couple, like, cute-4565429.jpg

written by barbie boo

Mr.psycho a continue novel based on age difference based couple. Here are part 44 & 45

قسط____44
کیا ہو گیا جانم؟ رو کیوں رہی ہیں؟
اسکے نرم گالوں سے نرمی سے انگلیوں سے آنسو صاف کرتے کہنے لگا۔
آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں اور غصہ کررہے ہیں۔
وہ روتے ہوئے بولی۔mr.psycho part 44 & 45
آپکو ڈانٹ نہیں رہا ہنی، آپکی فکر ہے مجھے، پلیز رونا بند کریں۔
وہ آئلہ کے ماتھے پہ پیار کرتے بولا۔
آپ مجھے اکیلا چھوڑ کے چلے گئے تھے اور اب کہہ رہے ہیں کہ میر فکر ہے آپکو، مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا، میں نے کتنی بار دروازے کی طرف دیکھا کہ شاید ابھی آجائیں گے آپ پر آپ نہیں آئے۔
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔
ہنی، میں نے بتایا نا آپکو کہ کسی کام میں پھنس گیا تھا اسی وجہ سے لیٹ ہو گیا۔ پلیز چپ ہوجائیں، یہ آنسو برداشت نہیں ہوتے مجھ سے۔
وہ اسکے آنسو صاف کرتے کہنے لگا۔
آپ نے میرے مام، ڈیڈ کو نہیں بتایا اگر میں مر جاتی تو پھر بھی نہیں بتاتے کیا انکو؟
ہنی! بس بہت ہو گیا! اب اور ایک لفظ بھی نہیں بولیں گی آپ!
وہ بہت سختی سے بولا۔mr.psycho part 44 & 45
کیا ہو گیا ہے آپکو؟ بتائیں کیا مسئلہ ہے؟ میری بات سمجھ نہیں آرہی آپکو؟ کب سے کہہ رہا ہوں تنگ مت کریں مجھے پر آپ مسلسل ایک ہی بات دوہرا کے مجھے پریشان کیے جارہی ہیں۔ اور اوپر سے مرنے کی باتیں کررہی ہیں۔ نہیں جانتی کیا آپ کہ مجھے یہ بات کتنی تکلیف پہنچاتی ہے۔ پر آپکو میری کوئی پرواہ نہیں۔
وہ غصے میں بولنے لگا۔
پر میں نے ایسا کچھ نہیں بولا۔ میں نے تو بس مام، ڈیڈ کا۔۔۔۔
بس! مزید اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آنکھیں بند کریں اور سو جائیں۔
احان نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی غصے سے کہا۔
لیکن آپ مجھ پہ بلا وجہ غصہ کیوں ہورہے ہیں؟
وہ روتے ہوئے بولی۔mr.psycho part 44 & 45
بلاوجہ؟ بلاوجہ غصہ ہورہا ہوں میں؟ آپکو اندازہ بھی ہے میری حالت کا؟ جانم پلیز! پلیز مجھے مزید غصہ مت دلائیں۔ چپ چاپ سو جائیں بس۔
وہ اپنے غصے پہ قابو پاتے، آئلہ کے چہرے پہ کمفرٹر ڈالتے کہنے لگا۔
آپ کسی اور کا غصہ مجھ پہ نکال رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں چپ چاپ سو جاؤں۔ مجھے نہیں سونا۔
وہ کمفرٹر کو اتارتے زور سے بیڈ سے نیچے اچھالتے ہوئے بولی۔
احان نے اسے گھورا اور بیڈ سے اترتے کمفرٹر اٹھایا اور واپس سے آئلہ پہ ڈالا۔
اب اگر اسے اتارا نا تو میں اسی کمفرٹر میں آپکو باندھ کے الماری میں بند کردوں گا سمجھی آپ۔
وہ سخت لہجے میں کہتے اسکے پاس لیٹ گیا۔
مجھےڈرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں ڈرتی ہوں آپ سے۔
وہ بولنے لگی جبکہ گھبراہٹ اسکے چہرے سے واضح ہورہی تھی۔
ٹھیک ہے پھر بند کرتا ہوں میں آپکو، اس الماری کی بجائے سٹور روم میں ڈال آتا ہوں۔ بہت بہادر ہیں نا آپ، اندھیرے سے بھی نہیں ڈرتی نا۔
وہ آئلہ کو بانہوں میں بھرتے روم سے باہر جانے لگا۔
أپ کہاں لے کے جارہے ہیں مجھے۔
وہ رونی شکل بناتے کہنے لگی۔mr.psycho part 44 & 45
سٹور روم میں لیکے جارہا ہوں۔ میری بات تو کوئی سن نہیں رہی آپ۔
وہ دبے دبے غصے سے بولا۔ آئلہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے وہ احان کو دیکھنے لگی۔
دوبارہ تنگ کریں گی مجھے؟
احان نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا تو اس نے نہ میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے ایک موقع دے رہا ہوں آپکو، امید ہے اب پریشان نہیں کریں گی آپ مجھے۔
وہ آئلہ کو واپس بیڈ پہ لٹاتے نرمی سے بولا تھا۔
جتنا ظلم کرنا ہے کرلیں، ایک بار ٹھیک ہو جاؤں میں پھر بتاؤں گی آپکو۔
وہ احان کو غصے سے دیکھتے دھیرے سے بولی تھی پر اسکی آواز احان کے کانوں تک پہنچی تھی۔
کیا بتائیں گی مجھے؟ ہونہہ؟ کیا کریں گی؟
وہ اسکے برابر میں لیٹتے سپاٹ لہجے میں بولا جبکہ اسے آئلہ کی بات سن کے ہنسی آئی تھی جو اس نے دانتوں تلے دبالی تھی۔
جب ٹھیک ہونگی تو دیکھ لینا آپ۔mr.psycho part 44 & 45
وہ کمفرٹر میں منہ چھپاتے ہوئے بولی۔ احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔
یہ تو بتا دیں کہ کونسے ظلم کردیے میں نے اپنی جانم پہ۔
وہ نرمی سے اسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹاتے کہنے لگا۔
مجھے کوئی بات نہیں کرنی مسٹر احان۔۔۔ سونے دیں مجھے۔
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ اور واپس سے کمفرٹر میں چھپ گئی۔
چلیں شکر ہے آپ نے میرا نام تو لیا ورنہ ساری رات نیند نہیں آنی تھی مجھے۔
وہ کمفرٹر کو ہٹاتے سائیڈ پہ کرتے شرارت بھرے لہجے میں بولا۔
ایک بار پھر سے میرا نام لیں نا میری چھوٹی سی جانم۔
وہ اسکے گال پہ پیار کرتے محبت سے کہنے لگا۔
میں نے کہا نا مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔
وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی۔mr.psycho part 44 & 45
لگتا ہے أپ ایسے میری بات نہیں مانیں گی ۔ ابھی آپکو سٹور روم میں پھینک کے آتا ہوں۔
وہ دانتوں تلے ہنسی دبائے بناوٹی غصے سے کہتے بیڈ سے اترنے لگا۔
نہیں، نہیں مسٹر احان۔ مجھے سٹور روم میں نہیں جانا۔
وہ روتے ہوئے بولی۔
رونا بند کریں، بالکل چپ۔
وہ آئلہ کو اپنے سینے میں چھپاتے مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
آپ بہت برے ہیں، آپ بدل گئے ہیں ۔
وہ اسکے سینے میں سمٹتے روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
کیا کروں میں ہنی؟ ذرا سا ڈانٹ دیا تو رونا شروع، پیار کروں تو رونا شروع، دور جاؤں تو رونے لگ جاتی ہیں اور پاس آؤں تو بھی آپکو رونا آجاتا ہے۔ میرے سینے سے لگ کے روتی ہیں اور برا بھی کہتی ھیں مجھے۔
ایسے ہوتا ہے کیا ہونہہ؟
وہ اسکی تھوڑی اونچی کرتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے پیار سے کہہ رہا تھا اور وہ آنسو بہائےجارہی تھی۔
أپ نے اتنا غصہ کیا مجھ پہ اور ایک بار بھی سوری نہیں بولا۔
وہ اسکے سینے پہ سر رکھتے ہوئے ناراضگی سے بولی۔
اوہو! میری “ہنی بنی” اس لیے چپ نہیں ہورہی کیونکہ میں نے سوری نہیں بولا۔
چلیں مجھے معاف کردیں میری جانم، مجھ سے نجانے کیا غلطی ہوئی ہے جو آپ اتنا روئے جارہی ہیں۔ پلیز مجھے معاف کردیں۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کان پکڑے، چہرے پہ سنجیدگی سجائے کہنے لگا۔
نہیں، میں معاف نہیں کرونگی۔
وہ منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے بولی۔mr.psycho part 44 & 45
لگتا ہے معافی مانگنے کا میرا یہ طریقہ پسند نہیں آیا آپکو، چلیں کوئی اور طریقہ اپنانا پڑے گا۔
وہ آئلہ کی کمر کو بازوؤں کے حصار میں لیتے اپنے قریب کرتے سرگوشی کرنے لگا۔
مسٹر احان! چھوڑیں مجھے ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گی۔
وہ اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے دبے دبے غصے کے بولنے لگی۔
میری جان آپ پہلے ہی ناراض ہیں مجھ سے ، میں تو آپکی ناراضگی ختم کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
وہ آئلہ کے کان کی لو پہ ہلکے سے بائٹ کرتے مدہوش سی آواز میں کہنے لگا۔
نہیں۔۔۔میں ناراض نہیں ہوں مسٹر احان! چھوڑیں مجھے۔
وہ اسکے حصار سے نکلنے کے لیے بولی تو احان نے گرفت ڈھیلی کی۔
سچ میں؟ آپ ناراض نہیں ہیں مجھ سے؟ جان چھڑانے کے لیے تو ایسے نہیں کہہ رہی نا؟
وہ اسکے چھوٹے سے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے محبت کے بولا۔
ہاں، ہاں، بالکل میں نہیں ہوں ناراض۔
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ احان جانتا تھا کہ وہ جان چھڑانے کے لیے ایسا بول رہی ہے۔
ویری گڈ! چلیں اب آرام سے سو جائیں۔ گڈ نائٹ۔
وہ اسے لٹاتے، اس پہ کمفرٹر ڈالتے اسکے ماتھے پہ پیار کرتے بولا اور اسکے برابر میں لیٹ گیا۔
وہ کروٹ لیتے اپنا رخ احان کی طرف کرتے اسکی طرف دیکھنے لگی۔
کیا ہوا؟ نیند نہیں آرہی کیاجانم کو؟mr.psycho part 44 & 45
احان نے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے کہا۔
آپ نے بہت ڈانٹا نا مجھے اس لیے اب نیند نہیں آرہی۔
آئلہ نے دھیمی سی آواز میں کہا تو احان نے قہقہ لگایا تھا۔
تو آپکی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ابھی تک۔
وہ اسکی گردن پہ انگوٹھا پھیرتے پیار سے کہنے لگا۔
وہ احان کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
میں کیسے سمجھاؤں آپکو کہ کتنی فکر ہے مجھے آپکی۔ میری جان اٹکی ہوئی تھی جب آپکو کسی نے کڈنیپ کرل۔۔۔۔۔
بولتے بولتے وہ رکا، آئلہ کے چہرے کا رنگ ذرد پڑتا دیکھ کے اسے یاد آیا کہ ڈاکٹر نے منع کیا تھا کوئی بھی بات دہرانے سے۔ وہ پچھتایا تھا۔
جانم! آپکو فروٹ کیک پسند ہے نا؟
اس نے جلدی سے بات بدلی۔
ہاں!
وہ ہلکے سے مسکرائی۔
ابھی کھانا ہے جانم کو فروٹ کیک؟
وہ اسکے گال سہلاتے محبت سے بولا۔
نہیں، ابھی نہیں کھانا، صبح کھاؤں گی۔
وہ اسکے سینے میں سمٹتے ہوئے بولی۔
اوکے ہنی! صبح کھلا دوں گا آپکو۔
وہ پیار سے بولا۔
اوکے گڈ نائٹ مسٹر احان۔
آئلہ نے دھیمے سے کہا اور آنکھیں بند کر لیں۔
گڈ نائٹ جانم گڈ نائٹ میری جان!mr.psycho part 44 & 45
وہ اسکے بالوں پہ لب رکھتے بے حد محبت سے بولا تھا۔
آئم سوری جانم! میں نے کچھ زیادہ ہی رلا دیا تھا آپکو۔ پر کیا کرتا آپ کی ہر ضد پوری نہیں کر سکتا میں، آپکی ہر بات نہیں مان سکتا میں۔ آپکے لیے کوئی غلط فیصلہ نہیں کرونگا ۔ تھوڑی سی سختی تو کرنی ہے پڑے گی مجھے تاکہ آپ بلا وجہ کی ضد نہ کیا کریں۔ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے ابھی تک پتہ نہیں لگا کہ کس نے کیا یہ سب، جب تک مجھے پتہ نہیں لگ جاتا تب تک آپکو آپکے مسٹر احان ایسے ہی بدلے بدلے سے نظر آئیں گے۔ آپکی حفاظت کے لیے مجھے یہ سب کرنا پڑے گا ہنی۔
وہ سوچتے سوچتے نیند میں چلا گیا۔
________********_______
کیا ہوگیا؟ منہ کیوں بنایا ہوا ہے تم نے؟
آفس کیبن میں داخل ہوتے، سامنے بیٹھے رمیز کو منہ سوجائے دیکھ کے احان نے پوچھا۔
یار! بہت ٹینشن ہورہی ہے مجھے۔
وہ گہری سانس لیتے بولا۔
پر ہوا کیا ہے؟ کس بات کی ٹینشن ہورہی ہے تمہیں؟
احان نے فکرمندی سے پوچھا۔
وہ۔۔۔ایکچلی مام، ڈیڈ نے آنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ایک بار رشتے سے منع کرکے ہماری جو انسلٹ کی تھی انہوں نے اب دوبارہ ہم وہاں نہیں جائیں گے۔
رمیز نے اداسی سے کہا۔mr.psycho part 44 & 45
اگر انہوں نے انکار کردیا ہے تو پھر تم نے کیا سوچا؟ تم کیا کروگے؟
احان نے چیئر پہ بیٹھتے پوچھا۔
میں کیا کروں یار؟ دادو تو گھر والوں کے بغیر میری کوئی بات ہی نہیں سنیں گی نا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے کہ کیا کروں۔
وہ احان کے سامنے پڑے کاؤچ پہ بیٹھتے بے بسی سے کہنے لگا۔
اس میں اتنا ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے بھلا؟ تم شادی کرنا چاہتے ہو تو بتاؤ مجھے، میں آج ہی تمہارا نکاح کروا دوں گا۔
احان نے پرسکون انداز میں کہا۔
کیا!؟ تم مذاق تو نہیں کررہے نا؟ کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ تم میرا اور کیارا کا نکاح کروا دو گے؟
رمیز حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
اتنے حیران کیوں ہورہے ہو تم؟ ہاں سچ کہہ رہا ہوں میں۔ بتاؤ پھر آج ہی یہ کام کر دیتے ہیں۔
احان نے کھڑے ہوتے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں، بالکل کیونکہ مجھے منظور ہے۔
وہ احان کے گلے لگتے خوشی سے بولنے لگا۔
چلو پھر تیاری کرتے ہیں۔
وہ دونوں کیبن سے نکلتے آفس سے باہر چلے گئے۔
آئلہ کیسی ہے اب؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟
رمیز نے فکر مندی سے پوچھا۔
ہاں وہ کافی حد تک ٹھیک ہے اب۔
احان نے کار کے قریب پہنچتے ہوئے کہا۔
اور لینا اسکی کیا خبر ہے؟ ڈاکٹر سے بات ہوئی تمہاری؟
رمیز نے کار میں بیٹھتے پوچھا تو احان کوئی جواب دیے بغیر ڈرائیو کرنے لگا۔
احان جواب تو دو یار۔
رمیز نے اسکی طرف دیکھتے کہا۔
رمیز تم لینا کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے ، ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہے وہ، ٹریٹمنٹ چل رہا ہے اسکا جب ٹھیک ہوگی ڈاکٹر بتادیں گے۔
وہ ناگواری سے بولا۔
کیا آئلہ کو یہ بات معلوم ہے؟ لینا والی؟
رمیز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو احان نے نہ میں سر ہلایا۔
آئی تھینک ، تمہیں آئلہ کو بتانا چاہیئے تھا لینا کے بارے میں۔
رمیز نے صلاح دی۔
نہیں، میں ہنی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا، وہ ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی، پہلے ہی اتنی مشکل سے وہ بولنے لگی ہے میں نہیں چاہتا کہ کسی بات کو لے کے وہ سٹریس لے۔mr.psycho part 44 & 45
احان نے فکرمندی سے کہا تو رمیز ہلکے سے مسکرادیا۔
________**********
قسط___45
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
گھر میں تیاریاں ہوتے دیکھ کے رمینا بیگم نے حیرانگی سے پوچھا۔
کیارا اور رمیز کا نکاح ہے آج شام کو اسی کی تیاری ہورہی ہے۔
احان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب؟ کس سے پوچھ کے ؟
وہ غصے سے بولیں۔
دادو آپکو غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیارا اور رمیز کی مرضی سے ہورہا ہے یہ نکاح اور پلیز کوئی بھی تماشہ کھڑا مت کریے گا اس بار، پہلے ہی آپکی بلاوجہ کی ضد سے اتنےسال سے وہ الگ ہیں۔
احان نے دو ٹوک انداز میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
اپنی مرضی ہے انکی تو، میری کوئی عزت ہی نہیں رہی انکی نظر میں، نافرمان ہوگئے ہیں یہ تو۔ ابھی جا کے پوچھتی ہوں کیارا سے ۔
وہ کیارا کے روم کی طرف بڑھ گئیں۔
_______*******_______mr.psycho part 44 & 45
“ہنی بنی” ابھی تک سورہی ہیں آپ۔ ویک اپ جانم!
وہ آئلہ کے گالوں پہ پیار کرتے دھیمی سی آواز میں بول رہا تھا۔
چلیں ٹھیک ہے سوئی رہیں۔ کچھ دیر بعد آتا ہوں میں۔
وہ اسکے ماتھے پہ پیار کرتے کمرے سے باہر چلا گیا۔
_______********______
کیا سن رہی ہوں میں یہ سب؟ تم رمیز سے نکاح کررہی ہو؟ مجھے کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی۔ تم تینوں بہن بھائیوں کو میری کسی بات کی پرواہ ہے بھی یا نہیں؟
وہ کیارا کے کمرے میں داخل ہوتے غصے سے کہنے لگیں۔
دادو، مجھے بھی ابھی پتہ چلا ہے۔ میں نہیں جانتی تھی ۔
کیارا ان کے سامنے جاتے ہوئے بولی۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہ ہو، تمہیں منع کیا تھا اسکے باوجود بھی تم نے رمیز سے رابطہ ختم نہیں کیا تھا نا اور اب نکاح بھی کررہی ہو۔
وہ تلخ لہجے میں کہنے لگیں۔
دادو پلیز! میں کوئی غلط کام نہیں کررہی جو آپکو اتنا برا لگ رہا ہے۔ رمیز بہت اچھا ہے کوئی برائی نہیں ہے اس میں تو پھر کیوں نہ کروں میں اس سے نکاح۔
آج تک آپکی وجہ سے ہی چپ رہی تھی میں، پر اب مزید میں چپ نہیں رہ سکتی۔ میں رمیز سے محبت کرتی ہوں اور اپنی مرضی اور خوشی سے یہ نکاح کررہی ہوں۔
وہ بھی بنا ڈرے بولنے لگی۔ اسے بولتا دیکھ کے رمینا بیگم ہکی بکی رہ گئیں۔
ہاں، ہاں کرو اپنی مرضی، بڑا یقین ہے نا تمہیں اپنے رمیز پہ، مجھے تو وہ ایک نمبر کا فراڈیا لگتا ہے ۔ کرو شادی پھر جب خود کی آنکھیں کھلیں گی نا تو روتی ہوئی آنا یہاں پہ۔
وہ کیارا کو گھورتے غصے سے پاؤں پٹختے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
______*******_______mr.psycho part 44 & 45
بہت بہت مبارک ہو آپی! آخر کار رمیز بھائی کی محبت نے آپکو ہمت دے ہی دی۔ فائنلی آج آپکا بھی نکاح ہونے جارہا ہے۔
کیارا کے ساتھ بیٹھی ٹیشا خوشی سے بول رہی تھی۔
ریڈ کلر کے لہنگے میں کیارا بے حد حسین لگ رہی تھی۔ خوشی سے اسکا چہرہ چمک رہا تھا۔
آپی وہ۔۔۔ آئلہ کہیں نظر نہیں آرہی، اپنے کمرے میں ہے کیا؟
آئلہ کو آس پاس نہ دیکھ کے ٹیشا پوچھنے لگی۔
احان بھائی بتارہے تھے کہ اسے میڈیسن کھلائی تھی تو وہ سورہی ہے۔
کیارا نے ناگواری سے کہا اور سامنے سے آتے رمیز پہ نظریں ٹکا لیں۔
بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں وہ کافی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔ کیارا کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
وہ کیارا کے برابر میں آبیٹھا۔ اور کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا کی گئی۔
رمینا بیگم نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں موجود تھیں۔ رمیز کی نظروں نے کئی بار آئلہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ میڈیسن لے کے سورہی تھی پر پتہ نہیں کیوں ایک عجیب سی بے چینی ہورہی تھی اسے دیکھنے کے لیے جیسے فکر ہورہی تھی اسے آئلہ کی کہ وہ واقعی ٹھیک ہے بھی یا احان نے ایسے ہی کہہ دیا تھا۔
مبارک ہو!
احان کی آواز سنتے وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلا۔
کچھ ہی دیر میں سب سے مل کے وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔
رمینا بیگم منہ بناتے اپنے کمرے میں جا چکی تھیں۔ ٹیشا اور عادی بھی اپنے گھر جا چکے تھے۔
______*******
احان اپنے روم کی طرف بڑھنے لگا تھا جب اسکے فون پہ کسی کی کال آئی۔
ہیلو!
موبائل کان سے لگاتے وہ بولا۔
واٹ! یہ کیاکہہ رہے ہیں آپ؟ ابھی پہنچتا ہوں میں۔
وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگا، گاڑی میں بیٹھتے تیز رفتار میں کارچلانے لگا اور کچھ ہی دیر میں وہ ہوسپٹل کے سامنے تھا۔
کیسے ہوا یہ سب؟ کس کی اتنی جرات ہوئی آخر؟ اور آپ لوگ کہاں تھے؟ کوئی بھی ایسے روم میں چلا جاتا ہے کیا؟
کوئی گارڈز ، کوئی سیکیورٹی کچھ ہے بھی یا نہیں؟
احان چیخا تھا۔
احان صاحب، ہم کچھ نہیں جانتے یہ سب کیسے ہوا؟ ہم تو خود پریشان ہیں، کمیرے میں ریکارڈنگ بھی موجود نہیں ہے۔ ہم نے پولیس کو کال کردی ہےوہ بس پہنچتے ہی ہونگے۔
ایک ڈاکٹر کہنے لگا۔
لیکن ہوا کیا اسے؟
احان زور سے بولا۔
سانس بند ہونے کی وجہ سے انکی موت ہوئی ہے اب پتہ نہیں کسی نے جان بوجھ کے کیا ہے یا نیچرل موت ہے۔ ہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر پارہے۔ کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے تو وہ بالکل نارمل لگ رہی تھی سانس لے رہی تھی پھر اچانک سے یوں موت ہو جانا ہمیں شک میں ڈال رہا ہے کہ کسی نے انکا آکسیجن ماسک اتارا ہوگا شاید۔
دوسرے ڈاکٹر نے کہا تو احان اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔ اسکے چہرے پہ پریشانی چھائی تھی۔
ٹھیک ہے آپ جائیں، اب پولیس ہی انویسٹیگیشن کرے گی۔
احان نے کہا اور ہوسپٹل سے باہر نکلا۔ سامنے سے پولیس انسپکٹر آتا دکھائی دیا۔
ہیلو احان۔صاحب!
وہ احان کے قریب آتے بولا۔
ہیلو، آپکو پتہ تو چل گیا ہو گا کہ کیاہوا ہے۔ آپ ذرا اس مسئلے کو حل کریں۔ جتنا جلدی ہو سکے۔
احان نے پریشانی۔کے عالم میں کہا۔
جی بالکل، آپ پریشان نہ ہوں، میں جلد از جلد پتہ لگا لوں گا کہ کیا معاملہ ہے۔
انسپکٹر نے کہا اور ہوسپٹل میں داخل ہو گیا۔
احان اپنی گاڑی کی طرف بڑھا، گاڑی میں بیٹھتے ڈرائیو کرنے لگا۔
ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ پہلے والے مسئلے ابھی حل نہیں ہوئے اور ایک اور سیاپا۔
افسوس ہوا تمہارے جانے پر لیکن ایک دن سب نے مر ہی جانا ہے ۔کسی نے آج تو کسی نے کل۔ شاید تمہارا اتنا ہی ٹائم تھا اس دنیا میں۔
وہ سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بول رہا تھا۔
خیر اب مجھے چلنا چاہیئے، شاید ہنی جاگ گئی ہو گی اب تک۔
وہ کار ڈرائیو کرتے کہنے لگا۔
______**********
میرا سر اتنا بھاری کیوں ہورہا ہے؟
وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے اپنے سر پہ ہاتھ رکھے کہہ رہی تھی۔
ابھی رات ہے یا دن ہے؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
وہ نیم بیدار آنکھوں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔ اسی پل دروازہ کھلا اور احان کمرے میں داخل ہوا۔
آگیا میں ہنی۔ 
وہ مسکراتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا۔ 
مسٹر احان، صبح ہوگئی ہے کیا؟ میں کب سے سورہی تھی؟ 
وہ دھیرے سے اٹھتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے خمار آلود آواز میں بول رہی تھی۔ 
نہیں جانم! صبح نہیں ہوئی ابھی تو رات ہے۔ 
احان نے اسکے پاس بیٹھتے اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ 
تو میں سارا دن سوئی رہی تھی۔ آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟ 
وہ احان۔کی طرف دیکھتے بولی۔ 
ہنی آپکی میڈیسن میں سلیپنگ پلز ہونگی شاید اسی لیے آپ سارا دن سوئی رہی ہیں۔ اٹس اوکے نا، اب نیند پوری ہو گئی نا آپکی۔ 
وہ اسکے ماتھے پہ پیار کرتے بولا۔ 
آپ نے سارا دن کیا کیا؟ 
وہ احان کے کندھے پہ سر ٹکاتے پوچھنے لگی۔
آج رمیز اور کیارا کا نکاح تھا تو سارا دن تیاریوں میں مصروف رہا۔
وہ سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے بولا۔ 
کیا؟ کیارا آپی کا نکاح تھا آج؟ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ 
وہ حیرت سے اسے تکنے لگی۔ 
جانم! آپ میڈیسن لے کے گہری نیند میں تھیں ۔ آپکی نیند خراب نہیں کر سکتا تھا میں ہنی۔ یہ لیں پانی۔پیئں۔
وہ پانی کا گلاس آئلہ کے ہاتھ میں پکڑاتے کہنے لگا۔ 
لیکن مسٹر احان، آپ صبح بھی تو بتا سکتے تھے نا مجھے ۔ آپ نہیں کھلاتے نا مجھے میڈیسن، شاید آپ چاہتے ہی نہیں تھے کہ میں نکاح میں شرکت کروں۔ 
وہ سر جھکائے اداسی سے بول رہی تھی۔ 
آپ شک کررہی ہیں مجھ پہ؟ میں ایسا کیوں چاہوں گا بھلا کہ آپ نکاح میں شریک نہ ہوں، مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا تھا بھلا؟ 
وہ دبے دبے غصے سے بولا۔ 
نہیں، میں شک نہیں کررہی آپ پہ، میں تو بس پوچھ رہی تھی مسٹر احان۔ 
وہ دھیمی سی آواز میں کہنے لگی۔ 
اگر آپ صرف پوچھ رہی تھیں ہنی تو میں آپکو جواب دے چکا ہوں۔ 
احان نے سپاٹ سے انداز میں کہا اور بیڈ سے اترتے باتھ روم کی طرف چل دیا۔ 
میں نے تو بس پوچھا ہی تھا، مسٹر احان آجکل مجھ پہ زیادہ غصہ کرنے لگ گئے ہیں۔ مجھے بہت ڈانٹنے لگ گئے ہیں۔ 
وہ رونی شکل بناتے پانی پینے لگی۔ 
وہ فریش ہوکے باہر نکلا تو آئلہ کی طرف دیکھا وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ احان گہری سانس لیتے بیڈ کی طرف بڑھا۔


By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.