mr.psycho part 43

written by barbie boo

کیارا! تم آفس کی بجائے یہاں رمیز کے فلیٹ میں کیا کررہی ہو؟
وہ اندر آتے دبے دبے غصے سے پوچھنے لگا۔
وہ۔۔بھائی۔۔۔
اس سے پہلے کہ کیارا کچھ کہتی، اسی وقت رمیز فلیٹ میں داخل ہوا، احان کو سامنے دیکھ کے وہ ٹھٹکا تھا۔
احان تم یہاں اور یہ تمہاری شرٹ پہ خون کیسا ہے؟
کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا؟
اسکی شرٹ پہ لگے خون پہ رمیز کی نظر پڑی تو وہ فکر مندی سے بولا۔
کچھ نہیں، وہ لینا کے سر پہ چوٹ لگ گئی تھی اسی کو ہوسپٹل لے کے گیا تھا۔ کافی دیر سے وہی تھا۔ سوچا واپس گھر جاؤں، ہنی ویٹ کررہی ہو گی پر یہ خون کے نشان ، ایسے نہیں جا سکتا تھا اسی لیے تمہارے فلیٹ میں آیا تھا تاکہ تمہاری کوئی شرٹ پہن لوں۔
احان نے رمیز کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
کیا کہا ڈاکٹر نے؟ لینا ٹھیک تو ہے نا؟mr.psycho part 43
رمیز نے فکر مندی سے پوچھا۔
خطرے سے باہر ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ گہری چوٹ لگی ہے اسی لیے ایک دو مہینے ایڈمٹ رکھنا ہوگا اسے ۔
احان نے لا پرواہی سے کہا۔ اسے فکر ہی کب تھی لینا کی وہ جیے یا مرے اسے کونسا فرق پڑتا تھا۔
اب تم دونوں بتاؤ مجھے کہ یہ سب کیا ہے؟
تم دونوں چھپ چھپ کے ملتے ہو ایک دوسرے سے؟
احان نےسینے پہ ہاتھ باندھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
کیارا اور رمیز چپ چاپ کھڑے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
اب ایسے ایک دوسرے کو تکتے رہو گے یا میرے سوال کا جواب بھی دو گے؟
احان نے دبے دبے غصے سے کہا۔
کبھی کبھی ملتے ہیں بس۔
رمیز نے نظریں چراتے کہا۔
چھوٹے بچے ہو کیا تم دونوں جو ڈرتے ہو۔
ایک ساتھ رہنا چاہتے ہو تو بولو نا ، شادی کرو ایک دوسرے سے اور رہو ایک ساتھ۔
احان نے ان دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
ہاں، میں اگلے ہفتے گھر والوں کو لانے والا تھا۔
رمیز نے دھیرے سے کہا۔mr.psycho part 43
اگلے ہفتے کیوں؟ اسی ہفتے لے کے آؤ انکو اور نکاح کرو۔
احان نے دوٹوک انداز میں کہا تو کیارا کے دل میں خوشی سے ہلچل ہونےلگی جبکہ رمیز نے احان کو گلے لگاتے اپنے لبوں پہ مسکراہٹ سجائی تھی۔
بس ٹھیک ہے اب زیادہ خوش نہیں ہو۔ مجھے شرٹ دو کوئی، گھر جانا ہے مجھے۔
احان نے سنجیدگی سےکہا اور رمیز کے ساتھ چلتے اسکے کمرے کی طرف بڑھا۔
آئلہ کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیئے اب تمہیں۔
ایک بار جو ہوا اسکے بعد تو ہر پل محتاط رہناہوگا تمہیں۔
رمیز نے فکر مندی سے کہا۔
اب کوئی کچھ نہیں کر سکتا، وہ بالکل سیف ہے۔
ہاں، میں جانتاہوں ابھی ہنی کو ایک پل بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیئے مجھے پر لینا کی وجہ سے رکنا پڑا مجھے۔
احان نے شرٹ چینج کرتےکہا۔mr.psycho part 43
لینا ہوسپٹل میں ہے تو پھر بچے کو کون سنبھالے گا؟
رمیز نے متفکر ہوتے کہا۔ اسکا دھیان اس معصوم سی جان کی طرف گیا جو بنا کسی قصور کے نجانے کیا کیا سہنے والا تھا۔
مجھے نہیں پتہ، دادو ہیں اور بےبی سٹر بھی ہے بچے کو سنبھالنے کے لیے۔ تم پریشان نہ ہو۔
احان نے روم سے باہر نکلتے کہا تو رمیز بھی اسکے ساتھ چل پڑا۔
کیارا تم چلو گی ساتھ؟
احان نے لاؤنج میں آتے کیارا سے پوچھا۔
میں ڈراپ کر دوں گا۔
رمیز نے جواب دیاتو احان فلیٹ سے با ہر چلا گیا۔
رمیز ڈور لاک کرتے کیارا کی طرف بڑھنے لگا۔
______******______mr.psycho part 43
احان چاکلیٹس اور آئس کریم ہاتھ میں پکڑے گھر میں داخل ہوا۔ لاؤنج میں رمینا بیگم سامنے صوفے پہ بیٹھی شاید احان کے آنے کا ہی ویٹ کررہی تھیں۔ 
اسے آتا دیکھ جلدی سے کھڑی ہوئیں اور احان کی طرف گئیں۔ 
کہاں ہے لینا؟ ساتھ نہیں لے کے آئے اسے تم؟ 
وہ فکر مندی سے پوچھنے لگیں۔ 
وہ ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کچھ دن تک وہی رہے گی۔ 
وہ جان چھڑانے کے سے انداذ میں کہتا جانے لگا۔ تو رمینا بیگم نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ 
تم یہاں کیوں آگئے؟ وہ ہوسپٹل میں ہے اور تمہیں اس کم عمر بیوی کی فکر کھائے جارہی تھی جو بھاگ کے آگئے۔ 
وہ نظرا بولیں۔ mr.psycho part 43
دادو پلیز! آپ بار بار ایک ہی بات بول کے مجھے غصہ مت دلائیں۔ 
مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے لینا کی آپکو اسکی زیادہ فکر ہورہی ہے تو آپ خود چلی جائیں اسکے پاس۔ میں نہیں جاؤں گا اب وہاں اور ویسے ہی وہاں کافی نرسز ہیں جو اسکا خیال رکھ رہی ہیں۔ بہت مہنگے ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہے وہ، آپ بےفکر رہیں۔ 
وہ بیزازی سے کہتے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔ 
دیکھو تو ذرا اسکو، بس اپنی بیوی کی فکر ہے اسے اور کوئی نظر ہی نہیں آرہا اسکو چاہے کوئی جیے یا مرے کوئی فرق نہیں پڑنا اسکو۔ 
وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے صوفے پہ جا بیٹھیں۔
_____*******______mr.psycho part 43
وہ ہلکے سے دروازہ کھولتے کمرے میں داخل ہوا۔ ڈور لاک کیا۔ اور بیڈ کی طرف بڑھا۔ 
آئلہ سو چکی تھی۔ 
چاکلیٹس اور آئس کریم سائیڈ ٹیبل پہ رکھے اور وارڈ روب کی طرف چلتے ہوئے گیا، آئلہ کے لیے لوز شرٹ دور ٹراؤذر نکالی اور بیڈ کی طرف واپس آیا۔ 
اسکے پاس دھیرے سے بیٹھ گیا۔ وہ
جیسے ہی کمفرٹر ہٹانے لگا اسکی آنکھ کھل گئی۔ 
چینج کرا دوں آپکو۔ 
احان نے محبت سے اسکے گال چھوتے کہا تو آئلہ نے منہ بناتے کمفرٹر اپنے اوپر ڈالا اور چہرہ چھپا لیا۔ 
جانم! ہنی! mr.psycho part 43
وہ اسکے پاس لیٹتے سرگوشی کرنے لگا۔ 
جانم! کسی کام میں پھنس گیا تھا اسی لیے لیٹ ہوگیا میری جان، ورنہ میں اسی وقت واپس آجاتا۔ غصہ نہیں کریں نا ہنی۔ ابھی تو ٹھیک بھی نہیں ہوئی آپ اور غصہ ہورہی ہیں۔ 
وہ کمفرٹر کے اوپر سے ہی اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھے کہہ رہا تھا۔ 
تو آپکو یہ بات نہیں پتہ کہ میں ابھی ٹھیک نہیں ہوئی؟ 
وہ کمفرٹر میں منہ گھسائے ہی بول رہی تھی۔ 
اسکے منہ سے شکوہ سن کے احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی۔ اسے خوشی تھی کہ کم سے کم وہ بول تو رہی تھی۔ 
مجھے معلوم تھا نا جانم! اسی لیے تو سوری کررہا ہوں نا، پلیز ہنی بنی اپنے مسٹر احان کو معاف کردیں۔ اب ایک سیکنڈ کے لیے بھی اپنی جان کو اکیلا چھوڑ کے نہیں جاؤں گا، آئی پرامس۔ اب معاف کردیں اور ہٹائیں اس پردے کو۔ 
وہ پیار سے بولتے کمفرٹر ہٹانے لگا۔ 
آپ ہمیشہ ایسے ہی بولتے ہیں بس، اور پھر سے وہی سب کرتے ہیں۔ 
وہ کمفرٹر سے چہرہ نکالتے ہوئے منہ پھلاتے ہوئے بولی۔ 
اور آپ بھی تو ہمیشہ مجھے معاف کردیتی ہیں۔ مجال ہے جو کبھی کوئی سزا دی ہو مجھے۔ 
احان نے دانتوں تلے ہنسی دباتے کہا تو وہ اسے گھورنے لگی۔ 
چلیں یہ لاسٹ ٹائم ہے میری جان! دوبارہ نہیں کرونگا۔ 
وہ اسکے نرم گال پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے بولا۔ mr.psycho part 43
آپکو چینج کرا دیتا ہوں پھر ہم آئس کریم کھائیں گے اور چاکلیٹس بھی، آپ اپنی چاکلیٹ کھانا اور میں اپنی۔ 
احان نے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسے سہارا دیتے سیدھا کیا اور اسکے کان میں معنی خیز انداز میں سرگوشی کی ۔ 
اسے چینج کرانے کے بعد سائیڈ ٹیبل سے آئس کریم اٹھا کے آئلہ کو آئس کریم کھلانے لگا۔ 
ہنی! منہ کیوں غبارے کی طرح پھلایا ہوا ہے؟ 
احان نے اسکے چہرے پہ نظریں ٹکاتے کہا۔ 
بولیں نا! ایسے چپ مت رہیں پلیز۔ ایک ہفتہ کیسے گزارا ہے یہ تو بس میں ہی جانتا ہوں۔ 
وہ اسکے گال پہ پیار کرتے کہنے لگا۔ 
مام، ڈیڈ کو کال کی آپ نے؟ 
آئلہ نے احان کی آنکھوں میں جھانکتے سوال کیا۔ 
احان کے لبوں پہ پھیلی مسکرا ہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔ چہرے پہ سنجیدگی چھائی تھی۔ 
ہنی، زیادہ سوال نہیں کریں۔ بس چپ چاپ آئس کریم کھائیں پھر میڈیسن بھی کھلانی ہے آپکو۔ 
احان نے بے حد سپاٹ سے انداز میں کہا تو آئلہ کا چہرہ ایک دم۔مرجھایا تھا۔ 
اور نہیں کھانی۔ mr.psycho part 43
وہ منہ دوسری طرف پھیرتے بولی تھی۔ احان نے دانت پیسے تھے۔ 
ٹھیک ہے ابھی لیٹ جائیں پھر کچھ دیر تک میں میڈیسن کھلاتا ہوں آپکو۔ 
وہ اسے کندھوں سے پکڑتے لٹاتے ہوئے بولا۔ 
آپ میرے مام، ڈیڈ کو کیوں نہیں بتا رہے؟ 
آئلہ کی بڑی بڑی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں تھیں۔
آپکو پتہ ہے جانم، ہر روز میں سوچتا تھا کہ میری ہنی ابھی اپنے ان نرم، ملائم گلابی لبوں سے میرا نام پکارے گی۔ پر میرے کان ترس گئے آپکی آواز سننے کو، آپکے منہ سے میرا نام سننے کو اور ابھی بھی آپ نے ایک بار بھی مجھے مسٹر احان کہہ کے نہیں پکارا۔ 
پلیز بلائیں نا، میرا نام لیں ان نازک لبوں سے۔ 
وہ آئلہ کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اسکے قریب لیٹے اسکی طرف رخ کیے اسکے ہونٹوں پہ انگلیاں پھیرتے مدہوشی کے عالم میں بول رہا تھا۔ آنکھوں میں کچھ الگ قسم کے جذبات جھلک رہے تھے، ایک عجیب قسم کی بے دردی اور نجانے کیا کیا۔ 
آئلہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جو اسکے گالوں کو بھگوتے جارہے تھے۔ دل ڈر کے مارے اچھل رہا تھا جیسے کچھ ہونے والا تھا۔ 
آئلہ کو روتا دیکھ کے احان اسکے آنسو صاف کرنے لگا۔ 

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.