couple, love, romance-6491659.jpg

written by barbie boo

Mr.psycho part 54 & 55 This novel is based on age difference couple who fell in love with each other.

ناول___مسٹر سائیکو
رائیٹر____باربی بو
قسط____54,55
ہاں میں پاگل ہونے لگتا ہوں آپ سے دور جانے کا سوچ کیا ہے ۔
وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا ۔
زیادہ قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے شاید آپ بھول گئے کہ میں آپ سے ناراض ہوں ابھی مانی نہیں ہوں میں، تو دور ہی رہیں تو بہتر ہے ۔
وہ احان کو دور ہٹاتےہوئے بولی تو احان کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ ناراض ہیں میری جانم۔ اور آپ کو کیسے منانا ہے وہ بھی جانتا ہوں میں ۔
وہ آئلہ کی کمر کو اپنی باہوں کے حصار میں لیتے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔
کیسے منانا ہے ؟
وہ اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی ۔
یہ تو ایک راز ہے کچھ دیر میں کھل جائے گا پھر آپ جان جائیں گے ۔
وہ اس کی کمر پہ گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کی کان کی لو پر ہلکے سے بات کرتے ہوئے مدہوشی کے عالم میں بولا ۔
اس کے لمس کی تپش محسوس کرتے اس کے بدن میں سنسناہٹ ہوئی تھی ۔وہ اس کے بازوں کو اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔
چھوڑیں مجھے میں ناراض ہوں آپ سے ۔
وہ منہ بناتے ہوئے احان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
ہاں میں جانتا ہوں آپ مجھ سے ناراض ہے تو میں بھی تو بس آپ کو منانے کی تھوڑی سی کوشش کر رہا ہوں ۔
اب اتنا ناراض مت ہو کہ مجھے اپنے قریب ہی نہ آنے دیں ویسے میرے خیال سے کافی ٹائم ہوگیا آپ کو پیار کے ہوئے ۔
آپ مس نہیں کرتی کیا مجھے ؟ میرا مطلب کہ میرے لمس کی تپش کو ؟
وہ آئلہ کی گال پہ اپنے ہونٹوں کو رگڑتے ہوئے سرگوشی کر رہا تھا ۔
مسٹر احان ۔
وہ ہلکی سی آواز میں اس کا نام پکارتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اوکے ٹھیک ہے کیونکہ ابھی آپ مجھ سے ناراض ہے تو اس لیے پہلے میں آپ کو مناؤں گا پھر ہم ڈھیر سارا پیار کریں گے ۔
وہ محبت سے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔
************
کہاں گے تھے آپ میں کب سے کھانا لے کر آئی ہوں اور آپ کا ویٹ کر رھی ہوں۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ سامنے ہی چکر کاٹتی دیکھائی دی۔۔
ٹیبل پر کھانا لگا کر شاید اس کا ویٹ کر رھی تھی۔۔۔
سوری ہنی، آپکے لیے ایک سرپرائز پلین کر رہا تھا اسی لیے تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ آپکی ناراضگی بھی تو ختم کرنی ہے نا۔ 
تو میں نے سوچا کہ کیونکہ آپکو پیرس لے جاؤں شاید آپ مان جائیں۔ وہاں کے حسین نظارے دیکھنے کے بعد شاید آپکا غصہ ختم ہو جائے۔
احان مسکراتے ہوئے بولا۔
ریئلی!؟ آپ سچ کہہ رہے ہیں؟
وہ خوشی سے اچھلتے ہوئے کہنے لگی۔
جی میری جان! سچ کہہ رہا ہوں۔
تھینک یو سو مچ مسٹر احان!
وہ بھاگ کر اس کے سینے سے لگی اور اپنی نازک بانہوں سے اس کی مضبوط کمر کو جکڑ لیا ۔۔
احان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے خود سے دور کیا۔۔
اب زیادہ رومینٹک مت ہو جائیں۔ یہ رومانس وہاں جا کے کریں گے۔
اس کی بات پر وہ منہ بسور کر رہ گئی۔۔۔
چلیں کھانا کھاتے ہیں۔
مجھے بھوک نہیں۔۔Mr.psycho part 54 & 55
نہیں مجھے نہیں کھانا، میں ناراض ہوں آپ سے۔
وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی۔ احان کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
اچھا تو پھر ناراض ہونے کے باوجود بھی آج پہلی بار میری ہنی نے میری لیے کھانا لگایا اور میرا ویٹ کر رہی تھی کیوں؟
وہ شرارت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
وہ تو بس۔۔۔میں بور ہورہی تھی تو سوچا کوئی کام کرلوں۔
اسکی بات سن کے احان اسکے بازو کو پکڑتے اسے اپنے سینے سے لگاتے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
آپکو بھوک نہیں لگ رہی تو ٹھیک ہے مت کھائیں کھانا لیکن مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اور میرا ارادہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آئلہ کے گال پہ ہلکے سے بائٹ کرتے مدہوش کن لہجے میں بولا۔
اوکے اوکے ، مجھے بھوک لگ رہی ہے میں کھانا کھا رھی ہوں آپ کا تو بس نہیں چلتا کہ مجھے ہی کھا جائیں۔۔
اس کی بات سن کر وہ دھیرے سے مسکرایا
بس تو چلتا ھے لیکن میں ابھی بس چلانا نہیں چاہتا ورنہ آپکے لئے مشکل ہو جائے گی۔۔۔
آئلہ کا منہ میں جاتا نوالہ رکا وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کو سر تا پیر سرخ ہو گئی۔
ہاہ! کیسی عجیب باتیں کرتے ہیں آپ۔
منہ سے ٹیرھے میڑھے زاویے بنا کہ اسکے منہ سے بس یہیں القاب نکلے۔۔۔
عجیب بن کر دیکھاؤں ؟؟؟؟
نہیں نہیں آپ کھانا کھائیں میں سونے لگی۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھی اور بیڈ پہ جاتے کمفرٹر اپنے اوپر تان لیا۔
احان کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔
کتنے طریقے ڈھونڈتی ہیں مجھ سے دور بھاگنے کے، چلیں کوئی نہیں جانم ابھی آتا ہوں میں آپکے پاس پھر دیکھتا ہوں کیسے دور ہوتی ہیں۔
وہ دانتوں تلے ہنسی دبائے اٹھا اور بیڈ کی طرف بڑھتے اسکے برابر میں لیٹ گیا۔ 
ہلکے سے اسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹاتے وہ اسے محبت سے دیکھنے لگا۔ وہ سو چکی تھی۔
کتنی جلدی نیند آجاتی ہے آپکو” ہنی بنی” میری چھوٹی سی زومبی کتنے دنوں سے ہم دور ہیں۔ ایک دوسرے کی قربت کو محسوس نہیں کر پارہے۔ 
فائنلی ساری مشکلیں اب آسان ہو چکی ہیں۔ طوفان آکے جا چکا ہے۔ اب ہمارے بیچ کوئی غلط فہمی کوئی دوری نہیں ہوگی۔ 
اب ایک پل بھی آپ سے دور نہیں رہوں گا میں۔ اب سے آپکا ہر ایک سیکنڈ میری محبت ، میری قربت ، میری چاہت کی شدتوں کی تپش میں گزرے گا۔
اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا وہ اس کے کانوں میں سرگوشیاں کر رھا تھا اور وہ ان سب سے انجان نیند کی وادیوں میں گم تھی۔۔۔
ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرا کر دھیرے سے اس کے گلابی لبوں کو اپنی لبوں میں جکڑا۔۔۔
اس کے لمس سے وہ جاگ تو چکی تھی مگر آنکھیں کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔
قطرہ قطرہ اس کی سانسیں اپنے سینے میں انڈیل کر اپنے اندر جلتی آگ کو مٹانے کی کوشش کر رہا تھا مگر طلب تھی کہ بڑھتی جا رھی تھی ۔۔۔Mr.psycho part 54 & 55
مزید اس کی کمر کو اپنے مضبوط بازؤں میں جکڑ کر اس کے لبوں پر گرفت اور سخت کی۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی برسوں کے پیاسے کو میٹھا سمندر مل گیا ہو جس سے وہ سیراب ہی نہیں ہورہا۔۔۔
اس کے گلابی لبوں کو اپنے شدتوں سے سرخ کر چکا تھا۔۔۔
وہ اس کے سینے پر لیٹی اس کی پناہوں میں کپکپا رھی تھی۔۔۔
اس کا کپکپانا اسے محسوس ہو رہا تھا مگر وہ خود کو روک نہیں پارہا تھا۔۔
کروٹ لے کر وہ اس کے اوپر آ چکا تھا۔۔۔
اس کے ہونٹوں کو چھوڑ کر اب اگلا نشانہ اس کی نازک صراحی دار گردن تھی۔۔۔
اپنی گردن پر اس کے دہکتے لبوں کا لمس محسوس کر کے اس کی جان ہوا ہو رھی تھی مگر وہ ظالم تھا کہ ظلم کر رہا تھا۔۔۔
اس کی لب اس کی شفاف گردن کا طواف کر رھے۔۔
وہ دھیرے دھیرے نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
زرا سا اوپر ہو کر اس کی شرٹ کے بٹن کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس کے بالوں میں انگلیاں الجھا کر اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں لیا اور اس کے لمس میں کھونے لگا۔۔۔
وہ اس کے سینے میں چھپ کر پناہ تلاش کر رھی تھی مگر وہ اس میں کھونے لگا تھا۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ جکڑ کر اس کے دل کے مقام پر لب رکھے تو وہ چلا اٹھی۔۔۔
مسٹر احان! Mr.psycho part 54 & 55
احان!
وہ اسکا نام لینے لگیا
مگر وہ ان سب سے بے خبر اس کے سینے پر شدتیں لٹا رہا تھا۔۔۔
وہ بھول گیا تھا ہر بار کی طرح اس بار بھی کہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ اس کو اپنے وجود پر برداشت کر سکے وہ بھول گیا تھا کہ وہ کتنی چھوٹی ھے ابھی یہ سب اس کے بس کی بات نہیں۔۔۔
اس کے پیٹ گردن سینے پر اپنی جنونیت کی نشان واضح دیکھ رہا تھا وہ۔۔
وہ آنکھیں بند کئے سسکیوں میں رو رھی تھی۔۔۔
شاید اس ظالم کو ترس آگیا اس پر جو اس کے وجود کو آزاد کر کے اس کے برابر میں لیٹ گیا۔۔۔۔
جانم! Mr.psycho part 54 & 55
اسکے گال پہ نرمی سے لبوں کا لمس چھوڑتے وہ بولا۔
آپ ہمیشہ میری نیند خراب کرتے ہیں۔
وہ گالوں سے آنسو صاف کرتے شکوہ کناں نظروں سے احان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
اور آپ بھی تو میری نیندیں اڑا کے میرے سینے سے لگ کے سو جاتی ہیں۔ اب آپکے اس نازک وجود کی نرمی مجھے بے چین کردیتی ھے تو اس میں میراکیا قصور ہے جانم۔ 
احان اسے اپنے بازو پر لٹا کر اس کی کمر سہلانے لگا۔۔۔
اپنے بازو احان کے سینے کے گرد لپیٹ کر اسکے سینے میں ہی منہ چھپایا۔۔۔
مسٹر احان!
ہوں۔۔۔۔
آپ بہت برے ھیں۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلا کر اسے پر سکون کر رہا تھا۔۔۔
مجھے پتا ھے۔۔۔بہت زیادہ برا ہوں میں، اب آپ آرام سے سوجائیں اس سے پہلے کہ برے والا مسٹر احان پھر سے جاگ جائے۔
وہ احان کو گھورنے لگی۔
آنسوؤں سے تر آنکھیں کھولے، پھولے سے گلابی گال جنہیں وہ اپنی مونچھوں سے سرخ کر چکا تھا سرخ ہوتی شفاف گردن پر گلابی نشان جنہیں دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرایا اور اسے اپنی بانہوں میں سمیٹا۔۔۔
سو جائیں جانم ورنہ پھر سے مجھے کچھ ہونے لگ جانا۔
اسکی بات سنتے وہ منہ بناتے اس کی ہانہوں میں چھپ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
************Mr.psycho part 54 & 55
صبح اپنے اوپر بوجھ کو محسوس کر کے اسکی آنکھ کھلی تھی
اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا ۔ احان اسے مکمل اپنے حصار میں لئے بڑے آرام سے اسکے سینے پہ سر رکھے سو رہا تھا
نیند میں بھی اسکی پکڑ آئلہ پر مضبوط تھی جیسے اسے نیند میں بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ اسکو چھوڑ کر نہ چلی جائے
آئلہ کتنے ہی لمحے بس اسکو دیکھتی رہی جو اس وقت سوتے ہوئے کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا۔
اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ احان اسکے لیے کتنا پاگل ہے۔ وہ کس طرح اسے منانے کے لیے اسکی منتیں کررہا تھا۔ رو رہا تھا اس سے معافیاں مانگ رہا تھا۔ اپنی غلطیاں مان کے وہ کوئی بھی سزا بھگتنے کے لیے تیار تھا۔
وہ واقعی آئلہ سے بے حد محبت کرتا تھا۔
وہ چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ لئے بہت محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی اپنی سوچوں میں گم تھی اس بات سے بےخبر کہ احان کی نظریں اسی کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔
“‘ اگر آپ اسی طرح میرے بالوں میں ہاتھ چلاتی رہی نہ تو مجھے رات والا وہ برا مسٹر احان بقول آپکے بننے میں دیر نہیں لگے گی “‘
اسکی خمار آلود آواز آئلہ کی سماعت سے ٹکرائی تو اس نے بے ساختہ نظر اٹھا کر احان کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں بے پناہ تپش لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا احان کے بالوں میں چلتا اسکا ہاتھ یکدم رک سا گیا تھا دھڑکنیں یکدم سے تیز ہوئیں تھیں۔
“‘ ویسے وہ اتنا برا بھی نہیں ہے جتنا آپکو لگتا ہے ہے نا؟ 
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا تھوڑا سا اوپر ہوا تھا اس وقت اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی کچھ نیند کا خمار تھا کچھ آئلہ کی قربت کا جو وہ رات بھر جاگ کر اسکے نرم وجود کو بانہوں میں سمیٹے اسکے لمس کی تپش محسوس کرتے اسکے بدن کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارتا رہا تھا۔Mr.psycho part 54 & 55
جبکہ اسکی بات اور اسکے خطرناک ارادے جان کر آئلہ نے گھبرا کر اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی مگر بےسود احان اسکی دونوں کلائیوں کو تھام کر اسکے چہرے پہ جھک گیا تھا
دونوں کے چہرے کے درمیاں کا فاصلہ انچ بھر کا تھا۔ہمیشہ کی طرح وہ اسکی قربت سے گھبرا رہی تھی
اس نے اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کی تو وہ اسکے چہرے پہ جھک کر باری باری اسکے گال چومنے لگا
اسکے لمس میں اتنی شدّت تھی کہ آئلہ بوگھلا گئی تھی
“‘ آپکی یہ گھبراہٹ مجھے مزید گستاخی کرنے پر اکسا رہی ہے ہمیشہ کی طرح”۔ 
وہ اسکے کان کی طرف جھک کر خمار بھری سرگوشی کرنے لگا اور اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر ہلکا سا دبایا۔ 
اسکے اس عمل پر آئلہ نے اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ احان آئلہ کے دل کی دھڑکنوں کو اچھے سے محسوس کر سکتا تھا اسکی خود کی دھڑکنیں بھی معمول سے زیادہ دھڑک رہی تھی
وہ آئلہ کی پھولی ہوئی سانسوں کی حدت اپنے ہونٹوں پہ کسی نرم گرم ہوا کی صورت میں محسوس کر رہا تھا
اسکی لرزتی پلکیں کپکپاتے گلابی لب شرم سے سرخ پڑتا چہرہ اسے پھر سے گستاخی کرنے پہ آمادہ کر رہا تھا
پتہ نہیں کیوں اتنی حسین ہیں آپ، خود پہ قابو رکھنا بالکل ناممکن ہے آپکے سامنے۔
وہ خمار آلودہ نگاہوں سے اسکی انکھوں میں جھانکتے ہوئے اسکے لبوں پر اپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا
مکمل اسکی قربت کے نشے میں چور وہ آہستہ آہستہ اسکی سانسوں کی خوشبو کو خود میں اتار رہا تھا
ایک ہاتھ سے آئلہ کے چہرے کو تھامے دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پہ اپنی گرفت سخت کرتا وہ مکمل اسکے وجود کو اپنے حصار میں لے چکا تھا
آئگہ کو لگ ریا تھا وہ شاید اسکے ہونٹوں کو آزادی نہیں دیگا مگر شاید اسے اس پر رحم آ گیا تھا وہ اس سے جدا ہوتا آئلہ کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑنے لگا
آئلہ کا سانس سینے میں ہی کہیں اٹک سا گیا تھا جب احان کے ہونٹوں کا لمس اسے اپنے سینے پر محسوس ہوا
مسٹر احان!Mr.psycho part 54 & 55
وہ اپنی بےترتیب سانسوں کے درمیاں اسے پکار اٹھی تھی وہ جو اسکی قربت میں مدہوش ہوا جا رہا تھا آئلہ کی کانپتی آواز پر اپنا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا
“جی جانم، بولیں۔”
وہ نرمی سے اسکے نچلے لب کو سہلاتا ہوا بولا اور گہری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا جو شرم کی وجہ سے اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت بغیر شرٹ کے تھا۔
“‘ مسٹر احان ۔۔۔۔ وہ۔ وہ۔ ۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ رات کو کھانا سہی طرح نہیں کھایا تھا نا تو اس لیے”‘
وہ اپنا نچلا لب دباتی بمشکل بول پائی تھی کیونکہ وہ اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا
“بھوک تو مجھے بھی بہت لگ رہی ہے اور بالکل بھی برداشت نہیں ہورہا۔ پہلے میں اتنی بھوک مٹا لوں پھر آپکو کچھ کھلاتا ہوں۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولتا اسکے اوپر سے کمفرٹر کو ہٹانے لگا۔
کیا مطلب؟ Mr.psycho part 54 & 55
وہ ناسمھجی سے اسکو دیکھتی ہوئی بولی جبکہ اسکی معصومیت پر احان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا
“‘ میری بھوک مٹانے کا ۔۔۔ مطلب یہ ہے”
وہ اسکے اوپر سے کمفرٹر کو مکمل ہٹا کر ایک بار پھر اسکے اوپر جھکا اور اپنے لب اسکی صراہی دار گردن پہ رکھ دئے تھے۔
وہ اسکی گردن پر جا بجا اپنا لمس چھوڑتا رات والے موڈ میں آ چکا تھا۔
اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر آئلہ نے اسکے چھوڑے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکے نازک ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیکر باری باری اسکی نازک انگلیوں کو چومنے لگا اور ساتھ ہی اسکی ایک انگلی کو اپنے منہ نے لیکر اتنی زور سے دبایا کہ آئلہ کے منہ سے کراہ سی نکلی تھی
“” آپ مجھے کھائیں گے کیا؟ “‘
وہ اپنی انگلی میں اٹھتی تکلیف کو محسوس کر کے اس بار اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی جبکہ اسکی بات پر احان سوالیہ نظروں سے اسکو دیکھنے لگا
جی جانم، میں آپکو کھانے والا ہوں آج۔ آپ بہت سویٹ ہیں اور مجھے سویٹ بہت پسند ہے۔
وہ اسکے اوپر جھکا دلچسپی سے اسکے چہرے کو دیکھتا اس سے کہہ رہا تھا
نہیں، مجھے مت کھائیں مجھے پین ہورہا ہے مسٹر احان۔
وہ اپنی انگلی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی جس پر احان کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
آپ جو مجھ سے دور بھاگتی رہتی ہیں۔ اپنی قربت کے لیے کتنا ترساتی ہیں مجھے تو کیا کروں میں اتنا تڑپائیں گی مجھے تو پھر ایسا ہی ہوگا نا جانم۔Mr.psycho part 54 & 55
اس بار وہ اسکی شہ رگ کو چومتا ایک بار پھر اسکے لبوں کو اپنا نشانہ بنا چکا تھا
‘مسٹر احان! اوکے میں اگین آپ سے دور نہیں بھاگوں گی اور آپکو بالکل بھی نہیں ترساؤں گی لیکن پلیز ابھی مجھے چھوڑیں بہت بھوک لگ رہی ہے۔
وہ اسکے لبوں پر جھکا اپنی تشنگی مٹانے لگا جب آئلہ کو اسکے ہاتھ اپنی شرٹ کے بٹنز کھولتے ہوئے محسوس ہوئے تو اس نے پھر سے احتجاج کیا جس پر وہ اسکی دونوں کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا اسکی کوششوں کو ناکام بنا چکا تھا
“جانم! بس تھوڑی دیر اور پھر بس”
وہ اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھتا پھر سے خود کو سیراب کرنے لگا اس وقت وہ اسکی سننے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا۔
آئلہ نے ایک دو بار پھر سے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی پکڑ اس پر سخت کرتا پھر سے اسکو روک چکا تھا اب آئلہ میں مزید ہمّت نہیں بچی تھی اسکو روکنے کی وہ خود کو اسکے سپرد کرکے اسکی شدتوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔
******************Mr.psycho part 54 & 55
رمیز! کتنی دیر سے ویٹ کررہی تھی آپکا۔ 
کہاں رہ گئے تھے آپ۔ دیکھو تو موسم کتنا پیارا ہورہا ہے۔
ابھی ابھی بارش رکی ہے۔ 
میں نے کافی انجوائے کیا بارش کو۔ آپ نے مس کردیا۔ 
خیر اگلی بار دونوں مل کے انجوائے کریں گے۔ بس آپ تھوڑا جلدی آجانا۔ 
آجکل کچھ زیادہ ہی بزی نہیں رہنے لگ گئے آفس میں۔ میں نظر نہیں آتی کیا آجکل؟
وہ اس کے آتے ہی دروازہ بند کر کہ نان اسٹاپ شروع ہو گئی۔ کافی دیر سے اسکا انتظار کررہی تھی اور وہ اب آیا تھا۔
شارٹ سلیو لس بھیگی فراک میں اس کا بھیگا سراپا بے حد خوبصورت معلوم ہو رہا تھا۔۔ اسکا بھیگا بدن رمیز کو بےتاب کر رہا تھا۔
“جی جی ڈانٹ لیں مجھے بیگم صاحبہ۔” لیکن اس وقت آپ مجھے بہکانے کے موڈ میں لگ رہی ہیں۔ شاید اسی لیے یہ بھیگے بھیگے سے کپڑے چینج کرنے کی بجائے آپ میری راہ تک رہی تھی۔
“رمیز نے قریب آ کر اپنا ایک ہاتھ اس کے پیٹ سے گزارتے ہوئے اس کی نازک کمر کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر سے گیلے بکھرے بال ہٹائے تھے۔Mr.psycho part 54 & 55
کیارا کی سانس یک دم مدھم ہوئ تھی “وہ میں بس چینج کرنے والی تھی کہ ڈور بیل بجی اور آپ آگئے۔
وہ رمیز کا دھیان بٹا رہی تھی کہ جب اسے رمیز کے لب اس کے برہنہ بازو پہ محسوس ہوئے۔
رمیز ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔چینج کر لیتی ہوں پھر چایے بنا دیتی ہوں آپکے لیے۔
اس نے ایک بار پھر بولا۔کیونکہ اسے اپنے دل کی رفتار بہت تیز معلوم ہو رہی تھی۔ 
“نہیں” یک لفظی جواب آیا ۔
“آپ کام کر کے تھک گئے ہونگے آرام کر لیں” 
کیارا کے اس طرح بوکھلانے پر اس کے بازو پہ رکھے لب مسکرائے تھے۔ 
“تھکن ہی اتار رہا ہوں ڈسٹرب نہیں کرو”
“مگر۔۔” وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی جب رمیز نے لمحے میں اس کا رخ اپنی جانب کیا اور اس کے کچھ بولتے لبوں کو ساکت کر دیا۔ اب رمیز کے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد حائل تھے اور لب اس کے لبوں کو بہت نرمی سے چوم رہے تھے۔
تقریبآ ایک منٹ گزرنے کے بعد رمیز نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید سے آزاد کیا اور وہ کھانستی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئ۔
“آئی لو یو کیارا” اس نے جھک کر کیارا کے کان کے قریب یہ الفاظ کہہ کر اسکے عریاں کندھے پہ اپنے لبوں سے اسکی نرماہٹ محسوس کی۔ کیارا نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا۔۔ اب رمیز کے ہاتھ کیارا کی کمر پر سرک رہے تھے۔ اس کی انگلیوں کا لمس اپنی کمر پہ محسوس کر کے کیارا نے اس کی شرٹ مزید مضبوطی سے جکڑ لی۔۔
“رمیز۔۔۔۔ آپ آفس سے تھکے ہارے آئے ہیں میں آپ کے لئے کھانا لگا دیتی ہوں” کیارا نے اس کے سینے سے لگے ہوئے ہی گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔۔Mr.psycho part 54 & 55
“یو نو نہ بےبی تم سے ذیادہ مزے کی ڈش دنیا میں اور کوئ نہیں” وہ کہتا ہوا اسے بانہوں میں بھرے بیڈروم میں لے گیا اور بہت نرمی کے ساتھ اسے بیڈ پر لٹا دیا۔ اب وہ اس کے کان کے قریب جھک کر کہہ رہا تھا۔
“ویٹ آ منٹ مائے بےبی” Mr.psycho part 54 & 55
اسے کہتے وہ اپنی شرٹ اتارنے لگا۔
تم بھی چینج کر لو یا میں کرواؤں؟
وہ جو اپنے آپ کو چھپانے کی جدوجہد کررہی تھی ۔ رمیز کی بات سنتے ہی تیزی سے اٹھی اور ڈریسنگ روم میں گھس گئی۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ باہر نکلی۔ رمیز نظر نہ آیا تو وہ جلدی سے بیڈ پہ جاتے کمفرٹر میں گھس گئی۔
رمیز واشروم سے باہر نکلا اور اسے کمفرٹر تانے دیکھ کے بیڈ کی طرف بڑھا۔
۔ “نہ نہ بےبی” وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا اور کمفرٹر کھینچ کر سائڈ پر کر دیا۔ اور اس پہ جھک کر اپنی تھکن اتارنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ اسکی محبت کی تپش میں پگھلنے لگی تھی۔*********

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.