couple, lovers, portrait-1867098.jpg

written by barbie boo

Mr.psycho part 40 & 41. In these parts Aila get kidnapped , Ehan got mad, tries to save her but kidnappers tries to murder Aila.

اتنی دیر ہوگئی ہے۔ ہنی ابھی تک آئی کیوں نہیں۔
وہ رمیز سے کہہ رہا تھا۔
ہاں اب تک تو آجانا چاہیئے تھا۔
رمیز نے احان کی طرف دیکھتے کہا۔
اور اگلے ہی پل دونوں کے چہروں کے رنگ اڑے تھے۔ وہ دونوں آئلہ کے روم کی طرف بھاگے۔
“جانم!”
کمرے میں داخل ہوتے احان چلایا تھا۔
وہ ڈریسنگ روم کی طرف بھاگا، دروازہ کھلا تھا اور کارپٹ پہ کافی خون پھیلا ہوا تھا۔ اسکے قدم لڑکھڑائے تھے۔ دل کی دھڑکنیں رکنے لگی تھیں۔
ہنی! ہنی! وہ پاگلوں کی چلاتے ہوئے ڈریسنگ روم کا ایک ایک کونہ چھاننے لگا۔
رمیز کے ہوش اڑے تھے۔ دل ڈوبنے سا لگا تھا۔
وہ غائب تھی۔ پر کیسے؟
اسکا سر چکرانے لگا تھا۔mr.psycho part 40 & 41
احان! احان! سنبھالو خود کو۔
میں نے گارڈز کو کہہ دیا ہے وہ پوری گھر کی تلاشی لے رہے ہیں۔ پولیس کو بھی انفارم کر دیا ہے۔ کچھ نہیں ہوگا اسے۔
پر وہ غائب کیسے ہوگئی؟ کس کی اتنی جرات ہوئی آخر کہ احان کے گھر میں گھس کے اسکے کمرے سے اسکی بیوی کو کڈنیپ کر گئے۔
رمیز پریشانی کے عالم میں بول رہا تھا۔ جبکہ احان کارپٹ پہ بیٹھے خون کے قطروں کو چھو کے دیکھ رہا تھا۔
یہ خون میری ہنی کا تو نہیں ہے نا رمیز؟ شاید کسی اور کو چوٹ لگی ہوگی۔
وہ صدمہ میں کہنے لگا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہنے لگی تھیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔
رمیز نے رنج سے اسے دیکھا۔
احان! ہوش میں آؤ، اگر تم اپنے ہوش کھو بیٹھو گے تو کیسے ڈھونڈو گے اپنی ہنی کو، کوئی لے کے چلا گیا ہے اسکو، ہوش میں آؤ تم، اسے ڈھونڈنا ہے ہمیں۔mr.psycho part 40 & 41
وہ احان کو کندھوں سے پکڑے جھنجھوڑ تے ہوئے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔
چپ ہو جاؤ تم! کوئی نہیں لے کے گیا اسے، وہ میری ہنی ہے کوئی کیسے لے کے جا سکتا ہے اسے۔
وہ رمیز کا گریبان پکڑتے زور سے چیخا تھا اور اگلے ہی پل اسکے گلے لگتے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔
کچھ نہیں ہوگا اسے،ہم واپس لے آئیں گے، تم پلیز خود کو سنبھالو یار۔
وہ غم ذدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
یہ خون، یہ خون تو میری ہنی کا نہیں ہے نا؟ بتاؤ نا!
کسی نے میری جانم کو ہرٹ کیا ہے۔ کس کی اتنی ہمت ہوئی آخر، اگر اسے ایک بھی کھروچ أئی نا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا میں۔
وہ ہتھیلی سے آنسو صاف کرتے غضب ناک لہجے میں کہنے لگا۔
جس نے بھی یہ جرات کی ہے اسکا تو میں وہ حال کروں گا کہ دوبارہ کسی کی ہمت نہیں ہوگی احان عباس کی بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھنے کی بھی۔mr.psycho part 40 & 41
وہ مٹھیاں بھینچے ڈریسنگ روم سے باہر نکلا، رمیز بھی اسکے ساتھ چلنے لگا۔
تم نے سارے کیمراز چیک کیے ہیں؟
ہاں چیک کرلیے۔ کچھ بھی نہیں ملا۔ شاید پوری پلاننگ کے ساتھ کیا گیا ہے یہ سب۔
رمیز نے بے بسی سے کہا۔
آج کا دن میری جانم اور میرے لیے بہت خاص تھا اور جس نے بھی یہ دن برباد کیا ہے اسکی تو میں جان لے لوں گا۔
وہ غصے سے پاگل ہورہا تھا۔
میں نے سب مہمانوں کو واپس بھیج دیا ہے اور میڈیا کو بھی بڑی مشکل سے روانہ کیا ہے۔
جس نے بھی یہ حرکت کی ہے، شاید تمہیں جانتا نہیں ہوگا، ورنہ جو تمہیں جانتے ہیں وہ تو اتنی ہمت کر ہی نہیں سکتے۔
رمیز نے کہا۔
اسی پل احان کے فون پہ میسج ٹون کی آواز آئی۔ اس نے فورا موبائل جیب سے نکالتے میسج اوپن کیا۔
کسی نے واٹس ایپ پہ کچھ پیکچرز بھیجی تھیں۔
احان کے ہاتھ ایک پل کو کانپے تھے پکچرز کو اوپن کرتے،
اگلے ہی پل موبائل۔اسکے ہاتھ کے گرا تھا اور ساتھ ہی وہ خود پہ زمین پہ بیٹھتا چلا گیا۔
کیا ہوا احان؟ کس کا میسج تھا؟
رمیز نے پوچھا اور زمین سے فون اٹھا کے دیکھنے لگا۔
آئلہ کی پکچرز تھیں جسمیں میں وہ بیڈ پہ بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔ گردن ، بازو اور گال پہ خون کے نشان تھے۔ بازو پہ کٹ کے نشان واضح ہورہے تھے ۔ جیسے کسی نوکیلی چیز ماری گئی ہو۔
زمیز کا دماغ سن ہوا تھا ایک پل کو۔
یہ سب کیا ہے؟ کون کررہاہے یہ سب؟
رمیز احان کے پاس بیٹھتے غصے و صدمے سے بول رہا تھا۔
میری ہنی کو ہرٹ کیا اس نے، تکلیف پہنچائی میری ہنی کو، یہ سب برداشت نہیں کر سکتا میں، وہ بہت ڈر رہی ہو گی، رو رہی ہوگی، کتنا بھروسہ دلایا تھا میں نے اسے کہ میرے پاس محفوظ رہے گی وہ، لیکن میں اسکی حفاظت نہیں کر پایا، میری وجہ سے وہ اس حال میں پہنچی ہے۔
کیا کروں میں کیسے ڈھونڈو اسے!؟
وہ اپنے بال نوچتے زور زور سے روتے ہوئے چلا رہا تھا۔ اسکے رونے کی آواز اتنی تیز تھی کہ رمینا بیگم، کیارا اور لینا بھی وہاں بھاگ کے آئے تھے۔mr.psycho part 40 & 41
تم فکر مت کرو احان، پولیس نے ڈھونڈنا شروع کردیا ہے ، مل جائے گی آئلہ۔
رمیز اسے گلے لگاتے تسلی دینے لگا۔
رمینا بیگم اور کیارا ہکی بکی ہوکے دیکھے جارہی تھیں جبکہ لینا گم سم سی بت بنے کھڑی ہوئی تھی۔
لینا پہ نظر پڑتے ہی احان تیزی سے اٹھتے اسکی طرف بڑھا تھا۔
“تم نے چھپایا ہے نا ہنی کو، مجھے تکلیف پہنچانے کے لیے کررہی ہونا یہ سب، بتاؤ، بتاؤ کہاں چھپایا ہے میری ہنی کو؟ تمہیں پیسے چاہیئے نا، دولت چاہیئے ، میں ۔۔۔۔ میں سب کچھ دے دوں گا تمہیں، تمہیں جو بھی چاہیئے ، میں تمہیں دینے کے لیے تیار ہوں، پلیز تم میری جانم واپس دے دو مجھے، پلیز بتاؤ مجھے اسے کہاں چھپا رکھا ہے، لینا پلیز بولو، بولو لینا! “
“خدا کے لیے بول دو، بتادو مجھے، واپس کردو میری ہنی مجھے،
کچھ بول کیوں نہیں رہی تم، تم جو بھی کہو گی میں کرنے کو تیار ہوں،
تمہیں جو بھی کرنا ہے نا میرے ساتھ کرو، مجھے ہرٹ کرو، مجھے تکلیف پہنچاؤ، لیکن پلیز میری بنی کو کچھ مت کہو، وہ نہیں سہہ پائے گی، وہ نہیں سہہ پائے گی۔”mr.psycho part 40 & 41
وہ لینا کو بازو سے پکڑے جھنجھوڑتے ہوئے زوروقطار روتے اسکی منتیں کرنے لگا۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے ہوش کھوتے زمین بوس ہوتا، رمیز نے آگے بڑھ کے اسے سہارا دیا۔
کیارا اور رمینا بیگم کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ احان کا یہ روپ پہلا کہاں دیکھا تھا انہوں نے، اس طرح گڑگڑاتے، منتیں کرتے، ٹوٹتے، بکھرتے پہلی بار دیکھ رہے تھے وہ،
وہ تو احان کو ایک مضبوط اعصاب کا مالک شخص سمجھتے تھے، اسکی دیوانگی، جنونیت اور یہ پاگل پن ناقابل یقین تھا ان کے لیے۔
لینا پل بھر میں وہاں سے غائب ہوتے اپنے روم میں پہنچی تھی۔ تیزی سے ڈور لاک کرتے وہ بیڈ پہ جا گری اور لمبے لمبے سانس لیتے اپنے بازو پہ ہاتھ رکھ دیے جو احان کی سخت گرفت کی وجہ سے دکھ رہے تھے۔
یہ کیسا پاگل پن تھا، اسکی آنکھوں میں جنونیت تھی وہ بھی اس معمولی سی لڑکی کے لیے، ایسے تڑپ رہا ہے جیسے جان اٹکی ہو اس لڑکی میں۔
وہ آنکھیں بند کرتے خود کو پر سکون کرنے لگی۔
★★★★★★★mr.psycho part 40 & 41
مسٹر احان!
وہ بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے ہلکے سے بولی تھی۔
جسم میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اور گردن اور بازوؤں پہ بے حد جلن کا احساس ہورہا تھا ۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی پر بے سود، شاید بے ہوشی کی دوا کی وجہ سے وہ ابھی بھی نیم بے ہوش ہی تھی۔
پورے کمرے خالی تھا۔کمرے کے بیچوں بیچ ایک بیڈ تھا جس پہ وہ لیٹی ہوئی تھی۔ شاید کمرے کو باہر سے لاک کیا گیا تھا۔
چھت پہ نظریں ٹکاتی اگلے ہی پل اسکی آنکھیں پھر سے بند ہوئیں تھیں۔
_______********mr.psycho part 40 & 41
کرنا کیا ہے اس لڑکی کا؟ پورے شہر میں پولیس ڈھونڈ رہی اسے، ہم اگر اسے اپنے ساتھ لے کے گئے تو پکڑے جائیں گے ،
وہ احان عباس پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔ اگر ہم تک پہنچ گیا تو ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا وہ۔
ایک نقاب پوش اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔
لگتا ہے غلطی کردی ہم نے، اب اگر اسے زندہ چھوڑ دیا تو یہ ہمارے بارے میں اسے بتائے گی اور وہ ہمیں مار ڈالے گا۔ اس لڑکی کو ہی مار دیتے ہیں۔ کھیل ختم! پیسے تو جو ملنے تھے وہ مل چکے ہمیں، اسکا کام تمام کر کے باہر نکل جائیں گے۔ بس یہی ایک راستہ ہے ہمارے پاس۔
اسکے ساتھی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہاں میں سر ہلانے لگا۔
______******______mr.psycho part 40 & 41
پانی پیو، احان پلیز پانی پی لو۔
کتنے گھنٹوں سے تم روئے جارہے ہو۔ سنبھالو خود کو۔
فون ٹریس کیا ہے انہوں نے کچھ دیر میں پتہ لگ جائے گا جگہ کا۔
پلیز تم ایسے پاگلوں کی طرح برتاؤ نہیں کرو۔
رمیز اسے پانی کی بوتل پکڑاتے بولا۔ جو اس نے نہیں لی۔
تو کیا کروں میں؟ کئی گھنٹوں سے خوار ہورہا ہوں۔ کہیں نہیں مل رہی وہ،
کہاں ڈھونڈو اسے میں، پتہ نہیں کس حال میں ہوگی میری ہنی۔
ایسے لگ رہا ہے میرا دل کسی نے اپنی مٹھی میں قید کر لیا ہو اور بس ابھی میری جان نکل جائے گی۔
وہ گاڑی کے ڈیش بورڈ پہ سر رکھے بے بسی سے آنسو بہانے لگا۔
صبح کے پانچ بجنے والے تھے اور وہ دونوں شہر کا چپہ چپہ چھان رہے تھے۔ کہ شاید وہ مل جائے پر بے سود,
ہر گزرتے پل کے ساتھ احان جیسے پاگل سا ہوتا جارہا تھا۔
_________********_______mr.psycho part 40 & 41
وہ کس حال میں ہوگی یہ سوچ سوچ کے ہی اسکا برا حال ہورہا تھا۔
احان نے تو کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا کہ کچھ ایسا بھی ہوگا، بھلا اس معصوم سی جان سے کیا دشمنی کسی کی، وہ تو کسی کو جانتی تک نہیں، میرے سوا کسی کو کہاں جانتی ہے وہ۔
وہ سیٹ سے ٹیک لگائے سوچنے لگا۔ رمیز لاچاری سے احان کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں کیا حالت ہوگئی تھی اسکی، چہرے کا تو جیسے رنگ ہی اڑ چکا تھا، رو رو کے آنکھیں لال ہوچکی تھیں ، پیاس سے ہونٹ سوکھ چکے تھے۔ گالوں پہ آنسوؤں کے خشک ہونے کے نشان واضح ہورہے تھے۔
محبت میں کتنا کمزور اور بے بس ہوگیا تھا نا احان عباس۔
موبائل بجنے پہ وہ خیالوں سے باہر نکلا۔
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے ہم پہنچ رہے ہیں اوکے اوکے!”ا
رمیز نے جلدی سے فون ڈیش بورڈ پہ رکھتے کار سٹارٹ کی اور فاسٹ ڈرائیو کرنے لگا۔
آئلہ کا پتہ چل گیا ہے، ہم وہی جارہے ہیں۔
رمیز نے ایک نظر احان پہ ڈالتے کہا۔
اسکا مرجھایا ہوا چہرہ ایک دم سے کھل اٹھا تھا۔
کیا!؟ میری جانم! جلدی جلدی چلو۔
وہ خوشی سے بولا۔
________*******______mr.psycho part 40 & 41
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ جب دروازہ کھولے دو نقاب پوش کمرے میں آئے۔
ڈر کے مارےوہ بیڈ کے ایک کونے میں سمٹی تھی۔ نازک سے وجود پہ کپکپاہٹ طاری تھی اور دل بے تحاشا شور مچارہا تھا۔
مسٹر احان!
وہ ڈر ڈر کے بول پائی تھی۔
یہ کس کا نام لے رہی ہے؟
ایک نقاب پوش بیڈ کی سائیڈ پہ بیٹھتے دوسرے کی طرف دیکھتے بولا۔
پتہ نہیں، شاید ہیرو ہوگا اسکا۔
وہ دونون قہقے لگانے لگے۔mr.psycho part 40 & 41
مجھے۔۔۔۔ مجھے مسٹر احان کے پاس جانا ہے ۔
وہ بیڈ سے اترتے دروازے کی طرف بھاگنے لگی تو ایک ساتھی نے آئلہ کے بازو کو پکڑتے اسے واپس بیڈ پہ پھینکا تھا۔
یہاں پر کوئی مسٹر احان نہیں ہے۔
لیکن ہم دونوں ضرور ہیں۔ ہم سے بات کرو تم۔
وہ بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے مکروہ ہنسی ہنستے بولے۔
آئلہ نے بیڈ سے اترتے پھر سے بھاگنے کی کوشش کی۔
ان میں سے ایک نے آئلہ کے بالوں کو زور سے اپنے ہاتھوں میں جکڑا تھا۔
کیوں بار بار بھاگنے کی کوشش کررہی ہو؟
کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بہت کمزور سی ہو تم، ایک تھپڑ لگایا نا تو عقل ٹھکانے آجائے گی تمہاری ۔
وہ غرایا تھا۔
ڈر کے مارے آئلہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
دیکھو ذرا، چھوٹی سی سہمی ہوئی چڑیا، کتنی پیاری ہے یہ۔
دوسرے ساتھی نے آئلہ کے وجود پہ حوس زدہ نظریں ٹکاتے کہا۔
اتنا ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس، چل بس جلدی سے کام تمام کر اسکا۔ ہمیں نکلنا بھی ہے یہاں سے۔
پہلا ساتھی بیزاری سے بولا۔
چلو چڑیا، اب تمہارا وقت ختم ہوا، بائے بائے!
دوسرے ساتھی نے ایک ہاتھ کے آئلہ کا جبڑا سختی سے پکڑے، دوسرے ہاتھ میں چاقو لیے کہا۔ آئلہ کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا، خوف سے رنگ زرد پڑ چکا تھا۔mr.psycho part 40 & 41
اب سوچ کیا رہا ہے، پولیس کے آنے کا انتظار کررہا ہے کیا؟ مار اسکے پیٹ میں چاقو اور ختم کر کہانی۔
پہلا ساتھی چلایا تو دوسرے نے اسی وقت زور سے آئلہ کے پیٹ میں چاقو گھونپا، آئلہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اسکے پیٹ سے چاقو نکالتا، پولیس کی گاڑی کی آواز پہ وہ آئلہ کو بیڈ پہ پھینکتے کمرے سے باہر نکلے، جیسے ہی کمرے سے باہر نکلے سامنے پولیس کے دیکھ کے ہوش اڑے تھے۔
احان اور رمیز تیزی سے بھاگ کے انکی طرف آئے۔
احان نے ان دونوں کو مکے مارنا شروع کردیے، وہ جنونوں کی طرح ان پہ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ انکی جان لیتا، کھلے ہوئے دروازے سے نظر کمرے کے بیچوں بیچ پڑے بیڈ پہ گئی جہاں اسے آئلہ کا فراک نظر آیا تھا۔
وہ بھاگ کے اندر گیا۔ بیڈ کی نزدیک پہنچتے ہی اسکی سانسیں اٹکی تھیں۔
آئلہ کے پیٹ میں چاقو گھسا ہوا تھا جہاں سے خون بہے جارہا تھا۔ سارا فراک خون سے لت پت ہو چکا تھا۔ وہ بمشکل سانس لے پارہی تھی۔ درد سے کراہتے ہوئے آنکھیں بند ہونے کو تھیں۔ اور گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔
“جانم! جانم!”
وہ آئلہ کو بانہوں میں بھرتے زور سے چلایا تھا۔
رمیز کمرے میں آیا ، آئلہ کو خون میں لت پت دیکھ کے اسکے سر پہ جیسے آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ یہ سب کیا ہورہا تھا۔ اس حد تک تو سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا تھا۔
جلدی چلو، وہ احان کے ساتھ ساتھ باہر کی طرف بھاگتے گاڑی میں بیٹھتے ڈرائیو کرنے لگا۔
پلیز تیز چلاؤ گاڑی، جلدی کرو۔
احان۔چیخا تھا۔
وہ پاگلوں کی طرح روئے جارہا تھا۔mr.psycho part 40 & 41
رمیز کے اپنے ہوش اڑے ہوئے تھے۔ پورا جسم جیسے کانپ رہا تھا اسکا بھی۔
جانم! جانم! آنکھیں کھولیں پلیز! پلیز! آنکھیں کھولیں!
دیکھیں مجھے، پلیز مجھے دیکھیں، میں آپکے سامنے ہوں، کچھ نہیں ہوگا آپکو، میں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔
ہنی! ہنی! آپکے مسٹر احان آپکو کچھ نہیں ہونے دیں گے۔
وہ دیوانوں کی طرح کبھی اسکے ہاتھ چوم رہا تھا تو کبھی اسکا ماتھا اور گال۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی اسکی جان چلی جائے گی۔ جیسے ابھی دل غم سے پھٹ جائے گا۔
رمیز نے ہوسپٹل کے سامنے گاڑی اور اگلے ہی پل وہ آئی سی یو کے سامنے کھڑے ویٹ کررہے تھے۔
احان کی تو جان اٹکی ہی ہوئی تھی رمیز بھی سانسیں روکے بے حال سا لگ رہا تھا۔
وہ ٹھیک ہے نا ڈاکٹر؟
ڈاکٹر کو روم سے نکلتے دیکھ احان اور رمیز دونوں نے بیک وقت پوچھا تھا۔
کافی خون بہہ چکا ہے۔ پر زیادہ لیٹ نہیں ہوا اسی لیے انکی جان تو بچ گئی ہے پر ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگ جائے شاید۔
ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا۔
دونوں کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔ گہرے سانس لیتے جیسے شکر ادا کیا تھا دونوں نے۔
وہ دونوں زندہ ہیں ابھی تک؟
احان نے قہر برساتی نظروں سے دیوار کی طرف دیکھتے رمیز سے پوچھا۔
ہاں! پولیس اسٹیشن میں ہیں۔
رمیز نے دھیرے سے جواب دیا تھا۔mr.psycho part 40 & 41
انکو میرے پاس لے کے آؤ، میری جانم کو ہوش آنے سے پہلے ان دونوں کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہونا بہت ضروری ہیں۔
احان نے دانت پیس کے کہا تو رمیز چپ چاپ وہاں کے چلا گیا۔
اب احان کی بات ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا اگر وہ نہ جاتا تو احان نے خود ہی چلے جانا تھا۔ اور اگر وہ چلا جاتا تو سب کچھ تباہ کر کے ہی واپس آتا۔
میری جانم! آئی ایم سوری! میری ذرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے آپکو اتنی تکلیف سہنی پڑی۔ بٹ آئی پرامس!
آپکے ہوش میں آنے سے پہلے ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دونگا میں۔
وہ نرمی سے آئلہ کے ماتھے پہ پیار کرتے سرگوشی کررہا تھا۔
________********____mr.psycho part 40 & 41
Episode 41
سٹور روم میں ہیں وہ دونوں۔
احان کو اپنی طرف آتے دیکھ کے رمیز نے کہا۔
کچھ بتایا یا نہیں۔
احان نے سپاٹ سے انداز میں پوچھا تو رمیز نے نا میں سر ہلایا۔ احان سٹور روم میں انٹر ہوا جبکہ رمیز باہر کی طرف چل دیا۔
تم میں سے کس نے میری ہنی کو چاقو مارا تھا۔
احان نے قہر برساتی نگاہیں ان دونوں پہ گاڑھے کہا۔ وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، جانتے تھے کہ اب زندہ نہیں بچنے والے۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں!”
وہ چیخا تھا۔
وہ۔۔۔وہ اس نے۔۔۔ اس نے مارا تھا۔
ایک ساتھی نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔ اور پلک جھپکتے ہی احان نے دوسرے والے کے پیٹ میں چھرا گھونپا تھا۔
ایک زور دار چیخ اسکے منہ سے نکلی تھی۔ اور وہ درد سے کراہنے لگا۔ اس سے پہلے کہ پہلا ساتھی کچھ کہتا احان نے اسکی طرف بڑھتے اسکے گلے پہ زور سے کٹ لگایا اور فواروں کی شکل میں خون بہنے لگا۔
دونوں درد سے تڑپتے ، کراہتے زمین پہ پڑے ہوئے تھے۔
“یہی سزا ہے میری جانم کو تکلیف پہنچانے کی، کوئی سوال کوئی صفائی نہیں، نہ کوئی معافی اور نہ ہمدردی میری ہنی کو ہرٹ کرنے کی سزا صرف اور صرف موت ہوگی!”mr.psycho part 40 & 41
احان نے چاقو زمین پہ پھینکا اور ان دونوں کو ایسےہی تڑپتا , بلکتا چھوڑ کے غصے سے آگ بگولہ ہوتے سٹور روم سے باہر نکلا۔
احان، تمہاری واسکٹ پہ خون کے نشان ہیں، تم جا کے فریش ہو جاو، چینج کرلو تب تک آئلہ کو ہوش آجائے گا۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں، میں جارہا ہوں۔ وہ دونوں ایسے ہی پڑے رہیں، تڑپ تڑپ کے خود ہی مر جائیں گے۔ آسان موت تو میں دینے نہیں والا انکو۔
میں جارہا ہوں، تم آجانا پھر۔
احان رمیز کا کندھا تھپتھپاتے بولا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور رمیز نے ایک سرد آہ بھری۔
________*******______
ابھی تک ہوش میں نہیں آئی وہ؟
احان کو پریشان حال دیکھ کے رمیز نے پوچھا۔
نہیں! ڈاکٹر نے کہا ہے جلد ہی ہوش آجائے گا۔
احان نے فکر مندی سے کہا۔
اتنے پریشان کیوں ہو احان؟ اب تو ٹھیک ہوگیا نا سب، مر چکے ہیں وہ دونوں، اور آئلہ بھی بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔
لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں لگا کہ یہ سب کیا کس نے تھا؟
أخر کس نے؟mr.psycho part 40 & 41
احان نے رمیز کی طرف دیکھتے کہا۔
پولیس کو بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پتہ لگایا جا سکے کہ اس سب کے پیچھے کون تھا۔
رمیز نے بے بسی سے کہا تو احان نے گہری سانس لی تھی۔
آپکی پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے ۔ آپ جا کے مل لیں لیکن ایک بات کا دھیان رکھیے گا۔ وہ ابھی شاک میں ہیں اسی لیے ہو سکتا ہے وہ کچھ نہ بول پائیں، کچھ دن تک آہستہ آہستہ نارمل ہو جائیں گی تب تک آپ کوئی بھی ایسی بات مت کریے گا جس سے وہ سٹریس لیں یا انہیں حادثے سے متعلق کچھ یاد آئے۔
نرس نے روم سے نکلتے احان اور رمیز کی طرف آتے کہا تو وہ دونوں روم میں انٹر ہوئے تھے۔
جانم! میری ہنی!
احان آئلہ کی طرف بڑھتے اسکے ماتھے پہ پیار کرتے محبت بولا تھا۔
اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے وہ اسکے ہاتھوں کو باری باری چومنے لگا۔
رمیز نے ایک نظر آئلہ پہ ڈالی، سکون کی سانس لی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ وہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اسکا چہرہ دیکھ کے دل کو تسلی ہو گئی تھی بس اتنا کافی تھا رمیز کے لیے۔
ہنی! میں آپکے پاس ہوں۔
وہ آئلہ کے گالوں پہ پیار کرتے سرگوشی کرنے لگا تھا۔
پر وہ بالکل چپ تھی اور احان کو دیکھ رہی تھی۔
میری جان! آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں گی۔ ڈرنہ نہیں ہے جانم نے، میری ہنی بنی بہت بریو ہے۔
وہ اسکے پاس بیٹھے اسکا دل بہلانے کی کوشش کررہا تھا۔ پر آئلہ کا سپاٹ سا چہرہ دیکھ کے احان کا دل ڈوبنے لگا تھا۔ بے حد دکھ ہو رہا تھا اسے۔
اسکی ہنی تو کبھی ایسے خاموش نہیں ہوتی تھی، وہ تو ہر پل ہنستی کھیلتی، کھلکھلاتی رہتی تھی۔ اتنی اداس و جذبات سے عاری اسکا چہرہ دیکھ کے احان کی آنکھوں میں نمی سی اترنے لگی تھی۔
میری جان! آپکے لیے چاکلیٹ لاؤں؟ بہت ساری لے کے آؤں گا۔ ہممم!
وہ نرمی سے اسکے گال سہلاتے اس سے پوچھنے لگا کہ شاید وہ کچھ بولے یا کم سے کم سر ہی ہلا دے پر اسکے لب نہ ہلے، نہ وہ کچھ بولی بس اپنی آنکھیں بند کر لیں آئلہ نے۔mr.psycho part 40 & 41
اسے اس طرح دیکھ کے احان کا دل غم سے پھٹنے لگا تھا۔ وہ اپنے بے قابو ہوتے دل کو سنبھالتے لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
روم میں ایک طرف پڑے صوفے پہ جا بیٹھا اور آئلہ کو دیکھنے لگا۔
میری نازک سی جان، کتنی تکلیف سہنی پڑی نا تمہیں میری وجہ سے، آئی پرامس ہنی! یہ جس کا بھی کام ہوا نا اسے چھوڑوں گا نہیں میں۔
وہ اپنی کنپٹیوں کو سہلاتے سرگوشی کررہا تھا۔
______********_____
کیسی ہے وہ؟ اور احان بھائی کیسے ہیں؟
کچھ پتہ چلا اس سب کے پیچھے کون تھا؟
کیارا گاڑی میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی رمیز سے پوچھ رہی تھی۔
ہوش میں تو آگئی ہے لیکن شاک میں ہے ابھی، ڈاکٹر نے کہا ہے کچھ دن لگیں گے شاک سے باہر آنے میں، احان بہت پریشان ہے آئلہ کے لیے اور کوئی پتہ نہیں لگا کہ یہ سب کس نے کیا اور کیوں کیا۔
وہ افسردگی سے بول رہا تھا۔
ہممم! تم تو اپنا خیال رکھو، احان بھائی تو خود مجنوں ہی بن گئے ہیں۔ انہیں تو کوئی ہوش ہی نہیں اپنی بیوی کے سوا کسی اور کا۔
کیارا نے رمیز کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے فکرمندی سے کہا۔
ٹھیک ہوں میں، تم فکر نہیں کرو۔
رمیز نے زبردستی لبوں پہ مسکراہٹ سجاتے کہا۔mr.psycho part 40 & 41
کیسے فکر نہ کروں رمیز، تم اسی طرح دیکھ کے بہت ٹینشن ہورہی ہے مجھے اور احان بھائی کی الگ فکر ہے۔
زندگی کس موڑ پہ آگئی ہے یوں اچانک سب کچھ بدل گیا ہے۔ اور یہ بدلاؤ بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ اس سے ہمیں صرف دکھ ہی مل رہا ہے۔
وہ رنجیدہ لہجے میں بولی تو رمیز اسے دیکھنے لگا۔
کیارا! ٹینشن نہیں لو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ اسکے گال کو چھوتے ہوئے بولا۔
اچھا اب مجھے گھر ڈراپ کردو، دادو ویٹ کررہی ہونگی۔میرا۔
ہاں چلتے ہیں۔
رمیز نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور ڈرائیو کرنے لگا۔
________********______mr.psycho part 40 & 41
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ احان ایک پل کے لیے بھی آئلہ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔
ہر وقت اسکے پاس بیٹھا رہتا، اس سے باتیں کرتا، اسے پیار کرتا ، اسکا دل بہلانے کی کوشش کرتا رہتا۔
پورے ہفتے میں وہ ایک بار بھی ایک بھی لفظ نہیں بولی تھی۔ بس چپ چاپ احان کو دیکھتی رہتی۔
احان کے کان ترس گئے تھے اسکی آواز سننے کو،
ہر روز وہ ڈاکٹر سے پوچھتا کہ میری ہنی کچھ بول کیوں نہیں رہی؟ شاک سے باہر کب آئے گی؟ کب ٹھیک ہوگی؟
ساری رات وہ آئلہ کے سرہانے بیٹھے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہتا۔
اسکی آواز سنے بنا زندگی بہت اداس سی بہت ادھوری سی لگنے لگی تھی احان۔کو، اسکی شرارتیں، اسکی بچوں جیسی باتیں وہ بے تابی سے اسکے لبوں کی طرف دیکھتا رہتا کہ شاید اب وہ اپنے لبوں سے اسکا نام لے گی۔
پورا ہفتہ ایسے ہی گزر گیا۔ رمیز دن میں کئی بار چکر لگاتا تھا ہوسپٹل آئلہ کو جی بھر کے دیکھتا اور واپس چلا جاتا، رمینا بیگم ، ٹیشا اور کیارا بھی ایک بار آئیں تھیں۔mr.psycho part 40 & 41
احان کو آئلہ کے لیے تڑپتا دیکھ کے وہ سرد آہ بھر کے رہ گئی تھیں۔
آج اسے ہسپتال سے ڈسچارج کیا جانا تھا۔ اسکا زخم کچھ بھر چکا تھا لیکن ابھی اسے بیڈ ریسٹ کی تاکید کی گئی تھی۔
احان اسے لیے گھر میں آیا۔
اسے بیڈ پہ لٹاتے اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔
آئلہ سے زیادہ تو احان کی حالت خراب لگ رہی تھی۔ شیو بڑھی ہوئی، آنکھیں راتوں کو جاگنے کی وجہ سے سوجی ہوئیں تھیں اور چہرہ بے حد اداس بالکل مرجھائے ہوئے پھول کی طرح، بہت بوجھل اور تھکا تھکا سا لگ رہا تھا وہ پر اسکے دل میں ایک سکون کی لہر اتری تھی اپنی ہنی کو واپس گھر لا کے۔mr.psycho part 40 & 41


https://www.facebook.com/barbienovels/

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.