people, couple, kiss-2594745.jpg

Novel_____My Possessive Mafia

Writer_____Barbie Boo

Episode___1

اطالوی مافیا کے گھر ایک خوبصورت سی بچی پیدا ہوئی جس کا نام روبی رکھا گیا۔ وہ نیلی آنکھوں والی ،سنہرے بالوں والی ،مہربان محبت کرنے والی ،معصومیت کی مورت ،اپنی دلربا مسکراہٹ سے کسی کا بھی دل پگھلا دینے والی فرشتہ صفت لڑکی تھی ۔ جو اب دس سال کی ہو چکی تھی ۔

دوسری جانب روسی مافیا کا بیٹا لیو جو کہ اب 13 سال کا ہو چکا تھا اسکی گہری آنکھیں جو چمکیلی اور خوفناک تھیں۔ اس کے سلکی سنہرے بال جو اس پہ بہت جیتے تھے ۔

وہ ہونے والا مافیا ڈون تھا ۔ وہ بہت ضدی خود سر، ظالم، بے رحم اور اکھڑ مزاج تھا ۔ بالکل ایک شیطان صفت۔

وہ دس سال کی تھی جب اطالوی مافیا نے روسیوں سے ملاقات کی ۔ وہ 13 سال کا تھا جب اس کے والد نے اطالوی مافیا کو اپنے گھر رات کے کھانے پر مدعو کیا ۔

اور اس طرح وہاں روبی اور لیو کی ملاقات ہوئی ۔

لیو ایک ضدی، خود سر لیکن کافی ہینڈسم لڑکا تھا ۔

اور روبی معصوم خوبصورت اور ایک پریشان کن لڑکی لیکن وہ دونوں دوست بن گئے اور پھر اکثر ان کی ملاقات ہوتی رہتی وہ اس کی سالگرہ پر جاتا اور وہ بھی اسے ملنے کے لیے آتی جاتی لیکن لیو کی اٹھارویں سالگرہ پر روبی نہیں جا سکی تب وہ 15 سال کی تھی تب سے لیو اس سے ملنے کے لیے نہ آیا ۔

اور اس طرح تین سال تک ان کی ملاقات نہ ہو پائی ہر کسی کو لگتا تھا کہ شاید وہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ پانچ سال پہلے ڈنر پارٹی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ روبی لیو کی بیوی بنے گی جو کہ اطالوی اور روسی کا اتحاد ہے ۔

جب لیو 18 سال کا ہوا تو اسے پتہ چل گئی تھی یہ بات اور ان کی خاندانی روایت کے مطابق وہ اپنی ہونے والی بیوی کو تب تک نہیں دیکھ سکتا جب تک کہ وہ 18 سال کی نہ ہو جائے ۔

اور اب روبی کی اٹھارہویں سالگرہ آج تھی اس دن اسے پتہ لگنا تھا کہ اس کی شادی لیو سے ہوگی بالکل ویسے ہی جیسے لیو کو تین سال پہلے یہ بات پتا چلی تھی وہ چاہے ایک دوسرے کو پسند کریں یا نہ کریں ان کی شادی ہونی تھی۔

اور یہی ان کی قسمت تھی ۔

وہ ابھی تک اپنے بستر میں گھسی ہوئی تکیے میں سر دیے سو رہی تھی ۔ کھڑکی سے سورج کی کرنیں کمرے میں پڑ رہی تھی ۔ اس کی ماں کب سے جگانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ جاگ نہیں رہی تھی ۔

اٹھ جاؤ اٹھ جاؤ روبی اٹھ جاؤ اور کتنی دیر لگانی ہے؟

اس کی ماں ا سے جگانے کی کوشش کر رہی تھی جب کمرے میں تین نوکرانیاں سامان لیے داخل ہوئیں ۔

کیوں؟

اس نے تکیہ کے نیچے سے چلاتے ہوئے پوچھا وہ صبح دیر سے اٹھنے والی تھی ۔ اتنی صبح صبح اسے اٹھنے کی عادت نہیں تھی ۔

کیونکہ آج تمہاری سالگرہ ہے۔

اس کی ماں نے خوشی سے کہا وہ تقریبا چیخیں مارتے ہوئے اٹھی ۔

او میرے خدایا ۔

وہ بستر سے چھلانگ لگاتے ہوئے اپنی ماں کے گلے لگی ۔آخر کار آج میں 18 سال کی ہوگئی۔ اب میں آزاد ہوں۔ وہ مسکراتے ہوئے گول چکر لگاتے ہوئے خوشی سے اچھل رہی تھی اسی پل اس کے ڈیڈ نے کمرے میں قدم رکھا ۔

میری بچی اٹھ گئی تم۔

اس کے ڈیڈ نے اسے اچھلتے دیکھ کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے محبت سے کہا ۔

جی ڈیڈ! آج میں بہت خوش ہوں آج میری سالگرہ ہے آخر کار آج میں آزاد ہوں ۔

اس کی مام نے اسکی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ دی۔ اسکے ڈیڈ بھی مسکرانے لگے۔

چلو ٹھیک ہے جلدی سے یہاں آؤں تمہارے لیے ہم تمہاری سالگرہ کا کوئی ڈریس سلیکٹ کر لیں ۔

اس کی ماں نے اس کے بازو کو نرمی سے پکڑتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ روم کی طرف چل پڑی ۔اس کے لئے ایک خوبصورت سی فراک نیوی بلو کلر کی سلیکٹ کی ۔

اس نے چینج کیا ، سادہ سا میک اپ کیا اور سیاہ رنگ کی فلیٹ پہن کے گھومتی ہوئی سیڑھیوں سے اتر رہی تھی لیکن درمیان میں ہی رک گئی اس نے دیکھا کہ اس کے ڈیڈ ایک بوڑھے آدمی اور اس کی بیوی کو سلام کررہے تھے ۔

وہ راستے سے ہٹے اور ایک دبلا پتلا نوجوان اندر داخل ہوا وہ فورا جان گئی کہ وہ کون تھا اس کی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی اس کے بال پیچھے سے کٹے ہوئے تھے اس نے اپنے ہاتھ جیب میں رکھے ہوئے تھے جب اس نے سامنے والے دروازے کی طرف دیکھا یہ کوئی اور نہیں لیو تھا اور ساتھ میں اس کے والدین لیکن وہ یہاں کیا کیا کرنے آیا تھا اس کا پرانا دوست اس نے اپنی تینوں سالگرہ پر اس کو نہیں دیکھا تھا ۔

وہ اس کی سالگرہ پر جانا چاہتی تھی لیکن اسے یاد تھا کہ اس کو اجازت نہیں تھی لیکن وہ یہ جانتی تھی کہ لیو کو کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ہر چیز کا خود باس تھا یعنی وہ خود نہیں آیا تھا اس کی سالگرہ پہ۔

وہ اپنے خیالوں میں گم تھی جب اس کے ڈیڈ نے اس کو آواز دی روبی مسکرا کے اپنے بالوں کو کندھے پر ڈالتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے ان کی طرف بڑھی ۔

یاد ہے یہ کون ہیں؟

اسکے ڈیڈ نے روبی کو مسکرا کے دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا تو وہ ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دی ۔

جی ڈیڈ مجھے یاد ہے وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔

آپ کو یہاں دیکھ کر اچھا لگا ۔

لیو کے موم ڈیڈ نے مسکراتے ہوئے دیکھا اور اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا جبکہ لیو اپنے بازو سینے پر باندھے اس کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا ۔

تم دونوں جاؤ جاکے آپس میں بات کرو ۔روبی کے ڈیڈ نے کہا تو وہ پریشانی سے اس کو دیکھنے لگی جبکہ لیو مسکراہٹ دانتوں میں دبائے ابھی تک روبی کو ہی تک رہا تھا ۔

وہ مجھے بھوک لگی ہے۔

روبی نے اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کہا تو لیو نے اسے گھورا تھا ۔

وہ ایکسکیوز کرتے ڈرائنگ روم میں چلی گئی اور وہاں سے واشروم میں گھس گئی اس نے اپنا منہ دھویا اور دوبارہ سے لپ اسٹک لگائی اور لائٹ بند کرکے باتھ روم سے باہر نکلی جیسے یہ وہ باہر نکلی سامنے لیو اپنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔

کافی وقت لگ گیا ۔

وہ بڑبڑایا تو وہ اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگی ۔

اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر وہ گھبرائی تھی ۔اس نے روبی کا ہاتھ پکڑا تو روبی نے جھٹک دیا اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے روبی کی طرف دیکھا اور پھر سے ہاتھ پکڑا ایک جان لیوا گرفت کے ساتھ اور اسے ہلکے سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا ۔

کیا ہم تھوڑی دیر باہر چل کے بات کر سکتے ہیں؟

اس نے دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کرتے کہا تو وہ جلدی سے اس سے دور ہوتی ہوئی ہاں میں جواب دے گی ۔

اور اسکے ساتھ سیڑھیوں سے نیچے اتری اور پچھلے دروازے سے باہر نکل گئے کچھ دیر وہ خاموش بیٹھے رہے اور ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے رہے ۔

تو زندگی کیسی ہے؟

لیونے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا۔

بورنگ!

روبی نے جواب دیا اور اس نے سر ہلایا پھر خاموش ہو گیا ۔

تو اب تم 18 کی ہو گئی ہو۔

اس نے پھر سے خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔

ہاں یہ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور تم بھی تو 21 کے ہو چکے ہو ۔

اس نے سر ہلایا تو روبی نے آہ بھری ۔

اب یہاں کیوں آئے جیسا کہ میری تین سالگرہ یاد نہیں تھی تمہیں اور نہ تم آئے تو اب کیوں آئے ہو پھر؟

وہ شکوہ کرتی نظروں سے لیو کو دیکھنے لگی۔

میں تمہیں نہیں بتا سکتا۔

اس نے جواب دیا اور گلا صاف کیا ۔

ٹھیک ہے پھر ۔

وہ بے ساختہ مسکرائی اور پھر دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔

وہ پہلے کی طرح نہیں لگ رہا تھا ۔

اس بات کا یقین تھا کہ وہ ابھی بھی بدتمیز تھا لیکن وہ بالکل خاموش لگ رہا تھا اس کی آواز میں روبی کے جذبات کی پرواہ کرنے کا کوئی اشارہ نہیں تھا محبت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا وہ واپس آئے اور روبی اپنے ڈیڈ کے پاس بیٹھ گئی۔

وہ سب باتوں میں مصروف تھے اور اسی طرح دوپہر گزر گئی رات کا کھانا تیار ہوا تو نوکرانی نے آکر بتایا اور سب اٹھ کے ڈائننگ ٹیبل کی طرف چل پڑے ۔

سب کرسیوں پر بیٹھ گئے لیو روبی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا جب کہ اس کے والدین ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے ۔وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے بات شروع کریں یا نہیں۔

آخر لیو کے ڈیڈ نے آہ بھری اور بات شروع کی ۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یونین اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔

روبی نے کھانا چھوڑ دیا جب کہ اس کے والدین کافی خوش دکھائی دے رہے تھے لیو کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا وہ اسے الجھن میں لگ رہا تھا۔

کیا ہو رہا ہے؟

روبی نے پوچھا اور اسکے والدین نے آہ بھری ۔

روبی بیٹا ہم نے تمہاری اور لیو کی شادی تمہاری اٹھارویں سالگرہ کے ایک ہفتے بعد کرنے کا انتظام کیا ہے اس کی والد نے وضاحت کی۔

کیا ہم شادی کر رہے ہیں!؟

وہ کھڑی ہوکر چیختے ہوئے بولی۔

بیٹا بیٹھ جاؤ اس کی ماں نے سختی سے کہا تو وہ پھر سے بیٹھ گئی۔

وہ لیو کو حیرت سے دیکھنے لگیں یعنی وہ جانتا تھا۔

تو تم جانتے تھے تمہیں معلوم تھا وہ لیو کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔

میں اپنی 18ویں سالگرہ سے جانتا تھا ۔

اس نے سنجیدگی سے بنا اس کی طرف دیکھ کے جواب دیا۔ روبی کا حیرت سے منہ کھل گیا ۔

لیو کو اجازت نہیں تھی کہ وہ تمھیں دیکھے یا بتائے۔ روبی کے ڈیڈ نے مزید وضاحت کی اور وہ سب کی طرف حیرت سے دیکھنے لگی ۔

مطلب ایک ہفتے میں میری لیو سے شادی ہے۔

وہ چونک کر بولی تو سب نے سر ہلایا۔

ایسا نہیں ہو سکتا۔

وہ بڑبڑائی۔

ہم کل شاپنگ کرنے جا رہے ہیں باقی سب کچھ تیار ہے۔

روبی کی مام نے کہا۔

روبی کے ڈیڈ نے اس کا مضبوطی سے ہاتھ تھام لیا۔

بیٹا پلیز انہوں نے التجا بھری نظروں سے روبی کی طرف دیکھا تو زبردستی مسکرا دی اور خوش ہونےکی ایکٹنگ کی جب کہ وہ اس وقت بہت اداس اور حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔

وہ ایکسکیوز کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی دروازہ بند کر دیا اور جا کر بستر پہ گر گئی کافی دیر ایسے ہی پڑی رہی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ اپنا منہ تکیے میں دے کر زور سے چیخی جب تک کہ اسے اپنے گلے میں درد محسوس نہ ہوا۔ اس نے تکیے سے منہ نکالا اور دور پھینکا اور چھت کی طرف دیکھنے لگی ۔

مجھے اس لڑکے سے نفرت ہے میں ایسے لڑکے سے شادی نہیں کر سکتی جس کو میں جانتی بھی نہیں ہوں۔

وہ غم۔و غصے کی کیفیت میں بولی رہی تھی جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اور لیو کمرے میں داخل ہوا۔

وہ بستر سے اٹھی اور لیو روبی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔

کیا تم یہ چیخنا چلانا بند کرو گی؟ آگے اگر ایسی حالت ہو گی نہ تمہاری شادی کے بعد تو میں تمہیں مکھی کی طرح مسل دوں گا ۔

اوہو! پلیز تم تو ایک مکھی کو بھی نہیں مار سکتے۔

وہ تنک کر بولی لیو کو غصے دلانے کے لیے۔

وہ اس کے قریب ہوا تو رو بی پیچھے کی طرف ہوئی اور اس کی پیٹ دیوار سے جا لگی لیو اس سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔

دیکھو روبی میں نے لوگوں کو مارا اور کسی کی بھی جان لینا میری لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور میری منگیتر کے لئے بھی کوئی رعایت نہیں ہوگی اس معاملے میں ۔

اس نے سرگوشی کی ۔

اس کی اس بات پر روبی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی اسے خود میں خوف اترتا محسوس ہوا لیکن وہ خود کو اس کے سامنے مضبوط ثابت کرنا چاہتی تھی ۔

وہ خود کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش میں اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتی۔ سپاٹ انداز میں لیو کو دیکھنے لگی وہ اس کے اور قریب ہوا اور اپنا ہاتھ اس کے گال کے قریب لایا لیکن اس نے چھوا نہیں ۔

بدقسمتی سے شادی تک تم کو چھو نہیں لگا سکتا۔

اس نے سرگوشی کی تو روبی نے سکون کی سانس لی۔

تو تب تک پیاری لڑکی یہ رہی تمہاری انگوٹھی اس نے جوڑا اور ایک چھوٹا سا ڈبہ روبی کے حوالے کیا اور ایک نظر اسے دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ روبی نے دروازہ بند کیا اور وہ ڈبہ کھولا جس میں خوبصورت ہیرے کی انگوٹھی تھی اس نے اسے اپنی انگلیوں پر چھوا پھر ایک آہ بھری اور اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی ۔

روبی اٹھ جاؤ جلدی سے۔ ہر وقت سوتی رہتی ہو۔

اسکی مام اسے جگانے کی کوششیں کر رہی تھیں۔

کیا مسئلہ ہے؟ سونے دیں نا!

وہ نیم بیدار آنکھوں سے اپنی مام کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔

اٹھ جاؤ ہمیں شاپنگ کرنے جانا چلو جلدی سے اٹھو شاور لے لو ۔

اسکی مام نے اسکا کمبل کھینچا اور زبردستی اسے اٹھا کے کھڑا کیا تو وہ منہ بناتی دھیرے دھیرے چلتے واشروم چلی گئی۔

وہ شاور لے کے ہاہر نکلی تو مسز جیمز (لیو کی مام) روبی کی مام سے باتیں کررہی تھیں۔

روبی کو ییلو لانگ فراک پہنے دیکھ کر دونوں نے منہ بنایا اور چینج کرنے کا کہا۔

اف او! یہ بوڑھی عورتیں بھی نا، انکو کوئی چیز پسند نہیں آتی۔

وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی اور اب کی بار وہ وائٹ کلر کا ایک خوبصورت سا شارٹ فراک پہنے باہر نکلی جسمیں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔

بہت پیاری لگ رہی ہے کچھ ہی دن میں ہم لے جائیں گے اسے اپنے گھر۔

مسسز جیمز محبت بھرے انداز میں بول رہی تھیں اور روبی کو دیکھ رہی تھیں۔ روبی کی مام بھی بے حد پیارسے اسے دیکھے جارہی تھی۔

میری پیاری بیٹی۔

وہ روبی کو ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے کہنے لگیں۔

چلو اب شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔

مسسز جیمز نے مسکراتے ہوئے کہا اور تینوں کمرے سے باہر چلے گئے۔

کافی دیر تک وہ شاپنگ کرتے رہے اور شام کو روبی پنی مام کے ساتھ گھر لوٹی۔ اور آتے ہی اتنے بستر پہ ڈھے سی گئی۔

اف صرف سات دنوں میں میری شادی ہے۔ کتنی ٹینشن ہورہی ہے مجھے۔ اتنا نروس ہورہی ہوں میں۔ آخر کیوں مجھے اس لڑکے سے شادی کرنی پڑ رہی ہے۔

میری پسند میری مرضی کا کسی کو کوئی خیال نہیں اگر میں نے انکار کیا تو نجانے کتنا خون خرابا ہوگا اور پھر جو میرے ساتھ ہوگا وہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

وہ چھت پہ نظریں گاڑھے ہوئے دل ہی دل میں سوچے جارہی تھی۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔ 

صبح اٹھی اور تیار ہوگی اور اپنی موم کے ساتھ لیو کے مینشن ہاؤس پر چلے گئے ۔ 

پورا منشن دیکھنے کے بعد مسز جیمز ان دونوں کے لئے لیو کے کمرے میں آئی ۔

یہ رہا تمہارا کمرا یہ دیکھو ۔

وہ تینوں لیو کے کمرے میں داخل ہوئے تو لیو کی مام نے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو روبی نے کمرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی ۔

بہت ہی بڑا کمرہ تھا پورے کمرے میں سفید کارپٹ بچھا ہوا تھا کمرے کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا بیڈ تھا جس کے چاروں طرف باریک پردے لگے ہوئے تھے۔

بیڈ کے دونوں طرف سائیڈ ٹیبل رکھی تھی خوبصورت نائٹ لیمپ ان پہ رکھے تھے ۔

باتھ روم بھی بہت بڑا تھا جسمیں گلاس پشاور لگا ہوا تھا دو سینک تھے ایک بڑا سا باتھ تب ۔کمرہ اتنا بڑا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ مینشن کا آدھا حصہ کمرے میں سما گیا ہوں ۔

روبی حیرت سے کمرے کو تکے جا رہے تھے ۔ 

پورا مینشن گھومنے کے بعد وہ واپس آگئے ۔ روبی نے اپنا سارا سامان پیک کیا اور یہاں تک کہ اس کا کمرہ خالی نظر آنے لگا اپنے کپڑے میک اپ ہیئر برش ٹوتھ برش اپنے شوز اور اپنی ساری چیزیں اس نے بہت احتیاط سے بیگ میں پیک کی ۔

تبھی اس کے ڈیڈ کمرے میں داخل ہوئے ۔

سب کچھ کتنا جلدی ہو رہا ہے ۔

وہ سرگوشی میں بولی ۔

اس کے ڈیڈ نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

کوئی بات نہیں پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔

وہ بولے تو روبی نے ہاں میں سر ہلایا ۔

باقی صرف دو دن رہ گئے تھے ان کی شادی ہونے میں ۔

وہ صوفے پر بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑے جا رہی تھی ۔

وہ بہت نروس تھی ۔ غصے میں اور ڈری ہوئی بھی ۔ 

وہ لمبے لمبے سانس لیتی آنکھیں موند گی ۔

آخر کار شادی کا دن آن پہنچا ۔چاروں طرف چہل پہل تھی۔

روبی کو ایک بڑے سے ریڈ فراک میں اسٹیج پہ لایا گیا ۔

جہاں لیو پہلے سے ہی بیٹھا تھا ۔اسے آتا دیکھ سب کی نظریں اس پر چلی گئی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی بالکل ایک پری کی طرح ۔

کچھ دیر میں ان دونوں کی شادی ہوگئی ۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی روبی نے قبول کرلیا ۔

سب لوگوں نے دعائیں دیں اور خوشیاں منانے لگے ۔

روبی نے لیو کی طرف دیکھا جس کا چہرہ ابھی بھی سپاٹ تھا خوشی کے کوئی جذبات نظر نہیں آرہے تھے ۔

اس نے ایک سرد آہ بھری اور اپنے ناخنوں پر لگی نیل پالش دیکھنے لگی ۔

کچھ دیر میں رخصتی ہوئی روبی نے روتے ہوئے اپنے والدین کو گلے لگایا ۔

رونے کی بات نہیں ہے بیٹا بس دس منٹ کے سفر پر ہے تمہارا مینشن ۔ہم ملنے آتے رہیں گے میری گڑیا ۔

اس کے ڈیڈ نے اس کے ماتھے پے پیار کرتے ہوئے بولا ۔

اور کچھ دیر میں وہ روانہ ہوئے ۔

لیو اور روبی گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھے تھے جبکہ گاڑی ڈرائیور ڈرائیو کر رہا تھا ۔

وہ خاموشی سے بیٹھے تھے ۔لیو کار کے شیشے سے باہر کی طرف دیکھ رہا تھا روبی نے دیکھا تو اس نے بھی منہ بناتے ہوئے کار سے باہر دیکھنا شروع کر دیا ۔

وہ اپنے گھٹنے پہ انگلیاں ٹیپ کیے جا رہی تھی جب اسے اپنے بازو پہ کسی کی گرفت کا احساس ہوا ۔

اس نے لیو کی طرف دیکھا ۔

لیو نے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔اور اپنے دوسرے ہاتھ کو بھی روبی کے دوسرے بازو کے رکھ دیا ۔اس کے چہرے پہ جھکنے لگا ۔

وہ روبی کے گال پر اپنی بیئرڈ رب کرنے لگا تو روبی نے جھٹکے سے اسے دور کیا ۔

اسٹاپ اٹ! 

وہ سختی سے بولی تو لیونے غصے سے دیکھا اور چھوڑ دیا ۔ باقی کا سفر خاموشی سے کٹا کچھ ہی دیر میں وہ مینشن ہاؤس پہنچ چکے تھے ۔

وہ دونوں اپنے کمرے میں گئے ۔روبی نے جیولری اتاری اپنا میک اپ صاف کیا اور نائٹ سوٹ لیے واش روم میں گھس گئی ۔ باتھ لے کے کمرے میں واپس آئی۔ 

لیوجو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا شیشے میں خود کو دیکھ رہا تھا روبی پر اس کی نظر پڑی تو اس کی طرف بڑھا اس کی کمر کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتے دوسرے بازو سے اس کا ہاتھ پکڑتے اس کی طرف دیکھنے لگا جیسے ہی اس کی نظر روبی کی انگلیوں پہ گی اس کی انگلی میں انگوٹھی نہ دیکھ کے لیو کے چہرے پر سنجیدگی آئی تھی ۔

تمہاری انگوٹھی کہب ہے؟ کیا تم نے اتار دی؟

ہماری شادی ہوئی ہے اور تم وہ انگوٹھی اتار نہیں سکتی۔ 

اس سے پہلے کہ روبی کچھ بولتی وہ پھر سے سنجیدگی سے بولا تھا ۔

رات کو میرے چہرے پہ نہ لگ جائے یا پھر گر نہ جائے اس لیے میں نے اتار کے رکھی ہے ۔

وہ بھی اسکی آنکھوں میں جھانکتے بولی تو لیو نے اسے چھوڑا اور وہ بیڈ کی طرف بڑھنے لگی۔

کھڑوس، اکڑو کہیں کا۔

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی پر لیو کے کانوں تک اسکی سرگوشی پہنچی تھی وہ اسکے پیچھے آیا۔

روبی کے قدم وہیں رک گئے تھے اسکا حلق خشک ہو گیا۔ وہ تیزی سے بیڈ پہ جا بیٹھی اور کمبل اپنے اوپر اوڑھنے لگی۔ 

لیو بھی اسکے پیچھے چلتے بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹ گیا اور روبی کو دیکھنے لگا۔ اسکی نظریں خود پہ محسوس کرتے روبی کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھیں۔ 

کیوں ڈر رہی ہو روبی تم؟ میں تمہیں ہرٹ نہیں کرونگا۔ 

لیو اسکے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی میں کہنے لگا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.