mr.psycho part 32 & 33

written by barbie boo

احان فریش ہوکے باہر نکلا اور لاؤنج میں چلا گیا۔۔ وہ ابھی صوفے پہ بیٹھا ہی تھا کہ رمیز لاؤنج میں انٹرہوا۔
گڈ مارننگ احان! وہ احان کے قریب آتے بولا اور اسکے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گیا۔
گڈ مارننگ! میں تمہیں ہی کال کرنے والا تھا۔ اچھاہوا تم خود ہی آگئے ۔
احان نے سنجیدگی سے کہا۔ اور میری بین کو کافی لانے کا کہنے لگا۔
ہاں۔۔ میں جانتا ہوں تم کیا بات کرنے کے لیے مجھے بلارہے تھے۔۔
رمیز نے نظریں چراتے کہا۔mr.psycho part 32 & 33
کیا مطلب؟ کیا جانتے ہوتم ؟ اور تمہیں کیسے پتہ کہ میں کیا بات کرنے والا ہوں؟
احان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
لینا کے بارے میں بات کرنے والے ہونا تم؟
ہاں! تو تم جان چکے ہو۔
رمیز نے کہا تو احان أنکھیں سکیڑتے اسے دیکھنے لگا۔
ہاں! میں بھی اسی بارے میں تم سے بات کرنے أیا ہوں۔۔
رمیز نے نظریں جھکائےکہا۔
مجھے یہ نہیں سمجھ آرہی کہ لینا بچ کیسے گئی تھی اور وشرام نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا مطلب۔۔ مگر کس کے کہنے پر۔۔۔
احان کافی کا سپ لیتے گہری سوچ میں ڈوبا کہہ رہا تھا جبکہ رمیز لفظوں کو جوڑنے کی کوشش کررہا تھا کہ بات کہاں سے اور کیسے شروع کرے۔
احان!
ہاں بولو۔
رمیز نے صوفے سے اٹھتے ہوئے اسے پکارا تو کافی کا مگ ٹیبل پہ رکھتے وہ رمیز کو دیکھنے لگا۔
وہ۔۔۔۔۔ وہ میں تھا۔۔۔ جس نے وشرام کو کہا تھا تمہیں جھوٹ بولنے کا!
رمیز نے سر جھکائے شرمندہ سے لہجے میں کہا تو احان کو بے یقینی سی ہوئی تھی۔
“کیا! ” تم نے، مطلب وہ تم ہو جس نے لینا کی مدد کی تھی!
احان غصے میں آگ بگولہ ہوتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یار! پلیز مجھے غلط مت سمجھو! ، میں نے یہ سب بس اس بچے کی خاطر کیا تھا۔
رمیز نے دھیمی سی آواز میں کہا۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا تھا کیا!” تم مجھے اپنا بھائی کہتے ہو اور پھر بھی ایسی حرکت کی تم نے!
وہ رمیز کا گریبان پکڑتے چیخا تھا۔
“احان”
وہ دھیمے سے بولا۔mr.psycho part 32 & 33
“کیا!”
احان پھر سے چیخا تھا۔
“پلیز! مجھے معاف کردو! ” میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا یار، میں بس اس بچے کے لیے برا محسوس کررہا تھا؛ آخر اس معصوم سے بچے کا کیا قصور تھا جو اسے اس دنیا میں أنے سے پہلے ہی تم ختم کرنا چاہتے تھے؛ آخر وہ ہے تو تمہاری اولاد نا، تمہارا خون، تمہارا بیٹا۔
رمیز نے دھیمی سی آواز میں کہا تو احان نے اسکا گریبان چھوڑا۔
تم نے ایک بار بھی سوچا کہ اس سب سے کیا ہوگا؟
کیا تمہیں میری خوشی کا کوئی خیال نہیں آیا؟ تم سب کچھ جانتے ہو ؛ لینا کا اسطرح پھر سے میری زندگی میں آنا میرے لیے کتنی مصیبتیں کھڑی کر سکتا ہے۔
احان صوفے پہ بیٹھتے زور سے بولا تھا۔
مجھے لگ رہا تھاکہ اب میری زندگی بہت پرسکون ہونے لگی ہے؛ اب بہت ہنسی خوشی اپنی باقی کی زندگی اتنی جانم کے ساتھ گزاروں گا” لیکن نہیں! ” ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے نا۔mr.psycho part 32 & 33
وہ انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں سہلاتے غصے سے بول رہا تھا۔ اسکے ماتھے کی رگیں تیزی سے پھڑ پھڑاتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔
“پلیز احان! سمجھنے کی کوشش کرو۔ تم اب لینا کے ساتھ کچھ بھی کرو ، میرا کوئی واسطہ نہیں ہے اس سے، وہ بچہ اب اپنی سہی جگہ پہ پہنچ چکا ہے اسی لیے اب میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
رمیز نے صوفے پہ احان کے پاس بیٹھتے کہا۔
“بچہ، بچہ، بچہ!” نہیں ہے وہ میرا بچہ! آخرکیوں نہیں سمجھ آرہی تمہیں میری بات!
“جھوٹ بول رہی ہے وہ؛ میرا کوئی بچہ نہیں ہے!”
احان ٹیبل پہ رکھے کافی کے مگ کو زور سے نیچے پھینکتے چیخا تھا۔
“مسٹر احان!”mr.psycho part 32 & 33
مدھم سی أواز پہ وہ دونوں پلٹے تھے۔
آئلہ پریشانی کے عالم میں کھڑی انکو دیکھ رہی تھی۔ شور کی وجہ سے اسکی آنکھ کھل گئی تھی اور وہ لاؤنج کی طرف بھاگی تھی جہاں سے احان کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔
“جانم!” آپ جاگ گئی!”
احان نے ماتھے پہ ابھرتے پسینے کے موٹے قطروں کو ہتھیلی سے صاف کرتے کہا۔
کہیں آئلہ نے اسکی باتیں سن تو نہیں لی؛ یہ سوچ کے ہی اسکا دل ڈوبنے لگا تھا۔ رمیز کے چہرے پہ بھی پریشانی کے سائے لہرائے تھے۔ اچانک اسکی نظر آئلہ کی گردن پہ واضح ہوتے دانتوں کے نشانوں پہ پڑی تو وہ بے ساختہ ہنسنے لگا تھا۔ احان کا دل جو ڈر سے کانپنے لگا تھا؛ رمیز کو ایسے دانت نکالتے دیکھ گھورنے لگا۔ اور اگلے پل دھیان آئلہ کی گردن اور گالوں پہ گیا تو وہ شرمندہ سا ہوا تھا رمیز کے سامنے۔
چپ کیوں ہوگئے آپ دونوں؟ کیا آپ دونوں لڑائی کررہے تھے؟ مسٹر احان آپکی زور زور سے آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے کہا پتہ نہیں کیا ہوا؟ اسی لیے دیکھنے آئی تھی آپکو۔mr.psycho part 32 & 33
وہ احان کی طرف بڑھتے ہوئے فکرمندی سے بول رہی تھی۔ شاید اس نے نہیں سنا تھا کچھ بھی، یا شاید سن لیا تھا پر انجان بن رہی تھی۔
“نہیں! کچھ بھی نہیں ہوا! ” وہ تو ہم دونوں بس مذاق کررہے تھے۔ آپ جائیں ، روم میں جائیں ہنی!”
احان اسکے کندھوں پہ اپنے بازو پھیلاتے نرمی سے بولا۔ جبکہ رمیز ابھی بھی دانتوں میں ہنسی دباتے نظریں ادھر ادھر دوڑا رہا تھا جو کہ احان نے نوٹ کیا تھا اور دانت پیس کے رہ گیا۔
لیکن آپکی چیخنے کی آواز آرہی تھی مسٹر احان۔
وہ احان کی طرف دیکھتے معصوم سی شکل بناتے کہنے لگی۔
“میری جان!” آپ پریشان مت ہوں، میں نے کہا نا کہ کچھ نہیں ہوا۔ أپ پلیز اپنے روم میں جائیں!”
وہ آئلہ کے گال تھپتھپاتے ہوئے محبت سے بولا تو وہ ہاں میں سرہلاتے اپنے روم کی طرف چلی گئی۔
“بہت ہنسی آرہی ہے تمہیں!” ہنس لو جتنا ہنسنا ہے پھر تمہارے دانت توڑتا ہوں میں۔
احان نے اسے آنکھیں دکھاتے کہا تو رمیز نے قہقہ لگایا تھا۔
تمہیں تو میں بتاتا ہوں۔mr.psycho part 32 & 33
احان نے رمیز کی طرف بڑھتے اسکے پیٹ میں مکا مارا ، رمیز گرتے گرتے بچا تھا، اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھے وہ ابھی بھی قہقے لگا رہا تھا۔
تم ہنسنا بند کروگے یا پھر تمہاری ہڈیاں توڑوں میں؟
احان نے اب کی بار اسے گھورا تھا۔
“اچھا اچھا!” نہیں ہنستا!
وہ صوفے پہ بیٹھتے مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
تم نے جو کیا ہے اس کے لیے میں نے معاف نہیں کیا ابھی تمہیں۔
احان نے خفگی سے اسکی طرف دیکھتے کہا تو رمیز پل پھر میں اداس سا ہوا تھا۔
احان پلیز! یار معاف کردو نا!
وہ اسکے پاس آتے منت بھرے انداز میں بولا تھا۔ 
پلیز أخری غلطی سمجھ کے معاف کردے! mr.psycho part 32 & 33
وہ منت کرنے لگا۔ 
ٹھیک ہے اب زیادہ ڈرامے مت کرو۔ جو کرنا تھا کر چکے تم، اب ان سارے مسئلوں سے نکلنے کا طریقہ بتاؤ مجھے۔ 
احان نے خفگی سے کہا تو رمیز بے ساختہ مسکرایا تھا۔ 
“تھینک یو بھائی! آئی پرامس دوبارہ کوئی غلطی نہیں ہوگی!”
وہ احان کے گلے لگتے خوشی سے بولا تھا۔ وہ رمیز کا کندھا تھپتھپاتے مسکرایا تھا۔ 
تم نے ڈرنک کی تھی نا رات کو؟ 
رمیز نے اسکی طرف دیکھتے پوچھا۔ mr.psycho part 32 & 33
“ہمم!” کچھ زیادہ ہی کرلی تھی یار، لینا کی وجہ سے کافی سٹریس ہورہا تھا مجھے تو اسی وجہ سے کی تھی۔ اور ہوش میں نہ ہونے کی وجہ سے آئلہ کو بھی کافی ہرٹ کر دیا میں نے، ابھی تو اس بات کا بھی جواب دینا ہے اسے اور لینا کے بارے میں اگر کچھ پتہ چل گیا تو؟ 
شاید وہ ہمیشہ کے لیے مجھے چھوڑ کے چلی جائے گی اگر ایسا ہوا نا تو میں مر جاؤں گا یار!” 
احان کی آنکھوں میں نمی اتری تھی۔ آئلہ کو پاکے اسے جو سکون ملا تھا۔ اسکے دل سے اسے کھونے کا جو ڈر ختم سا ہوگیا تھا وہ اچانک سے پھر سے سامنے آیا تھا۔ 
اگر أئلہ کو پتہ چل جاتا کہ احان نے کیا کچھ چھپا رکھا تھا اس سے تو شاید وہ ایک سیکنڈ بھی اسکے پاس نہ رکتی، وہ اپنے مام، ڈیڈ کے پاس واپس چلی تھی۔ 
کچھ نہیں ہوگا، ہم اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے۔ 
آئلہ تمہیں چھوڑ کے کہیں نہیں جائے گی کیونکہ ہم اسے کچھ بھی پتہ نہیں لگنے دیں گے۔ لینا کا جلد ہی کوئی بندوبست کرنا پڑے گا۔ تم پریشان مت ہو۔ 
احان کو دکھی ہوتا دیکھ کے رمیز پل بھر میں سنجیدہ ہوا تھا۔ 
وہ جان چکا تھا کہ احان کے لیے آئلہ کیا معنی رکھتی تھی اور اگر وہ چلی جاتی تو شاید احان مر ہی جاتا۔ 
رمیز نے ایک سرد آہ بھری تھی۔ mr.psycho part 32 & 33
ہاں، کچھ کرو، میری جانم کو اس بات کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہیئے۔ وہ یہ سب سہہ نہیں پائے گی، ابھی وہ نہیں سمجھ پائے گی ان سب سازشوں کو اور نہ میں اس چھوٹی سی جان کو سمجھا پاؤں گا۔ تم بس لینا کو اس گھر سے باہر نکالنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈو پھر میں اسے خود دیکھ لوں گا۔ 
احان نے رمیز کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا ۔ 
ٹھیک ہے۔ میں کچھ کرتا ہوں، تم جاؤ آئلہ کے پاس، میں ابھی جاکے اسکا بندوبست کرتا ہوں۔ 
رمیز نے اسے تسلی دی اور اٹھتے ہوئے لاؤنج سے باہر چلا گیا، احان نے ایک گہری سانس لی اور اپنے روم کی طرف بڑھا تاکہ آئلہ کو رات والی بات پہ صفائی دے ۔ 

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.