couple, romantic, silhouette-560783.jpg

Novel: My possessive mafia

Writer: Barbie Boo

Episode: #12

تمہارا یہ نکھرا روپ اس بات کا گواہ ہے کہ تمہاری نیند پوری ہوچکی ہے سویٹ ہارٹ۔

تمہاری بھوک بھی مٹ چکی ہے تو اب میری بھوک اور پیاس کا بھی کچھ انتظام کر لیں۔

بیڈ پہ اسکے برابر میں بیٹھتے وہ معنی خیز انداز میں کہتے اس نازک جان کو سہمنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

کی۔۔کیا مطلب؟

بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑتے وہ بولی۔

میرا مطلب تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو نا۔

انجان بننے کی کوشش مت کرو۔

نینا کے گھٹنے پہ اپنا گھٹنا رکھتے وہ اسکے قریب ہوتے سرگوشی کرنے لگا۔

نہیں میں۔۔۔۔

نینا نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب سنان نے اس پہ جھکتے اپنی بانہوں کا مضپوط حصار بناتے اسے خود میں بھینچا تھا اور اگلے ھی پل اسکے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے بے دردی سے انکی مٹھاس پینے لگا۔

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

کمرے کی خاموشی، دھڑکنوں کی آواز ، نینا کے بدن سے آتی بھینی بھینی خوشبو اور سحر انگیز ماحول سنان کی شدت کو بڑھا رہا تھا۔

بن اک پل رکے وہ اسکی سانسیں خود میں اتارے جارہا تھا۔۔۔۔ دل بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑیں لگا رہا تھا اور نینا سنان کے بالوں کو دونوں مٹھیوں میں سختی سے جکڑے ہوئے تھی۔

اس سے پہلے کہ نینا کی سانسیں رکتیں سنان اس کے لبوں کو آزاد کرتا اپنا سر اسکے سر سے ٹکاتے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔

نینا اپنا بگڑا تنفس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

تمہارے لب گلاب کے تروتازہ پتوں کی طرح میٹھے، رسیلے اور نرم و ملائم ہیں۔۔۔ دل چاہتا ہے انکا سارا رس نچوڑ کے قطرہ قطرہ پی جاؤں۔

وہ نینا کے گیلے لبوں پہ اپنے لب مس کرتے مدہوشی کے عالم میں کہہ رہا تھا۔

پھر میں مرجھا جاؤں گی پھول کی طرح۔۔۔۔

نینا نے ہانپتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات پہ سنان کھکھلا کے ہنسا تھا۔

میں مرجھانے نہیں دوں گا۔۔اپنی محبت اور چاہت میں بھگو کے تروتازہ رکھوں گا تمہیں اور تم ہر پل مہکتی رہو گی میری خوشبو میں۔

اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ محبت سے سرشار لہجے میں کہنے لگا۔

میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔بے حد۔۔۔۔۔اب تمہیں یہی رہنا ہوگا میرے پاس میرے قریب میری قربت میں۔۔۔۔

سمجھ رہی ہو نا۔۔۔۔

اسکی گردن میں سر دیے وہ اپنے بھیگے ہونٹ رگڑتا خمار آلود آواز میں کہہ رہا تھا۔

سنان۔۔۔میں۔۔۔۔۔

اک بار پھر سے وہ کچھ بولنے لگی تھی پر سنان نے اسکے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں پکڑتے زور سے بائٹ کی تھی اور نینا کی آہ نکلی تھی۔

بنا اسکے درد کی پرواہ کیے وہ اسے بیڈ پہ لٹاتے اس پہ جھکتے اسکے ہونٹوں کو شدت سے suck کرنے لگا۔۔۔

اسکے لبوں کی نرماہٹ اور کمرے میں گونجتی نینا کی سسکیوں اور دونوں کی سانسوں کی آواز سنان کی شدت میں اضافہ کررہی تھی اور وہ جنونوں کی طرح اسے چومے جارہا تھا ایسے جیسے یہ آخری ملاقات ہو۔۔۔۔

اسکی شدتوں کو سہتی اسکی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی تو سنان کے عمل میں مزید تیزی آجاتی جو نینا کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کردیتی تھی۔

کافی دیر تک اسکے نازک بدن کی خوشبو اپنے سلگتے جسم میں اتارتا رہا اور اسکے بدن کے ایک ایک نقش پہ اپنے دانتوں کے نشان گاڑھتے وہ اسے بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپاتے محضوظ ہورہا تھا۔

تمہارے بدن کی مہک مجھے مدہوش کردیتی ہے ۔۔۔۔ اور جنونی بنادیتی ھے۔۔۔ ۔ کیسا جادو ہے یہ ۔۔۔۔

اسکے برابر میں لیٹتے اسکے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے وہ دیوانوں کی طرح اسے تکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

تیزی سے سانس لیتے اسکی پسلیاں اوپر نیچے ہوتے اسکے بدن کی بناوٹ واضح کررھی تھیں۔۔۔۔

سانس لینے میں مشکل ہورھی ہے تو میں مدد کر دوں؟

اسکے بدن سے شرٹ سرکاتے وہ شرارت سے کہتے اسے تنگ کررہا تھا۔۔

نہیں۔۔۔۔ کوئی مشکل نہیں ہورہی۔۔۔

اپنی شرٹ سے اسکا ہاتھ نکال کے پرے پھینکتے وہ آنکھیں دکھانے لگی۔

“ہنی مون” کے بارے میں کچھ سوچا؟

اپنی ٹانگ اسکی دونوں ٹانگوں پہ رکھتے اسکے کندھے پہ دانت گاڑھتے وہ اسکی رائے لے رہا تھا۔

کون سا ہنی مون۔۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا کسی ہنی مون پہ۔۔۔

سنان کی بات پہ بے تاثر انداز میں بولی۔

تو ٹھیک ھے ہم یہی پہ اسی گھر میں اسکی کمرے میں منا لیں گے۔۔۔ٹھیک ہے نا سویٹ ہارٹ۔۔

اسکے چہرے کو اپنی طرف کرتے اسکے بالوں کو ہاتھ میں سختی سے پکڑے وہ جنون بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔

اسکی سخت گرفت اور آنکھوں سے جھلکتی شدت کو محسوس کرتے وہ سہمی تھی۔

کہیں باہر لے کے چلوں تمہیں تاکہ تم کچھ فریش فیل کر سکو کیونکہ یہاں تو تم بہت ڈری سہمی ہوئی ہو نا۔۔۔

اسکی شہہ رگ پہ ہونٹ رگڑتے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ مزید اسے اپنی جنونیت سے ڈرانا نہیں چاہتا تھا اسی لیے بات بدل لی۔

ہاں۔۔۔۔مجھے باہر جانا ہے۔۔۔

ڈر اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں کہتی وہ سنان کو دیکھنے لگی۔

اوکے ۔۔۔۔چلو تیار ہوجاؤ جب تک میں جانے کا انتظام کرتا ہوں۔۔۔۔ پہلے میں بھی چینج کرلوں۔

اسکے گال پہ بوسہ دیتے وہ بیڈ سے اترتے اتنا باتھ ٹاول سنبھالتے وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور نینا اٹھتی باتھ روم میں گھس گئی ۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے اسکے کمرے میں آیا تھا۔۔۔مگر اس کے لباس کو دیکھ کر ان کا منہ حیرت اور بے یقینی سے کھل گیا۔۔۔۔

اس نے پرپل کلر کی ساڑھی پہنی ہوئ تھی۔۔۔جس کا بلاوذ سلیو لیس تھا۔۔۔آگے کا گلا بہت گہرا تھا۔۔۔ جبکے پچھلا گلا نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔پورے بلاوز کو پیچھے سے ایک نازک ڈوری سے باندھا گیا تھا۔۔۔ اور پورا بلاوز اس ایک واحد ڈوری کے رحم و کرم پر تھا۔۔۔

آنکھوں پر بلیک سموکی میک اپ اور گھنی مڑی ہوی لمبی پلکیں آنکھوں کے غرور کو بڑھا رہی تھی۔۔۔اور اس پر غضب ڈھاتے ہونٹوں کا لال رنگ۔۔۔ لمبے گھنے بالوں کو کھو لنے کی بجاے ڈھیلے سے جوڑے میں باندھا تھا۔۔۔تا کہ پیچھے سے کمر اور آگے کا حسن صاف نظر آے۔۔

۔

۔کانوں میں ناذک سے چھوٹے ٹاپس اور گلے میں نازک سا نیکلیس اس کی گردن کی وجاہت کو اور بڑھا رھا تھا ۔۔

اور اس پر ستم ڈھاتا شہ رگ کے پاس تل الگ مغرور بنا بیٹھا تھا۔۔۔

کیا قیامت ڈھانے کا ارادہ ہے؟ کس کو قتل کرنے کا سوچ رہی ہو؟

وہ حیرت و حوشی کی ملی جلی کیفیت میں بولا تھا۔

وہ جو ہو نٹوں پر لال لسٹک دوسری بار رگڑ رہی تھی۔۔۔

پتہ نہیں اور کتنا ڈارک کلر چاہیے تھا اسے۔۔۔۔مسکراتے ہوے شیشے سے اس وجاہت بھری شخصیت کو دیکھا ۔۔۔۔اور چلتے ہوے اس کے پاس آئ۔۔۔

۔

سچی! کیا واقعی اتنی حسین لگ رہی ہوں میں؟

کیا تمہیں لگتا ہے کہ مجھے دیکھ کے اسکا منہ بھی ایسے ھی حیرت سے کھلا رہ جائے گا جیسے ابھی ابھی تمہارا۔۔

اور یہ سوال پوچھتے ہوے اس کے چہرے پہ جو مسکراہٹ تھوری دیر پہلے تھی غائب ہو گئ تھی۔۔۔ دائیں گال پر پرنے والا گڑھا بہت دور جا سویا تھا۔۔۔۔اور ماتھے پر کچھ بل آے تھے کہ اس شخص کی کہی ہوئی باتیں اسے یاد آئی تھیں۔

تم پہلے ہی بہت حسین ہو۔۔۔اس بناؤ سنگھار کی ضرورت تو نہیں تھی تمہیں ویسے۔۔۔۔

تمہیں شاید برا لگے سن کے لیکن جس کے لیے تم نے یہ سب کیا ہے ۔۔۔ اسے پسند نہیں آئے گا۔

وہ جو ساڑھی کے پلو کو اکٹھا کر کے بلاوز کی سٹرپ کے ساتھ پن اپ کیے کھڑی تھی۔۔۔بین کو اس کے لباس سے خوف آیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ لیو سے بہت ڈانٹ پڑے گی اسے پر وہ کہاں سننے والی تھی۔

تم اپنی بکواس بند کرو۔۔۔میرا ہی دماغ خراب ہوگیا تھا جو تم سے پوچھ لیا۔۔

۔

تم تو ہو ہی جیلس۔۔ سڑو انکل!

بین کی بات سنتے سیلن کا منہ بنا تھا۔۔۔۔

تمہیں یہ ساڑھی کہاں سے ملی پہلے یہ بتاؤ مجھے؟

وہ اسکی بات اگنور کرتے اسکے نازک سراپے پہ نگاہ دوڑاتے کہنے لگا۔

میڈ سے کہا تھا وہی لے آئی تھی۔ لیو کیوں نہیں آیا اب تک؟ صبح سے دوپہر ہونے کو ہے اور وہ ابھی تک نظر نہیں آیا۔۔۔۔

مجھے اسکے پاس جانا ہے۔

وہ ہیل پہنتے ہوئے بین پہ غصے کرنے لگی اور وہ اسکے حسن کو دل ہی دل میں سراہے جارہا تھا۔

وہ۔۔بھابھی کے ساتھ ہے اور کہاں ہونا اس نے۔۔۔

بین کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا پر اگلے ہی پل اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔

کون بھابھی؟

سیلن کے تیور پل بھر میں بدلے تھے۔

کوئی نہیں۔۔۔میں لیو کو بھیجتا ہوں ابھی۔۔۔

بین تیزی سے کمرے سے نکلا تھا کہ اک پل اور رکتا تو سیلن نے اس سے سب کچھ اگلوا لینا تھا۔

رکو۔۔۔اے۔۔۔۔۔!

وہ پیچھے آوازیں دیتی رہ گئی۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

کہاں گھوم رہے ہو تم ؟ کن خیالوں میں گم ہو؟

لیو کو گم صم سا دیکھ کے وہ اسکے برابر آتے بولا۔

ہاں۔۔۔کیا ہوا؟

وہ یوکے والی ڈیل ہوگئی ڈن؟

لیو نے سگریٹ کا کش لیتے سپاٹ انداز میں پوچھا۔

وہ سب تو اوکے ہے لیکن جس آفت کو تم یہاں لائے ہو وہ اوکے نہیں ہے۔

بین نے تاسف سے اسے دیکھتے کہا۔

کیا مطلب؟ کس کی بات کررہے ہو تم؟

لیو نے چونکتے ہوئے کہا۔

تمہاری اس باربی ڈول کی ۔۔۔ جو تمہارا ویٹ کرتے کرتے اوٹ پٹانگ حرکتیں کررھی ھے اور اگر تھوڑی دیر تک تم اسکے پاس نہ گئے تو وہ پورے مینشن میں قیامت برپا کردے گی۔

بین کی بات سنتے لیو نے قہقہ لگایا تھا۔

اچھا! سیلن کی بات کررہے ہو۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ تنگ کیا اس نے تمہیں ۔۔ جو ایسی باتیں کررہے ہو تم۔

لیو نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

جاؤ۔۔تم خود جا کے دیکھ لو۔

بین نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ہاں۔۔۔جاہی رہا ہوں۔۔۔

ہاں۔۔ہاں جاؤ۔۔۔۔تمہارے یہ قہقہے وہاں جاکے غائب ہونے والے ھیں۔۔

لیو ہنستے ہوئے سیلن کے روم کی طرف چلا گیا جبکہ بین منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے اسے دیکھ رھا تھا ۔

وہ جیسے ھی سیلن کے کمرے میں داخل ہوا اسکا دماغ ماؤف ہوا تھا۔۔۔

ہاتھ میں پکڑا سگریٹ جس کا وہ آخری کش لے رہا تھا۔۔ زمین پہ پھینکتے جوتے کے رگڑتے اس نے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔

وہ جو نیچے جھکی کچھ اٹھانے کی کوشش کررھی تھی۔۔۔گہرا گلا ہونے اور نیچے جھکنے کے باعث اسکا سینہ نمایاں ہورہا تھا۔۔۔

لیو کا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔غصے سے آگ بگولہ ہوتے وہ اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔

کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔۔۔یہ کیسا لباس پہنا ہوا ہے تم نے۔۔۔

وہ تیزی سے اسکی طرف جاتے اسکے بازو کو سختی کے پکڑتے اپنی طرف کھینچتے دھاڑا تھا۔۔۔

اچانک اسکے چیخنے پہ وہ چونکی تھی۔۔اور اگلے ھی پل لیو پہ نظر پڑتے اسکے غصے کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے اسکی گردن کے گرد اپنی ہانہوں کا گھیرا بناتے قاتلانہ انداز میں مسکرائی تھی۔

ہیل پہننے کی وجہ سے وہ لیو کی گردن تک آرہی تھی ورنہ وہ لیو کے سینے تک بھی مشکل سے آتی تھی۔

تم اتنا غصہ کیوں کرتے ہو۔۔۔۔مجھے ڈرایا مت کرو۔۔۔تم جانتے ہونا کہ کسی سے نہیں ڈرتی میں۔۔۔

لیو کی کھڑی ناک پہ اپنی چھوٹی سی ناک رگڑتے وہ چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

اسکے چہرے پہ خوشی دیکھ کے لیو کا غصہ پل بھر میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔

کیوں پہنا ایسا لباس؟ یہ تمہارے لیے نہیں بنا۔۔۔۔ تم یہ تم پہنا کرو۔۔۔

اپنے فیورٹ پیارے سے فراک پہنا کرو بس۔۔۔بہت پیاری لگتی ہو ان۔میں ۔۔۔مجھے وہی پسند ہیں۔۔

نرمی سے کہتے اسکے بالوں کا جوڑا کھولتے وہ ہلکے سے مسکرایا تھا۔۔

جیسے ھی جوڑا کھلا اسکے لمبے بال آبشار کی طرح اسکی برہنہ کمر پہ پھیل کے اسکے بدن کے اس حصے کو ڈھک چکے تھے۔

یہ نیو لُک تھا۔ ۔ کافی ہاٹ اور سی۔۔۔۔

بہت برا ہے یہ۔۔۔۔ اور تمہارے لیے بہت خطرناک بھی۔۔۔

پن کیا ہوا ساڑھی کا پلو کھول کے سیلن کے گرد لپیٹ کے اس نے جیسے اسکے بدن کی جھلکتی خوبصورتی چھپأئی تھی۔

جاؤ۔۔۔چینج کرکے آؤ۔۔۔ اور دوبارہ اس طرح کا کوئی بھی لباس نہیں پہننا۔

نرمی سے اسکے روئی کی طرح نرم و ملائم گالوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے وہ محبت اور کچھ سختی سے بولا تھا۔

تم نے مجھے غور سے دیکھا ہی نہیں۔۔۔میں کافی پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔ وہ تمہارا جو دوست ہے بد تمیز سا بین وہ بھی ایک نظر دیکھ کے ہی پاگلوں کی طرح تکے جا رہا تھا ۔۔۔۔

ویسے میں نے پہلی بار ساڑھی پہنی ہے مجھے بالکل اندازہ نھیں تھا کہ میں اتنی حسین لگوں گی ۔۔۔

وہ پلو کو اکھٹے کرتے پھر سے ایک سائیڈ پہ ڈالتے دونوں بازو اپنی کمر پہ لے جاتے خوش ہوتے بول رہی تھی۔

بین؟ بین نے تمہیں ایسے دیکھا تھا۔۔۔۔اس لباس میں ۔۔مطلب تم۔۔۔۔۔

لیو کو پھر سے غصہ آنے لگا تھا۔

ابھی کے ابھی چینج کر کے آؤ۔۔

وہ غصے سے تقریبا دھاڑتے ہوئے اس کو حکم دیتے گھورنے لگا۔

کیوں؟

مجھے اچھا لگ رہا ہے لیو۔۔۔ کیا مسئلہ ہے؟

وہ دونوں بازو پھیلاتے گول گھومتے ہوئے کہنے لگی۔

گھومنا بند کرو اور ابھی چینج کرو۔۔

اسکا بازو دبوچتے وہ دانت پیستے بولا۔

نہیں۔۔۔میں چینج نہیں کروں گی۔۔۔۔تم خود کرواؤ گے مجھے چینج تو ٹھیک ھے ورنہ میں یہی پہن کے رکھوں گی۔۔۔

ایک ہاتھ لیو کے کسرتی سینے پہ رکھتے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نڈر لہجے میں کہتی لیو کے صبر کا امتحان لی رہی تھی۔

میں چینج کراؤں تمہیں؟

اسکی بات دہراتے لیو نے جیسے بے یقینی سے کہا تھا۔

ہاں تم اپنے ہاتھوں سے چینج کراؤ مجھے ۔۔۔۔

لیو کے دونوں ہاتھ اپنے چھوٹے نازک ہاتھوں میں تھامتے وہ آنکھوں میں چمک لیے کہنے لگی۔

چلو کرواتا ہوں تمہیں چینج اور پہناتا ہوں تمہیں کوئی اور ڈریس۔۔۔

اسکا بازو دبوچے وہ اسے لیے ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور ڈور لاک کر دیا۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.