shelter, rain, couple-2353891.jpg

جی بابا جان! بلایا آپ نے!

کمرے میں داخل ہوتے ادب سے سر جھکاتے وہ پوچھ رہا تھا۔

ہاں۔۔۔بیٹھو۔

اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ سگریٹ پینے لگے۔

اطالوی مافیا نے ایک پیغام بھیجا ہے ہمارے لیے۔۔۔۔اسی بارے میں بات کرنی تھی تم سے۔۔۔

بارعب انداز میں کہتے وہ لیو کو غور سے دیکھ رھے تھے۔۔

اطالوی مافیا! خیریت؟ اچانک سے کیسے یاد آگئے ہم انکو

وہ طنز کرتے کہہ رہا تھا۔

اٹلی مافیا کی اکلوتی بیٹی کی تلاش ہے انکو ۔۔۔۔انکو شک ہے کہ اسے چھپانے میں کہیں نہ کہیں تمہارا ہاتھ ہے۔۔۔

قہر برساتی آنکھیں لیو پہ گاڑھے وہ غضب ناک لہجے میں کہہ رہے تھے۔

اس معاملے سے میرا کیا تعلق بھلا۔۔۔۔۔

لاپرواہی سے کہتے وہ ہنسا تھا۔

وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔تم بہت اچھی طرح سے جانتے ہو کہ وہ کتنی قیمتی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس لڑکی کے لیے تمہارے دل میں کیا تھا۔۔۔۔

اگر تم کچھ بھی جانتے ہو تو ابھی بتا دو مجھے۔۔۔۔میں اس معاملے کو کسی طرح سنبھال لوں گا۔۔

ورنہ تم جانتے ہو کہ اس وجہ سے بہت بھیانک جنگ ہو سکتی ھے اور اسمیں نقصان ہمارا بھی ہوگا لیو ۔۔

وہ اسے آنے والے وقت سے آگاہ کرتے اسے ڈرانے کی کوشش کررہے تھے۔۔

وہ جو بھی تھا ماضی تھا اور وہ بہت پہلے ہی ختم ہوچکا بابا جان!

لیو کے چہرے پہ کئی رنگ آکے گزرے تھے۔

تو تم انکار کررہے ہو ۔۔۔۔ امید ہے تم کچھ چھپا نہیں رہے ہو ہم سے۔۔۔۔

کچھ نہیں چھپا رہا میں۔۔۔بے فکر رہیں آپ اور کہہ دیں انکو کہ ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی اس معاملے سے ہمارا کوئی تعلق ھے۔۔۔۔

سپاٹ انداذ میں کہتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

آخری بار سوچ لو۔۔۔۔کیونکہ وہ ڈھونڈ تو اسے نکالیں گے ھی اور جان تو اسکی جانی ہی ھے۔۔۔۔۔

اگر تم کچھ مدد کردوگے تو شاید اسے اتنی درد ناک موت نہ ملے۔۔۔۔۔

وہ لیو کی دکھتی رگ کو چھیڑتے ہوئے کہہ رہے تھے۔۔۔

جس نے جو کرنا ہے کر لے۔۔۔۔میں دیکھ لوں گا سب کو اور جہاں تک بات پرنسسز کی ہے تو میں واقعی انکے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔

اگر کچھ جانتا تو آپکو لگتا ہے کہ میں ایسے خاموش رہتا۔۔۔اب تک ان اطالوی مافیا کا نام و نشان مٹا چکا ہوتا میں۔۔۔۔

وہ غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔

بھولو مت انکی بیٹی ہمارے گھر کی بہو ہے۔۔۔تم کوئی ایسا کام نہیں کروگے جسکی وجہ سے ہمارے تعلقات خراب ہوں۔۔۔

آنکھیں دکھاتے وہ لیو کو خبردار کررہے تھے۔۔۔

صرف یہی ایک وجہ تھی انکے زندہ ہونے کی۔۔۔۔۔اب چونکہ انکی بیٹی ہمارے گھر ہے تو پھر کیوں تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔

تباہ کردیں نا انکو۔۔۔

وہ غصے و نفرت سے کہہ رہا تھا۔۔

یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب اتنا آسان ہے جتنا تمہیں نظر آتا ہے۔۔۔۔کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں لے کے پچھتانا نہیں چاہتا میں۔۔۔

اطالوی مافیا کی پہنچ وہاں تک ھے جہاں تک ہم چاہ کے بھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔۔ انکو ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔

یہ کوئی بہت مشکل بھی نہیں ہے۔۔۔آپ جانتے ھیں میرے لیے آسان ہے یہ۔۔۔تو پھر کیوں نہیں جانے دیتے مجھے۔۔۔۔

وہ انکے سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھتے سوالیہ نظروں سے انکو دیکھ رہا تھا۔۔

ہمیں ان سے جنگ نہیں کرنی ہمیں بس اپنا کام نکلوانا ہے۔۔۔

اگر وہ لڑکی ہمیں مل جائے تو ہمارا بہت فائدہ ہوگا ۔۔اسمیں۔۔۔

بتاؤ لیو۔۔۔کہاں چھپا کے رکھا ہے تم۔نے اسے۔۔۔۔

وہ ہمارے بہت کام آسکتی ہے۔۔۔

انکی آنکھوں میں دولت کا لالچ لیو کو غصہ دلارہا تھا

کتنی بار بتاؤں آپکو کہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔

وہ اٹھ کے انکے سامنے گھنٹوں کے بل بیٹھتے کہہ رہا تھا۔ُ

جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔۔۔۔بتا دو لیو سچ بتادو۔۔۔۔

اسکے بدلے شاہی محل ہمارا ہو سکتا ہے اور تم اسکی قیمت جانتے ہو نا۔۔۔۔

ہاں جانتا ہوں۔۔۔۔یہ بھی جانتا ہوں کہ دولت کے لالچ میں آپ اپنی بہن بیٹی بھی بیچ سکتے ہیں۔۔۔۔

لیو کے ایک ایک لفظ سے نفرت جھلک رہی تھی۔۔۔۔

اگلے ھی پل اسکے گال پہ ایک زور دار تھپڑ لگا تھا۔۔۔

تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔

تمہیں پہلے ہی سمجھایا تھا کہ تم مافیا ہو۔۔۔۔۔

دل میں محبت، ہمدردی مت جگانا کبھی پر تم نے کیا کیا دل کے دروازے کھول دیے محبت کے لیے اور کردیا خود کو برباد۔۔۔

یہ جو تمہاری آنکھوں میں بےباکی ہے نا اسکی وجہ جانتا ہوں میں۔۔۔۔

اس لڑکی کو اب میں خود ڈھونڈو گا اور پھر تمہارے سامنے اسکے ٹکڑے ٹکڑے کروں گا سمجھے تم۔۔۔۔

کوئی شک نہیں کیونکہ بہت سفاک ہیں آپ۔۔۔۔کچھ بھی کر سکتے ھیں۔۔۔

تو آپ میری بات بھی سن لیں۔۔۔۔ اگر وہ لڑکی آپکو مل گئی تو اسکی جان تبھی لیجیے گا جب أپ مجھے کھونے کا حوصلہ رکھتے ھوں۔۔۔۔

کیونکہ میں بھی آپ ہی کا بیٹا ہوں۔۔

ڈو ٹوک انداز میں کہتے وہ تیزی سے اٹھتے کمرے سے باہر چلا گیا پیچھے وھ اسے آوازیں دیتے رہ گئے۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

“دل کی ہر بات نہیں کہی جا سکتی؛ شاید اسی واسطے ہی خدا نے خاموش آہیں اور سسکیاں بنائیں؛ آنسو پیدا کیے؛ طویل نیند بنائی اور اسی خاطر ہی بے کیف مسکراہٹ اور وقتِ الوداع ہاتھوں کو ہلانے کا سامان پیدا کیا…”

وہ ٹیرس پہ کھڑا سگریٹ پہ سگریٹ پیے جارہا تھا۔۔۔۔

غصہ تھا کہ کسی طور کم ہونے کو نہ تھا۔۔۔۔

روبی کمرے میں داخل ہوئی تو لیو کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔

ٹیرس کی طرف گئی تو لیو کو گم صم پایا۔۔۔

لیو۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے؟ کیا کوئی پریشانی ہے؟

روبی کی پرسکون سی آواز لیو کے کانوں میں پڑی تو وہ خیالوں سے باہر نکلا۔۔۔

ہنی۔۔۔تم کہاں تھی۔۔۔۔

جواب دینے کی بجائے اس نے الٹا سوال کیا۔۔

میں کچن میں گئی تھی۔۔۔بوریت ہورہی تھی تو سوچا جاکے کچھ بنالوں لیکن سب کچھ پہلے سے ہی تیار تھا اسی لیے واپس آگئی۔۔۔

وہ لیو کے قریب آتے ہوئے مسکرا کے اسے بتارہی تھی۔۔

اچھا!

سگریٹ کو پھینکتے وہ زبردستی سا مسکرایا تھا۔۔

کیا ہوا کیا کؤئی مسئلہ ہے؟

اب کی بار اسے فکر ہوئی تھی۔۔

نہیں وائفے۔۔۔۔سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ سب تھوڑا سا تھک گیا ہوں۔۔۔۔

روبی کو گلے سے لگاتے وہ جیسے اسکی خوشبو خود میں اتارتے اپنی تھکن دور کررہا تھا۔۔۔۔۔۔

کافی بنا کے لاؤں آپکے لیے!

وہ پیار سے اسکی کمر پہ اپنے ہاتھ رگڑتے کہہ رہی تھی۔۔

کافی کا موڈ نہیں ہے ہنی۔۔۔۔ہاں اگر تم کچھ میٹھا سا۔۔۔جوسی سا دے دو تو۔۔۔۔۔۔۔۔

روبی کے لبوں کو دو انگلیوں سے پکڑتے وہ شرارت سے کہتا مسکرارہا تھا۔

۔۔

اسکی بات سن کے کمر پہ موجود اسکے ہاتھ سرک کے فورا سے أگے کو آئے تھے۔۔۔۔

گال بلش کررہے تھے اور گھنی پلکیں شرم سے جھکی لیو کو اکسا رہی تھیں۔۔۔

یہ گال کیوں ٹماٹر ہورہے ہیں۔۔۔۔اور یہ ہونٹ یہ تو پہلے ہی سرخ ہیں۔۔۔۔۔

روبی کے گال پہ لب رکھتے ہلکے سے بائٹ کرتے وہ گھمبیر آواز میں کہتا اسے بے چین کررہا تھا۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھ لیو کے سینے پہ رکھے کبھی اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑتی تو کبھی چھوڑتی۔۔۔۔

اسکی کاروائی لیو نوٹ کرتے مسکرارہا تھا۔۔

اسکے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھامتے وہ ان پہ بوسہ دے چکا تھا۔۔

روبی نے پلکیں اٹھا کے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔ہارٹ بیٹ دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔۔۔

نرمی سے اسکے دونوں رخساروں کو چومتے وہ اسکے لبوں پہ بوسہ دیتے کہنے لگا۔۔

ابھی کچھ کام ہے مجھے ورنہ ساری تھکان ابھی اتارنی تھی۔۔۔۔

رات میں آتا ہوں پھر continue کریں گے ۔۔۔۔

معنی خیز انداز میں کہتے اسکے گالوں کو چھوتے وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔

پیچھے وہ کافی دیر تک وہی ٹیرس پہ کھڑی اسکی باتوں کے مطلب سوچتی شرماتی مسکراتی رہی۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

Will you kiss me?

بین کو لیپ ٹاپ پہ مصروف دیکھ کے وہ اسکے برابرصوفے پہ بیٹھتے ہوئے بول رہی تھی۔۔

اسکی آواز کان میں پڑی تو کی بورڈ پہ ٹک ٹک کرتی انگلیاں اچانک سے رکی تھیں۔۔۔

سوالیہ نگاہ اسکے نورانی چہرے پہ ڈالتے وہ پھر سے کام میں بزی ہوگیا۔۔۔

تم پسند کرتے ہونا مجھے۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔

تم کس کرنا چاہتے ہونا۔۔۔۔دل ہی دل میں تو خوش ہورہے ہوگے پر ایسے بی ہیو کررہے ہو جیسے کوئی دلچسپی ہی نہیں تمہیں۔۔۔۔

بین کے بازو پہ اپنی کہنی مارتے وہ اسکا دل جلا رہی تھی۔

جب تم نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا تب سے ہی پسند کرتے ہونا مجھے۔۔۔۔۔

میرے قریب آنے کا دل تو چاہتا ہوگا نا۔۔۔آخر کو اتنی حسین ہوں میں۔۔۔۔۔اپنی فیلنگز کو چھپاو مت۔۔۔۔۔بول دو۔۔

اسے ہنوز لیپ ٹاپ میں مصروف دیکھ کے وہ اسکے کندھے پہ کہنی ٹکاتے اسکے دل کے تار ہلارہی تھی۔۔

جاؤ۔۔۔جاکے سو جاؤ۔۔۔۔اور مجھے بھی سکون سے کام کرنے دو۔۔۔

اسکی کہنی ایک ہی جھٹکے میں اپنے کندھے سے ہٹاتے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔

مجھے نیند نہیں آرہی۔۔۔تمہارے چہرے سے صاف پتہ لگ رہا ہے کہ تمہیں کچھ کچھ ہورہا ہے میری باتیں سن کے۔۔۔۔دل میں گدگدی ہورہی ہے نا۔۔۔۔۔۔

کیا تم واقعی مجھے چھونا نہیں چاہتے؟

اسکی بات اگنور کرتے وہ قاتلانہ انداز میں مسکرائی تھی۔۔۔جسے دیکھ بین کو اپنا آپ گھائل ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔

مجھے بہکانے کی کوشش کررہی ہو تم۔۔۔۔بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں میں۔۔۔۔۔تمہاری کسی بھی بات سے نہیں بہکنے والا میں اس لیے یہ ناکام سی کوشش نہ ہی کرو تم تو بہتر ہے۔۔۔۔

ویسے کافی چالاک ہوتم۔۔۔۔۔دکھنے میں تو کافی معصوم سی ایک پیاری سی لڑکی لگتی ہو لیکن ہو کافی شاطر سی۔۔۔۔۔

کبھی کبھی گمان ہوتا ہے جیسے لیو کی کاربن کاپی ہوتم۔۔۔۔سچ بتاؤ۔۔۔۔کیا لگتی ہو لیو کی؟

ٹانگ پہ ٹانگ جمائے سیلن کے چمکتے ہوئے چہرے کو دیکھتے وہ سپاٹ انداز میں کہہ رہا تھا۔

تم اپنی بات کرو۔۔۔۔تم پسند کرتے ہو یا نہیں مجھے؟

ایک ھی جھٹکے میں بین کی گردن میں بانہوں کا ہار ڈالتے وہ جیسے اسکی کہی باتیں سن ہی نہیں رہی تھی۔۔۔

Wanna kiss me?

اسکے لبوں کے قریب اپنے لبوں کو لے کے جاتے وہ اسکے جذبات ابھارنے پہ تلی ہوئی تھی۔

نو۔۔۔۔دور رہو تم۔۔۔۔تمہارے قریب آنے کا مطلب موت کو گلے لگانا ہے اور میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔

محبت دل میں دبائے وہ اسے جھٹکے کے دور کرتے خود اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

اسکی حرکت پہ سیلن نے دل ہی دل میں اسے کوسا تھا۔۔۔

مجھے لیو کے پاس لے کے جاؤ۔۔۔۔

اپنا بنا بنایا پلین فیل ہوتا دیکھ کے وہ غصے سے چیخی تھی۔

جب لیو کہے گا تو لے جاوں گا۔۔۔تب تک مجھے کچھ مت کہو کیونکہ تم جانتی ہو کہ لیو کی مرضی کے بنا تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔

میں ہی کمرے سے باہر جارہا ہوں کیونکہ یہاں تو تم سکون سے کام تک نہیں کرنے دوگی مجھے۔۔۔

لیپ ٹاپ اٹھائے وہ بنا اسکا جواب سنے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔

اکڑو۔۔کھڑوس۔۔۔۔مر جاؤ تم۔۔۔۔میں ہی جان سے مار دون گی تمہیں۔۔۔۔

سر دائیں بائیں گھماتے وہ چیخ رہی تھی۔۔

پسند تو کرتا ہوں تمہیں بے حد۔۔۔۔شاید مر مٹا ہوں تم پہ ۔۔۔حسن کی دیوی ہوتم سیلن۔۔۔۔۔

کاش میں بتا پاتا تمہیں۔۔۔۔۔پر چاہ کے بھی میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔۔۔۔۔

دل چاہتا ہے تمہیں حاصل کرلوں۔۔۔اپنا ہر سانس تمہارے سنگ لوں۔۔۔۔

تمہارے پاس رہوں ہر پل تمہارے ساتھ گزاروں۔۔۔چاہے انجام جو بھی ہو بس تمہیں حاصل کرلوں۔۔۔

لیکن کیا فائدہ تمہیں حاصل کرنے کا۔۔۔۔اس یکطرفہ محبت کا انجام صرف اور صرف موت ہے۔۔

اور یہ دل ہے کہ اس پہ تمہیں حاصل کرنے کی دھن سوار ہے۔۔۔تمہارے سینے میں چھپنے کء خواہش ہے۔۔۔تمہارے بانہوں میں سونے کی تمنا ہے۔۔۔۔

اس دنیا سے چھپ کے تمہاری آنکھوں میں رہنے کی حسرت ہے۔۔۔۔۔تم سے ڈھیروں باتیں کرنے کی چاہ ہے۔۔۔

پر میری یہ ساری خواہشیں میرے سینے میں ہی قید رہ جائیں گی میرے ساتھ ہے دفن ہو جائیں گی۔۔۔

کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جیسے میرے دل میں تم بسی ہو ویسے ہی تمہارے دل میں لیو۔۔۔۔۔۔

اور لیو۔۔۔۔اسکے دل میں کون ہے؟ عجیب سی کشمکش میں ڈال دیا ہے ۔۔۔۔

دل کے حال کون جان سکتا بھلا سوائے خدا کے۔۔۔۔

وہ فرش پہ بیٹھا آسمان کو تکتے خیالوں کے گھوڑوں کو دوڑائے جارہا تھا۔۔۔۔ہر خیال اسکی چہرے پہ ایک نیا رنگ لاتا اور گزر جاتا۔۔۔

اے سنو! مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔کچھ کھانے کے لیے ہے یا بھوکا ہی مار دو گے مجھے۔۔۔

سیلن اسکے کندھے کو ہلاتے خیالوں کی دنیا سے باہر لائی۔۔

کچن میں جا کے دیکھو سب کچھ رکھا ہے تمہارے لیے۔۔۔لیو نے ہر چیز کا انتظام کروادیا تھا تمہارے لیے کہ اسکی شہزادی کو کوئی مشکل نہ ہو یہاں رہنے میں۔۔۔

بین نے افسردہ سے لہجے میں کہا جبکہ اسکے لہجے کی اداسی محسوس کیے بنا “لیو کی شہزادی” کہلوائے جانے پہ وہ چہکی تھی۔۔

تو تم نے مان ہی لیا کہ میں لیو کی شہزادی ہوں۔۔

وہ آسمان پہ چمکتے تارے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

نہیں! میں نے مانا۔۔۔۔بس منہ سے نکل گیا تھا۔۔۔

وہ سپاٹ انداز میں بولا۔۔

تم نا ہو ہی سڑیل۔۔۔۔۔۔یہ تارا گرے گا تم پہ اور مر جاؤ گے تم۔۔۔۔

آسمان پہ چمکتے ایک تارے کی طرف اشارہ کرتے وہ بین کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے کہہ رہی تھی۔۔۔

یہ تارا کیوں۔۔۔تم ہی کافی ہو میری جان لینے کے لیے۔۔۔

وہ ایک بار پھر اداس سا ہوا تھا۔۔۔۔

ایک تو وہ ظالم اتنی حوبصورت دوسرا اسکے جذبات کو نہیں جانتی اور تیسرا اپنے دل میں کسی اور کو بسائے بیٹھی تھی۔۔۔۔

بین کو اپنا دل گھائل ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔اذیت ہی اذیت تھی محبت کے نام پہ۔۔۔۔۔۔۔

یہ یکطرفہ محبت تھی یا موت تھی جو تڑپائے ہی جارہی تھی۔۔۔

کیا کہا؟

بین کی دھیمی آواز کی وجہ کے وہ اسکی کہی بات سمجھ نہیں سکی تھی۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔جاؤ جاکے کھانا کھاؤ تم۔۔۔۔

لاپروائی سے کہتے وہ ایک سرد آہ بھر کے رہ گیا۔۔۔

مجنوں کہی کا۔۔۔

بڑبڑاتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔جبکہ بین اسکی بات سن کے مسکرا کے رہ گیا۔۔۔

تمہارے لیے۔۔۔۔مجنوں بن گیا ہوں۔۔۔۔۔دیوانہ پاگل اور نجانے کیا کیا۔۔۔۔۔

کیا ہی عجیب بات ہے۔۔۔ایک گھر میں ہم دونوں۔ہیں۔۔۔۔تیسرا کوئی نہیں۔۔۔۔

پھر بھی ایسا لگ رھا ہے تمہارے میرے بیچ پوری دنیا رکاوٹ بنی کھڑی ہے جو مجھے تم تک آنے ھی نہیں دے رہی۔۔۔۔۔

کاش تمہارے دل پہ لکھا لیو کا نام مٹا کے میں اپنا نام لکھ سکتا۔۔۔تمہارے دل کے سارے جذبات اپنے نام کر سکتا۔۔۔۔

اے خدا اگر تو سن رہا ہے تو میری یہ خواہش پوری کردے۔۔۔اسے میرا کردے۔۔۔۔اسکی محبت پہ میرا نام لکھ دے۔۔۔اسکا دل میری طرف موڑ دے۔۔۔

وہ آسمان کہ تکتے دعا کررہا تھا کہ اب خدا کے علاوہ کؤئی اسکی مدد نہ کر سکتا تھا۔۔۔۔

سڑیل یہاں آؤ۔۔۔۔۔

وہ دل پہ ہاتھ مسکراتا ہوا اٹھا اور کچن کی طرف چلا گیا۔۔

جی شہزادی صاحبہ!

کیا حکم ہے؟

کچن میں داخل ہوتے وہ بہت ادب سے سر جھکائے کہہ رہا تھا۔۔

یہ پانی کی بوتل اٹھا کے دو مجھے۔۔۔

وہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پہ بیٹھی اپنے سامنے پہ پڑی پانی کی بوتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔

کیا؟ یہ تمہارے سامنے رکھی ھے بوتل اور تم نے چیخ کے مجھے ایسے بلایا جیسے کوئی جن بھوت دیکھ لیا تھا۔۔

ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتے وہ بگڑے تیور لیے کہتا بوتل اٹھا کے اسکے ہاتھ میں تھماتے کہنے لگا۔۔

یہاں پہ ایک ہی جن بھوت ہے اور وہ تم ہو اور تمہیں دیکھ کے مجھے بالکل ڈر نہیں لگتا البتہ ہنسی ضرور آتی ہے۔۔

وہ پانی کی بوتل کا ڈھکن کھولتے ایک گھونٹ بھرنے کے بعد بین کو چڑانے کے سے انداز میں بولی۔۔

اگر ڈرانے پہ آیا نا تو تمہاری چیخیں نکل جائیں گی پھر۔۔۔۔حسن کی دیوی! 

ایک ہاتھ اسکی کرسی اور دوسرا ٹیبل پہ رکھتے وہ سیلن پہ جھکتے بہت سنجیدہ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔

اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک و جنون دیکھ کے سیلن ٹھٹھکی تھی۔۔۔شرارت اسکی آنکھوں سے فورا سے غائب ہوئی تھی اور ایک عجیب سے خوف کی لہر اسے اپنے بدن میں دوڑتی محسوس ہونے لگی تھی۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.