mr.psycho part 28 & 29

written by barbie boo


گڈ مارننگ! ویک اپ ہنی! . سکول بھی جانا ہے۔۔
اٹھ جائیں۔ میں فریش ہوکے آتا ہوں۔ تب تک اٹھ جائیں آپ۔ ورنہ پھر اپنے طریقے سے جگانا پڑے گا مجھے۔
احان بیڈ سے اترتے آئلہ کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
أئلہ أنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
یہ سکول بھی نا۔۔۔ صبح صبح ہی کیوں کھلتا ہے آخر ۔۔۔ کیا ہو جاتا اگر دوپہر میں شروع ہوتا تو۔۔۔ کم سے کم ایسے جلدی اٹھنا تو نہ پڑتا مجھے۔۔۔
وہ جمائی لیتے بولنے لگی۔۔
چلیں خود ہی جاگ گئی آپ۔ ویری گڈ۔
اب جلدی سے فریش ہوکے ڈائننگ ٹیبل پہ پہنچیں۔۔
احان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے بالوں میں انگلیاں پھیرتے کہہ رہا تھا۔۔ اور اس پہ محبت بھری نظر ڈالتے وہ روم سے چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں أئلہ یونیفارم پہنے باہر نکلی اور ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھی۔۔
جلدی سے أجائیں۔۔ أپکو ناشتہ کرواؤں میں۔ آج تھوڑا لیٹ ہوگئے ہیں ہم۔
احان آئلہ کا دیکھتے گلاس میں جوس ڈالتے بول رہا تھا۔
میرا دل نہیں چاہ رہا سکول جانے کو ۔۔
کیا میں آج چھٹی کرلوں مسٹر احان؟mr.psycho part 28 & 29
وہ چیئر پہ بیٹھتے میسنی شکل بناتے بولنے لگی۔
نو! جلدی سے ناشتہ کریں اور پھر آپکو سکول ڈراپ کروں میں۔
احان اسے بریڈ کھلاتے ہوئے کہہ رہا تھا تو وہ منہ بنا گئی۔
اسے ناشتہ کروا کے وہ سکول ڈراپ کرنے کے بعد أفس کی طرف جارہا تھا جب رمینا بیگم کی کال أئی تھی۔
جی دادو! کیسی ہیں آپ؟ میں ابھی ڈرائیو کررہا ہوں۔ آفس پہنچ کے بات کرتا ہوں أپ سے۔۔
أفس نہیں جاؤ أج۔۔ گھر پہ آؤ ابھی۔۔ کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔ ابھی مطلب ابھی پہنچو۔
رمینا بیگم نے سختی سے کہا تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کہہ گیا۔ اور کچھ ہی دیر میں روانہ ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ واپسی شام تک ہی ہوگی یا شاید رات بھی ہوجائے اسی لیے جانے سے پہلے رمیز کو کہہ گیا کہ أئلہ کو سکول سے پک کرلے گا۔
جی دادو! کیا ہوا اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا تھا آپ نے۔ سب ٹھیک تو ہے نا؟
احان لاؤنج میں داخل ہوتے فکرمندی سے پوچھنے لگا۔
ہاں سب ٹھیک ہے۔ أؤ بیٹھو تم۔mr.psycho part 28 & 29
رمینا بیگم جو صوفے پہ بیٹھی تھیں۔ احان کو دیکھ کے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے پرسکون لہجے میں بولی تھیں۔
احان صوفے پہ بیٹھتے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھنے لگا۔
یہ کچھ لڑکیوں کی تصویریں ہیں۔ ان میں دیکھو اگر کوئی تمہیں پسند آتی ہے تو بتاؤ۔ اگلے مہینے ہی میں تمہاری شادی کروا دوں گی۔
رمینا بیگم نے ٹیبل پہ پڑی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے کہا تو احان کے ماتھے پہ شکنیں ابھری تھیں۔۔
یہ سب کیا ہے دادو؟ أپ نے اس لیے بلایا تھا مجھے؟ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں کبھی نہ آتا۔
احان صوفے سے اٹھتے غصے سے بول رہا تھا۔
ہاں میں جانتی تھی۔ کچھ ایسا ہی کہوں گے تم ۔
لیکن اب تمہاری ایک نہیں چلنے والی۔ میں تمہاری شادی کروا کے ہی رہوں گی۔ اب چاہے تم راضی ہو یا نہ ہو۔
رمینا بیگم نے سختی سے بولا۔
دادو! ۔ آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں شادی نہیں کر سکتا۔
احان کچھ نرمی سے بولا تھا۔mr.psycho part 28 & 29
کیوں نہیں کر سکتے شادی؟ آخر کیا وجہ ہے؟
وہ صوفے سے اٹھتے احان کے روبرو آتے پوچھنے لگی۔
ابھی میں کچھ نہیں بتا سکتا أپکو۔
احان دانت پیسنے لگا۔mr.psycho part 28 & 29
اگر تم۔نہیں بتا سکتے تو ٹھیک ہے پھر ۔ میں بھی اب تمہاری کوئی بات نہیں سننے والی۔۔ شادی تو اگلے مہینے ہی ہوگی تمہاری۔
رمینا بیگم نے دوٹوک انداز میں کہا تو احان کو تپ چڑھی۔
نہیں ہو سکتی یہ شادی کیونکہ میں شادی کر چکا ہوں۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا تو وہ حیران ہوئی تھیں۔
کیارا جو لاؤنج میں داخل ہورہی تھی احان کی بات سنتے وہی رک گئی۔
کیا؟ تم شادی کر چکے ہو؟ مگر کب؟ کس سے؟ اور ہمیں بتایا تک نہیں تم نے۔ چھپ کے شادی کرلی؟ آخر ایسی کیا مجبوری تھی جو ہمیں بتانا بھی گوارا نہیں کیا تم نے۔ ۔
رمینا بیگم حیرت سے بولنے لگی۔
میں بس سہی وقت کا انتظار کررہا تھا۔ پھر بتا دیتا آپکو۔
احان کچھ شرمندہ سے انداز میں بولا۔
کون ہے وہ لڑکی؟ کس سے شادی کی ہے تم نے؟ بتاؤ مجھے۔
وہ غصے سے احان کو دیکھنے لگی۔
وہ لڑکی۔۔۔۔mr.psycho part 28 & 29
وہ لڑکی میں ہوں۔۔۔ مجھ سے شادی کی ہے انہوں نے اور اب ہمارا ایک بیٹا بھی ہے۔
اس سے پہلے کہ احان أئلہ کا نام لیتا ا ور بتاتا کہ وہ نکاح کر چکا تھا اس سے۔۔۔ بیچھے سے کسی کی آواز پہ وہ چونک کے اس طرف دیکھنے لگے۔
لینا چہرے پہ مسکان سجائے بازوؤں میں کسی بچے کو لیے جسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہلتے ہوئے نظر أرہے تھے، چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے لاؤنج میں داخل ہوئی۔mr.psycho part 28 & 29
کیارا اور رمینا بیگم ہکی بکی ہوئیں تھیں۔ جبکہ احان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکلی تھی۔۔۔
وہ بے یقینی سے دیکھے جارہا تھا۔ ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہوئے تھے۔۔۔ دانت سختی سے بھینچے وہ خونخوار نظروں سے لینا کو دیکھ رہا تھا۔
تو تم بچ گئی تھی۔ تمہاری اتنی ہمت کہ تم میرے گھر تک پہنچ آئی۔۔ بے وقوف کہی کی۔۔۔ اگر تم کسی طرح اپنی جان بچا ہی چکی تھی تو مجھ سے کہیں دور جاکے اپنی زندگی سکون سے گزارتی۔۔ پر تم واپس میرے ہی پاس أگئی۔۔ تو تمہیں لگتا ہے کہ اس بچے کے ذریعے تم مجھ پہ حکومت کرو گی۔۔ یہ تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔ اب تمہیں میں خود اپنے ہاتھوں سے تڑپا تڑپا کے ماروں گا۔۔
احان مٹھیاں بھینچے غصے سے لینا کو دیکھ رہا تھا۔ غصے کی وجہ سے اسکے ماتھے کی رگیں واضح ہورہی تھیں۔
احان نہ چاہتے ہوئے بھی چپ کھڑا رہا کیونکہ اس وقت سب کے سامنے وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا لینا کو۔
کیا تم؟ تم اسکی بیوی ہو؟ اور بچہ؟ تم دونوں کا بچہ بھی ہوگیا۔۔۔ مطلب ہمارے گھر کا وارث۔۔۔
تم نے اتنی بڑی خوش خبری بھی نہیں بتائی ہمیں۔
رمینا بیگم لینا سے اس بچے کو اپنی بازوؤں میں لیتے خوشی سے بول رہی تھیں۔
بے شک انہیں بہت غصہ تھا پر بچہ کو دیکھ کے انکا سارا غصہ ختم ہوگیا۔
دیکھو ذرا بالکل احان جیسی شکل ہے اس کی تو۔۔۔
کتنا پیارا ہے یہ۔۔ ہمارے گھر کا وارثmr.psycho part 28 & 29
رمینا بیگم کیارا کو کہنے لگی تو وہ بھی اس بچے کو دیکھنے لگی جو ہوبہو احان کی کاپی لگ رہا تھا۔
ہمیں معاف کردیں آپ۔ کچھ پرابلمز کی وجہ سے ہمیں چھپ کے شادی کرنی پڑی تھی لیکن اب ہم۔مزید یہ بات آپ سب سے اور دنیا والوں سے چھپانا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اب ہم مام، ڈیڈ بن چکے ہیں۔۔ اور اس خوشی کو أپ لوگوں کے ساتھ ہم۔بانٹنا چاہتے ہیں۔
لینا۔ایک نظر احان پہ ڈالتے بولی۔
ویسے تو تم دونوں سے بہت ناراض ہوں میں۔ لیکن اس معصوم سی جان کو دیکھ کے میرا دل خوش ہوگیا ہے اس لیے تم دونوں کو معاف کررہی ہوں۔
چلو آؤ۔ کمرے میں چلو۔ وہ لینا کو اشارہ کرتے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی لینا بھی انکے پیچھے چل پڑی۔
جبکہ احان لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا۔mr.psycho part 28 & 29
یہ سب کیا ہورہا ہے؟ کیا واقعی احان بھائی کی بیوی ہے یہ۔۔۔ لیکن اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو رمیز ضرور بتاتا مجھے۔۔ پر احان بھائی نے بھی کچھ نہیں بولا اسکا مطلب کہ یہ لڑکی سچ کہہ رہی ہے۔
کیارا حیرت میں ڈوبے سوچ رہی تھی۔
آخر کیسے ہوا یہ سب؟ بنا کسی کی مدد لیے تو لینا زندہ نہیں بچ سکتی تھی۔۔ تو پھر کون ہے وہ جس نے مجھ سے دشمنی مول لی۔۔ أخر کس نے لینا کی مدد کی۔۔
جس نے بھی کیا ہے یہ سب۔۔ اسے تو میں دیکھ لوں گا۔۔ لیکن مس لینا! تمہارے ساتھ اب میں کیا کرتا ذرا دیکھنا تم! پچھلی بار بچے کا واسطے دے دے کے تم نے مجھے روکنے کی کوشش کی تھی نا۔ پر اس بار تو تم ایسا بھی نہیں کر پاؤں گی۔۔ جس بچے کو مہرا بنا کے تم میرا مقابلہ کرنے آئی ہو نا۔۔ سب سے پہلے اس بچے کو تم سے چھینوں گا میں۔
گاڑی میں بیٹھے سٹیئرنگ ویل پہ زور سے ہاتھ مارتے وہ کہہ رہا تھا۔
______******mr.psycho part 28 & 29
مسٹر احان نظر کیوں نہیں أرہے آج؟ ۔ وہ سکول گیٹ کے پاس کھڑی ادھر ادھر نظریں گھماتے احان کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہی تھی جو اسے دور دور تک نظر نہیں آرہا تھا۔
آئلہ۔ آجائیں گاڑی میں۔ وہ واپس سکول میں جانے لگی تھی کہ ایک گاڑی اسکے پاس رکی ا ور اسے آواز سنائی دی۔
مڑ کے دیکھا تو رمیز تھا۔ اسے دیکھ کے آئلہ کے ہوش اڑے تھے۔ بے شک اسکے ذہن سے وہ سب نکل چکا تھا لیکن رمیز کو ایک بار پھر اپنے سامنے دیکھ کے ۔۔ اسکی سانس اٹکی تھی۔ ابھی تک اسکے دل سے ڈر نہیں نکلا تھا رمیز کا۔
احان کو ایمرجنسی میں گھر سے کال أئی تھی تو اسے وہاں جانا پڑا۔ اس نے ہی مجھے کال کی تھی کہ میں تمہیں پک کرلوں سکول سے۔۔ اسی وجہ سے أیا ہوں میں۔
أ
ئلہ کو چپ کھڑے دیکھ کے رمیز نے اسے بتایا۔تو وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔mr.psycho part 28 & 29


By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.