couple, wedding, marriage-4615557.jpg

My Possessive mafia Episode 7 Written by barbie boo

جس کا احساس تمہیں زندگی بھر رہےگا ۔۔۔۔۔ آج ہمارے بیچ کوئی نہیں آئے گا نہ میرا غصہ نہ تمہاری ضد نہ تمہارا خوف اور نہ ہی کچھ اور ۔۔۔۔آج کی رات ہمارے ملن کی رات ہوگی ہماری محبت کی ہماری چاہت کی رات ہوگی ۔۔۔۔۔ میں نے اس پل کے لئے بہت انتظار کیا ہے ۔۔۔بہت تڑپا ہوں میں تم نے بہت ترسایا ہے مجھے لیکن اب مزید نہیں ۔۔۔۔۔آج میں تمہیں اپنے لمس سے اشنا کرواؤں گا اور تمہاری وجود کی خوشبو میں ڈوب جاؤں گا ۔۔۔۔ وہ نینا کو اپنے سینے میں بھیجے اس کی گردن میں سردیے مدہوشی کی عالم میں بولے جا رہا تھا اور وہ بت کی طرح چپ چاپ کھڑی سن رہی تھی اس کے ارادوں سے وہ واقف نہیں تھی ۔۔۔۔اور اب اس کے ارادے جان کر اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ سنان! میں۔۔۔۔۔ نینا کے کچھ بولنے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ سنان اپنے سلگتے ہونٹوں سے اسکی سانسیں خود میں اتارنے لگا۔۔۔۔ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسائے اور دوسرا اسکی کمر پہ رکھے وہ ہر چیز سے بیگانہ ہوتے اسکے گلابی، رس بھرے لبوں سے اپنی پیاس بجھانے لگا۔۔۔۔نینا کا سانس لینا محال ہورہا تھا۔۔۔اسکے چوڑے سینے پہ دونوں ہاتھوں کے مکے بناتے وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔اسکی مزاحمت پہ سنان نے دوسرا ہاتھ بھی اسکے کمر کے گرد حائل کرتے مضبوطی سے اسے اپنے حصار میں قید کرتے اسکے فرار ہونے کا راستہ بند کر چکا تھا۔۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکی مضبوط گرفت سے نکلنا ناممکن ہے ۔۔۔وہ آزاد ہونے کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔۔۔ اسکی مزاحمت کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے وہ اسکی سانسیں خود میں اتارتے میں مگن تھا۔۔۔۔۔کمرے میں دونوں کی تیز سانسوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کے باہر نکل آئے گا۔۔۔۔۔ اسکے نازک لبوں پہ ستم ڈھاتے وہ اسکی جان لینے پہ تلا ہوا تھا۔۔۔۔ نینا کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔وہ سنان کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں سختی سے جکڑے ہوئے تھی۔۔ اسکی حالت پہ رحم کھاتے سنان نے اسکے سرخ کٹاؤ دار کانپتے لبوں کو آزاد کیا تھا جن پہ ابھرتے خون کے ننھے قطرے اسکے ظلم کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کیے تیزی سے سانس لے رہی تھی۔۔۔اسکا نازک کانپتا وجود سنان کے عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ بکھیر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ نینا کا چہرہ بہت سرخ ہورہا تھا۔۔۔۔۔اپنا سر سنان کے سینے سے ٹکائے وہ ابھی تک اپنی بے ترتیب سانسیں بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اسکے کانپتے وجود کو خود میں پھینچے وہ سکون محسوس کررہا تھا۔

ہاں بتاؤ کیا بنا؟ ہو گیا کام؟ وہ صوفے پہ براجمان ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سیگریٹ کا کش لیتے فون کان سے لگائے سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھاُ۔ ہا نہیں۔۔۔ابھی نہیں ہوا۔۔۔کافی مشکل لگ رہا ہے۔۔۔ آگے سے اداس لہجے میں جواب دیا گیا تھا۔ کیا مطلب ہے کہ مشکل ھے؟ ایک چھوٹا سا کام بھی نہیں ہو پارہا تم سے۔۔۔۔دیکھو بین میرے پاس ڑیادہ وقت نہیں ہے اسی لیے تھوڑی جلدی کرو۔۔۔۔ وہ نہیں مان رہی۔۔۔کیا کروں میں؟ پیار سے، غصے سے ڈرا دھمکا کے بہلا کے ہر طرح سے کوشش کر کے دیکھ لی ہے لیکن وہ اپنی بات پہ اڑی ہوئی ہے۔ وہ تم سے ملنا چاہتی ہے۔ جب تک تم خود نہیں آؤ گے وہ سائن نہیں کرے گی۔ نہیں آسکتا میں۔۔۔تم اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی۔۔۔۔! وہ کوئی بہت بڑی توپ نہیں ہے جو تم سے سنبھالی نہیں جاری ایک چھوٹی سی بچی ھے۔۔۔کسی بھی طرح بہلا پھسلا کے پیپر پہ سائن کرواؤ اور واپس آؤ۔ لیکن لیو۔۔۔۔ لیکن ویکن کچھ نہیں بین۔۔۔۔۔کسی بھی حال میں مجھے وہ پیپرز چاہیئے۔۔۔۔۔کچھ بھی کرو۔۔۔۔سمجھے تم۔۔۔تمہیں جو کرنا ہے کرو۔۔بس ان پیپرز پہ اس کے سائن ہونے چاہیئے۔۔۔۔ ڈیٹس اٹ! غصے سے کہتے وہ فون بند کر چکا تھا اور اب سیگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتے اپنے غصے پہ قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک چھوٹی سی بچی کے سائن تک نہیں کروائے جارہے ان سے۔۔۔۔حد ہوگئی۔۔۔کسی کام کے نہیں ہیں۔۔۔اور بین۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہی کہ اسے کیوں اتنی ہمدردی ہورہی ہے اس لڑکی سے۔۔۔۔لگتا ہے پھر سے انسانیت جاگ گئی ہے اس لڑکے میں۔۔۔اسے پھر سے سب کچھ یاد دلانا ہوگا۔۔۔۔ہممممم! سیگریٹ کا آخری کش لیتے وہ گہری سوچ میں گم ہوا تھا۔ 💘💘💘💘💘💘💘💘💘

سیلن تنگ مت کرو۔۔۔۔سائن کردو پلیز! بین کافی دیر سے پیپرز ہاتھ میں پکڑے اسکے آگے پیچھے گھومتا اسکی منتیں کررہا تھا اور وہ نخرے دکھائے جارہی تھی۔ نہیں، نہیں کرونگی سائن! اپنے سینے پہ دونوں بازو باندھے وہ بین کا منہ چڑا رہی تھی۔ کیوں تنگ کررہی ہو؟ اچھے بچوں کی طرح بات مان لو نا پلیز! وہ التجا بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ جب تک ہونے والی مس مافیا کا مسٹر مافیا خود آکے مجھے ریکوئسٹ نہیں کرے گا میں کوئی بات نہیں سننے والی! منہ بناتے دو ٹوک لہجے میں اپنا فیصلہ سناتے وہ صوفے پہ جا بیٹھی۔ وہ نہیں آسکتا۔۔۔پلیز سمجھنے کی کوشش کرو بے بی! وہ اسکی طرف آتے اسکے برابر میں بیٹھتے کافی نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔وہ اسے منانے کی بہت کوشش کررہا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اگر وہ سیلن کو نہ منا پایا تو لیو اسکی تو واٹ لگائے گا ہی اور سیلن کو بھی اچھا خاصا ٹارچر کرے گا۔۔۔بین اسے لیو کے اس سفاک روپ سے بچانا چاہ رہا تھا پر وہ نا سمجھ کسی بھی طرح کچھ سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔ نو مینز نو! میرا مسٹر مافیا آئے گا تو ہی میں سائن کروں گی بس بات ختم! وہ سرد مہری سے کہتے اٹھ کے کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ بین اسکے رویے پہ افسوس کرتا سر پکڑ کے رہ گیا۔ 💘💘💘💘💘💘💘 کیا کروں۔۔۔۔وہ آنے والا ہوگا۔۔۔ کمرے میں ٹہلتے وہ نم ہوتی ہتھلیوں کو آپس میں رگڑے جارہی تھی۔۔۔ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ اسکا دل بے اختیار دھڑکے جارہا تھا۔۔۔ سارا دن پل جھپکتے گزر گیا تھا اور سوچ سوچ کے وہ پاگل ہوئے جارہی تھی۔۔۔۔۔خود کو سمجھانے کی لاکھ کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ لیو کو اپنانے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔ لیکن مزید اسکے غصے کو بہکاوا دے کے وہ اپنے لیے کوئی شامت نہیں لانا چاہتی تھی۔۔ آخر مرے مرے قدموں سے وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی تاکہ آج کی رات لیو کا من پسند ڈریس پہن کے اسے یقین دلا سکے کہ وہ اسے قبول کرچکی ہے۔۔ ہاتھوں میں ریڈ روز لیے وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتا اپنے کمرے کی طرف چلا آرہا تھا۔۔۔۔لبوں پہ دلنشیں مسکراہٹ بکھری اسکی وجاہت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسکے خوش ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔ ایک گہری سانس لیتے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور ڈور لاک کرتے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف نظر گئی جہاں وہ حسین دلربا خود کو سنوارنے میں بزی تھی۔۔۔۔۔ لیو کے لبوں پہ دلفریب مسکان ابھری تھی اور آنکھوں میں فتح کی سی چمک۔۔۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے روبی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔ تو ہنی میرے لیے خود کو تیار کررہی ہو۔ وہ اپنے خیالوں میں گم صم لبوں کو لپ اسٹک سے رنگ رہی تھی جب لیو پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے محبت سے بولا تھا۔ اسکی اس طرح اچانک آمد پہ اسکے ہاتھ سے لپ اسٹک چھوٹ کے فرش پہ جاگری تھی۔۔ لیو! ہاں میں۔۔۔۔اچھا لگا تمہیں ایسے دیکھ کے۔ روبی کی حیرانگی پہ وہ دھمیے وہ کہتے اسکا رخ اپنی طرف کر چکا تھا۔ تو تم نے میرا من پسند رنگ پہنا ہے۔۔۔۔بہت جچ رہا ہے تم پہ۔۔۔مجھے امید نہیں تھی کہ تم میرے لیے ایسا کچھ کروگی۔۔۔سچ بتاؤں تو خوشی کے زیادہ حیرت ہورہی مجھے۔۔۔ اسکے کمر کے گرد بانہوں کا گھیرا بناتے وہ اسکے حسین سراپے کو غور سے دیکھتے کہہ رہا تھا۔۔۔ دل تو چاہ رہا ہے اس سیکنڈ بھی ویسٹ کیے بنا تمہیں اپنی بانہوں میں بھر کے خود میں سما لوں۔۔۔بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔مدہوش کرنے کو تمہارا یہ حسن ہی کافی ہے۔۔۔لمس کی بات تو پھر بعد کی ہے۔۔۔۔ وہ روبی کو اپنے سینے میں چھپاتے اسکی گردن میں منہ دیے گھمبیر انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔ اسکی سانسوں کی گرم تپش اپنی گردن پہ محسوس کرتے اسکا دل ایک بار پھر سٹ پٹ دوڑیں لگا رہا تھا۔۔۔اسکا لمس ایسے جیسے شعلے برسا رہا تھا روبی پہ۔۔۔۔وہ دانت پیستے خود پہ قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔۔کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے دل کو بہکنے نہیں دے سکتی تھی۔ یہ تمہارے لیے ہنی! گلاب کا پھول روبی کے گال کو چھوتے ہوئے وہ شرارت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ زبردستی لبوں پہ مسکراہٹ لاتی اسکے ہاتھ سے پھول لے چکی تھی۔ تمہیں دیکھ کے نا پیے بنا ہی سرور چھانے لگتا ہے۔۔۔۔میرے لیے میرا فیورٹ ڈرگ بن گئی ہو تم! اپنے لبوں کا لمس اسکےماتھے پہ چھوڑتے وہ دھڑکتے دل سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔ ایک پل کو روبی کو اسکی بات میں بے پناہ محبت اور دیکھائی دی تھی پر اگلے ہی پل وہ اس خیال کو جھٹک چکی تھی۔ اسے اپنی بانہوں میں بھرتے وہ بیڈ کی طرف آیا تھا۔۔۔۔کمرے کی خاموشی اور اسکے وجود سے آتی مدہوش کن خوشبو لیو کے دل میں چھپے جذبات ابھار رہی تھی۔۔۔ اب کیونکہ روبی خود بنا کسی مزاحمت کے اسکے قریب تھی تو مطلب اب وہ اسے اپنے محبت و شدتوں سے آشنا کروا سکتا تھا۔

💘💘💘💘💘💘💘💘 یہ ہم کہاں آگئے ہیں ؟ وہ حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سنان سے پوچھ رہی تھی ۔ دیکھنے میں یہ ایک سنسان سی جگہ تھی آس پاس کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ چاروں طرف کچھ درخت بنے ہوئے تھے اور بیچ میں ایک چھوٹا سا گھر ۔۔۔۔۔ گھر باہر سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔بہت سارے پھولوں اور لائٹوں سے ۔۔۔۔۔۔ایسے چمک رہا تھا جیسے لاکھؤں ستاروں کے بیچ ایک چاند چمکتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں ہے تم مجھے کہاں لے کے آئے ہو سنان ؟ وہ سنان کا بازو جھنجھوڑتے ہوئے کہنے لگی ۔ یہی تمہارا گھر ہے آؤ تمہیں دکھاتا ہوں ۔۔۔۔ وہ لینا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پے سجائے راہداری سے چلتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا ۔ گھر اندر سے بھی لائٹوں سے سجایا ہوا تھا۔۔۔چاروں طرف روشنی ہی روشنی تھی ۔۔۔۔کہنے کو تو یہ رات کا سماں تھا پر گھر کے اندر کا نظارہ دیکھ کے دن کا گماں ہو رہا تھا ۔۔۔وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے چاروں طرف دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔سنان کو بے اختیار ہنسی آئی تھی ۔ وہ اسے لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔۔اس نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے لیے اندر داخل ہوا ان دونوں پر پھولوں کی برسات ہوئی تھی ۔۔۔۔ پورا کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔پھولوں کی دل موہ لینے والی خوشبو نینا کو اپنے سحر میں جکڑ رہی تھی ۔۔۔۔بہت ہی دلکش نظارہ تھا ۔ کیسا لگا یہ سب ؟ کمرے کا دروازہ بند کرتے سنان نیناں کی طرف آیا اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے محبت سے کہنے لگا ۔ اچھا ہے لیکن مجھے اپنے گھر جانا ہیں سنان ۔ ۔ پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ آؤ۔ وہ التجا بھری نظروں سے سنان کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کے سنان کے تیور بگڑ گئے تھے ۔۔۔۔اس کے ماتھے پہ بل پڑے تھے ۔۔۔۔وہ جو ایک بہت ہی رومانٹک موڈ میں تھا نینا کی بات سن کے اس کا موڈ خراب ہونے لگا تھا ۔ میں نے جو پوچھا ہے صرف اس کا جواب دو تمہیں یہ سب کیسا لگا پسند آیا ؟ میں نے یہ سب تمہارے لیے کیا ہے تمہاری خوشی کے لیے تاکہ تمہیں اچھا لگے اور تم خوش ہو جاؤ ۔۔۔تو بتاؤ مجھے میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں تمہیں خوش کرنے میں ۔ وہ نینا کی کمر کے گرد اپنے بازو کا مضبوط حصار بناتے اس کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکاتے بہت ہی نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔ ہاں اچھا ہے یہ سب لیکن مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔۔تم نے یہ سب کیا اس کے لئے تمہارا بہت شکریہ ۔۔پلیز آپ مجھے میرے گھر چھوڑا آؤ۔۔مجھے ڈیڈ کی اور بڑے بھائی کی بہت یاد آرہی ہے ۔۔۔وہ بھی مجھے بہت مس کر رہے ہوں گے۔۔۔وہ بہت پریشان ہوں گے میرے لیے ۔۔۔مجھے ان کے پاس جانا ہے پلیز مجھے جانے دو پلیز مجھے گھر چھوڑ اؤ سنان پلیز ۔ وہ منت بھرے لہجے میں تقریبا روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔ یہ کیا تم نے گھر جانا ہے گھر جانا ہے لگا رکھا ہے ۔۔۔۔کسی کو کوئی فکر نہیں ہے تمہاری کسی کو کوئی پروا نہیں ہے ۔۔۔تمہارے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی پریشان نہیں ہے تمہارے لیے ۔۔۔نہ کوئی تمہیں مس کرتا ہے اور نہ ہی وہ تمہیں دیکھنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ تمہارا ہونا نہ ہونا برابر ہے ان کے لیے ۔۔۔۔۔ایک تم ہو کے مری جا رہی ہوں ۔۔۔۔اب دوبارہ تمہارے منہ سے میں یہ گھر کا لفظ نہ سنو ں۔۔۔۔اب میں ہی تمہارے لئے سب کچھ ہو تمہارا سب کچھ ۔۔۔۔اور یہی تمہارا گھر ہے ۔۔۔آج سے تم یہی رہو گی سمجھی۔۔۔۔نہ تم یہاں سے کہیں جا سکتی ہو اور نہ ہی میں کہیں جانے دوں گا ۔۔۔۔ تم صرف میری ہو جتنی جلدی تم یہ بات سمجھ لو یہ تمہارے لیے اتنی ہی آسانی ہوگی ۔۔۔اور اگر تم مجھے بار بار تنگ کرو گی تو پھر بار بار تمہیں سمجھانا بہت اچھی طرح پتا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ میں نے یہ سب تمہارے لیے کیا تھا تاکہ کچھ پل کے لیے تم سب کچھ بھول کے صرف مجھے یاد رکھو صرف میرے بارے میں سوچو اور مجھ سے محبت کرو ۔۔۔۔لیکن لگتا ہے جیسے میں نے سوچا تھا ویسا تم کرنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔۔ اور تمہاری ان باتوں سے میرا موڈ بہت خراب ہو گیا اب اس موڈ کو صحیح کرنے کی ذمہ داری تمہاری ہے کیونکہ خراب موڈ میں میں اپنے آپ میں نہیں رہتا ۔۔۔اور اگر پھر کچھ الٹا سیدھا ہوگیا تو اس کا الزام تو مجھ پر مت لگانا کیونکہ جو بھی کرو گی وہ تمہیں کرو گی ۔۔۔۔ نینا کے نرم گال پہ اپنے دانتوں کے ہلکے سے نشان چھوڑ تے وہ اسے وارن کرنے کے سے انداز میں کہہ رہا تھا ۔ جب کہ اس کی باتیں سن کے نینا کے دل میں کچھ ٹوٹا تھا ۔ ۔ ۔۔لیکن فی الحال اس کے لیے سنان کا موڈ ٹھیک کرنا زیادہ ضروری تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا خراب موڈ لینا کے لئے ہی جان عذاب بنے گا ۔۔۔۔

اپنے خشک ہوتے ہیں لبوں پر زبان پھیر تے وہ اپنی گول مٹول آنکھیں سنان کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کوئی طریقہ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں نہیں جانتی کہ تمہارا موڈ کیسے ٹھیک ہوگا ۔۔۔تم پلیز خودی اپنا موڈ ٹھیک کرلو ۔ اس کے معصومیت بھرے انداز پہ سنان کا موڈ پل بھر میں بدلا تھا ۔۔۔۔اس کا یہی انداز اس کی یہی ادا سنان کا دل لے گئی تھی ۔۔۔۔۔اس کی معصومیت پہ وہ فدا ہوا تھا۔ اگر تم اس انداز سے کہوں گی نہ تو کوئی بھی تم پہ مر مٹے گا اور اس کا موڈ تو تمہاری اس معصومیت بھری ادا پے ہی خوش باش ہو جائے گا بالکل ایسے ہی جیسے ابھی ابھی میرا موڈ بدلہ ہے ۔۔۔ لیکن اتنا کافی نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے کچھ اور بھی چاہیے ۔۔۔۔یہاں پر یہاں پر اور یہاں پر بھی ۔ وہ اپنے دونوں گال اور اپنے ہونٹوں پہ اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔ اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے نینب کو اس کا حلق خشک ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔وہ شرم سے لال ہوتی نظریں جھکا گی۔۔۔۔اس کے سرخ پڑھتے گال دیکھ کے سنان کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی ۔ اگر تم ایسے ہی شرماتی رہوں گی تو پوری رات ایسے ہی گزر جائے گی ۔۔۔۔لیکن میں یہ رات ایسے نہیں گزارنا چاہتا ۔۔۔میں اس رات کو ہماری زندگی کی سب سے حسین رات بنانا چاہتا ہوں ۔۔اس کا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ہمیں زندگی بھر یاد رہے گا اتنا حسین بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔آج ہمارے ایک نئے رشتے کا آغاز ہوگا ہماری نئی زندگی کی شروعات ہوگئیں آج ہم دونوں ایک ہو جائیں گے آج ہماری روحیں ایک ہو جائیں گی ۔۔۔۔اس حسین رات میں میں تمہیں اپنی محبت کے سارے روپ دکھاؤں گا تمہیں اپنی محبت سے سرشار کر دوں گا تمہارا پور پور میری محبت میرا جنون میری چاہت سے بھر جائے گا جس کا احساس تمہیں زندگی بھر رہےگا ۔۔۔۔۔ آج ہمارے بیچ کوئی نہیں آئے گا نہ میرا غصہ نہ تمہاری ضد نہ تمہارا خوف اور نہ ہی کچھ اور ۔۔۔۔آج کی رات ہمارے ملن کی رات ہوگی ہماری محبت کی ہماری چاہت کی رات ہوگی ۔۔۔۔۔ میں نے اس پل کے لئے بہت انتظار کیا ہے ۔۔۔بہت تڑپا ہوں میں تم نے بہت ترسایا ہے مجھے لیکن اب مزید نہیں ۔۔۔۔۔آج میں تمہیں اپنے لمس سے اشنا کرواؤں گا اور تمہاری وجود کی خوشبو میں ڈوب جاؤں گا ۔۔۔۔ وہ نینا کو اپنے سینے میں بھیجے اس کی گردن میں سردیے مدہوشی کی عالم میں بولے جا رہا تھا اور وہ بت کی طرح چپ چاپ کھڑی سن رہی تھی اس کے ارادوں سے وہ واقف نہیں تھی ۔۔۔۔اور اب اس کے ارادے جان کر اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ سنان! میں۔۔۔۔۔ نینا کے کچھ بولنے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ سنان اپنے سلگتے ہونٹوں سے اسکی سانسیں خود میں اتارنے لگا۔۔۔۔ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسائے اور دوسرا اسکی کمر پہ رکھے وہ ہر چیز سے بیگانہ ہوتے اسکے گلابی، رس بھرے لبوں سے اپنی پیاس بجھانے لگا۔۔۔۔نینا کا سانس لینا محال ہورہا تھا۔۔۔اسکے چوڑے سینے پہ دونوں ہاتھوں کے مکے بناتے وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔اسکی مزاحمت پہ سنان نے دوسرا ہاتھ بھی اسکے کمر کے گرد حائل کرتے مضبوطی سے اسے اپنے حصار میں قید کرتے اسکے فرار ہونے کا راستہ بند کر چکا تھا۔۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکی مضبوط گرفت سے نکلنا ناممکن ہے ۔۔۔وہ آزاد ہونے کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔۔۔ اسکی مزاحمت کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوئے وہ اسکی سانسیں خود میں اتارتے میں مگن تھا۔۔۔۔۔کمرے میں دونوں کی تیز سانسوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کے باہر نکل آئے گا۔۔۔۔۔ اسکے نازک لبوں پہ ستم ڈھاتے وہ اسکی جان لینے پہ تلا ہوا تھا۔۔۔۔ نینا کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔وہ سنان کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں سختی سے جکڑے ہوئے تھی۔۔ اسکی حالت پہ رحم کھاتے سنان نے اسکے سرخ کٹاؤ دار کانپتے لبوں کو آزاد کیا تھا جن پہ ابھرتے خون کے ننھے قطرے اسکے ظلم کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کیے تیزی سے سانس لے رہی تھی۔۔۔اسکا نازک کانپتا وجود سنان کے عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ بکھیر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ نینا کا چہرہ بہت سرخ ہورہا تھا۔۔۔۔۔اپنا سر سنان کے سینے سے ٹکائے وہ ابھی تک اپنی بے ترتیب سانسیں بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اسکے کانپتے وجود کو خود میں پھینچے وہ سکون محسوس کررہا تھا۔ 💘💘💘💘💘💘💘💘

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.