٹکا گیا۔۔۔
صنم نے نظریں اٹھا کے اسکی طرف دیکھا تو وہ ایسے ہی شرٹ لیس بیٹھا اپنے چوڑے سینے پہ بازو باندھے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
وہ میں۔۔۔۔کسی کام سے آئی تھی۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
صنم دھیمی سی آواز میں گویا ہوئی تھی۔
بولو۔۔۔ کیا کام ؟ رمیز نے نرمی سے کہا تھا۔۔۔۔اسکی نگاہیں ابھی بھی صنم کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔۔دل بہک رہا تھا۔۔۔۔
میں جس کمپنی میں جاب کرتی تھی وہاں کے باس نے مجھے بلا وجہ نکال دیا ہے۔۔۔۔میں نے جب بات کی تو کوئی بھی بات نہیں سنی میری۔۔۔۔ اس طرح اچانک جاب جانے کی وجہ سے مجھے کافی پرابلم ہورہی ہے۔۔۔
میں نے پتہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کمپنی میں احان عباس صاحب کے شیئرز بھی ہیں۔۔۔ وہ تو آپکے دوست ہیں نا ۔۔۔۔ میں اسی لیے یہاں آئی ہوں۔۔۔۔آپ میری ہیلپ کر دیں۔۔۔۔مجھے میری جاب واپس دلا دیں انکو کہہ کے۔۔۔۔۔
صنم لفظوں کو چباتی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹختی بول رہی تھی ۔۔۔ جبکہ رمیز اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو بغور دیکھ رہا تھا جیسے حفظ کررہا ہو۔۔۔۔
وہ صوفے سے اٹھا اور صنم کے پاس بیٹھتے اسے دیکھنے لگا۔۔۔اسے اس طرح اپنے قریب پاکر صنم کا دل زوروں سے اچھلا تھا۔۔۔۔۔گلا سوکھنے لگا تھا۔۔۔ وہ تیزی سے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے مڑوڑے جارہی تھی۔۔۔۔
پریشان مت ہو۔۔۔۔تمہیں تمہاری جاب واپس مل جائے گی۔
رمیز نے صنم کے بالوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتے بھاری آواز میں کہا۔۔۔اسکا لمس محسوس ہونے پہ صنم کو جیسے کرنٹ سا لگا تھا۔۔۔ اسکے ماتھے پہ پسینے کے قطرے ابھرے تھے جو اسکی گال کو چھوتے اسکی گردن پر سے رینگتے ہوئے اسکے سینے کی طرف جارہے تھے۔۔۔ رمیز یہ منظر بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اسکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
رمیز اپنے انگوٹھے کو اسکی گردن پہ پھیرتے دھیرے دھیرے سہلانے لگا تو صنم کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔۔۔۔
رمیز نے ایک ہاتھ اسکے گھٹنوں پہ رکھا اور دوسرا اسکی کمر کے گرد حائل کرتے اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا تھا۔۔۔۔
جو احسان تم نے اس دن مجھ پہ کیا تھا آج اسکا حساب پورا کر دیتا ہوں۔۔۔۔
کہتے ہی وہ اسکی گردن پہ اپنے لب رکھتے مدہوش ہونے لگا جبکہ صنم کو اس کے جسم پہ جیسے سوئیاں چھبتی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔وہ کانپنے لگی تھی۔۔۔۔آواز حلق میں پھس گئی تھی۔۔۔۔۔
رمیز کافی دیر یونہی اسکی سانسیں بے ترتیب کرتا رہا تھا پھر اسے لیے وہ اپنے روم۔کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔روم میں پہنچتے اسے بیڈ پہ لٹاتے اس پہ جھکا اور پھر سے اپنی اور صنم کی سانسیں بے ترتیب کرتے اسکے لمس کو محسوس کرتے وہ مدہوش ہوگیا۔۔
***********************************************
ڈرائیو کیا ہوا؟ کتنی دیر سے رکے ہوئے ہیں ہم۔۔۔ کسی اور راستے سے چلیں نا۔۔۔۔
کیارا نے بے بسی سے کہا تھا۔۔۔ اسے رمیز کی فکر ہورہی تھی۔۔۔برے برے خیال دماغ میں گھوم رہے تھے جو اسکی ٹینشن بڑھا رہے تھے۔۔۔۔ جلدی گھر سے نکلنے کے باوجود بھی ٹریفک میں پھنسنے کیوجہ سے اسے کافی ٹائم لگ گیا تھا۔۔۔۔
آخر کار مزید دس منٹ گزرنے کے بعد وہ رش سے نکلے تھے اور وہ کچھ ہی دیر میں رمیز کے فلیٹ کے باہر کھڑی بیل بجا رہی تھی۔۔۔ تین چار بار بیل بجانے کے بعد بھی جب دروازہ کھولنے کؤئی نہ آیا تو کیارا کی ٹینشن بڑھ گئی۔۔۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں۔۔۔ اس نے جلدی سے اپنے پرس میں سے چابی ڈھونڈنے کی کوشش کی جو بہت پہلے رمیز نے اسے دی تھی تاکہ وہ جب چاہے یہاں آسکے۔۔۔
ٹینشن کی وجہ سے اسے چابی بھی نہیں مل رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے ایک بار پھر ڈور بیل بجائی تھی اور پھر سے پرس میں ہاتھ مارنے لگی۔۔۔
رمیز اور صنم ایک دوسرے کے لمس میں ایسے ڈوبے ہوئے تھے جیسے صدیوں کے پیاسے ہوں۔۔۔ کمرے میں انکی تیز سانسوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔۔وہ اس قدر مدہوش تھے ایک دوسرے میں کہ انہیں ڈور بیل کی أواز بھی سنائی نہ دی تھی۔۔۔
آخر چابی اسکے ہاتھ لگی تو کیارا نے تیزی سے ڈور اوپن کیا اور فلیٹ میں داخل ہوگئی۔۔۔لاؤنج میں کسی کو نہ پاکر اور اتنا سناٹا دیکھ کے اسکے قدم رمیز کے روم کے کی طرف بڑھے تھے جسکا دروازہ ادھ کھلا تھا۔۔۔۔mr. psycho part 22 & 23
وہ جو رمیز کے لیے فکر مند ہوتی روم کی طرف بھاگتے روم میں انٹر ہوئی تھی۔۔۔۔ رمیز کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کے کیارا کے ہوش اڑے تھے۔۔۔۔
رمیز اسکے قدموں کی أہٹ بھی محسوس نہ کرپایا تھا اور ابھی بھی صنم کی گردن میں منہ چھپائے مدہوشی کے عالم میں تھا۔۔۔ جبکہ صنم کی نظر کیارا پر پڑی تو اسکی سانس اٹکی تھی۔۔۔۔اس نے تیزی سے رمیز کو پرے کیا اور اٹھ کے بیٹھتے اپنے کپڑے سہی کرنے لگی۔۔۔ رمیز اسکے اس طرح اچانک اٹھنے پہ مدہوشی سے باہر نکلا اور صنم کی نظروں کا تعاقب کرتے دروازے کی طرف دیکھا تو اسکے اوسان خطا ہوئے تھے۔۔۔۔
کیارا بے یقینی کے عالم میں بت بنے کھڑی آنسو بہارہی تھی ۔۔۔
صنم جلدی سے بیڈ سے اترتے روم سے نکلی اور فلیٹ سے باہر چلی گئی۔۔۔
رمیز دھیرے سے بیڈ سے اترا اور کیارا کی طرف بڑھا۔۔۔ اسکے قریب جاتے جیسے ہی اس نے کیارا کے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا۔۔۔۔ ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پہ پڑا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ رمیز کیارا کو کچھ کہتا وہ اسے ایک اور تھپڑ رسید کر چکی تھی۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری فکر ہورہی تھی۔۔۔۔اتنے برے برے خیال آرہے تھے کہ پتہ نہیں تمہیں کچھ ہو نا گیا ہو۔۔۔۔ اور تم یہاں اپنے بیڈ روم میں لڑکی کے ساتھ وقت گزار رہے تھے۔
تم نے مجھے چیٹ کیا ہے۔۔۔۔ اتنے گھٹیا کب سے بن گئے تم؟ یقین نہیں ہورہا کہ تم میرے رمیز ہو۔۔۔ وہی رمیز جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔تم سے تو میری آنکھ میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں ہوتا تھا تو تم مجھے اتنی تکلیف کیسے پہنچا سکتے ہو آخر۔۔۔۔۔تم کیسے مجھے چیٹ کر سکتے ہو؟
کیارا رمیز کے سینے پہ سر رکھے روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔۔اسکی آواز دھیمی ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔۔اور اگلے ہی پل وہ بے ہوش ہوکے رمیز کی بانہوں میں جھول رہی تھی۔۔۔۔
رمیز نے اسے بیڈ پہ لٹایا اور چہرے پہ ہلکا سا پانی ڈالتے اسے ہوش میں لانے لگا تھا۔۔۔۔۔
اپنے گال پہ ابھی بھی اسے کیارا کے مارے گئے تھپڑ کی جلن کا احساس ہورہا تھا۔۔ کیارا پہ ایک عجیب سی نظر ڈالتے وہ دھیرے سے اٹھا اور روم سے باہر چلا گیا۔۔۔
**********mr. psycho part 22 & 23*******************
آپ یہاں بیٹھیں۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی جانم کو ناشتہ کرواؤں گا۔
احان نے آئلہ کے کندھوں کو پکڑتے اسے چیئر پہ بٹھایا اور خود بھی سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
تو کیا روز أپ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا کریں گے؟
وہ کہنیاں ڈائننگ ٹیبل پہ رکھتے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناتے اپنی تھوڑی اسمیں ٹکاتے ہوئے بولی تھی۔
جی بالکل۔۔۔۔۔ہنی بنی! احان نے گلاس میں جوس انڈیلتے مسکراتے ہوئے کہا تو آئلہ ہنسنے لگی۔۔۔
ہنسی آرہی ہے جانم کو؟ . احان نے جوس کا گلاس آئلہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔۔
وہ کیوں؟ احان نے سوالیہ نظروں سے آئلہ کی طرف دیکھا۔
سب کو پتا چلے گا تو وہ کیا کہیں گے کہ اتنا بڑا بزنس مین اپنی بیوی کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہے۔۔۔۔تو یہ ایک بریکنگ نیوز بن جائے گی۔۔۔
ناظرین أج ہم أپکو ایک ایسی نیوز بتانے جارہے ہیں جسے سن کر أپکے ہوش اڑ جائیں گے۔۔۔۔ أپکے پیرے تلے سے زمین نکل جائے گی۔۔۔اور اگر أپ ایک خوبصورت حسینہ ہیں تو اپنا دل تھام لیں کیونکہ یہ خبر سننے کے بعد أپکا دل کرچی کرچی ہو جائے گا۔۔۔۔ احان عباس کے نام سے کون واقف نہیں ہے؟ ایک مشہور بزنس مین۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کے کئی لڑکیوں کا دل دھڑکتا ہے۔۔۔۔ خفیہ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اتنی بارعب، وجاہت بھری شخصیت کا مالک شخص نے اپنے سارے کام چھوڑ کر اپنی بیوی کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔ نہ صرف اتنا بلکہ سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنی وائف کی اجازت کے بنا ایک قدم بھی گھر سے باہر نہیں نکالتا۔۔۔۔ اور افواہیں گردش کررہی ہیں کہ وہ نمبر ون رن مرید بننے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔
أئلہ نے بٹر نائف کو مائیک بناتے رپورٹر کی طرح بولتے ہوئے قہقہ لگایا تو احان بھی بے ساختہ ہنس پڑا تھا۔
بہت باتیں بنانے آگئی ہیں جانم کو۔۔۔۔ وہ بریڈ پہ ایپل جیم لگاتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔جب میں چھوٹی تھی نا تو مجھے رپورٹر بننے کا شوق تھا۔۔۔۔ وہ جوس کا سپ لے کے بولی۔۔۔
اور آج یہ شوق پورا ہوگیا ہے نا! احان نے ہنستے ہوئے کہا تو آئلہ ہاں میں سر ہلاتے مسکرادی۔
اب آپ اپنے سارے شوق پورے کرسکتی ہیں جانم!
احان نے بریڈ آئلہ کی طرف بڑھاتے کہا تو اس نے چھوٹی سی بائٹ لی۔۔۔
رئیلی؟ اوکے مجھے نا تھوڑا تھوڑا ماڈل بننے کا بھی شوق تھا۔۔۔۔ وہ پیاری پیاری ماڈلز دیکھ کے میرا بھی دل چاہتا تھا کہ میں بھی ایک مشہور ماڈل بنوں۔۔۔۔
آئلہ احان کی طرف دیکھتے کہنے لگی۔۔mr. psycho part 22 & 23
ہممممم۔۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔ احان نے کچھ سنجیدہ انداز میں کہا۔۔
پر جانم ماڈل کیوں بننا چاہتی ہیں؟ احان نے سوال کیا۔۔
کیونکہ مجھے انکے ڈریس۔۔۔میک اپ اور انکا سٹائل بہت پسند ہے۔۔۔۔ اور پھر جب میں فیمس ہو جاؤں گی تو ہو سکتا ہے کہ مجھے موویز میں کام کرنے کی آفر ہوجائے۔۔۔۔پھر میں ایک مشہور ایکٹرس بن جاؤں گی۔۔۔۔
وہ اپنے خوابوں کی دنیا میں کھوئی بولے جارہی تھی جبکہ احان کے ماتھے پہ بل پڑنے لگے تھے۔۔۔۔۔
جانم۔۔۔۔چلیں ناشتہ کریں پہلے باقی باتیں بعد میں کر لیں گے۔۔۔ احان نے بات کا رخ بدلا تو وہ ناشتہ کرنے لگی۔۔۔جبکہ احان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی وہ بغور آئلہ کو دیکھ رہا تھا جو جوس پینے میں مصروف تھی۔۔۔۔کئی وسوسے احان کے ذہن میں أنے لگے تھے جنہیں جھٹکتے وہ أئلہ کے قریب ہوا اور اسکا بازو پکڑتے اسے نرمی سے اٹھایا تو وہ گلاس ٹیبل پہ رکھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
کیا ہوا مسٹر احان؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟
وہ اسکے ساتھ چلتی اس سے پوچھنے لگی۔
کہیں لے کے جارہا ہوں آپکو۔
احان نے أئلہ کے بازو پہ موجود ہاتھ کی گرفت کو مضبوط کرتے کہا تھا۔۔۔۔ اسکی سخت ہوتی گرفت پہ أئلہ نے اپنا بازو چھڑانے کی ناکام کوشش کی ۔۔
احان گاڑی کے قریب پہچتے آئلہ کو فرنٹ سیٹ پہ بٹھاتے خود بھی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔۔۔ اب کی بار آئلہ کچھ سہمی تھی۔۔۔۔
بنا کچھ کہے احان نے گاڑی سٹارٹ کردی اور کچھ ہی دیر میں کسی روڈ پہ پہنچتے احان نے گاڑی کی رفتار کم کی تھی۔
ڈر لگ رہا ہے آپکو؟ احان نے آئلہ کی طرف دیکھتے پوچھا جو سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔
نہیں۔۔۔۔ آئلہ نے احان کی طرف دیکھے بغیر کہا تو احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔
تو پھر آپکا دل اتنا شور کیوں مچارہا ہے؟؟؟ چپ کرائیں اسے۔۔۔۔کافی دیر سے میرے کانوں میں آواز گونج رہی ہے۔۔۔
احان نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا تو آئلہ اسے گھورنے لگی۔
گھور لیں۔۔۔۔آپکا ہی ہوں میں۔۔۔۔۔ احان نے دانتوں تلے لب دبائے تھے۔۔۔۔
کچھ بولیں بھی؟ باہر کیا جھانک رہی ہیں؟ باہر پھینک دوں کیا آپکو؟
احان نے گاڑی روکی اور آئلہ کے قریب ہوتے ہوئے شرارتا کہا۔۔
بات کرنے کی کوشش مت کریں۔ آئلہ غصے سے بولی۔
اوکے! بات نہیں کرتا! پیار کر لیتا ہوں۔۔ احان نے کہتے أئلہ کے گال پہ ہلکے سے بائٹ کی تو وہ غصے سے اسے دیکھتے اگلے ہی پل اسکا بازو پکڑتے اپنے دانتوں کو گاڑھتے زور سے بائٹ کر چکی تھی۔ احان نے سختی سے آنکھیں بند کرتے اپنی ہنسی دانتوں تلے دبائی تھی۔۔۔
میری چھوٹی سی زومبی، پی جائیں میرا سارا خون۔۔۔
mr. psycho part 22 & 23احان نے قہقہ لگاتے کہا تو وہ اسکا بازو دور جھٹکتے اسے گھورنے لگی۔۔۔۔۔۔
دیکھو ذرا ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی چھوٹی سی چوہیا نے کاٹا ہو۔۔۔۔ کتنے تیز دانت ہیں آپکے۔۔۔۔
احان نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا تو وہ رونے لگی تھی۔۔۔
ارے ارے۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں؟ پہلے مجھ پہ ظلم کرتی ہیں پھر خود ہی رونے لگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔
احان نے آئلہ کو اپنے سینے سے لگاتے کہا تو وہ چپ ہوگئی اور احان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
آپ مجھے کہاں لے کے جارہے ہیں؟ وہ اپنی ہتھیلی سے گالوں پہ چمکتے آنسوؤں کو صاف کرتے کہنے لگی۔۔۔
آپکو کڈ نیپ کر کے بہت دور لے کے جارہا ہوں۔۔۔۔
وہ سپاٹ انداذ میں بولا تو آئلہ جیسے ڈر سی گئی تھی۔
کیوں؟ وہ سوالیہ نظروں سے احان کو دیکھنے لگی۔۔ تو احان سیدھا ہوا اور گاڑی سٹارٹ کرتے بولا۔۔۔
تاکہ میری جانم پہ کسی اور کی نظر نہ پڑے اس لیے۔۔۔۔
احان کے لہجے کی سختی محسوس کرتے أئلہ کو اب سچ میں ڈر لگ رہا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پہ زبان پھیرتے۔۔۔۔اپنی انگلیاں چٹخنے لگیتھی۔۔۔ احان نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔اسکے چہرے سے خوف واضح ہورہا تھا۔۔۔احان کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.