mountain, highland, cloud-2560893.jpg

پانچ گھنٹے پہلے۔۔۔۔

کہاں ہو تم؟ ٹھیک ھے گاڑی کا انتظام کرو میں کچھ دیر میں آرہا ہوں۔۔۔

فون پہ کہتے وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔

Hey…..

لیو!

میں تمہیں یاد کررہی تھی اور تم آگئے۔۔۔۔

لیو کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کے وہ بیڈ سے اترتے اسکے پاس بھاگ کے گئی تھی۔

کیسی ہو؟

عنابی لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ لیے وہ مخاطب ہوا۔

ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟

لیو کے گال چھوتے وہ خوشی سے بولی تھی۔۔

ٹھیک نہیں میں۔۔۔

کیوں؟ کیا ہوا؟

وہ سپاٹ سے لہجے میں بولا۔ آگے سے فکرمندی سے پوچھا گیا۔

تھوڑی سی پریشانی ہوگئی ہے۔۔۔۔تمہیں کسی اور جگہ پہنچا رہا ہوں میں جب مسئلہ حل ہوجائے گا تو واپس لے آؤں گا۔۔۔

مجھے؟ کہیں اور بھیج رہے ہو؟ ابھی تو یہاں آئی ہوں میں۔۔۔اتنی جلدی مجھے کہیں اور نہیں جانا۔۔۔۔

لیو پلیز مجھے یہیں رہنا ہے۔۔یہاں پہ تم تو ہو۔۔۔پلیز یہی پہ رہنے دو نا۔۔۔۔دیکھو میں کمرے میں ھی ہوتی ہوں نا۔۔۔کہیں بھی نہیں جاتی باہر۔۔۔تنگ بھی نہیں کرتی تو مت بھیجو کہیں اور مجھے۔۔۔

وہ التجا بھری نظروں سے لیو کو دیکھنے لگی۔۔۔

میں کہہ رہا ہوں نا۔۔۔واپس لے آؤں گا۔۔۔۔ضد نہیں کرو پلیز۔۔۔۔تمہارا لیے ہی کررہا ہوں یہ سب۔۔۔

اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیے وہ اسے منانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔مجھے نہیں جانا۔۔۔۔میں اب کہیں نہیں جاؤنگی۔۔۔مجھے یہی رہنا ہے۔۔۔مجھے نہیں جانا۔۔۔

وہ رونے لگی۔۔۔اسے روتا دیکھ لیو کے ماتھے پہ بل پڑے تھےکہ وہ پہلے ہی پریشان تھا اور اوپر سے وہ ضد کررہی تھی۔۔

یہاں رہنا سیف نہیں ہے اب تمہارے لیے۔۔۔۔میں پہلے ہی کافی غصے میں ہوں تم مجھے مزید طیش مت دلاؤ۔۔۔

کچھ دن کی بات ہے بس پھر یہی لے آؤں گا تمہیں۔۔۔۔

وہ دبے دبے غصے سے کہتے سیلن کے بہتے آنسو صاف کرنے لگا۔۔

مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔۔۔

نم آنکھوں سے لیو کو دیکھتے وہ جیسے منت کررہی تھی۔۔

میں جانتا ہوں۔۔۔۔لیکن تمہارا سیف رہنا زیادہ اہم ہے۔۔۔سیف رہو گی تو ہی میرے ساتھ رہو گی نا۔۔۔

وہ کچھ نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔۔

میں تمہارے ساتھ سیف ہوں ۔۔۔۔ مجھے مت بھیجو کہیں اور پلیز۔۔۔

وہ پھر سے آنسو بہانے لگی تھی۔۔

رونا بند کرو۔۔۔کیوں نہیں سمجھ رہی میری بات۔۔۔تمہاری جان کو خطرہ ہے۔۔۔۔

مجھے ہزاروں کام ہوتے ہیں میں چوبیس گھنٹے تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتااسی لیے سیف جگہ بھیج رہا ہوں تمہیں۔۔۔

وہ اسے بازو سے دبوچے دھاڑا تھا۔

چلو شاباش آجاؤ۔۔۔

اسکی کلائی پکڑے وہ دروازے کی طرف بڑھا پر اسے بت بنے روتے دیکھ رک گیا۔۔

کچھ کہہ رہا ہوں۔۔۔ایسے روتی رہو گی تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا۔۔۔چلو آجاؤ۔۔

سیلن۔۔۔۔کیوں اپنی جان خطرے میں ڈالنا چاہتی ہو؟

نہیں جینا چاہتی کیا؟ مرنا چاہتی ہو؟ بولو؟

نہیں رہنا میرے ساتھ؟

اسے ہنوز بت بنے دیکھ کے اسکی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے وہ بولا کہ یہ آخری راستہ تھا اسکی حفاظت کا۔۔۔۔

رھنا ہے۔۔۔۔۔

وہ فورا سے بولی۔۔۔

تو پھر چلو ساتھ میرے اور جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کرو . ۔۔۔

تم بھی رہو گے نا وہاں میرے ساتھ۔۔۔۔

اسکے ساتھ چلتے چلتے وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔

گاڑی میں بیٹھو۔۔۔

جواب دینے کی بجائے وہ اسے گاڑی میں بیٹھنے کی تلقین کرتے خود بھی اسکے برابر بیٹھ گیا۔۔۔

فرنٹ سیٹ پہ بین کو بیٹھے دیکھ کے سیلن کا موڈ خراب ہوا تھا۔۔۔

یہ کیوں یہاں پر ہے؟

لیو کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے وہ منہ بناتے کہہ رہی تھی۔۔۔

بین ساتھ رہے گا وہاں۔۔۔۔میرے بعد اگر کسی پہ پھروسہ کرنا ہوا تو وہ بین ہوگا سمجھی تم۔۔۔

بین تمہارے ساتھ رہے گا اسکے ساتھ تم بالکل سیف رہوگی۔۔۔اب کوئی شور شرابہ مت کرنا جیسا میں کہہ رہا ہوں بس ویسا ہی ہوگا۔۔۔

سیلن نے کچھ بولنے کو لب کھولے ہی تھےکہ اسکے لبوں پہ انگلی رکھتے وہ دو ٹوک انداز میں سب کہہ چکا تھا۔۔

وہ دانت پیس کے رہ گئی کہ لیو کو پریشان دیکھ کے وہ مزید اسے تاؤ نہیں دلا سکتی تھی۔۔۔

البتہ دل ہی دل میں بین کو صلواتیں سناتی رہی اور سارے سفر میں اسے گھورتی رہ گئ۔۔۔

بین کو تنگ مت کرنا سیلن۔۔۔ سن رہی ہو نا۔۔۔۔

کچھ دن کی بات ہے بس پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔

میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ بین کو ذرا بھی پریشان نہیں کرنا کسی بھی طرح سے . سمجھ رہی ہو نا۔۔۔۔

یہاں سے کہیں بھی نہیں جانا۔۔۔۔یہی پہ رہنا ہے۔۔۔باہر نکلنے کا سوچنا بھی مت اگر میرا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوتو۔۔۔۔

اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے وہ بے حد نرمی و محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔

تم جلدی آؤ گے نا؟ بتاؤ کتنے دن تک رہنا ہے یہاں؟

وہ اسکے گلے لگتی لاڈ سے کہنے لگی۔۔

ہاں جلد آؤں گا۔۔۔بس کچھ دن ۔۔۔

وہ اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے بولا۔۔

دو دن۔۔۔تین دن۔۔۔کتنے دن؟؟

وہ اسکے چہرے کو تکنے لگی۔۔۔۔

چلو اب اندر جاؤ تم۔۔۔جلد آؤں گا میں۔۔۔

اسکے گال پہ پیار کرتے وہ الگ ہوتے ہوئے بولا۔۔۔

لیکن۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں بس اب جاؤ اندر۔۔۔

اب کی بار وہ کچھ سختی سے بولا تو وہ چپ چاپ گھر کے اندر چلی گئی اور وہ بین کو اشارہ کرتے اس سے کچھ بات کرنے لگا۔۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

Present….

تم مجھے ڈرانے کی کوشش کررہے ہو؟

دور ہٹو!

بین کے سینے پہ مکا مارتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

تمہیں ایسا لگ رہا ہے یا تم ایسا چاہتی ہو؟

سیلن کی کلائی پکڑتے وہ شریر اندازمیں کہنے لگا۔

چھوڑو مجھے۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں جان سے ہی مار دوں میں۔۔۔۔

اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کرتے وہ چلائی تھی۔۔

تم نے کچھ کہا تھا نا مجھ سے ۔۔۔۔ شاید کچھ دیر پہلے۔۔۔۔کس کرنے کے بارے میں۔۔۔۔

کیا ابھی بھی تیار ہو تم ۔۔۔ قریب آنے کے لیے۔۔۔

کلائی پہ مزید گرفت سخت کرتے وہ اسے سہمنے پہ مجبور کررہا تھا۔۔۔

اپنی بکواس بند کرو۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔چھوڑو!

وہ اپنے ڈر پہ قابو پاتے چلائی تھی۔۔

اب مکر رہی ہو تم اپنی کہی بات سے۔۔۔۔تمہاری کہی ساری باتیں ٹھیک تھیں اور میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں۔۔۔

کم أن۔۔۔اب ایسے پیچھے مت ہٹو تم۔۔۔۔۔

میں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔

سیلن کو ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچتےوہ اسکے طوطے اڑا چکا تھا۔۔۔ وہ ہکی بکی اسے دیکھے جارہی تھی۔۔

کچھ دیر جو شیرنی کی طرح اسکے سامنے چلا رہی تھی اب تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔

اسکا رنگ زرد پڑتا دیکھ کے وہ سیریس ہوا۔۔۔

سوری۔۔۔۔تنگ کررہا تھا۔۔۔۔بس دیکھ رہا تھا کہ حسن کی دیوی کو کوئی ڈرا بھی سکتا ہے یا نہیں۔۔۔

تم تو واقعی میں ڈر گئی۔۔۔

اسے کانپتے دیکھ کے وہ ہنسا تھا۔۔۔ زور سے اسکے سینے پہ مکا مارتے وہ وہاں سے بھاگ کے کمرے میں چلی گئی جبکہ اسکی نم آنکھوں میں نظر آتا خوف بین کو پریشان کرگیا تھا۔۔۔

اب ایسا بھی کچھ نہیں کیا میں نے جو اتنا ڈر گئی یہ۔۔۔

وہ بالوں میں انگلیاں چلاتے کندھے اچکاتے سوچ رہا تھا اور پھر پانی کی بوتل اٹھاتے کچن سے باہر چلا گیا۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ کتنی دیر سے مینشن میں گھوم رہا تھا کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔۔۔

کبھی سگریٹ سلگا کے پینے لگتا تو کبھی بجھا کے پھینک دیتا۔۔۔۔

ٹیرس ، ڈرائنگ روم تو کبھی کچن کہاں کہاں نہیں گھوم رہا تھا وہ۔۔۔۔

بے چینی ھی بے چینی تھی ۔۔۔۔

جو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔

کبھی اپنے بال نوچتا تو کبھی گہرے سانس لے کے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا پر بے قراری کسی طور کم ہونے کو نہ تھی۔۔

آخر تھک ہار کے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا کہ سکون کا آخری حل اسکی جانِ من کے پاس ہی تھا پر کمرے میں داخل ہوا تو وہ دلربا بے خبر سکون سے سورہی تھی۔۔۔

ڈور لاک کرتے وہ بیڈ کی طرف آیا ۔۔۔ایک نظر اسکے نائٹ لیمپ میں چمکتے چہرے پہ ڈالی جہاں سکون ہی سکون تھا۔۔۔۔

وہ والہانہ انداز پہ اسکے چہرے پہ جھکتے نرمی سے اسکے گال پہ بوسہ دیتے مسکرایا تھا۔۔۔

بے چینی فورا سے غائب ہوئی تھی اور دل میں دھیرے دھیرے قرار آنے لگا تھا۔۔۔

اسکے ماتھے پہ ہاتھ پھیرتے وہ اپنا نائٹ سوٹ لیے چینج کرنے چلا گیا۔۔۔

چینج کرکے واپس آیا اور اسکے برابر میں لیٹ گیا۔۔

وہ سیدھا لیٹا چھت کو تکتے کچھ سوچنے میں مصروف تھا جب وہ نیند میں اسکی طرف کروٹ لیتے اسکے سینے سے لگتے اس میں سمٹی تھی۔۔۔

لیو کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔۔

ایک بازو اسکی کمر کے گرد ڈالتے وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔

وہ نیند میں ہونے کے باوجود لیو کے سینے کے مضبوطی سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔ اسکے بدن کی نرماہٹ محسوس کرتے لیو کو خود میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا۔۔۔

اسکے بالوں پہ لب رکھے وہ بوسہ دیتے اسکے بالوں میں دھیرے دھیرے انگلیاں چلانے لگا ایسے جیسے بچوں کو سلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔۔

ہنی! کتنے سکون سے سورہی ہو ۔۔۔۔۔ تمہیں ایسے پرسکون دیکھ کے مجھے بھی بےحد سکون مل رہا ہے۔۔۔۔

بس اب ایسے ہی تمہارا یہ سکون برقرار رکھنا ہے مجھے۔۔۔۔تمہارے چہرے پہ کوئی اداس سایہ بھی نہیں لہرانے دینا۔۔۔۔

پیاری سی۔۔۔۔

اسکے چہرے کے نقوش کو انگلی سے چھوتے وہ مسکرارہا تھا۔۔۔

نیند میں ہونے کے باعث روبی کے لب تھوڑے سے کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔جن کو وہ انگوٹھے سے رب کررہا تھا اور کبھی کبھی لبوں سے مس کرنے لگا۔۔۔۔

اسکے لمس کی تپش اور اسکی مضبوط گرفت کے باوجود وہ گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔

اور وہ بھی ساری پریشانیوں سے بیگانہ ہوتے بچوں کی طرح حرکتیں کررہا تھا۔۔۔

اور خود ہی مسکرائے جارہا تھا۔۔۔

جاگ رہی ہو نا ہنی! چلو اب کھول بھی دو آنکھیں۔۔۔۔مجھے ان بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھنا ہی۔۔۔۔

اسکی بند آنکھوں پہ لبوں کا لمس چھوڑتےوہ سرگوشی کررہا تھا۔۔۔

پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔۔

اسکے بالوں کی لٹوں کو انگلی میں پھنسائےوہ کھیل رہا تھا۔۔۔

یہ کالی گھنی زلفیں تم پہ جچتی ہیں ہنی۔۔۔اور تم میرے ساتھ جچتی ہو ۔۔۔

میری بانہوں سے کیسے لپٹی ہوئی ہو۔۔۔سچ میں سورہی ہو کیا۔۔۔

اب تم سورہی ہو تو ٹھیک ہے پھر میں بھی سوہی جاتا ہوں۔۔۔۔

اسے اپنے سینے میں بھینچے وہ آنکھیں موند گیا۔۔۔

اسکے بالوں سے آتی خوشبو اور اسکے مرمری بدن کی بھینی بھینی مسحور کن سی مہک لیو کو نیند سے کوسوں دور لے جارہی تھیں۔۔۔

بہت کوششوں کے بعد بھی جب اسے نیند نہ آئی تو وہ اٹھ بیٹھا جبکہ روبی آرام سے سوئی رہی کہ وہ ابھی تک گہری نیند میں ہی تھی۔۔

نیند ہی نہیں آرہی مجھے تو۔۔۔۔۔

اف!

بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ سرد آہ بھر کے رہ گیا۔۔۔

کیوٹ۔۔۔۔ویری کیوٹ!

مجھے بہکا رہی ہو تم ۔۔۔۔

اب اگر میں نے کوئی شرارت کی تو تمہاری نیند خراب ہوجائے گی۔۔۔۔۔

پر کیا کروں مجھے نیند ہی نہیں آرہی تو اب تھوڑی بہت شرارت تو کرنی ہی پڑے گی نا۔۔۔۔

روبی کے کمفرٹر میں لپٹے بدن کو دیکھتے وہ شریر سا مسکرایا تھا۔۔

اگلے ہی پل کمفرٹر کے اوپر سے ہی وہ دھیرے دھیرے اسکے بدن پہ انگلیاں رینگنے لگا۔۔۔۔۔

ہنی! سوری پر اکیلا بور ہورہا ہوں میں اس لیے تمہیں جگانا ہی پڑے گا۔۔۔

اٹھ جاؤ نا تم سے باتیں کرنے کا دل چاہ رہا ہے۔۔۔پیار بھری باتیں۔۔۔۔

اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھوتے وہ خمار آلود آواز میں کہہ رہا تھا۔۔۔

مسلسل اپنے چہرے پہ گرم سانسوں کی تپش کا احساس ہوا تو وہ کسمسائی کے کروٹ بدل گئی۔۔۔

لیو کی طرف پیٹھ کیے وہ کمفرٹر . چہرے پہ بھی تان گئی اور لیو ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔

کہ وہ واقعی نیند میں ہے یا بس اسے تنگ کررہی ہے۔۔۔

اور اگلے ہی پل دماغ میں ابھرتی شرارت پہ وہ آنکھ ونک کرتے خود بھی کمفرٹر میں گھس گیا۔۔۔

اسکے ساتھ خود بھی کمفرٹر میں چھپتے اسکی طرف کروٹ لیتے اسکے گرد بانہوں کا مضبوط حصار بناتے وہ پرسکون سا ہوا تھا۔۔۔

اسکے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے ان سے کھیلتے اسکی کمر پہ لب رگڑتے وہ روبی کو جگانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔

کبھی اسکی گردن میں منہ دیے اسے چومتا تو کبھی اسکے بازو پہ بوسہ دیتا کبھی اسکا ماتھا تو کبھی اسکے ہونٹوں کو چومتا۔۔۔۔

پر اسکے بدن میں ذرا سی پھی ہلچل نہ ہوئی تو لیو کو غصہ آنے لگا۔۔۔کہ اتنی گہری نیند جو اٹھ ہی نہیں رہی۔۔۔

آخر کار جب ساری ترکیبیں ناکام ہوگئی تو اس نے زور سے روبی کی کمر کے کنارے پہ چٹکی کاٹی ۔۔۔۔۔

وہ چیخ مارتے اٹھ بیٹھی اور کمفرٹر کو سائیڈ پہ پھینکتك تیزی سے لائٹ آن کی۔۔۔

کیا تھا یہ کسی چیز نے کاٹا ہے مجھے۔۔۔

شرٹ کو اوپر کرتے وہ کمر پہ ہاتھ پھیرتے کہنے لگی۔۔۔

کیا ہوا ہنی۔۔۔۔چلا کیوں رہی ہو؟

آنکھیں مسلتے نیند میں ہونے کا ناٹک کرتے وہ بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

لیو۔۔۔۔یہی پر دیکھو کچھ ہوا تو نہیں۔۔۔۔بہت زور سے کچھ چبھا ہے مجھے جیسے کسی کیڑے وغیرہ نے کاٹا ہے شاید۔۔۔

لیو کے پاس بیڈ پہ بیٹھتے وہ شرٹ پکڑے اسے کہہ رہی تھی اور وہ انجان بنے دیکھنے لگا۔۔۔

یہاں پہ؟

اسکی کمر پہ ہاتھ رکھتے وہ بہت فکرمندی سے پوچھنے لگا۔۔۔

ہاں یہی پہ۔۔۔کچھ ہوا تو نہیں نا۔۔۔۔پتہ نہیں کیا تھا۔۔۔

وہ پریشان سی کہہ رہی تھی۔۔۔۔

نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔فکر نہیں کرو ہنی۔۔۔۔

اسی جگہ لب رکھتے وہ ہلکے سے رب کرتے بولا۔۔

ہڑبراہٹ سے باہر نکلی تو واپس حواس بحال ہوئے روبی کے۔۔۔۔۔

وہ کچھ سمجھ پاتی اس سے پہلے ہی وہ اسکی بیک بون پہ کس کرنے لگا۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی ۔۔۔۔۔ ایک تو نیند میں ڈوبی آنکھیں اور اوپر سے اسکے بکھرے بال جو اسکے چہرے پہ گررہے تھے۔۔۔

لیو کو بہکانے کو کافی تھا یہ۔۔۔۔ وہ تو کب سے اسے جگانے کی کوشش کررہا تھا اب جب وہ جاگ ہی چکی تھی تو وہ کیسے خود کو روک سکتا تھا۔۔۔

اسکی بازو کو مضبوطی سے تھامے ایک ہی جھٹکے میں وہ اسے اپنی طرف کھینچتے خود سے لگا چکا تھا۔۔۔

بہت مس کررہا تھا تمہیں۔۔۔۔شاید اسی لیے تم جاگ گئی ہو۔۔۔۔اب جاگ ھی گئی ہو تو مجھ سے باتیں کرو۔۔۔۔

دونوں بازو اسکی کمر کے گرد باندھے اسکے لبوں سے اپنے لب مس کرتے وہ مدہوش سا ہورہا تھا۔۔۔۔۔

اسکی مضبوط گرفت اور اسکا سلگتا لمس روبی کی نیند اڑا چکا تھا۔۔۔۔۔ ہارٹ بیٹ کبھی فاسٹ تو کبھی سلو ہورہی تھی ۔۔۔۔

جیسے دل کنفیوز سا ہورہا تھا کہ کیسے ری ایکٹ کرنا ہے۔۔۔

مطلب آپ نے جگایا مجھے۔۔۔۔

پوری طرح بیدار ہوتی وہ لیو کی گردن کے گرد بانہیں ڈالے کہنے لگی۔۔۔

نہیں۔۔۔۔میں کیوں جگاؤں گا بھلا۔۔۔۔میری ہنی اتنے سکون سے سورہی تھی تو کیا میں اسکی نیند خراب کرتا۔۔میں تو خود سو گیا تھا۔۔۔۔

وہ مصعومیت سے کہتا اسکی گردن میں منہ دیے لبوں کا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔

لیو سچ میں نا۔۔۔۔

وہ جیسے اسکی بات پہ یقین کرتے کہہ رہی تھی ۔۔۔

یس ہنی۔۔۔۔سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔

وہ ہنسی دانتوں تلے دبائے اسکی معصومیت پہ ہنسا تھا۔۔۔

اوکے۔۔۔۔

پیار سے کہتے وہ لیو کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔۔

وہ اسکے لمس میں ڈوبا اسکی گردن پہ جابجا زبان پھیرتا اسکے بدن میں گہرا سکون اتار رہا تھا۔۔۔۔

دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا اور اسکے بالوں۔میں پھنسی انگلیاں جیسے پل بھر میں رکی تھی اور اگلے ہی پل بالوں کو جکڑنے لگی تھیں۔۔

روبی کے کندھے پہ لب رگڑتے وہ اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی ہوش سے بیگانہ کرنے پہ تلا تھا۔۔۔

سکون مل رہا ہے اب۔۔۔۔پر تم کچھ بول کیوں نہیں رہی ہنی۔۔۔۔۔

روبی کو اپنی گود میں بٹھاتے اسکے شانے پہ سر ٹکاتے سینے میں پھینچے وہ دھیمے سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ وہ تو اسکے لمس سے ہی اسمیں سمٹی جارہی تھی کچھ بولتی تو کیسے آواز ہی حلق میں جیسے اٹکی ہوئی تھی۔۔۔

ہنی! چپ کیوں ہو۔۔۔۔تمہاری آواز سننے کا دل چاہ رہا ہے میرا۔۔۔۔باتیں کرو مجھ سے۔۔۔

بانہوں میں بھرتے وہ اسے بیڈ پہ لٹاتے اس پہ جھکتے محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔

باتیں۔۔۔اتنی رات میں مجھے کوئی بات یاد نہیں آرہی۔۔۔

اٹکتے لہجے میں کہتے وہ اسکی شرٹ کو چھونے لگی۔۔۔

اوکے تو پھر پیار کرلیتے ہیں۔۔۔۔ٹھیک ہے نا۔۔۔۔

اسکے بدن پہ حاوی ہوتے وہ اسکے لبوں پہ جھکا تھا اور بنا اک پل رکے ان کو چومنے لگا۔۔۔

سختی سے اسکی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے وہ آنکھیں بند کر گئی۔۔۔

اسکے دونوں ہاتھ اپنی شرٹ سے ہٹاتے مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑتے بیڈ سے لگاتے وہ پوری طرح اسکے بدن پہ حاوی ہوتے محبت کی شدتیں اس پہ برسانے لگا تھا۔۔۔۔۔

لائٹ آن ہونے کی وجہ سے روبی کا سرخ پڑتا چہرہ وہ واضح طور پہ دیکھ پارہا تھا پر بنا اک پل رکے وہ اسے خود میں جیسے چھپانا چاہتا تھا یا شاید خود اسکے بدن کی نرماہٹ میں کھو جانا چاہتا تھا۔۔۔۔

کیوں نہیں دل بھرتا میرا۔۔۔۔جتنا بھی تمہارا لمس خود میں اتار لوں۔۔۔جتنی محبت محسوس کرلوں پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے بہت کم ھے۔۔۔۔

مجھے بہت زیادہ محبت چاہیئے تم سے۔۔۔۔۔۔یہ بہت کم ہے۔۔۔۔۔بہت کم۔۔۔۔۔۔

دو گی نا مجھے اپنی ساری محبت۔۔۔۔مجھے تمہاری ساری محبت چاہتے۔۔۔۔تمہارے بدن کا ایک ایک پور میرے لمس سے مہکنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

سلگتے لبوں کی گرمائش انکی نرماہٹ وہ بدن پہ جابجا پھیلتی ہوئی محسوس کررہی تھی اور اسکا لمس اسے دنیا سے بیگانہ کرتے نشے سے سرشار کررہا تھا۔۔۔

اسکے بدن کے اپور پور کو اپنی محبت و شدت کی مہر ثبت کرکے وہ اسکے برابر میں لیٹے اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھا۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ایک دوسرے میں سمٹے وہ نیند کی وادی میں کھو چکے تھے کہ ساری بے چینیاں اور ساری مشکلیں انکے لمس کے سکون سے ہار کے کہیں دور جا چکی تھیں۔۔ُ۔۔۔

اور وہ ایک دوسرے کے بدن سے لپٹے پرسکون سے سوئے ہوئے تھے بالکل دو جسم ایک جان کی طرح!

💘
💘
💘
💘
💘

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.