mr.psycho part 30 & 31

written by barbie boo

30 & 31
رمیز گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔ وہ سہمی ہوئی کونے میں سمٹی بیٹھی تھی۔ اسے اسطرح خود سے ڈرتے دیکھ کے رمیز کو افسوس ہوا تھا اپنی حرکتوں پہ کہ آخر کیا سوچ کے اس نے اتنا ظلم کیا تھا آئلہ پہ۔
آئلہ ڈرو مت۔ میں کچھ نہیں کہہ رہا أپکو۔۔ آپ آرام سے سیدھی ہوکے بیٹھ جائیں۔
رمیز نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا تو أئلہ نے ایک نظر رمیز پہ ڈالی تھی۔ اور ذرا سی سیدھی ہوئی۔
پورا راستہ خاموشی سے گزر گیا۔ وہ دونوں ہی چپ رہے تھے۔
رمیز اپنے کیے پہ شرمندہ ہونے کیوجہ سے کچھ بول نہیں پارہا تھاجبکہ آئلہ اس سے ڈری ہوئی تھی اسی لیے چپ بیٹھی تھی۔
گھر پہنچ کے وہ جلدی سے گاڑی سے اتری اور اپنا سکول بیگ تھامے اندر کی طرف بھاگی۔
رمیز نے اسے دیکھ کے ایک سرد أہ بھری تھی۔ ا ور گاڑی سے نکلتے وہ چلتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوا اور صوفے پہ ڈھے گیا۔
آپکے لیے کچھ لاؤں رمیز سر؟ میری بین نے آتے ہوئے پوچھا۔
ہاں پلیز ایک کپ کافی! وہ کہتے ہوئے اتنا سر پیچھے کرتے صوفے پہ ٹکا گیا اور أنکھیں بند کرلی۔
مسٹر احان کال بھی ریسیو نہیں کررہے۔ نہ میسج کا جواب دے رہے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں ہیں۔
کچھ دیر بعد ٹرائی کرونگی۔mr.psycho part 30 & 31
وہ موبائل بیڈ پہ پھینکتے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
چینچ کرکے باہر نکلی تو پھر سے احان کو فون کرنے لگی جو کہ اس نے ریسیو نہیں کی تھی۔
روم سے باہر نکلتے وہ لاؤنج میں انٹر ہوئی۔
مسٹر احان کوئی ریسپونس نہیں کررہے۔۔ ابھی تک آئے نہیں وہ۔۔۔کب آئیں گے اور کیا ہوا ہے انکے گھر میں؟
وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بہت فکر مندی سے پوچھ رہی تھی۔ اب اسے رمیز سے اتنا ڈر نہیں لگ رہا تھا کیونکہ میری بین گھر پہ موجود تھی۔
رمیز جو کافی پی رہا تھا اسکی آواز پہ اسکی طرف دیکھا تو ایک پل کو نظریں ٹھہر گئی تھیں۔۔
اورنج کلر کا شارٹ فراک جو مشکل سے گھٹنوں تک آرہا تھا اور ساتھ میں وائٹ جینز پہنے وہ کسی کے بھی دل کو بہکا سکتی تھی۔
رمیز نے نظریں جھکائی تھیں۔
تم پریشان نہیں ہو۔ شام تک أجائے گا وہ۔
اور میں نہیں جانتا کہ گھر میں کیا پرابلم ہے۔
وہ کافی کا سپ لیتے بولا تو آئلہ اداس ہوئی تھی۔
رمیز جانتا تھا کہ لینا وہاں گئی تھی اور شاید اب احان ضرور لینا کو سبق سکھانے کی تیاری کرنے میں مصروف ہوگا۔ اور اس بار رمیز فیصلہ کرچکا تھا کہ اب وہ لینا کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔
کیوں کہ جس بچے کو بچانے کے لیے اس نے لینا کی مدد کی تھی وہ اب صحیح سلامت اپنے باپ کے گھر پہنچ چکا تھا۔ اور احان کبھی بھی اس ننھی جان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا۔
مطلب اب وہ لینا کو ہی تکلیف پہنچانے والا تھا اور رمیز جانتا تھا کہ احان کس حد تک لینا کو ٹارچر کرے گا۔ پر افسوس کے سوا اب وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ احان کے گھر جانے کا فیصلہ لینا نے خود کیا تھا تو اب اپنا انجام۔بھی وہ خود ہی دیکھے گی
وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب آئلہ وہاں سے اٹھ کے اپنے روم میں جا چکی تھی۔
________********mr.psycho part 30 & 31
آئی ہوپ کہ سب ٹھیک ہو۔
وہ بیڈ پہ لیٹی چھت پہ نظریں ٹکائے بول رہی تھی۔
مسٹر احان! کہاں ہیں أپ؟ میں بہت مس کررہی ہوں أپکو۔۔
شام۔ہونے والی ہے أپ ابھی تک نہیں آئے۔۔۔
بیڈ سے اترتے وہ روم سے باہر نکلی۔ دھیرے دھیرے لاؤنج کی طرف بڑھنے لگی۔
میری بین تو جاچکی تھیں۔ اور لاؤنج میں بھی کوئی نہیں تھا۔ جبکہ احان کے روم سے ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی۔
لگتا ہے مسٹر احان آگئے ہیں۔۔
وہ احان کے روم کی طرف بھاگتے روم میں انٹر ہوئی۔
مسٹر احان۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ۔۔۔ وہ بولتے بولتےرکی تھی۔
سامنے رمیز کو دیکھ کے وہ ٹھٹکی تھی۔
مسٹر احان نہیں آئے کیا؟ وہ اداسی سے کہنے لگی۔
نہیں ابھی تک نہیں آیا وہ شاید رات دیر تک آجائے گا۔
تم پریشان مت ہو وہ بالکل ٹھیک ہے۔
رمیز نے أئلہ کی طرف أتے کہا تو وہ ذرا سی پیچھے کو سرکی تھی۔
مجھے لگا تھا کہ شاید وہ ہیں۔۔۔ وہ دھیمے سے بولی اور روم سے باہر جانے کے لیے مڑی۔
آئلہ! رمیز کی آواز پہ وہ رکی تھی۔ وہ اسکے سامنے گیا۔
ایک منٹ! تم سے کچھ بات کرنی تھی مجھے۔۔mr.psycho part 30 & 31
رمیز نے بولا تو وہ ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑنے لگی۔
کیا بات کرنی ہے آپکو؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
آؤ بیٹھو آرام۔سے۔ بتاتا ہوں۔ ڈرو مت پلیز میں کچھ نہیں کہہ رہا تمہیں۔
أئلہ کو سہما ہوا دیکھ کے رمیز نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
تو وہ ڈرتے ڈرتے صوفے کی طرف بڑھی۔
کیا تمہیں ڈر لگ رہا ہے مجھ سے؟ رمیز نے آئلہ کے سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھتے کہا۔
أئلہ پلیز کچھ بولو تو سہی۔ میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔ اور میں بہت شرمندہ ہوں اس سب کے لیے۔۔ کیا تم مجھے ۔۔۔ معاف کروں گی؟
رمیز نے آئلہ کو خاموش دیکھ کے افسردہ لہجے میں کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔ وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے جانے لگی تو رمیز نے اسکی کلائی پکڑی تھی اور اگلے ہی پل پیچھے کو ہوا۔۔۔
پلیز صرف ایک بار بات سن لو۔ رمیز نے منت کی۔
ہممم۔۔۔ اوکے! بولیں۔ وہ دھیمے سے بولتے ہوئے صوفے پہ جا بیٹھی تھی۔
آئلہ میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔ جو بھی کیا تھا میں نے اس سب کے لیے۔۔ تم مجھے جو سزا دینا چاہو وہ دے دو۔۔ پر پلیز مجھے معاف کردو اور مجھ سے ڈرنا بند کردو ۔۔
میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا اور نہ تمہارے قریب آنے کی کوشش کروں گا۔۔
پلیز ایک بار مجھے دل سے معاف کردو۔
وہ نظریں جھکائے شرمندگی سے بول رہا تھا۔
میں کیسے بھروسہ کروں آپ پہ؟mr.psycho part 30 & 31
وہ ہلکے سے کہنے لگی رمیز پہ یقین کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا اسے۔۔
میں ایسا کیا کروں کہ تمہیں میری باتوں پہ یقین ہوجائے؟
میں تمہیں بھروسہ دلانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ تم بس ایک موقع تو دو مجھے۔
رمیز کی باتوں سے سچائی جھلک رہی تھی۔ اسکی آنکھوں میں ندامت واضح ہورہی تھی۔۔ شاید وہ سچ میں اپنے کیے پہ شرمندہ تھا اور اب پچھتا رہا تھا۔
ٹھیک ہے میں معاف کردیتی ہوں آپکو۔۔ پر دوبارہ اگر أپ نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی یا سوچا بھی تو۔۔۔ میں بنا ایک پل دیر کیے مسٹر احان کو بتا دوں گی پھر چاہے جو بھی ہو۔ مجھے اسکی پروا نہیں۔
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔mr.psycho part 30 & 31
نہیں اب تمہیں مجھ سے کبھی بھی کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔ میں ایسی کوئی حرکت نہیں کرونگا۔ تھینک یو سو مچ آئلہ!
تھینک یو!
وہ خوشی سے بولنے لگا۔ اسکے دل کو جیسے سکون سا مل گیا تھا۔ دل میں جو چھبن تھی وہ ختم سی ہوئی تھی۔۔
آئلہ نے اسے معاف کردیا اسکا مطلب تھا کہ وہ اب کبھی بھی اس بات کا ذکر احان سے نہیں کرے گی۔۔
اس طرح احان اور اسکی دوستی بھی قائم رہے گی۔۔
یہ بات اسکے لیے واقعی بہت خوشی کی تھی اور اسے کتنی خوشی ہورہی تھی اسکے چہرے سے صاف صاف جھلک رہا تھا۔
رمیز کو اسطرح خوش دیکھ کے أئلہ کے لبوں پہ ہلکی سی مسکان ابھری تھی۔
میں کچھ لاؤں تمہارے لیے؟ چاکلیٹ یا آئس کریم یا کچھ اور؟
رمیز نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیئے۔ وہ دھیمی سی آواز میں بولی تھی۔
اوکے۔۔۔ اور ابھی تمہاری شادی کا تحفہ بھی ادھار ہے مجھ پہ۔۔ کیا چاہیئے تمہیں بتاؤ مجھے۔
وہ دوستانہ انداز میں بولنے لگا۔۔ أئلہ کا ڈر اب ختم سا ہوگیا تھا۔۔ رمیز کا یہ بدلہ رویہ دیکھ کے اسے اب واقعی یقین ہوگیا تھا کہ وہ سچ میں اپنے کیے پہ شرمندہ تھا۔
نہیں مجھے کوئی گفٹ نہیں چاہیئے۔ مسٹر احان نے مجھے سب کچھ دلا دیا تھا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی تو رمیز بھی مسکرادیا۔
ہاں میں جانتا ہوں کہ احان نے ہر چیز دلا دی ہوگی تمہیں۔۔
پر پھر بھی دوست ہونے کے ناطے میرا بھی حق بنتا نا کہ میں بھی کوئی گفٹ دوں۔
وہ اپنی تھوڑی کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے بولا ۔
ہمم۔۔ تو آپکی مرضی پھر جو بھی گفٹ دے دیں۔۔
وہ دانت نکالتے ہوئے کہنے لگی تو رمیز ہنس پڑا۔
ویسے میں نے احان کو کہا تھا کہ تمہارے دانت خرگوش جیسے نہیں ہیں۔۔۔ پر اگر تم ایسے بار بار دانت نکالو گی تو سچ میں بنی بن جاؤ گی۔
رمیز نے شرارتا کہتے قہقہ لگایا تو آئلہ منہ بنا گئی۔mr.psycho part 30 & 31
اچھا اچھا! أئم سوری۔ مذاق کررہا تھا میں۔۔۔ ناراض مت ہوجانا۔
رمیز نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
احان شاید ایک گھنٹے تک پہنچ جائے گا۔ أئلہ میں اب چلتا ہوں۔۔ مجھے أفس کی کچھ فائلز تیار کرنی ہیں اسی لیے جانا پڑے گا۔۔ ورنہ احان کے آنے تک میں رک جاتا۔
وہ گھڑی کی طرف دیکھتے بولا تو آئلہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
اٹس اوکے۔ ویسے بھی اب مجھے نیند أرہی ہے۔ میں سوجاؤں گی۔
اوکے پھر گڈ نائٹ۔ رمیز نے کہا اور روم سے باہر چلا گیا۔
وہ اپنے روم میں جاتی بیڈ پہ لیٹی اور کچھ ہی دیر میں سو گئی۔
_______*********mr.psycho part 30 & 31
نجانے رات کا کونسا پہر تھا جب احان گھر آیا۔۔ وہ دھیرے سے روم میں انٹر ہوتے آئلہ کے پاس جاکے لیٹ گیا۔
وہ گہری نیند میں تھی جب اسے کسی کی گرم سانسیں اپنے چہرے پہ محسوس ہوئیں تھیں۔۔ تپش اتنی تھی کہ وہ فورا سے جاگ گئی۔
مسٹر۔۔۔۔۔۔ا ۔۔۔حا۔۔۔۔ن۔۔۔۔
آئلہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے کہ
احان کی آنکھوں میں عجیب سا نشہ تھا ایک جنون تھا۔۔۔۔ دیوانگی تھی وہ سہم کر نگاہیں جھکا گئی۔۔۔۔
اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیوں کی مضبوط دیوار توڑ کر باہر کو آنکلے گا ۔۔۔۔
اسے اس وقت احان سے خوف محسوس ہو رہا تھا جو آج ایک عجیب ہی جنون میں تھا ۔ایسا لگ رہا تھا چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے وہ آج اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہے.آج وہ اپنی کرے گا۔۔۔۔وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔
احان کو وہ اس وقت کوئی سہمی ہوئی ننھی سی جان لگ رہی تھی ۔۔ اس کا سہمنا ۔۔۔اس کا گھبرانا اسے مزید بے قرار کر رہا تھا اسکے قریب ہونے پہ اکسا رہا تھا
مسٹر احان۔۔۔ پلیز دور ہٹیں۔۔۔ یہ کیسی سیمل أرہی ہے أپ سے۔۔۔ دور ہٹیں پلیز۔۔۔mr.psycho part 30 & 31
وہ احان کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے بول رہی تھی۔۔ احان جو ڈرنک کر کے أیا تھا ۔۔۔ آئلہ کو اسطرح مزاحمت کرتے دیکھ کے اسکی گھنی مونچوں تلے عنابی لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی۔
احان کی گہری نظر اپنے وجود پر محسوس کرتے ہوئے اسے اپنے اندر تک سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔اس کے پورے بدن میں سرد لہریں گردش کرنے لگی ۔اس کا نازک وجود کپکپاہٹ کی زد میں تھا ۔جسے وہ بھرپور حق واستحقاق سےگہری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا
آج کچھ بھی مت بولنا جانم۔۔۔ میں اب أپکی کوئی بات نہیں سننے والا۔۔۔
میں کوئی غیر نہیں ہوں۔۔ محرم ہوں آپکا۔۔ أپکی محبت۔۔۔ بس بہت بھاگ لیا مجھ سے دور۔۔۔ بار بار نیند کا بہانہ کرکے بہت تڑپا چکی ہیں آپ مجھے۔۔۔ اب اور نہیں۔۔
آئلہ کا جسم سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا وہ اس کے بازوؤں میں قید بری طرح کانپ رہی تھی۔ اس کے جسم و جاں میں عجیب سا شور اٹھ رہا تھا۔
احان نے اسے اپنے نزدیک کیا اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے وہ اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا ۔اس کے لبوں کو اپنے گردن پر سرسراتے محسوس کرتی وہ خوف سے سمٹی جا رہی تھی ۔۔۔۔mr.psycho part 30 & 31
احان ہوش میں نہیں تھا نہ وہ اسکی کوئی بات سن رہا تھا بس اسکے لمس کو محسوس کرتے خود میں سکون اتار رہا تھا۔
جبکہ آئلہ اسے اسطرح دیکھ کے ڈر گئی تھی۔۔۔
اسکی گرفت میں جو سختی تھی وہ پہلے کبھی اسطرح نہ تھی۔۔۔
شاید آج وہ آئلہ کو اپنی بے پناہ شدتوں سے آشناہ کروانے والا تھا۔۔
وہ جانتا تھا کہ وہ نازک جان اسکی جنونیت نہیں سہہ پائے گی اسی لیے اس نے ہمیشہ بہت خیال رکھا تھا اس بات کا پر أج جب وہ ہوش میں ہی نہیں تھا تو کیسے رکتا اور اسکی پرواہ کرتا۔۔mr.psycho part 30 & 31
اسکا بھاری وجود خود پہ محسوس کرتے آئلہ کی سانسیں رکنے لگی تھیں۔۔۔
احان۔کے . سینے پہ ہاتھ رکھے اسکے مضبوط حصار سے نکلنے کی کی ناکام۔سی کوشش کرنے لگی وہ۔
وہ اسکے نازک وجود کو خود میں قید کرتے اپنے لبوں سے آئلہ کے لبوں کو بھی قید کرگیا۔۔۔
دونوں کی سانسیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔۔۔
وہ کافی دیر تک اسکے لبوں سے اپنی پیاس بجھاتا رہا اور پھر اسکی گردن میں منہ دیے اسکی صراحی دار نازک گردن پہ اپنے دانت گاڑھتے اسکے ہوش اڑا چکا تھا۔۔۔
وہ اسکی گردن۔پہ جابجا دانت گاڑھنے لگا۔۔۔ لاکھ کوشش کرتے اسے دور کرنے کی پر آہستہ آہستہ آئلہ کی مزاحمت کمزور پڑتی جارہی تھی۔۔۔ اسکی بڑھتی ہوئی شدتوں کو وہ سہہ نہیں پارہی تھی ۔۔۔اسکی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔
پر احان بنا۔اسکی پرواہ کیے اسکے پور پور کو اپنی محبت کی تپش سے جھلسائے جارہا تھا۔۔۔۔
پوری رات ایسے ہی وہ اسے اپنی شدتوں سے ہلکان کرتا رہا تھا۔۔۔
رات کے کس پہر نجانے دونوں کی آنکھ لگی تھی۔۔۔
________**********mr.psycho part 30 & 31
صبح آنکھ کھلی تو سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا احان۔کو۔۔۔ سر کو پکڑتے وہ اٹھتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے۔گہرے سانس لینے لگا تھا۔۔۔
آئلہ پہ ایک نظر ڈالی تو اسے جھٹکا لگا تھا۔۔۔ پل بھر میں نیند غائب ہوئی تھی۔۔۔
اسکے چہرے ، نازک لبوں، گردن اور کندھے پہ جابجا دانتوں کے گہرے نشان احان۔کے ظلم کو چیخ چیخ کے بیان کررہے تھے۔۔۔
وہ بے خبر سوئی ہوئی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔۔۔۔
احان۔کے۔لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی جو اسکی وجاہت کو بڑھا رہی تھی۔۔
یہ تو بالکل ٹھیک نہیں کیا آپکے مسٹر احان نے ۔۔۔۔ نشے کی حالت میں بہت ظلم کردیا اپنی ننھی سی جان پہ ۔۔۔
اب آپ جاگنے کے بعد پتہ نہیں کیا حال کریں گی اپنے مسٹر احان کا۔۔۔
سوچ کے ہی دل زوروں سے دھڑک رہا ہے۔۔۔
احان نے اپنی ہنسی دانتوں میں دباتے اپنے بے قابو ہوتے دل پہ ہاتھ رکھتے سرگوشی میں بولا تھا۔
لگتا ہے کچھ زیادہ ہی ڈرنک کرلی تھی میں نے۔۔ اب اس بات کا بھی جانم کو جواب دینا پڑے گا۔۔۔
کیا کہوں گا میں کہ کیوں ڈرنک کی تھی؟
اف۔۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ری ایکٹ کریں گی جانم . ۔۔۔mr.psycho part 30 & 31
مجھے ایسا نہیں کرنا۔چاہیئے تھا۔۔۔ اب کیسے سمجھاؤں گا اپنی ہنی کو کہ کیوں کی تھی ڈرنک۔۔۔
وہ آئلہ کے ماتھے پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے سوچنے لگا۔
وہ جانتا تھا آئلہ ناراض ہوجائے گی۔۔۔ پر کہیں یہاں سے جانے کا نہ سوچنے لگ جائے آئلہ۔۔ بس یہی خیال اسے بے چین کررہا تھا۔۔ وہ سکون سے سو رہی تھی شاید نیند ابھی پوری نہیں ہوئی تھی اسکی۔۔۔
احان نرمی سے اسکے گال پہ لمس جھوڑتے بیڈ سے اترا اور فریش ہونے کے لیے چلا گیا۔


By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.