bouquet, surprise, couple-1790142.jpg

یہ مینشن کے پیچھے کی طرف باغات کے بیچ میں کیا کوئی تہہ خانہ بنا ہوا ہے؟

اس بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے میڈم۔۔۔بس اس کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی وہاں گیا ہم میں سے۔۔۔

اچھا ٹھیک ھے تم جاؤ ۔۔۔میرے لیے ایک کپ کافی بھجوا دینا۔۔۔

میڈ کو کہتے وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی۔

نجانے لیو کہاں غائب رہتا ہے ۔۔۔

کمرے میں آتے وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی اور لیو کی شرٹس کو دیکھتے سوچنے لگی۔

تم اتنے برے بھی نہیں ہو جتنا میں نے سوچا تھا۔۔۔جب سے یہاں آئی ہوں تم نے بہت اچھے سے خیال رکھا میرا۔۔۔میں نے بلا وجہ ہی اتنے سال تم سے بد گمانیاں رکھی تم تو کافی محبت کرنے والے ہو۔۔۔

لیو کی برینڈڈ شرٹس چھوتے وہ مسکراتے ہوئے ہم کلامی کررہی تھی۔۔

دروازے پہ دستک ہوئی تو وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلی۔

میڈ کافی کا مگ ٹیبل پہ رکھتے باہر جا چکی تھی۔

روبی کافی کا مگ اٹھاتے بیڈ پہ جا بیٹھی۔۔۔

بیڈ سائیڈ کی ٹیبل پہ رکھی لیو کی تصویر دیکھتے وہ مبہم سا مسکرائی تھی اور کافی پینے لگی۔

تمہیں مس کررہی ہوں میں اس بار سچ میں تمہاری یاد آرہی ہے مجھے۔۔۔

ہاں تمہاری قربت کی اسیر ہوچکی ہوں میں لیو۔۔۔۔۔تم کافی پر کشش ہو۔۔۔۔۔۔شاید تمہاری یہ شخصیت ہی سحر انگیز ہے تبھی میں تمہارے بارے میں سوچے جارہی ہوں۔

ایک ہاتھ میں لیو کی تصویر پکڑے اور دوسرے میں کافی وہ بولے جارھی تھی۔

میری پیٹھ پیچھے میری تعریفیں کی جارھی ہیں اور میرے منہ پہ مجھے برا بھلا کہا جاتا ہے۔۔۔۔

یہ تو سراسر نا انصافی ہے جناب!

دروازے پہ کھڑے سینے پہ ہاتھ باندھے اسکی باتیں سنتے وہ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کرنے کے در پہ تھا۔

لیو کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ چونک کے کھڑی ہوئی اور ڈور کی طرف دیکھا۔۔۔

ہاتھ میں پکڑی فریم نیچے گری تھی پر ٹوٹنے سے بچ گئی۔

ارے دھیان سے۔۔۔۔

تیزی سے روبی کی طرف آتے وہ نیچے گری تصویر کو اٹھاتے اسکے برابر میں کھڑا ہوا۔

اب اتنا بھی مضبوط باڈی نہیں ھے میری کہ تم ایسے زور سے پھینکو گی اور مجھے درد نہیں ہوگا۔۔۔

کیا کچھ کہہ رہی تھی میرے بارے میں۔۔۔

فریم واپس سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے وہ مبہم سا مسکراتے کہہ رہا تھا۔

تم۔۔۔تم کب آئے؟

وہ کافی کا مگ دونوں ہاتھوں سے سختی سے تھامے بے برتیب ہوتی دھڑکنوں کو محسوس کرتے دھمیی آواز میں بولی تھی۔

جب تم خیالوں میں مجھ سے باتیں کررہی تھی نا تب۔۔۔۔

نچلے لب کو دانتوں تلے دباتے وہ اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھتے اسے گھبرانے پہ مجبور کررہا تھا۔

تم کہاں گئے تھے؟ میرا مطلب تم اچانک سے بن بتائے غائب ہوجاتے ہو۔۔۔

فرش پہ نظریں گاڑھے وہ کہنے لگی۔

اوہو! تو بیوی والے حق جتانا اور سوال پوچھنا شروع کردیے آپ نے بیگم صاحبہ۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے بیوی کے منصب پہ فائز ہوتی جارہی ہو تم تو۔

روبی کے گلے میں بانہوں کا گھیرا بناتے وہ محبت سے سرشار لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔

حیا کی لالی اسکے گالوں پہ جھلکتی لیو کو محظوظ کررہی تھی۔۔۔

وہ ہنوز پلکیں جھکائے کھڑی لیو کی سانسیں اپنے چہرے پہ محسوس کرتی اپنے خوشی سے دھڑکتے دل کو جھومتا ہوا محسوس کررہی تھی۔

انسان اپنی زندگی میں بہت سی باتیں کبھی نہیں بھولتا، خاص طور پر وہ جو اسکی زندگی میں پہلی بار اسکے وجود پر دستک دیتی ہیں۔پہلا حادثہ، پہلی نادانی، پہلا جھوٹ، یونیورسٹی کا پہلا دن، پہلا نشہ ، پہلاسفر، اور پہلی محبت،وہ آپکی زندگی میں یوں شامل ہو جاتی ہے جیسے آپکاسانس کا آنا جانا، آپ سانس لیتے ہیں سوچے سمجھے بغیر۔ آپ ان باتوں کو کبھی نہیں بھولتے، چاہے یاد کریں یا نہ کریں، وہ سانسوں کی طرح آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں.

میں بھی ایسے ھی تمہارے وجود کا حصہ بن چکا ہوں وائفے۔۔۔ایک تو تمہاری پہلی محبت بھی میں ہی ہوں تو میری محبت کا نشہ سر چڑھ کے بول رہا ہے آخر۔۔۔۔

اب اظہار کرہی دو ویسے ھی جیسے نفرت کا چیخ چیخ کے اقرار کیا تھا۔۔

اسکے کان کی لو پہ زبان پھیرتے وہ مدہوش سے لہجے میں کہتا اسکے بدن میں ایک نیا سا احساس جگا رہا تھا۔

وہ نفرت نہیں شاید میری بدگمانیاں تھیں جو تمہارے دور جانے کے پیدا ہوئی تھیں۔۔

بمشکل اسکے لبوں سے دل کی بات نکلی تھی۔

تو کیا اب ساری بدگمانیاں دور ہوچکی ہیں یا ابھی بھی دل میں کوئی غلط فہمی باقی ہے ہنی؟ اگر ہے نا تو ابھی بول دو تاکہ میں تمہارے سارے گلے شکوے آج دور کردوں۔۔

روبی کے ہاتھ سے کافی کا مگ لے کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے وہ بالکل شوہروں والے انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ نارملی وہ کافی بوسی لہجے میں بات کرتا تھا۔۔

نہیں۔۔۔۔اب کوئی غلط فہمی نہیں ہے دل میں۔۔۔۔

وہ شرماتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے کہہ رہی تھی۔

تو اب ہمارا رشتہ ایک نئے انداز میں شروع ہو سکتا ہے؟ بالکل ہبی وائفے کی طرح؟

بازو سینے پہ باندھے وہ روبی کو دیکھتے کہہ رہا تھا۔

اب بھی تو ہم ایسے ہی رہ رہے ہیں۔

وہ معصومیت سے لیو کو تکنے لگی۔

کہاں ایسے رہ رھے ہیں؟ اب جیسا کہ تم ایک نیا رشتہ شروع کرنے کے لیے تیار ہو تو میں تم سے کچھ محبت بھرے الفاظ سننا چاہتا ہوں۔

تو بتاؤ کہ مجھ سے کتنی محبت ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ ۔

روبی کی تھوڑی کو ہلکا سا اوپر کرتے وہ دلچسپی سے پوچھ رہا تھا جیسے اسکے منہ سے اپنے لیے محبت کا اقرار سننے کے لیے ترس رہا تھا۔

دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جارہی تھی۔

کچھ دیر پہلے جو باتیں بہت آرام سے بولے جارہی تھی اب ایک بھی لفظ ادا نہیں ہوپارہا تھا اس سے۔۔۔

بولو۔۔۔۔۔ایسے دیکھتے رہنے سے مجھے پتہ نہیں چلے گا کہ میری بیگم صاحبہ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہے ۔۔۔۔

روبی کے گال پہ چٹکی لیتے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔۔

اسکی حالت اسے اچھی طرح سمجھ آرہی تھی لیکن وہ بھی جان کے اسے تنگ کرنے کے در پہ تھا۔۔۔

میں پیار کرتی ہوں۔۔۔

ہڑبڑاہٹ میں آدھا فقرا ہی بول پائی وہ۔

کس سے پیار کرتی ہو؟

وہ سنجیدگی سے بولا۔

تم سے۔۔۔

پھر سے نظریں فرش پہ ٹکاتے وہ بولی تھی۔۔

دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اور بدن پہ جیسے چیونٹیاں رینگ رہی تھیں۔۔۔لیو کی نظروں کی تپش پھی جیسے وہ پرڈاشت نہیں کرپارھی تھی۔

مجھ سے؟ کون ہوں میں؟ کیوں پیار کرتی ہو مجھ سے؟

سوال پہ سوال کرتے وہ روبی کی جان لینے کے در پہ تھا۔

لیو۔۔۔۔تم جان بوجھ کے تنگ کررہے ہو مجھے۔۔۔۔ ایسے مت کرو۔۔۔

اسکی نظروں کے حصار سے جزبز ہوتی وہ بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولی۔

میں تو صرف سوال کررہا ہوں اپنی بیوی سے۔۔۔اب اسمیں تنگ کرنے والی کونسی بات ھے بیگم۔۔۔۔

اب اگر میرا اتنا سا بھی حق نہیں ہے تو ٹھیک ھے میں چلا جاتا ہوں۔۔۔۔نہیں پوچھتا کوئی سوال۔۔۔

مصنوعی ناراضگی چہرے پہ سجائے وہ باہر کی طرف جانے کا ناٹک کرنے لگا۔۔۔

کیوں جانا ہے؟ ابھی تو آئے ہو اور پھر سے جانا ہے اب نہیں جانے دوں گی میں۔۔۔۔

تیزی سے اٹھتے لیو کا بازو مضبوطی سے پکڑتے وہ منہ پھلائے کہہ رہی تھی۔۔۔

تو میں کب جانا چاہتا ہوں۔۔۔تم ہی مجھے ناراض کرکے بھیجنا چاہ رہی تھی۔۔۔

سپاٹ سا چہرھ بنائے وہ بولا۔۔

میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔آپ میرے شوہر ہیں میری پہلی محبت میرا عشق اور اب میرا سب کچھ۔۔۔۔۔

لیو کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھامے اسکے شانے پہ سر ٹکائے وہ شرماتے لجاتے کہہ رھی تھی۔۔۔

تم سے آپ تک کا سفر اتنی جلدی طے کرلیا وائفے۔۔۔۔۔ایک منٹ یہ کوئی خواب تو نہیں نا۔۔۔۔

خوشی و حیرت کی ملی جلی کیفیت سے کہتے وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔

یہ کوئی خواب نہیں ہے مسٹر مافیا۔۔۔۔یہ حقیقت ہے اور میں اپنی محبت کا اقرار کرتی ہوں اس بار دل سے۔۔۔۔۔

لیو کے ماتھے پہ بکھرے بالوں کو نفاست سے اپنی انگلیوں سے بناتے وہ محبت سے بھرپور لہجے میں کہتی لیو کے دل میں گہرا سکون اتار رہی تھی۔۔

کیا یہ اظہار محبت ہر روز ایسے ہی ہو سکتا ہے؟ تمہارے ان لبوں سے اپنے لیے یہ محبت بھرے جذبات ہر روز اپنے کانوں سے سننا چاہوں گا اگر تم یہ مہربانی کردو تو۔۔۔۔!

نرمی سے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسکے لبوں پہ اپنے لب مس کرتے وہ دل کی بات کہہ رہا تھا۔

اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو ایسا ہی سہی۔۔۔۔۔ہر روز تو کیا میں ہر ایک سیکنڈ بھی آپ سے اپنی محبت کا اظہار کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔

کیونکہ اب میرا دل محبت سے سرشار ہو چکا ہے اور یہ ساری محبت صرف آپکے لیے ہے۔۔۔۔۔

روح من

آج ستارے خوش ہیں

کہ ان کی دوریاں جھرمٹوں میں آگئی

پیوستگی اپنائے دو دو ہوگئے ہیں

صدیوں بعد آسمان نے اپنا لباس بدلا ہے

زمین پیاس کی شدت لیے اپنے وجود کو بنجر بنا بیٹھی تھی، اور ریگستان شیشے کی دیواریں

اور آئینے بنتے بنتے تھک سا گیا تھا کہ

تمہیں اس بات کا یقین کیسے دلایا جائے کہ

کائنات میں تمہارے پاوں کی خوبصورتی رکھنے والا بھی کوئی چہرہ کہیں نہیں ہے،

خزاں کی سلوٹوں میں اٹی سوکھی ٹہنیوں نے

اپنی چھاتیوں میں نئے رنگ کے پھولوں کو بصارت بخشی،

جگنوں نے گہرے لگائے ہوئے کہ

تمہاری نم آنکھوں پہ ٹانکے ہوئے ادھورے خواب رستہ بھول بیٹھے ہیں

موسموں میں خوشی کے مارے جنت سے شراب برس رہی ہے ، اور

تمام ذی روح تمہیں پیار دے رہے ہیں

دیکھو آج

پانی اور گیلی مٹی کے رقص

سیپ اور ریت کا ملن،

ہوا میں پنچھیوں کا شور،

اور دھوپ اتنی خوش ہے کہ

چھاوں کی گود میں سر رکھے سو رہی ہے

تمہارے جنم پر بانسری مہندی لگائے نئے سروں سے گا رہی ہے،

سب کچھ نیا ہورہا ہے

جتنی مشکلات نے دنیا کا گلہ گھونٹ رکھا تھا

سب جھڑ گئی ,

تمہارے لبوں سے بہتی نازکی

اس جہاں کی تمام خوبصورتی سے زیادہ خوبصورت ہے

روبی کو اپنے سینے میں بھینچے وہ اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔۔۔

یہ باتیں کہاں سے سیکھی؟

لیو کے سینے پہ ہاتھ پھیرتے وہ دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی۔۔۔

جب تمہیں پہلی بار دیکھا اور تم دوستی ہوئی تو خود بہ خود ہی دل خیال بننے لگا اور دماغ یہ باتیں۔۔۔۔

روبی کا بازو پکڑے وہ بیڈ کی طرف بڑھتے بیڈ پہ گرتے اسے بھی اپنے اوپرکھینچ چکا تھا۔۔۔

کتنا خوبصورت لگ رہا ہے نا یہ سب۔۔۔۔۔

کروٹ بدلتے روبی کو برابر میں لٹاتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔۔۔

ہاں۔۔۔۔بہت حسین اور پر سکون۔۔۔۔

آنکھیں بند کرتے ایک لمبی سانس بھرتے روبی نے جیسے دنیا جہاں کا سکون خود میں اتارا تھا۔۔۔۔

مجھے محسوس ہوا

کہ جس قدر دشوار راستوں سے

گزرتے ہوئے تم میری طرف آئی

مجھے اک خوف لاحق ہے جس میں

تمام رات تڑپتا رہا

کہ میری طرف بڑھتے ہوئے تمہارے

نازک پاوں کی تلیوں پہ چھالے بن گئے ہوں گے

پاس آو کہ مجھے تمہارے پاوں کی تلیوں پہ بوسہ دینا ہے

تمہارا درد زائل کرنا ہے ❤

روبی کے ٹخنوں پہ بوسہ دیتے وہ اسکے پاؤں پہ ہاتھ پھیرتے مدہوش سا کہنے لگا۔

اسکے لبوں کی گرماہٹ محسوس ہوئی تو روبی نے فورا سے اپنی ٹانگیں سمیٹی تھیں۔۔۔

اب تو شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں ھے نا ہنی۔۔۔۔۔

دلفریب مسکراہٹ سے اسے دیکھتے وہ اس پہ جھکا تھا۔۔

روبی نے جھٹ سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔۔۔ہارٹ بیٹ پھر سے فاسٹ ہونے لگی تھی۔۔۔۔

اسے شرماتا دیکھ لیو کو ہنسی آرہی تھی جسے وہ دانتوں تلے دبائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

تمہیں پتہ ہے وائفے تمہارے ایسے شرماتے رہنے سے میرے بچے اس دنیا میں کافی لیٹ آئیں گے۔۔۔۔۔۔

تو اگر تم اس کمرے میں چھوٹے بچوں کی قلقاریاں سننا چاہتی ہو تو اس شرم کو کچھ دیر سائیڈ پہ رکھنا پڑے گا۔۔۔۔

روبی کے گال پہ اپنی ناک رگڑتے وہ اسے تنگ کرتے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

کیا؟

لیو کی بات پہ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔حیرت سے اسے تکتے وہ جیسے کچھ کہنا چاہ رھی تھی پر کہہ نہیں پارہی تھی۔۔۔

یہ بڑی بڑی آنکھیں کیوں گاڑھ رکھی ہیں مجھ پہ۔۔۔۔۔ان میں ڈوب جاؤں کیا؟

اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ کے وہ معصوم بننے کی اداکاری کرنے لگا۔۔

آپ بچوں کی بات کررہے ہیں نا۔۔۔اتنی جلدی ۔۔۔ابھی تو میں نے آپکے ساتھ سہی طرح وقت ہی نہیں گزارا۔۔۔اور آپکو بچے چاہیئے۔۔

منہ پھلاتے وہ لیو کو دیکھنے لگی۔۔۔

ہاں تو ۔۔۔۔ گزارو وقت میرے ساتھ۔۔۔۔یہی ہوں میں تمہارے پاس، تمہارے قریب۔۔۔۔۔کہیں نہیں جارہا۔۔۔۔

روبی کی گردن میں منہ دیے جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے وہ اسے مدہوش کررہا تھا۔۔

ہمیشہ ایسے ہی میرے پاس رہیں گے نا۔۔۔۔مجھے خود سے دور تو نہیں کریں گے نا۔۔۔۔اگر کبھی ہماری فیمیلیز کے درمیان کوئی مسئلہ ہوا تو اسکی وجہ کے ہمارے بیج تو کوئی دوری نہیں آئے گی نا۔۔۔۔

یہ خوف مجھے بہت بے چین کردیتا تھا پہلے بھی اور اب بھی۔۔۔۔۔

لیو کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ کہنے لگی۔۔۔

نہیں۔۔۔۔کبھی بھی کسی بھی وجہ سے میں ہمارے بھی کوئی دوری نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔

کچھ بھی ہوجائے لیو ہمیشہ ایسے ھی تمہارے قریب رہے گا تمہارے پاس تمہاری بانہوں میں۔۔۔۔

اسکے بدن پہ حاوی ہوتے وہ خمار آلود آواز میں کہتا اس پہ محبت برسانے لگا تھا۔۔۔

مجھے یقین ہے آپ پہ اور آپکی محبت پہ بھی اور میں جانتی ہوں میں کہ میرا یہ یقین کبھی بھی نہیں بکھرنے دیں گے آپ۔۔۔۔

اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ دھیمے سے بول رہی تھی۔۔۔

فکر نہیں کرو ہنی۔۔۔تمہارا یہ مان اور بھروسہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ بولا اور اسکے لبوں پہ جھکتے اپنے سلگتے ہونٹوں کا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔

یہ نرماہٹ اور مٹھاس میری ساری تھکن دور کردیتی ہے۔۔۔

اسکے لبوں کو چومتے وہ اسکے برابر میں لیٹتے اسکے گرد بانہوں کا حصار بناتے پرسکون انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔

اور آپکے اس چوڑے سینے سے لگ کے مجھے سکون ملتا ہے۔۔۔ ۔

کروٹ بدلتے رخ لیو کی طرف کرتے وہ اسکے سینے سے لگی بول رہی تھی۔۔۔

تو مطلب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے باعث سکون بن چکے ہیں۔۔۔اس سے زیادہ اور کیا محبت ہوسکتی ہے۔۔۔

روبی کے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ پیار سے کہتا اسے خود میں سمٹتا محسوس کررہا تھا۔۔۔۔

وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی۔۔۔۔اور ایک ایک کرکے سارے بٹن کھولتی گئی۔۔

تو یہ تمہاری کمزوری ہے ہے نا؟

روبی کا ہاتھ اپنے کسرتی سینے پہ پھیرتے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے معنی خیز انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔

ہاں۔۔۔۔بھر پور مضبوط جسامت۔۔۔۔۔۔

ہلکے سے ہنستے ہوئے وہ اسکے سیکس پیک کو چھوتی ۔کہہ رہی تھی۔۔۔

اور میری کمزوری یہ ہیں۔۔۔۔

اگلے ہی پل ایک جھٹکے میں اس کے لبوں پہ جھکتے وہ اسے سنبھلنے کا موقع دیے بنا ہی اپنی قربت میں بھگونے لگا۔۔۔۔

اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ اسکی گرم سانسیں خود میں اترتے محسوس کررہی تھی۔۔۔

اسکے لبوں کی نرماہٹ جہاں اسے سکون دے رہی تھی وہی اسکا کسرتی جسم اپنے بدن پہ محسوس کرتے اسے اپنا بدن کانپتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔۔۔

لیو!

اسکی شدت میں اضافہ ہوتے دیکھ اسے اپنا دل سینے سے باہر نکلتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔

اسکے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتے مشکل سے اپنے لبوں کو اسکے ہونٹوں کی قید سے رہا کرتے وہ پھولی سانسوں میں بولی تھی۔۔۔۔

بتایا نا یہ بہت میٹھے ہیں انکو چکھنے کے بعد رہا نہیں جاتا۔۔۔۔۔

پھولی سانسوں میں کہتے وہ اسکے ہونٹوں پہ شہادت کی انگلی رگڑتے مسکرایا تھا۔۔۔۔

اسکی شہادت کی انگلی اپنے ہاتھ میں پکڑتے وہ لیو کی آنکھوں میں تکنے لگی تھی۔۔۔۔

کروٹ لیتے وہ اسکے برابر میں لیٹ گیا جبکہ اسکی انگلی روبی کی انگلیوں میں قید تھی جسے وہ اپنے لبوں پہ مس کیے جارہی تھی۔۔۔

اسکی کاروائی دیکھتے لیو کے عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.