mr.psycho part 46

written by barbie boo


قسط____46
کیا ہوا آپکو؟ اب کیوں منہ بنایا ہوا ہے؟
احان اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔
کچھ نہیں۔
وہ دھیمے سے بولی۔
اگر کچھ نہیں ہوا تو پھر کیوں ایسے غبارے کی طرح منہ پھلا کے بیٹھی ہیں آپ؟
وہ اسکے گال چھوتے ہوئے کہنے لگا۔
آپ بہت بدل گئے ہیں۔
وہ شکایت کرنے لگی۔
جی کافی بدل گیا ہوں میں اور کچھ۔
وہ سنجیدگی سے اسکی۔طرف دیکھتے بولا۔
نہیں، کچھ نہیں۔mr.psycho part 46
وہ لیٹتے ہوئے کمفرٹر میں چھپ گئی۔
احان چپ چاپ اسکے برابر میں لیٹ گیا۔
گڈ نائٹ ہنی۔mr.psycho part 46
وہ اسے اپنے قریب کرتے خود میں بھینچتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بولا۔ آئلہ نے کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ اسکے سینے کے گرد بازو حائل کرتے اپنا منہ اسکے سینے میں چھپا لیا۔
آجکل کافی پریشان ہوں میں، بہت سارے مسئلوں میں پھنس گیا ہوں، ایک دم۔سے بہت کمزور محسوس کرنے لگا ہوں خود کو، ایک تو آپ میری کمزوری بن چکی ہیں دوسرا شاید یہ بات سب جان چکے ہیں اور اسی بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے میں لگے ہیں۔
ایک آپ ہی تو ہیں جسے دیکھ کے سکون کا سانس لیتا ہوں میں، اگر آپ بھی اسطرح مجھ سے ناراض رہنے لگیں گی تو پھر کیا بچے گا میرے پاس؟ میرے خود کیسے سنبھالوں گا؟mr.psycho part 46
آپکو دیکھ کے جیتا ہوں میں لیکن بار بار آپکے آنسو دیکھ کے ٹوٹنے لگتا ہوں میں، آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں تو رونے لگ جاتی ہیں آپ، بہت بے بس سا محسوس کررہا ہوں میں خود کو، پلیز میرے لیے اذیت کا باعث مت بنیں آپ،
میری جانم ہیں میرا سکون بن کے رہیں،
میرے دل کی دھڑکن میرا جنون بن کے رہیں۔
وہ اسے خود میں بھینچے آنکھیں موندے سرگوشی کررہا تھا۔ پر شاید آئلہ کی آنکھ لگ گئی تھی وہ سو چکی تھی۔ میڈیسن کی وجہ سے وہ زیادہ تر نیند میں ہی رہتی تھی۔
ہممم! لگتا ہے سو گئی ہنی۔
اسکا کوئی جواب نہ پا کر احان نے دھیمے کے کہا اور آنکھیں بند کرلیں۔
______******______mr.psycho part 46
کیسا لگ رہا ہے؟
وہ اسے اپنی بانہوں میں لیے اسکے ماتھے پہ پیار کرتے کہنے لگا۔
بہت اچھا، بتا نہیں سکتی کہ کتنی خوشی محسوس ہورہی ہے مجھے، بے حدسکون اور اطمینان ایسے جیسے بس یہی چاہیئے تھا اور وہ مل گیا۔
وہ خوشی سے اسکے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی۔
ہاں، سکون تو مجھے بھی بہت مل رہا ہے تمہیں پاکے، اب زندگی بھر ہم ساتھ رہیں گے ایسے ہی۔
وہ کیارا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے محبت سے کہہ رہا تھا۔
ہاں، ایسے ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے رہیں گے۔
کیارا رمیز کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہنے لگی تو رمیز مسکرادیا۔
چلو اب سو جاتے ہیں بہت تھکان محسوس ہورہی ہے۔
رمیز بیڈ پہ سیدھا لیٹتے ہوئے تھکے تھکے لہجے میں بولا۔
ہاں، ٹھیک ہے سو جاؤ آج، ویسے بھی اب تو زندگی بھر کا ساتھ ہے۔
وہ اسکے سینے پہ سر رکھتے بولی تو رمیز نے اسکی کمر کے گرد بازوؤں کا حصار بناتے آنکھیں بند کر لیں۔
______*******______mr.psycho part 46
ویک اپ ہنی!
وہ فرش ہوکے آیا اور آئلہ کو جگانے لگا۔
لاؤنج سے کیارا اور رمیز کی آوازیں آرہی تھیں تو احان روم سے نکلتے لاؤنج کی طرف بڑھا۔
تم دونوں اتنی صبح صبح آگئے۔
احان مسکراتے ہوئے بولا تو وہ دونوں ہنس پڑے۔
گڈ مارننگ بھائی!
کیارا مسکراتے ہوئے بولی۔
گڈ مارننگ۔
احان نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے کہا۔
اور میں؟mr.psycho part 46
رمیز نے منہ بسورتے احان کو دیکھا تو وہ رمیز کے گلے لگ گیا۔
تم تو بھائی ہو نا۔
احان نے اسکا کندھا تھپتھپاتے کہا۔ تو رمیز مسکرانے لگا۔
اوکے تم۔اپنی دادو سے باتیں کرو، تب تک ہم آتے ہیں۔
رمیز نے کیارا سے کہا اور احان کے ساتھ لاونج سے باہر نکل گیا۔
کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو تم؟
احان کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات دیکھ کے رمیز نے پوچھا۔
کل رات ہوسپٹل سے کال آئی تھی لینا کی موت ہوگئی ہے۔
احان نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا!؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟
رمیز کو شاک لگا۔mr.psycho part 46
سانس بند ہونے کی وجہ سے ہوا یہ۔ اب پتہ نہیں کسی نے جان بوجھ کے کیا تھا یا بس اتنا ہی وقت تھا اسکے پاس۔
احان نے لا پروائی ہے کہا تو رمیز حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
تمہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا؟ ذرا سا بھی دکھ نہیں ہورہا کیا؟
وہ بے یقینی سے احان کو دیکھنے لگا۔
مجھے کیوں دکھ ہوگا؟
احان نے الٹارمیز سے سوال کیا۔
احان، ماضی میں تم دونوں کے اچھے تعلقات تھے اور اس نے تمہیں ایک بیٹا بھی تو دیا ہے نا، بیوی نہ سہی تمہارے بچے کی ماں تو تھی نا۔ اس معصوم جان سے اسکی ماں چھین لی تم نے۔
رمیز نے دکھ سے کہا۔
ماضی کی باتیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور تم لینا کی موت کا ذمہ دار مجھے ٹھہرارہے ہو؟
احان نے غصے سے کہا۔mr.psycho part 46
احان پلیز! اب مزید جھوٹ مت بولو مجھ سے ، تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میں، میں سمجھا تھا کہ آئلہ کو اپنی زندگی میں لا کے تم سدھر چکے ہو پر اب تمہارا رویہ دیکھ کے مجھے عجیب سا لگ رہا ہے وہی پرانا احان نظر آرہا ہے مجھے۔
رمیز اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہنے لگا تو احان نے نظریں پھیریں تھیں۔
تم نے ہی مارا ہے نا لینا کو؟
رمیز شک بھری نظروں سے احان کو دیکھنے لگا۔
نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا، میں تو تمہارے ساتھ تھا کل میں کیسے اسے مار سکتا ہوں۔
احان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
ہاں، کل تو تم میرے ہی ساتھ تھے تو پھر یہ سب کس نے کیا؟ اسطرح اچانک سے یہ سب اتفاق تو نہیں ہو سکتا نا۔
رمیز الجھن کا شکار ہوا تھا۔
یقیناً یہ بات بھی تم نے آئلہ کو نہیں بتائی ہوگی۔
رمیز نے افسوس سے احان کی طرف دیکھا تو وہ نظریں جھکا گیا۔
یہ سب کیا ہورہا ہے یار؟ مجھے حیرت ہورہی ہےاور حیرت سے کہیں زیادہ دکھ ہورہا ہے۔ اس چھوٹی سی جان کا کیا ہوگا؟
رمیز نے رنجیدہ لہجے میں کہا۔mr.psycho part 46
کیا ہوگا؟ اب ظاہر ہے وہ یہی رہے گا۔ اور کوئی راستہ تو ہے نہیں تو مجھے ہی پالنا پڑے کا اسے۔
احان نے بیزاری سے کہا۔
بے حس ہونے کا ناٹک نہیں کرو اب، تمہارا بیٹا ہے نا وہ اسی لیے تم نے ہی پالنا تھا اسے۔
اور کوئی بات کریں؟
رمیز کی بات سنتے احان نے نا گواری سے کہا۔
آئلہ کیسی ہے؟ اس سے مل کے آتا ہوں میں۔
رمیز نے پوچھا۔
ہاں میری جانم اب ٹھیک ہوتی جارہی ہیں اگلے کچھ دن تک بالکل ٹھیک ہو جائیں گی وہ۔ پہلے تو سو رہی تھی شاید اب جاگ گئی ہوگی۔ تم جا کے مل لو، ویسے بھی کل ناراض ہورہی تھی مجھ سے کہ اسے بتایا کیوں نہیں نکاح کے بارے میں۔
احان نے مسکراتے ہوئے کہا تو رمیز وہاں سے چلتے آئلہ کے روم کی طرف بڑھا اور احان گھر کے باہر نکل گیا۔
_____*******mr.psycho part 46
ہیلو، گڈ مارننگ!
رمیز ڈور نوک کرتے روم میں انٹر ہوتے مسکراتے ہوئے بولا۔
گڈ مارننگ!
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے مسکرائی تھی۔
جاگ گئی أپ، مجھے لگا کہیں سو نہ رہی ہوں۔
وہ بیڈ کے ساتھ پڑے کاؤچ پہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔
ہاں، میں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اٹھی ہوں۔
وہ جمائی لیتے بولی۔
کیسی ہو؟ طبعیت ٹھیک ہے نا؟
وہ فکر مندی کے پوچھنے لگا۔
میں ٹھیک ہوں اور اب کافی بہتر محسوس کررہی ہوں۔ امید ہے جلد ہی پوری طرح ٹھیک ہو جاوں گی۔
وہ چہکتے ہوئے بولی۔ رمیز مسکرایا تھا۔mr.psycho part 46
یس! بہت جلد بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی اور پھر کھیلنا کودنا۔
وہ ہنستے ہوئے بولا۔ آئلہ ہنس پڑی۔
آئی ایم سوری! میرے نکاح میں تم شریک نہیں ہو پائی۔
وہ اداس ہوتے کہنے لگا۔
آپ کیوں سوری کہہ رہے ہیں۔ مسٹر احان نے ہی جان بوجھ کے مجھے میڈیسن کھلا دی تاکہ میں سارا دن سوئی رہوں۔ مجھے پتہ ہے انہوں نے یہ جان بوجھ کے ہی کیا تھا۔ جب میں نے پوچھا تو غصہ کرنے لگ گئے مجھ پہ۔
وہ بچوں کی طرح منہ پھلاتے احان کی شکایت کررہی تھی۔ رمیز مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔
احان کو بہت فکر ہے نا آپکی اسی لیے اس نے ایسا کیا ہوگا۔ اس پہ شک نہیں کرو۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا۔
میں شک تو نہیں کررہی تھی میں تو بس سوال کررہی تھی۔
وہ منہ بناتے بولی۔mr.psycho part 46
اچھا اچھا اب اداس مت ہو، چھوٹی میٹھی خرگوشنی!
رمیز نے قہقہ لگایا تو آئلہ اسے دیکھنے لگی۔
یہ کیا کہا آپ نے؟
وہ حیرت سے کہنے لگی۔
تمہارے مسٹر احان نے یہی نام دیا ہوا نا تمہیں، ہنی بنی۔
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
ہاں وہ مجھے ایسے ہی بلاتے ہیں؛ میری ہنی بنی، میری چھوٹی ہنی بنی۔
وہ احان کی نقل کرتے بولی اور اگلے ہی پل دونوں ہنسنے لگے۔
مسٹر احان ہیں کہاں؟
آئلہ رمیز کی طرف دیکھتے بولی۔
وہ کسی کام گیا ہے کچھ دیر تک آجائے گا۔
رمیز نے مسکراتے ہوئے کہا اور کاؤچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اوکے، ابھی میں جارہا ہوں، اگر کوئی بھی بات ہو یا کچھ بھی چاہیئے ہو تو تم دوست سمجھ کے مجھے کال کر سکتی ہو، ٹھیک ہے نا لٹل ہنی۔
وہ بیڈ کے قریب جاتے اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے محبت سے کہنے لگا تو آئلہ نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
اسی پل کیارا روم میں انٹر ہوئی۔ رمیز کا ہاتھ آئلہ کے گال پہ دیکھ اور ان دونوں کو مسکراتے دیکھ کے کیارا کا خون کھولنے لگا تھا وہ غصے سے پیر چٹختے ہوئے الٹے قدم واپس چلی گئی۔ جبکہ آئلہ اور رمیز نے کیارا کو نہیں دیکھا تھا۔
اپنا خیال رکھنا اوکے۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور روم سے باہر چلا گیا۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے احان کا ویٹ کرنے لگی۔
______**********mr.psycho part 46
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ کل تو ڈاکٹر کچھ اور کہہ رہے تھے۔
احان غصے سے انسپکٹر سے کہہ رہا تھا۔
جی احان صاحب، کل ڈاکٹرز نے بس اپنے تکے ہی لگائے تھے۔ کسی بات کو لے کے شور نہیں تھے وہ اور ہم نے ایک ایک چیز کی تلاشی لی ہے ہمیں کچھ نہیں ملا۔
حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا ہی لگ رہا ہے کہ انکی موت سانس رکنے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی لیکن انہوں نے ایسا خود کیا تھا۔ انکے آکسیجن ماسک پہ بس انکی انگلیوں کے نشان تھے جو شاید انہوں نے خود ہی اتارا تھا اور وہی انکی۔موت کا سبب بنا۔
اور کوئی ثبوت کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کسی پہ شک کیا جا سکتا جب کہ کوئی انکے روم میں گیا ہی نہیں تھا۔ ہم کسی پہ کوئی الزام نہیں لگا سکتے کیونکہ آپ کو بھی کسی پہ شک نہیں ہے تو یہ کیس یہی پہ کلوز کردیا ہے ہم نے۔
انسپکٹر نے اسے ڈیٹیل بتائی تو احان کے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔
وہ پولیس سٹیشن سے نکلتے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیو کرنے لگا۔
_______********_______mr.psycho part 46
اتنے غصے میں کیوں لگ رہی ہو؟
دادو نے تمہارے کان تو نہیں کھینچے نا؟
رمیز ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر کیارا پہ ڈالتے شرارت سے بولا۔
بہت پیار جتا رہے تھے اسے، کیوں؟ ایک ہی رات میں مجھ سے دل بھر گیا کیا تمہارا؟
وہ جل کے بولی۔
کیا کہہ رہی ہو؟ آج ہماری شادی کا پہلا دن ہے اور تم یہ کیسی باتیں کررہی ہو یار؟
رمیز نے دبے دبے غصے سے کہا۔
میں بھی تو یہی کہہ رہی ہوں نا کل ہی ہمارا نکاح ہوا اور تم آج اسکے گال چومنے پہنچ گئے۔ اپنی بیوی کافی نہیں ہے کیا جو اسکے پاس پہنچ گئے تھے۔
وہ تلخ لہجے میں بولتی رمیز کو تپ چڑھا گئی تھی۔
کچھ تو شرم کر لو، تمہارا شوہر ہوں میں اور تم مجھ پہ الزام۔لگا رہی ہو۔
وہ غصے سے بولا۔
الزام لگارہی ہوں میں؟ تو نہیں گئے تھے کیا تم اسکے کمرے میں؟ اسکے بیڈ کے پاس، اسکے اتنا قریب جھک کے کیا کررہے تھے؟ اسکی آنکھوں میں کیا جھانک رہے تھے تم؟ اور اسکے گالوں پہ جو ہاتھ رکھا ہوا تھا اس کا کیا؟
یہ سب الزام لگا رہی ہوں میں؟ بولو؟
وہ چیخی تھی۔
اف! میں حیران ہوں کہ تم کیا کیا سوچ لیتی ہو یار، میں آئلہ کے روم میں اسکا حال پوچھنے گیا تھا اور بس پیار سے اسکے گال تھپتھپائے تھے کچھ غلط سوچ کے تو نہیں گیا تھا وہاں۔ دوست سمجھتی ہے وہ مجھے، بس اور کوئی بات نہیں ہے اور تم یہ بات کیوں بھول جاتی ہو کہ وہ احان کی بیوی ہے۔ تمہاری بھابی ہے وہ۔
رمیز تپ کے بولا تو کیارا اسے گھورنے لگی۔
اسکا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی دوبارہ اس سے ملنے جانا۔
وہ ناگواری سے کہنے لگی۔ تو رمیز کچھ کہے بغیر ڈرائیونگ پہ دھیان دینے لگا۔ کیارا بھی منہ بناتے خاموش ہو گئی۔
______********mr.psycho part 46
آگئے تم، ذرا سنبھالو اسکو، بہت رو رہا ہے شاید اپنی ماں کو یاد کررہا ہے۔
احان کو لاؤنج میں داخل ہوتا دیکھ کے رمینا بیگم نے اسے آواز دی تو وہ انکی طرف بڑھا۔
بےبی سٹر کہاں ہے؟ وہ نہیں آئی کیا آج؟
احان نے بچے کو اپنی گود میں لیتے پوچھا۔
پتہ نہیں کیا ہوا اسے، بتائے بغیر ہی چھٹی کرلی اس نے، صبح سے اسے چپ کرانے کی کوشش کررہی تھی پر مجال ہے جو ایک سیکنڈ پہ چپ ہوا ہو یہ۔
بیچارا اپنے ماں کے بغیر کیسے رہے گا یہ۔
رمینا بیگم رنجیدہ ہوئیں تھیں۔
آپ فکر نہ کریں۔ میں نئی بے بی سٹر کا انتظام کرتا ہوں۔ آپ جا کے آرام کریں تب تک میں سنبھالتا ہوں اسے۔
احان کہتے ہوئے اسے بچے کو لیے اپنے روم کی طرف بڑھا۔
مسٹر احان! آپ آ۔۔۔۔گئے۔۔۔۔۔
احان کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کے وہ خوشی سے بولتے بولتے رکی تھی۔
جی جانم! آگیا میں اور دیکھیں ساتھ میں اس چھوٹے سے شرارتی کو بھی لایا ہوں، اس نے صبح سے رو رو کے دادو کو پریشان کر رکھا تھا۔ اب جا کے جناب کو سکون ملا ہے۔
احان نے بیڈ کی طرف بڑھتے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ لینا کا بچہ ہے نا؟
آئلہ نے سوال کیا۔
ہاں۔mr.psycho part 46
احان نے سپاٹ سے انداز میں کہا اور بیڈ پہ بیٹھتے بچے کو آئلہ کے برابر میں لٹا دیا۔ وہ احان کو دیکھتے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہلاتے مسکرارہا تھا۔
تو آپ اسے یہاں کیوں لے کے آئے ہیں؟
شاید آئلہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا احان کا اس بچے کے ساتھ اسطرح مسکرانا اور محبت کرنا۔
لینا اب اس دنیا میں نہیں رہی، اسی لیے اب ہمیں ہی اس بچے کو پالنا ہوگا۔
وہ سنجیدگی سے بولا۔ آئلہ کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا تھا وہ بے یقینی سے احان کو تکنے لگی۔
یہ سچ ہے ہنی، کل رات کی بات ہے۔ گرنے کی وجہ سے اسکے سر پہ گہری چوٹ لگی تھی ، ڈاکٹرز نے بہت کوشس کی اسے بچانے کی پر نہیں بچا پائے۔
احان نے اسے اصل بات نہیں بتائی ۔
اوہو! بہت برا ہوا یہ تو۔ مجھے یقین نہیں ہورہا۔کتنا جلدی یہ سب ہوگیا۔
آئلہ بہت اداسی سے کہنے لگی۔
آپ سٹریس نہ لیں پلیز۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ بس اب آگے کیا کرنا ہے ہمیں وہ سوچنا ہوگا۔
احان نے آئلہ کو اداس ہوتے دیکھ کر ناگواری سے کہا۔
ہمم! یہ چھوٹا سا بےبی، اپنی ماما کے بغیر کیسے رہے گا؟ مجھے بہت برا لگ رہا ہے مسٹر احان۔
وہ رونی شکل بناتے بولی۔mr.psycho part 46
تو أپ ہیں نا آپ اسکو تھوڑا سا پیار دے دینا، جیسے مجھے پیار کرتی ہیں ذرا سا پیار اس ننھے سے بچے کو بھی کر لینا۔
احان آئلہ کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
پر مجھے نہیں پتہ کہ چھوٹے بے بی کو کیسے پیار کرتے ہیں۔ میں تو خود بھی چھوٹی ہوں نا۔
وہ بچوں جیسے بولی تو احان مسکرانے لگا تھا۔
ایسے پیار کرنا ہے اور ایسے اور ایسے۔
وہ آئلہ کے قریب ہوتے اسکے چہرے پہ جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے کہنے لگا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.