love, couple, romance-6578476.jpg

written by barbie boo

Mr.Psycho part 48. This novel is based on age difference couple who fell in love with each other

قسط___48
ہنی! پلیز باہر آجائیں، کیوں تنگ کررہی ہیں مجھے؟
وہ دروازہ پہ ہاتھ رکھے بول رہا تھا۔
مجھے کہیں نہیں جانا۔
آئلہ کی آواز آئی۔
اوکے جانم، اگر آپکو کہیں نہیں جانا تو ٹھیک ہے نا ہم نہیں جاتے کہیں بھی، چلیں اب آپ دروازہ کھولیں۔
احان نے منت بھرے انداز میں کہا۔
آپ نے میرا فون توڑ دیا۔ مجھے ڈانٹا، غصہ کیا ، آپ مجھ سے اب پیار نہیں کرتے۔
اسکی دھیمی سی آواز احان کے کانوں میں پڑی تھی۔
ارے یار! دیکھیں، میری بات سنیں، آپ پلیز میرے سامنے آکے بات کریں جانم، پلیز اوپن دا ڈور، کیوں اپنے مسٹر احان کو پریشان کررہی ہیں ہنی؟
وہ اداسی سے کہنے لگا۔
آپ روم سے باہر جائیں پھر میں دروازہ کھولوں گی۔
ٹھیک ہے، جارہا ہوں، پہلے کمرے سے باہر نکالیں مجھے ، پھر گھر سے اور پھر اپنی زندگی سے بھی باہر نکال دیجیے گا۔ ٹھیک ہے نا! ظلم کرتا ہوں نا میں بہت، کافی پریشان کر رکھا ہے آپکو ہے نا؟
وہ دبے دبے غصے سے بولنے لگا۔ اگلے ہی پل وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی۔ احان غصے سے ایک نظر اس پہ ڈالتے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔ وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی اسکے پیچھے چلنے لگی۔
اب کیوں پیچھے آرہی ہیں میرے؟ جائیں پھر سے بند ہو جائیں وہاں اور پریشان کریں مجھے۔
وہ آئلہ کی طرف مڑا اور کہنے لگا۔ وہ دانت نکالنے لگی۔
بہت بری لگ رہی ہیں، یہ بتیسی دکھانا بند کریں۔
وہ غصے سے بولا۔mr.psycho part 48
آپ بھی برے لگ رہے ہیں یہ غصے کا ناٹک کرنا بند کریں۔
وہ اسکے روبرو آتے ہوئی بولی۔
ذرا سا بھی احساس ہے آپکو؟ مذاق سمجھتی ہیں ہر بات کو؟ کوئی فکر ہے میری ؟
وہ آئلہ کے بازووں کو پکڑتے کہنے لگا۔
تو آپ نے مجھے کیا سمجھا ہوا ہے؟
وہ بھی جوابا بولی۔
کیا مطلب کیا سمجھا ہوا ہے؟ کیا کہنا چاہتی ہیں؟
وہ سوالیہ نظرون سے اسے دیکھنے لگا۔
آپ نے مجھے روبورٹ سمجھا ہوا ہے کیا جو میں آپکے اشاروں پہ چلتی رہوں۔
وہ احان کو گھورنے لگی۔
واٹ؟ کہاں سے سیکھ رہی ہیں یہ باتیں؟
وہ غراتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
میرے بازو چھوڑیں۔mr.psycho part 48
وہ احان کو زور سے دھکا دیتے اسکے حصار سے نکلی۔
تو کیا ایسا نہیں ہے مسٹر احان؟ بتائیں ۔
وہ اسے گھورنے لگی۔
ایسا کیا کردیا میں نے آپکے ساتھ جو ایسی باتیں کررہی ہیں آپ؟
وہ آئلہ کے قریب جاتے غصے سے کہنے لگا۔ وہ دو قدم پیچھے کو ہوئی تھی۔
تو کیوں ڈانٹتے ہیں مجھے؟ اتنا غصہ کیوں کرتے ہیں؟ کیوں مجھے میرے گھر والوں سے بات نہیں کرنے دیتے؟ آپ نے تو کہا تھا کہ میں اپنی مرضی کی زندگی گزاروں گی آپ سے شادی کرنے کے بعد پر آپ نے تو مجھ پہ پاپندیاں لگانا شروع کردی ہیں۔ میری مرضی کا کوئی خیال نہیں آپکو۔
وہ چیخی تھی۔
پھر سے وہی باتیں، میں پہلے ہی بتا چکا ہوں آپکو کہ ہر وجہ بیان نہیں کر سکتا میں۔
وہ نرمی سے بولا۔mr.psycho part 48
آپ بہت بدل گئے ہیں، آپ وہ پہلے جیسے مسٹر احان نہیں رہے، بہت بری طرح ٹریٹ کرتے ہیں مجھے۔
وہ رونے لگی تو احان نے اسے نرمی سے اپنے سینے سے لگا لیا۔
نہیں بدلا میں ہنی، میں وہی ہوں آپکا مسٹر احان جو اپنی چھوٹی سی جانم سے بے حد پیار کرتا ہے۔ آپ کیوں ایسا سوچ رہی ہیں۔
وہ آئلہ کے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے نرم لہجے میں کہنے لگا۔
تو مجھے لے جائیں نا مام، ڈیڈ کے پاس مسٹر احان، مجھے ان سے ملوانے کے لیے لے جائیں نا پلیز۔
وہ احان کے چہرے کی طرف دیکھتے التجا کرنے لگی۔
پلیز ہنی! حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں، میں سہی وقت آنے پہ ملوا لاؤں گا ان سے اور آپکو ہر بات بتادوں گا۔
وہ اسکے گال پہ پیار کرتے بولا۔
کب آئے گا سہی وقت؟ اتنے مہینے ہوگئے ہیں مجھے گھٹن ہوتی ہے یہاں اب، مجھے نہیں رہنا یہاں، پلیز مجھے مام، ڈیڈ کے پاس جانا ہے مسٹر احان، مجھے اپنے گھر جانا ہے۔
وہ رونے لگی۔
گھٹن ہوتی ہے یہاں آپکو؟ کسی نے کچھ کیا آپ سے؟ میں گھر چینج کر لیتا ہوں نا، کسی اور بڑے سے گھر میں رہیں گے وہاں گھٹن نہیں ہوگی آپکو۔
وہ آئلہ کے آنسو صاف کرتے محبت سے بولا۔
نہیں، مجھے نہیں جانا نئے گھر میں، مجھے بس اپنے گھر جانا ہے۔
یہی آپکا گھر ہے، میں ہی آپکا سب کچھ ہوں، کیوں نہیں سمجھ رہی آپ میری بات۔
وہ آئلہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہنے لگا۔
نہیں، مجھے یہاں نہیں رہنا۔ آپ اب پہلے جیسے نہیں رہے مسٹر احان، مجھے لگا تھا آپ سے شادی کرکے میں اتنی مرضی کی زندگی گزاروں گی آپ کے ساتھ دنیا گھوموں گی ہم بہت خوش رہیں گے لیکن کیا ہوا؟
ہر روز ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا، کچھ بھی ویسا نہیں ہوا جیسا میں نے سوچا تھا، آپ نے تو مجھے قید ہی کردیا ہے، سکول سے سیدھا گھر اور صبح سکول پھر گھر، نہ مجھے میری دوستوں سے ملنے دیتے نہ فون دیتے مجھے، نہ انکو یہاں آنے دیتے، نہ مجھے کہیں جانے دیتے یہ قید نہیں تو اور کیا ہے؟ آپکو سمجھ کیوں نہیں آتا کہ آپکی اور میری عمر میں بہت فرق ہے اور آپ اپنی جوانی گزار چکے اب مجھے بھی میری ٹین ایج لائف انجوائے کرنے دیں نا پلیز، مجھے اسطرح قید مت کریں۔mr.psycho part 48
وہ بیڈ پہ جا بیٹھی اور رونے لگی۔
تو اب آپکو احساس ہونے لگ گیا کہ ہماری عمروں میں فرق ہے۔ ہممم! ہماری عمروں میں نہیں ہماری سوچ میں بھی بہت فرق ہےہنی اور آپ ابھی بہت نادان ہو، ناسمجھ اور اس دنیا سے بے خبر ہو لیکن میں اس دنیا کو اچھی طرح جانتا ہوں یہاں کے لوگوں کو سمجھتا ہوں۔ آپکے لیے کیا سہی ہے اور کیا غلط یہ بات ابھی آپ نہیں جانتی ہیں۔ پلیز اپنے دماغ میں الٹے سیدھے خیال مت لایاکریں ہنی۔ چپ ہو جائیں، روئیں نہیں۔ میں سمجھ رہا ہوں آپکی بات، ہم کچھ دن تک آپکے مام، ڈیڈ سے ملنے چلیں گے اوکے اور ہم دنیا بھی گھومیں گے جو جو آپ چاہتی ہیں وہ سب کریں گے ۔ بس آپ یہاں سے جانے کے بارے میں مت سوچا کریں، مجھے چھوڑ کے جانے کی باتیں نہیں کیا کریں جانم۔
وہ بیڈ پہ آئلہ کے برابر بیٹھتے ہوئے اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے اسکے آنسو صاف کرتے نرمی سے کہہ رہا تھا۔
سچ میں نا! کتنے دن بعد جائیں گے ؟
وہ ایک دم خوشی کے کھل اٹھی تھی۔
دو سے تین دن تک چلیں گے۔
وہ آئلہ کے ماتھے پہ پیار کرتے بولا تو وہ مسکرانے لگی۔
چلیں اب کھانا کھا تے ہیں۔ آپ منہ دھو کے آئیں پہلے، میں باہر ڈائننگ ٹیبل پہ ویٹ کررہا ہوں آپکا اوکے۔
وہ آئلہ کے گال تھپتھپاتے روم کے باہر چلا گیا۔
*******************
مجھے اتنی بے چینی کیوں ہورہی ہے آخر؟ امید ہے سب ٹھیک ہو، آئلہ کافی اپ سیٹ لگ رہی تھی اور احان بھی کافی روڈ بے ہیو کررہا تھا، نجانے کیا بات تھی؟
وہ بار بار کروٹ بدلتے سوچ رہا تھا۔ ایک نظر کیارا پہ ڈالی، وہ سو چکی تھی۔ رمیز نے ایک بازو اپنی آنکھوں پہ رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
*********___mr.psycho part 48
آپ کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہے کہ میں نے کتنی مشکل سے آپکو بچایا تھا۔ آپکو حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا میں نے، یہ سب اس لیے نہیں کیا تھا کہ ایک دن آپ مجھے چھوڑ کے چلی جائیں، نہیں! میں ایسا نہیں ہونے دونگا! میں آپکو ہر اس چیز سے ہر اس شخص سے دور رکھوں گا جو آپکو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا۔ میں جانتا ہوں اب آپکو ہمارا ایج ڈیفرینس نظر آنے لگا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اب آپکا دل بھرنے لگا ہے مجھ سے پر ہنی شاید آپ نہیں جانتی کہ احان عباس سے دور جانا نا ممکن ہے آپ کے لیے، جب تک میری سانسیں چلتی رہیں گی تب تک آپ میرے ساتھ ہی رہیں گی، آپ نے زندگی بھر میرا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا اب میں پیچھے نہیں ہٹنے دونگا آپکو پھر چاہے اسکے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔
وہ آئلہ کو اپنے سینے سے لگائے سوچ رہا تھا۔ وہ سو چکی تھی پر احان کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ آئلہ کے بالوں میں انگلیاں چلاتے خیالوں میں گم تھا۔
ساری رات وہ ایسے ہی جاگتا رہا اور سوچتا رہا، بار بار آئلہ کے ہاتھوں پہ پیار کرتا اور اسکے چہرے کو تکنے لگتا وہ جانتا تھا اب وہ جو کرنے والا تھا اسکے بعد شاید آئلہ اس سے نفرت کرنے لگے گی پر احان کو منظور تھا اسکی محبت اسکی نفرت سب کچھ بس وہ اسے خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا کیونکہ آئلہ کی نفرت تو وہ برداشت کر لے گا پر اسکی جدائی نہیں۔
گالوں پہ لبوں کا لمس محسوس ہونے پہ آئلہ کی آنکھ کھلی۔
گڈ مارننگ! جاگ گئی ہنی۔
وہ اسکے گال پہ اپنی ناک رگڑتے ہوئے کہنے لگا۔
گڈ مارننگ مسٹر احان!
وہ نیم بیدار آنکھوں سے احان کو دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی۔
اسے مسکراتا دیکھ کے احان کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی جو چند ہی سیکنڈ میں غائب ہوگئی۔
چلیں، میں فریش ہونے جارہا ہوں، آپ بھی اٹھ جائیں تب تک۔
مسٹر احان! آپکی آنکھیں اتنی سوجی ہوئی کیوں ہیں؟ اتنی سرخ ہورہی ہیں۔ کیا ہوا؟ کیا آپ ساری رات سوئے نہیں؟
وہ اٹھ کے سیدھی ہو بیٹھی اور فکرمندی سے پوچھنے لگی۔
کچھ نہیں ہوا، بس نیند نہیں آئی مجھے تو اسی وجہ سے، خیر چھوڑیں یہ بات، میں فریش ہوکے آتا ہوں۔
وہ بات بدلتے آئلہ کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہتے فریش ہونے چلا گیا۔
مسٹر احان! آئی نو آپ کیوں نہیں سوئے رات بھر۔
وہ سر جھکاتے اداسی سے بولی تھی۔
چلیں ہنی، جلدی سے فریش ہوکے آجائیں آپ پھر کہیں لے کے جانا ہے آپکو؟
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے پرفیوم لگاتے کہہ رہا تھا۔
کیا میں سکول نہیں جاوں گی ؟ “ہاہو!” آج سکول کی چھٹی ہے۔ میں ابھی فریش ہوکے آتی ہوں۔
وہ خوشی سے اچھلتے بیڈ سے اتری اور باتھ روم میں گھس گئی۔ احان کے لبوں پہ پھیکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
کچھ ہی دیر میں وہ تیار ہوکے احان کے سامنے کھڑی تھی۔ بلیک کلر کا لانگ فراک پہنے ، بالوں کی اونچی سی پونی بنائے ، لبوں پہ دلفریب سی مسکراہٹ سجائے وہ بے حد معصوم سی لگ رہی تھی۔ احان کی نظریں اس پہ ٹکی ہوئیں تھیں۔
چلیں اب؟mr.psycho part 48
وہ احان کا بازو پکڑتے بولی تو احان خیالوں سے باہر نکلا۔
جی چلیں۔
وہ اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے روم سے باہر نکلا۔ گھر سے نکلتے وہ کار میں جا بیٹھے اور احان کار اسٹارٹ کرتے ڈرائیو کرنے لگا ۔
مسٹر احان، ہم جا کہاں رہے ہیں؟ ہم نے بریک فاسٹ بھی نہیں کیا، کیا ہم جہاں جارہے ہیں وہی پہ ہی ناشتہ کریں گے؟
وہ احان کی طرف رخ کرتے چہکتے ہوئے بولنے لگی ۔
جی ہنی۔
اس نے مختصر سا جواب دیا۔
مسٹر احان، کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ آپ غصہ تو نہیں ہیں نا؟ میرا مطلب کہ۔۔۔۔وہ کل رات میں نے بہت بولا تھا نا، ایسے ہی کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا میں نے، آپکو برا لگا ہوگا نا، مجھے اس وقت تو پتہ نہیں لگا لیکن اب کافی گلٹی فیل کررہی ہوں میں، مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیئے تھا، میں بہت سلی ہوں ایسے ہی کسی کی بھی باتوں میں آجاتی ہوں۔ ایک بار بھی نہیں سوچا کہ آپکو کیسا لگے گا۔
آپ نے بہت پیار سے سمجھایا تھا مجھے اور میری وہ باتیں سننے کے بعد ڈانٹا بھی نہیں تھا مجھے اور ابھی بھی آپ مجھے کہیں گھمانے کے لیے لے کے جارہے ہیں۔ آپ بہت زیادہ اچھے ہیں مسٹر احان۔
وہ بنا رکے بولتی چلی گئی۔ احان ڈرائیو کرتے اسکی باتیں سنتا رہا پر بولا کچھ نہیں۔
آئی ایم سوری جاناں! آٔئی لو یو، پلیز مجھ سے ناراض مت ہونا۔
وہ احان کے گال پہ پیار کرتے بے حد محبت سے بولی تھی۔
احان نے اسی وقت کار کو بریک لگائی تھی۔ آئلہ کے الفاظ اسے کمزور کررہے تھے اسکی باتیں، اسکی محبت سے احان کا دل پگھلنے لگا تھا۔ اگر اس وقت وہ کمزور پڑ جاتا تو شاید ہمیشہ کے لیے آئلہ کو کھو دیتا اسی لیے اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔
ہنی پلیز، آپ چپ کر کے بیٹھیں، مجھے ڈرائیو کرنے دیں، کچھ دیر میں ہم پہنچ جائیں گے پھر آرام سے باتیں کریں گے۔
وہ آئلہ کی طرف دیکھے بغیر ہی بولا اور کار اسٹارٹ کرتے ڈرائیو کرنے لگا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں آئلہ کی آنکھوں سے جھلکتی محبت اسکے چہرے کی معصومیت اسے اپنا ارادہ بدلنے پہ مجبور نہ کردے اور وہ اس بار اپنے کیے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا تھا۔
اوکے اوکے۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی۔ اور کار سے باہر کی طرف دیکھنے لگی۔
_______*************
یہ کیا ؟
وہ کار سے باہر نکلتے ہوئے حیرانگی سے بولی۔
کیا؟mr.psycho part 48
وہ بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
ہم پھر سے پرانے گھر میں کیوں آئے ہیں؟
وہ احان کی طرف دیکھتے کہنے لگی۔
کیونکہ یہاں ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا اس لیے۔ میں اپنی ہنی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔
احان آئلہ کا بازو پکڑے گھر میں داخل ہوتے بولا۔
لیکن مسٹر احان۔۔۔
وہ بولتے بولتے رکی تھی۔
لیکن کیا جانم؟ کتنے دن ہو گئے ہم سہی سے وقت ہی نہیں گزار پارہے ایک دوسرے کے ساتھ، یہاں بس ہم دو ہونگے آرام سے بہت ساری باتیں کریں گے۔
وہ آئلہ کو لیے روم میں انٹر ہوا اور روم لاک کردیا۔
کتنی دیر کے لیے رکیں گے ہم یہاں؟
وہ بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھنے لگی اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھے جوس کو اٹھا کے پینے لگی۔
جب تک میرا دل چاہے گا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا جبکہ چہرے سے سنجیدگی واضح ہورہی تھی۔
کیا مطلب؟mr.psycho part 48
وہ نہ سمجھتے ہوئے بولی۔
آپکو یقین ہے نا مجھ پہ؟
وہ آئلہ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
ہاں، مجھے یقین ہے آپ پہ۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
وہ خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہنے لگی۔
آپکو یاد ہے نا آپ نے کیا کہا تھا مجھ سے، آپ نے کہا تھا کہ آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی، مجھ سے محبت کرتی رہیں گی چاہے کچھ بھی ہوجائے آپ کبھی بھی مجھے چھوڑ کے نہیں جائیں گی۔
وہ آئلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اسکی آنکھوں میں جھانکتے کہہ رہا تھا۔
ہاں مجھے یاد ہے مسٹر احان۔ میں پیار کرتی ہوں نا آپ سے اور آپکے ساتھ ہی ہوں۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
اور میں کبھی آپ کو خود سے دور جانے بھی نہیں دونگا ہنی، کبھی بھی نہیں، اگر آپ مجھے چھوڑ کے جانا چاہیں گی نا تب بھی نہیں کیونکہ اپنا کیا وعدہ آپکو ہر حال میں نبھانا ہوگا جانم۔mr.psycho part 48
وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔ آئلہ کو اپنے ہاتھ پہ موجود احان کے ہاتھوں کی گرفت سخت ہوتے محسوس ہوئی تھی۔ اسکے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی اور چہرے پہ پریشانی و خوف کے سائے لہرانے لگے تھے۔
میں آپ سے جو بھی پوچھوں گا آپ نے سچ سچ جواب دینا ہے مجھے۔ ٹھیک ہے نا؟
وہ آئلہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے بولا۔
اب میں اچھا نہیں لگتا آپکو؟ دل نہیں چاہتا آپکا مجھ سے بات کرنے کو، مجھے دیکھنے کو ، میرے قریب آنے کو؟ مجھے چھوڑ کے جانا چاہتی ہیں نا آپ؟ اپنے مام، ڈیڈ کے پاس جانا چاہتی ہیں نا پھر کسی اپنے ایج فیلو سے ریلیشن شپ بنانا چاہتی ہیں؟ ایسا ہی ہے نا؟
وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ آئلہ کا چہرہ خوف سے زرد پڑنے لگا تھا۔
ڈریں نہیں ہنی، میں کچھ نہیں کہوں گا آپکو، بتائیں مجھے۔
وہ آئلہ کے ماتھے پہ نرمی سے پیار کرتے کہنے لگا۔
نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں آپ سے ہی پیار کرتی ہوں۔mr.psycho part 48
وہ ڈرتے ڈرتے بولی تھی۔
اوکے۔
وہ مسکراتے ہوئے آئلہ کے دونوں گالوں پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے بول رہا تھا۔
چلیں، آپ یہ چینج کر کے آئیں جانم، تب تک میں آتا ہوں۔mr.psycho part 48
وہ بیڈ کی سائیڈ پہ رکھے ٹی شرٹ، ٹراؤذر کی طرف اشارہ کرتے بولا۔
یہ کیوں؟ مسٹر احان، مجھے عجیب لگ رہا ہے۔ چلیں ہم واپس چلتے ہیں۔
وہ احان کا بازو پکڑتے ہوئے رونی شکل بناتے کہنے لگی۔
ہنی! ہم واپس نہیں جارہے ، میرا مطلب ابھی نہیں جارہے، آپ یہ چینج کر کے آئیں اور میرا ویٹ کریں، میں ابھی آتا ہوں۔
وہ ٹی شرٹ و ٹراوذر آئلہ کو پکڑاتے اسے ڈریسنگ روم میں بھیجتے ہوئے بولا۔
آئلہ کو ڈریسنگ روم میں بھیج کے وہ روم سے باہر نکلا اور روم کو باہر سے لاک کرتے لاؤنج کی طرف بڑھ گیا۔
یہ میں کیا کررہا ہوں؟ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔mr.psycho part 48
لیکن اگر ایسا نہیں کیا تو وہ مجھے چھوڑ کے چلی جائے گی۔ وہ مجھ سے دور ہو جائے گی۔ میں اسے کبھی دیکھ نہیں پاؤں گا نہ چھو پاؤں گا نہ اسکی باتیں سن پاوں گا نہ اسکی ہنسی، اسکی شرارتیں، اسکی محبت، اسکا غصہ، اسکی بچوں جیسی ناراضگی میں اس سب سے محروم ہو جاؤں گا۔
نہیں! میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگا۔ کوئی بات نہیں وہ مجھ سے نفرت کرے گی نا مجھ سے ناراض ہوگی زیادہ سے زیادہ مارے گی مجھے، میں سب سہہ لوں گا سب سہہ لوں گا لیکن اسکی جدائی نہیں سہہ پاؤں گا۔
کم سے کم میری جانم میرے سامنے تو رہیں گی، میری آنکھوں کے سامنے، میں آپکی ناراضگی ختم کر دونگا ہنی، میں آپکو سمجھانے کی پوری کوشش کرونگا۔ مجھے امید ہے آپ سمجھ جائیں گی اور مجھے معاف کردیں گی۔mr.psycho part 48
وہ صوفے پہ پیچھے کو سر ٹکائے دونوں ہاتھوں سے بال نوچتے بول رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو نکلتے اسکے گالوں پہ پھسلنے لگے تھے۔
وہ اٹھا اور گھر سے نکلتے اپنی کار میں بیٹھتے ڈرائیو کرنے لگا۔ بار بار آئلہ کا چہرہ اسکے نظروں کے سامنے آرہا تھا۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ پر وہ خود پہ قابو پائے ڈرائیو کیے جارہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اپنے آفس پہنچ چکا تھا۔
ایک گہری سانس لیتے وہ کار سے باہر نکلا اور آفس میں داخل ہو گیا۔
mr.psycho part 48

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.