man, woman, dog-2425121.jpg

written by barbie boo

قسط____49
اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو تم احان؟
رمیز نے احان کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ وہ جب سے آفس آیا تھا بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا بار بار اپنا فون چیک کر رہا تھا رمیز نے نوٹ کیا تو اس سے پوچھے بغیر رہا نہ گیا۔
بس کچھ خاص نہیں ایسے ہی۔Mr.PSYCHO PART 49
احان نے اپنے ماتھے پہ ابھرتے پسینے کے قطروں کو ہتھیلی سے صاف کرتے ہوئے ایک سرد آہ بھرتے کہا۔
تم بہت پریشان لگ رہے ہو آخر بتاؤ تو سہی کیا ہوا ہے ؟سب ٹھیک تو ہے نا؟ آئلہ ٹھیک ہے ؟ تم دونوں کی لڑائی وغیرہ تو نہیں ہوئی نا بتاؤں تو مجھے بہت فکر ہو رہی ہے یار۔
رمیز نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔
احان کے چہرے سے پریشانی واضح ہو رہی تھی اس کو بھی بہت فکر لاحق ہو رہی تھی اس لیے اس نے دوبارہ سے پوچھا کہ شاید احان بتا دے۔Mr.PSYCHO PART 49
آئلہ کی وجہ سے بہت پریشان ہوں میں۔ وہ مجھے چھوڑ کے جانا چاہتی ہے۔ میں اسے روم میں لاک کر کے آیا ہوں۔بہت فکر ہو رہی ہے مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا میں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا کہ ایسا کچھ کروں گا۔
احان نے اپنی شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھولتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب ہے؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ۔ کیوں چھوڑ کے جانا چاہتی ہے؟ اس طرح اچانک سے! کیا کوئی بات ہوئی ہے؟ کوئی مسئلہ ہے ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کچھ ہوا تو ہوگانا۔ تم نے پوچھا اسے کہ وہ کیوں جانا چاہتی ہے؟
احان کی بات سن کے رمیز نے ایک ہی سانس میں سب کچھ بول ڈالا۔ اسے واقعی حیرت ہوئی تھی اس طرح اچانک سے آئلہ کے چھوڑ کے جانے کا سن کے۔ وہ پہلے ہی بہت پریشان ہو رہا تھا اسے آئلہ کی فکر ہو رہی تھی جب اس نے دیکھا کہ احان کا رویہ بدلا ہوا ہے اور آئلہ بھی کچھ پریشان ہے اب اس کا شک یقین میں بدلنے لگا تھا۔
یہ سب اچانک سے نہیں ہوا میں نوٹ کررہا تھا وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی جب سے وہ سکول جانے لگی تب سے کافی عجیب سی باتیں کرنے لگی تھی۔ اسے ہماری عمر کا فرق بہت زیادہ محسوس ہونے لگا وہ مجھ سے بیزار ہو چکی ہے اس کا دل نہیں چاہتا میری شکل دیکھنے کو۔ مجھ سے بات کرنے کو۔ وہ اپنی واپس زندگی میں جانا چاہتی ہے اپنے مام، ڈیڈ کے پاس۔ وہ اپنی عمر کے لڑکے کے ساتھ ہی شادی کر کے زندگی گزارنا چاہتی ہے ۔
اس نے کہا ہے کہ وہ خود کو قید محسوس کرتی ہے میرے ساتھ۔ مطلب کہ میں نے اسے قید کر کے رکھا ہوا ہے اسے لگتا ہے کہ میں اس سے پیار نہیں کرتا بلکہ اس پہ پابندیاں لگاتا ہوں اسے تنگ کرتا ہوں وہ ایسا سوچنے لگی ہے میرے بارے میں۔
میں بہت حیران ہوں میں نے یہ سب اس لیے تو نہیں گیا تھا کہ وہ ایک دن یوں مجھے چھوڑ کے چلی جائے ایسا بہت کچھ ہے جو تم نہیں جانتے جو میں نے کسی کو نہیں بتایا لیکن پتہ نہیں کیوں لگتا ہے جیسے اب وقت آگیا ہے سب کچھ بتانے کا۔
میں نے سب کچھ کھو کے اسے پایا ہے میں اسے جانے نہیں دے سکتا مجھے لگا کہ شاید میری محبت میری توجہ پا کے وہ میری ہو جائے گی۔ میں نے اس کا بہت خیال رکھا اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی لیکن پھر بھی اس کی باتیں سن کے ایسا لگا جیسے اسکے لیے میری محبت میری چاہت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اسکا دم گھٹتا ہے میرے گھر میں۔ وہ گھٹن محسوس کرتی ہے میرے آس پاس اب۔Mr.PSYCHO PART 49
احان نے بے چینی سے اپنے بال نوچتے ہوئے کہا۔ وہ بے حد پریشان لگ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے بے چینی سے وہ ادھر ٹہلنے لگا۔ رمیز حیرت و پریشانی سے اسے دیکھنے لگا۔
یہ سب تم کہہ رہے ہو؟ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا اچانک سے اتنا سب کیسے ہوگیا ؟ کچھ ہوا ہوگا تم نے ضرور اسے کچھ کہا ہو گا ایسے تو اچانک سے جانے کا فیصلہ نہیں کرسکتی وہ۔Mr.PSYCHO PART 49
رمیز ابھی بھی حیرت میں ڈوبا اس سے پوچھ رہا تھا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا اسے احان پر شک ہورہا تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ ضرور احان نے کچھ کہا ہو گا ورنہ آئلہ کیوں ایسے اچانک یہاں سے چلے جانے کا فیصلہ کرے گی۔
تم مجھ پر شک کر رہے ہو ؟ تم نہیں جانتے کیا کہ میں نے کیا کچھ نہیں کیا اسکے لیے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں میں نے کتناخیال رکھا اس کا۔ اسے کسی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اور تمہیں لگتا ہے کہ میں نے اس پہ کوئی ظلم یا زیادتی کی ہے جو وہ مجھے چھوڑ کے جانا چاہتی ہے ۔ مجھے بے حد افسوس ہے بہت دکھ ہے جو بھی ہو جائے میں نے اسے پیار سے سمجھایا کافی دیر سے سمجھا رہا ہوں اسے ۔ مجھے لگا کہ شاید وہ سمجھ جائے گی پر نہیں وہ تو ضدی ہے بہت ہی ضدی ہے وہ ۔اس کی ضد کے آگے میں گھٹنے نہیں ٹیک سکتا وہ نہیں جانتی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے بہت معصوم بہت نادان ہے وہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے آب مجھے زبردستی کرنی پڑے گی۔Mr.PSYCHO PART 49
وہ نہیں جانتی کہ اس کے بھلے کے لیے ہی ہے یہ سب اس کے لیے ہی کر رہا اس کی حفاظت کرنے کے لئے۔ میں نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے پر وہ نہیں سمجھ رہی اب نہیں سمجھنا چاہتی تو نہ سمجھے لیکن اس کی ضد و نادانی کے آگے میں اسے کسی خطرے میں نہیں ڈال سکتا ۔
میرے کمرے میں لاک کر کے آیا ہوں ہنی کو ۔امید ہے کہ سمجھ جائے گی کہ میری بات نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ امید کرتا ہوں اپنی ضد چھوڑ دے گی ۔
احان نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے اسے بتایا ۔ رمیز کو جیسے جھٹکا سا لگا تھا احان آئلہ کو روم میں لاک کرکے آیا ہے یہ بات سن کے ہی رمیز کا دل ڈوبنے لگا تھا ۔
تم آئلہ کو کمرے میں بند کر کے آئے ہو ؟
رمیز کا ذہن اس ایک بات پہ اٹک گیا تھا وہ آئلہ کو کمرے میں بند کرکے آیا ہے یہ سننے کے بعد اس نے آگے سنا ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ۔وہ حیرت سے اسکو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہوں کہ اس نے جو سنا وہ سچ تھا ۔
ہاں صحیح سنا تم نے یہی سچ ہے ۔میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا کیا کرتا میں ؟ تم جانتے ہو نا کہ کتنی نہ سمجھ، کتنی ضدی ہے کتنی نادان ہے میری جانم ۔ میں اسے خود سے دور نہیں جانے دے سکتا ۔اسے اپنے پاس رکھنے کے لئے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں ۔اگر پیار سے نہیں مانے گی تو نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے زبردستی تو کرنی پڑے گی نہ ۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے تمہارے پاس تو بتاؤ مجھے ۔
احسان نے پانی کا گلاس اٹھاتے دو گھونٹ بھرے اور رمیز کو دیکھتے ہوئے کہن لگا ۔
آف کورس اور بہت راستے ہیں یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے جو تم نے کیا ہے ۔ تم اسے سب کچھ سچ سچ کیوں نہیں بتا دیتے ؟ جو بھی بات ہے جو بھی مسئلہ ہے جو بھی سچائی ہے اسے بتا دو ۔ اور ایسی کون سی بات ہے جو میں بھی نہیں جانتا جو تم نے صرف خود تک رکھی ہوئی ہے بتاؤ مجھے کیا راز ہے کیا بات ہے ؟ آخر ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ بولو ایحان ۔
وہ احان کے بازو کو جھنجھوڑتے ہوئے چیخا تھا۔
______********_____Mr.PSYCHO PART 49
کتنی دیر ہوگئی ہے ابھی تک مسٹر احان نہیں آئے ۔
پتہ نہیں کہاں چلے گئے ہیں ۔ بتایا بھی نہیں۔
انہوں نے تو کہا تھا کہ میں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گا لیکن کافی دیر ہوگئی ہے ابھی تک نہیں آئے ۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوچے جا رہی تھی ۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس کو اٹھاتے اس نے پانی پیا ، گلاس واپس رکھا اور بیڈ سے اتر تے دروازے کی طرف بڑھی ۔
دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ نہ کھلا ۔
دروازہ کیوں نہیں کھل رہا ۔ یہ کیا کسی نے باہر سے لاک کردیا ہے دروازہ ۔ ہیلو کوئی ہے ؟ مسٹر احان؟ ہیلو ؟ کوئی ہے باہر؟ پلیز دروازہ کھولو! کوئی میری آواز سن رہا ہے؟ دروازہ کھولو، دروازہ باہر سے لاک ہوگیا ۔
یہ سب کیا ھو رہا ھے مسٹر احان کہاں چلے گئے ؟ کسی نے باہر سے دروازے بند کر دیاہے۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔
میرا فون، فون کہاں ہے میرا؟ فون کیوں نہیں مل رہا ؟
وہ ڈر کے مارے کپکپاتے ہوئے کمرے میں اپنے فون کو ڈھونڈنے لگی ۔ پورا کمرہ چھان مارا لیکن اسے فون نہ ملا ۔ ڈر کے مارے اسے پسینہ آنے لگا تھا ۔ اس کی۔سانس پھولنے لگی ۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں ۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا ہو رہا تھا۔
وہ روتے ہوئے بیڈ پہ جا کے اوندھے منہ لیٹ گئی۔
مسٹر احان! کہاں چلے گئے آپ؟ مجھے بہت ڈر لگ رہاہے۔میرا فون بھی اپنے ساتھ لے گئے آپ۔ گھر میں تو اور کوئی نہیں تھا تو پھر دروازہ بند کس نے کیاہوگا مطلب مسٹر احان۔۔۔۔۔ لیکن کیوں؟ مجھے اس طرح کمرے میں بند کر کے کیوں گئے ہیں؟ 
وہ زور و قطار رونے لگی۔
_____*******______Mr.PSYCHO PART 49
میں آئلہ کو واپس نہیں بھیج سکتا کیونکہ اسکے ڈیڈ اسے وہاں آنے ہی نہیں دیں گے۔
وہ ۔۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ۔۔۔ انہوں نے ایک بہت بڑی ڈیل کے بدلے آئلہ کو میرے حوالے کیا تھا۔
احان نے رمیز سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
ڈیل کے بدلے؟ تم کہنا کیاچاہتے ہو آخر احان؟ امید ہے جو مجھے سمجھ آیا ہے وہ میری غلط فہمی ہوگی۔ بتاؤ مجھے۔
رمیز احان کے روبرو ہوتے ہوئے حیرانگی سے اسے تکنے لگا۔ احان صوفے پہ جا بیٹھا۔ 
جو تم سمجھ رہے ہو ایسا ہی ہے۔ 
احان نے سپاٹ سے لہجے میں کہا۔ 
تم نے ڈیل کی تھی؟ مطلب تم نے خریدا ہے اسے؟ ہونہہ؟ یہ کہنا چاہتے ہو تم؟ 
رمیز غم و غصے کی کیفیت میں کہنے لگا۔ 
میں نے تو سب ہنی کو بچانے کے لیے کیا تھا یہ ورنہ اسکے ڈیڈ کہیں اور کسی اور کے پاس بھیج دیتے اسے۔ 
احان نے صوفے کو پیچھے کی طرف سرٹکاتے کہا۔
کتنے پیسے دیے تھے تم نے اسکے ڈیڈ کو؟ Mr.PSYCHO PART 49
رمیز نے حقارت سے کہا تو احان نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔
میری نیت صاف تھی۔ میں نے صرف اسے بچانے کے لیے کیا تھا یہ وہ تو بعد میں اسکی معصومیت اسکی شرارتوں سے مجھے پیار ہونے لگا اور میں اسے اپنا دل دے بیٹھا۔ میری محبت سچی ہے رمیز اور اس بات کا یقین دلانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔
وہ نم آنکھوں سے بولا۔Mr.PSYCHO PART 49
یار! تم اسے کمرے میں بند کر کے آگئے اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہاری بات سمجھے گی۔ 
اگر اس نے خود کو کوئی نقصان پہنچا دیا تو۔ ایک بار اس بارے میں سوچا؟
وہ احان کے برابر صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، کمرے میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے وہ خود کو کوئی نقصان پہنچا سکے اور ویسے بھی وہ ایسا نہیں کرے گی۔
تو تم نے بہت احتیاط برتی ہے مطلب تاکہ وہ ہرٹ نہ کرے خود کو۔
پھر اسکے سینے سے اسکا دل بھی نکال لینا کیونکہ اب جب تمہاری سچائی جان کے اسکا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگا تو ہر ٹکڑا اسے زخمی کردے گا اتنا زخمی کہ پھر تم بھی اسکے زخم نہیں بھر پاؤ گے۔ 
کیا کروگے پھر تم؟ اسکے کتنے زخموں پہ مرہم لگاؤ گے؟
تم خود اسے توڑنا چاہتے ہو اور پھر خود ہی اسے جوڑو گے۔ اتنی اذیت پہنچانی ضروری ہے کیا؟ 
کیا سیدھی سیدھی صاف صاف بات نہیں ہو سکتی؟ 
اگر تمہیں واقعی اس سے محبت ہے تو جاؤ اسے سب بتا دو، ہر بات ہر ایک بات جو تم نے اس سے چھپا رکھی ہے۔ پھر دیکھو کہ وہ کیا کرتی ہے اگر وہ سچ میں تم سے محبت کرتی ہوگی تو سچ جاننے کے بعد بھی وہ تمہیں چھوڑ کے نہیں جائے گی۔
میرا یقین کرو احان، ہر بار زور زبردستی نہیں چلتی، محبت سے بھی بات کی جا سکتی ہے، منوائی جا سکتی ہے۔ تم محبت سے سمجھاؤ اسے۔Mr.PSYCHO PART 49
رمیز نے احان کی طرف دیکھتے کہا۔
میں ایسا نہیں کر سکتا اور کوئی حل ہے تو بتاؤ مجھے۔
وہ پہلے ہی مجھ سے بیزار ہو چکی ہے اور اگر یہ سب پتہ لگا اسے تو شاید وہ سچ میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی۔ 
احان نے گردن پہ ہاتھ پھیرتے کہا۔
اور کوئی راستہ نہیں ہے۔تمہیں آئلہ کو سارا سچ بتانا ہی ہوگا۔
رمیز نے دو ٹوک انداذ میں کہا تو احان اسے دیکھنے لگا۔
نہ بتاؤں تو؟ 
احان نے کندھے اچکائے ۔
تو پھر میں جاکے اسے سب کچھ بتا دوں گا۔ ایک ایک بات، ہر چیز اور پھر جو ہوگا تمہیں اس کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
رمیز نے سنجیدگی سے کہا۔Mr.PSYCHO PART 49
تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟ تم جانتے ہو کہ یہ سب جان کے وہ بہت دکھی ہو گی، میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔
وہ نم آنکھوں سے رمیز کی طرف دیکھنے لگا۔
احان! احان! تم کیوں نہیں سمجھ رہے آخر؟ تم جتنا وقت لو گے اسے سچ بتانے میں اسے اتنی ہی زیادہ تکلیف ہوگی یار۔ 
آج سہی موقع ہے تم جا کے اسے سب کچھ بتادو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اکیلے نہیں ہو، ہم دونوں مل کے اسے سمجھائیں گے تو وہ سمجھ جائے گی۔ 
لیکن پہلے اسے بتاؤ تو سہی۔ اسکے بعد جو بھی ہوگا ہم سنبھال لیں گے ۔ آئلہ کی مرضی اسکی فیصلہ جاننا بہت اہم ہے۔ جاؤ، اسکے پاس جاؤ تم۔Mr.PSYCHO PART 49
وہ احان کے گال تھپتھپاتے ہوئے سمجھارہا تھا۔
اگر یہ سب جان کے اس نے مجھ سے دور جانے کا فیصلہ کیا تو؟ پھر کیا کروں گا میں؟ 
کیا تم مجھے گارنٹی دے سکتے ہو کہ تم اسے مجھ سے دور نہیں جانے دو گے۔ بولو، میں ایک ایک بات اسے بتا دوں گا سارے راز سارے سچ سب کچھ۔ Mr.PSYCHO PART 49
تم مجھ سے وعدہ کرو کہ اسے یہاں سے جانے نہیں دو گے۔
وہ رمیز کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ 
اگر تم اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کروگے تو میں وعدہ کرتا ہوں میں اسے سمجھاؤں گا اور وہ تمہیں چھوڑ کے کہیں نہیں جائے گی۔ 
رمیز نے پر اعتماد لہجے میں کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ 
چلو اب جاؤ تم اور جا کے بات کرو اس سے۔ اگر ضرورت پڑے تو مجھے کال کر لینا ورنہ میں صبح ملنے آؤں گا تم سے۔ اپنی محبت کو ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے احان اب پیچھے نہیں ہٹنا بس۔
رمیز نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ چہرے پہ پریشانی چھائی ہوئی تھی۔ 
ٹھیک ہے میں جارہا ہوں۔Mr.PSYCHO PART 49
احان روم سے باہر نکلتے آفس سے باہر چلا گیا۔ رمیز صوفے پہ بیٹھتے ہوئے اپنا سر پیچھے کو ٹکاتے، آنکھیں بند کرکے لمبی لمبی سانسیں لیتے خود کو پر سکون کرنے لگا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

2 thoughts on “Mr.PSYCHO PART 49”

Leave a Reply

Your email address will not be published.