love, couple, romance-2587456.jpg

written by barbie boo

Mr.Psycho part 47. This novel is based on age difference couple who fell in love with each other.

قسط___47
مسٹر احان، اس بچے کی آنکھیں بالکل آپکی آنکھوں جیسی ہیں ایسا کیوں؟
آئلہ بچے کے گال پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے کہنے لگی۔
جانم، اس کو بچہ بچہ کہنا بند کریں، اسکا کوئی پیارا سا نام سوچیں۔
احان نے بات بدلتے آئلہ کا دھیان ہٹایا۔
ہممم۔۔۔ کیا نام رکھیں؟ ٹنکو؟ ٹنکو کیسا رہے گا؟
وہ شرارت بھرے لہجے میں احان کو دیکھتے ہوئے بولی۔
بھلا یہ کیسا نام ہو جانم؟
احان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
کیوں اچھا نہیں ہے کیا؟ اوکے تو پھر گولو کیسا ہے؟ یا پھر چنٹو؟ یہ کافی پیارا گول مٹول سا ہے تو اسکا نام بھی کیوٹ سا ہونا چاہیئے نا مسٹر احان۔
وہ کھلکھلا کے ہنسی تھی۔
آپ پیار سے ان ناموں سے اسے بلا سکتی ہیں لیکن اسکا نام کچھ اور رکھنا پڑے گا۔ اسکا نام ہوگا عاشر، عاشر احان۔
احان نے بچے کے گال کو چومتے ہوئے محبت سے کہا۔
مطلب یہ آپکا بیٹا ہے؟mr.psycho part 47
آئلہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
جانم، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے تو میرا نام ہے ملے گا نا اسے ، اب یہ میرا بیٹا ہے۔
احان نے مسکراتے ہوئے آئلہ کا گال چھوتے ہوئے کہا۔
ہمم، اوکے عاشر پیارا نام ہے۔ ہیلو عاشر میں ہوں آئلہ۔
وہ مسکراتے ہوئے عاشر کے چھوٹے سے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے بول رہی تھی۔ احان کے عنابی لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
چلیں، اب میں اسے دادو کے پاس چھوڑ کے آتا ہوں۔
احان عاشر کو لیے بیڈ سے اترتے ہوئے بولا۔
ابھی تھوڑی دیر یہی رہنے دیں نا، اسے اچھا لگ رہا تھا یہاں۔
آئلہ نے کہا تو احان ہنسنے لگا۔
آج نہیں، آج یہ دادو پاس جائے گا کیونکہ مجھے میری وائف کے ساتھ کافی ٹائم سپینڈ کرنا ہے۔
احان شرارت سے کہتے روم سے باہر چلا گیا۔
________**********mr.psycho part 47
رمیز تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو آخر؟ میں نے کھانا لگا دیا ہے آجاؤ، کھانا کھاتے ہیں۔
کیارا رمیز کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے محبت سے کہنے لگی۔
نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے۔ تم کھا لو۔
وہ خفگی سے بولا۔
رمیز، آئی ایم سوری! میں نے کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا غصے میں، میں بہت جیلس فیل کرنے لگتی ہوں۔ بہت انسکیور فیل کرنے لگتی ہوں آئلہ کو تمہارے آس پاس دیکھ کے ہی۔
وہ صوفے پہ اسکے برابر بیٹھتے ہوئے اداسی سے بولی۔
غصہ نہیں کیا تھا تم نے، تم نے سیدھا سیدھا الزام لگایا تھا مجھ پہ۔
رمیز نے دبے دبے غصے سے کہا۔
پلیز معاف کردو نا، میں اگین ایسا نہیں سوچوں گی۔
وہ منتیں کرنےلگی۔
یار پلیز، اسطرح معافی مت مانگو اب، بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا مجھے۔ بس خیال رکھا کرو، اب ہم شادی شدہ ہیں۔ ہمارے بیچ بھروسہ ہونا ضروری ہے۔
رمیز کیارا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے محبت سے کہہ رہا تھا۔
میں خیال رکھوں گی۔
وہ رمیز کے سینے سے لگتے ہوئے بولی تو وہ مسکرادیا۔
_______************mr.psycho part 47
جانم، میری ہنی! صبح آپکو پارک لے جاؤں گا، اب میری بنی کافی بہتر ہوگئی ہیں نا۔
وہ آئلہ کو سینے سے لگایا اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے کہہ رہا تھا۔
ہاں، مسٹر احان، میں اب کافی بٹر فیل کررہی ہوں۔
وہ احان کی شرٹ پہ انگلیوں سے گول گول دائرے بناتے ہوئے بول رہی تھی۔
مجھے بھی بہت اچھا فیل ہورہا ہے اپنی جانم کے پاس رہ کے۔
وہ آئلہ کے بالوں پہ پیار کرتے بولا۔mr.psycho part 47
مسٹر احان، وہ بےبی مطلب عاشر ۔۔۔ آہ! ۔۔۔ کیا وہ ۔۔۔ کیاوہ آپکا بیٹا ہے ؟
وہ دونوں ہاتھ احان کے چوڑے سینے پہ رکھتے ان پہ اپنی تھوڑی ٹکائے پوچھ رہی تھی۔
ہنی، وہ اب میرا ہی بیٹا ہے۔ میری ذمہ داری ہے۔
احان نے چہرے پہ مصنوعی سجاوٹ سجاتے کہا۔
نہیں، میرا مطلب تھا کہ۔۔۔کیا وہ آپکا سگا بیٹا ہے؟ مطلب لینا اور آپ۔۔۔۔۔ کا بیٹا؟
وہ سوالیہ نظروں سے احان کو دیکھنے لگی۔
میری جان! لینا اب اس دنیا میں نہیں رہی اور اگر آپ چاہتی ہیں کہ عاشر اس گھر میں نہ رہے تو میں اسے یہاں نہیں رکھوں گا اگر آپ۔۔۔۔
نہیں، مسٹر احان، آہ! میرا مطلب وہ نہیں تھا، مجھے عاشر سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو بہت پیارا چھوٹا سا بےبی ہے۔ میں تو بس یہ پوچھ رہی تھی کہ کیا آپ ہی اسکے ڈیڈ ہیں؟
وہ احان کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولنے لگی۔
جانم! کیا یہ بات آپکے لیے اہم ہے کہ عاشر کا ڈیڈ کون ہے؟
جواب دینے کی بجائے احان نے الٹا آئلہ سے سوال کیا۔
لیکن اس میں کیا برائی ہے اگر میں جاننا چاہتی ہوں تو؟
وہ بھی جواباً بولی۔mr.psycho part 47
نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے میری جان، آپ زیادہ فکر نہیں کریں۔
وہ آئلہ کو سینے سے لگاتے سرگوشی کے عالم میں بولا۔
وہ اسکے سینے میں چھپتی سکون سے آنکھیں بند کر گئی۔ جبکہ احان کے چہرے پہ پریشانی کے سائے لہرانے لگے تھے وہ کسی گہری سوچ میں گم ہو چکا تھا۔
______*******_____mr.psycho part 47
تین مہینے گزر چکے تھے۔ آئلہ نے پھر سے سکول جوائن کر لیا تھا۔ احان اپنے آفس میں بزی ہو چکا تھا۔ رمینا بیگم ابھی بھی آئلہ سے اکھڑی اکھڑی ہی رہتی تھیں۔
آئلہ عاشر سے کافی اٹیچ ہو گئی تھی۔ اسے پیار کرنے لگی تھی۔ سکول سے آنے کے بعد اسکے ساتھ کھیلنا، باتیں کرنا ہی اسکی روٹین بن گئی۔
احان یہ سب دیکھ کے کافی پر سکون تھا۔ زندگی کافی خوشگوار سی ہوگئی تھی۔
کیارا اور رمیز بھی اپنی زندگی میں خوش تھے۔ بہت پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔
کیارا کے شکوے شکایتیں سب ختم ہو چکے تھے۔ اب انکے بیچ صرف محبت اور اعتبار تھا جو انکے رشتے کو مضبوط بنائے ہوئے تھا۔ کوئی شک ، کوئی غلط فہمی کوئی گلہ شکوہ نہ رہا۔
______***** *****mr.psycho part 47
کتنے مہینے گزر گئے، ڈیڈ نے ایک بار بھی کال کرکے نہیں پوچھا کہ میں کیسی ہوں، وہ تو جیسے مجھے بھول ہی گئے ہیں مام بھی مجھے یاد نہیں کرتی ہونگی کیا؟
آج سکول میں سب کے پیرینٹس آئے تھے ، بس میرے مام، ڈیڈ ہی نہیں تھے وہاں۔
وہ سکول سے آتے ہی اپنے روم میں چلی گئی اور بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹتے کہنے لگی۔
مسٹر احان نے پتہ نہیں میرا فون کہاں رکھا ہے، مجھے تو یوز ہی نہیں کرنے دیتے،
وہ اٹھ کے سیدھی ہو بیٹھی اور سائیڈ ٹیبل کی دراز میں چیک کرنے لگی۔
یہ رہا میرا فون، چلو شکر ہے مل گیا، مسٹر احان تو آفس میں ہیں، ابھی ڈیڈ کو کال کر لیتی ہوں لیکن مسٹر احان نے منع کیا تھا اگر انکو پتہ لگ گیا تو کہیں وہ غصہ نہ ہوں مجھ پہ۔
وہ فون ہاتھ میں پکڑے بیڈ پہ بیٹھی سوچ رہی تھی۔
پر انکو پتہ کیسے چلے گا، میں بتاؤں گی ہی نہیں انکو، ہاں یہ ٹھیک ہے۔
وہ سوچتے ہوئے اپنے ڈیڈ کو کال ملانے لگی۔
ابھی بیل جارہی تھی کہ کسی نے تیزی سے آئلہ کے ہاتھ سے فون چھینتے ہوئے زور سے دیوار پہ دے مارا۔
وہ چونکتے ہوئے فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دل زوروں سے اچھلا تھا۔ احان بے حد غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔ آئلہ کو اپنا حلق سوکھتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
وہ۔۔۔میں۔۔۔۔مسٹر احان۔۔۔میں۔۔۔۔۔mr.psycho part 47
وہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی سہی طرح بول بھی نہیں پارہی تھی۔
اپنے ڈیڈ کو کال کررہی تھیں؟ میرے منع کرنے کے باوجود آپ نے فون اٹھا لیا اور کال بھی ملا لی تھی۔
احان مٹھیاں بھینچے غصے سے کہنے لگا۔
وہ۔۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔میں مس کررہی تھی۔۔۔۔اسی لیے بس بات کرنا چاہتی تھی۔
وہ ڈر کے مارے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑے جارہی تھی۔
اگر میں نے منع کیا تھا تو کوئی وجہ ہوگی نا، ایسے تو نہیں روکا تھا آپکو۔ أپ کو میری بات پہ یقین نہیں ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟
وہ آئلہ کے بازؤں کو نرمی سے پکڑتے بول رہا تھا۔
تو آپ مجھے بتاتے بھی تو نہیں ہیں نا کہ کیا وجہ ہے؟
وہ معصوم سی شکل بناتے ہوئے احان کو دیکھنے لگی جبکہ ڈر کی وجہ سے اسکے چہرے کا رنگ ذرد پڑرہا تھا۔
میری جان میں ہر بات نہیں بتا سکتا آپکو، کچھ باتیں آپ کو پتہ نہ ہی ہوں تو بہتر ہے آپکے، آپ پلیز اپنے احان۔پہ بھروسہ رکھیں، میں کچھ غلط نہیں کرونگا۔
وہ آئلہ کو ڈرتے دیکھ کر اپنا لہجہ نرم کرتے کہنے لگا۔
لیکن مسٹر احان، اتنے مہینے گزر چکے ہیں، میں ایک بار مام، ڈیڈ سے ملنا چاہتی ہوں۔ آپ مجھے لے جائیں نا وہاں۔
وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔
نہیں! میں کہیں نہیں لے کے جا سکتا آپکو، آپ کا وہاں جانا سیف نہیں ہے، اسلیے آپ اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں۔ اب یہی آپکا گھر ہے اور میں ہی آپکا سب کچھ ہوں۔mr.psycho part 47
وہ دو ٹوک انداز میں بولا تو آئلہ کی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ہنی پلیز! روئیں نہیں، کیوں رورہی ہیں میری جان؟ میں ہوں آپکے پاس آپکا خیال رکھنے کے لیے آپکو بے حد پیار کرنے کے لیے تو کیوں ضد کررہی ہیں ان کے پاس جانے کی؟ یہاں کوئی کمی ہے کیا آپکو بتائیں مجھے۔
وہ اسے روتا دیکھ کے اسکے گالوں سے آنسو صاف کرتے پیار سے بولنے لگا۔
لیکن آپ کیوں نہیں ملنے دے رہے مجھے مام، ڈیڈ سے؟ مجھے ایک بار بات تو کرنے دیں پلیز۔
وہ روتے ہوئے بولی۔mr.psycho part 47
آپ کیوں نہیں سمجھ رہی میری بات آخر؟
اب دوبارہ یہ بات نہیں دوہرانی آپ نے۔ پیار سے سمجھارہا ہوں جانم، مجھے غصہ مت دلائیں۔
وہ آئلہ کو خود میں بھینچتے ہوئے بول رہا تھا پر وہ روئے جارہی تھی۔
پلیز مجھے ایک بار مام، ڈیڈ سے بات کرنے دیں۔
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔
کسی سے کوئی بات نہیں کرنی! رونا بند کریں ، جائیں جا کے چینج کریں اور میرے ساتھ چلیں آپ، کہیں باہر لے کے چلتا ہوں جانم کو تو اچھا فیل کریں گی۔
وہ آئلہ کو لیے ڈریسنگ روم میں بھیجتے بولا۔ وہ روتے ہوئے اندر چلی گئی۔ 
جانم! آجائیں اب، اور کتنا ٹائم لگائیں گی ہنی؟
وہ کافی دیر گزرنے کے بعد بھی ڈریسنگ روم سے باہر نہ نکلی تو احان نے ڈور نوک کرتے کہا۔ پر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ احان کے ماتھے پہ شکنیں نمودار ہوئیں تھیں۔ اسے غصہ آرہا تھا آئلہ جان بوجھ کے خود کو ڈریسنگ روم میں بند کر کے اسے تنگ کررہی تھی۔
وہ مٹھیاں بھینچے دانت پیسنے لگا۔
ہنی! ہنی! اوپن دا ڈور! میری آواز سن رہی ہیں آپ؟ جانم! جانم! دروازہ کھولیں، دیکھیں تنگ مت کریں۔مجھے، مجھے فکر ہورہی ہے جلدی سے باہر آجائیں پلیز۔ ہنی!
وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا۔ٹینشن کی وجہ سے اسکے ماتھے کی رگیں تیزی سے پھڑپھڑانے لگیں تھیں اور پسینہ آنے لگا تھا۔
…mr.psycho part 47

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.