adults, couple, together-1869541.jpg

Novel: My Possessive mafia

𝗪𝗿𝗶𝘁𝗲𝗿: 𝗕𝗮𝗿𝗯𝗶𝗲 𝗕𝗼𝗼

𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲: #10

تین گھنٹے گزر چکے ہیں وہ کہیں سے آتی دکھائی نہیں دے رہی اور نہ ہی مجھے لگتا ہے کہ وہ تمہاری بات مانے گی ۔

ویسے کیا میں تم سے ایک بات پوچھ سکتا ہوں لیو؟

لیو کے برابر بیٹھے بین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔

ہاں بولو کیا پوچھنا چاہتے ہو تم ؟

وہ سپاٹ لہجے میں بولا جب کہ اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی ۔

کیا کچھ ایسا ہے جو تم چھپا رہے ہو جو میں نہیں جانتا ؟

میرا مطلب ہے کہ سیلنگ اور تمہارے بیچ ۔ ۔

میرا مطلب ہے کہ سیلن اور تمہارے بیچ ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں چھپا رہا میں ۔۔۔اور نہ ہی ایسا کچھ ہے فالتو میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔

کہاں ہے وہ فائل۔۔جاؤ ان پہ سائن کروا کے آؤ اسکے۔

بین کی بات کا جواب دیتے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔

میں؟ میری کوئی بات نہین سنے گی وہ۔۔۔تم جاؤ۔

بین نے صاف انکار کرتے کندھے اچکائے تھے۔

اگر بات نہ مانے تو اس بار اسکی منتیں کرنے کی بجائے دو لگانا اسکے منہ پہ۔۔۔۔

لیو نے غصے سے کہا تو بین کو جھٹکا لگا تھا۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟

کچھ دیر پہلے تو کہہ رہے تھے وہ چھوٹی بچی ہے تم اسے کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے اور اب کہہ رہے ہو دو تھپڑ لگادوں اسے۔۔۔۔

تم ٹھیک تو ہو نا لیو؟

بین نے حیرانگی سے اسے دیکھتے پوچھا تھا۔

ہاں ٹھیک ہوں میں۔۔۔اب اگر وہ خود ہی اپنے لیے یہی چننا چاہتی ہے تو میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔جاؤ تم اور جیسا کہا ہے ویسا کرو۔

غصے سے اسکی کنپٹیوں کی رگیں تیزی سے پھڑ پھڑارہی تھیں۔

بین صورت حال کو دیکھتے ہوئے چپ چاپ ڈرائنگ روم سے نکلتے سیلن کے روم کی طرف بڑھ گیا۔

آگئے تم!

دروازہ کھلتے ھی وہ بیڈ سے چھلانگ لگاتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

سامنے لیو کی بجائے بین کو دیکھ کے اسکا منہ بنا تھا۔

تم کیوں آئے ہو؟

بے رخی و غصے سے کہتے وہ اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

لیو نے بھیجا ہے سائن کے لیے۔

مختصر سا جواب دیتے وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں سائن تب ہی کروں گی جب لیو میری شرط پوری کرے گا۔

بے نیازی سے کہتے وہ بین کو تپ چڑھا رہی تھی۔ ایک تو اسے لیو کا برتاؤ عجیب لگ رھا تھا اور اوپر سے یہ ضدی لڑکی اسے پریشان کرنے میں کوئی کسر نہین چھوڑ رہی تھی۔

اگر تم نے اب سائن نہیں کیا تو۔۔۔

تو کیا؟ مارو گے مجھے؟

بین کی بات بیچ میں کاٹتے وہ اسکے مزید قریب ہوتے اسکی أنکھوں میں دیکھتے بولی تھی۔

ہاں!

اس سے پہلے کہ وہ اسکے حسن سے بہکتا وہ واپس ہوش میں آتے گویا ہوا۔

مارو! میں بھی ماروں گی پھر تمہیں!

سر اونچا کرتے وہ سپاٹ لہجے میں کہتے بین کو ٹھٹھکنے پہ مجبور کرگئی تھی۔

اگلے ہی پل ایک جھٹکے میں وہ اسکے بال ایک ہاتھ میں سختی سے جکڑتے اسے اپنی طرف کھینچتے غصے سے اسکی أنکھوں میں دیکھنے لگا۔

تنگ کیے بنا بات نہیں مان سکتی کیا؟

نہیں!

بنا ڈرے وہ بھی دو ٹوک انداز میں بولی تھی۔

تمہیں لیو ہی اب أکے پوچھے گا۔۔۔۔۔مجھ سے نہیں ہورہا یہ سب۔

فائل بیڈ پہ پھینکتے وہ تیزی سے کمرے سے نکلتے ڈرائنگ روم کی طرف چلا گیا۔

ہاں۔۔۔مین بھی تو یہی چاہتی ہون کہ لیو ہی سنبھالے مجھے۔۔۔

بالون کو ہوا میں لہراتے وہ چہکتے کہہ رہی تھی۔

ہوں؟

بین کو آتے دیکھ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

تم ہی جاو جا کے لاڈ اٹھاؤ اسکے کیونکہ اگر مین نے اسے کچھ کہا تو وہ بدلے میں میرا بھی وہی حشر کرے گی۔

مجھے یہ نہین سمجھ أرہا کہ آخر تم اسے کچھ کہہ کیون نہیں رہے

کیا اسکے سائن کے بنا کام نہیں ہو سکتا؟

بین نے بجھے بجھے انداز میں کہا۔

دراصل یوکے والی ڈیل کے لیے اسکا سگنیچر لازمی ہے۔

اور مین اس لیے اسے کچھ نہین کہہ رہا کیونکہ تم جانتے ہو

میں اگر غصے میں آگیا تو پھر کیا کروں گا۔۔۔۔وہ برداشت نہیں کرپائے گی۔۔۔اسکے دل مین ہول ہے تو بنا کسی سختی زبردستی کے ہمہین اسے پیار سے منانا ہوگا۔

لیو نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے چھت کو تکتے اسے پوری بات بتائی تھی۔

کیا؟ اسکے دل میں ہول ہے؟ تو۔۔۔تو تم نے مجھے کیون کہا کہ میں جاکے اسے دو لگادوں؟

بین حیرت و صدمے سے کہنے لگا۔

کیونکہ میں جانتا تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔نوٹ کررہا ہوں میں جب سے یہاں آئے ہو تم پھر سے انسانیت جاگنے لگی ہے تم میں۔

لیو نے آنکھ ونک کرتے شرارت سے کہا۔

حد ہوگئی یہ تو۔۔۔ تو تم میرا امتحان لے رہے تھے۔

پر وہ کافی حق سے تمہارا نام لیتی ہے جیسے کوئی گہرا رشتہ ہو تم دونوں کا۔۔۔

بین نے کہا۔

ان باتوں کو چھوڑو تم۔۔۔۔ایسا کرو واپس جانے کا انتظام کرو مین سیلن کو دیکھ کے آتا۔

ایک بار پھر سے ٹال مٹول کرتےوہ بین کو سوچنے پہ مجبور کرگیا۔

ٹھیک ھے جناب!

بین نے مسکراتے کہا اور ڈرائینگ روم سے باہر چلا گیا ۔

لیو بھی اٹھا اور وہاں سے نکلتے سیلن کے روم کی ظرف بڑھ گیا۔

اسکو کیوں بھیجا تھا؟

لیو جیسے ھی کمرے میں داخل ہوا وہ منہ پھلائے ناراضگی سے کہنے لگی۔

اور کتنی دیر تک تنگ کرنا ہے مجھے؟

لیو اسکی ناراضگی کی پرواہ کیے بنا تھکے تھکے انداز میں بولا تھا۔

اسے یوں مجبور سا دیکھ کے سیلن کو برا لگا تھا۔

میں تنگ تو نہیں کررہی۔۔۔۔تم کتنے سالوں بعد آئے ہو وہ بھی جب تمہیں میری ضرورت پڑی تو۔۔ُاگر ضرورت نہ پڑتی تو شاید تم کبھی نہ آتے۔

تمہیں یاد ہے نا تم نے کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔

سب یاد ہے مجھے۔۔۔۔سب کچھ! کچھ نہیں بھولا میں۔۔۔

سیلن کے لبوں پہ انگلی رکھتے اسکی بات کاٹتے وہ بولا تھا۔

تو پھر کیوں مجھے یہاں اکیلے چھوڑ کے جاتے ہو۔۔۔مجھے ضرورت ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔میرے پاس رہو پلی

وہ لیو کے گلے لگتی رونے لگی تھی۔

تم بہت بہادر ہو۔۔میری طرح ۔۔۔اور مین روتا بالکل نہین ہون سب کو رولاتا ہوں جانتی ہونا تم۔۔۔

وہ اسے بہلانے لگا۔

مجھے اب یہاں پہ اکیلے نہیں رہنا۔۔۔۔۔مجھے بھی تم اپنے ساتھ اپنے مینشن میں لے جاؤ نا۔

وہ ہتھیلیون سے آنسو صاف کرتی معصومیت سے کہنے لگی۔

میرا بچہ! میں جانتا ہوں سب۔۔۔تھوڑی سی اور بڑی ہوجاؤ پھر لے جاؤں گا یہاں سے۔

سیلن کے چھوٹے سے چہرے کو اپنے مضبوط ہاتھون کے پیالے میں بھرتے وہ محبت سے کہنے لگا۔

میں بڑی ہوچکی ہوں۔۔۔مجھے تمہارے ساتھ جانا ہے۔

وہ بچوں جیسے ضد کرنے لگی۔

بٹ آئی۔۔۔۔

کہا نا کچھ نہیں بولنا۔۔۔۔

اسکے ہلتے لبوں کو وہ ساکت کر چکا تھا۔

جب تک سہی وقت نہیں آجاتا تب تک بالکل چپ رہنا۔۔۔۔زیادہ تنگ مت کیا کرو مجھے۔۔۔میں ایسا کروں گا بین کو یہی چھوڑ جاتا ہوں تم اسے جی بھر کے تنگ کرنا۔

سیلن کے روئی کی طرح نرم و سفید گالوں کو چھوتے اسکے لبوں پہ مسکراہٹ لانے کی کوشش کرنے لگا۔

نہیں۔۔وہ مجھے پسند نہیں۔۔۔۔تم رکو نا میرے پاس لیو۔۔۔مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔تم میرے لیو ہو نا۔۔۔۔

وہ ضد کرنے لگی۔

نہیں لے کے جا سکتا اپنے ساتھ۔۔۔یہاں پہ بہت مجبور ہوکے آیا ہوں اور تمہاری اس ضد کی وجہ سے سب کو پتہ لگ جائے گا وہ جو آج تک کسی کو پتہ نہیں لگنے دیا۔

اچھے بچوں کی طرح بات مان لو پلیز۔۔۔۔۔پہلے ہی بین بہت سوال کررہا تھا۔

سیلن۔۔۔۔

وہ اسکی ادھوری بات سن کے ہی ڈریسنگ روم کی طرف بھاگتے تیزی سے داخل ہوتی روم لاک کردیا۔

بچے! سیلن! پلیز تنگ مت کرو۔۔۔میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرو گڑیا۔

ایسے خود کو لاک کرکے مجھے تکلیف دے رہی ہو تم۔۔۔۔

لیو نے بے بسی سے کہا۔

مجھے اپنے ساتھ لے کے جاؤ گے یا نہین؟

تم پیار کرتے ہونا مجھ سے؟

تمہاری مسسز مافیا میں ہی بنوں گی نا؟

بولو۔۔۔

ڈور کے اس پار سے سیلن کی آواز آئی تھی۔

لیو نے اپنا سر پکڑے جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔ اسکی انہی باتوں کی وجہ سے وہ یہاں نہیں آتا تھا پر اب کیا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

کہ نہ وہ اسے رونے دے سکتا تھا نہ کسی بات کا سٹریس کہ اسکی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

أجاؤ باہر۔۔۔اپنے ساتھ لے جاؤں گا اپنے مینشن۔

وہ بے بسی سے ہار مانتے بولا۔

تھینک یو! تم بہت اچھے ہو لیو! اب ہم ساتھ رہیں گے۔ “ہرے!”

وہ تیزی سے ڈور اوپن کرتے لیو کے سینے سے آلگی تھی۔

میری بات ماننی پڑے گی پھر!

لیو نے اسے چہکتے دیکھ کے کہا۔

کونسی بات؟

وہ منہ بناتے کہنے لگی۔

ابھی جو بھی تم نے کہا ڈریسنگ روم میں وہ دوبارہ کبھی بھی کسی کے سامنے نہیں کہو گی سمجھ آئی؟

وہ اسے تاکید کرنے لگا۔

کیوں؟ کیوں نا بولوں؟ تو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتے اور تم۔۔۔۔۔

بار بار ایک ہی بات کہنا بند کرو سیلن! اگر تم میری باتیں نہین مان سکتی تو مین بھی تمہیں اپنے ساتھ لے کے نہین جا سکتا۔

وہ کچھ سختی سے بولا۔

اوکے مجھے جانا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔مانوں گی بات۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کہہ گئی۔

تم کسی کو بھی اپنی ایج نہیں بتاؤ گی اور نہ ہی ہمارا رشتہ کسی کو پتہ لگنا چاہیئے۔۔۔وہ ساری باتیں جو اب تک ہمارے بیچ ہوئی ہیں وہ کسی سے نہیں کہو گی تم۔۔۔۔!

منظور ہے؟

اس نے سوالیہ نظروں سے سیلن کو دیکھا تو اس نے ہاں مین سر ہلایا کیونکہ وہ کسی بھی فیمت پہ لیو کے ساتھ جانا چاہتی تھی۔

گڈ! چلو اب سائن کرو اور پھر جانے کی تیاری کرو۔

لیو نے بیڈ پہ پڑی فائل اٹھاتے سیلن کو تھمائی اور اسکے ھاتھ مین پین پکڑاتے بولا۔

وہ خوشی سے اچھلتے ایک ہی سیکنڈ میں سیگنیچر کر چکی تھی۔

اوکے مین اپنا سامان پیک کرلوں!

وہ اپنے ڈریسنگ روم میں گھس گئی جبکہ لیو کے چہرے پہ پریشانی کے سائے لہرائے لگے وہ جانتا تھا کہ وہ جو کرنے والا تھا اس سے کافی مشکلات بڑھ جانی تھی اسکے لیے پر اس وقت اسکے پاس اور کوئی حل نہیں تھا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

اپنی ٹانگ پہ کسی بھاری چیز کا احساس ہوا تو اسکی أنکھ کھلی۔

اٹھ کے دیکھنا چاہا تو کسی کے مضبوط حصار نے اسکی کوشش ناکام بنائی تھی۔

گردن پھیری تو وہ اسکے برابر میں سکون سے لیٹا اسے اپنی مضبوط گرفت مین لیے ایک ٹانگ اسکی ٹانگ پہ رکھے سویا ہوا تھا۔

اس نے دھیرے سے اسکی بھاری ٹانگ سے اپنی نازک سی ٹانگ کو رھا کیا اور پھر اپنی کمر پہ موجود اسکی بازو کی مضبوط گرفت سے آزادہونے کی کوشش کرنے لگی۔

پر بے سود۔۔ایک تو وہ بہت کمزور محسوس کررہی تھی خود کو اور اوپر سے اسے بھوک سے چکر آنے لگے تھے۔

جب کوشش کے باوجود بھی اسکے حصار سے نہ نکل پائی تو وہ رونے لگی۔ اسکے رونے کی أواز سنان کے کانوں میں پڑی تو اسکی آنکھ کھلی۔

نینا کو اپنی بانہوں کے حصار میں قید بچوں کی طرح روتے دیکھ کے وہ چونکا تھا۔

کیا ہوا؟ رو کیوں رہی ہو؟

وہ کروٹ بدلتے رخ نینا کی طرف کرتے اسکے گال پہ بہتے آنسو صاف کرتے فکرمندی سے کہنے لگا۔

بھوک لگ رہی ہے۔

وہ سوں سوں کرتے بولی تھی۔

اسکی بات سنتے سنان نے بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا۔

بھوک لگ رہی میرے بےبی کو۔۔۔۔مجھے کھا لو گی نا؟

وہ ہنسی دانتوں تلے چھپاتے اسے تنگ کرتے کہنے لگا۔

سنان کو یوں اسکا مذاق اڑاتا دیکھ نینا کا خون کھولا تھا پر اسمیں اتنی ہمت بھی نہین تھی کہ اسے اس وقت ایک مکا رسید کر سکے اسی لیے دانت پیس کے رہ گئی۔

آئی پرامس۔۔۔۔تمہاری بھوک مٹ جائے گی۔۔۔بہت ٹیسٹی ہوں میں۔

اسکے لبوں کی قریب اپنے لب لے کے جاتے وہ خمار آلود آواز میں کہتا نینا کو تپانے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔

مجھے بھوک لگ رہی ہے سنان۔

وہ پھر سے سوں سوں کرنے لگی۔

مجھے بھی!

وہ بچلا لب دانتوں تلے کچلتے معنی خیزی سے بولا۔

نینا کا زرد پڑتا چہرہ سنان کو پریشان کررہا تھا۔ اگلے ہی پل بیڈ سے اترتے وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔

نینا دھیرے کے اٹھتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں سنان ہاتھ میں ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوا۔

یہ لیں سویٹ ہارٹ! آپکا ناشتہ!

ٹرے اسکے سامنے رکھتے وہ پیار سے بولا تھا۔

یہ لو جوس!

جوس کا گلاس نیناکے ہاتھ مین تھماتے وہ ہلکے سے مسکرایا تھا۔

وہ چپ چاپ جوس پینے لگی۔ اسے ناشتے میں مصروف دیکھ کے سنان مسکراتے ہوئے اس پہ ایک نظر ڈالتے شاور لینے چلا گیا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

ناراض تو نہیں نا لیو!

وہ کار کی بیک سائیڈ پہ لیو کے برابر میں بیٹھی معصوم شکل بناتے کہہ رہی تھی۔

نہیں!

دو ٹوک انداز میں جواب دیتے وہ بین سے کچھ ڈسکس کرنے لگا جو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے ابھی تک سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ لیو آخر کیا سوچ کے سیلن کو اپنے ساتھ لے کے جارہا تھا۔

جبکہ سیلن کی لیو کے بارے میں باتیں سننے کے بعد وہ تجسس کا شکار تھا کہ کچھ نہ کچھ تو تھا جو وہ چھپا رہا تھا۔

لیو کو باتوں میں مصروف دیکھ کے وہ اسکے شانے پہ اپنا سر رکھ کے آنکھیں موند گئی۔

لیو نے ایک نظر اسے دیکھا پر کچھ نہ کہا اور بین نے یہ بات نوٹ کی تھی۔

میں تنگ نہیں کروں گی۔

وہ سر اٹھاتے لیو کی طرف دیکھتے پیار سے بولی تھی۔

ہزار پریشانیاں سہی لیکن اُس پل اسکے چہرے کی معصومیت ، جھلکتا نور اور اسکے لبوں پہ پھیلی مسکراہٹ دیکھ کے اسے خود میں بے حد سکون و اطمینان اترتا محسوس ہوا تھا۔

مجھے امید تو نہیں ویسے پر شاید ایسا کرو۔

وہ مسکراتے ہوئے اسکے گال تھپتھپاتے کہنے لگا۔

وہ لیو سے ڈھیروں باتیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ہزاروں سوال پوچھنا چاہتی تھی لیکن بین بھی گاڑی میں تھا تو وہ کچھ نہ کہہ سکی۔ پر چپ چاپ اسکے کندھے پہ سر رکھے أنکھیں بند کرلی کہ اب وہ اسکے ساتھ جارہی تھی اور اسکے ساتھ ہی رہنے والی تھی۔

کتنی مشکل سے روبی کو یقین دلایا تھا۔۔۔۔کتنی مشکل سے وہ اسے اپنے قریب لایا تھا۔۔۔ُاسکی قربت، اسکا لمس، اسکی محبت اور اسکا یقین جو بھی اسے ملا تھا وہ اب لیو کو خود سے دور جاتا محسوس ہورہا تھا۔

مینشن کی طرف جیسے جیسے گاڑی سفر کرتی جارہی تھی لیو کا دل بے چین ہورہا تھا۔۔۔۔وہ کیسے سمجھانے گا روبی کو پر سمجھائے گا بھی کیا۔۔۔۔

فلحال تو وہ کچھ بتا بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔دل ٹوٹتا بکھرتا نظر آرہا تھا۔۔۔ایک بار پھر سے اسے اپنا وجود چھلنی ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

روبی سے دوری برداشت نہیں کر سکتا میں اب۔۔۔۔۔اسکے لمس کا نشہ اسکے بدن کی خوشبو اسکے بنا رہنا ناممکن ہے۔۔۔

وہ سر بیک سیٹ سے ٹکائے آنکھیں موندے خیالوں میں گم تھا۔۔آنے والے وقت کے لیے خود کو پہلے سے ہی تیار کررہا تھا کہ یہ ضروری تھا اشد ضروری!

وہ رات کے وقت مینشن پہنچے تھے۔۔۔

روبی لیو کا انتظار کرتے کرتے سو چکی تھی۔

لیو سیلن کو اسکے کمرے میں(جو کہ وہ پہلے ہی میڈ کو کہہ کے تیار کروا چکا تھا) سلا کے وہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا۔

(سیلن راستے میں ہی سو چکی تھی اسے جگانا مناسب نہ سمجھتے ہوئے وہ اسے بانہوں میں بھرے ہی کمرے میں لے کے گیا تھا اور اسکی نیند کا فائدہ اٹھاتے وہ چپکے سے اپنے روم میں چلا گیا ورنہ وہ ساری رات نہ خود سوتی نہ لیو کو سونے دیتی)

دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولتے وہ داخل ہوا۔

ڈور لاک کرتے ایک نظر بیڈ پہ سوئے کمبل میں لپٹے اس نازک وجود کو دیکھ کے وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔

چینج کرکے واپس آیا اور بیڈ پہ جاکے اسکے برابر لیٹ گیا۔

وہ سکون سے سوئی ہوئی تھی۔

لیو نے لائٹ آف کی اور نائٹ لیمپ آن کیا۔

کروٹ بدلتے رخ روبی کی طرف کرتےوہ اسکے چہرے کو دیکھنے لگا۔

کالی لمبی گھنی پلکیں ، اسکے سرخ گال اور اسکے گلابی لب جو سوکھے معلوم ہورہے تھے۔۔۔۔لیو کی نظر اسکے لبوں پہ رکی تھی اور دل مچلنے لگا تھا۔

غور سے اسکے لب دیکھتے انگوٹھے کو ہلکے سے پھیرتے وہ گہری سوچ میں گم تھا۔

ان سے دوری ناممکن ہے۔۔۔انکی مٹھاس میرے اندر کی تلخیوں کو کم کردیتی ہے ہنی۔۔۔۔۔انکی نرماہٹ میرے اندر سکون اتارتی ہے۔

امید ہے میرا یہ حق مجھ سے چھیننے کی کوشش نہیں کروگی تم۔۔۔۔

سرگوشی نما انداز میں کہتے وہ اسکے لبوں پہ جھکتے خود کو سیراب کرنے لگا۔۔۔جیسے جیسے اسکے لبوں کی مٹھاس وہ پیتا جارہا تھا۔

سارے دن کی تھکان اسے غائب ہوتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔کتنی ہی دیر تک وہ اپنی پیاس بجھاتا رہا۔۔۔۔

روبی کی آنکھ کھلنے لگی تو اسے خود میں بھینچے اسکے گرد اپنی بانہوں کا حصار مضبوط بناتے وہ آنکھیں موند گیا۔

سو جاو ہنی!

اسکے کان میں سرگوشی کرتے وہ اسکے ساتھ ساتھ خود پہ پرسکون ہوکے سوگیا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ شاور لے کے باتھ ٹاول لپیٹے باہر نکلا۔

ایک نظر نینا پہ ڈالی تو وہ بلینکٹ میں چھپی ہوئی تھی اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا تھا۔

مطلب وہ ناشتہ کر چکی تھی۔ 

ٹاول سے گیلے بال سکھاتے وہ بیڈ کی طرف آیا۔

دھیرے سے اسکے چہرے سے کمبل ہٹایا ۔۔۔۔وہ آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔۔۔۔اب اتنی جلدی تو نیند نہیں آجاتی مطلب بس سونے کی ایکٹنگ کررھی تھی محترمہ۔۔۔

سنان کو شرارت سوجھی وہ مسکرایا تھا اور اگلے ہی پل اپنے گیلے بال اسکے سرخ و سپید چہرے پہ ٹچ کیے۔۔۔۔

نینا نے فورا سے آنکھیں کھولی تھیں اور کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

گڈ مارننگ! 

نچلا لب دانتوں تلے دباتے اسے تنگ کرتے وہ شرارتا بولا۔

مجھے ابھی سونا ہے۔

منہ پھلاتے وہ خود پہ کمبل اوڑھنے لگی تو سنان نے کمبل کھینچتے سائیڈ پہ ڈالا تھا۔

ساری رات نیند ہی کی ھے۔۔۔۔اب بس اور نہیں سونا۔۔۔۔تم نے ناشتہ کرلیا نا اب مجھے بھوک لگ رہی ہے۔

ایک گھٹنہ بیڈ پہ رکھتے نینا کے چہرے پہ جھکتے وہ ذومعنی انداز میں کہتا اسکی رہی سہی نیند اڑا چکا تھا۔

سنان کی سانسیں اسے اپنے چہرے پہ محسوس ہورہی تھیں۔ 

نینا نے منہ دوسری طرف پھیرا تھا۔ اسکا یہ عمل سنان کو بالکل نہ بھایا تھا۔

اسکے چہرے کے تاثر پل بھر میں بدلے تھے۔۔۔

دوبارہ اسطرح مجھ سے منہ نہ موڑنا سمجھی تم! 

سختی سے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرتے اپنی طرف کرتے وہ غصے سے کہنے لگا۔

سنان کو غصہ میں آتا دیکھ کے نینا کو اسکا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔اس نے تھوک نگلی تھی۔۔۔۔چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا تھا وہ سب یاد آنے پہ جو کل رات ہوا تھا۔۔

نہیں۔۔۔۔میں نہیں کرونگی۔۔۔سوری۔۔۔پلیز مجھے اس کمرے میں بند مت کرنا۔۔۔

وہ رونی شکل بناتے بولی تھی۔ 

نہیں کروں گا بند ۔۔۔۔۔ رونا نہیں بس! 

سنان کے عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.