written by barbie boo

mr.psycho part 24 & 25
ایک بار تم اس دنیا میں آجاؤ ! پھر میری زندگی آسان ہوجائے گی۔۔۔ بہت کچھ سہا ہے میں نے۔۔۔ اب مزید کچھ نہیں سہوں گی۔۔۔۔ کچھ بھولی نہیں میں۔۔۔۔ تم سے ایک ایک ظلم کا حساب لوں گی میں احان عباس۔۔۔۔
تمہارے بچے کو بتاؤں گی میں کہ تم کتنے ظالم باپ ہو۔۔۔ایسا باپ جس نے خود اتنی اولاد کو دنیا میں آنے سے پہلے مروانے کی کوشش کی۔۔۔۔
تم تو سمجھتے ہوگے کہ میں مر چکی ہوں پر تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ کچھ مہینوں بعد تم کتنی اذیت کا شکار ہونے والے ہو۔۔۔
جب تمہیں اس بچے کی پیدائش کا پتہ چلے گا تو باپ بننے کی خوشی کا احساس ہوگا تمہیں تو تم خود اپنے بچے کے لیے میرے سامنے جھکو گے اور مجھے اس دن کا انتظار ہے بس۔۔۔
تم سے بہت جلد ملاقات ہوگی اور اس بار میں کمزور نہیں بلکہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور بن کے أؤں گی تمہارے سامنے۔۔۔۔
لینا اندھیرے کمرے میں دیوار سے ٹیک لگائے سوچ رہی تھی۔۔ رمیز نے اسے شہر سے دور کسی علاقے میں چھپا کے رکھا ہوا تھا اور وشرام نے رمیز کے کہنے پہ ہی احان سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ لینا کو ختم کر چکا ہے۔۔۔ احان کے مطابق لینا مر چکی تھی پر حقیقت میں وہ کسی محفوظ مقام پر قیام پذیز تھی اور احان سے انتقام لینے کی سازشیں کررہی تھی۔۔
*******________mr.psycho part 24 & 25
چلیں جانم گاڑی سے باہر آئیں۔
احان نے ایک بڑے سے مال کے سامنے گاڑی روکی۔۔گاڑی سے نکلتے آئلہ کو بھی اترنے کا اشارہ کیا۔۔
یہ کونسی جگہ ہے؟ کیا ہم شاپنگ کرنے آئیں ہیں؟
آئلہ جو سہمی ہوئی تھی۔ ایک دم سے خوشی سے کھل اٹھی تھی۔
جی جانم! تو کیا آپ سچ میں ڈر گئی تھیں کہ میں کڈنیپ کرکے کہیں دور لے جا رہا ہوں آپکو؟
احان نے آئلہ کی ناک کو چھوتے کہا تو وہ دانت نکالے اسے دیکھنے لگی تھی۔
یہ آپکے چھوٹے تیز دانت بہت خطرناک ہیں۔
وہ اپنے بازو پہ ہاتھ پھیرتے کہنے لگا جہاں آئلہ کے دانتوں کے نشان واضح ہورہے تھے۔۔ وہ دانت بھینچنے لگی۔
اب چلیں نا۔۔۔۔مجھے بہت ساری شاپنگ کرنی ہے۔
احان کا بازو پکڑے وہ بولی تھی۔
ہاں ۔۔۔۔۔ جانتا ہوں میری جانم نے بہت ساری شاپنگ کرنی ہے۔۔۔
وہ آئلہ کو لیے مال میں داخل ہوا۔۔۔
واؤ۔۔۔۔ کافی بڑا مال ہے یہ تو۔۔۔۔ وہ چاروں طرف حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
آجائیں پہلے جانم کے لیے کپڑے لے لیتے ہیں۔۔۔
احان آئلہ کا ہاتھ تھامے بوتیک کی طرف بڑھا تو وہ بچوں کی طرح اچھلتے ہوئے چلنے لگی۔۔۔ أس پاس کے گزرتے لوگ اسے دیکھتے ہنس رہے تھے۔
جانم۔۔۔۔اچھلیں تو نہیں نا۔۔۔ آرام سے چلیں ۔۔۔ کہیں گر نہ جائیں آپ۔۔۔ احان نے فکرمندی سے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی مسکرادی۔
جو جو ڈریس جانم کو چاہیئے ۔۔۔۔ سیلیکٹ کرتی جائیں۔۔۔
شاباش۔۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
احان نے آئلہ کا ہاتھ چھوڑتے کہا تو وہ کپڑے دیکھنے لگی۔
آفس سے کال آنے پہ احان فون پہ مصروف ہوگیا۔۔۔ بات کرکے واپس آیا تو وہ سارے ڈریس پیک کرنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔
تو لے لیے اپنے من پسند ڈریس؟ احان نے آئلہ کے قریب جاتے کہا۔ جو کاؤنٹر کی طرف کھڑی تھی۔
یس۔۔۔۔دیکھیں۔۔۔۔میں نے اپنے سارے فیورٹ ڈریس لیے ہیں مسٹر احان۔۔۔۔ جیسے میں ہمیشہ سے چاہتی تھی بالکل ویسے۔۔۔۔ وہ خوشی سے بولی تو احان نے ایک نظر دیکھا اور چونکا تھا۔۔ سارے ویسٹرن ڈریس لیے تھے آئلہ نے ۔۔۔ بلاؤز، سمال سکرٹ، سلیو لیس شارٹ فراکس ، کسی کا بیک ڈیپ تو کسی کا فرنٹ، گھٹنوں تک مشکل سے آتی شاید۔۔۔۔
احان کے ماتھے پہ پسینہ أنے لگا تھا۔۔۔۔ وہ چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہا بس۔۔۔۔
کافی دیر تک وہ مالز میں گھومتے شاپنگ کرتے رہے تھے۔۔۔آئلہ نے اپنے لیے کافی کچھ لے لیا تھا۔۔۔وہ کافی خوش لگ رہی تھی۔۔۔اسے خوش دیکھ کے احان بھی خوش تھا پر کہیں نہ کہیں اسکے چہرے پہ پریشانی کے آثار نمایاں ہورہے تھے۔۔۔
بہت تھک گئی ہوں میں۔۔۔۔ ساری چیزیں اتنی پیاری تھیں کہ انکو دیکھ کے ہی مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
مسٹر احان۔۔۔ تھینک یو۔۔۔۔ اتنی ساری شاپنگ کرانے کے لیے۔۔۔
وہ آئس کریم کھاتی خوشی سے بول رہی تھی۔۔ جبکہ احان گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔۔۔
میری جانم خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں۔
وہ آئلہ پہ ایک نظر ڈالتے بولا تھا۔
مام ڈیڈ تو مجھے میری مرضی سے کچھ بھی نہیں لینے دیتے تھے۔۔۔۔ ہر چیز اپنی پسند کی دلاتے تھے۔۔۔مجھے کچھ پسند ہے بھی یا نہیں انہیں کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔ پر اب میں بہت خوش ہوں آپ نے مجھے ایک بار بھی نہیں ٹوکا کہ یہ نہ لو ، وہ نہ لو۔۔۔۔ مجھے ساری شاپنگ اپنی پسند سے کرنے دی آپ نے۔۔۔
بہت اچھے ہیں آپ۔۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
آئلہ کے گال خوشی سے پھول گئے تھے۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔آپ پہ کوئی روک ٹوک نہیں لگاؤں گا میں۔۔۔۔آپ اپنی مرضی کی زندگی گزاریں گی میرے ساتھ۔۔۔
احان نے اسکی چمکتی آنکھوں میں دیکھتے کہا تو اسکے ہونٹوں پہ مسکان ابھری تھی۔
آپ اندر جائیں، میں سامان لے کے آتا ہوں۔۔۔
گھر میں گاڑی داخل کرتے، بریک لگاتے وہ آئلہ کو کہنے لگا۔۔۔
میں آپکی ہیلپ کروں؟
وہ گاڑی سے اترتے ہوئے بول رہی تھی۔
نہیں جانم۔۔۔ أپ اندر جائیں، میں کر لوں گا یہ سب۔۔
احان نے اسکے گال تھپتھپائے تو وہ وہاں سے چلی گئی۔۔
لاؤنج سے ہوتے ہوئے اپنے روم میں داخل ہوئی اور بیڈ پہ تھکے ہارے انداز میں ڈھے سی گئی۔۔۔
کچھ دیر میں شاپنگ بیگز ہاتھوں میں پکڑے احان روم میں آیا تو أئلہ بے سدھ بستر پہ پڑی ہوئی تھی۔۔۔
بیگز صوفے پہ رکھتے وہ بیڈ کی طرف بڑھا۔۔ اسے سیدھا کرتے لٹایا۔۔ اور بیڈ کے پاس پڑے کاؤچ پہ بیٹھتے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
دونوں بازوں کھولے بیڈ پہ پھیلائے، بچوں کی طرح ذرا سے لب کھولے وہ ایسے سورہی تھی جیسے بہت سخت قسم کی محنت کی ہو۔۔۔۔
اسے مسکراتے ہوئے دیکھے جارہا تھا ۔۔۔۔
اتنی جلدی کیسے نیند آجاتی ہے آپکو جانم؟ ابھی تو میری ہیلپ کرنے کی باتیں کررہی تھیں آپ اور اب نیند کے مزے لے رہی ہیں میری ہنی۔۔۔۔
احان کاؤچ سے اٹھتے بیڈ سے کی سائیڈ پہ بیٹھا آئلہ کے گال سہلا رہا تھا۔۔۔ اسکی نظر صوفے پہ پڑے بیگز پر گئی تو آئلہ کے سیلیکٹ کے گئے ڈریس اسے یاد۔أئے اور احان کے چہرے پہ پھر سے پریشانی کے سائے لہرائے تھے۔
______******_____mr.psycho part 24 & 25
اپنی گردن پہ کچھ گرم سا لمس محسوس ہوا تو اسکی آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔ ہلنے کی کوشش کی تو خود کو کسی کے مضبوط حصار میں پایا۔۔۔
کچھ دیر پہلے ہونے والا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تو وہ ایک جھٹکے سے اسے مضبوط وجود کو دور دھکیلتی اٹھی تھی۔۔۔
ریلیکس! رمیز سیدھا ہوتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے بولا تھا۔ وہ ابھی تک شرٹ لیس ہی تھا۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے چھونے کی؟ اتنا سب کرنے کے بعد بھی تمہیں ذرا شرم نہیں آرہی؟
کیارا غرائی تھی۔۔۔ تیز سانسیں لیتے وہ رمیز کو غصے سے دیکھنے لگی۔۔
ڈرائیور کو واپس بھیج دیا تھا میں نے۔۔۔ آرام سے لیٹ جاؤ تم۔
رمیز نے سپاٹ سے لہجے میں کہا اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھی پلیٹ اٹھائی جسمیں سیب اور فروٹ نائف تھی۔۔ وہ سیب چھیلنے لگا۔
بھاڑ میں جاؤ تم۔۔ کیارا آنسو بہاتی بیڈ سے اترنے لگی۔ تو رمیز فروٹ نائف اسکے ہاتھ میں پکڑاتے اپنے سینے پہ زور زور سے وار کرنے لگا۔۔۔ خون کے فوارے پھوٹے تھے جو چھینٹوں کی صورت میں کیارا کے چہرے پہ جابجا پھیلے تھے۔ُ کیارا نے چیخ ماری تھی۔۔۔
چیٹ کیا ہے نا میں نے تمہیں۔۔۔ بہت تکلیف پہنچائی ہے نا۔۔۔۔ مجھے مر جانا چاہیئے۔۔۔۔ مار دو مجھے۔۔۔ جان لے لو میری۔۔۔۔یہی میری سزا ہے مار دو مجھے مار دو ۔ ۔
وہ پاگلوں کی طرح بولتے خود کو زخم دیے جارہا تھا۔۔۔۔آنسو آنکھوں سے نکلتے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔۔
سٹاپ اٹ۔۔۔۔ سٹاپ اٹ! پلیز مت کرو ایسا!
کیارا نائف کو دور پھینکتے بولی تو رمیز بے ہوش ہوتے اسکی بانہوں میں جھول گیا۔۔۔۔
کیارا نے اسے سیدھا لٹاتے، تیزی سے سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور کافی ساری کاٹن کو اسکے سینے پہ رکھتے خون روکنے کی کوشش کی جو تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھیں ٹپ ٹپ کرتے آنسو بہائے جارہی تھیں۔۔۔۔
رمیز۔۔۔۔ آنکھیں کھولو پلیز۔۔۔۔۔ وہ بینڈیج کرتے ، سینے پر سے خون کے چھینٹے صاف کرتے روتے ہوئے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھاتے رمیز کے چہرے پہ ہلکے ہلکے چھینٹے ڈالے تو وہ دھیرے سے آنکھیں کھولنے لگا۔۔۔۔۔
کیوں رو رہی ہو تم میرے لیے کیارا؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے نا! میں نے دھوکہ دیا ہے ۔۔۔ سزا دو مجھے۔۔۔۔ مجھے بھی تکلیف پہنچاؤ نا۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے کیارا کی طرف دیکھتے ہوئے شرمندہ سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
پہنچا تو چکے ہو خود کو تکلیف تم۔۔۔ اور کتنی تکلیف پہنچاؤ گے؟ اور تمہیں لگتا ہے کہ اسطرح تم خود کو ہرٹ کر وگے خود کو سزا دوگے تو کیا میری تکلیف کم ہو جائے گی رمیز؟
تمہیں اسطرح دیکھ کے مجھے اور بھی دکھ ہورہا ہے۔۔۔۔
کیارا روتے ہوئے اسکے ہاتھ کو پکڑتی اپنی أنکھوں سے لگا گئی۔۔۔تو رمیز نے سختی سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
******________
دوبارہ ایسے خود کو ہرٹ نہیں کرنا رمیز!
کیارا اسکے گال پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تو رمیز اسے دیکھنے لگا۔۔۔
لیٹے رہو پلیز۔۔۔۔۔ رمیز نے اٹھنے کی کوشش کی تو کیارا نے اسے روکا تھا۔mr.psycho part 24 & 25
کیوں کررہی ہو یہ سب؟ جاؤ تم یہاں سے۔ مجھے اکیلا چھوڑ کے چلی جاؤ۔ میں تمہاری محبت کے لائق نہیں ہوں۔۔۔صحیح کہا تھا تم نے۔۔۔ بہت گھٹیا ہوں میں۔۔۔۔۔اب میں تمہاری اس کئیر کے قابل بھی نہیں رہا۔۔۔۔میں تم سے نظریں نہیں ملا پارہا کیارا۔۔۔۔ مجھے کبھی معاف مت کرنا۔۔۔ کبھی معاف مت کرنا مجھے۔۔۔۔ میں نے تمہارا بھروسہ توڑا ہے تمہیں دکھ پہنچایا ہے۔
رمیز آنکھیں بند کیے بولے جارہا تھا۔۔۔۔اسکے لفظوں سے ندامت جھلک رہی تھی۔۔۔اب نجانے وہ سچ میں اپنی غلطیوں پہ شرمندہ تھا یا بس ناٹک کررہا تھا۔
ہاں یہ سچ ہے کہ تم نے میرا بھروسہ توڑا ہے۔۔اور مجھے بہت دکھ دیا ہے۔۔۔۔پر یہ بھی سچ ہے کہ میں تم سے بے حد محبت کرتی ہوں۔۔۔تمہیں خود سے زیادہ چاہتی ہوں ۔۔۔میں نے ہرپل تمہیں سوچا ہے اور آنے والا ہر لمحہ تمہارے ساتھ گزارنے کا ہی تصور کیا ہے۔۔۔۔میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔تمہارے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
اور تم نے جو کیا ہے وہ شاید میں کبھی نہ بھول پاؤں رمیز۔۔۔۔ پر میں تمہیں اس حال میں اکیلا چھوڑ کے بھی نہیں جاسکتی۔۔۔
کیارا نے رمیز کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرتے نم آنکھوں سے کہا تھا۔
رمیز کیارا کی أنکھوں میں جھانکنے لگا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر کو فون کر دیتی ہوں میں۔۔۔ وہ آجائیں گے تو پھر چلی جاؤں گی میں۔۔۔
کیارا موبائل پہ نمبر ڈائل کرنے لگی تو رمیز نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا۔
نہیں۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر کو بلانے کی ، مجھے بس تمہاری ضرورت ہے پلیز تم کہیں مت جاؤ۔۔۔۔میرے پاس رہو کیارا۔۔۔
رمیز نے نم أنکھوں سے التجا کی۔۔
ہممم۔۔۔تم پریشان نہیں ہو۔۔۔میں کہی نہیں جارہی۔۔۔۔ ریلیکس رہو تم۔۔۔۔۔!
کیارا نے رمیز کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑاتے نرمی سے کہا تو رمیز نے اسکے چہرے پہ نظریں گاڑھی تھیں۔۔۔
میں ٹیشا کو فون کردیتی ہوں تاکہ وہ آج نہ آئیں۔۔۔اور دادو کو بھی بتا دیتی ہوں کہ آج گھر نہیں آپاؤں گی میں۔۔
کیارا بیڈ سے اترتے ٹیرس کی طرف بڑھ گئی اور ٹیشا کو کال کرنے لگی۔۔
ہیلو آپی! کیسی ہیں آپ؟mr.psycho part 24 & 25
ٹیشا نے پرجوش ہوتے پوچھا تھا۔۔
میں ٹھیک ہوں ٹیشا۔۔۔ایکچلی مجھے تمہاری کچھ ہیلپ چاہیئے تھی۔۔۔اسی لیے کال کی ہے۔۔۔۔
کیارا کی آواز سے پریشانی جھلکتی محسوس ہوئی تو ٹیشا کو فکر ہوئی تھی۔
کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟ دادو ٹھیک ہیں؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں آپ؟
وہ فکرمندی سے بولی تھی۔۔
ہاں دادو ٹھیک ہیں۔۔۔میں اس وقت رمیز کے گھر ہوں۔۔رمیز کو چوٹ لگی ہے تو اسی وجہ سے مجھے یہاں رکنا پڑے گا۔۔۔ تو اسی وجہ سے۔۔۔۔۔
کیا ہوا رمیز بھائی کو؟
کیارا کی بات بیچ میں کاٹتے ٹیشا بول پڑی۔ تو کیارا خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
ہیلو آپی! کیا ہوا؟ چپ کیوں ہو گی آپ؟ کیا ہوا ہے رمیز بھائی کو؟ احان بھائی کو بتایا آپ نے؟ اگر زیادہ چوٹ لگی ہے تو بتائیں ۔۔۔میں ابھی عادی کے ساتھ آجاؤں گی۔۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
ٹیشا ایک ہی سانس میں بولے جارہی تھی ۔۔۔ اسے اسطرح فکر کرتے دیکھ کے کیارا کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔۔۔ وہ احان کی طرح رمیز کو بھی اپنا سگا بھائی ہی سمجھتی تھی اسی لیے اتنی پریشان ہورہی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔احان بھائی کو نہیں بتایا۔۔۔۔ تم فکر نہ کرو۔۔۔زیادہ چوٹ نہیں لگی۔۔۔۔ میں بس یہاں رک کے اسکا خیال رکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ پر دادو نے کہا تھا کہ جلدی گھر آنا کیونکہ آج تم آنے والی تھی نا۔۔۔۔
اچھا میں سمجھ گئی۔۔۔آپ فکر نہ کریں ۔۔۔۔ ہم۔کسی اور دن آجائیں گے۔۔۔۔ آپ رمیز بھائی کا خیال رکھیں بس۔۔۔۔
اور ضرورت پڑے تو احان بھائی کو لازمی بتا دیجیے گا۔۔۔ ٹھیک ہے نا آپی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔بائے!
ٹیشا نے کیارا کی بات سمجھتے ہوئے کہا اور فون بند کیا۔۔۔ تو کیارا نے نم ہوتی آنکھیں صاف کی تھیں۔۔۔۔
کتنا مان تھا ہمیں تم پہ رمیز۔۔۔۔کتنی محبت، کتنا اعتبار کیا تم پہ۔۔۔۔ اگر ٹیشا کو پتہ چل جاتا تو؟ اور احان بھائی وہ تو تمہیں اپنا سگا بھائی سمجھتے تھے۔۔۔۔
کسی کا بھی کوئی خیال نہیں آیا تمہیں، ایک بار بھی نہیں!
وہ آنسو صاف کرتے روم میں آئی تو رمیز کی طرف دیکھا۔۔۔ اسکی آنکھیں سختی سے بند تھیں۔۔۔ درد کی وجہ سے شاید وہ أنکھیں نہیں کھول پارہا تھا۔۔۔۔
وہ اسکے بیڈ کے پاس آئی، سائیڈ ٹیبل سے پین کیلر نکالی اور رمیز کو سہارا دیتے ذرا سا اوپر کیا اور پین کلر کھلائی، واپس سے لٹا دیا۔ اور اسکے قریب ہی بیٹھتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی۔۔۔
______*******mr.psycho part 24 & 25
کیا ہوا؟ کس کا فون تھا ؟ اور تم اتنی پریشان کیوں نظر آرہی ہو؟
عادی نے ٹیشا کو پریشان دیکھتے پوچھا۔۔۔
وہ ایکچلی، أپی کی بہت اچھی دوست ہیں ایک۔۔۔انکی طبیعت کافی خراب ہے تو آپی اسکے پاس رکی ہیں۔۔۔۔ یہی بتانے کے لیے انہوں نے کال کی تھی۔۔۔
ہم کسی اور دن چلیں گے پھر۔
ٹیشا نے صوفے پہ بیٹھتے کہا۔
اوہو۔۔۔۔ تم ٹینشن نہیں لو۔۔۔ پھر کبھی لگا لیں گے چکر۔۔۔
عادی ٹیشا کے قریب صوفے پہ بیٹھتے محبت سے کہنے لگا۔۔
ہمممم۔۔۔۔ رات کو کہیں باہر کریں گے ڈنر۔۔۔ کیا کہتے ہو؟
ٹیشا نے عادی کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے پوچھا۔
جیسا آپکا حکم۔۔۔۔! آپ کہیں اور ہم نہ مانیں۔۔۔ اتنی تو ہمت نہیں میری۔۔۔
عادی نے شرارتا کہا تو وہ اسے گھورنے لگی۔۔۔
کچھ زیادہ ہی فرمانبردار بن رہے ہو آجکل!
وہ عادی کا کان کھینچتے بولی تو وہ ایک جھٹکے سے اپنا کان چھڑاتے اس پہ جھکا تھا۔۔۔
تو کیوں نہ کروں فرمانبرداری؟
میری سویٹ ہارٹ جو ہو تم!mr.psycho part 24 & 25
عادی اس پہ جھکے اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔
اچھا اب ہٹو۔۔۔ کہیں بھی شروع ہو جاتے ہو۔۔۔۔ دروازہ کھلا ہوا ہے کہیں کوئی آنہ جائے!
ٹیشا عادی کو خود پہ حاوی ہوتا دیکھ کے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
تمہاری صحبت کا اثر ہے۔۔۔کافی رومینٹک ہوچکا ہوں میں۔۔۔اب تم سے ہی رومینس کروں گا نا۔۔۔ اور اگر تم نہیں چاہتی تو ٹھیک ہے میں کسی اور کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
عادی نے ٹیشا کو تنگ کرتے کہا تو ٹیشا نے اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھتے اسے خاموش کرایا تھا۔
جان لے لوں گی تمہاری! ٹیشا نے عادی کے لبوں پہ انگلی رکھتے اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔۔ اگلے ہی پل اسکی انگلی اپنی انگلیوں میں پھنساتے وہ ٹیشا کے لبوں پہ جھکتے اسکی سانسیں بے ترتیب کر گیا۔۔
ٹیشا نے دونوں بازوؤں کو عادی کی گردن کے گرد حائل کرتے سختی سے اسے خود میں بھینچا تو کچھ دیر تک ایسے ہی وہ دونوں سانسوں کا تبادلہ کرتے رہے، بے قابو ہوتے دل کی دھڑکنوں کو سنتے، گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے رہے وہ ایک دوسرے میں کھوئے رہے اور پھر الگ ہوئے۔
دونوں کی سانسیں پھول گئی تھیں۔۔۔۔مسکراتے لبوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے وہ پھر سے ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کرتے مدہوش ہوگئے۔۔
______********
احان فریش ہو کے باہر آیا ۔۔۔ وائٹ کلر کی لوز شرٹ اور ٹراؤذر پہنے، بالوں میں انگلیاں پھیرتے وہ بیڈ کی طرف بڑھا۔ جہاں أئلہ نیند کے مزے لے رہی تھی۔
میری چھوٹی سی جان! چوبیس گھنٹوں میں سے تقریبا انیس، بیس گھنٹے تو سوتی رہتی ہیں۔۔۔ ایسے تو میری جانم۔اپنی آدھے سے زیادہ زندگی سوتے سوتے گزار دیں گی۔۔۔۔mr.psycho part 24 & 25
او نو! ایسا نہیں ہونے دے سکتا میں۔۔۔۔ مجھے تو اپنا ہر سیکنڈ میری جان کے لمس کو محسوس کرتے۔۔۔۔ہر پل انکی قربت میں گزارنا ہے۔۔۔ اور اسکے لیے میری ہنی کے سر سے یہ نیند کا بھوت اتارنا ہوگا مجھے۔۔۔۔۔
احان بیڈ کی سائیڈ پہ بیٹھتے آئلہ کو بغور دیکھتے مسکراتے ہوئے سوچنے لگا۔۔۔
ہنی۔۔۔۔۔میری چھوٹی سی زومبی۔۔۔۔۔جلدی سے جاگ جائیں۔۔۔
وہ آئلہ کے ایک گال پہ اپنا ہاتھ رکھتے اور دوسرے پہ ہلکے سے بائٹ کرتے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
زومبی مت بولیں مجھے ۔۔۔۔ آئلہ نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔اور کروٹ بدلتے کہنے لگی۔۔۔
کیوں نہ بولوں؟ میری چھوٹی چوہیا!
وہ آئلہ کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔۔
مسٹر احان! چوہیا نہیں ہوں میں سمجھے آپ!mr.psycho part 24 & 25
وہ جھٹ سے اٹھی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے احان کو گھورنے لگی۔۔۔
تو پھر یہ أپکے دانت ایک دم چوہیا کی طرح اتنے تیز ترار کیوں ہیں؟
وہ آئلہ کے قریب ہوا اور اسکے جبڑے کو نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیتے دبایا تو آئلہ کے دونوں لب کھلے تھے اور اسکے چھوٹے چھوٹے دانت نظر آنے لگے۔۔
اگلے ہی پل وہ اٹھتے ہوئے احان کا ہاتھ جھٹکتے اسکی گردن پہ جھکتے اپنے دانت گاڑھ چکی تھی۔ اچانک آئلہ کی اس حرکت پہ احان سنبھل نہیں پایا اور بیڈ پہ پیچھے کی طرف گرا اور أئلہ بھی اسکے ا وپر ڈھے گئی۔۔ بری طرح اسکی گردن پہ دانتوں کے نشان چھوڑنے کے بعد وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اٹھی تھی۔
اب پتہ چلا۔۔۔ دوبارہ کبھی مجھے چوہیا مت بلایے گا۔۔۔ورنہ میں سچ میں آپکا خون پی جاؤں گی۔۔۔۔
کمرے میں احان کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔ جبکہ آئلہ اپنی تیز ہوتی سانسوں کو نارمل کرنے لگی۔۔۔
آیم ریئلی سوری جانم جو میں نے آپکو چوہیا بولا۔۔۔۔
أپ چوہیا نہیں ہیں۔۔۔۔ ابھی جو آپ نے کیا ہے نا اس سے مجھے اب یقین ہو گیا ہے کہ آپ واقعی ایک حسین رومبی ہیں۔۔۔۔میری چھوٹی زومبی۔۔۔
احان نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا اور ہنسنے لگا۔۔۔
******_________
وہ رونے لگا۔۔۔ کیارا نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں۔لیا اور اپنی طرف کیا۔
ٹھیک ہے میں کردیتی ہوں تمہیں معاف۔۔۔ تم پہ آخری بار یقین کررہی ہوں میں۔۔یہ تمہارا آخری موقع ہے اگر اگین کچھ کیا تو تم خود ہی دور ہوجانا مجھ سے ہمیشہ کے لیے۔
کیارا نے رمیز کے گال سہلاتے نرمی سے کہا اور اسکے لبوں پہ جھکتی پل بھر میں مدہوش ہوگئی۔
______********mr.psycho part 24 & 25
تو کیا میرے لیے کافی سارے گفٹس بھی لیے ہیں آپ نے؟
بتائیں؟ . وہ احان کی طرف رخ کرتی پوچھنے لگی۔
ہممم۔۔۔ وہ تو میں بھول گیا تھا۔۔۔ مجھے لگا آپکو گفٹس نہیں چاہیئے ہونگے۔۔۔ وہ شرارتا بولا تھا۔
اوکے فائن۔۔۔۔ وہ پل بھر میں اداس ہوئی تھی۔
کیا ہوا؟ کیا آپکو گفٹس جاہیئں؟
احان نے ہلکے سے أئلہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا ۔
نہیں۔۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔ مسٹر احان۔۔کوئی بات نہیں۔


By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.