couple, love, sunset-5028351.jpg

writer barbie boo


وہ دھیمی سی آواز میں بولی تھی جبکہ ناراضگی اسکے لفظوں سے واضح ہورہی تھی۔ احان نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔
کچھ ہی گھنٹوں میں وہ شہر سے کہیں دور کسی خوبصورت سی جگہ پہ پہنچ چکے تھے۔۔۔ جبکہ أئلہ سو چکی تھی۔۔
احان نے گاڑی سے اترتے ایک گہرا سانس لیا اور آئلہ کی طرف دیکھا جو نیند میں تھی۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھولتے اس نے آئلہ کو جگانے کی بجائے خود ہی اپنی بانہوں میں بھرا اور چلنے لگا۔۔۔
نجانے یہ کونسی جگہ تھی۔۔۔۔ چاروں طرف دور دور پہاڑ تھے اور گھنا جنگل أس پاس کوئی بندہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔ بس اڑتے ہوئے پرندے اور انکی خوبصورت آوازیں ماحول کو حسین بنارہی تھیں۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
آحان ایک چھوٹے سے گھر میں داخل ہوا۔۔۔ اور آئلہ کو صوفے پہ لٹایا جو ذرا سی ہلی بھی نہیں تھی۔۔
جانم! ہنی مون پہ آئے ہیں ہم۔۔۔۔اب کیا یہ بھی آپ نے نیند میں گزارنا ہے؟
وہ صوفے کی سائیڈ پہ بیٹھتے آئلہ کے چہرے پہ جھکے سرگوشی کررہا تھا۔۔پر اسکے وجود میں ذرا سی بھی حرکت نہ ہوئی تو احان نے ایک سرد أہ بھری۔۔۔ لگتا ہے یہ ایسے نہیں جاگنے والی۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے آئلہ کے لبوں پہ جھکتا نرمی سے ان پہ اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔ الگ ہوتے آئلہ کی طرف دیکھا وہ ابھی تک نیند میں ہی تھی۔۔مجال ہے جو ذرا سی بھی حرکت کی ہو۔۔۔ احان کو اب غصہ آنے لگا تھا۔۔
وہ اسکے لبوں پہ جھکتے، اسکے نازک لبوں کو سختی سے اپنے ہونٹوں میں قید کرتے، ان کی مٹھاس اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔ أئلہ جھٹ سے اپنی أنکھیں کھول گئی اسکی نیند پل پھر میں غائب ہوئی تھی۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
احان کی مضبوط چھاتی پہ ہاتھ رکھے اسے دور کرنے کی کوشش کی پر ناکام۔۔۔۔وہ اسکی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے اپنی قربت کے شدتوں سے ہلکان کیے جارہا تھا جب احان کی سانس پھولنے لگی تو وہ الگ ہوا تھا۔۔۔
أئلہ کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔۔ جبکہ اسکا چہرہ لال ٹماٹر جیسا لگ رہا تھا۔۔۔ اسکے نرم و نازک سے لب ہلکے ہلکے کپکپا رہے تھے جن پہ خون کا ننھا سا قطرہ ابھرا ہوا تھا۔۔ احان بے ساختہ مسکرانے لگا۔۔ جبکہ آئلہ اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
أپکو جگانے کی کوشش کی تھی پر آپ جاگ ہی نہیں رہی تھی تو مجبورا مجھے ایسا کرنا پڑا۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے میسنی شکل بناتے بولنے لگا۔
اور ویسے بھی جانم ہم ہنی مون پہ آئے ہیں۔۔۔نیندیں کرنے نہیں۔۔۔ پورے سفر میں آپ سوتی رہی ہیں۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ڈرائیو ہوں آپکا۔۔ بہت بور ہوگیا تھا میں تو۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
آجائیں۔۔ میں آپکو باہر کا نظارا دکھاتا ہوں پھر آپکا موڈ ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ اسکے لب پہ ابھرے ہوئے ننھے سے قطرے کو اپنے انگوٹھے سے صاف کرتے ، اسے بازو سے پکڑتے کھڑا کیا اور ٹیرس کی طرف بڑھنے لگا۔ جبکہ آئلہ ابھی بھی منہ پھلائے ہوئے تھی۔۔۔
دیکھیں۔۔۔۔ یہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔ جیسا آپ چاہتی تھیں بالکل ویسا ہی۔۔۔
وہ ٹیرس پہ کھڑے کہہ رہا تھا۔۔۔ آئلہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔۔
واؤ۔۔۔۔ بہت خوبصورت ہے یہ سب۔۔۔۔ کتنا سکون ہے یہاں۔۔۔
وہ أنکھیں بند کرتے تازہ ہوا کو اپنی سانسوں میں اتارتے لگی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔بہت سکون! احان نے پیچھے سے اسکے گرد بازو حائل کرتے اسے خود سے قریب کیا تو أئلہ کی کمر احان کے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔ وہ اسے خود میں بھینچے اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔
بہت اچھا لگ رہا ہے مجھے۔۔۔ تھینک یو مسٹر احان۔ مجھے یہاں لانے کے لیے۔۔۔
وہ اپنا سر پیچھے کرتی احان کے کندھے پہ ٹکاگئی۔
تو میری جانم خوش ہیں تو مجھے بھی اب خوشی دے دیں تھوڑی سی۔
وہ اسکی گردن پہ لب رکھتے بولا تو آئلہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔۔۔
أجائیں روم میں۔۔۔ پہلے چینج کرلیتے ہیں۔۔۔ وہ أئلہ کا ہاتھ تھامے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا ۔۔۔
اوکے آپ چینج کر آئیں۔۔۔
وہ آئلہ کے گال پہ ہلکے سے کس کرتے بولا تھا ۔ وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی اور احان شرٹ اتارتے صوفے پہ ڈھے گیا۔
کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو احان سیدھا ہوا تھا۔
وہ ٹی شرٹ اور ٹراؤذر پہنے ہوئے تھی۔۔۔ احان کو تپ چڑھی تھی۔۔۔ وہ جو سوچ رھا تھا کہ نیو ڈریسز میں سے کوئی پہن کے آئے گی پر اسے اسطرح دیکھ کے احان کو غصہ أیا تھا۔۔۔ سختی سے مٹھیاں بند کرتے وہ دانت پیسنے لگا تھا۔۔۔ شاید وہ جان بوجھ کے احان کو تنگ کررہی تھی۔۔۔
جانم۔۔۔۔ ابھی رات نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم نیند کرنے والے ہیں اسی لیے چینج کرکے آئیں اور جو نیو ڈریس لیے تھے آپ نے ان میں سے کوئی ایک پہن لیں۔۔۔
وہ ایک ایک لفظ چبا کے بولا تھا۔۔۔ أئلہ ایک نظر خود پہ ڈالتی پھر سے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔
کچھ دیر میں باہر نکلی۔۔۔ ریڈ کلر کی سلیو لیس بلاؤذ اور بلیک کلر کی شارٹ سکرٹ پہنے ، کچھ زیادہ ہی حسین لگ رہی تھی۔۔۔ احان کے لبوں پہ دلفریب مسکان ابھری تھی۔ صوفے سے اٹھتے وہ اسکے قریب گیا۔۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
ہارٹ بیٹ فاسٹ ہورہی تھی اور نظریں تھیں کہ اس نازک وجود کا طواف کیے جارہی تھیں۔۔۔
جانم! اسکے نزدیک جاتے ، اسکی پتلی کمر کو اپنی گرفت میں لیتے ، اپنے سینے میں چھپاتے وہ اسکے کان میں مدہوشی کے عالم میں بولنے لگا۔
حد سے زیادہ حسین لگ رہی ہیں أپ۔۔۔۔ آپکا یہ سراپا قیامت ڈھا رہا ہے میرے دل پہ۔۔۔۔
احان أئلہ کو اپنے آپ میں بھینچے بول رہا تھا اور اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہورہی تھیں۔۔۔
میں اب مزید ویٹ نہیں کر سکتا اور نہ اب آپکی کوئی بات سنوں گا۔۔۔ اگر اب ایک سیکنڈ بھی رکا نا تو میرے دل نے سینے سے باہر نکل آنا ہے۔۔۔
وہ ایک ہی جھٹکے میں آئلہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے بیڈ پہ لٹا چکا تھا۔۔۔
وہ اٹھنے کی کوشش کررہی تھی کہ اسی پل احان اپنا بھاری وجود اسکے نازک جسم پہ حاوی کرتے اسکی کوشش ناکام بنا چکا تھا۔۔۔ آئلہ نے کچھ بولنے کی کوشش کی تھی تو احان نے اسکے لب اپنے سلگتے لبوں کی قید میں لیتے اسکی یہ کوشش بھی ناکام بنا دی تھی۔۔۔
وہ مکمل طور پر اسکے مضپوط حصار میں قید ہوچکی تھی۔۔۔
اب کی بار وہ اسکی بے ترتیب سانسوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے سلگتے لبوں سے اسکی سانسوں کو پینے لگا تھا۔
اسکی مزاحمت، آنسو کچھ بھی أج احان پہ اثر نہیں کررہا تھا۔۔۔۔ آئلہ کے نازک وجود کے ایک ایک پور پہ وہ اپنی چاہت نچھاور کر رہا تھا۔۔۔۔
اسکی شدتیں بڑھنے لگی تھیں۔۔۔۔ وہ اتنی جنونیت سے اسے ہلکان کیے جارہا تھا۔۔۔۔ شام کے اندھیرے پھیلنے لگے تھے اور وہ اس نازک جان کو اتنی پناہوں میں لیے اسکے لمس کی خوشبو اپنے اندر اتارنے میں محو تھا۔۔۔۔
دنیا سے بے خبر اپنے محبوب کی قربت میں وہ سکون محسوس کررہا تھا ایسا سکون جسکی اسے کئی سالوں سے تلاش تھی اور آج وہی سکون اسے اپنے اندر اترتا محسوس ہوا تھا۔ اور اسکے عنابی لبوں پہ ایک گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔
پورا ہفتہ ایسے ہی گزرا تھا۔۔۔ جیسے آئلہ نے پلان کیاتھا احان نے سب کچھ کیا۔۔ وہ بے حد خوش تھی۔۔۔۔۔بے پناہ محبت ، اور اسکی قربت میں وہ پھولے نہیں سمارہی تھی اور احان بھی پل پل اسکے لمس کی تپش محسوس کرتے، اسکی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارتے بے حد پرسکون دیکھائی دے رہا تھا۔
_______*********mr.psycho part 26 & 27
تم نے مجھے دل سے معاف کردیا نا کیارا؟
رمیز کیارا کی گود میں سر رکھے آنکھیں میچے کہنے لگا۔۔
ہاں۔۔۔۔ تم بار بار کیوں پوچھ رہے ہو؟
کیارا اسکے گال سہلاتے ہوئے بولی۔
پتہ نہیں۔۔۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں تمہارے دل میں میرے لیے نفرت نہ پیدا ہوجائے۔۔اگر کبھی تمہیں میری غلطیاں یاد آئیں تو۔۔
وہ اداسی سے کہہ رہا تھا۔
رمیز پلیز! . اب بس کردو۔ یہ الٹا سیدھا سوچنا چھوڑ دو تم۔۔۔
اب تم بہتر ہو نا! . تو آفس جانا شروع کرو۔۔۔ تاکہ تمہارا دھیان بٹے۔۔
وہ اپنے لب رمیز کے ماتھے پہ رکھتے بولی تھی۔
(ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ رمیز کا زخم اب تقریبا بھر چکا تھا۔۔۔ کیارا روز اسے دیکھنے آتی تھی۔۔ کئی گھنٹے اسکے پاس گزارتی، اسکا خیال رکھتی۔ اور وہ بس اسے دیکھتا رہتا تھا۔)
تھینک یو!
رمیز کیارا کے لبوں پہ ہلکے سے اپنے لب رکھتے بولا تو وہ جلدی سے پیچھے کو ہوئی تھی۔
اوکے فائن! بس اب کافی دیر ہوگئی ہے مجھے۔۔۔ اب میں چلتی ہوں۔۔۔ دادو پہلے ہی غصہ ہورہی تھیں کہ روز روز دوست سے ملنے چلی جاتی ہو۔
وہ بیڈ سے اترنے لگی تو رمیز نے اسے بازو سے پکڑتے اپنی طرف کھینچا۔اور اپنی بانہوں میں قید کرتے اسکی لبوں پہ جھکتے اپنے ساتھ ساتھ اسکی سانسیں بھی بے ترتیب کر گیا۔ کئی دنوں کے بعد وہ اسکے لمس کو محسوس کرتے پاگل ہونے لگا تھا۔ ایک بار پھر وہ دونوں ایک ہوچکے تھے۔۔۔ اور ایک دوسرے کی پناہوں میں مدہوش ہوتے اپنے اندر گہرا سکون اترتا محسوس کررہے تھے۔
______******mr.psycho part 26 & 27


احان اور آئلہ ہنی مون سے واپس آچکے تھے۔۔۔
آئلہ نے پھر سے سکول جانا سٹارٹ کردیا تھا۔۔۔ احان اپنے آفس میں بزی ہوگیا۔۔
رمیز بھی آفس جوائن کر چکا تھا اب وہ بالکل ٹھیک تھا اور شاید سدھر بھی چکا تھا۔mr.psycho part 26 & 27
زندگی پھر سے نارمل ہونے لگی تھی۔ احان آئلہ کو سکول سے پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا۔۔۔ لیکن ابھی تک احان اور آئلہ کے نکاح کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا۔۔ احان آئلہ کے سکول ختم ہونے کا ویٹ کررہا تھا تاکہ جب کالج میں ایڈمیشن ہوگا تو پھر وہ اسے اپنی وائف کے طور پر انٹرڈیوس کرائے گا۔
وہ سکول میں بہت مزے کرتی، پڑھائی کم ہی کرتی تھی اور کافی بار پرنسپل احان کو آئلہ کی شکایت کرچکے تھے۔۔۔پر اس نے ایک بار بھی أئلہ سے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔ وہ بس اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا اور اگر موج مستی کرکے وہ خوشی محسوس کرتی تھی تو اس سے بڑھ کر احان کے لیے اور کیا ہوسکتا تھا۔۔
ہر ویک اینڈ پہ وہ أئلہ کو کسی ریسٹورنٹ میں لے جاتا، اسے گفٹس دیتا۔۔۔۔ احان کی محبت کی وہ دن بہ دن عادی ہوتی جارہی تھی۔۔۔ اسکی پناہوں میں وہ خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی تھی۔۔۔
وقت پر لگا کے اڑتا گیا اور تین مہینے گزر گئے۔۔۔ ان تین مہینوں میں ایک بار بھی رمیز أئلہ کے سامنے نہیں آیا تھا۔۔۔ شاید وہ اب کبھی بھی اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔پتہ نہیں شرمندہ تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔۔۔
لینا کا بچہ ہوچکا تھا اور اس نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا تھا جو شکل میں بالکل احان سے ملتا جلتا تھا۔۔ لینا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔۔۔
اسے یقین ہو گیا تھا کہ اب وہ ایک بہت شاندار زندگی گزارنے والی تھی اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد دولت کے ساتھ ساتھ اسے اب احان کا نام بھی ملنے والا تھا۔۔۔ وہ نام جسے اپنے نام کے ساتھ جوڑنے کے لیے اس نے اتنے مہینے صبر کیا تھا۔
وہ ہوسپٹل میں تھی اور رمیز بھی وہی موجود تھا۔۔۔وہ بار بار اس ننھے سی جان کو محبت سے دیکھے جارہا تھا جو ہوبہو احان جیسا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ چاچو کی جان! یہاں أجاؤ میرے پاس!mr.psycho part 26 & 27
رمیز اس ننھی جان کو اپنے ہاتھوں میں لیے بے حد محبت سے کہہ رہا تھا۔
یہ تو بالکل احان کی کاپی ہے۔۔۔ رمیز خوشی سے بولنے لگا تو لینا مسکرائی تھی۔
ابھی احان کو نہیں بتانا۔۔ دو تین دن تک ہوسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد میں خود جاؤں گی اسکے سامنے، اپنے بیٹے کو دیکھ کے وہ ضرور مجھے اپنا لے گا۔۔
لینا نے کہا تو رمیز نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔
________********
ارے کوئی اور لڑکی دکھاؤ نا!
میرا احان بڑا ہی سمجھدار ہے اسکے لیے کوئی سلجھی ہوئی، سگھڑ سی لڑکی چاہیئے مجھے۔۔۔ اسے ضرور پسند آئے گی۔۔۔
رمینا بیگم رشتے والی کو کہہ رہی تھی۔
ٹھیک ہے یہ دیکھو۔ یہ ساری لڑکیاں کافی پڑھی لکھی، بہت شریف اور سگھڑ ہیں۔ . ان میں سے ضرور تمہارے پوتے کو کوئی پسند آجائے گی۔
وہ لڑکیوں کی کچھ تصویریں رمینا بیگم کو پکڑاتے ہوئے بولی تھی۔
ہاں۔۔۔ دکھنے میں تو ایسی ہی لگ رہی ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے تم یہ تصویریں یہی چھوڑ جاؤ۔۔۔ پھر میں تمہیں بتا دوں گی۔۔
رمینا بیگم تصویروں پہ نظریں ٹکاتے بول رہی تھیں۔
اور وہ تمہاری ایک پوتی بھی تو رہ رھی ہے نا۔ اسکے لیے بھی کوئی لڑکا ڈھونڈنا ہے؟
اسکی بات پہ رمینا بیگم کچھ سوچنے لگی۔
ہاں۔۔۔ اگر کسی اچھے لڑکے کا کوئی رشتہ ہو تو ضرور بتانا مجھے۔۔۔
رمینا بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ چلی گئی۔
اسی پل کیارا وہاں آئی تھی۔
یہ کون تھیں؟ وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
رشتہ والی تھی۔۔۔۔تمہارے بھائی کے لیے لڑکی ڈھونڈنے کا کہا تھا میں نے ۔۔ تو بس وہی کچھ تصویریں دکھانے آئی تھی۔۔۔ لو دیکھو تم بھی۔۔۔ پھر تمہارے بھائی کو بھی دکھانی ہیں۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
رمینا بیگم نے آدھی بات بتاتے کیارا کو تصویریں پکڑائی تھیں۔ تو وہ دیکھنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔
دادو آپکو کیا لگتا ہے احان بھائی شادی کے لیے مان جائیں گے کیا؟ اب تک تو وہ کبھی نہیں مانے۔۔
کیارا نے رمینا بیگم کی طرف دیکھتے کہا تو انکے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔۔
ہاں۔۔۔ آج تک اس نے اپنی من مانی ہی تو کی ہے۔۔۔ اب بہت ہوگیا۔۔۔ عمر گزرتی جارہی ہے اسکی ۔۔۔ اور کتنی دیر کرنی ہے اسے شادی میں۔۔۔ کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کے اب ہمیں اسکی شادی کرانی ہی ہوگی۔۔۔
میں بھی اسکے بچوں کو اپنی گود میں کھلانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
رمینا بیگم نے دوٹوک انداز میں کہا تو کیارا چپ چاپ انہیں دیکھتی رہ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ احان اپنی مرضی سے ہی شادی کرے گا نا کہ رمینا بیگم کی۔
________********mr.psycho part 26 & 27
مسٹر احان۔۔۔۔ یہ دیکھیں میرے پاس کیا ہے!
آئلہ روم میں انٹر ہوتی احان کی طرف بڑھی جو شرٹ پہن رہا تھا۔۔
دکھائیں مجھے، کیا ہے جانم کے پاس؟
وہ شرٹ پہنتے بازو سینے پہ لپیٹتے بولا۔
آئلہ اپنی بند مٹھیاں احان کے سامنے کرتے انہیں دھیرے سے کھولنے لگی۔۔۔
جیسے ہی اسنے مٹھیاں کھولی ایک چھوٹی سی تتلی تیزی سے اڑی تھی۔۔۔
یہ میں ڈھونڈ کے آئی ہوں آپکے لیے۔۔۔ آپکو پسند آئی۔۔
وہ تتلی کی طرف اشارہ کرتے بولی جو اب دیوار پہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
“ہنی بنی” اتنی محنت کیوں کی۔۔۔۔ اور مجھے یہ بہت پسند آئی ہے۔۔۔۔ چھوٹی سی پیاری سی بالکل میری جانم کی طرح۔۔۔
احان آئلہ کو اپنے حصار میں لیتے بولا تو وہ ہنسنے لگی۔۔۔۔
میں نے محنت نہیں کی۔۔۔ یہ تو مالی بابا نے پکڑی تھی پھر میں ان سے لے کے آگئی۔۔۔۔۔میں نے انہیں بولا کہ مسٹر احان کو بٹر فلائے بہت پسند ہے یہ مجھے دے دیں۔۔۔۔ مسٹر احان دیکھیں گے تو خوش ہوجائیں گے۔۔۔ پھر انہوں نے مجھے دے دی یہ چھوٹی سی تتلی۔۔۔
آئلہ نے خوش ہوتے بتایا جبکہ اسکی باتیں سن کے احان دانت پیسنے لگا تھا۔
اوکے اوکے تھینک یو! . وہ آئلہ کو لیے بیڈ کی طرف بڑھا۔mr.psycho part 26 & 27
بیٹھ جائیں یہاں اور مجھے بتائیں کہ سکول میں کیسا چل رہا ہے سب؟
وہ اسے بیڈ پہ بٹھاتے خود سامنے پڑے کاؤچ پہ بیٹھ گیا۔
سب ٹھیک ہے۔ بہت اچھا چل رہا ہے۔۔۔ اب میرے کافی سارے فرینڈز ہیں اور میں بہت مستی کرتی ہوں۔۔۔ مجھے بہت مزا آتا ہے۔۔۔
وہ چہکتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ احان اپنی شہادت کی انگلی کنپٹی پہ رکھے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتی جارہی تھی۔۔اسکا حسن بڑھتا جارہا تھا۔۔ بہت جلد وہ سولہ سال کی ہونے والی تھی۔۔۔۔ پر اسکی معصومیت اور شرارتیں ابھی بھی ویسے کی ویسے ہی تھیں۔۔۔
وہی لاڈ کرنا، سیم بچوں جیسی باتیں کتنے مہینے گزر چکے تھے پر ہر پل احان کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ابھی ابھی ملی ہے وہ اسے۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اسمیں سماتی جارہی تھی۔۔۔۔ کبھی کبھی وہ بے یقینی سے گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا تھا۔۔۔ کہ وہ واقعی اب اسکی ہوچکی ہے ۔۔۔۔ اور سکون کی سانس لیتا تھا۔۔۔mr.psycho part 26 & 27
ہر آنے والا نیا دن احان کو زندگی کے خوبصورت ہونے کا احساس دلاتا تھا اور وہ تسلیم کیے جارہا تھا کہ اپنی جانم کے سنگ ہر سیکنڈ اسے انمول لگتا تھا۔۔۔
مسٹر احان۔۔۔۔ سن رہے ہیں أپ؟
وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلا جب آئلہ ہاتھوں کے مکے بناتے ہوا میں لہراتے نجانے کیا بول رہی تھی۔۔۔
جی جی۔۔۔ سن رہا ہوں میں۔۔۔ بولیں آپ۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
مجھے باکسنگ سیکھنی ہے۔۔۔
وہ بالوں کی لٹوں سے کھیلتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
وہ کیوں؟ احان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
ایسے ہی کیا پتہ کبھی میری کسی سے لڑائی ہوجائے تو مجھے فائٹ بھی تو آنی چاہیئے نا۔۔۔
وہ معصومانہ انداز میں بہت سنجیدگی سے بول رہی تھی جبکہ احان اس کے نازک سے وجود کو دیکھنے لگا کہ اگر فائٹ کرنے لگی تو کیا ہوگا۔۔۔ وہ بے ساختہ مسکرانے لگا۔
اچھا ٹھیک ہے میں پتہ کرونگا۔۔ کہیں کلاسز ہورہی ہونگی تو پھر أپکو جوائن کروا دونگا میں۔۔۔
احان۔نے اسکا دل بہلانے کے لیے کہا تو وہ خوشی سے اچھلی تھی۔۔۔جسے دیکھ وہ ہنسنے لگا تھا۔..

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.