mr.psycho part 38 & 39

written by barbie boo

جانم، آجائیں۔ 
احان گاڑی سے اترتے آئلہ کی طرف کا ڈور اوپن کرتے کہہ رہا تھا۔ 
مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے مسٹر احان۔ 
وہ گاڑی سے باہر نکلتے، احان کا بازو سختی سے پکڑتے ہوئے بولی۔
آپکے مسٹر احان آپکے ساتھ ہیں، کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میری ہنی کو۔ 
وہ اسکے ماتھے پہ پیار کرتے بولا تو آئلہ مسکرادی۔ 
چلیں اب، اندر چلتے ہیں۔ 
وہ آئلہ کے کندھے پہ بازو پھیلائے گھر میں داخل ہوتے لاؤنج کی طرف بڑھا۔ 
لاؤنج میں رمینا بیگم صوفے پہ بیٹھی لینا سے کچھ بات کررہی تھیں۔ جبکہ کیارا ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔ 
ہیلو ایوری ون! mr.psycho part 38 & 39
احان نے پر جوش طریقے سے کہا تو سب نے اسکی طرف دیکھا تھا۔ 
رمینا بیگم اور لینا فورا سے اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں جبکہ کیارا نے ناگواری سے آئلہ کی طرف دیکھا تھا۔
اس لڑکی کو پھر سے لے آئے تم۔ اب کیا کرنے آئی ہے یہ۔ 
رمینا بیگم غصے سے آئلہ کی طرف اشارہ کرتے احان سے پوچھ رہی تھیں۔ انکو غصے میں دیکھ کے آئلہ نے احان کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی تو احان نے اسے پکڑ کے اپنے ساتھ کھڑا کیا اپنے برابر میں۔ 
دادو پلیز، آرام سے بولیں۔ اتنا غصہ مت کریں۔ 
احان نے سختی سے کہا تو رمینا بیگم حیرت سے اسے تکنے لگی تھیں۔ 
ہے کون یہ؟ اس لڑکی کی خاطر اپنی دادو سے تم زبان درازی کررہے ہو۔ 
وہ چیخی تھیں۔ 
کوئی عام لڑکی نہیں ہے یہ، میری بیوی ہے، احان عباس کی بیوی ہے یہ، اس گھر کی بہو۔ 
احان نے مضبوطی سے آئلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے کہا۔ 
کیا!؟ بیوی! 
یہ تمہاری بیوی ہے تو پھر یہ کون ہے؟ یہ بچہ کس کا ہے؟ 
یہ سب ہو کیا رہا ہے آخر؟ mr.psycho part 38 & 39
رمینا بیگم لینا کی طرف اشارہ کرتے، اپنا سر پکڑتے صوفے پہ بیٹھ گئیں۔ 
یہ میری کچھ نہیں لگتی، نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے اور نہ اسکےبچے سے۔
احان نے لینا کی طرف دیکھتے سختی سے کہا۔ 
جھوٹ بول رہے ہو تم۔ تمہارا بچہ ہے وہ، تم اسطرح مجھ سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے احان۔ اور ویسے بھی اب تو سب کو پتہ لگ گیا ہے اب کیا فائدہ چھپانے کا۔ 
لینا نے احان کی طرف غصے سے دیکھتے کہا۔ 
تم لوگوں کی فکر نہ کرو، دو دن بعد انکو بھی سچ پتہ لگ جائے گا کہ میری بیوی کون ہے۔ 
احان نے بے رخی سے کہا تو لینا دانت پیس سے رہ گئی۔ وہ آئلہ کو کھا جانےوالی نگاہوں سے تک رہی تھی۔ 
“دو دن بعد میری ہنی کا برتھ ڈے ہے ۔ ایک بہت بڑی پارٹی رکھنے والا ہوں میں، سارامیڈیا بھی موجود ہوگا اور سب کے سامنے میں اناؤنس کردوں گا کہ میری بیوی آئلہ ہے۔”mr.psycho part 38 & 39
احان نے دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنایا۔ 
لینا کو تو جیسے آگ سی لگ گئی تھی۔ 
تم میرے بچے سے اس کا حق نہیں چھین سکتے۔ 
لینا چیخی تھی۔ 
کون سا حق؟ کیسا حق؟ تم کسی کے بچے کو ایسے اٹھا کے لے آؤ گی اور میرے نام کی فیک رپوٹس بنوا کے مجھے بلیک میل کرو گی۔ تم شاید بھول گئی تھی کہ میں کون ہوں۔ 
اور تم جس دولت کو حاصل کرنے کے لیے یہ ناٹک کررہی ہو نا تو سن لو ” میں احان عباس اپنی ساری دولت، اپنی زندگی اور اپنا سب کچھ اپنی جانم کے نام کر چکا ہوں۔”
احان کی بات پہ رمینا بیگم کو جھٹکا لگا تھا، لینا کے جیسے ہوش اڑے تھے اور کیارا بھی حیرانگی سے کبھی احان کو تو کبھی آئلہ کو دیکھ رہی تھی۔
کیا کہا تم نے؟ تم اپنی ساری دولت اس باہر سے آئی لڑکی کے نام کر چکے ہو؟ 
رمینا بیگم صدمے سے احان کو دیکھ رہی تھیں۔ 
جی بالکل، سہی سنا آپ سب نے، میرا سب کچھ اب میری جانم کا ہوچکا ہے۔ اور تمہارے پاس دو دن ہیں میری ہنی کی سالگرہ کے بعد تم یہاں نظر نہیں آؤگی۔ اپنا انتظام کر لینا ورنہ مجبورا پھر مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ 
احان نے سخت لہجے میں کہا اور آئلہ کا بازو پکڑتے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔ 
خدا غارت کرے اس کم بخت لڑکی، اس نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، اس پہ پہلے دن سے ہی شک تھا مجھے ، یہ جیسے۔بے شرمی سے احان کے ساتھ چپکتی رہتی تھی نا، تب سے ہی لگتا تھا مجھے ضرور کوئی نہ کوئی گل کھلائے گی یہ۔ 
رمینا بیگم اپنا سر پکڑے بولے جارہی تھیں۔ جبکہ لینا غصے میں آگ بگولہ ہوتے وہاں سے اپنے کمرے میں جا۔چکی تھی۔ 
اور کیارا حیرت میں ڈوبے سوچ رہی تھی کہ کیا کرے وہ۔ 
______******_____mr.psycho part 38 & 39
یہ ہمارا روم ہے ہنی۔ 
احان اسے لیے کمرے میں داخل ہوتے کہنے لگا۔ 
پیارا ہے۔ 
وہ کمرے کے چاروں طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی۔
چلیں اب آپ کچھ دیر آرام کریں۔ تب تک میں جاکے پارٹی کا ارینجمنٹ کرتا ہوں۔ 
وہ آئلہ کے گالوں پہ پیار کرتے روم سے باہر چلا گیا۔ 
احان بھائی! وہ لاؤنج سے باہر جارہا تھا جب کیارا کی آواز پہ رکتے ہوئے پیچھے کو پلٹا۔
کچھ چاہئیے؟ میں باہر کام سے جارہا تھا۔ 
وہ کیارا سے کہنے لگا۔ mr.psycho part 38 & 39
نہیں کچھ نہیں چاہیئے مجھے، آپ سے کچھ بات کرنی ہے ذرا میرے روم میں چلیں آپ۔ 
وہ سنجیدگی سے بولی۔ 
ابھی؟ اسی وقت؟ رات کو آکے بات کرتا ہوں تم سے۔ 
ابھی لیٹ ہورہا ہوں۔ رات کو آرام کے بیٹھ کے بات کر لیں گے اوکے ، بائے۔ 
وہ کیارا کا گال تھپتھپاتا ہوا لاؤنج سے باہر نکل گیا۔
وہ غصے سے اپنے روم کی طرف بڑھی۔ 
______********_______mr.psycho part 38 & 39
یہ کیا ہوگیا؟ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ 
احان نے شادی کر لی اور اپنی ساری دولت بھی اس لڑکی کے نام۔ کردی۔ 
اتنی مشکل سے یہاں تک پہنچی تھی میں، کیا کچھ سوچا تھاپر یہاں تو سب الٹ ہوگیا ہے۔ میں یہ سب کچھ ایسے برباد نہیں ہونے دونگی، بالکل نہیں۔ 
وہ غصے میں چیزیں ادھر ادھر پھینکتے چلا رہی تھی۔
_______*******_____
ہیلو رمیز، تم نے مجھے بتایا نہیں تھا کہ احان بھائی اتنی ساری دولت بھی آئلہ کےنام کر چکے ہیں۔ 
وہ فون کان سے لگائے بیڈ پہ لیٹے غصے سے پوچھنے لگی۔
کیا مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں، یہ کس نے کہا تم سے؟ 
رمیز چونکا تھا۔ mr.psycho part 38 & 39
احان بھائی نے خود سب کے سامنے اعلان کیا ہے، اپنی بیوی صاحبہ کو یہاں لے آئے ہیں وہ۔
کیارا نے بیزاری سے کہا۔ 
میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، احان نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی تھی مجھ سے۔ پتہ نہیں یہ سب کب کیا اس نے۔ 
رمیز نے دھیمی سیی آواز میں کہا۔ 
پتہ نہیں کیا ہوگا اب، خیر میں بعد میں بات کرتی ہوں تم۔سے، بائے! 
کیارا نے کہتے ہی کال کاٹ دی۔ 
احان نے یہ کب کیا؟ مجھے تو کچھ نہیں بتایا اس نے۔ 
وہ صوفے پہ بیٹھے سوچ رہا تھا۔ چہرے پہ اداسی و پریشانی کے سائے لہرانے لگے تھے۔ 
مٹھیاں بھینچے وہ سر پیچھے کو کرتے آنکھیں بند کرگیا۔ 
_______*******______mr.psycho part 38 & 39
اوہو!” تو شہزادی جی آرام فرمارہی ہیں۔ اگر اجازت ہو تو کمرے میں آجاؤں میں؟ 
کیارا ڈور سے روم میں جھانکتے آئلہ کو بیڈ پہ لیٹے دیکھ کے طنزاً بولی۔ 
کیارا آپی! آجائیں، وہ میں۔ایسے ہی لیٹ گئی تھی۔ 
وہ اٹھ کے سیدھی ہو بیٹھی۔ 
شکل سے تو کافی انوسینٹ لگتی ہو ویسے، مجھے ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی شاطر نکلو گی تم۔ 
وہ بیڈ کے سامنے پڑے کاؤچ پہ بیٹھتے زہریلے لہجے میں بول رہی تھی۔ 
آئلہ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی۔ 
چلو بس کرو اب ، یہ معصومیت کا ڈھونگ رچانا بند کرو۔
مجھے لگا تھا کہ تم بے وقوف ہو پر۔۔۔۔ میں نے اچھی طرح سوچا تو پھر جا کے سمجھ آیا مجھے کہ اصل معاملہ ہے کیا۔ 
ایسے اداس مت ہو بے بی، چلو میں تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں۔ 
وہ بیڈ کے قریب آتے آئلہ کے گالوں کو چھوتے ہوئے بولی تھی۔ 
لندن کے ایک امیر کبیر، مشہور بزنس مین کی اکلوتی بیٹی جو بیچاری والدین کی محبت اور توجہ سے محروم ہوتی ہے۔ ماں باپ اسے پسند نہیں کرتے ، بیچاری بہت خوبصورت ہوتی ہے پھر بھی اسکی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے وہ، گھر میں قید رکھتے ہیں اس پہ بہت پابندیاں لگاتے ہیں پھر ایک دن۔اسکا باپ سوچتا ہے کیونکہ اس سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑا لی جائے اور کسی کو کچھ پتہ بھی نہ لگے۔ تو وہ اسے اپنے بزنس پارٹنر کے حوالے کردیتا ہے ۔ 
جب لڑکی دیکھتی ہے کہ اب وہ اس قید سے نکل چکی ہے تو وہ محبت اور اٹینشن پانے کے لیے اپنے باپ کی عمر کے مرد پہ ڈورے ڈالنا شروع کردیتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کیونکہ ایک تیر سےدو شکار کیے جائیں، مطلب کہ اس مرد سے شادی کرکے ماں باپ کا پیار بھی حاصل کیا جائے اور شوہر کی محبت اور دولت بھی۔ mr.psycho part 38 & 39
تو اسطرح وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ 
تو کیسی لگی کہانی؟ 
کچھ رہ تو نہیں گیا نا؟ 
کیارا زہر آلود نظروں سے آئلہ کو گھورتے ہوئے بولی جو بیڈ شیٹ پہ نظریں جمائے روئے جارہی تھی۔ 
رونا آگیا؟ سچ سن کے کون روتا ہے بھلا؟ 
_____********_______mr.psycho part 38 & 39
قسط___ 39
سچ نہیں سنا جارہا تم سے؟ کل جب ساری دنیا یہی باتیں کرے گی تو تب کیا کروں گی تم؟ 
ایسے رونا شروع کردو گی؟ 
سچ کو مان لو تم۔ احان بھائی کو سب کچھ سچ سچ بتادو کہ تم کس مقصد سے رکی ہوئی ہو یہاں اور یہ بھی بتانا کہ مقصد پورا ہوتے ہی تم یہاں سے چلی جاؤں گی کیونکہ کوئی محبت تو کرتی نہیں ہو تم بلکہ احان بھائی کے جذبات سے کھیل رہی ہو بس۔ 
کیارا اسکا جبڑا سختی سے اپنے ہاتھ میں پکڑےغصے سے کہنے لگی۔ 
تم ان آنسوؤں سے باقی سب کو بے وقوف بنا سکتی ہو پر مجھے نہیں۔ اپنے حسن کا استعمال کرکے مردوں کو بے وقوف بناتی ہو تم، بڑی ہی چالاک ہو تم۔تو۔ 
وہ آئلہ کے گال پہ پھسلتے آنسوؤں کو انگلی سے چھوتے ہوئے طنراً ہنسی تھی۔ 
بہت ڈھیٹ ہو تم، ایسے نہیں بولو گی کچھ، تم سے تو میں بعد میں پوچھوں گی اور تمہارے منہ سے ہی سارا سچ اگلواؤں گی دیکھنا تم۔ 
وہ غصے سے پاؤں چٹختی کمرے سے باہر چلی گئی۔ 
آئلہ زورو قطار رونے لگی۔ 
_______********________mr.psycho part 38 & 39
ہیلو ٹیشا! کچھ پتہ بھی ہے تمہیں کہ کیا کچھ ہو گیا ہے۔ 
احان بھائی نے آئلہ سے شادی کرلی ہے اور سونے پہ سہاگہ اپنی ساری جائیداد بھی اسکے نام کر چکے ہیں۔ 
وہ فون پہ ٹیشا کو بتارہی تھی۔ 
واٹ!؟ 
آپ سچ کہہ رہی ہیں؟ 
او مائی گاڈ! ایسا تو میں نے موویز اور ڈراموں میں ہی دیکھا تھا۔ پتہ نہیں تھا کہ ہمارا اپنا بھائی بھی ہیرو بن۔جائے گا ایک دن۔ 
وہ خوشی سے بول رہی تھی۔ 
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟ 
میں اتنی ٹینشن میں ہوں اور تم خوش ہورہی ہو۔ 
کیارا غصے سے غرائی تھی۔ ٹیشا کا خوش ہونا اسے بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
آپ اتنا غصہ کیوں کررہی ہیں؟ احان بھائی کی اپنی زندگی ہے وہ جس سے چاہیں شادی کریں اور ویسے ہی ان دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ کسی . کو کوئی اعتراض ہونا چاہیئے۔ 
اور آئلہ تو ہے بھی کافی کیوٹ اور انوسینٹ، مجھے تو وہ بہت پیاری۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیشا کی پوری بات سنے بغیر ہی کیارا نے کال کاٹ دی اور فون بیڈ پہ پھینکا۔
تم لوگوں کو پتہ نہیں کہاں سے وہ معصوم لگتی ہے۔ جب پتہ چلے گا نا کہ کتنی بڑی شاطر ہے وہ تب دیکھوں گی میں تم لوگوں کے ری ایکشنز۔ 
وہ اپنی بال نوچتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ 
________★★★★★★mr.psycho part 38 & 39
ہاں بولو کیارا، کیا بات کرنی تھی۔ 
وہ کیارا کے روم کا ڈور نوک کرتے انٹر ہوتے بولا۔ 
جی بھائی، بیٹھیں۔ 
وہ صوفے پہ بیٹھتی احان کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہنے لگی۔ 
بولو اب۔ 
وہ صوفے پہ بیٹھتے بولا۔ 
آپ نے آئلہ سے شادی کیوں کی؟ جبکہ آپ اسے اچھی طرح جانتے بھی نہیں ہیں۔ 
وہ سوال کرنے لگی۔ 
میں محبت کرتا ہوں اس سے۔ اور وہ بھی بہت پیار کرتی ہے مجھ سے ، اسی لیے ہم نے شادی کی۔ 
احان نے دھیمی سی آواز میں کہا۔ mr.psycho part 38 & 39
وہ آپ سے کوئی پیار نہیں کرتی، ناٹک کررہی ہے پیار کا، 
اور شادی بھی صرف اس لیے کی ہے تا کہ آپکی محبت اور اٹینشن پا سکے لیکن احان بھائی وہ صرف مجبوری میں آپکے ساتھ رہ رہی ہے ۔ اپنا مقصد پورا ہوتے ہی وہ چھوڑ کے چلی جائے گی آپکو۔ 
کیا بکواس ہے یہ؟ تم ہوش میں ہو؟ 
کیا کہہ رہی ہو یہ سب؟ کونسا مقصد؟ تم۔میری ہنی پہ جھوٹا الزام لگا رہی ہو۔ 
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور چیخا تھا۔ کیارا کا یہ سب کہنا اسے بے حد غصہ دلا گیا تھا۔ وہ کب کوئی بات سن سکتا تھا آئلہ کے خلاف۔ 
وہ صرف تب تک آپکے ساتھ ہے جب تک وہ اٹھارہ سال کی نہیں ہو جاتی، دو سال تک وہ اٹھارہ کی ہو جائے گی اور پھر چلی جائے اپنی آزاد ، من پسند زندگی گزارنے۔ 
بھائی آپ خود سوچیں ایک پندرہ سالہ لڑکی کیوں اتنی بڑی عمر کے مرد سے شادی کرے گی؟ 
وہ اپنے گھر میں قید تھی ۔ آپ بس ایک راستہ ہو اسکے لیے ، اس قید سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کے لیے وہ آپکا استعمال کررہی ہے۔ یہی سچ ہے بھائی۔ 
کیارا بے بسی سے بول رہی تھی۔ جبکہ احان کے ماتھے کی رگیں تیزی سے پھڑ پھڑاتی ہوئی واضح ہورہی تھیں۔ 
اسے شدید غصہ آرہا تھا۔ 
وہ مٹھیاں بھینچے خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہا تھا۔ 
اتنے الزام، وہ بھی میری جانم پہ، میری معصوم سی ہنی بنی پہ اتنے گھٹیا الزام۔ 
تمہیں کیا خبر کہ کتنی معصوم ہے وہ، بالکل ایک چھوٹی سی بچی، اسکے تو ذہن و گمان میں بھی ایسا کوئی خیال نہیں آسکتا اور تم کتنے یقین سے میری بیوی پہ الزام لگائے جارہی ہو۔ mr.psycho part 38 & 39
اگر تم۔میری بہن نہ ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔ 
میری بات اچھی طرح سن لو تم کیارا؛ یہ پہلی اور آخری بار ہے جو تم نے میری بیوی کے خلاف یہ زہر اگلا ہے۔ میں تمہیں معاف کررہا ہوں۔ اگر اگلی بار ایسا کچھ کہا نا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میری بہن ہو سمجھی۔ 
وہ قہر برساتی نگاہوں سے کیارا کو دیکھتے بہت سختی سے کہتے وہاں سے جا چکا تھا۔ 
ہاں، مت کریں یقین۔ جب خود اپنی آنکھوں سے اپنی معصوم بیوی کے کرتوت دیکھیں گے نا آپ تو پھر ضرور یقین ہو جائے گا آپکو۔ 
وہ بیڈ پہ گرتے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر گئی۔
★★★★★★★★★★
لائٹ آف کیوں ہے؟ 
احان دھیرے سے ڈور اوپن کرتے روم۔میں انٹر ہوا تو کمرے میں اندھیرا دیکھ کے بولا۔ 
لائٹ آن کرکے، ڈور لاک کیا اور بیڈ کی طرف بڑھا۔ آئلہ سو چکی تھی شاید۔ 
وہ دھیرے سے اسکے پاس لیٹ گیا ۔ ایک نظر اسکے چہرے پہ ڈالی، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری، اسکے ماتھے پہ پیار کرتے اسے اپنے سینے سے لگاتے وہ آنکھیں بند کرگیا۔ 
★★★★★★★
میری ہنی ابھی تک سو رہی ہے۔ 
وہ بیڈ کی طرف بڑھتے آئلہ پہ نظر ڈالتے بولا۔ 
(یہ تیسری بار تھا جب وہ اسے دیکھنے آیا تھا۔ صبح کے وہ پارٹی کا انتظام کرنے میں بزی تھا، رمیز کو بلا لیا تھا۔)
“ہنی بنی” اٹھ جائیں، دوپہر کے بارہ بج رہے ہیں۔ برتھ ڈے کے لیے کوئی ڈریس نہیں لینی کیا جانم نے؟ 
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔ 
آپ لے آئیں نا مسٹر احان، مجھے سونے دیں۔ 
وہ نیم بیداری میں بولی تھی۔ mr.psycho part 38 & 39
چلیں رہنے دیتے ہیں، میں پارٹی ہی کینسل کر دیتا ہوں کیونکہ میرے لیے پارٹی سے زیادو جانم کی نیند اہم ہے۔ آپ آرام سے کوئی رہیں اور اپنی نیند پوری کریں۔ 
وہ شرارتا کہنے لگا تو اگلے ہی پل آئلہ نے آنکھیں کھولتے اسے گھورا تھا۔
میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ آپ بہت برے ہیں۔ 
وہ بیڈ سے اترتے بولی اور واش روم میں گھس گئی۔ پیچھے سے احان کا قہقہ اسے سنائی دیا تھا۔ 
******_________******
ہاں، تم سے ایک کام ہے مجھے۔ ہاں، ہاں کام کے بدلے جتنے پیسے چاہیئں، مل جائیں گے۔ 
ایک لڑکی کی تصویر بھیجی ہے اسے غائب کرنا ہے۔ مار ڈالو یا کہیں دور پھینک آؤ، کچھ بھی کرو، بس دوبارہ کبھی کسی کو نظر نہ آئے وہ، اور ڈھونڈنے پہ بھی نہیں ملنی چاہیئے۔ 
ٹھیک ہے ۔ کچھ دیر میں پیسے مل جائیں گے تمہیں۔ اور اس لڑکی کو پارٹی والی رات غائب کرنا ہے ۔ تاکہ کسی کا دھیان نہ جائے۔ 
اوکے اب فون رکھو۔ بائے۔ 
اندھیرے کمرے میں ایک قہقہ گونجا تھا۔ 
________*******______
یہ دیکھیں جانم، آپکا برتھ ڈے ڈریس آچکا ہے۔ 
وہ آئلہ کو بےبی پنک کلر کا فراک پکڑاتے ہوئے بول رہا تھا 
پسند آیا آپکو؟ 
وہ اس سے پوچھنے لگا۔ mr.psycho part 38 & 39
یس! بہت پیارا ہے یہ، تھینک یو مسٹر احان! مجھے بہت پسند آیا یہ۔ 
وہ چہکتے ہوئے فراک کو ہاتھ لگاتے کہنے لگی۔اسے بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ کے احان۔مسکرا۔دیا تھا۔ 
چلیں آپ ریڈی ہو کے باہر آجائیں پھر، دھیرے دھیرے سارے مہمان بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔ 
وہ محبت سے اسے دیکھتے بولنے لگا۔ 
کافی ڈیشنگ لگ رہے ہیں آپ۔ 
وہ احان کے گال کو چھوتے ہوئے بولی۔ 
تھینک یو میری جان! اب بس اپنی جانم کو دیکھنے کا ویٹ کررہا ہوں کہ کیسی لگتی ہیں اس فراک میں۔ 
وہ اسکے گال پہ پیار کرتے بولا۔ 
اوکے میں باہر جارہا ہوں، آپ ریڈی ہوکے آجائیں پھر۔ بے صبری سے انتظار رہے گا آپکا، زیادہ ویٹ کروا کے تڑپایے گا مت۔ 
وہ آئلہ کے کان میں سرگوشی کرتے اسکے کان کی لو پہ ہلکے سے بائٹ کرتے روم سے باہر چلا گیا۔
وہ گال سرخ ہوئے تھے، وہ شرماتے ہوئے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔ 
وہ فراک پہنے اپنا جائزہ لے رہی تھی جب ڈریسنگ روم کا دروازہ کسی نے نوک کیا۔ 
اف او! لگتا ہے مسٹر احان ہیں، صبر ہی نہیں ہوتا ان سے تو۔ 
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔ 
مسٹر احان، میں بس تھوڑی دیر میں آرہی ہوں، آپ پلیز باہر جائیں۔ 
وہ ڈور کے پاس آتے بولی۔ اگلے ہی پل کسی نے زور کے دستک دی۔ اور زور زور سے دروازو کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ 
آئلہ کے پیروں تلے سے زمین نکلی تھی۔ ڈر کے مارے اسکے اوسان خطا ہوئے، جسم کپکپانے لگا اور سانس تیز ہونے لگی۔ 
مسٹر احان! mr.psycho part 38 & 39
وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی اور اگلے ہی پل بے ہوش ہو کے زمین پہ گر پڑی۔ اور دستک دینے والا دروازہ توڑ کے ڈریسنگ روم میں آچکا تھا۔ 
________*******


By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.