love, couple, campfire-6328393.jpg
Episode16
مسٹر احان! کیا ہوا آپکو آنکھیں کھولیں۔
احان کو بے ہوش پڑے دیکھ کے وہ اسکے پاس بیٹھی اسکا ہاتھ تھامے روتے ہوئے بول رہی تھی۔
کوئی ہے؟ کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ۔۔۔۔ وہ روئے جارہی تھی۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔۔۔۔ اچانک رمیز کا خیال آیا تو فورا اسے کال کی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں رمیز ڈاکٹر کو لیے آچکا تھا۔
پتہ نہیں کیا ہوا ہے مسٹر احان کو۔۔۔۔۔۔گر گئے تھے۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ کیا ہوا۔۔۔
رمیز کو دیکھ کے بھاگ کے اسکے گلے لگتے وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی۔ رونے کی وجہ سے اسکی ناک بہت سرخ ہورہی تھی۔
آئلہ۔۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔۔پریشان نہ ہوں آپ۔۔۔۔ڈاکٹر چیک کررہا ہے نا۔۔۔۔ریلیکس۔
وہ اسے سنبھالتا اسکے گالوں پہ پھسلتے آنسوؤں کو صاف کرتے تسلی دے رہا تھا۔
روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی۔
یہاں آئیں۔ یہاں بیٹھیں آپ۔ یہ لیں پانی پیئں۔
وہ اسے کندھوں سے پکڑے ۔۔۔۔ صوفے پہ بٹھاتے۔۔۔پانی کا گلاس اسکے ہاتھ میں پکڑاتے بول رہا تھا۔
وہ گلاس پکڑے پانی پینے لگی۔
وہ اسکے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ نجانے یہ کیسی کشش تھی اسمیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی نظریں بار بار اسکے چہرے کا طواف کرنے لگتی تھی۔
کتنی پیاری ہے یہ۔۔۔۔واقعی اب سمجھ آرہا ہے کہ احان اتنا دیوانہ کیوں بنا پھر رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ کوئی اور خیال اسکے دل میں جاگتا۔۔۔ڈاکٹر کی آواز پہ وہ دوسری طرف مڑا تھا۔
کیا ہوا تھا؟ میرا بھائی ٹھیک تو ہے نا؟
رمیز فکرمندی سے کہنے لگا۔
جی۔۔۔پریشان نہ ہو أپ۔۔۔۔پینک اٹیک ہوا تھا انکو۔۔۔۔ آپ بس خیال رکھیں کہ کوئی سڑیس نہ لیں وہ۔۔۔
اوکے تھینک یو ڈاکٹر۔
رمیز ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑنے گیا۔ اور آئلہ روم میں جاتی احان کے بیڈ کی سائیڈ پہ بیٹھتے ہوئے ایک ہاتھ اسکے سینے پہ اور ایک اسکے ماتھے پہ رکھے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھے جارہی تھی۔
مسٹر احان! کیا ہوا ہے أپکو۔۔۔۔کتنے خوش تھے آپ۔۔۔پتہ نہیں اچانک کیا ہوا تھا۔
وہ اسکے چوڑے سینے کو ہاتھ سے سہلاتے سرگوشی کر رہی تھی۔۔۔۔
رمیز دروازے پہ کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ سمجھتا تھا کہ صرف احان ہی آئلہ سے محبت کرتا تھا۔۔پر اب اپنی آنکھوں سے آئلہ کو احان کے لیے روتے دیکھ کر اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ محبت یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ بن چکی تھی۔
دل میں کہیں ہلکی سی چبھن محسوس ہوئی تھی رمیز کو۔۔۔۔۔ خیالوں کو جھٹکتے وہ کمرے میں داخل ہوتے بیڈ کیطرف بڑھا تھا۔
ٹھیک ہے وہ۔۔۔۔۔فکر نہیں کرو۔ رمیز بیڈ کے قریب جاتے آئلہ کے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے بولا تھا۔
تھینک یو۔۔۔۔آپ آگئے۔۔۔۔میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔۔ وہ رمیز کا ہاتھ پکڑتے آنکھوں میں نمی لیے کہنے لگی۔
مجھے تو آنا ہی تھا۔۔۔۔میرا بھائی ہے یہ۔۔۔اور آپکو بھی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی بھی بات ہو بلا جھجک کسی بھی وقت آپ مجھے فون کر سکتی ہیں میں فورا آجاؤں گا۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے کہہ رہا تھا۔ اسکے دل میں کچھ عجیب سی فیلنگز جاگ رہی تھی۔۔ وہ نظریں آئلہ سی بجائے احان پہ ٹکائے ہوئے تھا۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ابھی آفس جانا ہے۔۔۔احان کو کچھ دیر میں ہوش آجائے گا۔۔۔آپ پریشان نہیں ہونا۔۔۔۔۔میں شام کو پھر سے آؤں گا۔۔۔۔کسی کی چیز کی ضرورت ہوتو مجھے فون کر دینا۔۔اور میں مالی بابا کہ کہہ کے جاؤں گا کہ وہ یہی پہ رہیں جب تک میں آنہ جاؤں۔۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ڈر تو نہیں لگے گا نا آپکو۔ جاؤں میں؟
وہ اسے تاکید کررہا تھا۔۔۔نجانے آخری بات کیا سوچ کے کہی تھی اس نے۔۔۔۔۔شاید یہ سوچتے کہ وہ رکنے کا کہے گی اسے یا پھر کچھ اور جو وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
جی ٹھیک ہے۔ وہ آہستہ سے کہتی احان کے سینے پہ ہاتھ رکھے پھر سے اسکی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
رمیز ایک نظر احان پہ اور ایک نظر آئلہ پہ ڈالتے ۔۔۔۔اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہأں سے نکلا تھا۔
آفس جانے کی بجائے اس نے گاڑی اپنے فلیٹ کیطرف بڑھائی تھی۔۔۔۔دل میں عجیب سی ہلچل ہورہی تھی۔۔۔۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔ فلیٹ میں داخل ہوتے۔۔۔ وہ تیزی سے باتھ روم کیطرف بڑھا تھا۔۔۔ کافی دیر ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد بھی اسے اپنے جسم سے ہلکی سی بھینی بھینی خوشبو آتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔وہ مرر میں خود کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔سانسیں تیز ہورہی تھی۔۔۔۔۔اور دل بے اختیار ہورہا تھا۔۔۔۔ باتھ ٹوول لپیٹے وہ باتھ روم سے باہر نکلا۔۔۔۔ماتھے پہ آئے بالوں کو ہٹاتے اسے یاد آیا کہ جب آئلہ اسکے گلے لگی تھی تو اسکے جسم سے یہ خوشبو آرہی تھی۔۔۔۔اسکا نرم لمس یاد آتے ہی اسکی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سنسناہٹ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اف او۔۔۔۔یہ کیسے خیال آرہے ہیں میری دماغ میں۔۔۔۔۔
وہ سر جھٹکتے دانت بھینچنے لگا تھا۔۔۔۔۔وہ صوفے پہ بیٹھا ہی تھا کہ ڈور نوک ہوا۔۔۔۔۔ اس وقت کون ہے؟
وہ منہ کے زاویے بگاڑتے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا تھا پر شاید کچھ اور ہی ہونے والا تھا۔
اس نے ڈور اوپن کرتے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔
وہ بھی اسے باتھ ٹوول میں دیکھ کے نظریں جھکا گئی تھی۔
اندر آجاؤ۔۔۔۔۔ کہتے ہوئے رمیز دروازے کے سامنے سے ہٹا۔۔۔۔وہ انٹر ہوئی تو رمیز نے ڈور لاک کیا۔ اور اسکی طرف متوجہ ہوا۔
__________*****______
Mr.psycho written by barbie boo
جاناں! وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی۔ کبھی اسکے چہرے کو دیکھتی کبھی اسکے ہاتھوں کو۔
پتہ نہیں کب ہوش میں آئیں گے مسٹر احان۔ کتنی دیر ہوگئی ہے۔
وہ اسکے گال پہ نرمی سے بوسہ دیتے سوچ رہی تھی۔
ایک گہری سانس لیتے احان کا ہاتھ اسکے سینے پہ رکھا اور وہ ڈریسنگ ٹیبل کیطرف بڑھی۔
مرر میں خود کو دیکھتے ہوئے وہ اداس ہوئی تھی۔۔۔۔ سرخ گالوں پہ آنسوؤں کے نشان واضح ہورہے تھے۔۔۔۔جھمکے اتارتے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھے اور پھر بالوں پہ لگی پنز بھی اتار دیں۔۔۔۔ واش روم جاکے فریش ہوئی اور باہر نکلی تو اپنے فراک پہ نظر پڑی۔۔۔۔۔۔فورا سے چینج کرتے اس نے لائٹ پرپل سلیو لیس شرٹ اور ٹراؤذر پہنی اور بیڈ پہ احان کے پاس بیٹھتے اسے دیکھنے لگی۔
کافی دیر اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔اور پھر اسکے سینے پہ سر رکھے اسکی بانہوں کے گرد اپنی بازؤں کو لپیٹتے وہ آنکھیں بند کر گئی۔
سینے پہ سانسوں کی گرماہٹ اور نرم لمس کا احساس احان کو جگا چکا تھا۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ۔ وہ اسکے سینے سے لگی اس میں سمٹی ہوئی تھی۔۔۔۔
ہنی!
آئلہ کی کمر پہ ہاتھ رکھتے وہ آہستہ سے بولا تھا۔
اسکے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی تو احان نے نرمی سے اسکی کمر کے گرد بازو کی گرفت بناتے کروٹ بدلی اور اسے سیدھا کرتے اسکا سر تکیے پہ رکھتے ہوئے اسکے چہرے اور ہونٹوں کو چھوتے بالوں کو ہٹایا تھا۔
بال کان کے پیچھے کرتے اس نے غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔جھمکے اور پنیں غائب تھیں۔۔۔۔کپڑے بھی تبدیل۔۔۔۔۔۔۔ احان کو افسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔وہ نیند میں تھی پھر بھی اداسی اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔
میری وجہ آج بہت پریشان ہونا پڑا آپکو۔۔۔۔۔۔آئی ایم سوری!
وہ اسکے گال پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے ہوئے اداسی سے کہہ رہا تھا۔
ایک بازو اس کے گرد حائل کرتے اپنا سر اسکے کندھے پہ ٹکاتے وہ آنکھیں بند کر چکا تھا۔
گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے وہ جاگی تھی۔۔۔احان کو اپنے قریب دیکھ کے کروٹ بدلتے اسکی طرف رخ کیا اور اسکے بازو پہ اپنا نازک سا ہاتھ رکھا۔Mr.psycho written by barbie boo
مسٹر احان! آپ جاگ گئے! آپ ٹھیک ہیں نا؟
وہ اسکا بازو سہلاتے فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
ٹھیک ہوں جانم۔۔۔ آپ سے کہا تھا نا میں نے۔۔۔۔جب تک آپ میرے پاس ہیں تب تک کچھ نہیں ہوسکتا مجھے۔۔۔۔۔ وہ آئلہ کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے کہنے لگا۔
میں بہت ڈر گئی تھی۔ اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری ہنی بنی بہت بریو ہے۔۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔ہے نا بریو؟
وہ اسکی پلکوں کو چھوتے پیار سے بول رہا تھا۔
ہممم۔۔۔۔پر پھر بھی بہت پریشان ہوگئی تھی میں۔
وہ اسکے سینے میں سمٹتے ہوئے کہنے لگی۔
میری جانم! اب ٹھیک ہے سب۔۔۔۔۔۔اب بے فکر ہو جائیں آپ۔ کچھ دیر ایسے ہی آپکے پاس رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی گردن میں منہ چھپائے اسے خود میں قید کر چکا تھا۔
ڈر تو میں گیا تھا۔۔۔۔بہت ڈر گیا تھا۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کوئی آپکو چھین کے لے جائے گا مجھ سے۔۔۔۔۔کیسے نکالوں اس خوف کو دل سے۔۔۔۔آپکے اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔دل بے چین ہورہا ہے ایسے جیسے بہت دور ہوں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ میں کس کشمکش کا شکار ہوں۔۔۔۔۔۔اس ڈر کو ختم کرنے کا مجھے کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈنا ہی ہوگا۔۔۔۔ایسے روز روز خوف سے نہیں جی سکتا میں۔
وہ اپنے خیالوں میں کھوئے۔۔۔سوچتے سوچتے سو گیا تھا۔
_________*******___________
Mr.psycho written by barbie boo
ہاں تو مس صنم! یہاں کیسے آنا ہوا؟ اور یہاں کا ایڈریس کیسے ملا أپکو؟
وہ بازوؤں کو سینے پہ لپیٹتے اسکی أنکھوں میں جھانکتے سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
رمیز کا یہ انداذ صنم کو اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔
چلیں شکر ہے آپکو میرا نام تو یاد ہے۔۔۔ورنہ میں تو یہی سوچ سوچ کے پریشان ہورہی تھی کہ کہیں آپ مجھے پہچاننے سے انکار ہی نہ کردیں۔
وہ شوخ لہجے میں بولی۔
اب آپ یہاں آنے کی وجہ بتائیں گی؟ زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔
وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا۔
ایسے ہی بس آپ سے ملنے آگئی تھی۔
رمیز کے لہجے کی تلخی محسوس کرتے ۔۔۔۔اسکے ہونٹوں پہ پھیلی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔
دیکھیں محترمہ! آپ نے میری مدد کی تھی اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپکا جب دل چاہے ایسے منہ اٹھا میرے فلیٹ میں آجائیں یا مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈیں۔۔۔۔۔مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔اور جو آپکا احسان ہے مجھ پر وہ بھی بہت جلد اتار دوں گا میں۔۔۔لیکن تب تک مہربانی کرکے آپ مجھ سے دور ہی رہیں اور دوبارہ یہاں مت آیے گا۔ پلیز جائیں اب۔
رمیز غصے سے کہتے ڈور اوپن کرتے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔ (دل کی بھڑاس کہیں نہ کہیں تو نکالنی ہی تھی اب صنم کی قسمت خراب تھی جو وہ اس پل یہاں آپہنچی تھی)
اتنی بےرخی دیکھ کے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔۔آنسو صاف کرتے تیزی سے اسکے فلیٹ سے نکلی تھی وہ۔۔
رمیز ڈور کلوز کرتے اپنے روم میں گیا اور تیار ہوکے پھر سے آفس کیطرف روانہ ہوچکا تھا۔
وہ جو رمیز کو باتھ ٹوول میں دیکھ کے بے اختیار ہوتے دل کو سنبھالے۔۔۔۔۔اسے محبت کی نظر سے دیکھتے خوش ہورہی تھی۔۔۔۔اگلے ہی پل اسکے لہجے کی کڑواہٹ سے اسکی خوشی ہوا ہوئی تھی۔۔۔۔ بے عزتی ہونے کے باوجود اسکا دل رمیز کو دیکھنے کی ضد کیے جارہا تھا اور وہ دل کے ارمانوں کو کچلتی اپنے فلیٹ میں واپس جاچکی تھی۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو! وہ کارپٹ پہ بیٹھی صوفے سے سر ٹکائےروتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
ہر کسی کو بس اپنے دل کی فکر ہوتی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے بس ہمارا دل نہ ٹوٹے۔۔۔۔۔چاہے اس ایک دل کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کئی اور دلوں کو بھی کیوں نہ توڑنا پڑے۔۔۔۔محبت میں خود غرض سے ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔۔دل ہوتا ہے جو ایک نہیں سنتا۔۔۔۔جو بس محبوب کی محبت کے سائے میں رہنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ایک بار بھی یہ خیال نہیں آتا کہ جس محبوب کو پانے کے لیے تڑپے جارہے ہیں۔۔۔اگر اس محبوب کا بھی کوئی محبوب ہوا تو کیا ہوگا؟؟؟؟
Mr.psycho written by barbie boo
______******______

Episode 17
رمیز سر! آپ جارہے ہیں؟ یہ ایک فائل رہ گئی تھی اس پہ آپکے سائن چاہیئے تھے۔۔۔۔۔
اچھا لاؤ سائن کر دیتا ہوں۔۔۔۔ اس نے لڑکے سے فائل لیتے اس پہ سائن کرتے واپس اسکے ہاتھ میں پکڑائی تھی۔
ڈرائیو کرتے راستے میں ایک جگہ گاڑی روکی اور پھولوں کا گلدستہ اور چاکلیٹس لیں۔ اور گاڑی احان کے گھر کو جاتی روڈ کیطرف موڑ دی۔
گلدستہ اور چاکلیٹس ہاتھوں میں تھامے وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔خاموشی دیکھ کے ایک پل رکا۔۔۔۔اور احان کے روم کیطرف بڑھا۔۔۔۔۔۔ کمرہ خالی دیکھ کر وہ آئلہ کے روم کیطرف بڑھنے لگا تھا۔۔۔۔ ہلکی سی نوک کی اور دھیرے سے ذرا سا ڈور اوپن کیا۔۔۔۔اسکے بڑھتے ہوئے قدم وہی رکے تھے۔
احان آئلہ کو اپنی بانہوں کے مضبوط حصار میں لیے ایسے سورہا تھا جیسے اسکی حفاظت کررہا ہو۔۔۔۔اور وہ بھی اسمیں سمٹی ہوئی اسکے سینے سے چپکی سکون سے سورہی تھی۔۔۔۔۔ دونوں کتنے خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔۔۔کتنی محبت سے ایک دوسرے کے جڑے ہوئے بے خبر سورہے تھے۔۔۔۔۔ رمیز کے دل میں جیسے سوئیاں چبھنے لگی تھیں۔۔۔۔ اسکے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔۔۔وہ ڈور کلوز کرتے۔۔۔۔لاؤنج میں آیا تھا۔۔۔چاکلیٹس اور پھول ٹیبل پہ رکھتے۔۔۔۔۔صوفے پہ گرا تھا وہ۔۔۔۔۔۔تیز تیز سانسیں لیتے۔۔۔۔اپنے بال نوچتے وہ آنسوؤں کو روکنے کی تگ ودو کررہا تھا۔۔۔۔۔۔ دل زور زور سے دھڑکتے سینے سے باہر نکلنے کو مچل رہا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا۔۔۔۔اور وہ کچھ غلط کر بیٹھتا۔۔۔۔۔۔تیزی سے اٹھتے گھر سے باہر نکلا اور گاڑی میں آتے جیسے اسکا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔۔۔ آنسو اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔۔ وہ گاڑی کو دوڑاتے واپس اپنے فلیٹ پہنچا۔Mr.psycho written by barbie boo
فلیٹ میں آتے اس نے اپنی شرٹ اتاری اور دور پھینکی۔۔۔۔۔۔أنسو آنکھوں سے بہتے ہوئے اسکے گالوں سے پھسلتے اسکے سینے کو تر کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ دل تھا کہ پھٹنے کو بے تاب ہورہا تھا۔۔۔۔۔جسم جیسے تپ رہا تھا۔۔۔۔وہ دیوار سے ٹیک لگائے زمین پہ بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔آخر کیوں جیلس ہوا تھا میں۔۔۔۔۔۔میرا دل اتنا تڑپ کیوں رہا ہے۔۔۔۔أخر کیوں ، کیوں اتنا برا لگ رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔
وہ اپنے بال نوچتے سسکیوں میں رو رہا تھا۔۔۔۔۔ بار بار وہ منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔۔۔۔۔ احان اور آئلہ کے چہرے پہ چھایا سکون۔۔۔۔۔۔۔۔ رمیز کا سکون تباہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔
میں ایسا تو نہیں تھا۔۔۔۔۔نہیں تھا میں ایسا۔۔۔۔ کیارا۔۔۔۔
کیارا تم نے توڑ دیا مجھے۔۔۔تم نے بیچ راہ میں چھوڑ کے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھے۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟
آخر کیا غلطی ہوئی تھی مجھ سے۔۔۔۔۔ جسکی اتنی بڑی سزا دی تم نے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اٹھتے چیزیں اٹھا اٹھا کے کبھی دیوار پہ مارتا تو کبھی فرش پہ پھینک رہا تھا۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تباہ کردے۔۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھے۔۔۔۔۔
معاف نہیں کروں گا میں۔۔۔۔۔۔کسی کو معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔جتنی تکلیف مجھے ملی ہے اس سے زیادہ تم سب کو بھی ملے گی۔۔۔۔۔ میں حساب لوں گا کیارا تم سے۔۔۔۔۔سب سے پہلے تم سے۔۔۔۔
وہ ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آنکھوں پہ رگڑتے۔۔۔۔۔آنسو صاف کرتے غصے اور نفرت سے کہہ رہا تھا۔
کافی دیر تک شاور لینے کے بعد بھی وہ پر سکون نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ باتھ ٹوول لپیٹے وہ باتھروم سے باہر نکلا اور بیڈ پہ لیٹ لیٹے چھت کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
سینے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔دل اب اپنی نارمل رفتار میں آنے لگا تھا۔۔۔۔۔ أنکھیں بند کیں تو آئلہ کا روتا چہرہ نظر آیا اس نے جلدی سے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔۔
آئلہ۔۔۔۔۔۔ چھوٹی۔۔۔۔میٹھی۔۔۔۔خرگوشنی۔۔۔۔۔۔ وہ زیر لب دہراتے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی ایک پل کو۔۔۔۔۔۔ پیاری سی۔۔۔۔۔۔ تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔۔میں تمہیں ہرٹ نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔تم تو بہت انوسینٹ ہو۔۔۔۔۔تمہیں کوئی کیسے ہرٹ کر سکتا ہے۔۔جانم۔۔۔۔
میری جانم ہے وہ۔۔۔۔۔ میری چھوٹی سی جانم۔۔۔۔۔ رمیز سا تم نے۔۔۔۔۔۔وہ صرف میری ہے صرف میری۔۔۔۔۔۔۔
احان کی خوشی اور محبت سے لبریز آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ تمہاری جانم ہے۔۔۔۔وہ تمہاری ہنی ہے۔۔۔۔وہ صرف تمہاری ہے احان۔۔۔۔۔میں بھلا کیسے اسکے بارے میں ایسا کچھ سوچ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ میں تمہیں بھی ہرٹ نہیں کر سکتا بھائی۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔۔میں خود کو نہیں سمجھا پارہا۔۔۔مجھے معاف کردینا احان۔
وہ ایک ہاتھ میں بیڈ شیٹ جکڑتے اور دوسرے سے اپنے بال نوچتے بہت رنج سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔آنسوؤں کی ندیاں پھر سے بہتے ہوئے اس کے چہرے کو تر کرتے بیڈ شیٹ میں جذب ہوتی جارہی تھیں۔
ہے دل خومخواہ پریشان بڑا
اسکو کوئی سمجھا دے ذراMr.psycho written by barbie boo
عشق میں فنا ہو جانا ہے دستور یہی
جس میں ہو صبر کی فطرت وہ عشق ہی نہی
سمجھ بھی جا اے دل میرے کیا ہے یہ ماجرا
_________********_________
ڈیڈ آپ نے کہا تھا نا کہ آپ ٹیشا کے گھر چلیں گے۔۔۔۔پلیز ڈیڈ چلیں نا رشتہ لیکر۔
عادی اپنے مام ڈیڈ کے سامنے کھڑے منت بھرے لجے میں کہہ رہا تھا۔
انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک نظر بیٹے پہ ڈالی جو اپنی شادی کے لیے بے تابی ظاہر کررہا تھا۔
ہاں ٹھیک ہے یاد ہے مجھے۔۔۔۔۔ تم پہلے اس لڑکی سے پوچھ لو۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو اسکے گھر والے منع کردیں۔۔۔
خلیل امیر نے بیٹے کو حامی بھرتے ہوا کہا۔
میں پوچھ لوں گا۔۔۔پھر ہم کب جائیں گے؟
وہ خوش ہوتے ہوئے بولا تھا۔
کل جائیں گے۔ وہ سنجیدہ لہجے میں بولے تھے۔
ریئلی؟ تھینک یو سو مچ ڈیڈ! وہ بے یقینی سے کہتے انہیں گلے لگاتے۔۔۔۔روم سے باہر نکلا اور ٹیشا کو میسج کرنے لگا۔
دل کی نمازیں جاکے پہنچی فلک سے آگے
تو جاکے پایا تجھ کو میرے رہنما
بانہوں سے آگے تیری دنیا نہیں ہے میری
رکھ لے یہی تو مجھ کو میرے رہنما
عادی کا میسج ریڈ کرتے وہ مسکرادی تھی۔
تو کیا پا لیا تم نے مجھے؟
ٹیشا نے رپلائی کیا۔
ہاں! بہت جلد پا لوں گا!
ہم کل آرہے ہیں تمہارا رشتہ مانگنے۔۔۔۔اور تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا بنانے۔۔
سچ میں؟Mr.psycho written by barbie boo
ہاں سچ میں! تمہارے گھر والے منع تو نہیں کریں گے نا؟
عادی نے سوال کیا۔
نہیں۔ کوئی منع نہیں کرے گا۔ اس نے جواب دیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔کل کا ویٹ کرو پھر۔۔۔۔بائے۔
بائے۔۔۔ اس نے مسکراتے لاسٹ میسج سینڈ کیا تھا۔
دادو مجھے آپ سےکچھ بات کرنی ہے۔
وہ لاؤنج میں آتے بولی تھی۔
جہاں کیارا اور اسکی دادو کوئی بات کرنے میں مصروف تھیں۔
ہاں ہاں آجاؤ میری گڑیا۔ کیا بات کرنی ہے؟
وہ اسے اپنے پاس بلاتے ہوئے کہنے لگی۔
میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں۔۔۔۔۔اسکا نام عادی ہے۔۔۔۔وہ کل اپنی فیملی کو لائے گا رشتہ کے لیے۔۔۔ آپ انہیں ہاں کردیجیے گا۔۔۔ بس یہی کہنے آئی تھی میں۔Mr.psycho written by barbie boo
وہ سپاٹ لہجے میں کہتی آرام سے صوفے پہ بیٹھ گئی۔
کیا کہا؟ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟ تم اتنی بڑی ہوگئی ہو کہ خود فیصلے کرنے لگ گئی ہو۔۔۔۔۔۔ چپ چاپ اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں آئے گا یہاں رشتہ لیکر۔۔۔
ٹیشا کی بات سن کر ان دونوں کے ہوش اڑے تھے۔۔۔کتنے آرام سے اتنی بڑی بات بول دی تھی اس نے۔۔۔۔۔۔کیارا نے دل میں۔ایک سرد آہ بھری کہ اتنی ہمت تو وہ نہیں کر پائی تھی آج تک۔
دادو پلیز۔۔۔۔میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں۔۔۔۔اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔مجھے کس سے اور کب شادی کرنی ہے اسکا فیصلہ بھی میں خود کروں گی۔۔۔اور اگر آپ نے کوئی زبردستی کی تو میں کورٹ میرج کرلوں گی۔۔۔۔اب آگے آپکی مرضی۔۔۔
دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سناتے وہ آناً فاناً وہاں سے غائب ہوتی اپنے روم میں جا چکی تھی۔
یہ کیا ہوگیا ہے اس لڑکی کو۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کس کی باتوں میں آگئی ہے۔۔۔۔۔ابھی احان کو فون کر کے بتاتی ہوں۔۔۔۔۔
ٹیشا کی بےباکی پہ انکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔جبکہ کیارا دل ہی دل میں ٹیشا پہ رشک کررہی تھی۔۔۔۔۔کاش اس نے بھی اتنی ہمت کی ہوتی اور اپنی محبت کے لیے سٹینڈ لیا ہوتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔۔۔۔
_______********_________
Mr.psycho written by barbie boo
بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑتے محسوس ہوئے تو آئلہ کی آنکھ کھلی۔۔۔۔۔گھڑی پہ نظر پڑی تو رات کا ایک بج رہا تھا۔۔احان کو دیکھا وہ سکون سے اسے اپنے مضبوط حصار میں لیے سورہا تھا۔
آج مجھے یہ رات سجانے کی اجازت دے دو
جاناں اپنے عشق میں مجھے قید کر لو
آج جان تم پر لٹانے کی اجازت دے دو
وہ دھیمے سے اسکی گردن میں منہ چھپاتے کہہ رہی تھی۔
اسکے لبوں کی نرمی گردن پہ محسوس کرتے وہ مسکرایا تھا۔
اجازت ہے میری جانم کو! ہر بات کی اجازت ہے میری جان کو ۔۔۔۔۔۔۔اپنے عشق میں قید کرنے دیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ آپ اپنے مسٹر احان کو تو اپنے عشق میں پہلے ہی قید کر چکی ہیں۔ اب آپکو قید کرلوں میں خود میں؟
وہ اسکے گرد حصار مضبوط کرتے اسکے کندھے پہ لب رکھے شرارتاً کہہ رہا تھا۔
مسٹر احان۔۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔۔۔
وہ نڈھال ہوتی آواز میں بولی تھی۔
اوکے اوکے میری ہنی۔۔۔۔میں ابھی کچھ لاتا ہوں آپکے لیے۔۔۔۔پہلے جانم کو کچھ کھلاؤں گا اور پھر ہم آرام سے اس بارے میں بات کریں گے ٹھیک ہے نا؟
وہ اسکا ماتھا چومتے اٹھا تھا۔۔۔۔اسکے گال پہ ہاتھ پھیرتے شرارت کے کہتے ایک نظر اسکی سرخ ہوتے چہرے پہ ڈالی اور بیڈ سے اترتے باہر کیطرف بڑھ گیا۔Mr.psycho written by barbie boo
لاؤنج سے گزرتے کچن میں جاتے ہوئے اسکی نظر ٹیبل پہ رکھے پھولوں۔اور چاکلیٹس پر گئی۔۔۔
یہ سب۔۔۔۔ہممم ضرور رمیز لیکے آیا ہوگا۔۔۔۔یہ پھول میرے لیے اور یہ چاکلیٹس میری ہنی کے لیے۔۔۔۔ لیکن مجھ سے ملے بغیر ہی واپس چلا گیا۔۔۔۔۔شاید سوتے ہوئے دیکھ کے جگانا مناسب نہیں سمجھا ہوگا اس نے۔۔۔۔۔ چلو کل مل کے پوچھ لوں گا۔
اس نے چاکلیٹس اٹھائی اور کچن کیطرف گیا۔۔۔۔فریج میں سے بریانی نکالی۔۔۔گرم کی اور روم میں واپس آیا۔
وہ بیڈ پہ بیٹھی اسکا ویٹ کررہی تھی۔۔۔۔۔۔ احان کو آتے دیکھ کر خوشی سے اسکا چہرہ کھل اٹھا تھا۔۔۔۔
واؤ۔۔۔۔۔۔۔چاکلیٹس۔۔۔۔۔۔۔۔اور بریانی بھی ۔۔۔۔مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے پلیز جلدی سے دیں مجھے۔۔۔
وہ احان کی طرف بچوں کی طرح ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی۔
ایک منٹ ایک منٹ میری جان! میں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں کا جانم کو۔
وہ ٹرے بیڈ پہ رکھتے خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔Mr.psycho written by barbie boo
اسکے ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑائی اور خود اسے بریانی کھلانے لگا۔ وہ اپنا چھوٹا سا منہ کھولتی بریانی کھاتی اور چاکلیٹ کھولنے میں مصروف ہو جاتی۔
جانم! پہلے آرام سے کھانا کھا لیں۔۔۔۔چاکلیٹ بعد میں ہم مل کے کھائیں گے۔ احان کی بات پہ اس نے اسکی طرف دیکھا۔
مسٹر احان! آپ نے بھی تو کچھ نہیں کھایا صبح سے۔۔۔۔آپکو بھوک نہیں لگ رہی کیا؟
وہ چاکلیٹ سائیڈ پہ رکھتی اب فکرمند ہورہی تھی۔
میری جان! پہلے آپ پیٹ بھر کے کھا لیں۔۔۔پھر میں بھی کھالوں گا۔ چلیں۔اب بس چپ چاپ کھانا کھائیں۔
وہ اسکے ہونٹوں کو چھوتی بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے کہنے لگا۔
نہیں آپ بھی کھائیں میرے ساتھ مسٹر احان ۔
وہ منہ بناتے بولی۔
اچھا میں بھی کھاتا ہوں۔۔۔۔۔چلیں آپ منہ کھولیں پہلے یہ فنش کریں۔
اچانک اسکی نظر آئلہ کے بازو پہ گئی تھی۔۔۔۔سلیو لیس شرٹ پہنی ہوئی تھی اس نے اسکا بازو سرخ ہورہا تھا جیسے دباؤ پڑنے کیوجہ سے ہوا تھا۔۔۔۔ پرپل کلر کیوجہ سے اسکا رنگ اور بھی نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔
احان نے اسکے بازو کو اپنے ہاتھوں میں لیتے غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ شاید میری گرفت کی سختی کیوجہ نشان پڑ گیا ہے۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
کیا ہوا؟ اسے پریشان دیکھ کے وہ گویا ہوئی۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔بس دیکھ رہا تھا کہ میری جانم کتنی زیادہ حساس ہیں۔۔۔۔۔ وہ اسکے بازو پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے محبت سے کہنے لگا۔
وہ مسکرادی۔Mr.psycho written by barbie boo
کھانا کھاکے اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔
چلیں اب چاکلیٹ کی باری ہے۔ آئلہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔
ہاں۔ اب چاکلیٹ کی باری ہے۔۔۔۔۔آپ اپنی چاکلیٹ کھائیں۔اور میں اپنی چاکلیٹ کھاؤں گا۔
وہ اسکی گردن کے گرد بازو حائل کرتے شرارت سے کہہ رہا تھا۔
لیکن آپکی چاکلیٹ کہاں ہے؟ ہمارے پاس تو یہی ایک ہی چاکلیٹ ہے نا!
وہ ناسمجھتے ہوئے اسکی طرف دیکھنے لگی۔
یہ تو آپکی چاکلیٹ ہے ۔۔۔۔میری چاکلیٹ بھی میرے پاس ہی ہے۔
وہ اسکی معصومیت دیکھ اپنی ہنسی دانتوں میں دبائے بولا تھا۔
کہاں ہے؟ اس نے سوال کیا۔
یہ ہے میرے سامنے۔ میری چاکلیٹ!
وہ اپنے سر سے آئلہ کی طرف اشارہ کرتے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں چاکلیٹ تو نہیں ہوں۔ . وہ منہ بناتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
ہیں نا! میری پیاری سی ، چھوٹی سی، سوفٹ سوفٹ میٹھی سی چاکلیٹ!
وہ اپنی شہادت کی انگلی کو اسکے گال اور لبوں سے رینگنے کے انداز میں لے جاتے ہوئے گردن پہ پھیرتے اسکی آنکھوں میں جھانکتے مدہوش کن آواز میں کہہ رہا تھا۔
وہ چاکلیٹ کی بائٹ لیتی۔۔۔۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھے جارہی تھی۔۔۔شاید اسے احان کو بات کا مطلب ابھی بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.