wedding, love, couple-6873668.jpg
𝗪𝗿𝗶𝘁𝗲𝗿: 𝗕𝗮𝗿𝗯𝗶𝗲 𝗕𝗼𝗼
𝗘𝗽𝗶𝘀𝗼𝗱𝗲: #19
گرم لمس کا احساس ہوا تو روبی کی آنکھ کھل گئی۔لیو کو خود میں سمٹے دیکھ کے وہ اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگی۔تو بیدار ہوگئی میری جان۔۔۔۔زیادہ کس کے گلے تو نہیں لگا لیا میں نے جو تمہاری آنکھ ہی کھل گئی۔روبی کی گردن میں منہ دیے وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔ہاں۔۔۔مجھے لگا شاید میں آگ میں جل رہی ہوں تبھی فورا سے آنکھ کھل گئی۔۔۔اسکی پیشانی چومتے وہ بھی شرارت سے بولی تو لیو نے چہرہ اٹھا کے اس دلربا کو دیکھا تھا۔میری محبت کی آگ میں۔۔۔۔خمار آلود آواز میں کہتے وہ اسکے لبوں پہ لب رکھتے انکی نرماہٹ محسوس کرنے لگا۔لیو کے سلگتے نرم ہونٹ روبی کی آنکھوں سے نیند کو اڑا چکے تھے۔اسکے قریب ہوتے لیو کے ہونٹوں کو چومتے وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔یہ پہلی بار تھا جو وہ اسطرح اسکے لبوں کو خود سے چوم رہی تھی ورنہ ہر بار یہ کام صرف لیو کے ہی ذمہ تھا۔لیو کے عنابی لب جیسے پھول کی طرح کھلے تھے۔۔اسکے چہرے پہ سکون کی لہریں چھائی تھیں۔ اسکی کمر کے گرد بازو کی گرفت بناتے وہ اسکے بدن کی نرماہٹ اور خوشبو خود میں اترتے محسوس کرنے لگا۔لیو۔۔۔ایک بات پوچھنی تھی۔۔۔تم نے مجھے بتایا نہیں کہ مینشن میں ایک تہہ خانہ بھی ہے۔روبی کی آواز کانوں میں گونجی تو لیو کے مسکراتے لب پل بھر میں سکڑے تھے۔تم۔۔۔اسطرح اچانک سے یہ سب کیوں پوچھ رہی ہوکہیں تم اس طرف گئی تو نہیں؟لیو کی آواز میں محبت و نرمی کی جگہ سختی و غصہ ابھر رہا تھا۔جس کا احساس روبی کو ہوا تھا اور وہ پچھتارہی تھی کہ کیوں پوچھا۔۔۔نہیں۔۔۔میں کہیں نہیں گئی۔۔۔۔ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔وہ کچھ سہمے سے انداذ میں بولی۔غلطی سے بھی اس طرف مت جانا اور نہ ہی دوبارہ مجھ سے ایسا سوال کرنا۔۔۔سپاٹ لہجے میں کہتے وہ اپنی پیشانی مسلنے لگا جو غصے سے پھولی رگیں اجاگر کررہی تھی۔لیکن کیوں؟ کیا وہاں کچھ ہے جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو؟ لیو کیا کچھ۔۔۔ایک بار کہہ دیا نا کہ مجھ سے کوئی سوال مت پوچھو۔۔روبی کی بات بیچ میں کاٹتے وہ برہمی سے کہنے لگا۔کیوں نا پوچھو سوال؟ میں تمہاری بیوی ہوں مجھے پورا حق ہے تم سے سوال کرنے کا اور تمہیں مجھے جواب دینا ھی ہوگا۔وہ اٹھ کے سیدھی ہو بیٹھی۔ لیو بھی سیدھا ہو بیٹھا۔بیوی ہو تو بیوی بن کے رہو۔۔۔۔میری محبت میرا سکون بن کے رہو لیکن آئیندہ مجھ سے میرے کام کے متعلق کوئی سوال نہیں۔۔۔انگلی اسکی طرف کرکے اسے وارن کرتے وہ قہر ذدہ لہجے میں کہنے لگا۔میں محبت و سکون بن کے رہوں تمہارا اور میرا کیا؟ میری محبت و سکون کا کیا؟جب مجھے تم سے سوال تک کرنے کا حق نہیں تو کیسی بیوی کیسی محبت؟اب کی بار وہ دبے دبے غصے سے بولی۔ویسی بیوی جیسی ہمارے ہاں ہوتی ہے جیسے تمہاری مام اور میری مام ہیں بالکل ویسی بیوی سمجھ آئی تمہیں۔۔۔اسے کندھے سے پکڑتے وہ ایک ایک لفظ چباتے لال انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھتے کہہ رہا تھا۔جبکہ روبی کا حلق خشک ہوا تھا۔۔۔کہاں تھوڑی دیر پہلے وہ اسکی قربت کے مزے لوٹ رہی تھی اور کہاں اب یہ خونخوار آنکھیں و لہجہ یہ کوئی ایک انسان تو نہ تھا۔۔۔ایک پل کو اسے پرانا لیو یاد آیا تھا پر وہ لب بھی نہ ہلا پائی کہ اسکے سامنے اس وقت ایک ظالم و بے حس شخص تھا جسکی آنکھوں میں محبت کی جگہ حقارت و غصہ تھا وہ مافیا تھا اسکی محبت نہیں۔۔۔۔وہ نم آنکھوں سے بے جان ہوتے بدن سے لیو کو تکے جارہی تھی۔۔لیو کو اپنی سختی کا احساس ہوا تو وہ کچھ نرمی سے بولا۔آئی ایم سوری ہنی۔۔۔میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں لانا چاہتا تھا پر تم جانتی ہو نا کہ میرا کام کیا ہے تو پھر ۔اس بارے میں بات کرتی ہو جو مجھے پسند نہیں۔۔ہمارے درمیان صرف ہماری باتیں ہونی چاہیئے نا ہنی۔۔۔نا کہ میرے کام کے بارے میں۔۔۔دیکھو پانچ ہونے والے ہیں ۔۔ میں تم سے محبت بھری باتیں کرتے تمہارا لمس محسوس کرتے صبح کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔پر میری ہنی نے تو جنگ چھیڑ دی۔۔۔چلو اب تھوڑا سا پیار بھی کرلو مجھے۔۔۔اسکے آنسو پونچھ کے اسکے گال سہلاتے وہ پیار سے کہتے اسکا موڈ ٹھیک کرنے لگا۔پر وہ بالکل خاموش سی بس اسکے سینے سے لگ گئی کہ مزید لیو کے تیور نہیں بگاڑنا چاہتی تھی۔۔۔۔وہ اسے خود میں بھینچے دونوں پہ کمفرٹر اوڑھتے اسکے لمس میں کھو گیا۔۔۔💘💘💘💘💘💘چلو بھی ۔۔۔۔ڈر کیوں رہی ہو؟وہ نینا کے چہرے کی ہوائیاں اڑے دیکھ کے محضوظ ہورہا تھا۔لیکن یہ کونسی جگہ ہے؟اٹکتے لہجے میں پوچھا گیا۔یہاں بگڑے لوگوں کو سدھارا جاتا ہے اور انکی عقل ٹھکانے لگائی جاتی ہے۔۔ہنسی دانتوں تلے دبائے وہ مصنوعی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔کی۔۔کیا مطلب؟ تو ۔۔تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟حیرانگی سے آنکھیں پھٹی تھی اسکی۔۔۔کیوں؟ کیا تمہیں اسکا جواب نہیں پتہ؟ یا پھر میرے منہ سے سننا چاہتی ہو؟کہیں محبت تو نہیں ہونے لگی نا مجھ سے جو بہانے بہانے سے مجھ سے بات کرنے لگی ہو۔۔۔اسکی پھٹی آنکھیں دیکھتے وہ آنکھ مارتے اسے تپانے لگا۔پلیز۔۔۔وہی واپس چلو۔۔۔۔جہاں سے ہم آئیں ہیں۔۔۔۔اوکے میں وہی تمہارے ساتھ رہ لوں گی۔۔۔۔وہ رونی شکل بناتے التجائیہ نظروں سے سنان کو دیکھتے کہنے لگی۔۔۔لیکن اب اتنا لمبا سفر طے کرکے آئیں ہیں تو ایک بار اندر تو جانا ہی پڑے گا نا۔۔۔ویسے بھی تمہارا دماغ ٹھکانے پہ لگوانا ہے مجھے۔۔۔۔ہر وقت گھر جانے کی رٹ لگائے رکھتی ہو۔۔۔۔۔مجھے برا بھلا کہتی ہو۔۔۔۔نینا کی کلائی مضبوطی سے پکڑے وہ مین گیٹ عبور کرتے گھر کے اندر جانے لگا۔۔۔۔حویلی نما بڑا سا گھر جہاں چاروں طرف گاڈز تھے اور کئی ڈوگز ۔۔۔ انکو دیکھ کے ھی نینا کی جان نکلی جارہی تھی۔۔۔وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید سنان اسے ان ڈوگز کے سامنے پھینکنے کے لیے لایا ہے تبھی وہ ڈری سہمی کانپ رہی تھی۔۔۔سنان۔۔۔۔مجھے نہیں جانا۔۔۔پلیز۔۔۔۔اب وہ باقاعدہ رونے لگی تھی اور اسکی منتیں کررہی تھی۔۔۔اسکی حالت غیر ہوتے دیکھ سنان کی ہنسی چھوٹنے لگی تھی پر وہ خود پہ قابو پائے ہوئے تھا جسکے باعث اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا۔اسے کلائی سے پکڑے وہ چلتے چلتے گھر کے اندر داخل ہوا۔۔۔انکے داخل ہونے کی دیر تھی کہ چاروں طرف سے پھولوں کی برسات ہونے لگی اور سب نے “ویلکم ہوم” کی آواز بلند کی۔۔۔۔سنان کے وجیہہ چہرے پہ رونق ابھری تھی جبکہ نینا ڈری سہمی اب اسکا بازو پکڑے اسکے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔جسے سنان نے ناکام بناتے اسے بازو سے تھامتے اپنے برابر کھڑا کیا تھا۔۔۔سب لوگ ہاتھوں میں پھول و تحفے لیے کھڑے تھے اور مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ویلکم بھابھی!ایک دس بارہ سالہ بچی پھولوں کا گلدستہ نینا کی طرف بڑھاتے چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔نینا کے اداس چہرے پہ خوشی ابھری تھی۔۔۔تھینک یو!دھیمی سی آواز میں کہتے وہ سنان کو دیکھنے لگی۔۔۔فیملی چاہیئے تھی نا تمہیں۔۔۔۔بار بار گھر والوں کے پاس جانے کی ضد کرتی تھی۔۔۔تو میں نے سوچا تمہاری یہ خواہش پوری کردیتا ہوں۔۔۔کیونکہ اب یہ میری ہی ذمہ داری ہے نا۔۔۔وہ والہانہ انداز میں نینا کو دیکھتے بولا۔۔۔یہ میری فیملی ہے۔۔۔میرے مام، ڈیڈ، بھائی، بھابی اور یہ دو چھوٹے شیطان۔۔۔۔أج سے یہ تمہاری بھی فیملی تو مطلب کہ اب سے یہ ہماری فیملی ہے۔۔۔۔ویلکم ہوم سویٹ ہارٹ۔۔۔باری باری گھر والوں کی طرف اشارہ کرتے وہ نینا سے کہنے لگا۔۔۔نینا کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی اور دل میں سکون کہ وہ اب سیف جگہ پہ تھی۔۔۔اسکے چہرے سے جھلکتا سکون سنان کی نگاہوں نے محسوس کرتے اسکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھیری تھی۔۔۔آجاؤ۔۔۔۔سب سے ملو۔۔۔۔نرمی سے اسکا بازہ تھامے وہ اسے سب سے ملوانے لگا۔۔۔سب کے ہنستے مسکراتے چہرے اور انکی محبت بھری باتوں سے نینا کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔وہ مسکرارہی تھی اور کافی پرسکون سی انکے درمیان بیٹھی ان سے باتیں کررہی تھی۔۔۔سنان محبت سے اسکے چہرے کا دیدار کیے جارہا تھا۔۔۔کہ کئی دنوں کے بعد وہاں بہار آئی تھی۔۔۔اچھا اب اسکو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔۔لمبا سفر کرکے آئے ہیں تھک گئی ہوگی۔۔۔۔ویسے یہاں بھی ہے کوئی جو سیم سفر کرکے آیا ہے اور ڈرائیونگ کرتا رہا۔۔۔پر لگتا میری کسی کو کوئی فکر نہیں۔۔۔۔سنان نے شکوہ کرتے اپنی مام کو دیکھا جو نینا کے سر پہ ہاتھ پھیرتے کچھ کہہ رہی تھیں۔۔۔تم یہی رکو۔۔۔تم سے بات کرنی ہے کچھ۔۔۔اسکے ڈیڈ نے سنان کو دیکھتے کہا تو وہ بھنوئیں اچکا کے رہ گیا۔۔۔اسکی بھابی نینا کو لیے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔سنان کی نگاہ نے کافی دور تک اسکا تعاقب کیا تھا۔۔۔اب کچھ بتانا پسند کریں گے موصوف یا پھر ابھی جناب کا موڈ نہیں ہے۔۔۔۔عبید صاحب(سنان کے ڈیڈ) شکوہ کرتے کہہ رہے تھے۔یس ڈیڈ۔۔۔۔۔ابھی موڈ نہیں ہے بعد میں بات کریں گے اس بارے میں۔۔ُشریر انداز میں کہتے وہ مسکرایا تھا۔۔۔کیوں تنگ کررہے ہو؟ کون ہے یہ لڑکی؟ اسطرح اچانک سے شادی بھی کرلی کیا تم نے؟شیرین صاحبہ(سنان کی مام) سوالیہ نظروں سے اسے تکنے لگی۔۔۔ارے بتایا تو تھا آپ لوگوں کو فون پہ ۔۔۔۔آپکی بہو ہے۔۔۔میری زندگی۔۔۔ُ۔سنان نے بالوں میں انگلیاں گھماتے بے پروائی سے کہا۔۔تو کیا تم نے شادی کرلی؟اسکی مام نے پوچھا۔۔۔۔میری جان ہے وہ۔۔۔اسے وہاں اکیلے ڈر لگتا تھا تو اس لیے یہاں لے آیا۔۔۔۔۔اسے ایک فیملی چاہیئے تھی ۔۔۔تو اب میں اسکا ہوچکا ہوں تو میرئ فیملی بھی اسکی ہوئی نا۔۔۔پلیز آپ سب اسکا بہت خیال رکھیے گا۔۔۔اسے یہاں رہتے ہوئے اپنی فیملی کی کمی محسوس نہ ہو۔۔۔بس اتنا پیار کرنا ہے آپ سب نے اسے۔۔۔جواب دینے کی بجائے وہ اپنی ہی باتیں کرنے لگا۔۔۔ٹھیک ھے۔۔۔اسے یہاں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور نہ ہم اسے گھر والوں کی کمی محسوس ہونے دیں گے . . ۔شیرین کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے انہیں کچھ کہنے سے روکتے عبید صاحب سنجیدگی سے بولے۔۔۔تھینک یو ڈیڈ۔۔۔۔اینڈ ایوری ون۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کو فلائینگ کس دیتے وہ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔آپ نے کیوں روکا مجھے؟کیونکہ وہ لڑکی اسکی زندگی ہے۔۔سنا نہیں تھا تم نے۔۔۔۔۔۔ جیسا چاہتا ہے بس ویسا ہی کرو۔۔۔۔سنجیدگی سے کہتے وہ اٹھ کے چلے گئے۔۔۔۔عبید صاحب اپنے شہر کے امیر لوگوں میں شامل تھے۔۔۔شیرین انکی بیوی جو خود بھی بزنس میں انکے ساتھ ہی ہوتی تھیں۔۔۔۔دو بیٹے۔۔۔۔سنان اور سہیل۔۔۔۔۔سہیل کی شادی وہ اپنے کسی دوست کی بیٹی “میری” سے کروا چکے تھے۔۔جن کے اب دو بچے انجلی اور آذر تھے۔۔۔۔اور سنان جو کہ سہیل سے چھوٹا تھا پر کافی تیز تھا۔۔پڑھائی میں تو بس گزارا تھا پر وہ بہت سمارٹ تھا۔۔۔بزنس کے معاملے میں وہ بہت آگے تھا۔۔۔اسکا چارماسکے کامیابی کے ساتھ ساتھ مزید سے مزید نکھرتےجاتے تھے جو کہ آس پاس کے لوگوں کو متوجہ کرتے۔۔وہ تیس سال کا ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بارعب و وجہہ شخصیت کا مالک تھا۔۔۔اسکی چارمنگ پرسنیلٹی کی وجہ وہ کئی دلوں کو دھڑکانے کی وجہ تھا پر اسکا دل اس من موہنی سی لڑکی پہ آیا جو بس ڈری سہمی سی خود میں گم رہتی تھی۔۔۔اسے کبھی بھی ڈری سہمی دبی رہنے والی لڑکیاں پسند نہ تھیں۔۔۔وہ ہمیشہ سے بولڈ، کانفیڈنٹ اور دنیا کے ساتھ چلنے ا لڑکی کو اپنا لائف پارٹنر بنانا چاہتا تھاپر دل نے بغاوت کی اور اس کی سوچ کے برعکس بالکل مختلف سی لڑکی پہ مر مٹا۔۔۔۔۔یہ خوشنما حادثہ تب ہوا جب نینا اپنی کسی دوست کو اسکے آفس گئی جو کہ سنان کا آفس تھا۔۔۔۔وہ ڈری سہمی آفس میں گھوم رہی تھی جب سنان کی نظر اس پہ پڑی اور پھر پلٹنا بھول گئی۔۔وہ سمجھا تھا کہ شاید نینا اسکے آفس میں ہی کام کرتیہے۔۔۔لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ اپنی دوست کو لینے آئی تھی۔۔۔اسے نینا کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا اور مزید معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ۔۔۔وہ اپنے ڈیڈ، بھائی اور ایک بہن کے ساتھ رہتی تھی۔۔وہ اڈاپٹڈ تھی تبھی اسکے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔۔۔سنان کو نجانے کیا سوجھی کہ ایک دن بیٹھے بٹھائے بنا نیکچھ سوچے سمجھے وہ نینا کے گھر جا پہنچا اور اسکے گھر والوں سے اسکا رشتہ مانگ لیا۔۔۔اسکی بات سننے کی دیر تھی کہ انہوں نے سنان کو خوب بے عزت کیا اور گھر سے نکال دیا۔۔۔نینا جو اس سارے واقعے سے بے خبر تھی جب کالج سے واپس آئی تو اسکی خوب پٹائی کی گئی۔۔۔اسے مار مار کے اسے کمرے میں بند کردیا اور کئی دن تک وہ کالج نہ گئی۔۔۔اپنی بے گناہی کا ثبوت دیتے، قسمیں کھاتے وہ تھک گئی کہ وہ کچھ نہیں جانتی نہ اسکا سنان نامی کسی شخص سے کوئی تعلق ہے پر اسکی کسئ بات پہ یقین نہ کیا گیا۔۔۔تو دوسری طرف سنان کا پارہ ہائی تھا کہ زندگی میں پہلی بار اسطرح کسی نے اسکی بے عزتی کی تھی۔۔۔لڑکیاں مرتی تھیں اس پہ۔۔۔وہ کسی سے شادی کی خواہش کرتا اور آگے سے انکار ہوتا یہ تو ممکن ہی نہ تھا۔۔پر ایسا ہو چکا تھا وہ بھی ایک عام سی لڑکی کی وجہ سے۔۔۔۔۔وہ ہر روز کٹ کٹ کے جی رہا تھا اس سے برداشت ہی نہیں ہوپارہا تھا کہ اسے انکار کیا گیا تھا۔۔۔آخر جب اسکا صبر جواب دے گیا تو اس نے نینا کو اسکے گھر سے ھی اٹھوا لیا۔۔۔۔تاکہ اسکے گھر والوں کو سبق سکھا سکے پر سب کچھ اسکی سوچ کے برعکس ہوا۔۔۔اس نے سوچا تھا کہ اسے کڈنیپ کرکے اس پہ ظلم ڈھا کے وہ اسکے گھر والوں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے گا۔۔۔پر نینا کے اغوا ہونے پہ اسکے گھر والے کے کندھے سے جیسے بوجھ ہٹ گیا تھا۔۔۔اسکی فکر کی بجائے آگے سے جواب آیا کہ” چاہے اسے مار دو یا کچھ بھی کرو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں پر اب واپس اس گھر میں اسکی کوئی جگہ نہیں اور اگر آبھی گئی تو ہم اسے خود مار دیں گے کہ اب وہ ہماری عزت پہ داغ لگا چکی”دو دن تک اسے بے ہوش رکھا اور سارے کام چھوڑ کے اس کے پاس بیٹھا اسے تکتا رہتا۔۔۔دل میں پچھتاوا تھا جو اسے شرمندہ کیے جارہا تھا۔۔۔پر دھیرے دھیرے وہ بھی کم ہونے لگا۔۔۔کہ اسے اسکے چہرے کی معصومیت دل میں اترتی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔اسکا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے جہاں یہ بات اسے تکلیف دے رہی تھی۔۔۔وہی اسے خوشی بھی ہورہی تھی ۔اکہ”نینا کا اس دنیا میں کوئی نہیں تو مطلب وہ پوری طرح میری ہوگی یعنی میں ہی اسکا سب کچھ”وہ اسکے چہرے کو محبت سے تکتے سوچتا رہتا ۔۔جب وہ ہوش میں آئی تو سنان نے اسے ساری حقیقت سے آگاہ کیا تاکہ وہ اسے لیے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔۔۔کئی دن تک اسے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی وہ نہ مانی تو آخر سنان نے سختی و غصے سے ہی اسے قابو کیا اور اسکا خیال رکھنے لگا کہ نینا کا دل کبھی تو پگھلے کا اسکے لیے۔۔۔۔۔کیا کررہی ہو؟وہ جو نفاست سے سجائے کمرے کو دیکھ رہی تھی جہاں سنان کی دل دھڑکاتی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔وہ انکو دیکھنے میں محو تھی جب پیچھے سے گھمبیر سی آواز آئی وہ چونک کے پلٹی اور سامنے وہ شخص بازو سینے پہ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔تم۔۔۔تم یہاں کیوں آئے؟سنان کو جواب دینے کی بجائےوہ الٹا اس سے سوال پوچھ بیٹھی۔ہاں تو میں اور کہاں جاؤں گا؟ یہی آؤں گا نا ہمارے کمرے میں تمہارے پاس۔۔۔۔شریر انداز میں کہتے وہ نینا کے قریب ہوا تھا۔۔تم واپس نہیں جاؤ گے کیا؟اسکے سوال پہ سنان کا قہقہ کمرے میں گونجا تھا اور وہ ہونک بنی اسے دیکھنے لگی۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔ مطلب میری جان یہاں رہے اور میں وہاں اکیلے۔۔۔۔ہمممم۔۔۔بے وقوف سمجھا ہے کیا مجھے؟ہر پل تمہارے ساتھ رہنے کے لیے تو تمہیں یہاں لایا ہوں اور تم مجھے ہی یہاں سے رخصت کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔اب یہ خواہش تو کبھی پوری نہ ہونے دونگا میں۔۔۔نینا کی کمر کے گرد حصار بناتے وہ اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے مدہوش سے لہجے میں کہتا نینا کے بدن میں ہلچل پیدا کررہا تھا۔۔۔وہ اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے کھڑی تھی کہ اب فرار کا کوئی راستہ اسے نظر نہ آرہا تھا یا شاید اب وہخود فرار نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔۔سنان کی محبت سے ۔۔اسکی قربت سے اور اسکی محفوظ پناہ سے۔۔۔💘💘💘💘💘💘ڈائیننگ ٹیبل پہ وہ روبی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو اداس سا لگ رہا تھا۔۔۔ہنی۔۔۔۔ٹھیک ہو نا؟اسکے ہاتھ کی پشت کو سہلاتے وہ محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔روبی نے لیو کو ایک نظر دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا تو لیو نے سمائل پاس کی وہ بھی ہلکے سے مسکرادی۔۔۔وہ دونوں ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب اچانک سے بین بھاگتے ہوئے وہاں آیا۔۔لیو کے قریب پہنچتے وہ اسکے کان میں کچھ بولا تو لیو کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔۔زور سے ٹیبل پہ مکا مارتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔تم ناشتہ کرو۔۔میں نکلتا ہوں۔۔روبی کے گال پہ بوسہ دیتے وہ پل بھر میں وہاں سے غائب ہوا تھا۔۔۔لیو کو جاتا دیکھ وہ سرد آہ بھر کے رہ گئی اور ہاتھ میںپکڑا جوس کا گلاس ٹیبل پہ رکھتے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔میڈ کو آواز دیتے وہ کچھ سوچنے لگی۔۔۔جی میڈم!میرے ساتھ چلو۔۔۔اسے حکم دیتے وہ چلنے لگی۔۔۔۔مینشن کی بیک سائیڈ پہ اسے جاتے دیکھ میڈ کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔۔میڈم۔۔۔وہاں جانا منع ہے۔۔۔۔اگر لیو سر کو پتہ چلا تو وہ میری جان لے لیں گے۔۔۔میں وہاں نہیں جا سکتی۔۔۔میڈ رکتے رکے ڈر ڈر کے بولی تھی۔۔۔روبی نے پہلے اسے کاٹ کھانے والی نظروں سے دیکھا اور پھر اسے واپس بھیجتے خود ہی اس طرف چل پڑی۔۔۔کہ اسے ہر حال میں پتہ لگانا تھا آخر کیاہے وہاں جو کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔۔۔آخر ایسا کونسا راز ہے جسے کھلنے کے ڈر سے اس طرف جاتا ہر قدم ہمیشہ کے لیے زمین میں دفنا دیا جاتا تھا۔۔۔لیو کو معلوم ہوا تو اسکا کیا انجام ہوگا۔۔۔۔یہ خیال روبی کے بدن میں خوف کی لہر بھی دوڑا دیتا پر پھر بھی اسکے قدم رکنے کی بجائے آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔۔۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.