mr.psycho part 34 & 35

written by barbie boo

احان نے دروازے سے کمرے میں جھانکا تو آئلہ نظر نہیں آئی اسے، وہ دھیرے سے کمرے میں داخل ہوا، چاروں طرف نظریں گھما کے کمرے کا جائزہ لیا شاید آئلہ شاور لے رہی تھی۔ ایک گہری سانس لیتے وہ بیڈ پہ لیٹ گیا۔
وہ کیسے ری ایکٹ کرے گی؟ نجانے کیا کیا سوال پوچھے گی؟ زیادہ ناراض ہوگئی تو؟ کیا جواب دوں گا میں؟
وہ آنکھیں میچے سوچے جارہا تھا۔
لینا سے جان چھڑانے کی ٹینشن اور آئلہ سے دور ہونے کا ڈر اسکے دل کو بری طرح بے چین کیے جارہا تھا، دھڑکنیں بڑھ رہی تھیں اور لمبے سانس لیتے خیالوں میں گم تھا۔
وہ باتھ روم سے باہر نکلی تو احان کی طرف دیکھا جو آنکھوں پہ بازو رکھے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکے بالوں کو برش کرنے لگی۔ بالوں کی دو چٹیاں بنا کے احان کی طرف دیکھاجو ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔ وہ چٹیاں کھول کے پھر سے بالوں میں برش کرنے لگی۔ احان ترچھی آنکھوں سے اسکی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔ وہ غصے میں لگ رہی تھی۔
“جانم!” میں برش کر دیتا ہوں آپکے بالوں کو۔
وہ بیڈ سے اترتے آئلہ کی طرف بڑھتے بولا۔
“نہیں! میں خود کرلوں گی۔”
وہ منہ بناتے بولی۔mr.psycho part 34 & 35
ناراض ہیں مجھ سے؟
وہ آئلہ کے قریب جاتے، اسکے کندھوں کو اپنے بازوؤں میں لیتے پوچھ رہا تھا۔
نہیں!
وہ احان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی تھی۔
آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں؟ غصہ نہیں ہیں مجھ پہ؟
وہ۔۔۔ میں نے جو کیا، اسکے لیے آپ مجھے ڈانٹیں گی نہیں!؟
وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاترات سے اسے دیکھنے لگا۔
نہیں مسٹر احان! میں نے سوچا کہ ناراض ہوکے بھلا کیا ہوجائے گا؟ اس سے اچھا ہے کہ بھی یہی سب کر کے آپ سے حساب پورا کر لوں گی۔
آئلہ احان کی گردن کے بازوؤں کا گھیرا بناتے شرارتا بولی۔ اسکی آنکھیں چمک رہی تھیں اور لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔
واقعی؟ مطلب؛ سیریسلی!؟
احان اسکی کمر کو اپنی بازوؤں کے حصار میں لیتے خوشی سے کہنے لگا۔ اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آئلہ ایسا کچھ کہے گی۔
تو پھر کب پورا کررہی ہیں یہ والا حساب؟
وہ آئلہ کی گردن پہ واضح ہوتے دانتوں کے نشان پہ لب رکھتے معنی خیز نظروں سے دیکھتے بولا۔
جب آپ گہری نیند میں ہونگے تب۔
آئلہ نے دانت نکالتے کہا تو احان نے ایک زور دار قہقہ لگایا تھا۔
مطلب اب مجھے کافی محتاط رہنا ہوگا کیونکہ کسی بھی وقت میری چھوٹی زومبی مجھ پہ اٹیک کر سکتی ہے۔
وہ قہقہ لگاتے بولا تو آئلہ نے منہ پھلاتے احان کے سینے پہ مکا مارا ۔
جانم! بہت زور سے مارا ہے۔
وہ سینے پہ ہاتھ رکھے بولا تو آئلہ اسے خود سے دور کرتے بیڈ کی طرف بڑھی۔
“مسٹر احان!”mr.psycho part 34 & 35
جی جانم!
آئلہ کی آواز پہ وہ مڑا اور بیڈ کی طرف بڑھا۔
لینا کون ہے؟
وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھسائے ان سے کھیلتے ہوئے کہنے لگی۔
احان کی خوشی پل بھر میں ہوا ہوئی تھی۔ ہارٹ بیٹ بڑھنے لگی اور دماغ ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو جوڑ کے کوئی جھوٹی کہانی بنانے لگا۔
وہ أپ کہہ رہے تھے نا کہ؛ “لینا جھوٹ بول رہی ہے۔”
جب میں لاؤنج میں آئی تھی تو یہ ایک لائن سنی تھی میں نے۔
احان کو خاموش دیکھ کے وہ کہنے لگی۔
وہ۔۔۔ ایکچلی۔۔۔ وہ ہمارے آفس کی بات ہے ۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے جانم۔ أپ پریشان نہ ہوں۔ وہ میں ہینڈل کرلوں گا۔
وہ بات کا رخ بدلتے آئلہ کا دھیان ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔
آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپکو کیا گفٹ چاہیئے؟
وہ بیڈ پہ اسکے قریب بیٹھتے اسکے گال تھپتھپاتے بولا۔
گفٹ کس لیے؟mr.psycho part 34 & 35
وہ سوالیہ نظروں سے احان کو دیکھنے لگی۔
آپکی سالگرہ آنے والی ہے نا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
“او اچھا!”
وہ خوشی سے بولی۔
جی! تو بتائیں پھر، کیا چاہتی ہیں آپ؟
میں چاہتی ہوں کہ “آپ ایک بڑی سی پارٹی رکھیں اور سب کو بلائیں، میرے مام، ڈیڈ کو بھی اور پھر سب کو بتائیں کہ ہم دونوں شادی کر چکے ہیں۔”
وہ مسکراتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کرنے لگی۔
ٹھیک ہے ہو جائے گا، جانم! جیسا آپ چاہتی ہیں ایسا ہی ہوگا، اسکے علاوہ اور کچھ؟
وہ آئلہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے بہت محبت سے کہہ رہا تھا۔
ابھی اور یاد نہیں آرہا، بعد میں بتاؤں گی۔
وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی۔ اسکی بات پہ احان ہنسنے لگا۔
چلیں! بریک فاسٹ کرتے ہیں پھر۔
وہ آئلہ کا ہاتھ تھامے اٹھا اور باہر کی طرف چلنے لگا۔
وہ ڈائننگ ٹیبل پہ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب احان کے فون پہ کسی کی کال آئی۔
ہیلو! کیا ہوا؟mr.psycho part 34 & 35
سکرین پہ رمیز کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ وہ کال اٹینڈ کرتے موبائل کان سے لگاتے بولا تھا۔
احان! ٹی وی آن کرو؛ سارے چینلز پہ تمہاری اور لینا کی شادی کی خبر بریکنگ نیوز بنی ہوئی ہے۔ پورے آفس میں بھی بات پھیل چکی ہے۔ اب تو شاید سب کو پتہ لگ چکا ہوگا۔ آئلہ تمہارے ساتھ ہے کیا؟ میں آرہا ہوں، تم گھر پہ ہی رہو۔
رمیز کی بات سنتے احان کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔ دل زوروں سے دھڑکنے لگا، حلق خشک ہو گیا تھا اور میں غم و غصے سے نمی سی اترنے لگی تھی۔
وہ آئلہ کی طرف دیکھ رہا تھا جو جوس پینے میں مصروف تھی۔
احان نے موبائل ٹیبل پہ رکھتے سختی سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی تھیں۔
کیا ہوا مسٹر احان؟ کس کا فون تھا؟ آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں؟ سب ٹھیک ہے نا؟
احان کے چہرے کا رنگ ذرد پڑتا دیکھ آئلہ کو فکر ہوئی تھی۔
آپ! آپ پریشان مت ہوں، وہ آفس کا ایک بہت بڑا پراجیکٹ تھا اسمیں کافی نقصان ہوگیا ہے یہی بتانے کے لیے رمیز نے کال کی تھی۔
احان نے پھیکے سی مسکان لبوں پہ سجاتے اسے کہا۔
احان کے ہاتھ کپکپارہے تھے ، آنکھیں لال ہورہی تھیں، دل کی رفتار اتنی تیز کہ سینہ پھاڑ کے باہر نکل آئے، پورا جسم پسینے سے تر ہونے لگا تھا، وہ ہتھیلیوں سے کبھی ماتھے تو کبھی گردن سے پسینے کے قطرے صاف کرتا، تیز تیز سانسیں لینے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا، آئلہ کے لب ہلتے ہوئے نظر آرہے تھے احان کو پر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا بول رہی تھی اور اگلے ہی پل وہ چیئر سے فرش پہ زور سے گرا تھا۔
“مسڑ احان!” آئلہ نے زور سے چیخ ماری تھی اسکی آواز سنتے میری بین اور مالی بابا بھاگتے ہوئے آئے تھے۔
میری بین! جلدی سے ڈاکٹر کو بلائیں۔
وہ احان کے گال تھپتھپاتے زوروقطار روتے ہوئے کہنے لگی۔ احان کے دل کی دھڑکن دھیرے دھیرے کم ہوتی جارہی تھی۔ وہ پوری طرح پسینے سے بھیگ چکا تھا۔mr.psycho part 34 & 35
میری نے بھاگ کے ڈاکٹر کو کال کی تھی۔ اور اسی پل رمیز وہاں پہنچا تھا۔ احان کو فرش پہ بے ہوش دیکھ کے وہ تیزی سے اسکی طرف بھاگا تھا۔
وہ اٹھا کے روم میں لے گئے۔ اور کچھ منٹس میں ڈاکٹر آگیا۔
میری بین آپ آئلہ کو پانی لا کے دیں۔ میں احان کے روم میں جارہا ہوں۔
رمیز آئلہ کو دیکھتے احان کے کمرے کی طرف بڑھا۔ اور میری بین آئلہ کو پانی کا گلاس پکڑاتے ، چپ کرانے لگی۔
کیا ہوا ڈاکٹر؟ رمیز روم میں انٹر ہوتے فکر مندی سے کہنے لگا۔
رمیز صاحب! میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ انکو سڑیس سے دور رکھیے گا۔ پھر سے پینک اٹیک ہوا ہے انکو، آپ لوگ میری بات کو کیوں میں سمجھ رہے ؛ اسطرح انکی صحت پہ بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ آپ انکو سٹریس سے دور رکھیں ورنہ انکو ہارٹ اٹیک بھی ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر نے احان کو چیک کرتے کہا تو رمیز چپ چاپ کھڑا رہا۔
یہ میڈیسن لکھ دی ہیں میں نے، أپ انکا خیال رکھیں اور ٹائم پہ میڈیسن دیں پھر مجھے بتایے گا انکی کنڈیشن کے بارے میں۔
ڈاکٹر نے ایک پرچی رمیز کی طرف بڑھاتے اسے تاکید کی اور روم سے باہر چلا گیا، رمیز بھی اسکے ساتھ باہر آیا۔
ابھی تک رو رہی ہو بنی!
رمیز آئلہ کی طرف آتے مسکراتے ہوئے بولا جو آنسو بہائے جارہی تھی۔
مسٹر احان!
وہ روتے ہوئے رمیز کی طرف دیکھنے لگی۔
وہ ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ بہت زیادہ سٹریس لینے کیوجہ سے ایسا ہوا ہے۔
وہ أئلہ کے پاس صوفے پہ بیٹھتے بولا اور ساتھ ہی میری بین کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔
میں جا کے دیکھتی ہوں۔
وہ آنسو صاف کرتے اٹھنے لگی تو رمیز نے اسکی کلائی پکڑی۔
بیٹھ جاؤ! وہ ابھی بے ہوش ہے، اور میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس حال میں کیسے پہنچا۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا تو آئلہ واپس صوفے پہ بیٹھ گئی۔
آئلہ تم سے کچھ پوچھوں؟mr.psycho part 34 & 35
رمیز نے فرش پہ نظریں ٹکاتے کہا۔
پوچھیں! وہ دھیمے سے بولی ۔
احان سے کتنی محبت کرتی ہو تم؟
رمیز نے آئلہ کی آنکھوں میں جھانکتے کہا جو ابھی بھی پانیوں سے بھری ہوئی تھیں۔
بے حد، بہت زیادہ، بہت زیادہ!
وہ کھوئے سے انداز میں بولی تھی۔
کتنا یقین کرتی ہو اس پہ؟
اس نے ایک اور سوال کیا۔mr.psycho part 34 & 35
کیا ابھی بھی أپ کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے؟
وہ رمیز کی آنکھوں میں دیکھتے بولی تو وہ نظریں جھکا گیا۔ واقعی! بہت اچھی طرح اندازہ ہوچکا تھا اسے کہ آئلہ ، احان پہ اندھا اعتماد کرتی ہے۔
احان کی زندگی میں یہ دوسری بار ہے جب اسے پینک اٹیک ہوا، پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ بزنس میں بڑے بڑے لوس ہوئے پر احان نے کبھی اتنا سٹریس نہیں لیا تھا، جتنا اب لینے لگا ہے؛ جب سے تم اسکی زندگی میں آئی ہو، اسکا دل کمزور سا ہوگیا ہے، تمہارے معاملے میں بہت حساس ہے وہ، تمہیں کھونے کا ڈر، تم سے دور ہونے کا خوف اسکی جان سولی پہ لٹکائے رکھتا ہے۔
تمہیں پتہ ہے آئلہ؛ جب سے وہ تم سے ملا ہے نا، ایک نئی دنیا میں رہنے لگا ہے۔ تمہارے ساتھ اسکے چہرے پہ جو سکون اور خوشی ہوتی ہے نا وہ میں نے اسکی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
میں جان چکا ہوں کہ تم کتنی محبت کرتی ہو اس سے اور یہ بھی کہ کبھی کسی کی باتوں میں آکے احان سے دور نہیں جاؤ گی ۔
بس تم احان کو اس بات کا یقین دلا دو۔ ایک بار اسے یہ احساس دلا دو کہ تم کتنا اعتماد کرتی ہو اس پہ؛ پھر شاید اسکے دل و دماغ میں چلتی ہوئی جنگ رک جائے گی، سولی پہ اٹکی اسکی جان آزاد ہوجائے گی۔
رمیز نے نظریں فرش پہ ٹکائے کھوئے سے انداز میں کہا۔
ایسا کیا ہے جسے لیکر مسٹر احان اتنا سٹریس لیتے ہیں؟ کیا کچھ ایسا ہے جو میں نہیں جانتی؟ اور وہ ڈرتے ہیں کہ اگر میں جان گئی تو ان سے دور ہوجاؤں گی۔
وہ سنجیدہ سے لہجے میں بولی۔
ایسا بہت کچھ ہے جو احان نے تمہں نہیں بتایا، کافی باتیں جو شاید وہ چاہ کے بھی تمہیں بتا نہیں پائے گا۔
رمیز نے اداسی سے کہا۔
صبح آپ نے فون پہ کیا کہا تھا مسٹر احان کو؟ جسے سن کے وہ اتنے پریشان ہوگئے تھے۔ وہ بات بتائیں مجھے۔
آئلہ سپاٹ سے انداز میں بولی۔
وہ ایک لڑکی ہے۔ وہ احان کی بیوی ہونے کا دعویٰ کررہی ہے اور ایک بچہ بھی ہے؛ بقول اسکے وہ احان کا بچہ ہے۔
احان کے دوسرے گھر پہ ہے وہ اس وقت اور پورے میڈیا میں یہ بات پھیل چکی ہے۔ضرور لینا کا ہی کام ہے یہ۔
رمیز نے بولتے ہوئے آئلہ کے چہرے کے تاثرات دیکھے تھے۔
ہممم! اچھا! وہ لاپروائی سے بولی، رمیز کو جھٹکا لگا تھا۔ وہ تو ایسے ری ایکٹ کررہی تھی جیسے اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا اسے۔
وہ احان کی بیوی ہونے کا دعویٰ کررہی ہے۔
رمیز نے پھر سے بات دہرائی ، اسے لگا شاید آئلہ نے صحیح طرح سنا نہیں تھا۔
کیا اسکے علاوہ کوئی اور بات بھی ہے جسے لے کے مسٹر احان پریشان ہوں؟
وہ بے حد سپاٹ لہجے میں بولی تھی۔mr.psycho part 34 & 35
نہیں! بس اسی بات کو لے کر وہ اتنا سٹریس میں تھا۔
رمیز نے دھیمے سے کہا۔
ہممم! وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں میڈیسن لے کے أتا ہوں۔
رمیز بھی اٹھتے ہوئے بولا اور لاؤنج سے باہر چلا گیا۔ جبکہ آئلہ کے اس لاپرواہ سے انداز سے وہ حیران ضرور ہوا تھا۔
وہ روم کی طرف بڑھی، دھیرے سے دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہوگئی۔ احان کی آنکھیں بند تھیں شاید وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آیا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی بیڈ کی طرف چلنے لگی۔
“مسٹر احان!”
اسکے پاس بیٹھتے وہ سرگوشی کے انداز میں بولی تھی۔
_________*********mr.psycho part 34 & 35
قسط____35
وہ احان کے پاس لیٹ گئی۔ ایک نظر اس پہ ڈالی ، اسکے سینے پہ دونوں بازوں پھیلاتے اپنی تھوڑی ہاتھوں پہ ٹکاتے وہ والہانہ انداز میں اسے دیکھتے مسکرانے لگی۔
“مسٹر احان! میری جان! جاناں!”
وہ دھیمی آواز میں اسے پکارتے ہوئے مسکرائے جارہی تھی۔
مجھے پتہ تھا کہ “آپ بہت پیار کرتے ہیں مجھ سے لیکن “اتنا زیادہ!” اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا مجھے مسٹر احان۔”
وہ احان کے گال کو اپنی ہتھیلی سے سہلاتے ہوئے سرگوشی کررہی تھی۔
“میں بھی آپ سے بے حد پیار کرتی ہوں” سنا آپ نے؟
آپ کیسے سنیں گے؟ ابھی تو آپ ہوش میں نہیں آئے۔
احان کے گال پہ نرمی سے اپنے نازک لبوں کا لمس چھوڑتے وہ بول رہی تھی۔
میں کبھی بھی آپکو چھوڑ کے نہیں جاؤں گی۔ آپ میرے فیورٹ ہیں، أپ میرا فرسٹ لوّ ہیں، میری جان ہیں اور۔۔۔ اور أپ بہت اچھے ہیں، مجھے بہت پیارے لگتے ہیں أپ، ابھی کے لیے اتنا ہے باقی جب آپ جاگ جائیں گے تو بتاؤں گی۔
وہ احان کے سینے پہ بازوؤں کا حصار بناتے، اپنا سر اس پہ رکھتے آنکھیں بند کر گئی۔
چند سیکنڈز بعد سر اٹھا کے احان کو دیکھا، وہ ابھی تک بے ہوش ہی تھا۔
جاگ جائیں نا! مسٹر احان! جاگ جائیں!
آئلہ اسکے چہرے پہ جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے بولنے لگی۔
چہرے پہ کسی نرم و ملائم لمس اور گرم سانسوں کی تپش محسوس ہونے لگی تو احان نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔
گڈ مارننگ!
احان کو آنکھیں کھولتا دیکھ کے وہ بہت محبت سے بولی۔
جانم!
“اسکا نازک وجود کا نرم لمس خود پہ محسوس کرتے، اسکے اندر ایک گہرا سکون اترا تھا۔ وہ بے ساختہ مسکرانے لگا۔ آئلہ کا کھلتا ہوا چہرہ دیکھ کے وہ پل بھر میں بھول گیا کہ ہوا کیا تھا۔ یاد تھا تو بس اپنی جانم کا ہنستا مسکراتا معصوم سا چہرہ!”
کیسا فیل کررہے ہیں؟
وہ احان کے گالوں پہ اپنے ہاتھ رکھتے پوچھنے لگی۔
“جنت جیسا! یہ آپکا نرم وجود اور اس سے آتی مسحور کن خوشبو، بے حد سکون محسوس کررہا ہوں، پوری زندگی اسی پل میں گزارنے کا دل چاہ رہا ہے۔”
وہ آئلہ کی کمر کے گرد نرمی سے اپنی بازوؤں کا حصار بناتے مدہوش کن لہجے میں بول رہا تھا۔
مسٹر احان! ٹھیک ہیں نا آپ؟
وہ اسکے سینے پہ انگلیوں سے دائرے بناتے ہوئے پوچھنے لگی۔
میں ٹھیک ہوں ہنی!
احان دھیمی سی آواز میں بولا۔
آپکے لیے اورنج جوس لاؤں؟
وہ اٹھ کے سیدھی بیٹھی۔
نہیں! کچھ نہیں چاہیئے مجھے۔
احان نے سیدھا ہوتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے، مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اوکے! جب چاہیئے ہو بتا دیجیے گا۔
آئلہ اسکے گال پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔
احان نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسے دیکھنے لگا۔
رمیز نے مجھے بتا دیا ہے کہ آپ کیوں اتنی ٹینشن میں تھے۔
آئلہ دھیمی سی آواز میں بولی تو اسکے ہاتھ پہ موجود احان کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔
کیا!؟ کیا بتایا ہے رمیز نے؟mr.psycho part 34 & 35
احان کے چہرے کا رنگ زرد ہونے لگا تھا۔
پریشان مت ہوں آپ!
آئلہ احان کے قریب جاتے اسکے کندھے پہ اپنا سر ٹکاتے ہوئے کہنے لگی۔
مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپکا ماضی کیسا تھا۔ میرے لیے بس یہ بات اہم ہے کہ میرے ساتھ آپکا رویہ شروع سے کیسا رہا۔
آپ نے ہی کہا تھا نا کہ میں آپکا پریزنٹ اور فیوچر ہوں۔
تو پھر آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ مجھے آپکے پاسٹ سے کوئی فرق پڑے گا۔
احان کے کندھے پہ بازو رکھے اپنی تھوڑی اس پہ ٹکائے وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہہ رہی تھی اور احان اسے حیرت سے دیکھے جارہا تھا۔mr.psycho part 34 & 35
میں۔۔۔جانم۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔
وہ بولنے کی کوشش کررہا تھا پر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے۔
کچھ نہ کہیں آپ!
مسٹر احان! رمیز نے لینا کے بارے میں بتا دیا ہے مجھے۔
وہ میری بیوی نہیں ہے نہ وہ بچہ میرا ہے۔ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔
آئلہ کی آدھی بات سنتے ہی احان بول پڑا۔
آپ میرا یقین کریں۔ وہ میرا بچہ نہیں ہے۔ میں یہ سب بتانے والا تھا آپکو۔ جانم! میں۔۔۔۔۔ !
وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور آئلہ کی گود میں سر رکھتے آنکھیں بند کر گیا۔
آپ کیوں مجھے صفائی دے رہے ہیں؟ اسکی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے أپ پہ پورا یقین ہے۔
وہ احان کے ماتھے پہ نرمی سے لبوں کا لمس چھوڑتے بولی تھی۔
مجھے بہت برا لگ رہا ہے۔ میں یہ سب بتانا چاہتا تھا آپکو لیکن ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں آپ ناراض ہوکے چلی نہ جائیں یہاں سے۔ اسی وجہ سے ہمت نہیں ہورہی تھی کچھ بتانے کی۔ 
وہ آنکھیں میچے بول رہا تھا۔ mr.psycho part 34 & 35
اب پتہ چل گیا نا سب! اب مت ہوں پریشان۔ میں یہی ہوں آپکے پاس۔ 
وہ احان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سرگوشی کررہی تھی۔ 
آپ ناراض نہیں ہیں مجھ سے؟ غصہ نہیں کرینگی؟ مجھے ڈانٹیں گی نہیں؟ 
وہ اٹھ کے سیدھا ہوا اور حیرت سے آئلہ کو دیکھتے پوچھنے لگا۔
جب سے میں آپکی لائف میں آئی ہوں کیا آپ نے میرے علاوہ کسی اور لڑکی کے بارے میں سوچا تھا؟ کیا کسی کو پسند کیا یا اس سے محبت ہوئی آپکو؟ 
میرے ساتھ ریلیشن شپ بنانے کے بعد کیا آپ نے مجھے چیٹ کیا؟ یا ایسا کچھ سوچا؟ 
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے سکون سے کہنے لگی۔ 
“نہیں! جب سے آپ میری زندگی میں آئی ہیں میں نے کبھی کسی اور کے بارے میں نہیں سوچا۔ آپکو چیٹ کرنا تو دور کی بات میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کبھی۔ 
میں بے حد محبت کرتا ہوں آپ سے، میں تو آپ سے دور ہونے کا تصور بھی نہیں سکتا تو پھر میں ایسا کچھ کیوں کروں گا جس سے أپ کو کھو دوں میں۔ “
وہ آئلہ کے چہرے پہ نظریں ٹکاتے بول رہا تھا۔
تو پھر اتنے ٹینس کیوں ہیں؟ جب آپ میرے ساتھ شروع سے لویل رہے ہیں پھر کیوں فکر مند ہورہے ہیں آپ؟ 
وہ پرسکون لہجے میں بول رہی تھی۔ 
آپ کو واقعی کوئی فرق نہیں پڑ رہا؟ مطلب کوئی غصہ، کوئی ناراضگی کچھ نہیں؟ 
وہ حیرت میں ڈوبے انداز میں کہنے لگا۔ 
مسٹر احان! وہ آپکا پاسٹ ہے اور میں آپکا پریزنٹ اور فیوچر ہوں۔ 
اب آپ خود بتائیں آپکے لیے کیا اہم ہے؟ mr.psycho part 34 & 35
وہ احان کے گلے میں بانہیں ڈالتے محبت سے پوچھنے لگی۔ 
میرے لیے میرا پریزنٹ اور فیوچر اہم ہے جو کہ آپ ہیں۔ بس اور کچھ اہم نہیں۔ 
وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ 
میں حیران ہورہا ہوں۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اپنے اس بات کو اتنی آسانی سے ہینڈل کریں گی۔ مطلب اتنا پرسکون طریقے سے۔ میں تو سوچ سوچ کے ہلکان ہوگیا تھا اور میری جانم نے اتنی سمجھداری سے ساری بات ختم کر دی۔ آخر کیسے؟ کہاں سے سیکھی یہ باتیں؟ 
وہ حیرانگی سے بول رہا تھا۔ 
کیونکہ میں” ہمارے رشتے کو لے کے بالکل کلیئر ہوں۔ اور آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ میں آپکو چھوڑ کے چلی جاؤں۔ بھلا کیوں؟ میں کیوں کرونگی ایسا؟ کوئی بھی لڑکی آکے کچھ بھی بولے گی اور میں یقین کرلوں گی؟ بالکل نہیں مسٹر احان! میرے لیے أپکی بات اہم ہے۔ جو آپ کہیں گے میں اس پہ یقین کروں گی۔ اور اگر مجھے لگے گا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو پھر میں ضرور سٹینڈ لوں گی “
اس نے دلفریب مسکراہٹ اپنے گلابی لبوں پہ سجاتے ہوئے کہا۔
مجھے یقین نہیں ہورہا کہ یہ میری ہنی بنی ہے۔ اتنی سمجھدار کب سے ہوگئی ہیں آپ؟ کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا نا؟ 
وہ سر جھٹکتے کہنے لگا تو آئلہ کے اسکے بازو پہ چٹکی بھری۔ 
“یہ کوئی خواب نہیں ہے مسٹر احان! اور یہ ساری باتیں میں نے گوگل اور یو ٹیوب سے سیکھی ہیں۔ کیونکہ میں ایک اچھی اور خوشحال زندگی گزارنا چاہتی ہوں آپکے ساتھ۔ 
آپکو کیا لگتا ہے میں موبائل پہ بس گیمز ہی کھیلتی رہتی تھی۔ میں یہ سب بھی سیکھ رہی تھی ساتھ ساتھ۔”
وہ چہکتے ہوئے بولے جارہی تھی اور احان جانثار نظروں سے اسے دیکھے جارہا تھا۔ 
آئم ریئلی سوری جانم! پلیز مجھے معاف کردیں۔ میں اگین کوئی بات نہیں چھپاؤں گا آپ سے۔ 
وہ نم آنکھوں سے کہنے لگا۔ 
“اوکے فائن! اب سے نو سٹریس! ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے کہ آپکو ذرا سا پہ ذہنی دباؤ نہیں لینےدینا۔ اسی لیے اب آپ ایسا کچھ بھی مت سوچیے گا۔ٹھیک ہے نا!”
وہ احان کے گالوں پہ ہاتھ رکھتے محبت سے کہہ رہی تھی۔ 
جیسا آپکا حکم جانم! mr.psycho part 34 & 35
وہ ہنستے ہوئے بولا تو آئلہ بھی مسکرادی ۔ 
چلیں اب آپ لیٹ جائیں۔ میں آپکے لیے جوس لے کے آتی ہوں اور ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے بھی لاتی ہوں پھر ہم بہت ساری باتیں کریں گے۔ 
وہ احان کی تھوڑی کو چھوتے ہوئے بولی اور بیڈ سے اترتے روم سے باہر چلی گئی۔ احان نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔ اندر تک سکون اترتا محسوس ہوا تھا اسے۔ 
میں ایسے ہی ڈر رہا تھا کہ جانم دور ہو جائیں گی مجھ سے، صحیح کہا ہنی نے لینا میرا پاسٹ تھی اور میری ہنی میری پریزنٹ، میرا فیوچر، لینا کی جھوٹی دھمکیوں سے ڈر نہیں سکتا میں اور نہ بلیک میل ہونے والا ہوں۔ لینا کے منہ سے ہی سارا سچ اگلوانا ہوگا مجھے۔ 
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے خیالوں میں گم تھا جب رمیز روم میں انٹر ہوا۔mr.psycho part 34 & 35

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.