wedding, couple, bride-1850074.jpg

Novel :My Possessive mafia

Writer: Barbie Boo

Episode: 13

تمہارا یہ نکھرا روپ اس بات کا گواہ ہے کہ تمہاری نیند پوری ہوچکی ہے سویٹ ہارٹ۔

تمہاری بھوک بھی مٹ چکی ہے تو اب میری بھوک اور پیاس کا بھی کچھ انتظام کر لیں۔

بیڈ پہ اسکے برابر میں بیٹھتے وہ معنی خیز انداز میں کہتے اس نازک جان کو سہمنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

کی۔۔کیا مطلب؟

بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑتے وہ بولی۔

میرا مطلب تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو نا۔

انجان بننے کی کوشش مت کرو۔

نینا کے گھٹنے پہ اپنا گھٹنا رکھتے وہ اسکے قریب ہوتے سرگوشی کرنے لگا۔

نہیں میں۔۔۔۔

نینا نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب سنان نے اس پہ جھکتے اپنی بانہوں کا مضپوط حصار بناتے اسے خود میں بھینچا تھا اور اگلے ھی پل اسکے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے بے دردی سے انکی مٹھاس پینے لگا۔

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

کمرے کی خاموشی، دھڑکنوں کی آواز ، نینا کے بدن سے آتی بھینی بھینی خوشبو اور سحر انگیز ماحول سنان کی شدت کو بڑھا رہا تھا۔

بن اک پل رکے وہ اسکی سانسیں خود میں اتارے جارہا تھا۔۔۔۔ دل بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑیں لگا رہا تھا اور نینا سنان کے بالوں کو دونوں مٹھیوں میں سختی سے جکڑے ہوئے تھی۔

اس سے پہلے کہ نینا کی سانسیں رکتیں سنان اس کے لبوں کو آزاد کرتا اپنا سر اسکے سر سے ٹکاتے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔

نینا اپنا بگڑا تنفس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

تمہارے لب گلاب کے تروتازہ پتوں کی طرح میٹھے، رسیلے اور نرم و ملائم ہیں۔۔۔ دل چاہتا ہے انکا سارا رس نچوڑ کے قطرہ قطرہ پی جاؤں۔

وہ نینا کے گیلے لبوں پہ اپنے لب مس کرتے مدہوشی کے عالم میں کہہ رہا تھا۔

پھر میں مرجھا جاؤں گی پھول کی طرح۔۔۔۔

نینا نے ہانپتے ہوئے کہا تھا اور اسکی بات پہ سنان کھکھلا کے ہنسا تھا۔

میں مرجھانے نہیں دوں گا۔۔اپنی محبت اور چاہت میں بھگو کے تروتازہ رکھوں گا تمہیں اور تم ہر پل مہکتی رہو گی میری خوشبو میں۔

اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ محبت سے سرشار لہجے میں کہنے لگا۔

میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔بے حد۔۔۔۔۔اب تمہیں یہی رہنا ہوگا میرے پاس میرے قریب میری قربت میں۔۔۔۔

سمجھ رہی ہو نا۔۔۔۔

اسکی گردن میں سر دیے وہ اپنے بھیگے ہونٹ رگڑتا خمار آلود آواز میں کہہ رہا تھا۔

سنان۔۔۔میں۔۔۔۔۔

اک بار پھر سے وہ کچھ بولنے لگی تھی پر سنان نے اسکے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں پکڑتے زور سے بائٹ کی تھی اور نینا کی آہ نکلی تھی۔

بنا اسکے درد کی پرواہ کیے وہ اسے بیڈ پہ لٹاتے اس پہ جھکتے اسکے ہونٹوں کو شدت سے suck کرنے لگا۔۔۔

اسکے لبوں کی نرماہٹ اور کمرے میں گونجتی نینا کی سسکیوں اور دونوں کی سانسوں کی آواز سنان کی شدت میں اضافہ کررہی تھی اور وہ جنونوں کی طرح اسے چومے جارہا تھا ایسے جیسے یہ آخری ملاقات ہو۔۔۔۔

اسکی شدتوں کو سہتی اسکی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی تو سنان کے عمل میں مزید تیزی آجاتی جو نینا کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کردیتی تھی۔

کافی دیر تک اسکے نازک بدن کی خوشبو اپنے سلگتے جسم میں اتارتا رہا اور اسکے بدن کے ایک ایک نقش پہ اپنے دانتوں کے نشان گاڑھتے وہ اسے بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپاتے محضوظ ہورہا تھا۔

تمہارے بدن کی مہک مجھے مدہوش کردیتی ہے ۔۔۔۔ اور جنونی بنادیتی ھے۔۔۔ ۔ کیسا جادو ہے یہ ۔۔۔۔

اسکے برابر میں لیٹتے اسکے پیٹ پہ ہاتھ پھیرتے وہ دیوانوں کی طرح اسے تکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

تیزی سے سانس لیتے اسکی پسلیاں اوپر نیچے ہوتے اسکے بدن کی بناوٹ واضح کررھی تھیں۔۔۔۔

سانس لینے میں مشکل ہورھی ہے تو میں مدد کر دوں؟

اسکے بدن سے شرٹ سرکاتے وہ شرارت سے کہتے اسے تنگ کررہا تھا۔۔

نہیں۔۔۔۔ کوئی مشکل نہیں ہورہی۔۔۔

اپنی شرٹ سے اسکا ہاتھ نکال کے پرے پھینکتے وہ آنکھیں دکھانے لگی۔

“ہنی مون” کے بارے میں کچھ سوچا؟

اپنی ٹانگ اسکی دونوں ٹانگوں پہ رکھتے اسکے کندھے پہ دانت گاڑھتے وہ اسکی رائے لے رہا تھا۔

کون سا ہنی مون۔۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا کسی ہنی مون پہ۔۔۔

سنان کی بات پہ بے تاثر انداز میں بولی۔

تو ٹھیک ھے ہم یہی پہ اسی گھر میں اسکی کمرے میں منا لیں گے۔۔۔ٹھیک ہے نا سویٹ ہارٹ۔۔

اسکے چہرے کو اپنی طرف کرتے اسکے بالوں کو ہاتھ میں سختی سے پکڑے وہ جنون بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔

اسکی سخت گرفت اور آنکھوں سے جھلکتی شدت کو محسوس کرتے وہ سہمی تھی۔

کہیں باہر لے کے چلوں تمہیں تاکہ تم کچھ فریش فیل کر سکو کیونکہ یہاں تو تم بہت ڈری سہمی ہوئی ہو نا۔۔۔

اسکی شہہ رگ پہ ہونٹ رگڑتے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ مزید اسے اپنی جنونیت سے ڈرانا نہیں چاہتا تھا اسی لیے بات بدل لی۔

ہاں۔۔۔۔مجھے باہر جانا ہے۔۔۔

ڈر اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں کہتی وہ سنان کو دیکھنے لگی۔

اوکے ۔۔۔۔چلو تیار ہوجاؤ جب تک میں جانے کا انتظام کرتا ہوں۔۔۔۔ پہلے میں بھی چینج کرلوں۔

اسکے گال پہ بوسہ دیتے وہ بیڈ سے اترتے اتنا باتھ ٹاول سنبھالتے وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور نینا اٹھتی باتھ روم میں گھس گئی ۔

💘💘💘💘💘💘💘

وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے اسکے کمرے میں آیا تھا۔۔۔مگر اس کے لباس کو دیکھ کر ان کا منہ حیرت اور بے یقینی سے کھل گیا۔۔۔۔

اس نے پرپل کلر کی ساڑھی پہنی ہوئ تھی۔۔۔جس کا بلاوذ سلیو لیس تھا۔۔۔آگے کا گلا بہت گہرا تھا۔۔۔ جبکے پچھلا گلا نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔پورے بلاوز کو پیچھے سے ایک نازک ڈوری سے باندھا گیا تھا۔۔۔ اور پورا بلاوز اس ایک واحد ڈوری کے رحم و کرم پر تھا۔۔۔

آنکھوں پر بلیک سموکی میک اپ اور گھنی مڑی ہوی لمبی پلکیں آنکھوں کے غرور کو بڑھا رہی تھی۔۔۔اور اس پر غضب ڈھاتے ہونٹوں کا لال رنگ۔۔۔ لمبے گھنے بالوں کو کھو لنے کی بجاے ڈھیلے سے جوڑے میں باندھا تھا۔۔۔تا کہ پیچھے سے کمر اور آگے کا حسن صاف نظر آے۔۔

۔

۔کانوں میں ناذک سے چھوٹے ٹاپس اور گلے میں نازک سا نیکلیس اس کی گردن کی وجاہت کو اور بڑھا رھا تھا ۔۔

اور اس پر ستم ڈھاتا شہ رگ کے پاس تل الگ مغرور بنا بیٹھا تھا۔۔۔

کیا قیامت ڈھانے کا ارادہ ہے؟ کس کو قتل کرنے کا سوچ رہی ہو؟

وہ حیرت و حوشی کی ملی جلی کیفیت میں بولا تھا۔

وہ جو ہو نٹوں پر لال لسٹک دوسری بار رگڑ رہی تھی۔۔۔

پتہ نہیں اور کتنا ڈارک کلر چاہیے تھا اسے۔۔۔۔مسکراتے ہوے شیشے سے اس وجاہت بھری شخصیت کو دیکھا ۔۔۔۔اور چلتے ہوے اس کے پاس آئ۔۔۔

۔

سچی! کیا واقعی اتنی حسین لگ رہی ہوں میں؟

کیا تمہیں لگتا ہے کہ مجھے دیکھ کے اسکا منہ بھی ایسے ھی حیرت سے کھلا رہ جائے گا جیسے ابھی ابھی تمہارا۔۔

اور یہ سوال پوچھتے ہوے اس کے چہرے پہ جو مسکراہٹ تھوری دیر پہلے تھی غائب ہو گئ تھی۔۔۔ دائیں گال پر پرنے والا گڑھا بہت دور جا سویا تھا۔۔۔۔اور ماتھے پر کچھ بل آے تھے کہ اس شخص کی کہی ہوئی باتیں اسے یاد آئی تھیں۔

تم پہلے ہی بہت حسین ہو۔۔۔اس بناؤ سنگھار کی ضرورت تو نہیں تھی تمہیں ویسے۔۔۔۔

تمہیں شاید برا لگے سن کے لیکن جس کے لیے تم نے یہ سب کیا ہے ۔۔۔ اسے پسند نہیں آئے گا۔

وہ جو ساڑھی کے پلو کو اکٹھا کر کے بلاوز کی سٹرپ کے ساتھ پن اپ کیے کھڑی تھی۔۔۔بین کو اس کے لباس سے خوف آیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ لیو سے بہت ڈانٹ پڑے گی اسے پر وہ کہاں سننے والی تھی۔

تم اپنی بکواس بند کرو۔۔۔میرا ہی دماغ خراب ہوگیا تھا جو تم سے پوچھ لیا۔۔

۔

تم تو ہو ہی جیلس۔۔ سڑو انکل!

بین کی بات سنتے سیلن کا منہ بنا تھا۔۔۔۔

تمہیں یہ ساڑھی کہاں سے ملی پہلے یہ بتاؤ مجھے؟

وہ اسکی بات اگنور کرتے اسکے نازک سراپے پہ نگاہ دوڑاتے کہنے لگا۔

میڈ سے کہا تھا وہی لے آئی تھی۔ لیو کیوں نہیں آیا اب تک؟ صبح سے دوپہر ہونے کو ہے اور وہ ابھی تک نظر نہیں آیا۔۔۔۔

مجھے اسکے پاس جانا ہے۔

وہ ہیل پہنتے ہوئے بین پہ غصے کرنے لگی اور وہ اسکے حسن کو دل ہی دل میں سراہے جارہا تھا۔

وہ۔۔بھابھی کے ساتھ ہے اور کہاں ہونا اس نے۔۔۔

بین کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا پر اگلے ہی پل اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔

کون بھابھی؟

سیلن کے تیور پل بھر میں بدلے تھے۔

کوئی نہیں۔۔۔میں لیو کو بھیجتا ہوں ابھی۔۔۔

بین تیزی سے کمرے سے نکلا تھا کہ اک پل اور رکتا تو سیلن نے اس سے سب کچھ اگلوا لینا تھا۔

رکو۔۔۔اے۔۔۔۔۔!

وہ پیچھے آوازیں دیتی رہ گئی۔

💘💘💘💘💘💘💘💘

کہاں گھوم رہے ہو تم ؟ کن خیالوں میں گم ہو؟

لیو کو گم صم سا دیکھ کے وہ اسکے برابر آتے بولا۔

ہاں۔۔۔کیا ہوا؟

وہ یوکے والی ڈیل ہوگئی ڈن؟

لیو نے سگریٹ کا کش لیتے سپاٹ انداز میں پوچھا۔

وہ سب تو اوکے ہے لیکن جس آفت کو تم یہاں لائے ہو وہ اوکے نہیں ہے۔

بین نے تاسف سے اسے دیکھتے کہا۔

کیا مطلب؟ کس کی بات کررہے ہو تم؟

لیو نے چونکتے ہوئے کہا۔

تمہاری اس باربی ڈول کی ۔۔۔ جو تمہارا ویٹ کرتے کرتے اوٹ پٹانگ حرکتیں کررھی ھے اور اگر تھوڑی دیر تک تم اسکے پاس نہ گئے تو وہ پورے مینشن میں قیامت برپا کردے گی۔

بین کی بات سنتے لیو نے قہقہ لگایا تھا۔

اچھا! سیلن کی بات کررہے ہو۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ تنگ کیا اس نے تمہیں ۔۔ جو ایسی باتیں کررہے ہو تم۔

لیو نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

جاؤ۔۔تم خود جا کے دیکھ لو۔

بین نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ہاں۔۔۔جاہی رہا ہوں۔۔۔

ہاں۔۔ہاں جاؤ۔۔۔۔تمہارے یہ قہقہے وہاں جاکے غائب ہونے والے ھیں۔۔

لیو ہنستے ہوئے سیلن کے روم کی طرف چلا گیا جبکہ بین منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے اسے دیکھ رھا تھا ۔

وہ جیسے ھی سیلن کے کمرے میں داخل ہوا اسکا دماغ ماؤف ہوا تھا۔۔۔

ہاتھ میں پکڑا سگریٹ جس کا وہ آخری کش لے رہا تھا۔۔ زمین پہ پھینکتے جوتے کے رگڑتے اس نے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔

وہ جو نیچے جھکی کچھ اٹھانے کی کوشش کررھی تھی۔۔۔گہرا گلا ہونے اور نیچے جھکنے کے باعث اسکا سینہ نمایاں ہورہا تھا۔۔۔

لیو کا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔غصے سے آگ بگولہ ہوتے وہ اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔

کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔۔۔یہ کیسا لباس پہنا ہوا ہے تم نے۔۔۔

وہ تیزی سے اسکی طرف جاتے اسکے بازو کو سختی کے پکڑتے اپنی طرف کھینچتے دھاڑا تھا۔۔۔

اچانک اسکے چیخنے پہ وہ چونکی تھی۔۔اور اگلے ھی پل لیو پہ نظر پڑتے اسکے غصے کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے اسکی گردن کے گرد اپنی ہانہوں کا گھیرا بناتے قاتلانہ انداز میں مسکرائی تھی۔

ہیل پہننے کی وجہ سے وہ لیو کی گردن تک آرہی تھی ورنہ وہ لیو کے سینے تک بھی مشکل سے آتی تھی۔

تم اتنا غصہ کیوں کرتے ہو۔۔۔۔مجھے ڈرایا مت کرو۔۔۔تم جانتے ہونا کہ کسی سے نہیں ڈرتی میں۔۔۔

لیو کی کھڑی ناک پہ اپنی چھوٹی سی ناک رگڑتے وہ چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

اسکے چہرے پہ خوشی دیکھ کے لیو کا غصہ پل بھر میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔

کیوں پہنا ایسا لباس؟ یہ تمہارے لیے نہیں بنا۔۔۔۔ تم یہ تم پہنا کرو۔۔۔

اپنے فیورٹ پیارے سے فراک پہنا کرو بس۔۔۔بہت پیاری لگتی ہو ان۔میں ۔۔۔مجھے وہی پسند ہیں۔۔

نرمی سے کہتے اسکے بالوں کا جوڑا کھولتے وہ ہلکے سے مسکرایا تھا۔۔

جیسے ھی جوڑا کھلا اسکے لمبے بال آبشار کی طرح اسکی برہنہ کمر پہ پھیل کے اسکے بدن کے اس حصے کو ڈھک چکے تھے۔

یہ نیو لُک تھا۔ ۔ کافی ہاٹ اور سی۔۔۔۔

بہت برا ہے یہ۔۔۔۔ اور تمہارے لیے بہت خطرناک بھی۔۔۔

پن کیا ہوا ساڑھی کا پلو کھول کے سیلن کے گرد لپیٹ کے اس نے جیسے اسکے بدن کی جھلکتی خوبصورتی چھپأئی تھی۔

جاؤ۔۔۔چینج کرکے آؤ۔۔۔ اور دوبارہ اس طرح کا کوئی بھی لباس نہیں پہننا۔

نرمی سے اسکے روئی کی طرح نرم و ملائم گالوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے وہ محبت اور کچھ سختی سے بولا تھا۔

تم نے مجھے غور سے دیکھا ہی نہیں۔۔۔میں کافی پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔ وہ تمہارا جو دوست ہے بد تمیز سا بین وہ بھی ایک نظر دیکھ کے ہی پاگلوں کی طرح تکے جا رہا تھا ۔۔۔۔

ویسے میں نے پہلی بار ساڑھی پہنی ہے مجھے بالکل اندازہ نھیں تھا کہ میں اتنی حسین لگوں گی ۔۔۔

وہ پلو کو اکھٹے کرتے پھر سے ایک سائیڈ پہ ڈالتے دونوں بازو اپنی کمر پہ لے جاتے خوش ہوتے بول رہی تھی۔

بین؟ بین نے تمہیں ایسے دیکھا تھا۔۔۔۔اس لباس میں ۔۔مطلب تم۔۔۔۔۔

لیو کو پھر سے غصہ آنے لگا تھا۔

ابھی کے ابھی چینج کر کے آؤ۔۔

وہ غصے سے تقریبا دھاڑتے ہوئے اس کو حکم دیتے گھورنے لگا۔

کیوں؟

مجھے اچھا لگ رہا ہے لیو۔۔۔ کیا مسئلہ ہے؟

وہ دونوں بازو پھیلاتے گول گھومتے ہوئے کہنے لگی۔

گھومنا بند کرو اور ابھی چینج کرو۔۔

اسکا بازو دبوچتے وہ دانت پیستے بولا۔

نہیں۔۔۔میں چینج نہیں کروں گی۔۔۔۔تم خود کرواؤ گے مجھے چینج تو ٹھیک ھے ورنہ میں یہی پہن کے رکھوں گی۔۔۔

ایک ہاتھ لیو کے کسرتی سینے پہ رکھتے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نڈر لہجے میں کہتی لیو کے صبر کا امتحان لی رہی تھی۔

میں چینج کراؤں تمہیں؟

اسکی بات دہراتے لیو نے جیسے بے یقینی سے کہا تھا۔

ہاں تم اپنے ہاتھوں سے چینج کراؤ مجھے ۔۔۔۔

لیو کے دونوں ہاتھ اپنے چھوٹے نازک ہاتھوں میں تھامتے وہ آنکھوں میں چمک لیے کہنے لگی۔

چلو کرواتا ہوں تمہیں چینج اور پہناتا ہوں تمہیں کوئی اور ڈریس۔۔۔

اسکا بازو دبوچے وہ اسے لیے ڈریسنگ روم میں چلا گیا اور ڈور لاک کر دیا۔

𝗡𝗼𝘃𝗲𝗹: 𝗠𝘆 𝗣𝗼𝘀𝘀𝗲𝘀𝗶𝘃𝗲 𝗠𝗮𝗳𝗶𝗮

𝗪𝗿𝗶𝘁𝗲𝗿: 𝗕𝗮𝗿𝗯𝗶𝗲 𝗕𝗼𝗼

𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲: #13

یو لو می ؟

لیو کو پیچھے سے ہگ کرتے وہ پوچھنے لگی۔

اسکے چوڑے سینے کے گرد لپٹے اسکے بازو لیو نے نرمی سے ہٹأئے اور اسکی طرف پلٹا۔

میری کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رھی ہو تم۔۔۔۔۔ اچھی بات نہیں ہے یہ۔۔۔

اسکے چھوٹے نازک سے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑے وہ کچھ سنجیدگی سے بولا تھا۔

تم سے ہی سیکھا ہے میں نے۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے اسکے سینے سے لگی تھی۔

دیکھ رھا ہوں میرے بتائے ہوئے طریقے مجھ پہ ہی آزمانے لگی ہو۔

اسے خود سے الگ کرتے وہ سپاٹ انداز میں کہہ رہا تھا۔

لیو۔۔۔۔کال می وائفے۔۔۔۔

اسکے گلے میں بانہوں کا ہار ڈالتے وہ لاڈ کرنے لگی۔

کونسے کلر کی فراک پہنو گی؟ تمہارے لیے پہلے سے ہی انتظام کر رکھا تھا میں نے۔۔۔

لیو نے بات کا رخ بدلنا چاہا۔۔

کال می وائفے۔۔۔۔بولو بھی۔۔۔ پہلے بولو ورنہ میں نے نہیں پہننی کوئی بھی فراک۔۔۔۔

وہ لیو کی بات اگنور کرتے ضد کرنے لگی۔۔۔

لیو نے اسکے رخسار کو لبوں سے پکڑتے ان پہ دانت گاڑھے تھے اور سیلن کھلکھلا کے ہنسی تھی۔۔

ادھر بھی۔۔۔۔۔

اپنا دوسرا گال اسکے سامنے کرتے وہ معصومیت سے کہہ رہی تھی۔۔۔ لیو جو غصے کو دبائے اسکے لاڈ اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔سیلن کی اگلی بات پہ اسکو گھور کے رہ گیا۔۔۔

اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے لیو نے پھر سے وہی عمل دہرایا پر اس بار اس نے دانت اتنی سختی سے گاڑھے تھے کہ سیلن کے نرم و ملائم گال سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔

وہ دانت پیس کے رہ گئی کہ اس نے خود ہی ضد کی تھی تو سسک بھی نہ سکتی تھی۔۔۔

کافی ہے یا اور چاہیئے؟

لیو نے ہنسی دانتوں تلے دباتے کہا اسکے لفظوں سے شرارت ٹپک رہی تھی۔۔

یہ کیا تمہارا گال تو زخمی ہوگیا۔۔۔

اسکے گال پہ نرمی سے انگلیاں پھیرتے وہ اسے چڑانے کی کوشش کررہا تھا۔۔

مجھے بھی کرنا ہے ایسا۔۔۔

لیو کی کہی بات اگنور کرتےوہ تیزی سے لیو کے لبوں کی طرف جھکی تھی پر لیو نے اسے بازو سے پکڑتے خود سے دور کیا تھا۔۔۔

مجھے بھی کرنا ہے پلیز۔۔۔

وہ التجا بھرے لہجے میں کہتے ڈبڈبائی أنکھوں سے لیو کو دیکھنے لگی۔

نو۔۔۔۔میرے لاڈ پیار کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ تم حد پار کرنے کا سوچو۔۔۔ تنگ مت کرو مجھے۔۔۔ اچھے بچوں کیطرح رہو یہاں ورنہ تمہیں واپس اسی محل میں چھوڑ آؤں گا۔۔۔

لیو نے غصے و سختی سے کہا تو وہ خاموش ہوگئی۔

چلو آؤ تمہیں چینج کرواؤں پھر کام سے جانا ہے مجھے۔۔۔

لیو نے سپاٹ انداز میں کہتے اسکا بازو پکڑتے نرمی سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔

نہیں۔۔۔میں خود چینج کرلوں گی۔۔۔

غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتے وہ منہ دوسری طرف پھیرتے ناراضگی کا اظہار کررہی تھی۔۔۔ اسکے روٹھنے پہ لیو کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔۔

تو ناراض ہوگیامیرا بچہ مجھ سے۔۔۔اب چینج بھی خود کرے گا۔۔۔ہمممم! لگتا ہے مجھ سے بات بھی نہیں کرے گا ہاں۔۔۔۔

اسکے مقابل جاتے اسکو شانوں سے تھامتے وہ محبت سے کہہ رہا تھا۔۔ سیلن منہ لٹکائے بت بنی کھڑی رہی۔۔

آٔئی ایم سوری! ناراض تو نہیں ہو نا۔۔۔۔ میرا اکلوتا بچہ مجھ سے ناراض ہوجائے گا تو میں کیسے رہوں گا؟

سیلن کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکے رخساروں پہ بوسہ دیتے وہ والہانہ انداز میں بول رہا تھا۔

اچھا میں سب سے پیاری والی فراک پہناتا ہوں ابھی تمہیں۔۔۔۔دیکھنا پھر کیسے تمہارا موڈ چینج ہو جائے گا۔۔۔

وہ وارڈ روب کی طرف بڑھتے فراکس کو آگے پیچھے کرتے کہنے لگا۔۔۔

بین نے کہا تھا تم بھابی کے ساتھ ہو۔۔۔۔۔۔ بھابی کون ھے اور تم اسکے ساتھ کیوں تھے مجھے چھوڑ کے۔۔۔

سیلن کی بات پہ اسکے چلتے ہوئے ہاتھ جیسے رکے تھے۔۔۔۔ ہاتھ میں آتی لیمن کلر کی پلین لانگ فراک کو اس نے سختی سے پکڑا تھا ۔۔۔۔بین کی عقل پہ ماتم کرنے کا دل چاہا تھا اسکا۔۔ . . پر اس وقت سوائے دانت پیسنے کے وہ کچھ نہ کر سکا۔۔

فراک پکڑے وہ سیلن کی طرف پلٹا۔۔۔

یہ پہنوں گی تم۔۔۔۔

عنابی لبوں پہ مسکراہٹ سجاتے اس نے اپنی پریشانی چھپائی تھی جیسے۔۔۔

تم جواب کیوں نہیں دیتے۔۔۔تم مجھے کچھ بھی نہیں بتاتے۔۔

وہ شکوہ کرنے لگی۔

سب بتاؤں گا۔۔۔۔فلحال تم یہ چینج کرو۔ ۔

فراک اسکی طرف بڑھاتے وہ نرمی سے بولا تھا۔

سیلن چپ چاپ کھڑی رہی۔۔۔

اسکی رونی شکل دیکھ کے لگ رہا تھا جیسے بس ابھی رونے لگ جائے گی۔۔۔

وہ روٹھی روٹھی کیوٹ سی لگ رھی تھی لیو کو۔۔۔۔

اسکے قریب ہوتے اسے ساڑھی کے پلو سے آزاد کرتے وہ ایک سائیڈ پہ رکھتے شانے پہ آتے اسکے بال ایک طرف کرتے اسے دوسری طرف موڑ چکأ تھا۔۔۔

اسکی پشت لیو کی طرف تھی۔۔۔۔

لیو نے ایک نظر اسکی بلاؤذ کی اس نازک سی ڈوری پہ ڈالی جو بندھی ہوئی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی پل ڈوری کھولی تو وہ سانپوں کی طرح لٹکتے سیلن کی کمر کو چھورہی تھی۔۔

لیو کی نظریں اسکی برہنہ کمر پہ ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ پتلی سی دودھ کی طرح سفید کمر۔۔۔۔روئی کی طرح نازک بدن۔۔۔۔۔

لیو کی نظر جیسے ھی اسکی کمر سے نیچے کی طرف جاتی بیک بون پہ پڑی۔۔وہاں پہ نظر آتا نشان اسے تڑپا گیا تھا۔۔۔۔

اسکی کمر پہ وہ نشان ایسے لگ رہا تھا جیسے چاند پہ پڑا کوئی داغ۔۔۔۔۔۔ لیو کی آنکھوں میں شعلے ابھرنے لگے تھے۔۔۔۔کئی مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے آکے گزر گئے تھے۔۔۔

اس نے ایک گہری سانس لیتے سرد آہ بھری تھی اور اپنا غم و غصہ چھپایا تھا۔۔۔کہ سیلن پہلے ہی اداس تھی وہ اسے مزید اداس نہین کرنا چاہتا تھا۔۔۔

خود کو نارمل کرتے وہ اسکے بدن کو ساڑھی سے آزاد کرتے فراک پہنا چکا تھا۔۔۔

لو جی۔۔۔ پہن لی فراک۔۔۔اب لگ رہی ہو نا پرنسسز!

بیوٹی فل پرنسسز!

لیو نے اسے اپنی طرف گھماتے مسکراتے ہوئے کہا۔

لیمن کلر میں وہ بہت نکھری نکھری لگ رھی تھی۔۔اوپر سے اسکے سنہری بال، چمکتی آنکھیں اور اسکے سرخ گال۔۔۔۔۔۔

(کاش تم اتنی خوبصورت نہ ہوتی سیلن۔۔۔۔لیو نے دل ہی دل میں جیسے حسرت سے کہا تھا)

میرا بچہ۔۔۔۔مسکرا دو نا۔۔۔۔۔کیوں میرا دل مٹھی میں جکڑا ہوا تم نے۔۔۔

سیلن کو خاموش دیکھ کے وہ جیسے منت کرنے لگا۔۔

تم تو بہت بہادر ہونا۔۔۔۔تو ایسے اداس کیوں ہوگئی۔۔۔چلو بس اب ناراضگی ختم کرو۔

اسکے قریب ہوتے نرمی سے اسکے لبوں پہ بوسہ دیتے وہ اسے اپنے سینے میں بھینچے کہہ رہا تھا۔ سیلن کے چہرے کی اداسی پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔۔۔

ہم رات کو باہر جائیں گے ۔۔۔۔ پہلے مجھے مینشن دیکھنا ہے۔ ۔

اسکے سینے میں چھپی وہ فرمائیشیں کررہی تھی۔

ٹھیک ھے ۔۔۔لے جاؤں گا۔۔۔۔

لیو نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی کہ پھر سے اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

تم بہت اچھے ہو لیو!

وہ اسکی طرف دیکھتے لاڈ سے بولی تو لیو ہنس پڑا۔

اب جاؤں میں۔۔کچھ کام کرنا ہے۔۔۔پھر أتا ہوں تمہارے پاس۔۔

اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے وہ پیار سے بولا۔

اوکے۔۔۔۔جلدی آنا!

وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔ اسکے دونوں گالوں پہ پیار کرتے وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلا اور پھر کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔

💘💘💘💘💘💘

کسی پارک میں جارہے ہیں کیا ہم؟

سنان کو چپ چاپ ڈرائیو کرتے دیکھ کے نینا بولی۔

نہیں۔۔۔پارک میں کیا کریں گے؟

جواب دینے کی بجائے اس نے الٹا سوال کر ڈالا۔

تو پھر۔۔۔کہاں جارہے ہیں؟

وہ کچھ دھیمے سے کہنے لگی۔۔

جنگل میں جائیں گے۔۔۔۔وہاں وقت گزاریں گے۔۔۔۔تازہ ہوا میں کچھ دیر رہو گی تو تمہارا یہ دماغ شاید شوچنے سمجھنے کے قابل ہوجائے۔۔

وہ شرارتا کہتے اسے تنگ کرنے لگا۔

مجھے پہلے ھی سب سمجھ آتا ہے ۔۔۔کوئی بے وقوف نہیں ہوں میں۔۔۔

وہ چڑ کے بولی۔۔ سنان کا قہقہ گونجا تھا کار میں۔۔۔

واقعی۔۔۔تم خود کو سمجھدار سمجھتی ہو۔۔۔یہ بات کافی حیران کن لگی مجھے۔ . ۔ ویسے کیا تم واقعی اپنے سو کالڈ گھر والوں کو یاد کرتی ہو؟

سنان نے کچھ سنجیدہ ہوتے سوال کیا۔

تو کیا اس میں کچھ غلط ہے؟ وہ میری فیملی ہیں۔۔

اور میں؟

اسکی بات کے بیچ میں بولتے وہ نینا کو پل بھر کو سوچنے پہ مجبور کرگیا تھا۔۔

تم؟

اس نے زیر لب دہرایا جیسے سوچنا چاہا کہ اسکے رشتہ کو کس نام سے پکارے۔۔۔پر کوئی بھی نام نہ سوجھا تو وہ خاموش ہوگئی تھی۔

محبوب کہہ سکتی ہو مجھے۔۔۔۔۔ پر تم ایسا کیوں کہو گی تم تو مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہونا۔۔۔

سٹیرنگ ویئل پہ ہاتھ رکھے وہ افسردہ سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔

دشمن کو دشمن ھی کہوں گی نا۔۔۔۔

نینا کی منہ میں ہوتی بڑبڑاہٹ سنان کے کانوں تک پہنچی تھی۔ اس نے دانت پیسے تھے اسکی غلط فہمیوں پر۔

دشمن ہوتا تو اب تک تمہیں مار کے کہیں دور پھینک چکا ہوتا۔ دوست ہوں۔۔۔تمہارا دیوانہ ہوں اسی لیے اتنی محفوظ ہو تم۔۔۔

سنان نے ایک نگاہ اس پہ ڈالتے سپاٹ انداز میں کہا۔

زور زبردستی کو محبت کا نام دے کے خود کو محافظ سمجھتے ہو تم پر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

وہ بے تاثر سا چہرہ لیے سنان کو دیکھتے کہہ رھی تھی۔

سنان نے کار کو بریک لگائی اور رخ اسکی طرف کیا۔

اپنے دل میں دبی ان غلط فہمیوں کو آخر نکال کیوں نہیں دیتی تم؟ أگے کیوں نہیں بڑھنا چاہتی؟ کب تک ایسے ہی رونا دھونا مچاتی رہو گی؟

تم لڑکیاں بھی نا اچھے خاصے مخلص بندے کو چھوڑ کے ہمیشہ غلط بندے کا انتخاب کرنا پسند کرتی ہو اور پھر روتی رہتی ہو۔۔۔۔

کیا کمی ھے مجھ میں؟ ہینڈسم نہیں ہوں؟ نکما ہوں؟ کوئی غنڈا موالی ہوں کیا؟

شہر میں میری کوئی عزت نہیں ہے؟

میری جان آخر چاہتی کیا ہو تم؟ آخر کیسا انسان چاہیئے تمہیں جو مجھ میں نظر نہیں آتا۔۔۔

دونوں بازو سینے پہ باندھے وہ بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔

نینا نے اک پل کو اسکی طرف دیکھا۔۔۔اسکی شربتی رنگ کی آنکھیں جیسے باہر کو ابلنے کو تھی غصے اور راتوں کو جاگنے کے باعث لال تھیں۔۔۔

اسکی نفاست سے بنی بیئرڈ اور ہلکی موچیں ، لمبا قد، بھر پور جسامت اور رعب دار شخصیت بالکل ترکش لگتا تھا وہ۔۔۔۔۔

دکھنے میں بہت اکڑو لگتا تھا پر نرم دل رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کافی رومانٹک بھی تھا۔

اسکے باوجود نینا کو اس سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔۔۔۔اسکی اتنی قربت و محبت کے باوجود وہ سنان کے لیے اپنے دل میں محبت تو بہت دور کی بات ذرا سی ہمدردی بھی محسوس نہ کرتی تھی۔۔۔

اسکا سنان سے صرف ایک ہی رشتہ تھا خوف کا۔۔ ۔ سنان کو دیکھ وہ سہم جاتی تھی ۔۔۔ اس سے دور کہیں بھاگنا کہیں چھپ جانا چاھتی تھی پر کوئی فائدہ نہ تھا سنان اسے کہیں سے بھی ڈھونڈ لاتااس تک پہنچ ہی جاتا تھا۔۔

جواب دو ۔۔۔۔ بتاؤ کیا کمی ھے مجھ میں؟

سنان کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ خیالوں سے باہر آئی۔

ساری کمیاں ہی ہیں تم میں۔۔۔۔

بے رخی سے کہتے وہ سنان کو طیش دلارہی تھی۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔میرے ساتھ رہوگی نا تو میری خوبیاں، میری اچھائیاں بھی نظر آنا شروع ہوجائیں گی تمہیں۔۔۔

لبوں پہ مسکراہٹ سجائے وہ نینا کی تھوڑی کو چھوتے بولا اور کار سٹارٹ کرتے پھر سے ڈرائیو کرنے لگا۔

خود کو ہیرو سمجھتا ہے ویلن کہیں کا۔۔۔۔۔

وہ منہ ھی منہ میں بڑبڑاتے سنان کو گھور کے رہ گئی جبکہ اسکی أواز سنان کے کانوں تک پہنچ چکی تھی اور وہ اپنی ہنسی دانتوں تلے دبا گیا۔۔۔

بول لو جتنا برا بھلا بولنا ہے مجھے۔۔۔۔تمہاری یہ آواز بہت جلد نکلنا بند ہو جائے گی پھر دیکھتا ہوں کیسے پٹر پٹر کرتی ہو میرے سامنے۔۔۔

سنان دل ہی دل میں کہتے مسکرایا تھا۔۔۔آنے والے وقت کا سوچ کے اور نینا کی حالت کا تصور کرتے ھی اسی ہنسی آرہی تھی جو وہ چھپائے چپ چاپ ڈرائیو کیے جارہا تھا کہ جلد اذ جلد منزل پہ پہنچ کے وہ نینا کے ہوش اڑانا چاہتا تھا۔

💘💘💘💘💘💘💘

سیلن کے روم میں کیوں گئے تھے تم؟

وہ سیگریٹ پہ سیگریٹ پیے جارہا تھا اور بار بار خود سے ہی بولے جارہا تھا۔۔ .

کیا کروں؟ کیوں اتنی کمزور محسوس کررہا ہوں میں خود کو۔۔۔۔۔

کسی بھی طرح اسے بچا کے رکھنا ہوگا مجھے۔۔۔۔۔۔

وہ خیالوں میں گم تھا جب بین دستک دیتے کمرے میں داخل ہوا۔۔

تم نے بلایا لیو۔۔۔کوئی کام تھا؟

لیو کے سامنے کھڑے ہوتے وہ مودب انداز میں بولا۔

ہاں۔۔۔تمہیں ایک کام کہا تھا اور وہ بھی سہی طرح سے نہیں ہوا تم سے۔۔۔۔ہمیشہ کام خراب کردیتے ہوتم بین۔۔۔

وہ غضب ناک لہجے میں کہتا بین کو خوف دلا رہا تھا۔

مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی کیا؟

وہ دونوں بازو باندھے نہ سمجھنے ہوتے بولا۔

سیلن کے کمرے کے باہر رہنے کا کہا تھا تمہیں اور تم اسکے کمرے کے اندر تک چلے گئے۔۔۔

کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟

وہ غصے سے کہتے صوفے پہ مکا مارتے کہہ رہا تھا۔

۔دروازہ کھلا ہوا تھا تو بس وہ۔۔۔بے دھیانی میں چلا گیا تھا۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے بولا۔

بے دھیانی میں چلے گئے مان لیا ۔۔۔ تو اسی طرف واپس پلٹنا تھا نا وہاں رک کیوں گئے؟

اسے دیکھنے کے لیے؟ اسکی تعریف کرنے کے لیے اور اس سے باتیں کرنے کے لیے ہے نا۔

اٹھ کے بین کے مقابل جاتے وہ طیش میں آتے کہنے لگا۔۔۔۔غصے سے اسکی آنکھیں لال انگارہ لگ رہی تھیں ۔۔۔ماتھے کی رگیں تیزی سے پھڑپھڑاتے ہوئے بین کو ڈرا رہی تھیں۔۔۔

اسے اپنا خون خشک ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی لیو اسکی گردن دبوچ کے اسکی جان لے لے گا۔۔۔کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایسا کر سکتا تھا تبھی بین کو اپنی سانس حلق میں اٹکی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔۔

میں نے جان بوجھ کے کچھ نہیں کیا لیو۔۔۔۔تم جانتے ہو میں تم سے دغا نہیں کر سکتا۔۔۔۔جو بھی ہوا بے اختیاری میں ہوا۔۔۔میں شرمندہ ہوں مجھے معاف کردو پلیز۔۔۔۔

ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہتے وہ سر جھکائے جیسے اپنی غلطی تسلیم کررہا تھا۔۔۔۔

اگر کسی کی نظر اس کے بدن پہ پڑی ہوتی تو میں اب تک اسکی آنکھیں نکال چکا ہوتا۔۔۔۔ تم سے بچپن کا واسطہ ہے تبھی تم ابھی تک ان آنکھوں سے دیکھ پارہے ہو۔۔۔

بین کے کندھے پہ ایک بازو رکھتے اسکی آنکھوں کو ہاتھ سے چھوتے وہ قہر برساتے لہجے میں کہتا اس وقت بین کو موت کا فرشتہ معلوم ہورہا تھا۔۔

اس کمرے کی طرف دوبارہ کبھی مت جانا بین اور نہ ہی اسکی طرف دیکھنا ۔۔۔۔۔ اسکے معاملے میں کوئی معافی نہیں ملے گی۔۔۔

جاؤ تم۔۔۔۔۔!

اسکا کندھا تپھتپھاتے حکم دیتے وہ صوفے پہ جا بیٹھا اور بین بنا کچھ کہے اگلے ھی پل وہاں سے غائب ہوا تھا۔

لیو نے آنکھیں بند کرتے صوفے کی بیک سے سرٹکایا اور دور کہیں خیالوں میں گم ہو گیا۔

یہ جادو کی چھڑی ہے۔ کیا تمہیں چاہیئے یہ؟ بولو لڑکے۔

وہ پانچ چھ سال کی چھوٹی سی بچی ایک پیاری سی کھلونا نما چھڑی ہاتھ میں پکڑے مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

تمہیں کس نے کہا کہ یہ جادو کی چھڑی ہے؟

اسکے گال چھوتے وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔

یہ میں نے خود بنائی ہے۔۔۔میں نے وش مانگی تھی پھر میری وش پوری ہوگئی اور یہ جادو کی چھڑی بن گئی۔۔

وہ اپنے چھوٹے چھوٹے دانت نکالتے ہوئے بتارہی تھی۔

اسکی باتیں سن کے اسکی چالاکی پہ وہ کھلکھلا کے ہنسا تھا۔

تم بہت تیز لگ رہی ہو۔۔۔کہاں سے آئی ہو؟

ماتھے پہ آتے اسکے بال کان کے پیچھے کرتےوہ دلچپسی سے پوچھ رہا تھا۔

وہ۔۔۔وہاں سے۔۔۔۔۔۔۔وہ جو بڑا سا محل ہے نا وہ میرا ہے۔۔۔وہاں کی پرنسسز ہوں میں۔۔۔۔

پہاڑی کے اس پار نظر آتے محل کی طرف اشارہ کرتے وہ چہکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔

جبکہ محل کو دیکھ کے اس لڑکے کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی اور ماتھے پہ ہزاروں بل پڑے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا کوئی عورت تیزی سے آئی اور اس بچی کو اٹھاتے پل جھپکتے ھی اپنے ساتھ لے گئی۔

اتنا بڑا موقع ضائع کردیا تم نے۔۔۔۔جانتے ہو وہ کون تھی۔۔۔سونے کی چڑیا ۔۔۔خود چل کے تمہارے پاس آئی اور تم نے ایسے ھی جانے دیا اسے لیو۔۔۔۔

شکار کرنا کب سیکھو گے۔۔۔تم ہمارے ہونے والے مافیا ہو۔۔۔۔کسی کے لیے کوئی رحم کوئی ہمدردی نہیں۔۔۔۔صرف اور صرف ہمارا فائدہ چاہیئے ہمیں اور کسی کی جان کی کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرنی تم نے۔۔۔

سمجھ رہے ہونا تم۔۔۔۔

یہ پکڑو گن اور شوٹ کرو۔۔۔۔تمہارا دھیان کہاں ہے لیو۔۔۔۔شوٹ کرو۔۔۔لیو شوٹ کرو ابھی۔۔۔۔۔

رعب دار آواز اسکی سماعتوں سے ٹکڑائی تو اس نے آنکھیں کھولی پر کمرے میں سناٹا تھا۔۔اسے اپنی دھڑکنیں اور سانسوں کی آواز ہی سنائی دے رہی تھی ۔

ماتھے پہ ابھرے پسینے کے قطرے صاف کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

💘💘💘💘💘💘

آج تو بال بال بچا ہوں۔۔۔۔مجھے تو لگا تھا آج لیو مجھے جان سے ھی مار دے گا۔۔۔۔

یہ سیلن تو کوئی عام بندی نہیں لگ رھی۔۔۔بڑی خطرناک ہے یہ تو۔۔۔۔ضرور بڑھا چڑھا کے بتایا ہوگا لیو کو تاکہ وہ مجھے جان سے ھی مار دے۔۔۔۔

چڑیل کہی کی۔۔۔۔خوبصورت بلا ہے یہ تو۔۔۔۔

اسکا ساڑھی والا سراپا بین کی نظروں کے سامنے آیا تو بے اختیار وہ مسکرایا تھا۔۔۔

اس سے دور رہنا پڑے گا۔۔۔۔ورنہ یہ تو مجھے ضرور مروا ہی ڈالے گی۔۔۔۔

پر لیو اتنا پاگل کیوں ہورہا تھا۔۔۔۔آخر رشتہ کیا ہے اسکا اور کیوں دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا ہوا اسے۔۔۔۔۔؟

خیر مجھے کیا اس کے بارے میں سوچ کے میری جان ہی خطرے میں پڑے گی اور اب مجھے کوئی رسک نہیں لینا۔۔۔

کندھے اچکاتے وہ کمفرٹر اوڑھتے سو گیا کہ سیلن کے خیالوں سے بھی اب اسے خوف آرہا تھا کہ کہیں لیو اس بات پہ بھی اسے جان سے نہ مار دے۔۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.