my possessive mafia episode 8

Novel: My Possessive mafia

Writer: Barbie Boo

Episode: 8

روبی کو بانہوں میں بھرے وہ بیڈ پہ لٹا چکا تھا۔۔۔شرٹ کے بٹن کھولتے وہ اسکے قریب آیا۔۔۔۔۔

اسکا چوڑا کسرتی سینہ، ابھرے ہوئے سیکس پیک اسکے پھولے مسلز وہ کافی مضبوط اور پرکشش جسامت کا مالک تھا۔۔۔

روبی جو بت بنی پڑی تھی اور سوچا تھا کہ اس کی طرف نہیں دیکھے گی ۔۔۔اسکے شرٹ لس باڈی پہ نظر پڑتے ہی وہ نظریں ہٹانا بھول گئی تھی۔

دل شور مچانے لگا تھا وہ جو اتنی دیر سے دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کررہی تھی اچانک سے اسکا دل بے لگام گھوڑے کی طرح بھاگنے لگا۔

اس نے کبھی لیو کو اتنے غور سے اس نظر دیکھا نہیں تھا اتنے سالوں میں وہ اب پہلی بار اسے شرٹ لس دیکھ رہی تھی۔۔۔تبھی ہوش کھوتے محسوس کررہی تھی۔

کب وہ اپنا ہاتھ دل پہ رکھے اسکی دھڑکنوں کی آواز چھپانے کی کوشش کررہی تھی اسے احساس ہی نہ ہوا۔

ہوش تو تب آیا جب لیو کو اپنے قریب پایا۔

وہ اسکے پاس بیڈ پہ لیٹتے رخ اسکی طرف کرتے ایک بازو روبی کے پیٹ کے گرد حائل کرتے وہ دوسرے بازو کو لپیٹے سر کے نیچے رکھتے وہ اسکے ہوش اڑانے کو بے تاب ہورہا تھا۔

ایسے ہی تکتی رہو گی یا پھر چھو کے دیکھنا چاہو گی؟

روبی کو ایک جھٹکے میں اپنی طرف کھینچتے وہ اسکا رخ اپنی طرف کر چکا تھا۔

لیو کی بات سنتے اسے شرم محسوس ہوئی تھی وہ اسکے سینے سے نظریں ہٹاتے آنکھیں میچ گئی۔

نہیں۔۔۔۔أنکھیں بند نہیں کرنی۔۔۔آج تو بالکل نہیں۔۔۔۔دیکھو غور سے مجھے میں تمہارا ہوں۔۔۔چھو کے دیکھو مجھے۔۔۔محسوس کرو۔۔۔میرے لمس کی تپش محسوس کرو۔۔۔۔۔تمہارے سارے گلے شکوے ختم کردوں گا أج۔۔۔

روبی کا ہاتھ اپنے چوڑے سینے پہ رکھتے وہ اسکی ٹھوڑی اوپر کو کرتے اسکے مزید قریب ہوتے محبت سے سرشار لہجے میں کہہ رہا تھا۔

جیسے ہی لیو نے اسکا ہاتھ اپنے سینے پہ رکھا تھا روبی کو اپنے جسم میں کرنٹ لگتا محسوس ہورہاتھا۔۔۔۔بہت مضبوط اور چوڑا سینہ ، روبی کو اپنا أپ کانپتا محسوس ہوا تھا۔۔۔اسے پتہ نہ چلا کب وہ دھیرے دھیرے اسکے سینے پہ انگلیاں رینگنے لگی۔۔۔۔۔

ہولے ہولے وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے اسکے سینے کے ابھاروں کو چھونے لگی۔۔۔۔۔ہارٹ بیٹ تیز ہورہی تھی۔۔۔

جسم میں کپکپاہٹ ہورہی تھی لیکن ایک نیا عجیب سا احساس اسے اپنے اندر اترتا محسوس ہورھا تھا۔۔۔اسکا لمس اسمیں ایک نیا احساس جگا رہا تھا۔۔۔۔

کیا ہورھا تھا کیوں ہورہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس جو بھی تھا اسے اچھا لگ رہ تھا۔۔پہلی بار اسے چھونا اسے محسوس کرنا اسکے لمس کی تپش خود میں اتارنا اسے لطف دے رہا تھا۔۔۔۔وہ ہر چیز سے بیگانہ ہوتی اسے چھوئے جارہی تھی۔

لیو چپ چاپ اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ پہلی بار اسطرح کسی مرد کے قریب ہے اسے چھو رہی ہے اسی لیے ایسا برتاؤ کررہی ہے۔۔۔۔۔وہ لبوں پہ مسکراہٹ سجائے۔۔ُاسکے نرم و ملائم ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے کافی پرسکون لگ رہا تھا۔

اپنی کمر کسی کی مضبوط گرفت کا احساس ہوا تو وہ ہوش میں آئی، گرفت اتنی سخت تھی کہ اسکی سسکی نکلی تھی۔۔۔لیو نے اسکی کمر کو مضبوطی سے پکڑے ایک جھٹکے میں اپنے اوپر کھینچا تھا۔۔۔۔

دونوں ہاتھ اسکے سینے پہ رکھے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو لیو نے گرفت مزید تنگ کرتے اسکی کوشش ناکام بنائی تھی۔ لیو نے اسے اسطرح خود میں بھینچا تھا کہ اسکے گلابی پھڑ پھڑاتے لب لیو کے بدن کو چھو رہے تھے۔

روبی کے کانپتے بدن میں سنسناہٹ ہورہی تھی۔۔۔لیو کا جسم ایسے تپ رہا تھا جیسے شعلے برس رہے ہوں۔۔۔۔

تھوڑی دیر مزاحمت کرنے کے بعد وہ اپنی أنکھیں موندے اسکے بدن کی خوشبو ، اسکے لمس کی تپش اور اسکی محبت اپنے جسم میں اترتی محسوس کرنے لگی۔

لیو کی انگلیاں روبی کی کمر سے رینگتی ہوئی اوپر کی طرف بڑھنے لگی تھیں۔۔۔اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے وہ اسکے لبوں کو نزدیک لاتے ان پہ اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑنے لگا۔

نرمی سے اسکے لبوں سے پیاس بجھاتےوہ دھیرے دھیرے شدت بڑھاتا جارہاتھا۔۔۔روبی کا تنفس بگڑنے لگا تھا پر وہ آج کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ اگر آج کی رات اسکے سارے شکوے دور نہ کیے تو شاید دوبارہ یہ موقع اسے نہیں مل پائے گا اسی لیے وہ اسکے تنفس کی پرواہ کیے بنا اسمیں اب اپنی سانسیں انڈیلنے لگا تھا۔

وہ جو اچانک اسکے عمل میں شدت آنے پہ حیا سے لال ہوتی کانپنے لگی تھی اب سانسیں ملنے پہ پرسکون ہوگئی تھی۔

وہ بھی آج کی رات کوئی مزاحمت نہیں کرنے والی تھی۔۔۔وہ لیو کو ایک موقع دینا چاہتی تھی صرف آج کی رات۔۔

اسی لیے چپ چاپ اسکی پناہ میں سمٹی وہ اسکے سرد و گرم لمس کو خود پہ برستا محسوس کررہی تھی۔

اسکے لبوں کو بھگونے کے بعد وہ دانتوں سے ہلکے ہلکے بائٹ کرنے لگا۔۔۔بجائے اسے روکنے کے وہ آنکھیں میچےاسکے لمس سے لطف لے رہی تھی۔

کبھی وہ زور سے بائٹ کرتے اسے سسکنے پہ مجبور کردیتا تو کبھی اپنے بھاری جسم کو اس پہ حاوی کرتے اسے کراہنے پہ تڑپا دیتا۔

اسکا مضبوط و بھاری جسم تھا اور اسکے مقابلے روبی کا نازک مرمری سفید سا بدن اسکے ذرا سا دباؤ پہ کانپنے لگتا تھا۔۔۔۔اسکے بدن کی کپکپاہٹ کو غور سے دیکھتے وہ زیر لب مسکرارہا تھا۔۔۔۔

نازک سی جان۔۔۔۔۔

اسے بیڈ پہ سیدھا لٹاتے اسکے بدن سے شرٹ سرکاتے اسکے پیٹ پہ انگلیوں کی پوروں سے چھوتے وہ مدہوش ہوتے کہہ رہا تھا۔

جہاں روبی اسے دیکھ کے نظریں ہٹانا بھول گئی تھی ویسے ہی لیو اس کےبدن کے پور پور کو پاگلوں کی طرح تکتے نشے میں ڈوب رہا تھا۔

میرا نہیں خیال کہ اب کبھی مجھے جام پینے کی ضرورت پڑے گی۔۔۔۔تمہارا یہ بدن میرے لیے کسی جام سے کم نہیں ہے۔۔۔اب سے یہ میرا نشہ اور یہ میرا جام۔

وہ روبی کے لب اور اسکے بدن کو باری باری چھوتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔اگلے ہی پل اپنا بھاری جسم اسکے مرمری بدن پہ حاوی کرتے وہ اسے اپنے لبوں کے لمس کی تپش سے بھگونے لگا۔

ہر گزرتے پل کے ساتھ اسکی شدت میں اضافہ ہورہا تھا۔۔۔۔روبی کی ٹوٹتی سانسیں اسے مزید بہکا رہی تھیں۔۔۔اسکا نرم و نازک بدن لیو کو پاگل کررہا تھا۔

وہ ساری رات اس پہ اپنی محبت کی شدتیں لٹاتا رہا۔۔۔اسکے بدن کے پور پور کو اپنے لمس سے بھگوتا رہا۔۔۔۔

روبی کے بدن پہ جگہ جگہ لیو کے دانتوں کے نشان اسکے جنون کو واضح کررہے تھے۔

ساری رات وہ اسکی محبت کی شدتوں میں سسکتی، کراہتی اور کبھی مدہوش ہوتی اسکی بانہوں میں لپٹ جاتی۔۔۔۔۔کبھی اسکے سینے میں سمٹتی تو کبھی اسکی گردن میں منہ چھپاتی۔۔۔۔

وہ اسکی محبت پہ یقین لاتی اسکی ہوچکی تھی۔۔۔۔اب اسے احساس ہوا تھا کہ محبوب کا لمس بھی سب کو نصیب نہیں ہوتا پر وہ اپنے محبوب کے لمس میں پوری طرح بھیگ چکی تھی۔ لیو کے سینے سے لگے وہ پر سکون سی ہوئی تھی۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

کب أؤ گے تم مسٹر مافیا؟ بہت مس کررہی ہوں تمہیں۔۔۔۔اب آبھی جاؤ اتنا بھی کیا تڑپانا۔۔۔۔۔

وہ بیڈ پہ لیٹے لیو کی تصویر ہاتھ میں تھامے بول رہی تھی۔

ہم ایک ساتھ کافی اچھے لگیں گے۔۔۔۔تم چاہو یا نہ چاہو۔۔تمہیں میرے پاس آنا تو پڑے گا۔۔۔مجھے اسی دن کا انتظار تھا لیو۔۔۔آخرکار وہ دن آگیا۔

بہت جلد تم خود مجھے اپنی بانہوں میں بھرنے کو ترسو گے ۔۔۔میری منتیں کروگے کہ تمہیں چھونے دوں میں اور پھر میں تمہیں اپنے قریب آنے کی اجازت دونگی۔

اب بس جلدی سے أجاؤ۔۔۔اور صبر نہیں ہورہا مجھ سے۔۔

وہ تصویر سینے سے لگائے مسکرائی تھی۔

💘
💘
💘
💘
💘

کیا کروں میں؟

اب کیسے بتاؤ لیو کو؟

وہ تو أپے سے باہر ہوجائے گا۔۔۔بہت غصہ کرے گا۔

آخر یہ کیوں اتنی ضدی ہے ۔۔۔کیا ہوجاتا اگر سائن کردیتی تو پر نہیں سب کو اپنی من مانی کرنی ہے اور بیچ میں پسوں گا تو میں نا۔۔۔

وہ ٹیرس پہ کھڑے ہم کلامی کررہا تھا۔

اب اور کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔نہیں سنبھالی جارہی یہ ضدی لڑکی مجھ سے۔۔۔۔لیو کو بتانا ہی پڑے گا بس۔

فون میں میسج ٹائپ کرتے وہ لیو کا سینڈ کر چکا تھا۔ ایک سرد سانس بھرتے وہ کمرے میں چلا گیا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘

صبح اسکی آنکھ فون رنگ ہونے پہ کھلی تھی۔۔۔۔بانہوں میں اسکا نرم و نازک بدن دیکھ کے اسکے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری تھی۔

آج سے میری ہر صبح حسین ہوگی۔۔۔۔اب میرے پاس میری خوشی میرے جینے کی وجہ ہے۔

اسکے چہرے کے نقوش کو محبت سے چھوتے وہ سرگوشی کررہا تھا۔

نرمی سے اسکے لبوں پہ اپنا لمس چھوڑتے وہ دھیرے سے اسے سیدھا لٹاتے اس پہ بلینکٹ ڈالتے بیڈ سے اترا اور شرٹ لس ہی فون لیے کمرے سے باہر چلا گیا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

وہ سیٹی بجاتے اپنے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے باتھ روم میں داخل ہوا تھا۔۔سامنے کا نظارہ دیکھ کے اسکے لب سکڑے اور آنکھیں پھیلی تھیں۔۔۔۔

عنابی لبوں پہ گہری مسکراہٹ ابھری تھی اور أنکھوں میں شرارت جھلکنے لگی تھی۔

باتھ ٹب میں جھاگ ہی جھاگ تھا اور اس جھاگ میں ایک نازک سا بدن براجمان تھا۔۔۔ایک ٹانگ اور بازو باتھ ٹب سے باہر نکالے، آنکھیں بند کیے وہ کافی پرسکون لگ رہی تھی۔

مسلسل کسی کی نظروں کی تپش خود پہ محسوس ہوئی تو اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں اور سامنے لیو کو کھڑے دیکھ کے اس نے چیخ ماری تھی۔۔۔۔۔

تم ۔۔۔تم یہاں کیا کررہے ہو آخر؟ کوئی تمیز نہیں ہے کیا تمہیں؟ ابھی کے ابھی باہر نکلو۔ اپنی ٹانگ اور بازو واپس باتھ ٹب میں چھپاتے وہ غصے سے بولی تھی۔

اب اسکا چہرہ ہی نظر آرہا تھا باقی پوری طرح وہ جھاگ میں چھپی ہوئی تھی۔ لیو بت بنے اسے تکنے میں محو تھا۔

وہ دراصل میں ٹاول لینے آیا تھا ہنی۔۔اتنا غصہ مت کرو۔۔تمہارا ہبی ہوں۔۔آسکتا ہوں یہاں۔

وہ ٹاول اٹھاتے اپنی گردن میں ڈالتے مصنوعی سنجیدگی کے کہنے لگا۔

ڈریسنگ روم میں بھی کافی ٹاول ہیں وہاں سے لے سکتے تھے تم یہاں أنا ضروری نہیں تھا۔

وہ غصے سے لال ٹماٹر ہورہی تھی۔

ہاں وہاں پر ٹاول تو تھے پر تم نہیں تھی نا وائفے تو اسی لیے میں یہاں آگیا۔

دو قدم باتھ ٹب کی طرف بڑھاتے وہ شرارتا کہتا روبی کو تپا رہا تھا۔

اب یہاں کیوں آرہے ہو تم۔۔۔لے لیا نا ٹاول اب جاو یہاں سے۔

وہ ابھی تک شرٹ لس تھا روبی نے ایک نظر دیکھ کے نظریں ہٹائی تھیں وہ پھر سے اسکے سحر میں نہیں جکڑنا چاہتی تھی۔

تمہیں کوئی ہیلپ چاہیئے؟ مجھے لگا شاید چاہیئے ہوگی تو بس اسی لیے ۔۔۔۔

وہ اسکے باتھ ٹب کے بالکل قریب پہنچ کے گھٹنوں پہ بیٹھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

اسکی آگ برساتی سانسیں روبی کو اپنی گردن پہ محسوس ہورہی تھیں وہ اسکے اتنا قریب تھا۔

لیکن وہ رخ دوسری طرف کیے اس سے نگاہیں ملانے سے گریز کررہی تھی کیونکہ ایک بار جو ہوا وہ ہوا۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ دوبارہ سے ہو۔

نہیں۔ ۔ کوئی ہیلپ نہیں چاہیئے۔۔۔تم پلیز جاؤ یہاں سے۔

لبوں کو سختی سے دانتوں تلے دباتے وہ بمشکل بول پائی تھی۔۔۔پھر سے اسکے لمس کی خوشبو اسے دیوانہ بنارہی تھی۔۔اپنے نازک سے بدن پہ چیونٹیاں رینگتی محسوس ہورہی تھیں اسے۔

کیا ہوا نظریں ملانے سے ڈر لگ رہا ہے؟ کہیں پھر سے ہوش و حواس نہ کھونے لگو اسی بات سے ڈر رہی ہو نا۔

ٹاول کو سائیڈ پہ رکھتے وہ روبی کی گردن اپنی طرف موڑتے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسے مدہوش کرنے کے سے انداز میں کہہ رہا تھا۔

وہ جو دل کی ڈور سنبھالے ہوئے تھی۔۔لیو کی سانسوں کی تپش خود میں اترتے محسوس کرتے وہ پھر سے مدہوش ہونے لگی تھی۔

تمہیں پورا حق ہے مجھ پہ، میرے جسم پہ اور میری ہر سانس پہ۔۔۔اسطرح شرمانے یا جھجھکنے کی ضرورت نہیں ہے ہنی۔۔۔۔۔

وہ خمار ألود لہجے میں کہتے اپنے عنابی سلگتے لبوں سے اسکے نرم و ملائم لبوں کو قید میں لیتے سانسوں کا تبادلہ کرنے لگا۔

شاور سے پانی کی ٹپ ٹپ کی آواز اور انکی تیز ہوتی سانسوں کی أواز مدہوشی کو بڑھا رہی تھی۔۔۔وہ جو بس اسے تنگ کرنے کے لیے اسکے لبوں پہ نرمی سے اپنا لمس چھوڑ رہا تھا۔

اسکے ہونٹوں کی نرماہٹ محسوس کرتے شدت سے اسکے لبوں پہ جھکتے اپنی پیاس بجھانے لگا اور نرمی سے اسکے عمل میں سختی آئی تھی۔

کافی دیر تک اسکی سانسیں پینے کے بعد اسکے لبوں کی نرماہٹ اپنے بدن میں اتارنے کے بعد وہ الگ ہواُ۔۔۔۔اور اسکے لبوں کو أزاد کرتے اسکی گردن میں منہ دیتے وہ اپنی شدت لٹانے لگا۔

تیزی سے سانس لیتی اسکی بالوں میں انگلیاں پھنسائے وہ پاگل ہوئے جارہی تھی۔ نجانے کب تک جنون کا یہ سلسلہ جاری تھی جب کسی نے ڈور ناک کیا۔

وہ دونوں ہوش میں آئے تھے۔۔۔۔گیلے لبوں کو ایک بار پھر اسکے لبوں پہ رگڑتے وہ جان لیوا مسکراہٹ لیے اٹھتا باتھ روم سے باہر چلا گیا۔

وہ کتنی ہی دیر تک اسکے لمس کی گرمائش کو اپنے لبوں اور گردن پہ محسوس کرتی وہی باتھ ٹب میں بیٹھی مسکراتی شرماتی رہی۔

نا نا کہنے کے باوجود۔۔۔اس سے چیخ چیخ کے نفرت کا اظہار کرنے کے باوجود وہ اسکی محبت میں ڈوب چکی تھی۔۔۔۔اسکا لمس، اسکا مدہوش کرتا مضبوط جسم اور اسکی محبت و جنون کی شدت اسے لیو کا اسیر کر چکی تھی۔

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.