by barbie boo

Mr psycho novel is Story of a 43 years old man who fell in love with a 15 years old girl & got crazy for her.


رائیٹر____باربی بو
قسط____36
کیسے ہو تم احان؟
رمیز روم میں انٹر ہوتے بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔
ٹھیک ہوں اب۔
وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
تم نے تو پریشان ہی کردیا تھا۔ بڑے ہی کمزور ہو گئے ہو تم، آئلہ کے ساتھ رہتے رہتے تمہارا دل بھی نازک تو نہیں بن گیا نا؟
وہ شرارتا کہنے لگا۔
نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔
وہ بولا۔
میں نے آئلہ کو بتا دیا سب۔
رمیز بیڈ کے ساتھ پڑے کاؤچ پہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔
ہمم! پتہ چل چکا ہے مجھے۔
احان نے اسکی طرف دیکھتے کہا۔
مجھے اور کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ تمہاری حالت دیکھ کے مجھ سے رہا نہیں گیا، میں نے لینا کے بارے میں اسے بتا دیا۔
وہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے بول رہا تھا۔
رمیز کی بات سن کے احان کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
تم مسکرا رہے ہو؛ مطلب آئلہ نے کوئی جھگڑا نہیں کیا تم سے۔mr psycho part 36 & 37
وہ کاؤچ سے اٹھ کے بیڈ پہ احان کے پاس آ بیٹھا۔
ہاں، کوئی جھگڑا، غصہ، ناراضگی کچھ بھی نہیں کہا اس نے تو مجھے، سچ کہوں تو میں ابھی تک حیران ہوں۔
احان کھوئے سے انداز میں کہنے لگا۔
حیرت تو مجھے بھی بہت ہوئی تھی اور ابھی تک میں سوچ میں ہوں کہ آئلہ نے اتنا نارملی ری ایکٹ کیسے کیا؟
اتنی سمجھدار تھی تو نہیں وہ۔
رمیز نے احان کے کندھے پہ اپنا بازو رکھتے کہا۔
صحیح کہا تم نے، میری ہنی نے تو میرے سارے ڈر ختم کر دیے ہیں۔ سچ بتاؤں نا تو میرا دل خوشی سے اچھل رہا ہے۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
وہ تو تمہارے چہرے سے واضح ہورہا ہے کہ تم کتنا خوش ہو۔ مبارک ہو! تمہارے دل کے سارے ڈر آج ختم ہوگئے۔
رمیز نے لبوں پہ مسکان سجاتے کہا۔
اسی وقت آئلہ ہاتھوں میں ٹرے تھامے روم میں انٹر ہوئی۔
آپ میڈیسن لے آئے۔
وہ بیڈ کی طرف آتے ہوئے رمیز سے پوچھنے لگی۔
جی میں ساری میڈیسن لے آیاہوں۔ یہ رکھی ہیں۔ آپ ٹائم پہ کھلا دینا احان کو۔
وہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھی میڈیسن کی طرف اشارہ کرتے بول رہا تھا۔
اوکے! میں کھلا دوں گی۔
وہ بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولی تو رمیز کھڑا ہوگیا۔
ٹھیک ہے، میں چلتا ہوں پھر ، کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کال کرنا۔
رمیز احان کو کہتے روم سے باہر چلا گیا۔
یہ لیں جوس پی لیں۔mr psycho part 36 & 37
وہ جوس کا گلاس احان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔
تھینک یو!
گلاس ہاتھ میں تھامتے وہ مسکرایا تھا۔
سر میں درد تو نہیں ہورہا نا؟
آئلہ اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے فکرمندی سے کہہ رہی تھی۔
نہیں میری جان! کچھ نہیں ہورہا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔
آپ کچھ زیادہ ہی فکر کررہی ہیں میری۔
جوس کا سپ لیتے وہ آئلہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بول رہا تھا۔
تو نا کروں فکر آپکی؟
کریں۔ آپکے علاوہ اور کوئی ہے میری فکر کرنے کے لیے؟
چلیں آپ جوس پیئں، ایموشنل نہ ہوں۔
وہ ہنستے ہوئے بولی تو احان بھی ہنس دیا۔
مسٹر احان!
وہ گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھ رہا تھا جب آئلہ نے اسکا نام لیا۔
جی جانم بولیں۔
آپکے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ میں برش لاؤں؟mr psycho part 36 & 37
وہ احان کے ماتھے پہ آتے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی۔
نہیں، برش کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ آپکی پیاری سی انگلیاں ہیں نا، ان سے سنوار دیں میرے بال۔
وہ آئلہ کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنساتے ہوئے بولنے لگا۔
اوکے !
وہ مسکراتے ہوئے اپنی انگلیاں چھڑاتے اسکے بالوں میں پھیرنے لگی۔
کونسا ہیئر سٹائل بناؤں؟
وہ احان کے بالوں سے کھلیتےہوئے بولی تو احان ہنس پڑا۔
کوئی بھی بنادیں، جس میں کافی ہینڈسم لگوں میں۔
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
چلیں پھر تو ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ آپ ایسے ہی کافی ہینڈسم لگ رہے ہیں۔
وہ احان کے بالوں کو بکھیرتے ہوئے بولی۔
اچھا تو میں ایسے ہی ہینڈسم لگ رہا ہوں۔ ادھر آئیں ذرا، اب میں آپکا ہیئر سٹائل بناتا ہوں۔
وہ اسکی کمر کو بازوؤں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔
مجھے کوئی ہیئر سٹائل نہیں بنوانا مسٹر احان! میں کھلے بالوں میں ہی اچھی لگتی ہوں۔
وہ کھلکھلا کے ہنستے ہوئے کہنے لگی۔
وہ کھلے بالوں میں ہی اچھی لگتی تھی۔ یا پھر اونچی پونی بنائے بے حد حسین لگتی تھی۔
احان کے کھلے بالوں کو دیکھنے لگا جو آئلہ کے شانوں اور کمر پہ بکھرے ہوئے تھے۔
مجھے آپ ہر حال میں ہی پیاری لگتی ہیں، بہت اچھی، بہت حسین لگتی ہیں۔
اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے وہ سرگوشی کرنے لگا۔mr psycho part 36 & 37
کیونکہ میں آپکی جانم ہوں نا اور جس سے ہم پیار کرتے ہیں ہمیں پوری دنیا میں بس وہی ایک ہی سب سے پیارا لگتا ہے۔
وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولی تو احان بے ساختہ ہنسنے لگا۔
زیادہ باتیں بنانے آگئی ہیں جانم کو، آپکا موبائل آپ سے لینا پڑے گا مجھے۔
احان شرارتا بولا تو وہ منہ پھلانے لگی۔
کیوں کیوں؟ آپ میرا فون کیوں لیں گے مجھ سے؟
میں بہت کچھ سیکھ رہی ہوں وہاں سے، ابھی تو اور بھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ میں اپنا فون نہیں دونگی آپکو۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی تو احان نے ہنسی دانتوں تلے دبائی تھی۔
میں نے کہا نا، اب آپ فون یوز نہیں کریں گی۔
وہ بناوٹی غصے سے بولا۔
لیکن کیوں مسٹر احان؟ آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں؟
وہ رونی شکل بناتے پوچھنے لگی۔
کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ ” آپ کو کچھ بھی پتہ لگے، آپ کچھ بھی سیکھیں، میں چاہتا ہوں آپ بے وقوف رہیں، آپکو کسی بھی بارے میں کچھ پتہ نہ ہو، اسی لیے آج سے آپکا موبائل یوز کرنا بند۔”
وہ مصنوعی غصے سے سخت لہجے میں بولا۔ اگلے ہی پل آئلہ کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔
یہ رہی میری جانم! ویلکم بیک ہنی بنی!
کہاں چلی گئی تھی آپ؟ بہت مس کیا آپکو، پتہ نہیں کون تھی وہ سمجھدار سی لڑکی، خود کو میری جانم کہہ رہی تھی۔ مجھے تو یقین ہی نہیں ہورہا تھا اس پہ،
اچھا ہوا آپ واپس آگئی۔ میری جانم تو بہت انوسینٹ ہیں، بہت حساس ذرا ذرا سی بات پہ رونے لگ جاتی ہیں۔
وہ اسے چھیڑنے کے انداز میں، اسکے گالوں پہ پھسلتے آنسوؤں کو صاف کرتے کہنے لگا۔
آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں؟ بہت برے ہیں آپ۔
وہ زور زور سے رونے لگی۔mr psycho part 36 & 37
بس بس روئیں نہیں۔ میں تو تنگ کررہا تھا آپکو۔
ویسے اتنا برا بھی نہیں ہوں میں۔
اسے اپنے سینے میں چھپاتے احان نے قہقہ لگایا تھا۔
ہاں، ہیں آپ، بہت برے۔
اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے وہ کہہ رہی تھی۔
جب میں نیند میں تھا تو کوئی میری سینے پہ سر رکھے، میری تعریفیں کررہی تھی۔ وہ آپ تو نہیں تھی نا؟
آئلہ کی تھوڑی اونچی کرتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے وہ شرارتا کہنے لگا۔
میں بس ایسے ہی کہہ رہی تھی، وہ تو آپ ہوش میں نہیں آرہے تھے تو اسی لیے بولا تھا میں نے۔
وہ معصوم سے انداز میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔
ٹھیک ہے مان لیتا ہوں۔
اسکے بالوں پہ لب رکھتے وہ بولا۔ اور اسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔
___________***********_________
کیا ہوا رمیز؟ تم نے اچانک مجھے اپنے فلیٹ میں کیوں بلایا ہے؟
کیارا لاؤنج میں آتے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔
تم سے کچھ بات کرنی تھی۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا بات؟mr psycho part 36 & 37
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
لینا کے بارے میں اور۔۔۔۔
اور کیا؟
اور آئلہ اور احان کے بارے میں بھی۔
رمیز نے دھمیے سے کہا۔
آئلہ کہاں سے آگئی اس سب میں؟
کیارا حیرانگی سے بولی۔
وہ تو پہلے دن سے تھی ۔ بیچ میں تو لینا آئی ہے۔
رمیز نے گہرا سانس لیتے کہا۔
میں کچھ سمجھی نہیں، کیا کہنا چاہ رہے ہو تم؟
وہ نا سمجھتے ہوئے بولی۔
احان آئلہ سے شادی کر چکا ہے۔ اور وہ جب سے پاکستان آئی تھی تب سے احان کے گھر پہ ہی رہ رہی تھی۔
واٹ!؟ احان بھائی نے آئلہ سے شادی کرلی!؟
تو لینا کیوں کہہ رہی ہے کہ وہ احان بھائی کی بیوی ہے اور وہ بچہ؟
میں کچھ سمجھ نہیں پارہی۔
کیارا کو جھٹکا لگا تھا۔ وہ بے یقینی سے بول رہی تھی۔
کیارا میری بات سنو، لینا احان کی بیوی نہیں ہے اور نہ ہی احان نے اس سے شادی کی تھی، آئلہ احان کی بیوی ہے اور اسی سے شادی کی ہے احان نے ۔mr psycho part 36 & 37
تو وہ بچہ؟ وہ بچہ کس کا ہے پھر؟
رمیز کی بات سنتے وہ غصے سے بولی تھی۔
اس بچے کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا، لینا کے مطابق تو وہ احان کا بچہ ہے لیکن احان کہتا ہے کہ اسکا کوئی بچہ نہیں ہے۔
اب پتہ نہیں کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔
رمیز نے پریشان سے لہجے میں کہا۔ کیارا اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔
یقین نہیں ہو رہا مجھے، اگر لینا سے شادی نہیں بھی کی اور یہ بچہ بھی انکا نہیں ہے تو پھر بھی وہ آئلہ سے کیسے شادی کر سکتے ہیں؟
اپنی عمر اور اسکی عمر میں کوئی فرق بھی نظر نہیں آیا انکو؟
بہت ہی شرم کی بات ہے یہ تو!
جاری ہوں میں ، سر پھٹ رہا ہے میرا، جب سب کو پتہ لگے گا تو کتنی بدنامی ہوگی ہماری، ہم کیا جواب دیں گے لوگوں کو؟
وہ چیخی تھی۔
________******
قسط__ 37
ریلیکس کیارا! اتنا ہائپر مت ہو یار۔
تم کیوں دنیا کی فکر کررہی ہو؟ لوگوں کی پرواہ مت کرو تم۔
وہ کیارا کے قریب آتے اسکے کندھوں کو پکڑتے بولا۔
مجھے اس دنیا اور لوگوں سے زیادہ احان بھائی کی فکر ہے، انکی پرواہ ہے مجھے، وہ اتنے سمجھدار ہوکے کیسے ایسی بے وقوفی کر سکتے ہیں، ارے اگر شادی کرنی ہی تھی تو کم سے کم کسی اپنی ہم عمر یا کسی سمجھدار لڑکی سے کرتے،
اس پندرہ سالہ بے وقوف لڑکی سے شادی کر لی۔
جس کو بات تک کرنا نہیں آتی، نہ بولنے کی تمیز ہے نہ پہننے اوڑھنے کی، نہ دنیا کا کچھ پتہ، نہ رشتوں کا ایسی لڑکی کو کون اپنے گھر کی بہو بنانا چاہے گا بھلا۔mr psycho part 36 & 37
وہ غصے میں بولے جارہی تھی۔
ناؤ، دس از ٹو مچ! تم کچھ زیادہ ہی بول رہی ہو کیارا، وہ بہت پیاری سی، سیدھی سادھی، معصوم سی ، صاف دل کی لڑکی ہے۔ اور جہاں تک سیکھنے کی بات ہے تو ابھی کوئی پچس تیس سال کی نہیں ہوگئی وہ، جو سب کچھ آجائے گا، ابھی چھوٹی ہے آہستہ آہستہ سب سیکھ جائے گی۔ اور احان اسکے ساتھ خوش ہے تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیئے ہمیں؟
وہ نرمی سے اسکے گال چھوتے کہنے لگا۔
تمہیں بڑی ہمدردی ہورہی ہے اسکے ساتھ؟ کیوں؟ اسکی کم عمری اور خوبصورتی دیکھ کے کہیں تم بھی اسکے دیوانے تو نہیں بن گئے نا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے دل میں بھی لڈو پھوٹ رہے ہیں۔
کہیں تم بھی اس کو دل تو نہیں دے بیٹھے نا؟ بولو! بتاؤ مجھے !
وہ رمیز کا گریبان پکڑتی ہوئی چیخی تھی۔
وٹ دا ہیل! پاگل ہوگئی ہو تم!؟ ہوش میں ہو؟ کچھ بھی بولے جارہی ہو۔
وہ اپنے کالر سے کیارا کے ہاتھ زور سے جھکٹے ہوئے بولا۔
تمہاری آنکھوں میں اسکے لیے ہمدردی سے کچھ زیادہ نظر آرہا ہے مجھے، شاید تم بھی اسکا حسن دیکھ کے اس سے پیار کر بیٹھے ہو رمیز۔
کتنی خوش قسمت ہے نا وہ، اتنی سی عمر میں ہی اپنے حسن سے سب کو اپنا دیوانہ بنا نے کا ہنر جان گئی ہے،
اب دیکھو نا، دو امیر اور خوش شکل مرد اس کے لیے پاگل ہوگئے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ محبت حسن دیکھ کے نہیں بلکہ دل دیکھ کے کی جاتی ہے پر آج اندازہ ہوگیا کہmr psycho part 36 & 37
حسین چہرہ زیادہ ضروری ہے حسین دل سے،
اور وہ مجھ کے کافی خوبصورت ہے، شاید بہت زیادہ۔
وہ روتے ہوئے زمین پہ بیٹھتی چلی گئی۔
کیارا! ایسا کچھ نہیں ہے بے بی! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پلیز، ایسا مت سوچو۔ میری طرف دیکھو، تم نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا تھا نا اسی لیے پھر سے شک کررہی ہو مجھ پہ۔
وہ اسکے پاس بیٹھتے، اسکی تھوڑی اپنی شہادت کی انگلی سے اونچی کرتے بہت پیار سے بول رہا تھا۔
مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔
وہ روتے ہوئے رمیز کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
سب سمجھ آجائے گا۔ رونا بند کرو پلیز، کچھ نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے کیارا، پریشان مت ہو تم۔
وہ اسکے سر پہ ہاتھ رکھے سرگوشی کرنے لگا۔
دادو کو پتہ لگا تو؟ . وہ پہلے ہی آئلہ کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ بہت ہنگامہ کریں گی وہ۔
وہ رمیز کی طرف دیکھتے بولی۔
وہ تو مجھے بھی پسند نہیں کرتی ہیں۔ انکی وجہ سے ابھی تک ہم۔ایک نہیں ہو پائے۔ آخر کب تک بڑوں کی بلاوجہ کی ضد اور اناّ کی خاطر بچے اپنی خوشیوں کی قربانیاں دیتے رہیں گے؟ کیا ہمیں جینے کا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا ہم اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے نہیں رہ سکتے؟ آخر کب تک بڑوں کی خاطر اپنی محبت کا گلا گھونٹتے رہیں گے ہم؟
اگر جینا ہے تو فیصلہ بھی کرنا ہوگا اور اپنی مرضی اور خوشی سے کرنا ہوگا نا کہ کسی کے دباؤ یا زبردستی کرنے پہ۔
وہ کیارا کے آنسو صاف کرتے پیار۔سے کہہ رہا تھا۔
لینا والا مسئلہ حل ہو جائے، پھر میں اپنے گھر والوں کو لاؤں گا ہماری شادی کی بات کرنے کے لیے اور اس بار میں انکار نہیں سنوں گا۔
اسے چپ دیکھ کے وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے بولا تو کیارا شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
ٹھیک ہے میں اب جاتی ہوں۔mr psycho part 36 & 37
وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے اٹھنے لگی۔
اسکے گالوں پہ سرخی اترنے لگی تھی۔ رمیز دلفریب مسکراہٹ سے اسے دیکھنے میں مگن تھا۔
وہ اٹھی اور لاؤنج سے نکلتی فلیٹ سے باہر چلی گئی۔
رمیز کے لبوں سے مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔ چہرے پہ ایک عجیب سی الجھن و پریشانی سے سائے لہرانے لگے تھے۔ ایک گہرا سانس لیتے وہ اٹھا اور صوفے پہ بیٹھتے سر پیچھے کو ٹکاتے اس نے آنکھیں موند لیں۔
________**********_______
جانم اور کتنا کھلائیں گی مجھے؟
صبح سے کبھی کیا کھلا رہی ہیں، تو کبھی کیا۔
میں ٹھیک ہوں۔
وہ منہ بناتے بول رہا تھا۔
مسٹر احان! چپ چاپ منہ کھولیں اور کھائیں یہ۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپکا بہت خیال رکھنا ہے۔
وہ سیب کا ٹکڑا احان کے منہ کی طرف بڑھاتی سختی سے کہہ رہی تھی۔
جانم پلیز! میرا پیٹ بھر چکا ہے۔ اور یہ فروٹ کھانے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا میرا، میں نے کھاؤں گا۔
وہ منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے بولا۔
دیکھیں، مسٹر احان، چپ چاپ کھا لیں یہ، ورنہ اور بھی طریقے ہیں میرے پاس، آپ بھولیں مت کہ میں بھی آپکی ہنی بنی ہوں۔
وہ سر اونچا کرتے کہنے لگی۔
جو بھی کرنا ہے کرلیں، میں اب مزید یہ سب نہیں کھانے والا، میری ہنی بنی سن لیں آپ۔
وہ تنک کے بولا۔mr psycho part 36 & 37
اگلے ہی پل آئلہ نے اسکے جبڑے کو پکڑتے دبایا اور سیب کا ٹکڑا اسکے منہ میں ڈال دیا۔
ہاں تو کیا کہہ رہے تھے آپ؟ ذرا پھر سے بولیں مسٹر احان۔
وہ کھلکھلا کے ہنسی تھی۔
اچھا تو میرے طریقے مجھ پہ ہی آزمانے لگ گئی ہے جانم۔
اسے ہنستا دیکھ کے احان نے محبت سے اسے دیکھا تھا۔
میں تو بس آپکا خیال رکھ رہی ہوں مسٹر احان۔
وہ دانت نکالتے بولی۔ ہنسنے کی وجہ سے اسکے گال سرخ ہورہے تھے اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔
بہت شکریہ اتنا خیال رکھنے کا۔
وہ آئلہ کا بازو پکڑتے اسے اپنی طرف کھینچتے، اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے کہنے لگا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں اب ہنی۔ میں سوچ رہا تھا کہ آپکو اپنے گھر لے کے چلوں، مجھے لگتا ہے اب وقت آگیا ہے کہ میں سب کو “ہمارے رشتے” کے بارے میں بتادوں۔
اور میری جانم کی دو دن بعد سالگرہ بھی تو آنے والی ہے نا، آپکی سالگرہ کے موقع پہ میں سب کے سامنے بھی اناؤنس کردوں گا۔ لیکن اس سے پہلے میں گھر میں بتانا چاہتا ہوں۔ چلیں آپ کچھ سامان پیک کرلیں۔ پھر روانہ ہوجائیں گے ہم۔
آئلہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسکے کندھے پہ لب رکھے بول رہا تھا۔
اوکے مسٹر احان، میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں، میں ابھی پیکنگ کرتی ہوں، میری برتھ ڈے آنے والی ہے، میں سکسٹین کی ہونے والی ہوں، بہت بڑی پارٹی ہوگی، مجھے تو سوچ کے ہی بہت خوشی ہورہی ہے۔
وہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہتی ہوئی بیڈ سے اتری اور وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی۔
احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔
میری ہنی بنی!
وہ زیر لب مسکراتے دھیمے سے کہہ رہا تھا۔
mr psycho part 36 & 37مسٹر احان، آپ بیٹھے کیوں ہیں؟ جائیں ، جاکے فریش ہو جائیں نا، پھر جانا بھی تو ہے، کہیں آپکی وجہ سے لیٹ نہ ہو جائیں ہم۔
احان کی نظروں کا حصار خود پہ پاتے وہ جزبز سی ہوئی تو مصنوعی غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی۔
اوکے، اوکے، جیسا آپکا حکم جانم! میں ابھی فریش ہو کے آتا ہوں، میری وجہ سے بالکل بھی لیٹ نہیں ہوں گے ہم۔
آپ جب تک اپنا سامان پیک کرلیں۔
وہ بیڈ سے اترتے بالوں میں ہاتھ پھیرتے واش روم کی طرف چلا گیا۔ اور آئلہ اپنے کپڑے نکالنے لگی۔
وہ فریش ہو کے نکلا تو آئلہ پہ نظر پڑی جو بیڈ پہ کپڑے پھیلائے، انکو دیکھے جارہی تھی۔ 
کیا ہوا ہنی؟ یہ کپڑے کیوں پھیلائے ہوئے ہیں؟ 
وہ بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ 
مجھے سمجھ نہیں آرہی ان میں سے کونسے کپڑے لے کے جاؤں۔ 
وہ پریشان سی احان کو دیکھنے لگی تو وہ مسکرادیا۔ 
اسمیں سوچنے والی کیا بات ہے جانم، سارے کپڑے پیک کر لیں آپ، جو مرضی وہ پہن لیا کرنا۔ 
وہ اسکے پاس آتے اسکے گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے پیار سے کہنے لگا۔
ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ، اوکے میں سارے کپڑے پیک کر لیتی ہوں، پتہ نہیں ہم کتنے دن رکیں گے وہاں۔ 
وہ بیڈ سے کپڑے اٹھاتے ہوئے بولی۔ 
ہاں جانم، آپکی سالگرہ تو وہی منانی ہے میں نے۔ 
وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ آئلہ نے خوشی سے اچھلتے ایک نظر احان ڈالی تو اسکی نظریں خود پہ پاکے شرماتے ہوئے سر جھکا گئی جبکہ احان کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی۔ 
_______********__

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.