people, woman, man-2567022.jpg

𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲: #18

ہر طرف سناٹا تھا۔۔۔۔

صرف اسکی ہچکیوں کی آواز تھی۔۔۔۔

روتی گرتی پڑتی لیو کے مینشن سے کچھ دور پہنچ گئی تھ۔۔

زبان پہ بار بار ماما، بابا کا ورد کرتے کرتے وہ گر کے بے ہوش ہوگئی ۔۔

اور کچھ دیر میں بین وہاں سے گزارا تو جھاڑیوں میں پڑے اس ننھے وجود پہ نظر پڑی اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ سیلن کے ماتھے پہ ہاتھ رکھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے عنودگی میں ڈوبا بیٹھا تھا۔

جب ایک ننھا سا ہاتھ اسے اپنے ہاتھ پہ لگتا محسوس ہوا۔۔۔

ہوش آگیا تمہیں۔۔۔۔۔

اسکو آنکھیں کھولتے دیکھ کے وہ سیدھا ہو بیٹھا۔

دھیرے سے آنکھیں کھولتے وہ صدمے کی حالت میں لیو کو تک رہی تھی۔

میں لیو ہوں۔۔۔تمہیں یاد ہے اس دن تم نے مجھ سے بات کی تھی۔۔۔۔وہ تم اپنی چھوٹی سی جادو کی چھڑی بیچنا چاہتی تھی۔۔۔۔

میں وہی ہوں۔۔۔تمہیں یاد ہے نا؟

اسکی چھوٹی چھوٹی گول آنکھوں میں ڈر و خوف دیکھ کے وہ بہت پیار سے کہنے لگا۔۔۔

وہ اپنی گھنی پلکیں جھپکاتی ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ اس وقت وہ کہاں تھی۔

یہ میرا روم ہے۔۔۔پریشان نہیں ہو۔۔یہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔تم بالکل سیف ہو یہاں۔۔۔۔ڈرو نہیں۔۔۔۔

اسے سہما دیکھ کے وہ نرمی سے اسکے روئی جیسے گال چھوتے ہوئے کہنے لگا۔

“ڈیڈ کے پاس جانا ہے!”

وہ اٹکتے ہوئے کہتے کانپ رہی تھی۔۔

میں تمہارا دوست ہوں۔۔۔ابھی رات ہے باہر بارش ہورہی ہے ۔۔صبح لے جاؤں گا تمہیں۔۔۔

اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔

لیو کی بات سن کے وہ اسے دیکھنے لگی جیسے یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔

پر اگلے ہی پل پھر سے اسکی آنکھیں بند ہوئی تھیں اور دوائی کے زیر اثر سوگئی۔

💘
💘
💘
💘

سیلن! سیلن! آنکھیں کھولو!

اسے نیند میں چیختے روتے دیکھ کے وہ اسے جگانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔

وہ پسینے سے بھیگی ہوئی تھی اور رنگ جیسے زردی مائل ہورہا تھا۔

سیلن! اٹھو۔۔۔ہوش میں آؤ۔۔۔۔

آخر کار بین نے اسے جھنجھوڑا تو وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔

تیزی سے سانس لیتے وہ بہت ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔

کیا ہوا۔۔۔برا سپنا دیکھا تم نے۔۔۔۔تمہارے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔

بیڈ پہ اسکے برابر میں بیٹھتے وہ اسکا شانے سہلاتے فکرمندی سے کہہ رہا تھا۔

لیو۔۔۔مجھے لیو کے پاس جانا ہے۔۔۔

وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔

یہ لو پانی۔۔۔پانی پیو۔۔۔

پانی کا گلاس اسکے ہاتھ میں تھماتے وہ اسے دیکھنے لگا۔

مجھے نہیں پینا۔۔۔مجھے لیو کے پاس جانا ہے۔۔

پانی کا گلاس پرے کرتے وہ رونے لگی۔

لیو۔۔۔۔۔وہ صبح آجائے گا۔۔۔تم چپ ہوجاؤ۔۔۔۔دیکھو ادھر دیکھو۔۔۔لیو آجائے گا۔۔۔۔

گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے اسے شانوں سے تھامتے وہ چپ کرانے لگا۔

پر وہ تو کچھ سن ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔زوروقطار روئے جارہی تھی۔۔۔۔

اسے روتا دیکھ بین کو اپنا دل مٹھی میں جکڑتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکا ایک ایک آنسو خود پی جائے لیکن اسے رونے نہ دے۔۔۔

مضبوطی سے اسے اپنے سینے سے لگائے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے پیار کرتے چپ کرائے جارہا تھا۔۔۔

وہ ہوش و حواس میں نہیں تھی تبھی بین کے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی ورنہ وہ کہاں اسکے آس پاس جانا پسند کرتی تھی۔۔۔

سہی کہتے ہیں دکھ، تکلیف میں رونے کے لیے ایک کندھا اور گلے سے لگانے کے لیے ایک سینہ، دو مضبوط بانہوں کے سوا کچھ نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔

ہوش ہی کہاں ہوتا ہے کہ سینے سے لگانے والا کون ہے اور بانہوں میں تھامتے والا کون۔۔۔

بس جو بھی ہے میسر رہے۔۔ساتھ رہے۔۔۔اور کیا چاہیئے!

روتے روتے اسکے سینے سے ہی لگے وہ لیو کا ورد جاری رکھے ہوئے تھی۔۔۔۔

دھیرے دھیرے اسکی ہچکیاں تھمنے لگی تھیں اور وہ اسکی بانہوں میں ہی سوگئی۔۔

وہ پہلی بار اسکے بدن کو چھو رہا تھا۔۔۔۔۔اسکا لمس بین کے جسم کے ہر مسام میں ارتعاش پیدا کررہا تھا۔۔۔

اپنی بانہوں میں سوئی اس روئی جیسے نرم بدن کی حسینہ کو وہ ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہا تھا۔۔۔

کچے دودھ کی طرح سفید رنگ کی وجہ سے اسکے گال پہ مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان واضح نظر آرہے تھے۔۔۔۔

جو بالترتیب اسکی آنکھوں سے بہتے اسکے گال پہ پھسلتے اسکی گردن کی طرف جارہے تھے۔۔

رات کے آدھے پہر، چاند اپنی خوبصورت روشنی بکھیر رہا تھا۔۔ہلکی ہلکی ہوا کی وجہ سے درختوں کے پتے تھر تھرارہے تھے۔۔

بالکل بین کے دل کی طرح جو اس مرمری وجود کو بانہوں میں تھامے اسکے بدن کی گرمی اپنے جسم میں اترتے محسوس کرتے ہولے ہولے کپکپارہا تھا۔

بے یقینی کا عالم تھا کہ اس حسین پل کو تو اس نے صرف تصور ھی کیا تھا۔۔۔

اس چھونے کا تو صرف خواب ھی دیکھا تھا۔۔۔یہ خواب حقیقت بن جائے گا وہ بھی اتنی جلدی یہ کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔

پر یہ ہو چکا تھا۔۔۔اسکی دعا قبول ہوئی تھی شاید۔۔۔۔۔اسکے دل کی خواہش حسرت بننے سے بچ گئی تھی۔۔۔

وہ بے ترتیب ہوتی دل کی دھڑکنوں کی آواز سن رہا تھا۔۔۔اسکا دل جو خوشی سے اچھل رہا تھا۔۔۔۔

وہ دھیرے سے اسکے لبوں پہ جھکا تھا اور بہت قریب سے اسکے سرخ لبوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

ایسے جیسے پہلی بار گلاب کے پھول کو کھلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسکے ہونٹ ویسے ھی نرم و نازک اور سرخ تھے۔۔۔

کتنی ھی دیر تک وہ ان لبوں کو دیکھ کے اپنی پیاسی نگاہوں کو سیراب کرتا رہا کہ اسے دیکھ دیکھ کے ہی اسکے جسم میں عجیب سی سرسراہٹ پیدا ہوتی اور وہ کانپ اٹھتا۔

رات کی تاریکی اور اسکے اندر کی تنہائی اور اس حسین رات میں اسکا نرم بدن جو اسکی بانہوں میں جھول رہا تھا۔۔۔۔۔

بین کے جسم میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا کررہے تھے۔۔۔وہ اسے سینے میں بھینچے اسکے بالوں میں منہ دیے انکی بھینی بھینی خوشبو خود میں اتارنے لگا۔۔۔۔

اسکے سلکی ، نرم بال وہ اپنے لبوں سے انکو چومتے مسکرانے لگتا تو کبھی بے یقینی کے عالم میں اسکے چہرے کو دیکھتا جو ایسے تر و تازو اور شفاف تھا جیسے صبح سویرے شبنم کے تازہ قطرے ہوتے ہیں۔۔۔۔

رات کا باقی حصہ وہ ایسے ھی اسے خود سے لگائے بیٹھا رہا۔۔۔

گزرتا ہوا ہر سیکنڈ اسے برا لگ رہا تھا کہ پہلی بار وہ چاہتا تھا کہ یہ رات کبھی نہ گزرے، بس ایسے ھی تھمی رہے اور وہ نازک جان ایسے ہی ہمیشہ کے لیے اسکی مضبوط بانہوں میں رہے۔۔۔

وہ ایسے ھی اسے تکتا رہے، اسکے لمس کو محسوس کرتا رہے اور اسکے بدن کی گرمی اپنے جسم میں اترتے محسوس کرتا رہے۔۔۔

اس وقت کمرے میں موجود ہر شے اسے اضافی لگ رہی تھی۔۔۔۔ہر شے یہاں تک کہ کھڑکی سے آتی چاند کی ٹھنڈی روشنی بھی۔۔۔۔۔

اپنے پاس رکھا تکیہ، کمفڑٹر اور یہاں تک کہ اپنے اور سیلن کے بدن پہ موجود و کپڑے بھی جو انکے جسموں کے بیچ حائل تھے۔۔۔۔

اس ایک بدن کے لمس کے سوا باقی ہر شے اسے اضافی لگ رہی تھی۔۔۔۔

اسکا بس چلتا تو ان دونوں کے بیچ ان کپڑے کے ٹکڑوں کو بھی نکال دیتا کہ جو اسکے لمس کی نرماہٹ پوری طرح اسکے جسم تک پہنچنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔

پر نہیں! وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔وہ چاہتا تو کر سکتا تھا کہ رات کے اس پہر کس نے روکنا تھا اسے ۔۔

پر وہ اس غصیلی شہزادی کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتا تھا کہ . . . وہ اسے زور زبردستی سے نہیں بلکہ اپنی محبت و اعتبار سے اپنے قریب لانا چاہتا تھا۔۔۔

اور تب تک اسےانتظار تھا اسکا دل پگھلنے کا اور اسکی طرف بڑھنے کا۔۔۔۔۔

بے ہوشی کے عالم میں ھی سہی پر وہ اسکےقریب تو تھی۔۔۔ہوش و ہواس میں نہ سہی پر اسکی بانہوں میں محفوظ تو تھی۔۔۔۔

بے شک اسکی مرضی نہ تھی پر اسکا لمس بین کو محسوس تو ہوا۔۔۔۔

فلحال اسکے لیے اتنا ہی کافی تھا شاید کافی سے بھی زیادہ۔۔۔۔

کہ اسے جسم میں سرسراہٹ دوڑتی محسوس ہورہی تھی جو اسے بے چین کرنے کی بجائے سرور دے رہی تھی اور وہ اسکے شانے پہ سر رکھے زیر لب مسکراتے صبح کے اجالے کا انتظار کررہا تھا۔۔۔

کہ شاید آنے والی صبح ان دونوں کی زندگی میں اجالا لے آئے اور انکی زندگی کی ساری تاریکیاں مٹا کے انہیں نئی شروعات کا موقع دے۔۔۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

اس رات کے بعد لیو سیلن کو لے کے اپنے فارم ہاؤس کی طرف چل پڑا تھا لیکن راستے میں کار الٹنے کے باعث وہ زخمی ہوگئے تھے۔

لیکن لیو کسی طرح سیلن کو لیے بچ نکلا اور اسے فارم ہاؤس کی بجائے کہیں اور چھپا کے واپس آگیا۔۔۔

بین کو اس نے یہی بتایا کہ ایکسیڈنٹ میں ہی وہ اس چھوٹی بچی حادثے کا شکار ہوکے مر چکی ہے۔۔۔

تبھی باقی لوگوں کی طرح بین کو بھی یہی لگتا تھا کہ وہ چھوٹی بچی (جسکا وہ نام تک نہ جانتا تھا ) اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔

وہ کئی دن تک دکھی رہا تھا لیکن لیو اسے سچ بتا کے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اطالوی بین کو نقصان پہنچا سکتے تھے اسی لیے اس نے بین کو بھی اس سب سے انجان رکھا۔

لیو نے سیلن کا بہت خیال رکھا۔۔۔۔اس نے اپنی سرپرستی میں ہی اسے بڑا کیا۔۔۔اسکی حفاظت کے لیے ذرا سی بھی لاپرواہی نہ برتی۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اسے نئی امید نیا خواب دکھاتا تھا کہ وہ بہت عرصہ اپنے پیرنٹس کی موت کے صدمے میں رہی تھی۔۔۔

اسے صدمے سے نکالنے کے لیے لیو نے اسے اپنی جان کا ٹکڑا بنا لیا تھا۔۔۔۔

دھیرے دھیرے اسکاڈر، خوف اسکے دل سے نکالتا گیا اور اسے زندگی کی طرف لے آیا۔۔

لیکن اس سب میں وہ اسے بہلانے اور خوش رکھنے کے لیے اس سے کئے وعدے کئی دلاسے دے چکا تھا۔۔۔

سیلن کی زندگی صرف اور صرف لیو کے گرد گھومتی تھی کہ اس دنیا میں اسکے سوا سیلن کا کوئی تھا ہی نہیں۔۔۔۔

آٹھ سال تک ایک محل نما گھر میں رہی تھی وہ۔۔۔۔نہ کسی کو دیکھا نہ کبھی باہر گئی۔۔۔۔

صرف ایک ہی چہرہ پہچانتی تھی وہ۔۔۔۔

اور وہ لیو کا چہرہ تھا۔۔۔۔

اسکا دوست، اسکا سائبان اسکا ساتھی اور اسکی زندگی یعنی اسکا سب کچھ لیو تھا۔۔۔۔

“اسکے جینے کی وجہ بھی اور مرنے کی وجہ بھی!”

بین نہیں جانتا تھا کہ سیلن ہی وہ بچی ہے جسے آٹھ سال پہلے لیو اور اس نے بچایا تھا۔۔۔

اور اسے شک اس لیے نہیں ہوا کہ لیو ہمیشہ کسی نہ کسی لڑکی کو اپنے ساتھ لیے گھومتا تھا۔۔۔۔

حسین وقت گزارنا وہ بھی حسیناؤں کے ساتھ لیو کا پسنددہ مشغلہ تھا۔۔۔۔تو بین کو لگا کہ شاید سیلن بھی لیو کا ٹائم پاس ہے تبھی اسے عجیب نہیں لگا تھا۔۔۔

سیلن!

زور سے اسکا نام لیتے وہ ہڑبڑا کے اٹھا تھا۔

اور پاس ہی روبی کو لیٹا پایا جو گہری نیند میں تھی۔

سکون کا سانس لیتے وہ دھیرے سے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاتے بیڈ سے اترتے ٹیرس پہ چلا گیا۔

بہت برا خواب تھا۔۔۔

پانی پیتے وہ تیزی سے دھڑکتے دل پہ ہاتھ رکھے کہہ رھا تھا۔

سیلن! میرا بچہ! کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔۔۔۔

اپنے ہاتھ کو دیکھتے وہ بڑبڑایا تھا۔۔ کہ کچھ دیر پہلے خواب میں اس نے سیلن کو خون و خون دیکھا تھا جو اسکی بانہوں میں بے جان گڑیا کی طرح پڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔۔

وہ اپنے ہاتھ کو شرٹ سے رگڑنے لگا جیسے خون کے نشان مٹارہا ہو۔۔

آنکھیں غم و غصے سے لال ڈوریاں پڑرہی تھیں اور بال بکھرے بکھرے اسکے چوڑے ماتھے پہ آرہے تھے۔۔۔۔

پریشان حال ہونے کے باوجود وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔

تم سے زیادہ خوبصورت ہے وہ! سنا تم نے۔۔۔

بس میری ایک غلطی کی وجہ سے اسکے سفید بدن پہ داغ پڑ گیا ورنہ اسکے سامنے تم کچھ بھی نہیں۔۔۔۔

چاند کو کہتے وہ جیسے اترا رہا تھا۔۔۔

پر داغ تو لگ گیا نا! جو زندگی بھر ساتھ رہے گا۔

جیسے چاند نے چوٹ کی تھی اور لیو کا دل کانپا تھا۔

نہیں! میں اس داغ کو مٹا دوں گا۔۔۔۔وہ صاف، شفاف ہے بالکل معصوم سی ۔۔۔۔

پانی کی بوتل غصے سے ٹیرس سے نیچے پھینکتے وہ چاند کو آنکھیں دکھارہا تھا۔

لمبی سانس لیتے کھلی فضا میں چھوڑتے وہ کمرے سے نکلتے سٹڈی روم میں چلا گیا کہ بہت اہم کام نمٹانے تھے اسے۔۔۔۔

کام کرکے وہ کھڑکی کے پاس آیا۔۔۔چاند ابھی تک غرور سے چمک رہا تھا اور جیسے لیو کو جتا رہا تھا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔۔۔۔

اور واقعی لیو کو جلن ہوئی تھی۔۔۔گھور کے ایک نظر چاند پہ ڈالتے وہ اپنے کمرے میں آگیاکہ ابھی صبح کے چار بجے تھے۔۔۔

وہ جاکے روبی کے پہلو میں لیٹ گیا۔۔۔کھڑکی سے چاند کی کرنیں کمرے میں پڑرہی تھیں جو کمرے کا ماحول حسین بنارہی تھیں۔۔۔

روبی کے ماتھے کو چومتے وہ کچھ پرسکون سا ہوا تھا۔۔۔

“تم چاند سے بھی زیادہ خوبصورت ہو ہنی”

اسے اپنی طرف کرتے وہ مدہوش سا ہوا تھا ۔

دھیرے دھیرے اپنے لب اسکے ہونٹوں پہ رگڑتے وہ انکی نرماہٹ خود میں اتارنے لگا

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.