couple, embrace, lying down-1867688.jpg

Novel: My Possessive mafia

Writer: Barbie Boo

Episode:#11 

ادھ کھلی کھڑکی سے آتی سورج کی کرنیں کمرے میں

اجالا کررہی تھیں اور اک نئی صبح کا اعلان کررہی تھیں۔

کچھ ہی دیر میں سیلن آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔

بہت سکون کی نیند آئی رات تو۔۔۔۔لیو کہاں ہے؟

کمفرٹر سائیڈ پہ کرتے وہ بیڈ سے اتری اور کمرے کا جائزہ لینے لگی۔

اوہو۔۔۔۔میری پسند کے عین مطابق کمرے کو ڈیکوریٹ کیا گیا ہے۔ یقینا یہ لیو نے کروایا ہوگا۔

کمرے کے چاروں طرف دیکھتے وہ مسکرائی تھی۔

پورا کمرہ بےبی پنک کلر کی تھیم سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔۔۔سب کچھ سیم کلر کا۔

یہاں تو نہیں ہے لیو۔۔۔ہممم باہر جاکے دیکھتی ہوں۔

پورے روم میں لیو کو ڈھونڈنے کے بعد وہ کمرے سے باہر جانے لگی اور جیسے ہی ڈور اوپن کیا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے اسکے لبوں کی مسگراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔

تم! صبح صبح یہاں۔۔۔میرے کمرے کے سامنے ۔۔۔۔ کر کیا رہے ہو آخر؟

وہ دبے دبے غصے سے کہنے لگی۔

لیو کے حکم کی پیروی کررہا تھا بس اور کیا کرنا میں نے۔۔۔اب تمہارے منہ لگ کے اپنا دن تو خراب کرنے کا شوق نہیں نا مجھے۔

بین نے سپاٹ انداز میں کہتے اسے تپایا تھا۔

تم کہنا کیا چاہتے ہو أخر؟ مجھے دیکھ کے تمہارا دن خراب ہوتا ہے؟

وہ کمرے سے نکلتے اسکے روبرو جاتے بولی تھی۔

اسکی چھوٹی ناک غصے سے سرخ ہونے لگی تھی۔

ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔

لاپرواہی سے جواب دیتے وہ کہنے لگا۔

بہت ہی فضول مرد ہو تم۔۔۔۔

مرد نہیں لڑکا۔۔۔۔۔

بین نے اسکی تصیح کی۔

لڑکا؟ تم کوئی لڑکے ہو؟ خود کو کبھی غور سے دیکھا نہین کیا؟

یا پھر مجھ جیسی کمسن حسین لڑکی کو دیکھ کے تم خود کو کم عمر شو کروا رہے ہو؟

مجھے امپریس کرنے کی کوشش کررہے ہو کیا انکل؟

بین کے سراپے کو اوپر سے نیچے غور سے دیکھتے وہ قہقہ لگاتے بولی تھی۔

کیا؟ انکل؟ میں تمہیں انکل لگتا ہوں؟ اور میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ تمہیں امپریس کرنے کی کوششیں کروں میں۔۔۔۔

اور ہاں لیو سے دو سال چھوٹا ہوں میں سمجھی تم چیونٹی!

کف کو فخر سے اوپر کرتے وہ اسے چڑانے والے انداز میں بولا تھا۔

ہونہہ! تم سے بات کرنا ہی بیکار ہے ۔۔۔۔ فضول انسان۔۔۔۔

وہ منہ میں بڑبڑاتی وہاں سے جانے لگی جب بین نے اسکا بازو دبوچ کے اسے روکا۔

کہاں جارہی ہو؟

تم سے مطلب؟

جواب کی بجائے الٹا سوال کیا گیا۔

جی مجھ سے ہی مطلب ہے کیونکہ میں یہاں پہ لیو کے کہنے پہ آیا تھا اور اس نے کہا ہے کہ جب تک وہ خود یہاں نہیں آتا تب تک تم کمرے میں ہی رہو گی۔

بین کی بات سن کے سیلن کو غصہ آنے لگا تھا۔

کیا مطلب ہے کہ میں کمرے میں رہوں گی؟

اب کی بار اسکے لہجے میں کچھ اداسی تھی جو بین کو واضح طور پہ محسوس ہوئی تھی۔

مطلب یہ کہ کچھ دیر میں لیو آجائے گا پھر وہ خود تمہیں مینشن دکھائے گا تب تک اسکا ویٹ کرو۔

بین نے اسکا بازو چھوڑتے نرمی سے کہا۔

سیلن تیزی سے واپس کمرے میں جاتے دھڑام سے دروازہ بند کرچکی تھی۔

کتنا غصہ کرتی ہے لیو کی کاپی لگتی ہے کبھی کبھی تو یہ۔۔۔

بین نے ہاتھ کانوں پہ رکھتے ایک سرد أہ بھری تھی۔

یہ اچھی بات نہیں ہے لیو۔۔۔۔اسطرح تم مجھے روم میں لاک رکھو گے۔۔۔۔۔مجھے ایسے نہیں رہنا۔

وہ بیڈ پہ نیم دراذ ہوتے ہوئے اداسی سے کہہ رہی تھی۔

💘💘💘💘💘💘💘💘💘

وہ کب سے جاگ رھا تھا اور اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو تکے جارھا تھا۔

تم میرے جسم میں

بالوں کی طرح پیوست ھو

اور روح میں روح کی طرح

جب میں ھوش سے تھک جاتا ھوں

تو تمہارا خیال مجھے مدھوش کر سکتا ھے

تمہیں لبھاتے ہوے

میں تم بن سکتا ھوں

تمہاری تعریف کرتے ہوے ایسا نیا مزہ آتا ھے

جو میں چاہتا ھوں نہ آے

تمہیں سوچتے ہوے بیک گراونڈ کے پھول کچھ بولتے رہتے ہیں

ایک نہی

تم بہت سی ہو

اتنی ھو کہ میرا شعور میرا وجدان

مجھ سے مجھ کو نکال کر میری کاپیاں بنانا چاہتے ہیں تاکہ تم مجھ میں سماء سکو

مجھے۔۔۔۔۔

اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے وہ خمار آلود آواز میں کہہ رہا تھا۔

لیو کی گرم سانسیں روبی کو اپنے چہرے پہ محسوس ہوئیں تو اس نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھولیں تھیں اور خود کو اسکے مضبوط حصار میں قید پایا تھا۔

گڈ مارننگ ہنی!

روبی کے لبوں پہ اپنے سلگتے لب مس کرتے وہ محبت سے سرشار لہجے میں کہنے لگا۔

لیو! تم کب آئے؟

پہلے پہل وہ اسے خواب سمجھ رہی تھی پر اسکے لمس کا احساس ہوا تو یقین ہوا کہ حقیقت ہے اور وہ سچ میں اسکے پاس ہے۔

میں۔۔۔تب آیا تھا جب تم مجھے یاد کرتے کرتے اور میرا انتظار کرتے کرتے سوچکی تھی۔

زیادہ مس کیا تھا کیا مجھے؟ ہونہہ؟

روبی کو ایک جھٹکے میں سیدھا کرتے وہ اسکے اوپر آیا تھا۔

نہیں۔۔۔میں کیوں مس کروں گی تمہیں۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

وہ اسکے بھاری جسم کو اپنے نازک بدن سے ہٹانے کی کوشش کرتی بمشکل بول پائی تھی۔

لیکن رات کو جب میں آیا تھا تو تمہارا چہرہ سوتے میں ہی کافی اداس لگ رہا تھا اور تمھارے یہ ہونٹ مجھ سے شکوہ کررہے تھے کہ میں بتائے بغیر کیوں چلا گیا تھا۔

روبی کے ہونٹوں پہ انگوٹھا پھیرتے وہ اسکی دھڑکنیں بےترتیب کرگیا تھا۔

روبی کے ٹخنے کو اپنے پاؤں کی انگلیوں سے چھوتے وہ اسکے بدن میں سنسناہٹ پیدا کررہا تھا۔۔۔وہ تیزی سے سانس لینے لگی تھی۔

اگر تم ایسے ھی چپ رہی تو میں پھر سے چلا جاؤں گا۔

روبی کی سختی سے بند آنکھیں اور ہولے ہولے کپکپاتے لب دیکھ کے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔

کیوں؟ کیوں جاؤ گے؟

لیو کی بات سنتے وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتے بولی تھی۔

کیوں کہ تم نے تو مجھے مس ہی نہیں کیا نا تو کیا فرق پڑتا کہ میں یہاں رہوں یا کہیں اور۔۔۔۔۔

اسکے نازک بدن سے اپنا بھاری جسم ہٹاتے وہ اٹھ کے سیدھا ہو بیٹھا۔

وہ اپنی آنکھیں مٹکاتے لیو کو دیکھنے لگی۔

ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ہاں مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ تم یہاں رہو یا کہیں اور جاؤ۔

اپنی سانسیں بحال کرتے وہ بھی سیدھی ہوتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی۔

کیا واقعی؟ تو پھر رات کو ذرا سا میرا لمس محسوس کرکے مجھ میں کیوں سمٹ گئی تھی ہونہہ؟

کیوں میرے سینے سے لگ گئی تھی؟

روبی کے قریب ہوتے وہ اسکے گھٹنے پہ اپنا ہاتھ رکھتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

میں نیند میں تھی تو مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔

وہ جان چھڑانے کے سے انداز میں کہتی بیڈ سے اترنے لگی۔

اسی پل لیو نے اسکے بازو کو پکڑتے اسے اپنی طرف کھینچا تھا وہ ایک جھٹکے میں اس پہ جا گری تھے اور لیو نے اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں تھاما تھا۔

نیند میں تھی لیکن بے ہوش تو نہیں تھی سب کچھ محسوس کررہی تھی۔۔۔میرے لمس کو خود میں اترتا، میری سانسوں کی تپش اپنے بدن پہ اور میرا مضبوط حصار سب بہت اچھے سے فیل ہورہا تھا تمہیں۔۔۔

سہی کہہ رھا ہوں نا وائفے!

اسکی کمر پہ گرفت مضبوط بناتے وہ اسکے چہرے کو مزید اپنے قریب کرتے گھمبیر لہجے میں کہتے اسکے تنفس کو ایک بار پھر سے بگاڑنے پہ تلا تھا۔

ویسے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کچھ گھنٹوں کی دوری میں ہی تمہارا یہ حال ہوجائے گا۔

کیا اتنا مدہوش کن ہے میرا لمس، کیا تم اتنا اسیر ہوگئی ہو میرے قربت کی کہ کچھ گھنٹے تمہیں چھوا نہیں تو تم بے چین ہوگئی۔

اسکی کمر پہ لیو کی انگلیاں رینگتی اسکی بیک بون میں سنسناہٹ پیدا کررہی تھیں۔

وہ اپنے سلگتے عنابی لبوں کو روبی کی گردن پہ رب کرتے اسکے بدن میں کپکپاہٹ کا باعث بن رہا تھا۔

اسکے کانپتے بدن کو اپنی بانہوں میں مضبوطی سے بھرے وہ کچھ گھنٹوں کی دوری کی کسر پوری کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

لیو! چھوڑو مجھے!

مری مری آواز میں وہ بولی تھی۔

چھوڑ دیا تو تم رہ نہیں پاؤ گی ہنی!

لیو نے جیسے اسکی سانس اٹکائی تھی۔

رہ سکتی ہو میرے بغیر؟ میری قربت کے بنا، میرے لمس کو محسوس کیے بنا رہ سکتی ہو؟ اگر ہاں تو پھر ٹھیک ہے میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں۔

نہیں۔۔۔۔۔وہ۔۔میرا مطلب کہ

تمھارا ہر مطلب میں جان چکا ہوں تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

روبی کے کان کی لو پہ زور سے بائٹ کرتے وہ اسے چیخنے پر مجبور گرگیا تھا۔

روبی نے اسکے مضبوط حصار سے نکلنے کی کوشش کی تو لیو نے گرفت مزید سخت کرتے اسکی کوشش ناکام بنائی تھی۔

اب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی قربت کے عادی ہوچکے ہیں۔۔۔۔اب دو جسم ایک جان بن چکے ہیں۔۔۔۔اب اک پل بھی دوری ناممکن ہے۔

مدہوش لہجے میں کہتے اس نے روبی کی گردن پہ زور سے بائٹ کی تھی۔ کمرے میں روبی کی سسکی گونجی تھی جو لیو کے ہونٹوں پہ گہری مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔

رات کے کسی پہر

جب وہ تھکا ہارا نازک وجود

مضبوط بانہوں کے حصار میں

سما جاتا ہے

تو خود سپردگی تسکین بن جاتی ہے

تب یہ محسوس ہوتا ہے

کہ بدن صرف لمس کی زبان جانتا ہے۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.