wedding, couple, portrait-1867547.jpg

mr. Psycho by barbie boo

This is a Urdu romantic novel based on age difference couple. A 43 years man who fell in love with a 15 years old innocent girl & got crazy for her.

Episode 10__!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس گھر میں آپکے ساتھ رہوں تو اس پیپر پہ سائن کر دیں۔
وہ اسکی طرف پیپر بڑھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگی۔
احان نے کچھ بولے بنا وہ پیپر لیا اور پڑھے بغیر چپ چاپ اس پہ سائن کر کے اسے واپس دے دیا۔
پڑھے بغیر ہی سائن کر دیا آپ نے۔۔۔ایک بار پڑھ تو لیتے کہ میں نے کیا لکھا تھا۔
وہ منہ بناتے ہوئے دبے دبے غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اس گھر میں رہیں میرے ساتھ۔۔۔اور اس کے لیے مجھے آپکی ہر شرط منظور ہے۔
وہ اسکے چہرے کیطرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
وہ بھی اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔کچھ پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔Urdu romantic novel
جانم! مجھے معاف کر دیں۔ اس وقت میں نے آپ سے بہت برا برتاؤ کیا تھا۔ آئم سوری۔
احان نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔ جبکہ آئلہ کی نظریں اب اسکے ہاتھ میں موجود پیپر پہ ٹکی ہوئیں تھیں۔
جانم! کیا سوچ رہی ہیں؟ اس نے پوچھا۔
ہممم۔۔۔۔۔۔اسمیں جو لکھا ہے وہ آپ پڑھ لیں۔۔۔۔۔اگر ان میں سے ایک بھی رول آپ نے فالو نہیں کیا تو پھر میں یہاں نہیں رہوں گی اور نہ آپ مجھے روکیں گے۔۔۔۔یہ بھی لکھا ہے اسمیں۔
وہ ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔
اور کیا کیا لکھا ہے؟ وہ اس روٹھے ہوئے انداذ میں بولتی بہت کیوٹ لگ رہی تھی احان کو۔
اسمیں دس پوائنٹس ہیں۔۔۔صرف تین بار رعایت ملے گی اگر چوتھی بار آپ نے کوئی غلطی کی تو کوئی رعایت یا معافی نہیں ملے گی۔۔۔۔۔پھر ہمیں ایک دوسرے کو الوداع کہنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔سمجھ گئے نا آپ؟
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہنے لگی۔
الوداع کا لفظ سن کر احان کے چہرے سے ایک کرب کی لہر آکر گزری تھی۔
اور یہ دس پوائنٹ کیا ہیں؟ وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
پوائنٹ نمبر ون_Urdu romantic novel
آفس کے علاوہ کہیں بھی جانے سے پہلے آپکو مجھے بتانا ہوگا۔اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ کہاں جارہے ہیں۔ اور کب واپس آئیں گے۔
پوائنٹ نمبر ٹو_
أپ دوبارہ کبھی مجھ پہ شاؤٹ نہیں کریں گے۔ چاہے کوئی بھی سیچویشن ہو۔
پوائنٹ نمبر تھری_
آپکو میری ہر کال اور میسج کا جواب دینا ہوگا۔ چاہے آپ کتنے بھی مصروف کیوں نہ ہوں۔
پوائنٹ نمبر فور_
ہفتے میں ایک پورا دن آپ میرے ساتھ گزاریں گے۔ نہ کسی کی کال سنیں گے نہ کسی اور سے بات کریں گے۔۔۔۔۔۔آپ میرے لیے کھانا بھی خود بنائیں گے اور اپنے ہاتھوں سے کھلائیں گے۔ اور۔۔۔۔۔۔۔
ویٹ ویٹ۔۔۔۔۔۔! پورا دن ساتھ گزاریں گے نا تو کھانا ریسٹورنٹ میں جاکر کھا لیں گے نا۔۔۔۔۔ہنی مجھے کھانا بنانا نہیں آتا تو میں کیسے بناؤں گا جانم۔۔۔۔۔
وہ اسکی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے سوالیہ انداذ میں بولا تھا۔
مجھے کوئی بہانہ نہیں سننا۔۔۔۔یہ کوئی مشکل کام تو نہیں ہے ۔۔۔۔ یو ٹیوب سے دیکھ کر بنا لیجیے گا نا۔۔۔۔میں نے بھی وہی سے سیکھا تھا۔۔۔۔۔Urdu romantic novel
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی۔
آپکو کوکنگ آتی ہے؟ آپ نے بتایا نہیں تھا۔ وہ اسے گھورنے لگا۔
ہونہہ۔۔۔ہاں میں بہت اسمارٹ ہوں مجھے سب آتا ہے۔
وہ بچوں کیطرح چہک کر کہنے لگی ۔
کون کون سی ڈیشیز بنانی آتی ہیں آپکو؟ اس نے سوال کیا۔
چکن میکرونی اور چکن نوڈلز بہت اچھے بناتی ہوں میں۔باقی بھی ساری ڈیشیز بنانی آتی ہیں مجھے ۔لیکن یہ دونوں زیادہ پسند ہیں۔
اچھا تو چکن میکرونی کیسے بناتے ہیں؟ آپکو پسند ہے نا تو اسی لیے پوچھ رہا ہوں۔۔۔پھر یہ بنا کے کھلاؤں گا آپکو۔
وہ اس کے گال چھوتے ہوئے بولا۔
زیادہ مشکل تو نہیں ہے۔۔۔ سب سے پہلے چکن کو واش کرنا ہے۔ اور پھر۔۔۔۔۔
وہ احان کی طرف دیکھنے لگی جو بہت غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔
اور پھر آگے کیا کرنا ہے؟ چکن کو واش کرنے کے بعد۔۔۔۔ اس نے سوال کیا۔
اور پھر میکرونی کو واش کرنا ہے۔ پھر چکن اور میکرونی کو آئل میں فرائی کرکے مصالحہ ڈالنا ہے اور ریڈی ہوگئی چکن میکرونی۔
وہ اتراتے ہوئے بول رہی تھی جیسے کوئی بہت بڑی شیف ہو۔ اسکو اتنا کانفیڈنس سے بولتے دیکھ کر احان نے اپنی ہنسی دانتوں میں دبائی تھی۔Urdu romantic novel
اور کچھ پوچھنا ہے؟ وہ کہنے لگی۔
بس ایک بات کنفرم کرنی تھی۔ چکن کے ساتھ ساتھ میکرونی کو بھی واش کرنا ضروری ہے کیا۔
وہ اپنی ہنسی روکے اس سے پوچھنے لگا۔ جبکہ ہنسی ضبط کرنے کیوجہ سے اسکا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔
آف کورس! اتنا بھی نہیں پتا کیا أپکو! کچھ بھی پکانے سے پہلے اسے اچھی طرح واش کیا جاتا ہے۔ تاکہ ہم بیمار نہ ہوں۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ پر آپکو تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔
وہ اپنے چہرے پہ آتے بالوں کو ہاتھوں سے پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی۔ (اس پل بہت کیوٹ لگ رہی تھی وہ)
اوکے! تھینک یو سو مچ ہنی! مجھے سمجھ آگئی ہے۔۔۔۔اب آپکو چکن میکرونی بنا کے کھلاؤں گا میں۔
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
ہمم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔اب آگے کے پوائنٹس بھی سن لیں۔
جی جی بولیں جانم! وہ سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے بولا تھا۔
باقی کے سکس پوائنٹس یہ ہیں کہ
أپ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔
کوئی جھوٹ نہیں بولیں گے۔
میرے ساتھ لویل رہیں گے۔Urdu romantic novel
اپنا سارا پیار، اٹینشن اور وقت صرف مجھے دیں گے۔
ڈیلی مارننگ اور نائٹ کِس دیں گے۔
اگر آپ نے ان باتوں پہ عمل نہیں کیا اور جان بوجھ کے بار بار مجھے ہرٹ کیا تو پھر میں واپس چلی جاؤں گی اور أپ مجھے روکیں گے نہیں سمجھے نا۔ یہی سب سے اہم اور لاسٹ پوائنٹ ہے مسٹر احان!
وہ أخری لائن بہت دھیمے لہجے میں بولی تھی۔
میری جانم! مجھے آپکی ساری شرطیں منظور ہیں۔ اینڈ آئی پرامس اگین میں أپکو ہرٹ نہیں کروں گا۔۔۔ میں آپکا بہت خیال رکھوں گا۔۔۔کہیں بھی جانے سے پہلے آپکو بتاؤں گا۔۔۔آپکے ہر مسیج، کال کا جواب دونگا۔۔۔ہفتے میں ایک بار آپکو آپکی فیورٹ ڈش اپنے ہاتھوں سے بنا کے کھلاؤں گا۔۔۔شاؤٹ بھی نہیں کرونگا۔۔۔۔میرا سارا وقت، پیار اور اٹینشن صرف أپکی ہوگی۔۔۔۔آپکے ساتھ ہمیشہ لویل رہوں گا۔۔۔۔کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولوں گا اپنی جانم سے!
وہ اسے اپنے قریب کرتے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے بہت محبت سے کہہ رہا تھا۔
اور ایک پوائنٹ رہ گیا وہ بھی بولیں۔ وہ لاڈ کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولی۔
کونسا پوائنٹ رہ گیا ہنی؟ وہ اسکے بالوں پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہنے لگا۔
یہی کہ آپ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔۔۔۔اپنی ساری باتیں مجھ سے شیئر کیا کریں گے بالکل ویسے ہی جیسے میں کرتی ہوں مسٹر احان!
وہ اسکے چوڑے سینے میں چھپتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
“چھپا تو بہت کچھ رکھا ہے میں نے آپ سے جانم۔۔۔۔۔بہت باتیں۔۔۔۔کئی راز جو میں چاہ کے بھی آپکو نہیں بتا سکتا۔۔۔ابھی آپکو کچھ سمجھا نہیں پاؤں گا اور نہ آپ سجھ سکتی ہیں ابھی۔۔۔میں سہی وقت آنے پہ ساری باتیں بتا دوں گا آپکو۔۔۔مجھے امید ہے تب آپ سجھ بھی جاؤں گی اور مجھے معاف بھی کر دو گی۔”
مسٹر احان۔۔۔۔۔۔۔احان! بولیں بھی۔
آئلہ کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا۔
جی جانم! میں کوئی بات نہیں چھپاؤں گا آپ سے۔۔۔۔میں اب سے اپنی ساری باتیں شیئر کروں گا۔ اور ہم ساتھ رہیں گے اور بہت خوش رہیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟
وہ اسے اپنے بازؤں کی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے کہنے لگا۔
اوکے ڈن! وہ اسکے مضبوط حصار سے نکلتے ہوئے بولی تھی۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویٹ ویٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا؟ وہ چونکی۔Urdu romantic novel
مجھے لگتا ہے ایک پوائنٹ اور بھی تھا جو میں نے مس کر دیا۔ وہ شہادت کی انگی اپنی تھوڑی پہ رکھے سوچنے والے انداذ میں اسے شرارت سے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
کونسا پوائنٹ؟ سارے پورے تو ہوگئے۔ وہ اسکی بات نہ سمجھتے ہوئے کہنے لگی۔
وہ شاید کچھ۔۔۔۔۔کس والا پوائنٹ۔۔۔۔ڈیلی۔۔۔مارننگ اینڈ نائٹ۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی تھا نا؟
وہ ایک ایک لفظ آہستہ سے کہتے اسکے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
کتنی رات ہو گئی ہے نا۔۔۔۔۔ساری باتیں اب کلیئر ہوگئی ہیں۔۔۔اب آپ جائیں مسٹر احان ۔۔۔۔مجھے بھی سونا ہے ۔
وہ بات کا رخ بدلتے ۔۔۔ اٹھتے ہوئے بیڈ کیطرف جانے لگی تو اس نے آئلہ کا بازو پکڑتے اسے اپنی طرف کچھنچا۔۔۔وہ گرنے ہی والی تھی کہ احان نے اسے اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے سنبھال لیا۔
ہاں۔۔۔میں بھی تو وہی کہہ رہا ہوں نا جانم۔۔۔۔بہت رات ہوگئی ہے۔۔۔اب جو باتیں ہمارے بیچ طے ہوئی ہیں اس پہ ابھی سے عمل کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔اور جیسا کہ آپ نے لکھا تھا کہ مجھے ڈیلی أپکو مارننگ اینڈ نائٹ کس دینی ہوگی۔
تو اب رات ہوگئی ہے۔۔۔۔جلدی سے اپنی نائٹ کس لیں اور سو جائیں۔۔۔۔پھر مجھے بھی جاکر آرام کرنا ہے نا!
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا۔
وہ سب کل سے شروع ہوگا۔۔۔اور ویسے بھی میں ناراض ہوں آپ سے۔ شاید آپ بھول گئے ہیں کہ ابھی تک آپکی سوری ایکسپٹ نہیں کی میں نے۔Urdu romantic novel
وہ اسکی مضبوط گرفت سے اپنے نازک ہاتھوں کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی دبے دبے غصے سے بول رہی تھی۔ اسکی اس ہلکی پھلکی مزاحمت پہ احان کو ہنسی آرہی تھی۔
اچھا تو! ابھی تک ناراض ہیں آپ! تو بتائیں آپکی ناراضگی کو ختم کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا مجھے۔ کیسے مناؤں اپنی چھوٹی سی جانم کو!
وہ اسکا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان لیے اسے مضبوطی سے تھامے اسکے چہرے پہ نظریں ٹکاتے ہوئے کہنے لگا۔
وہ میں کل بتاؤں گی۔۔۔۔ابھی مجھے نیند آرہی ہے۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ۔۔۔پیپرز ہاتھوں میں پکڑتی اٹھی۔۔۔۔پیپرز کو دراز میں رکھا اور بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولی۔
“اوکے! یہ بھی منظور ہے لیکن نائٹ کس دینے کے بعد ہی میں یہاں سے جاؤں گا میری ہنی!”
وہ کارپٹ سے اٹھتے اسکے برابر بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے شرارت بھرے انداذ میں کہہ رہا تھا۔ اسکے اس شریر انداذ پہ آئلہ کے گال سرخ ہوئے تھے۔
اوکے! گال پہ ایک کس کریں اور جائیں۔
وہ جان چھڑاتے ہوئے بولی۔Urdu romantic novel
لیکن یہ بات تو مینشن نہیں تھی کہ کس گال پہ کرنی ہے۔
وہ اسکی تھوڑی پہ ہاتھ رکھے اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا تھا۔
ت۔۔تو۔۔۔۔اب بتا رہی ہوں نا میں۔۔۔۔اس وقت بھول گئی تھی لکھنا۔۔۔۔
اب بھول گئی تھی یا جان بوجھ کے نہیں لکھا۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔اب جو بھی لکھا ہے ہمیں اسی پہ عمل کرنا ہوگا جانم۔۔۔۔آفٹر آل ہم دونوں نے سائن کیے ہیں تو اب پیچھے تو نہیں ہٹ سکتے نا ہونہہ؟
وہ اسکے گال پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
ہاں تو؟ تو کیا کرنا ہے؟ وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ جو پہلے ہی اسکی بڑی سی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
آپکی آنکھیں
بڑی گہری ، بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھکو چاند کی مانند
جھیلوں میں اترنا
لطف دیتا ہے… اور آپ تو ہیں بھی میری چاند سی خوبصورت دلربا جانم!
وہ اسکے چہرے پہ جھکتے محبت بھرے انداز میں سرگوشی کر رہا تھا۔ اسکی گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں تھیں۔
کوئی رات میرے آشنا مجھے یوں بھی تو نصیب ہو
نہ خیال ہو لباس کا وہ اتنا میرے قریب ہو
بدن کی گرم آنچ سے میری آرزو کو آگ دے
میرا جوش بھی بہک اٹھے میرا حال بھی عجیب ہو
تیرے چاشنی وجود کا میں سارا رس نچوڑ لوں
پھر تو ہی میرا مرض ہو، پھر تو ہی میرا طبیب ہو

𝐄𝐩𝐢-11

وہ اسکے چہرے پہ جھکتے پہلے اسکے گال پہ اور پھر اسکے لبوں پہ لمس چھوڑتے اس سے الگ ہوا۔
میری جانم! جیسی آپکی مرضی۔۔۔ہم کل سے ہی آپکے بنائے ہوئے رولز فالو کریں گے۔ گڈ نائٹ!
وہ اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے اسکے روم سے نکلتے اپنے روم میں چلا گیا۔
وہ مسکراتے ہوئے بیڈ پہ لیٹی اور گہری نیند سو گئی۔
اس کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی یقینا وہ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی.یا شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی.Urdu romantic novel
وہ نفی میں سر ہلاتے۔۔۔ اس کے قریب سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ احان نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا..
دور رہیں مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے میرا آپ سے ۔۔۔۔میں نے آپ سے کہا تھا کہ جھوٹ نہیں بولنا۔۔۔کوئی بات نہیں چھپانی مجھ سے۔۔۔اور آپ نے کیا کِیا؟
آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی۔۔۔۔اتنے سارے جھوٹ بولے۔۔۔۔۔آخر کیوں ؟؟؟ مجھے اب ایک سیکنڈ بھی آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔۔میں یہاں نہیں رہ سکتی ایک پل بھی نہیں۔۔۔۔
دھوکا دیا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔چیٹ کیا آپ نے۔۔۔۔۔مجھے نفرت محسوس ہورہی ہے آپ سے۔۔۔۔ وہ غصے سے اسے دھکا دیتی کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی کہ اچانک احان کی آنکھ کھل گئی اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔لائٹ آن کی۔۔۔ٹائم دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔۔پانی پیا۔۔۔۔اور آئلہ کے روم کیطرف بڑھا۔۔۔آہستہ سے ڈور اوپن کرتے وہ اسکے روم میں انٹر ہوا۔۔۔۔ وہ سکون سے سو رہی تھی۔۔۔احان اسکے بیڈ کے قریب جاکر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر وہی اسکے پاس ہی لیٹ گیا۔
اس کے بالکل قریب وہ گہری نیند میں سو رہی تھی اس نے ایک پرسکون سانس لیا۔اور آئلہ کے قریب ہوتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اپنے سینے سے لگا لیا۔۔
مسٹر احان!
اسکا لمس محسوس کرتی۔۔۔اسکے بے قابو ہوتے دل کی دھڑکنوں کو سنتے ۔۔۔۔اس کے سینےپر اپنا نازک سا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بےحد مدہم آواز میں بولی ۔ احان نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ اسکی طرف دیکھنے لگی۔اور اس کے چہرے پہ آیا پسینہ دیکھ کر وہ بھی پریشان ہو گئی تھی۔
کی۔۔کیا ہوا مسٹر احان! آپ ٹھیک ہیں نا؟
وہ سٹپٹائی۔Urdu romantic novel
جانم! دل گھبرا رہا تھا اس لیے آپکے پاس آگیا۔۔۔۔۔اب کچھ سکون مل رہا ہے۔
کیا میں باقی کی رات آپکے پہلو میں گزار سکتا ہوں؟۔۔۔وہ اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔آئلہ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اس کے سینے سے لگایا اور اس کے گرد بانہیں پھیلاتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔
سو جائیں مسٹر احان! وہ اسکے سینے پہ لب رکھتے ہوئے بولی تھی۔
ایک پل کے لیے لگا تھا کہ جیسے آپ دور چلی گئی ہیں مجھ سے۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑتا وہ کہنے لگا ۔۔
ایسا کیوں لگا آپکو ؟ میں تو یہی ہوں آپکے پاس۔۔۔۔آپکے بہت قریب۔۔۔۔ وہ اسکے کان کے قریب دھیمے سی آواز میں بولی۔
مجھ پر کتنا یقین کرتی ہیں جانم؟ اس کے نازک وجود کے گرد اپنی بانہیں پھیلاتے ہوئے وہ اس سے سوال کرنے لگا ۔۔۔
مجھے خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے مسٹر احان! آپکو پتہ ہے آپ میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد ہیں جس پہ میں آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرتی ہوں اور بے حد محبت کرتی ہوں۔۔۔میرے بیسٹی بھی آپ ہیں اور میرے۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوئی۔
اور۔۔۔۔اور کیا ہنی؟ اس نے پوچھا۔
اور ہوسکتا ہے کہ میرے لائف پارٹنر بھی آپ ہی ہوں۔۔اگر آپ نے میری ساری باتیں مانیں تو۔۔۔۔۔! ورنہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔۔ وہ اسکے سینے پہ انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
ہممم۔۔۔ساری باتیں مانو گا نا جانم! آپ بس مجھ پہ یقین رکھیے گا ہنی! میرے ساتھ رہیے گا پلیز!
اوکے نا مسٹراحان! کیوں پریشان ہورہے ہیں آپ؟ ہم ساتھ رہیں گے ڈونٹ وری۔
وہ بند آنکھوں سے بولی لائٹ بلب کی روشنی میں وہ اس کا معصوم سا چہرہ دیکھتے ہوئے اسے اپنے آپ میں قید کر گیا۔۔
میں بہت محبت کرنے لگا ہوں آپ سے جانم بہت زیادہ ۔آپ کے بنا رہ نہیں پاؤں گا اب میں ۔۔۔۔کبھی بھی نہیں ۔۔۔آپ جان ہیں میری۔۔ ۔لیکن نہ جانے کیوں مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ آپ مجھے چھوڑ کر چلی جائیں گی یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ آپکا مسٹراحان بھی ختم ہو جائے گا وہ اسے دیکھتے ہوئے بے حد اداسی سے بول رہا تھا جب اچانک ہی آئلہ نے اس کے لبوں پر اپنا نازک سا ہاتھ رکھ دیا۔
مسٹر احان! کیوں کررہے ہیں ایسی باتیں؟ ایسا مت کہیں پلیز۔ میں بھی محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔میں دور نہیں جاؤں گی آپ سے۔۔۔۔۔Urdu romantic novel
پتہ نہیں کیا کیا سوچتے رہتے ہیں آپ۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا سمجھے آپ۔۔۔۔۔اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وہ سختی سے بولی تو احان نے اسے خود سے لگاتے ہوئے اس کے ماتھے کو چوما اور خود بھی آنکھیں بند کر گیا۔
آسان نہیں تھا اسے کچھ بھی بتانا وہ چھوٹی سی نازک سی لڑکی ٹوٹ کر بکھر جاتی۔۔۔۔پہلی بار وہ کسی مرد پہ اعتبار کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔اگر اسکا اعتبار ٹوٹ گیا تو شاید احان اسے کبھی بھی جوڑ نہ پاتا یہ محبت و اعتبار کا رشتہ تھا ۔اور وہ اس رشتے کو خراب نہیں ہونے دے سکتا تھا اسے یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر ہینڈل کرنا تھا ۔وہ بہت الجھن کا شکار ہورہا تھا۔
اسکی جانم اسے چھوڑ جائے گی یہ خیال بھی اس کے لئے موت جیسا تھا
اسے کھونے کے خیال سے بھی وہ ڈرنے لگا تھا ان کچھ مہینوں میں ہی وہ اسے اتنا زیادہ چاہنے لگا تھا کہ اس سے دور جانے کا خیال بھی اسکی سانسیں روکنے لگتا تھا ۔وہ اسے کچھ بھی نہیں بتا سکتا تھا ۔لیکن وہ آخر کب تک اس سے یہ سب چھپانے والا تھا۔۔۔ایک نہ ایک دن تو اسے حقیقت سے آگاہ کرنا ہی تھا۔۔۔اور پتہ نے آئلہ کیسے ری ایکٹ کرے گی یہ سوچ سوچ کے ہی اسکی جان جارہی تھی۔Urdu romantic novel
وقت اور حالات کے ساتھ وہ اسے سب کچھ بتا دے گا تو وہ ضرور اسکو سمجھے گی اور اس پہ یقین کرے گی۔
******_____******
صبح کے تقریباً دس بجے اسکی آنکھ سانس تنگ ہونے کے سبب کھلی تھی۔۔ وہ نیند میں ڈوبی خمار آلود بوجھل آنکھیں کھولتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس پر پھیلے احان کے بھاری وجود نے اس کی کوشش ناکام بنائی تھی۔
“اففف ! مسٹر احان آپ نے تو مجھے اپنا تکیہ ہی سمجھ لیا ہے۔۔ سارا بیڈ چھوڑ کر میرے اوپر پھیلے ہوئے ہیں۔۔ ہائے میری سانس بند ہورہی ہے۔۔ مسٹر احان پیچھے ہوں نا”۔
وہ اس کے بھاری بازو خود پر سے ہٹانے کی تگ و دو میں ہلکان ہوتی بڑبڑا رہی تھی۔۔
احان کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔۔ وہ ساری رات اس کے نقش نقش کو جذبے لٹاتی نگاہوں سے دیکھتا اپنے دل میں اتارتا رہا تھا۔
صبح کہیں جا کر اس کی آنکھ لگی تھی تبھی اس وقت تک بے خبر پڑا سو رہا تھا۔
“احان۔۔۔۔ ہٹیں نا۔۔۔۔۔بہت بھاری ہیں آپ۔۔۔۔۔پیچھے ہوں نا۔۔۔۔
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی بمشکل بول رہی تھی۔۔
وہ اسے کسی تکیے کی مانند خود میں دبوچے سو رہا تھا۔۔ سوتے وقت میں بھی اس کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ آئلہ مسلسل کوششوں کے بعد بھی نکل نہ پائی تھی۔
وہ اسکے مضبوط جسم کے مقابلے میں ایک کمزور نازک سی جان تھی۔
وہ مکمل طور پر حواسوں میں بیدار ہوتی اس کے کان کے قریب جھکتی زور سے بولی تھی۔
“اونہوں۔کیا ہوا جانم۔۔۔۔پلیز سونے دیں نا!
وہ اسے مزید خود میں بھینچے خمار آلود بھاری آواز میں بولتا پھر سے نیند کی لپیٹ میں جانے لگا۔
“Urdu romantic novel
مسٹر احان۔۔۔آپ نے آفس نہیں جانا کیا؟ اور اگر آپ نے نہیں بھی جانا تو تو پلیز مجھے تو چھوڑیں۔۔اٹھنے دیں نا۔۔۔ کیونکہ اگر میں کچھ دیر مزید اسی طرح رہی نا تو سانس بند ہوجائے گی میری۔
وہ احان کے سینے میں چھپی گھٹی گھٹی آواز میں کہہ رہی تھی۔۔ اس کی آواز سنتے نیم بیدار احان کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“نہیں۔۔۔۔پلیز کچھ دیر اور سونے دیں جانم۔۔۔بہت سکون مل رہا ہے۔
وہ مکمل طور پر ہوش میں لوٹتا اس کے بالوں میں منہ دیے گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔ اس کی زومعنی بات اور حرکتیں بھانپتی آئلہ کے ہوش اڑے تھے۔
“چپ کیوں ہوگئی ہیں جانم۔۔۔بولتی رہیں۔۔۔۔اچھا لگ رہا تھا۔آپکی پیاری پیاری، معصومانہ باتیں سن کر بہت اچھا لگتا ہے مجھے۔
وہ اس کے گرد حصار تنگ کرتا شرارتاً بولا۔۔
اسکی خاموشی پہ اسے خود سے الگ کر کے خود بھی اٹھ بیٹھا۔۔
کیا ہوگیا میری چھوٹی سی ہنی بنی کو؟
وہ اس کی چھوٹی سی ناک پر انگلی رکھتا اس سے پوچھنے لگا۔
رات کو کیا ہوا تھا آپکو؟ کوئی برا خواب دیکھا تھا کیا آپ نے؟
وہ فکرمندی سے بولی۔
ہاں۔۔۔بہت برا خواب تھا۔۔۔۔میں بہت ڈر گیا تھا۔۔۔اسی لیے آپکے پاس آکے لیٹ گیا۔
اس کے دونوں بازو اپنے ہاتھ میں جکڑتے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا تھا۔
تو کیا میرے پاس آکر آپکا ڈر ختم ہوگیا تھا؟
وہ اس کی گردن میں منہ چھپائے کہنے لگی۔
ہاں۔۔۔۔آپکو دیکھ کر سارے ڈر ختم ہوگئے تھے۔۔۔۔۔آپکو دیکھ کر بہت پرسکون ہوگیا تھا میں۔۔۔۔۔بہت زیادہ۔
وہ اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں حمائل کئے نرم لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔
اب ٹھیک ہیں نا آپ؟ اب تو ڈر نہیں لگ رہا نا؟
وہ بچوں کیطرح معصوم انداذ میں پوچھ رہی تھی۔۔۔اسکا اسطرح فکر کرنا احان کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔
جی میری جانم۔۔۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں اور اب ڈر بھی نہیں لگ رہا مجھے۔۔۔۔ زیادہ پریشان مت ہوں آپ۔۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سے اسکا گال سہلاتے ۔۔۔مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
چلیں پھر جائیں نا اپنے روم میں۔۔۔۔دیکھیں کتنا ٹائم ہوگیا ہے۔۔۔۔۔
وہ گھڑی کیطرف اشارہ کرتے بولی۔
ہاں۔۔۔آج لیٹ ہوگیا میں۔۔۔۔چلیں میں جاکے فریش ہوتا ہوں پھر اکٹھے ناشتہ کریں گے۔۔۔
وہ بیڈ سے اترتے ہوئے کہتا۔۔۔روم سے نکلا اور اپنے روم میں داخل ہوتے۔۔۔۔واش روم گھس گیا۔
وہ بھی اپنے کپڑے لیے واش روم چلی گئی۔
Urdu romantic novel
_____________******_________
ہیلو۔۔۔۔بےبی! کیا حال ہیں؟
وہ کچن میں داخل ہوتے ہوئے شوخ لہجے میں بولا تھا۔
را۔۔۔رمیز! تم یہاں؟ تم یہاں کیا کررہے ہو؟ اس وقت؟ کیوں آئے ہو یہاں؟
وہ رمیز کو اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹکی تھی۔
تمہیں کہا تھا نا کہ اپنی محبت نچھاور کرنے دوبارہ آؤں گا۔۔۔۔اور یار یہ تم اتنا ڈرنے کیوں لگ جاتی ہو آخر ہونہہ؟
وہ اس کے بے حد قریب کھڑا اپنی بات کرتے ہوئے اس کی جانب مڑا اوراس کے بالوں کی لٹ کو انگلی میں لپیٹتے ہوئے وہ آہستہ سے اس کے کان کے پیچھے کرتا۔۔۔اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر گیا تھا
لی۔ ۔۔لیکن۔ ۔۔دادو۔ ۔۔اسے اپنے بے حد قریب محسوس کرتے ہوئے وہ سرگوشی نما آواز میں بولی تو رمیز کے لبوں پر مسکراہٹ آ کر غائب ہو گئی۔۔۔
Urdu romantic novel
تمہاری دادو گھر پہ نہیں ہیں اور تم بھی آفس نہیں گئی۔۔۔اور ٹیشا بھی کالج گئی ہوئی ہے ۔۔۔اسکا مطلب کہ ہمارے علاوہ یہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔اس بار وہ باقاعدہ دلکشی سےمسکراتے ہوئے بولا تھا
لیکن۔۔۔ تمہیں کیسے پتہ لگا یہ سب۔۔وہ اسے ایسے دیکھ کر کافی پریشان ہوئی تھی۔
تم نہیں بتاؤں گی تو کیا کچھ پتہ نہیں لگے گا مجھے۔۔۔۔۔تمہارے ایک ایک پل کی خبر رکھتا ہوں میں۔۔۔وہ اس کی تھوڑی کو اپنی انگلی سے اوپر کرتے ہوئے ۔۔انگوٹھے سے اس کے نازک گلابی لبوں کو چھوتا خمار آلود آواز میں بولا۔
اس کا بہکتا لہجہ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر گیا تھا اس کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح سنسنائی تھی۔۔
وہ لرز کر اس سے دور ہٹی تھی۔ چہرہ جیسے خون چھلکنے کو تیار تھا اس کا گھبرایا گھبرایا سا روپ رمیز آنکھوں سے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔
اس کی باتیں سنتے ہی کیارا کے چہرے پر ایک شرمیلی سے مسکراہٹ آ گئی تھی
چلیں؟ اسے شرماتا دیکھ کر رمیز نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔
کہ۔۔کہاں؟؟ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
روم میں! وہ اسے معنی خیز نظزوں سے دیکھتا مسکرارہا تھا۔
کیوں؟ اس نے نہ سمجھتے ہوئے سوال کیا۔
چھم چھم کھیلیں گے۔۔۔ چلیں؟ وہ اسکی ناسمجھی پہ تپ کر بولا۔وہ اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے بے تکے سوال پہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی۔

read previous Parts here
https://www.facebook.com/barbienovels/

By barbie boo

Hey! I'm Barbie a novelist. I'm a young girl with a ROMANTIC soul. I love to express my feelings by writing.

Leave a Reply

Your email address will not be published.