whisper, secret, mystery-408482.jpg

Novel: My Possessive mafia

🇪 🇵 🇮 🇸 🇴 🇩 🇪 : #9

Writer: Barbie Boo

کیوں بار بار فون کررہے تھے؟

وہ موبائل کان سے لگائے سرد لہجے میں فون کے دوسری طرف موجود شخص سے مخاطب تھا۔

پڑھ لیا تھا میسج۔۔۔ہاں اسی وقت پڑھ لیا تھا۔ ٹھیک ہے اگر یہی آخری راستہ ہے تو آرہا ہوں میں۔۔۔اس کو میں آکے سمجھاؤں گا۔

غصے سے کہتے وہ کال کاٹ چکا تھا۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے مینشن سے باہر جا چکا تھا۔

💘💘💘💘💘💘

وہ اسکی بانہوں میں سمٹی شش و پنج کا شکار تھی کہ کیا کرے۔

یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچ رہی ہو نا؟

اسکی گرم سانسیں سینے پہ محسوس کرتے وہ اسکی خاموشی دیکھ کے کہنے لگا۔

آہ۔۔۔نہیں ۔۔۔ایسا نہیں ہے سنان۔

وہ اٹھ کے سیدھی ہو بیٹھی تھی۔

تو پھر کیا سوچ رہی ہو؟

بس اب گھر کا نام مت لینا۔

نینا کے لبوں پہ انگلی رکھتے وہ کچھ سختی سے بول رہا تھا۔

کیا تم ایسے ہی مجھے قید رکھو گے؟

سرخ لب دانتوں تلے دباتے وہ ڈرتے ڈرتے بولی تھی۔

قید؟ اگر تم میری بات کررہی ہو تو ہاں۔۔۔۔میں ایسے ہی تمہیں اپنی محبت میں قید رکھوں گا۔۔۔اپنی آخری سانس تک۔

نینا کی کمر پہ ہاتھ رکھتے وہ اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔

میں۔۔۔اس گھر کی بات کررہی ہوں۔۔تم نے مجھے کڈنیپ۔۔۔

کڈنیپ نہیں کیا۔۔۔۔تمہیں بچایا ہے۔۔۔تمہیں محفوظ جگہ پہ لایا ہوں۔۔

نینا کے لبوں پہ سختی سے انگلی رکھتے وہ اسکی بات بیچ میں کاٹتے سپاٹ لہجے میں کہہ رہا تھا۔

اگر میں کہوں میں خود کو تمہارے پاس محفوظ محسوس نہیں کرتی تو؟ کیا تم مجھے جانے دو گے؟

وہ سنان کی آنکھوں میں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

ہاں۔۔۔جانے دوں گا۔۔۔بولو۔۔۔

کیا تم سیف فیل نہیں کررھی میرے پاس؟

کیا یہاں ڈر لگ رہا ہے تمہیں؟

کیا میرے ہوتے تمہیں کوئی فکر ھے؟

وہ قہر برساتی نگاھیں اس پہ ڈالتے اسے سہمنے پہ مجبور کرگیا تھا۔

ہاں میں سیف فیل نہیں کرتی تمہارے پاس۔

دو ٹوک انداز میں کہتے وہ ایک پل کو سنان کو چپ گراگئی تھی۔

ٹھیک ھے چلو اٹھو۔۔۔تمہیں چھوڑ کے آتا ہوں تمہاری سیف جگہ پہ۔۔۔جہاں تم خود کو بہت محفوظ محسوس کرو گی ۔

اگلے ھی پل ایک ھی جست میں وہ بیڈ سے اترتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اور سنجیدگی سے بولا تھا ۔

اس کی بات سنتے ہیں نا خوشی سے پھولے نہ سماتے تیزی سے بیٹھ کے اتری اور پاؤں میں سینڈل پہنی اس کے مقابل جا کھڑی ہوئی۔

تھینک یو۔

وہ خوشی سے تقریبا اچھلتے ہوئے بولی تھی۔

اسکی خوشی دیکھتے سنان نے ابرو اچکائے تھے اور پھر اسکی بازو پہ سخت گرفت بناتے ایک جھٹکے میں اسے اپنی طرف کھینچا وہ اسکے سینے سے آلگی تھی۔

بہت خوشی ہورہی ہے ہوں۔۔۔۔۔اتنا برا لگتا ہوں میں تمہیں؟

اسکی کمر پہ انگلیاں چلاتے وہ اسکی بیک بون میں سنسناہٹ پیدا کرگیا تھا۔

سنان کی گرم سانسیں اور اسکا چبھتا لہجہ اسے خوف میں مبتلا کررہا تھا۔

اب زبان نہیں کھل رہی تمہاری۔۔۔

اسکی بدن میں کپکپاہٹ محسوس کرتے سنان نے لب چباتے اسکے گال سے مس کرتے کہا۔

مجھے گھر جانا ہے۔۔

اسکی شرٹ کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑے وہ نظریں جھکاتے بولی تھی۔

لگتا ہے تمہیں ایک گھر کی سیر کروا کے آنے ہی پڑے گی تاکہ تم اس طرح میری کان کھانا بند کرو ۔۔چلو لے کے چلتا ہوں تمہیں اور تمہاری یہ خواہش پوری کر دیتا ہوں آج ۔

روبی کے گال پہ بالوں کی لٹ و کو ہٹاتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔

اگلے ہی پل اس کو بازو سے تھامے وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔بجائے گھر کے مین گیٹ کی طرف جانے کے وہ دائیں طرف موجود ایک کمرے کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔

اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو آگے نیچے کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیاں تھی ایسے جیسے نیچے کسی تہہ خانے کا راستہ ہو۔

وہ نینا کے بازو کو مضبوطی سے پکڑے سیڑھیاں اترنے لگا جیسے جیسے سیڑھیوں سے اترتے نیچے کی طرف جا رہے تھے نینا کے چہرے کی خوشی غائب ہوتی جا رہی تھی۔

وہ جو کچھ دیر پہلے خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی اب اسے خوف طاری ہونے لگا تھا ۔۔۔۔سیڑھیوں میں نہ ہونے کے برابر روشنی تھی ۔

نینا کے قدم بھاری ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔سنان اس کی پرواہ کئے بغیر اس کو زبردستی گھسیٹے چلا جا رہا تھا ۔

تم مجھے کہاں لے کے جا رہے نہ مجھے یہاں نہیں جانا مجھے گھر جانا تم مجھے کہاں لے کے جا رہے ہو بتاؤ مجھے ۔۔

وہ خوف سے چیختے چلاتے ہوئے سنان کو روکنے کی ایک ناکام سی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ اس کی چیخ و پکار اور خوف کی پرواہ کئے بغیر اس کو لیے جا رہا تھا ۔

آخرکار سیڑھیاں ختم ہوئی اور ایک دروازہ اور آیا ۔۔

سینان نے دروازے کو ایک جھٹکے میں کھولا اور بنا ایک پل روکے نینا کو کمرے میں دھکیل دے فورا سے دروازہ بند کر دیا ۔

کمرے میں گھگھ اندھیرا تھا کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ خوف سے چیخنے چلانے لگی ۔۔۔۔

کمرے کے ایک کونے میں چھوٹی سی لائٹ چل رہی تھی ۔

بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی اندھیری غار میں ایک جگنو چمک رہا ہوں ۔

وہ زور زور سے دروازہ پیٹتے جا رہی تھی چلائی جا رہی تھی۔۔خوف کے معنی اس کا بدن بری طرح کانپ رہا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جائے گی ۔۔۔

سینان دروازے کے دوسری طرف کھڑے ہیں اس کی چیخیں سن رہا تھا ۔۔

اتنا کیوں شور مچا رہی ہو کیا تمہیں اب سیف فیل نہین ہورہا۔۔۔۔کیا ابھی بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی تم ؟

رونا دھونا بند کرو پوری دنیا میں اس سے زیادہ محفوظ جگہ تمہیں کہیں نہیں ملے گی ۔۔۔ہاں بس کچھ اندھیرا زیادہ ہے تو فکر نہیں کرو یا تمہارے لئے میں ایک اچھی سی بڑی سی لائٹ لگا دوں گا ۔

سن رہی ہوں نہ سویٹ ہارٹ ۔

باہر دروازے سے ٹیک لگائے اس کی تڑپتی آوازیں سن کے وہ مزے سے اس کو مزید بار تپا رہا تھا۔

نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز مجھے باہر نکالو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔سنان پلیز مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔میری سانس بند ہو رہی ہے مجھے کچھ ہو جائے گا پلیز مجھے باہر نکالو سینان دروازہ کھولو ۔۔۔

سینان !

وہ دروازہ پیٹتے اور روتے ہوئے التجا کر رہی تھی ۔۔

وہ باہر دروازے سے ٹیک لگائے اس کی منتیں سن کر مسکرا رہا تھا ۔

ٹھیک ہے تو باہر نکالوں گا لیکن صرف ایک شرط پر ۔۔۔بتاؤ کیا تم میری بات مانو گی ؟

اپنی ہنسی کنٹرول کرتے وہ سنجیدہ لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔

ہاں میں مانوں گی کہ میں تمہاری ساری شرطیں مانوں گی میں تمہاری بات مانی ہوئی لیکن پلیز دروازہ کھولو مجھے باہر نکالو ۔۔تم جیسا کہو گے ویسا کرو گی پلیز باہر نکالو مجھے دروازہ کھولو سنان!

وہ روتی بلکتی کہہ رہی تھی ۔ اگلے ہی پل سنان نے دروازہ کھولا تھا جیسے ہی دروازہ کھلا وہ بھاگ کے سنان کے سینے سے جا چپکی تھی۔۔۔۔

کچھ ہی منٹس میں وہ پوری طرح پسینے سے بھیگ چکی تھی۔ُخوف سے اسکا پورا جسم کانپ رہا تھا اور وہ سختی سے سنان کے سینے کے گرد بازو حائل کیے پھوٹ پھوٹ کے روئے جارہی تھی۔

وہ اسے مضبوطی سے خود مین چھپاتے اپنے ہونے کا احساس دلارہا تھا۔

بس بس۔۔۔۔۔رونا بند کرو۔۔۔

اسکے بالون میں انگلیاں چلاتے وہ محبت بھرے لہجے میں کہہ رھا تھا۔۔

روتے روتے وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔

ہممم۔۔۔۔بس اتنی ہی برداشت ہے محترمہ میں اور جانا انکو گھر ہے۔۔۔ان حیوانوں کے گھر۔۔۔

نینا کو بانہوں میں بھرتے کچھ یاد آنے پہ اسکے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔

اسے مضبوطی سے بانھوں کے حصار مین لیےتہہ خانے سے نکلتے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

امید ہے اب دوبارہ کبھی گھر جانے کا نہین سوچو گی۔۔۔

اسے بیڈ پہ لٹاتے اسکے گال پہ چپکے بالوں کو نرمی سے ہٹاتے وہ اسکے برابر مین بیٹھتے سرگوشی کررھا تھا۔

نینا کا چہرہ سرخ ہورہا تھا اور آنسوؤں کے نشان واضح ہورہے تھے۔۔۔

دھیرے سے اسکے سرخ لبوں پہ انگوٹھا رگڑتے وہ اگلے ہی پل جھکا تھا اور اپنے ہونٹوں سے اسکے لبوں کی مٹھاس پیتے الگ ہوا۔۔

اسکے گیلے ہونٹوں کو غور سے دیکھتے وہ مبہم سا مسکراتے اسکے برابر مین لیٹ گیا تھا۔

💕💕💕💕💕💕

ہاں بتاؤ ۔۔۔کیا مسئلہ ہے ۔ُ۔۔کیوں بلا رہی تھی مجھے ؟

پیار سے تمہیں کوئی بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔یا پھر تمہیں عادت نہیں ہے پیار کی ُ۔۔۔۔۔

بولو اب آگیا ہوں میں تمہارے سامنے ہوں کیا کہنا چاہتی تھی جو بھی کہنا ہے کہو ۔۔۔

وہ غضب ناک لہجے میں کہتا اسے ڈرانے کی ایک ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔

اس طرح اچانک سے اسے اپنے سامنے دیکھے وہ چونکی تھی۔

اسے جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ کیسے اس طرح آ سکتا تھا اسے حیرت سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔

اس کو ایسے تکی جا رہی تھی جیسے اس کے خوابوں کا شہزادہ اس کے سامنے آ گیا تھا ۔ اسے اپنا خواب مکمل ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ خوبصورت نہیں تھی ۔۔۔وہ بلاکی حسین تھی۔

نشیلی آنکھیں سنہرے بال گلاب کے پھول کی طرح نرم و ملائم مہکتے گلابی لب، سرخ گال ، صراحی دار پتلی گردن اور اسکی تھوڑی میں پڑتا قاتلانہ گڑھا جس پہ شاعری کی جا سکے۔

وہ بے حد حسین تھی کوئی بھی اسکے حسن کے سحر میں جکڑ سکتا تھا سوائے لیو کے جس نے ایک نظر بھی سیلن کو نہ دیکھا کیونکہ وہ پہلے ہی اپنا دل کسی کو دے چکا تھا۔

لیو!

بنا اسکی بات سنے وہ دیوانہ وار اسے دیکھے جارہی تھی۔۔۔نازک لبوں پہ اسکا نام آیا تھا۔

زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔جو بھی بات ہے جلدی کرو مجھے واپس جانا ہے ُ۔۔

سیلن کو خود کو یوں دیوانوں کی طرح تکتا دیکھ کے وہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔

وقت تمہیں نکالنا پڑے گا لی ہو ۔۔۔میرے لئے اور تمہارے لئے ۔۔۔۔کیونکہ یہ بات کافی وقت لے گی ۔۔۔اور مجھے بھی تمہارا کچھ وقت چاہیے ۔

لیو کے سامنے آتے وہ محبت سے سرشار لہجے میں بولی تھی ۔

پہیلیاں بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے سیلن۔۔۔۔جو بھی بات ہے بتاؤ مجھے ۔

اپنے سینے پہ بازو باندھتے چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ سپاٹ لہجے میں کہہ رہا تھا ۔

کیا چاہتی ہو تم بتاؤ کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔۔ایک سائن کرنے کے بدلے کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔

وہ بیزاری سے کہتے سگریٹ سلگا کے ہونٹوں میں لے چکا تھا ۔

اس کو اس طرح سنجیدگی اور بے رخی سے بات کرتے دیکھے سیلن کو کچھ اچھا نہیں لگا تھا ۔

کیا تم مجھے وہ دو گے جو مجھے چاہیے تھا بولو ۔۔۔جو میں چاہتی ہوں کیا تم وہ پورا کر سکتے ہو کیا تم مجھے دے سکتے ہو وہ ۔۔۔

۔اگر ہاں تو میں سائن کرنے کے لیے تیار ہوں اور اگر نہیں تو تم بھول جاؤ کیونکہ میں کبھی سائن نہیں کروں گی اور میں جانتی ہوں کہ میرا سائن تمہارے لئے کتنا اہم ہے کیونکہ تمہارے کئی بڑے کام اس وجہ سے رکھے ہوئے ہیں نا ۔ُ

کہ ۔تم اگر ایک سائن کے لئے یہاں تک آ گئے ہو تو میں سمجھ سکتی ہوں کے تم کتنے مجبور ہو اس پل لیو ۔۔اب اگر مجبوری میں ہی سہی تم میرے پاس آ ہی گئی ہو تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سیلن تمہیں ایسے ہی جانے دیں وہ بھی آسانی سے ۔۔۔

لیو کے تھوڑا قریب ہوتے ہیں وہ دل فریب مسکراہٹ لبوں پہ سجاتے قاتلانہ انداز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔اس کا یہ انداز لیو کو نہ بھایا تھا ۔

سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے دھواں کو ہوا میں اڑاتے سیلن کو ایک نظر دیکھتے اس نے نظر پھیر لی تھی ۔

بولو کیا چاہتی ہو ؟

وہ دو ٹوک انداز میں گویا ہوا تھا ۔

تم ۔۔۔تمہیں چاہتی ہو میں تم چاہیے ہو مجھے تمہارا ساتھ اور یہ تمہارا مضبوط طاقتور جسم ۔۔بتاؤ کیا دے سکتے ہو مجھے ۔۔۔کیا تم میری خواہش پوری کر سکتے ہو؟

دو قدم بڑھاتے ہیں مزید لئے کے نزدیک جاتے وہ ایک ہاتھ لیو کے مضبوط جوڑی سینے پر بھرتے ہوئے اسے جلانے والے انداز میں کہنے لگی ۔

بچگانہ باتیں مت کرو ۔۔۔چھوٹی ہو تو چھوٹی بن کر رہو ۔۔۔ابھی تم پرنسیز ہو کوئین بننے کی کوشش مت کرو ۔۔۔۔

سیلنگ ہاتھ دور جھٹکتے وہ اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے سخت لہجے میں بولا تھا ۔

اس کا ایسا رویہ دیکھ کے سیلن کے تیور بگڑ گئے تھے ۔ پل بھر میں اس کا پھول کی طرح کھلتا چہرہ مرجھایا تھا ۔۔اس کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔۔۔

یہ کوئی بچگانہ حرکت نہیں ہے ۔۔میں نے جو کہا ہے بس وہی چاہیئے مجھے ۔۔ُاب تم بتاؤ تم یہ کر سکتے ہو یا نہیں ؟

وہ بھی دوبدو جواب دیتے ہوئے بولی تھی ۔

میں تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں سیلن۔۔۔تمہارے لیے بہتر ہے کہ میری بات سمجھ جاؤ مجھے غصہ مت دلاو سمجھ آ رہی ہے تمہیں ۔۔۔

اور تم نے یہ سوچا بھی کیسے ہیں تم یہ بتاؤ مجھے ۔۔۔کیا سمجھتی ہو تم کہ سب کچھ تمہارے اشاروں پہ ہوگا ۔۔۔تم جیسا چاہتی ہوں سب کچھ ویسا ہوگا ۔۔۔

اگر تو میں سمجھتی ہوں یا تھی تو یہ تمہاری صرف اور صرف غلط فہمی ہے اور بہتر یہی ہے کہ ابھی صرف اپنی غلط فہمی دور کرو ۔

مجھے تمہارے سائن لینے کے لیے تمہاری کسی بھی بات کسی بھی شرط کو ماننے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔۔

میں چاہوں تو ابھی اسی وقت ایک سیکنڈ میں تمہارے دستک لے سکتا ہوں ۔۔میں بس تمہیں پیار سے ہینڈل کر رہا تھا ۔۔۔

میرے لیے تم ایک چھوٹی سی بچی ہوں تو میں تم سے کسی سمجھداری یہ عقل کی تو امید کر نہیں سکتا ُ۔۔۔ہاں لیکن اتنی کم عقلی کی مجھے امید نہیں تھی تم سے ۔۔۔۔

میں تم پر سختی یا کوئی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا تو بہتر ہے کہ تم بات مان لو اور پیپر پر سائن کر دو۔

سگریٹ کو فرش پر پھینکتے ہوئے اپنے جوتے سے رگڑ تے ہوئے وہ غضب ناک لہجے میں اسے خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

ٹھیک ہے اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم ابھی ایک سیکنڈ میں یہ کر سکتے ہو تو کر لو ۔۔۔یہیں پر ہوں میں ُ۔۔۔چلو کروا کے دکھاؤ سائن۔۔۔۔

غصے سے آنکھیں نکالتے وہ بھی اسی کے لہجے میں بولی تھی ۔ اس کی بات سن کے لیو کو صحیح میں تپ چڑھ رہی تھی۔

تو مطلب تم نہیں مانو گی؟

وہ أخری بار اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھ رہا تھا۔

نہیں!

وہ بھی اسکی آنکھون میں جھانکتے نڈر انداز میں بولی تھی۔

مجھے مجبور مت کرو تم۔ تم جانتی نہین ہو مجھے اسی لیے ایسے ضد کرنے کی گستاخی کررہی ہو۔۔۔اتنا تنگ نہ کرو کہ مجھے اپنا مافیا والا روپ دکھانا پڑے پھر تمہاری جان کی بخشش بھی نہیں ہوگی۔

سیلن کے جبڑے کو سختی سے ہاتھ میں لیے وہ قہر برساتی نگاہیں اسکے چہرے پہ ڈالے شعلہ برساتے لہجے میں کہنے لگا۔

اگلے ہی پل وہ ایک جھٹکے میں اسے ساتھ پڑے بیڈ پہ پھینک چکا تھا۔

سیلن کے گال اور تھوڑی پہ اسکی انگلیوں کے نشان نظر آرہے تھے جو اسکی سفید رنگت اور حساس جلد پہ سرخی مائل لگ رہے تھے۔

ڈرائنگ روم میں جارہا ہوں میں جب تمہاری عقل ٹھکانے لگ جائے تو أکے سائن کردینا ورنہ اپنے انجام کے لیے تیار رہنا صرف ۳ گھنٹے ہیں تمہارے پاس صرف ۳ گھنٹے۔

اسکی طرف دیکھے بنا حقارت و غصے سے کہتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے کمرے سے باہر جا چکا تھا۔

سیلن بیڈ پہ پڑی دونوں بازو کھولے بے یقینی کے عالم میں چھت کو تکتے مسکرائے جارہی تھی۔

یقین نہیں ہورہا مجھے۔۔اس نے مجھے چھوا۔۔۔مجھے ڈانٹا۔۔۔غصہ کیا اور دھمکی بھی دے کے گیا ہے۔

لیو۔۔۔میرا لیو۔۔۔۔۔!

بانہیں ہوا میں لہراتے وہ خوشی سے چہکتے اٹھ بیٹھی تھی۔

ہاں میں تیار ہوں ہر اس انجام کے لیے جس کے بدلے تم میرے أس پاس رہو گے، میرے قریب آؤ گے مجھے چھوؤ گے۔۔۔۔۔ شاید تم بھی کہیں نہ کہیں دل ہی دل میں پیار کرتے ہو مجھ سے تبھی تو میری اتنی باتیں سن لیں وہ بھی شانتی سے۔۔۔

وہ چہکتے ہوئے کمرے میں ادھر سے ادھر تتلی کی طرح منڈلا رہی تھی۔

💘💘💘💘💘💘💘

کیا ہوا؟ سائن ہو گئے؟

لیو کو ڈرائنگ روم میں آتا دیکھ کے بین نے فورا سے پوچھ ڈالا اور بعد میں اسکے تیور دیکھتے خود ہی سب سمجھ گیا۔

ہاں دیکھ لیا اب تم نے ۔۔۔۔۔ بہت تنگ کیا اس نے مجھے بھی اسی لیے مجبورا تمہیں بلانا پڑا۔

بچی ھے ۔۔۔۔ کبھی اس محل نما گھر سے باہر نہیں نکلی وہ۔۔۔کچھ نہیں جانتی دنیا کے بارے میں۔۔۔۔

میں سختی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔بس کسی طرح پیار سے بہلا پھسلا کے منانا ہوگا اسے۔۔

لیو گہری سوچ مین ڈوبے صوفے پہ ٹیک لگائے کہہ رہا تھا۔

لیکن وہ کیا کہتی ھے ؟ مطلب کیا شرط رکھی ھے اس نے؟

بین نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا تھا۔

کچھ نہیں چاہتی۔۔ایسے ہی بچوں جیسی باتیں بس۔۔

لیو بات کا رخ بدلتے ٹال مٹول کر گیا۔

چلو تم بتاؤ باقی کا سارا کام ہوگیا یا نہیں؟

وہ بین سے کام کے بارے میں ڈسکس کرنے لگا۔

💘💘💘💘💘💘💘

کہا چلا گیا یہ لیو؟ نظر ہی نہیں آرہا کہیں۔۔۔۔۔ہممم شاید کسی کام کے سلسلے میں گیا ہوگا مسٹر مافیا!

پورے مینشن میں لیو کو ڈھونڈنے کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آتی بڑبڑائے جارہی تھی۔

لیکن میں کیوں اسکے بارے میں سوچ رہی ہوں آخر۔۔۔۔جہاں جائے جو بھی کرے مجھے اس سے کیا بھلا ویسے بھی مجھے کونسا محبت ہے اس سے۔۔۔۔

محبت کا لفظ لب پہ آتے لیو کا چہرہ اسکی نظروں کے سامنے آیا تھا۔

تو کیا مجھے محبت ہے اس سے؟ کیا اسکے لیے میرے دل میں چھپی ہوئی محبت پھر سے جاگ گئی ہے؟

اگر اسے پتہ چل گیا تو۔۔۔۔تو وہ مجھ سے بے پرواہ ہوجائے گا۔۔۔۔

میں اسے پتہ نہیں لگنے دوں گی ۔

لیکن اسے تو اسی وقت پتہ لگ گیا تھا جب تم نے اسے اپنے قریب آنے دیا۔۔۔۔

تم اس سے محبت کرتی ہو یہ بات وہ اسی وقت جان گیا تھا جب تم نے اسے چھوا تھا۔۔۔جب تم نے بنا کسی مزاحمت کے اسکے لمس کو خود میں اتارا اور اسکی خوشبو میں سکون سے سانس لیا۔

اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے مسسز لیو۔۔۔اب محبت کا اقرار ہوچکا ہے۔

وہ خیالوں کو جھٹکنے کی کوشش کررہی تھی جب اسے اپنی ہی عکس کی آواز سنائی دی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ایک ایک لفظ سن رہی تھی۔

وہ خود بھی نھیں سمجھ پارہی تھی کہ وہ آخر کیوں ایسا کررہی تھی۔۔۔یا شاید جانتی تھی لیکن حقیقت ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔

وہ ایک گہری سانس خود میں اتارتے بیڈ پہ جاکے نیم دراذ ہوگئی کیونکہ نیند ھی تھی جو اسے اس حقیقی دنیا اور اسکی سچائی سے کچھ دیر کے لیے ہی سہی پر دور لے جاتی تھی۔

💘💘💘💘💘💘💘💘💘💘

https://www.barbienovels.com/my-possessive-mafia-episode-8com-p1672/

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.