couple, pair, relationship-4325416.jpg

𝗪𝗿𝗶𝘁𝗲𝗿: 𝗕𝗮𝗿𝗯𝗶𝗲 𝗕𝗼𝗼

𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲: #17

آٹھ سال پہلے۔۔

محل کو آگ لگا دی ہے ۔۔ کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے لیکن اگر کوئی وہاں سے زندہ بچ کے نکلنے میں کامیاب ہو بھی گیا تو باھر ہمارے آدمی موجود ہیں انکو ٹھکانے لگانے کے لیے۔۔۔۔

اب اٹلی کے مافیا کا نام و نشان بھی نہیں بچے گا۔۔۔۔۔

وہ غبیث مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے اپنے سامنے بیٹھے مالک کو بتا رہا تھا۔۔۔۔

بہت خوب! یہی تو چاہتے تھے ہم۔۔۔۔اچھا کام کیا تم نے اسکا انعام ملے گا تمہیں۔۔۔۔۔

وہ قہقہ لگاتے سگریٹ ہونٹوں میں دبا چکا تھا۔۔۔

جب وہ محل جل کے راکھ بن جائے تو آکے بتانا مجھے۔۔۔۔جشن کی تیاریاں کی جائیں گی پھر۔۔۔

گھنی مونچوں کو تاؤ دیتے وہ سگریٹ کا کش لیتے بہت مغرور انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔

جی مالک۔۔۔۔

ادب سے سر جھکائے وہ باہر چلا گیا۔۔۔

تمہارا کھیل ختم ہوا۔۔۔۔اب میرا سکہ چلے گا ۔۔۔۔

فضا میں دھواں چھوڑتے وہ قہقہے لگانے لگا۔۔۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

کون ہے یہ۔۔۔۔

پتہ نہیں جھاڑیوں میں گری پڑی تھی۔۔بے ہوش ہے۔۔۔چہرے پہ بھی مٹی ہی مٹی ہے شاید کیچڑ میں گری ہوگی۔۔۔

وہ بانہوں میں اس چھوٹی سی لڑکی کو تھامے کھڑا تھا۔۔

تو اسے یہاں کیوں لائے ہو تم۔۔۔ یہ کوئی پناہ گاہ تو نہیں ہے جو تم اسے اٹھا کے لے آئے ہو۔۔۔۔

جاؤ۔۔۔باہر لے جاؤ۔۔۔۔سرونٹ کوارٹر میں لے جاؤ اسے۔۔۔

گٹار بجاتے وہ لا پرواہی سے کہہ رہا تھا۔۔۔

لیو۔۔۔۔اسکا جسم جل رہا ہے ۔۔۔ اسکو ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔کہیں مر نہ جائے۔۔۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

مر جائے تو مر جائے۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔مجھے کیا۔۔۔۔جب دیکھو کسی نہ کسی غریب کو اٹھا کے لے آتے ہوتم۔۔۔میرے کمرے کو غریبوں کی پناہ گاہ بنا کے رکھ دیا ہے تم نے بین۔۔۔

گٹار کو سائیڈ پہ رکھتے غصے کے کہتے وہ بین کے پاس آیا اور اسکی بانہوں میں جھولتے اس وجودکو دیکھا۔۔۔

ہممم۔۔۔اسکو بخار ہے۔۔۔ لیکن دیکھو تو اسکو کتنی گندی ہورہی ہے۔۔۔۔میرا بیڈ خراب ہوجائے گا۔۔۔۔

میں اسکو یہاں نہیں لٹا سکتا۔۔۔تم اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ یا پھر سرونٹ کوارٹر ہی لے جاؤ۔۔۔

وہ دو انگلیاں اسکی گردن پہ رکھتے منہ کے زاویے بگاڑتے کہنے لگا۔۔

لیکن وہاں پہ میرے مام ڈیڈ آتے رہتے ہیں لیو اور سرونٹ کوارٹر میں اگر کسی نے دیکھ لیا تو مشکل ہوجائے گی میرے لیے۔۔۔

تم پلیز اسے یہی لٹانے دو پھر تمہارا سارا کمرہ میں خود صاف کردوں گا۔۔۔

وہ لیو کی منت کرنے لگا۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ھے۔۔۔لٹا دو اسے وہاں صوفے پہ۔۔۔۔پہلے اسے صاف کرو ۔۔۔۔کتنی مٹی لگی ہوئی اسے۔۔۔ چہرہ تک نظر نہیں آرہا اسکا تو۔۔۔۔

وہ اسے کیچڑ میں لت پت دیکھ کے برے برے منہ بنارہا تھا۔۔۔

یہ باہر شور کیسا ہے۔۔۔تم اسے صاف کرو میں باہر دیکھ کے آتا ہوں۔۔۔

وہ اسے تلقین کرتے کمرے سے باہر چلا گیا اور بین اس بچی کو صوفے پہ لٹاتے ٹاول سے اسے صاف کرنے لگا۔۔۔

کیا ہوا یہ شور کیسا ہے۔۔۔

وہ ڈرائینگ روم کی طرف جاتے سرونٹ کو روک کے پوچھنے لگا۔۔۔

وہ پہاڑی والی حویلی میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔سب کچھ جل گیا ہے ۔۔۔۔

اٹلی مافیا اپنی فیملی کے ساتھ وہاں رکا ہوا تھا۔۔۔۔ سنا ہے سب جل کے راکھ ہوگئے۔۔۔کچھ بھی نہیں بچا۔۔۔۔

کیا! لیکن کیسے۔۔۔۔ اچانک سے یہ سب۔۔۔۔

وہ حیرت و صدمے کے کہتے ڈرائینگ روم کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔

بابا جان!

یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔ اس حویلی میں آگ لگ گئی۔۔۔۔

روم میں انٹر ہوتے وہ بے حد فکرمندی سے کہہ رہا تھا۔۔۔

آجاؤ لیو۔۔۔۔ہم تمہیں بلوانے ھی والے تھے۔۔۔

وہ بے حد تحمل سے کہتے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے پینے لگے۔۔۔۔

وہ اٹلی اور اطالوی مافیا کے بیچ کچھ اختلافات چل رہے تھے اسی کا نتیجہ ہے یہ سب۔۔۔۔

سکون و اطمینان سے کہتے وہ وائن پیے جارہے تھے۔۔۔

اختلافات تھے تو جلا کے مار دیا۔۔۔۔ یہ تو غلط ہے باباجان!

مسئلے تو بیٹھ کے بھی حل کیے جا سکتے تھے ناتو اسطرح پورے خاندان کو جلا کے راکھ کردینا تو سراسر زیادتی ہے۔۔۔

وہ صوفے پہ بیٹھتے اضطرابی حالت میں کہہ رہا تھا۔۔۔یقین کرنا مشکل ہورہا تھا اس کے لیے۔۔۔

ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ہماری دنیا میں یہ سب عام ہے۔۔۔۔کسی ایک کو تو مرنا ہے آخر میں تبھی دوسرا جیے گا۔۔۔۔

تم بھی سیکھ لواگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنے سامنے آنے والے ہر اس انسان کو جو تمہارے لیے رکاوٹ بنے راستے سے ہٹانا ہوگا تبھی تم آگے بڑھ پاؤ گے۔۔۔۔

ہمیں اطالوئ مافیا سے بنا کے رکھنی ہوگی۔۔۔ وہ بھی اب ہمارے برابر آنے لگے ہیں ۔۔۔۔۔ تو بہت سوچ سمجھ کے قدم اٹھانے ہونگے ہمیں۔۔۔۔

تم ایک بات ذہن نشین کرلو۔۔۔۔اگر تم دوسروں کو مارنا نہیں سیکھو گے تو ایک دن کوئی تمہیں مار دے گا۔۔۔۔

جاؤ اب۔۔۔۔کافی رات ہو گئی ہے جاکے سو جاؤ اور ہاں صبح ٹائم سے اٹھ جانا ٹریننگ کے لیے جانا ہے تمہیں۔۔۔

بارعب انداز میں کہتے وہ اسے جانے کا اشارہ کرچکے تھے اور وہ بھاری قدموں اور بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے نکلا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔

دولت اور طاقت کے نشے میں اندھے ہوچکے ہیں آپ اور اطالوی مافیا بھی۔۔۔

غصے سے تن فن کرتے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

پٹاخ سے دروازہ بند کرتے وہ بیڈ پہ جا بیٹھا۔۔۔

بین ابھی تک وہی صوفے کے پاس ہی بیٹھا تھا۔۔۔

کمفرٹر کو ہاتھ مارتے وہ خود پہ اوڑھ کے سونے کا سوچنے لگا پر کمفرٹر کی جگہ بیڈشیٹ ہاتھ میں آئی۔۔۔

غصے سے بین کو دیکھتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

اب یہ مت کہنا کہ میرا کمفرٹر اس غلیظ کو اوڑھا دیا تم نے۔۔۔

پیر چٹختے وہ غصے سے کہتے صوفے کی طرف بڑھا۔۔۔۔

اسکو سردی لگ رہی تھی تو اسکو ڈھانپنے کے لیے لیا تھا۔۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے اسے بتارہا تھا کہ لیو پہلے ہی بہت غصے میں لگ رہا تھا۔۔۔

اسکے چہرے پہ نظر پڑی تو کچھ جانا پہچانا مسکراتا سا چہرہ اسکی نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔۔۔۔

بین اسکا چہرہ بالکل صاف کرچکا تھا اس لیے وہ آسانی سے پہچان چکا تھا کہ وہ کون تھی۔۔۔

یہ۔۔۔۔یہ تم کس کو لے آئے ہو یہاں۔۔۔

وہ حیرت و پریشانی سے کہتے بین کو گھورنے لگا۔

او نو۔۔۔۔تم۔۔۔۔تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا ہے۔۔۔یہ ۔۔۔یہ دشمن کی بیٹی ہے۔۔۔تم اسے یہاں اٹھا کے لے آئے۔۔۔۔

وہ تقریباً چیخا تھا۔۔۔

مجھے کیا معلوم کہ کون ہے۔۔۔تمہیں بتایا تو ہے کہ جھاڑیوں سے ملی ہے۔۔۔

ہاں بتایا ہے۔۔۔۔لیکن اسے یہاں لانا ہمارے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔۔

میں پہلے ہی کافی پریشان ہوں ۔۔۔۔ اب اسکی وجہ سے مزید خود کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔

اٹھاؤ اسکو اور جہاں سے لائے ہو وہی پھینک کے آؤ۔۔۔اور یہ کمفرٹر اتارو ۔۔۔۔کسی کو پتہ لگ گیا تو بلاوجہ میری جان کے دشمن بن جائیں گے۔۔

حقارت سے کہتے وہ حکم صادر کرچکا تھا۔۔۔

لیکن لیو۔۔۔۔باہر موسم خراب ہے۔۔۔ اسکی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔اسکو اکیلا چھوڑنا اسکی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ھے۔۔۔

کوئی جنگلی جانور نقصان پہنچا سکتا ہے یا کوئی ڈاکو بھی لے جا سکتا ہے۔۔۔یہ بہت چھوٹی ہے خود کو کیسے بچائے گی۔۔۔

بین اسکا چھوٹا سا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے لیو کی منت کررھا تھا۔۔۔

ہاں تو کھا جائے کوئی جنگلی جانور اسے یا لے جائے بے شک کوئی ڈاکو۔۔۔کچھ بھی ہو اسکے ساتھ زندہ رہے یا مر جائےمیرا اس سے کیا واسطہ۔۔۔

اور اچھا ہے نا کہ مر ھی جائےویسے بھی اسکا پورا خاندان جل کے راکھ ہوچکا ہے۔۔۔۔ تو اسکے زندہ رہنے کا کیا مطب اب؟

اگر کسی کو اسکے زندہ ہونے کی بھنک بھی پڑ گئی تو اسے نوچ ڈالیں گے تو بہتر ہے کہ تم اسے وہی چھوڑ آؤ۔۔۔

بلکہ ایسا کرو کسی دریا میں بہا دو اسے۔۔۔کسی کے ہاتھ نہیں لگے گی ۔۔۔۔زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوگی اسے۔۔۔۔

چلو اٹھاؤ۔۔۔۔

بے حسی سے کہتے وہ بالکل مافیا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

لیو۔۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟

چھوٹی بچی ہے۔۔۔مر جائے گی۔۔۔۔اسکی جان بچانے کا موقع ملا ہے تمہیں تو بچا لو نا۔۔۔۔۔

اس سب میں اس معصوم کا کیا قصور ہے بھلا۔۔۔۔تم تو اتنے بے رحم نہیں تھے۔۔۔

بین نے اٹھتے ہوئے التجا بھری نظروں سے لیو کو دیکھا تھا پر اس وقت وہ بے حس بنا ہوا تھا۔۔۔

تمہیں سنائی نہیں دے رہا کیا۔۔۔اسکو اٹھاؤ اور وہی چھوڑ آؤ جہاں سے لائے تھے۔۔۔۔

ورنہ میں کسی کو بلاتا ہوں۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔جارہا ہوں۔۔۔۔۔

ہار مانتے وہ اس چھوٹے سے وجود کو بانہوں میں بھرتے افسردہ سا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔

جب چاہے کسی کو اٹھا لاتا ہے ۔۔۔۔ مجھے کیا کچھ بھی ہو ۔۔۔۔

میں نے تو نہیں کہا کہ اسکی فیملی کو مار دو۔۔۔۔۔

بالوں کو نوچتے وہ خود کو تسلی دے رہا تھا۔۔۔

کچھ دیر میں بین کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ لیو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے جیسے اسی کا منتظر تھا۔۔۔۔

باہر بادلوں کے گرجنے کی آوازیں آرہی تھی شاید ہلکی ہلکی بارش بھی ہونے لگی تھی۔۔۔۔

چھوڑ آیا ہوں۔۔۔۔

بے حد رنجیدہ لہجے میں کہتے وہ صوفے پہ جا بیٹھا۔۔۔

لیو کے دل میں جیسے بے چینی سی ہوئی تھی پر وہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔۔۔

بارش کی ٹپ ٹپ کی آواز لیو کے کانوں میں پڑتی اسے بے قرار کررہی تھی۔۔۔

بار بار اک معصوم سامسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔۔میٹھی سی آواز کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔

پر وہ ڈھیٹ بنا بیٹھا تھا کہ بے حسی تو اسکے خون میں شامل تھی۔۔۔

کافی دیر تک وہ اضطرابی کیفیت میں مٹھیاں سختی سے بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔۔

سوچ سوچ کے دل پھٹنے کو بے تاب تھا۔۔۔

تو دوسری طرف بین بے بس بنا آنسو بہائے جارہا تھا۔۔۔۔

بین۔۔۔اٹھو . ۔۔۔۔ اسے لے کے آتے ہیں۔۔۔۔

آخر جب صبر جواب دے گیا تو وہ انا و بے حسی کا چولا اتار کے پھینکتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

اسکی آواز سننے کی دیر تھی کہ بین تیزی سے اٹھتے بھاگ کے اسکے پاس آیا اور دونوں فورا سے باہر کو نکلے۔۔۔۔

جلدی چلو۔۔۔

دھیان سے۔۔کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔

اس طرف سے چلو۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے سب کی نظروں سے بچتے بچاتے ایک جنگل نما علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔

یہ تو سنسان جگہ ہے۔۔۔وہ یہاں تک پہنچی کیسے آخر۔۔۔

چاروں طرف جھاڑیوں کو دیکھتے لیو کو جیسے فکر ستانے لگی تھی۔۔۔

اوپر سے بارش بھی دھیرے دھیرے تیز ہوتی جارہی تھی۔۔۔

وہاں پر۔۔۔۔

جھاڑیوں کے ایک طرف اشارہ کرتےوہ لیو کو بتانے لگا اور دونوں اس طرف بھاگے۔۔۔۔

وہ بے جان سی ویسے ھی پڑی ہوئی تھی جیسے بین بسے لٹا کے گیا تھا۔۔۔۔۔

اندھیرا ہونے کے باعث صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔

میں اسے اٹھاتا ہوں۔۔۔۔لائٹ لانا بھول گئے۔۔۔۔اچھا میں راستہ بناتا جاؤں گا۔۔۔۔

لیو بین کو تلقین کرنے لگا۔۔۔ بارش تیزہونے لگی تھی۔۔۔

وہ پوری طرح بھیگ چکے تھے۔۔۔۔۔

دھیان سے ۔۔۔۔

بین کو کہتے وہ آگے آگے چلتا جارہا تھا اور بین پیچھے پیچھے۔۔۔۔

آجاؤ۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔

جس راستے سے گئے تھے اسی سے وہ واپس آئے۔۔۔

بارش میں بھیگنے کی وجہ سے وہ کانپ رہے تھے۔۔۔

بین کمرے۔میں داخل ہوتے اسے کارپٹ پہ لٹا کے دو انگلیوں سے اسکی سانسیں چیک کرنے لگا۔۔۔

لیو اسکی سانسیں تو چل رہی ہیں۔۔۔۔۔

لیو کو دیکھتے وہ اسے بتارہا تھا۔۔۔لیو نے ڈور لاک کیا اور اسکی طرف مڑا۔۔۔

اچھا اسے اٹھاؤ۔۔۔۔کوئی چادر وغیرہ لپیٹو اسکو۔۔۔۔

لیو اسے حکم دیتے خود ڈریسنگ روم۔میں چلا گیا تاکہ چینج کرسکے۔

ٹھیک ہو جاؤ گی تم۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

اسے صوفے پہ لٹاتے وہ بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔

اسے لٹا کے نظر ہاتھ پہ گئی تو وہ سناٹے میں آگیا۔۔۔

ہاتھ پہ خون لگا تھا۔۔۔

مجھے تو کہیں چوٹ نہیں لگی تو پھر یہ۔۔۔

خود کو ٹٹولتے وہ پریشان ہوا تھا۔۔۔

اور اگلے ہی پل ذہن میں جیسے جھماکا سا ہوا تھا۔۔۔۔

صوفے پہ پڑا سفیدکمفرٹر سرخ ہونے لگا تھا۔۔۔۔

لیو! لیو جلدی آؤ۔۔۔

بچی کو سائیڈ پہ کرتے وہ اسکی کمر سے بہتے خون کو دیکھ کے پریشان ہوا تھا۔۔۔۔

لیو جینز پہنے باہر نکلا کہ شاید اس نے ابھی شرٹ بھی پہننی تھی۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔کیوں چلا رہے ہو؟

جینز کا بیلٹ لگاتے وہ کہنے لگا۔۔۔

یہ۔۔۔خون۔۔۔۔شاید اسے کوئی چوٹ لگی ہے یا کہیں کسی چیز نے کاٹ تو نہیں لیا۔۔۔۔

اسکی پھٹی فراک سے نظر آتی بیک بون جو لہولہان لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

بین لیو کو دیکھانے لگا۔۔۔۔

یہ کیا۔۔۔۔

ہٹو۔۔۔۔۔۔کیا ہوا اسے۔۔۔۔

یہ شاید کوئی نوکیلی چیز لگی ہے۔۔۔۔۔

اسکے قریب آتے وہ اسے دیکھتے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

کوئی کپڑا لاؤ۔۔۔۔

یہ لو۔۔۔۔

لیو کو صاف شرٹ پکڑاتے وہ اسکے برابر بیٹھا تھا۔۔۔

اب کیا کریں۔۔۔۔ خون بہہ رہا ہے کہیں کسی زہریلے کیڑے نے نا کاٹ لیا ہو۔۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔

جاؤ۔۔۔ساتھ والے کمرے میں میڈیسن ہیں ساری لے آؤ۔۔۔سب کچھ لے آؤ۔۔۔جلدی۔۔۔۔

وہ ہڑبڑاہٹ میں کہتا زخم پہ شرٹ رکھے خون کا بہاؤ روکنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔

اسکا بدن یخ ہورہا تھا۔۔۔۔اور رنگ جیسے نیلا پڑنے لگا تھا۔۔۔بالکل بے جان سی گڑیا لگ رہی تھی وہ۔۔۔۔۔

لیو کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔۔اسے کچھ ہوگیا تو ۔۔۔یہ خیال ہی اسکے دل کی دھڑکنیں روکنے لگتا تھا۔۔۔

یہ لو۔۔۔۔اب کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔کہیں کوئی غلط میڈیسن نہ دے دینا اسے۔۔۔

بین نے فرسٹ ایڈ باکس اسکے سامنے رکھتے فکر مندی سے کہا۔۔۔۔

تم فکر نہیں کرو۔۔۔۔بابا جان نے اسکی ٹریننگ دلوائی تھی مجھے۔۔۔۔۔

تم ایسا کرو۔۔۔تم جاکے چینج کرو۔۔۔میں اسے دیکھتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی بیمار پڑ جاؤ۔۔۔

لیو کے کہنے پہ وہ ڈذیسنگ روم چلا گیا کہ چینج کر سکے۔۔۔وہ بھیگے کپڑوں میں کانپ رہا تھا پر خود سے زیادہ اسے اس بچی کی فکر ہورہی تھی۔۔۔۔

وہ چینج کرکے کمرے میں آیا تو لیو اسے بینڈج کر چکا تھا۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔ٹھیک تو ھے نا۔۔۔۔

وہ فکرمندی سے کہتے اسکے ساتھ جا بیٹھا۔۔۔

ہمم۔۔۔امید ہے ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔

زخم بھی بھر جائے گا۔۔۔خطرے سے باہر ہے لیکن اسکا بدن ٹھنڈا یخ ہورہا ہے۔۔۔۔

اسکے کپڑے گیلے ہیں۔۔۔۔

کیا کچھ ہے اسکو پہنانے کے لیے؟

اسکے زرد پڑتے چہرے پہ نظریں ٹکائے وہ بین سے کہنے لگا۔۔۔۔

اسکے ناپ کا تو کچھ نہیں ہے۔۔۔ہماری کوئی شرٹ وغیرہ پہنا دیتے ہیں ۔۔۔

ہے تو چھوٹی سی بچی۔۔۔ صبح پھر کچھ انتظام کرلیں گے۔۔۔

بین۔نے تجویز دی جو لیو کو ٹھیک لگی کہ اس وقت کچھ اور نہ سوجھا تھا۔۔۔

اچھا جاؤ۔۔۔۔میری کوئی شرٹ لے آؤ۔۔۔شاید کوئی پرانی چھوٹے سائز میں مل جائے۔۔۔

اچھا دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔

بین ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔

لیو فرسٹ ایڈ باکس بند کر کے ٹیبل پہ رکھتے اسے تکنے لگا۔۔۔۔

دل کی بے چینی کچھ کم ہوئی تھی کہ وہ زندہ تھی۔۔۔۔

یہ دیکھو۔۔۔یہی ایک ملی ہے سب سے چھوٹی۔۔۔

وہ ایک بلیک کلر کی شرٹ پکڑے لیو کو دکھاتے کہہ رہا تھا۔۔۔

ہاں۔۔۔لاؤ۔۔۔دو مجھے ۔۔۔۔ فلحال اسے ٹھنڈ سے تو بچائیں۔۔۔

شرٹ پکڑتے وہ دیکھتے بولا۔۔۔

دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائی تھی ۔۔۔

اور دونوں نے ہی سر جھکایا۔۔۔۔

چینج کون کرائے گا۔۔۔۔

بین۔نے کہا۔۔۔۔

میں۔۔۔

لیو نے جیسے صلاح دی تھی۔۔۔

تم!

ہاں میں۔۔۔۔تم اٹھو وہ لائٹ آف کرو تب تک میں چینج کرلیتا ہوں۔۔۔۔

لیو نے کہا تو بین نے اٹھ کے لائٹ آف کی۔۔

ہاں اب آن کردو۔۔۔۔

لیو کی آواز پہ وہ لائٹ آن کرتے واپس آیا۔۔۔۔

یہ اسکے کپڑے انکو کہیں چھپا دو۔۔۔۔کسی کو نظر نہیں آنے چاہیئے یہ سمجھ آئی نا۔۔۔۔

لیو نے بین کو اسکی چھوٹی سی فراک اور جینز پکڑاتے تلقین کی تو وہ ہاں میں سر ہلاتے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔

اسے اٹھاتے وہ اپنے بیڈ پہ لے گیا اور نرمی کے لٹا کے بلینکٹ اس پہ ڈالا۔۔۔۔

بے شک وہ اسکے بالوں کو تولیے سے سکھا چکا تھا لیکن ابھی بھی وہ مٹی مٹی سے لگ رھے تھے۔۔۔۔

البتہ وہ اب کچھ سکون سے سانس لیتی نظر آرہی تھی جو لیو نوٹ کررہا تھا۔۔۔۔

وہ بار بار اسکے ماتھےپہ ہاتھ رکھے اسکا بخار چیک کررہا تھا۔۔۔۔

دھیرے دھیرے اسکا بخار کم ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔

چھپا دیے۔۔

بین کمرے میں داخل ہوتے ڈور لاک کرتے بولا اور خراماں خراماں چلتے لیو کے پاس آیا وہ کافی تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔۔۔

گڈ۔۔۔۔۔اسکا بخار کافی کم ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ میں نے میڈیسن دے دی تھی۔۔۔۔

کسی زہریلے کیڑے نے ہی کاٹا تھا اسے اور ساتھ میں شایدکوئی نوکیلی چیز بھی چھبی تھی اسے تبھی اتنا خون بہہ رہا تھا۔۔۔

لیکن اب سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ایک ہفتہ تک یہ ہو جائے گی ٹھیک۔۔۔۔

لیو نے بین کو تفصیل سے بتایا تو وہ لیو کو کس کے گلے لگاتے مسکرایا تھا۔۔۔۔۔

تم نے اسکی جان بچا لی لیو۔۔۔

اس سے الگ ہوتے وہ فخریہ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

ہممم۔۔۔۔لیکن تم جانتے ہو کہ میں زیادہ دیر تک اسے بچا نہیں پاؤں گا۔۔۔۔

لیو نے اداسی سے کہا۔۔۔

کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا لیکن یہ ہے کون اور کیوں اسے مارنا چاہتے ہیں وہ؟؟

لیو صوفے پہ جا بیٹھا تو بین اسکے پیچھے چلتا اسکے برابر میں بیٹھ گیا۔۔۔۔

بیچاری۔۔۔۔۔!

لیو صوفے کی بیک سے ٹیک لگاتے سرد آہ بھرتے بولا اور بین کو ساری بات بتائی۔۔۔۔

مطلب یہ سب اطالوی مافیا کا کیا دھرا ہے۔۔۔۔ سوچ سے بھی زیادہ سفاک نکلے یہ تو۔۔۔۔۔

مافیا سفاک ہی ہوتے ہیں بین۔۔۔۔۔کچھ بھی کرسکتے ہیں کچھ بھی۔۔۔۔

کمرے میں کچھ پل کو سناٹا سا چھا گیا تھا۔۔۔۔۔

تمہارے بڑے کے بیڈ پہ لیٹی ہوئی ایک چھوٹی سی گڑیا لگ رہی ہے وہ۔۔۔۔

بین نے مسکراتے ہوئے کہا اسکے چہرے سے سکون و خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔لیو نے بین کے چہرے کے نظریں ہٹاکے اپنے بیڈ کی طرف گھمائی۔۔

مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی بین۔۔۔۔یہ ان جھاڑیوں تک پہنچی کیسے۔۔۔۔۔

لیو نے اسکے نورانی چہرے کو تکتے کہا۔۔۔

یہ تو میں نے بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔اکیلی تو آنہیں سکتی اتنی تو یہ چھوٹی ہےتو پھر ۔۔۔۔۔۔۔؟

وہ سوالیہ نظروں سے لیو کو دیکھنے لگا۔۔۔

یہ تو اسکے ہوش میں آنے کے بعد ہی پتہ لگے گا۔۔۔

لیو نے کہا تو بین نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

چلو تم اب سو جاؤ۔۔۔۔میں اسکے پاس وہی بیڈ پہ بھی بیٹھوں گا۔۔۔۔۔شاید اسے ہوش آجائے۔۔۔

صوفے سے اٹھتے وہ گویا ہوا اور بیڈ کی طرف چلا گیا تو بین بھی صوفہ کم بیڈ پہ جاکے لیٹ گیا کہ اب وہ سکون سے سو سکتا تھا۔

وہ بیڈ پہ جاکے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے اس ننھی پری کو دیکھنے لگا۔۔

بہت افسوس ہورہا ہےمجھے۔۔۔۔تمہاری فیملی کے ساتھ جو بھی ہوا بہت غلط ہوا۔۔۔۔

پر میں چاہ کے بھی کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا۔۔۔

اسکے ماتھے کو سہلاتے وہ رنجیدہ ہورہا تھا۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ اصل وجہ کیا تھی اس دشمنی کی لیکن وہ اس دشمنی کی وجہ سے ایک معصوم کی جان نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

سیلن جو کہ اٹلی مافیا کی اکلوتی بیٹی اسکی کل وراثت کی حقدار اور ہونے والی ملکہ اس وقت زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔۔

آنے والے وقت میں کیا ہوگا یہ کوئی نہ جانتا تھا اور یہ بھی کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اٹلی مافیا کا اسطرح نام۔و نشان مٹادیا جائے گا۔۔۔۔

سب کو یہی لگتا تھا کہ حویلی کے ساتھ اسمیں موجود ہر فرد بھی جل کے راکھ ہوگیا تھا لیکن یہ اس بات سے کوئی واقف نہ تھاکہ سیلن کو اسکے ڈیڈ نے وہاں سے بچا کے باہر نکال دیا تھا۔۔۔۔

اطالوئ مافیا کی دھمکیوں اور انکی سازشوں سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔۔۔

وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ چپ چاپ کسی کو خبر ہوئے بنا یہاں سے چلے جائیں گے کہ وہ اپنی پیاری بیٹی کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔۔۔

لیکن نجانے کس طرح اطالوئ مافیا کو انکے چوری چھپے فرارہونے کی بھنک پڑ گئی اور اسی رات انہوں نے اس محل کو آگ لگو دی۔۔۔۔

سیلن کے ڈیڈ اسے پہلے ہی اپنی وفادارملازمہ کے ساتھ چوری چپکےمحل سے باہر بھیج چکے تھے۔۔۔۔

وہ ابھی محل سے کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ محل کے چاروں طرف آگ بھڑک اٹھی تھی اور پل جھپکتے ھی پورا محل نگل گئی۔۔۔۔

سیلن کی چیخ و پکار سن کے کچھ اطالویوں کی نظر ان پہ پڑ گئی تھی لیکن وہ ملازمہ کسی طرح سے وہاں سے بچ نکلی ۔۔۔۔

پر آدھے راستے میں ہی اسکا پاؤں پھسلا اور وہ پہاڑیوں سے گر کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔۔۔۔

ڈر اور خوف کے مارے سیلن زور و قطار رو رہی تھی۔۔۔اس وقت وہ چھ سال کی تھی۔۔۔

رات کا وقت ہونے کی وجہ سے ہر طرف اندھیرا تھا۔۔۔۔۔

وہ روتی ہوئی کبھی أسمان کو دیکھتی تو کبھی اپنے آس پاس۔۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.